ہفتہ، 27 جون، 2015

بریلویت استعمار کی طرف سے ایجاد کردہ ایک سیاسی تحریک


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

بریلویت استعمار کی طرف سے ایجاد کردہ ایک سیاسی تحریک

قارئین کرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!! پیش نظر ویب سائٹ اس تحریک کی داستاں خوچکاں ہے جس نے ملت اسلامیہ کے قلب میں ایسا ناسور پیدا کردیا جس کا اندمال بہ ظاہر اسباب تا قیامت مشکل ہی نہیں اشد محال ہے ۔میری مرا د اس سے ’’بریلوی تحریک‘‘ ہے جو کسی بھی حال میں ابن سبا اور ابن صباح کی تحریک سے مختلف نہیں ۔جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایک خود ساختہ مذہب میں قوم کو الجھا کر انگریز ایسے دشمن اسلام کی سیاسی اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اٹھی تھی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دینی نزاع ہے حاشا و کلا !ایسا نہیں باللہ العظیم یہ ایک جاسوسی اور مخبری کرنے والی سیاسی جماعت و تحریک ہے جو انگریزوں نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے پیدا کی اور دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح سے مدد کرکے پروان چڑھایا۔
چنانچہ خود انگریز مورخ سر فرانسس رابنس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ
  :

جمعرات، 25 جون، 2015

کیا اصل اشیاء میں اباحت ہے بدعتیوں کی دلیل کا جواب

 

کیا اصل اشیاء میں اباحت ہے بدعتیوں کی دلیل کا جواب

جب منع کی کوئی دلیل نہ ہو تو اصل کے اعتبار سے ہر چیز جائز ہے۔اس قاعدے سے نمازِ جنازے کے بعد مروج دعا جائز ہوئی۔

جواب:
پہلا جواب :
جو حضرات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ چیزوں میں اصل باحت اور جواز ہے ان کے کلام میں غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قاعدہ عبادات میں جاری نہیں ہوتا، یہ قاعدہ اموال ، امور عادیہ ، اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق ہے عبادات کے متعلق اصل قاعدہ یہ ہے کہ جو عبادات جس طریقے سے ثابت ہو وہ جائز ہوگی اور جو چیز ہوگی اور جو چیز بطور عبادت رسول ﷺ ، صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہ ہو وہ عبادت نہیں ہوگی اور اس کا بطور عبادت بھی انجام دینا جائز نہ ہوگا ، بعض اوقات کوئی چیز بطور عبادت تو ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے لئے خاص وقت یا خاص جگہ یا کیفیت کی تعین کا ثبوت نہیں ہوتا تو ایسی عبادت کیلئے اپنی طرف سے ان چیزوں کی تعیین و تخصیص بھی ناجائز ہوگی ، کسی غیر ثابت چیز کو بطور عبادت انجام دینے یا کسی ثابت شدہ عبادت میں اپنی طرف سے کیفیات و اوقات کی تعیین و تخصیص کو شریعت کی اصطلاح میں ’’ بدعت ‘‘ کہتے ہیں ، جو باجماع امت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، چنانچہ علامہ ابو اسحاق شاطبی ؒ فرماتے ہیں :
’’ لا یصح ان یقال فیما یتعبد بہ : انہ مختلف فیہ علی قولین : ھل ھو علی المنع ام علی الاباحۃ۔۔۔ لان التعبدیات انما وضع الشارع ، فلا یقال فی صلوٰۃ سادسۃ مثلا انھا علی الاباحۃ ، فللمکلف وضعھا علی احد القلین ، لیتعبد بھا اللہ ، لانہ باطل باطلاق ‘
( الا عتصام : ۱ / ۳۰۱ )

منگل، 23 جون، 2015

غیر مقلدین (اہلحدیث ) حضرات کے ساتھ ہمارا اختلاف اصولی ہے نہ کہ فروعی

 

غیر مقلدین (اہلحدیث ) حضرات کے ساتھ ہمارا اختلاف اصولی ہے نہ کہ فروعی ۔فتاوی رشیدیہ کے ایک فتوے کی وضاحت

مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی

(یہ مضمون مولانا زید مجدہ کی کتاب ’’دفاع اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ سے ماخوذ ہے )

پانچواں حوالہ :پھر مولوی رشید احمد گنگوہی نے اپنا اور وہابیہ کا عقائد میں متحد ہونا بتلایا ہے لکھتے ہیں کہ:عقائد میں سب متحد مقلد غیر مقلد ہیں البتہ اعمال میں مختلف ہوتے ہیں (فتاوی رشیدیہ،ص62)ایک جگہ اور لکھا ہے :عقائد سب ( مقلد و غیر مقلد )کے متحد ہیں اعمال میں فرق۔۔۔ہے (فتاوی رشیدیہ ،ص266)۔(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص38)
جواب:ہم آپ کے سامنے اولا مکمل سوال و جواب نقل کرتے ہیں اس کے بعد اپنی معروضات عرض کریں گے:
’’سوال :مولانا سید نذیر حسین صاحب کو جو دہلی میں محدث ہیں جو لوگ ان کو مردود اور خارج از اہل سنت جانتے ہیں اور لا مذہب کہتے ہیں آیا یہ کہنا ان کا صحیح ہے یا نہیں باوجود صحیح نہ ہونے کے ایسے لوگ فاسق بدکار ہیں یا نہیں ؟او ر مولانا صاحب کے عقائد اور اعمال موافق اہل سنت والجماعت ہیں یا نہیں اور حضرت سلمہ کے عقائد اور مولانا صاحب کے عقائد میں کچھ فرق ہے یا متفق ہیں گو بعض جزئیات میں یا اکثر میں تخالف ہو تو یہ کچھ ایسا امر نہیں ہے جسکی وجہ سے ان کو ایسا گمان کیا جائے جواب بطور بسط کے ارقام فرمائیں کیونکہ ایک عالم ان کو لعن طعن کرتا ہے اور بد تر فاسقین سے جانتا ہے ۔فقط۔
جواب:

سوموار، 22 جون، 2015

تقویۃ الایمان پر اعتراض:میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں

 

تقویۃ الایمان پر اعتراض

میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں
مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ

تقویۃ الایمان کی ایک عبارت پر اعتراض کیا جاتا کہ اس میں لکھا ہے کہ نبی مٹی میں مل جاتے ہیں اور معاذ اللہ ان کا جسم صحیح سلامت نہیں رہتا ۔
جواب دینے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تقویۃ الایمان کی پوری عبارت آپ کے سامنے رکھی جائے اور پھر انشاء اللہ اس پر تبصرہ کیا جائے گا:
مشکوۃ کے باب عشرۃ النساء میں لکھا ہے کہ ابو داود نے ذکر کیا کہ قیس بن سعد نے نقل کیا کہ گیا میں ایک شہر میں جس کا نام حیرہ ہے سو دیکھا میں نے وہاں کے لوگوں کو کہ سجدہ کرتے تھے اپنے راجہ کو سو کہا میں نے البتہ پیغمبر خدا زیادہ لائق ہیں کہ سجدہ کیجئے ان کو پھر آیا میں پیغمبر خدا کے پاس پھر کہا میں نے کہ گیا تھا میں حیرہ میں سو دیکھا میں نے لوگوں کو کہ سجدہ کرتے ہیں اپنے راجہ کو سوتم بہت لائق ہو کہ سجدہ کریں ہم تم کو توفرمایا مجھ کو بھلا خیال تو کر جو تو گزرے میری قبر پر کیا سجدہ کرے تو اس کو کہا میں نے نہیں فرمایا تو مت کر۔

اتوار، 21 جون، 2015

حجیت حدیث

حجیت حدیث

 الحمد للہ ر ب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و اشرف المسلمین
علامہ ساجد خان نقشبندی
جب سے مسلمانوں کااقتدار دنیامیں رو بزوا ل ہوا ہے اور یورپ کے اقتدار نے اسکی جگہ لی اس وقت سے مسلمانوں کو اس مرعوبیت نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جوان کے ذہنوں پر مغربی افکار و تہذیب نے مسلط کرد ی ہے۔رفتہ رفتہ یہ مرعوبیت اس درجہ میں بڑھ گئی کہ اسلام کی جوتعلیمات مسلمانوں کے نوتعلیم یافتہ طبقے کو مغربی افکار سے متصادم معلوم ہوئیں ، ان کاانکار کرنے لگے اور یہ بات ان کے ذہنوں میں راسخ ہوگئی کہ دنیا کی کوئی ترقی تقلید مغرب کے بغیر ممکن نہیں ۔مرعوب ذہنیت کایہ طبقہ مختلف ممالک اسلامیہ میں مغرب سے ہمرکاب ہونے کے شوق میں اسلامی تعلیمات میں تحریف تک پر آمادہ ہوگیا اس طبقہ کو اہل تجدد کہا جاتا ہے۔

ہفتہ، 20 جون، 2015

حجۃ الاسلام قاسم العلوم و الخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ پر اشکالات کے مسکت جواب

 

حجۃ الاسلام قاسم العلوم و الخیرات مو لانا محمد قاسم نا نو تو ی ؒ پر اشکا لات کے مسکت جواب


بہتان: مولانا محمد قاسم نا نو تویؒ ختم نبوت کے قائل نہیں۔


پہلا بہتان جو علماء سُو کی طرف سے شیخ الاسلام مولانا محمد قاسم نا نو تویؒ پر لگا یا جاتاہے ، وہ یہ ہے کہ آپ اجر اء نبوت کے قائل ہیں ۔ان کے خیال میں بانی دارا العلوم
دیو بند نے اس عقیدہ کا ذکر اپنی کتاب ’’ تخد یر الناس ‘‘ میں کیا ہے یہ عقیدہ رکھنا کہ حضور ﷺکے بعد بھی اگر کوئی نبی آ جائے تو حضور ﷺکی ختم نبوت میں کوئی فر ق نہیں
آ تا ہے ۔یہ عقیدہ کفر ہے اس لئے محمد قاسم نانو توی اور ان کے متبعین کا فر اور مر تد ہیں ۔
یہ اعتر اض سب سے پہلے علماء سوکے امام مو لوی احمد رضاخاں صاحب نے حضرت نانو توی پر کیا ہے ۔جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ’’ حسام الحر مین ‘‘ میں کیا ہے ۔اس اعتر اض کے متعلق بس مختصر الفا ظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکا ذ بین، اللہ تعالیٰ منکر ین ختم نبوت پر بھی لعنت کریں اور جھو ٹے الزام لگا نے والوں پر بھی خدا کی لعنت ہو ۔دیو بند یوں میں سے کوئی ختم نبوت کا انکار نہیں کرتا ۔
تحقیقی جواب

جمعہ، 19 جون، 2015

توضیح البیان فی حفظ الایمان

 

توضیح البیان فی حفظ الایمان

مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ


الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و المرسلین
بریلوی فرقے کے بانی مولوی احمد رضاخان صاحب حضرت حکیم الامت مجد د دین و ملت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کے متعلق اپنے مذہب کی بنیادی کتاب ’’حسام الحرمین ‘‘ کے صفحہ ۷۴ پر فرماتے ہیں کہ:
اور ا س فرقہ وہابیہ شیطانیہ کے بڑوں میں سے ایک اور شخص اسی گنگوہی کے دم چھلوں میں سے جسے اشرف علی تھانوی کہتے ہیں ۔اس نے ایک چھوٹی سے رسلیا تصنیف کی چار ورق کی بھی نہیں۔اور اس میں تصریح کی کہ غیب کی باتوں کا جیساعلم رسول اللہ ﷺ کو ہے ایسا تو ہر بچے اور پاگل بلکہ ہر جانور اور ہر چوہائے کو حاصل ہے اور ا س کی ملعون عبارت یہ ہے :
آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید و عمر وبلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کیلئے بھی حاصل ہے ۔الی قولہ اور اگر تمام علوم غیبیہ مراد ہیں اس طرح کہ اس کا ایک فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی و عقلی سے ثابت ہے ۔میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالی کی مہر کا اثر دیکھو یہ شخص کیسی برابری کررہا ہے رسول اللہ ﷺ اور چنیں و چناں میں۔(حسام الحرمین مع تمہید ایمان،ص۷۴،مطبوعہ کراچی،۱۹۹۹ ؁ء)
جواب:

بدھ، 17 جون، 2015

علمائے دیوبند کے تراجم پر اعتراضات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ





علمائے دیوبند کے تراجم پر اعتراضات

کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ


مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی


راقم الحروف سب سے پہلے اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے ادارہ نورسنت کو عظیم الشان ترجمہ کنز الایمان نمبر شائع کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہے جس طرح مناظرہ جھنگ نمبر نے بہت سے دلوں سے شکوک و شبہات کو دور کیا انشاء اللہ یہ نمبر بھی بہت سے لوگوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنے گا ۔
قارئین کرام ! نور سنت کے خصوصی شماروں کے حوالے سے بندہ کی یہ ترتیب ہے کہ پہلے سے کسی عنوان کے تحت کوئی مضمون نہیں لکھتا اور نہ ادارہ کسی مضمون نگار کو کسی عنوان کا پابند کرتا ہے۔ اسی لئے جب شمارہ تیار ہوجاتا ہے اور کوئی موضوع رہ جاتا ہے تو بندہ اس پر قلم اٹھاتا ہے تاکہ ایک ہی عنوان کا بار بار تکرار نہ ہو۔ترجمہ کنز الایمان نمبر کے حوالے سے بھی بندے کی یہی ترتیب و سوچ تھی ۔چنانچہ جب شمارے کا مسودہ راقم الحروف کے سامنے آیا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہمارے علماء و مناظرین نے کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا اس لئے اپنی طرف سے ترجمہ کنز الایمان پر مزید کوئی مضمون لکھنے سے بندے نے معذرت کرلی ۔مگر محترم علامہ معاویہ صاحب مدظلہ العالی نے اس معذرت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور دوسری طرف محقق اہلسنت استاذ محترم حضرت علامہ مفتی نجیب اللہ عمر صاحب مدظلہ العالی نے بھی بندے کو حکم دیا کہ آپ نے ہر صورت میں خصوصی نمبر کیلئے کوئی مضمون دینا ہے ۔ اس لئے ناچار قلم اٹھانا پڑا کہ اس حکم کے بعد اب انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی او ر فیصلہ کیا کہ جن بعض تراجم پر اعتراض کا جواب حضرت شیر اہلسنت ترجمان مسلک دیوبند علامہ ابو ایوب قادری صاحب کے مضمون میں نہیں آیا ان کا مختصر جواب دے دیا جائے ۔سو بندہ اب ان اعتراضات کاجواب لکھنے کی ابتداء کرتا ہے اور فیصلہ ہر انصاف پسند قاری پر چھوڑتا ہے کہ بندے کو ان کے جوابات دینے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔
اعتراض نمبر۱: ووجدک ضالا فھدی (سورۃ الضحی)

بائبل اور توحید خداوندی




بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و المرسلین

بائبل اور توحید خداوندی

علامہ ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ


قارئین کرام مروجہ عیسائیت کا دینی ماخذ’’بائبل‘‘کو کہا جاتا ہے۔موجودہ بائبل کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک عہد نامہ قدیم جسے عہد نامہ عتیق بھی کہا جاتا ہے۔جس میں حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں آنے والے انبیاء سے منسوب تعلیمات ہیں۔جبکہ دوسرے حصے (عہد نامہ جدید)میں موجود تعلیمات کو سیدنا عیسی علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔عہد نامہ قدیم کی 49 کتابوں کو تمام عیسائی مستند مانتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ سات مزید کتابیں ہیں جنہیں Aporyphaiکہا جاتا ہے ۔یعنی ان کے ثقہ ہونے میں عیسائی حضرات کا آپس میں اختلاف ہے۔عہد نامہ قدیم کو یہودی میں مقدس مانتے ہیں ،جبکہ عہد نامہ جدیدمیں چار انجیلیں یعنی ’’متی،لوقا،مرقس،اور یوحنا‘‘ہیں اس کے علاوہ سینٹ پال یعنی پولس رسول کے خطوط اور یوحنا کے مکاشفے سمیت کل ستائیس کتابیں ہیں ۔
ذیل کی چند سطور میں اسی بائبل کے عہد نامہ قدیم کی آیا ت کے حوالے سے توحید خداوندی کا ثبوت دیا جائے گا۔عہدنامہ قدیم کی پانچویں کتاب’’تثنیہء‘‘ میں ہے کہ:


بیس رکعات تراویح ہی سنت موکدہ اسی پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے

 

بیس رکعات تراویح ہی سنت موکدہ اسی پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے


مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ

(متعلم درجہ خامسہ )


محترم جنید بھائی نے غیر مقلدین کی طرف سے شائع کردہ ایک پمفلٹ دکھایا اور جواب کی استدعا کی۔ہم اس مضمون میں اسی پمفلٹ کا جواب دیں گے۔طریقہ کار یہ ہوگا کہ اول اپنے موقف کو ثابت کریں گے اور پھر انشاء اللہ اس پمفلٹ کا جواب آپ حضرات کے سامنے پیش کریں گے۔
بیس رکعات تراویح کے دلائل:
(۱( عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ ﷺ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج۲،ص۱۶۶)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں بیس رکعات تراویح اور(اس کے بعد( وتر پڑھتے تھے۔
(۲( حدثنا وکیع عن مالک عن یحی بن سعید ان عمر الخطاب امر رجلا ان یصلی بھم عشرین رکعۃ ۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج۳،ص۲۸۵(
حضرت عمرؓ نے ایک آدمی (حضرت ابی بن کعبؓ ( کو کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائیں۔
(۳( حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بیس رکعات تراویح کے ساتھ قیام فرماتے تھے (قراء حضرات( سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں شدت کی وجہ سے لاٹھیوں سے ٹیک لگاتے تھے۔(السنن الکبری ،ص۴۹۶،ج۲(
(۴( حضرت ابو عبد الرحمن سلمیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے رمضان المبارک میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائیں اور ان کو وتر حضرت علیؓ خود پڑھاتے تھے۔(ایضا ،ج۲،ص۴۹۶(۔
حضرات خلفائے راشدین کا عمل بھی سنت اور حجت ہے:


کیا نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنا برا ہے ؟


کیا نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنا برا ہے ؟


(عام عوام کو سمجھانے کیلئے عبارت کی آسان اور عوامی انداز میں توضیح کی جارہی ہے علمی بحث پڑھنے کیلئے اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں)


حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ پر کچھ رسوائے زمانہ لوگوں نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں سب سے بڑا الزام اور سب سے نمایاں بہتان یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ”صراط مستقیم“ میں لکھا ہے کہ :
”محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نماز میں خیال لے جانا ظلمت بالائے ظلمت ہے ۔کسی فاحشہ رنڈی کے تصور اور اس کے ساتھ زنا کا خیال کرنے سے بھی برا ہے ۔اپنے بیل یا گدھے کے تصور میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بد تر ہے “
احمد رضاخان نے صاحب قارونی کے بعض مریدین اور پیروکار اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں اور دیہاتوں میں جاکر بکتے ہیں کہ اسمعیل نے لکھا ہے کہ نماز میں نبی ﷺکا خیال آجانا گھوڑے گدھے کے خیال آنے سے زیادہ برا ہے۔


ملفوظات حکیم الامت ؒ کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کے ماموں پر اعتراض کا مدلل جواب

ملفوظات حکیم الامت ؒ کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کے ماموں پر اعتراض کا مدلل جواب

مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی

حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات علوم و معارف کا گنجینہ ہیں شیخ الاسلام استاذ محترم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی دورہ حدیث کے فارغ التحصیل علماءکو خاص طور پر جن کتابوں کے مطالعہ کی تلقین کرتے ہیںان میں سر فہرست ملفوظات حکیم الامت ہے ا س سے آپ ان ملفوظات کی وقعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،مگر عقل و شعور سے پیدل تعصب سے مغلوب اہل السنة والجماعة کے دیرینہ دشمن فرقہ رضائیہ کے علماءان ملفوظات پر مختلف قسم کے اعتراضات اپنی جہالت کی وجہ سے کرتے رہتے ہیں انہی اعتراضات میں سے ایک اعتراض ملفوظات میں حکیم الامت ؒ کے ماموں پر بھی ہے جسے بعض رضاخانی نام نہاد مناظرین(۱) نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اس مضمون میں ہم انشاءاللہ اسی اعتراض کا مدلل و منہ توڑ جواب دیں گے
اعتراض:


اہل السنة والجماعة کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی ہے



اہل السنة والجماعة کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی ہے


قارئین کرام ! مسلمانوں کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی اختلاف ہے بعض حضرات صرف اسے جاہلوں کا گروہ یا صلوة و سلام و میلا د کا اختلاف کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بریلوی حضرات نے جو علم غےب ،حاضر و ناظر ،مختار کل نور و بشر وغیرہا پر جو عقائد اپنائے ہیں پھر ان کی گستاخانہ عبارات وہ کفریہ و شرکیہ ہیں انہیں کسی بھی طرح فروعی اختلاف نہیں کہا جاسکتا یہ ضرور ہے کہ فروع میں بھی اس مذہب والوں کے ساتھ ہمارا اختلاف ہے لیکن اصولی اختلاف ان کے عقائد کی بناءپر ہے۔
مولانا گنگوہی رحمة اللہ علیہ کا فتوی
سوال:حضور فرماتے ہیں کہ جو شخص علم غےب کا قائل ہو وہ کافر ہے حضرت جی آج کل تو بہت آدمی ہیں کہ نماز پڑھتے ہیں وظائف بکثرت پڑھتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کا میلاد میں حاضر رہنا و حضرت علی کا ہر جگہ موجود ہونا دور کی آواز کا سننا مثل مولوی احمد رضا بریلوی کے جنہوں نے رسالہ علم غےب لکھا ہے کہ نمازی اور عالم بھی ہیں کیا ایسے شخص کافر ہیں ایسوں کے پیچھے نماز پڑھنی اور محبت و دوستی رکھنی کیسی ہے؟
جواب:


تقویۃ الایمان پر ایک اعتراض کا جائزہ

 

تقویۃ الایمان پر ایک اعتراض کا جائزہ

(ساجد خان نقشبندی)


امید کرتا ہوں کہ آپ حضرات خیر خیریت سے ہونگے ۔نور سنت کا تازہ شمارہ ملا پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا اللہ پاک آپ لوگوں کو اسی طرح مسلک حقہ کی ترویج کی توفیق دے آمین۔آپ حضرات کو مراسلہ بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اہل بدعت حضرت کی طر ف سے کئی دن سے یہاں مسلسل پروپگینڈاکیا جارہا ہے کہ تقویۃ الایمان میں معاذ اللہ انبیاء علیہم السلام کو بے عزت اور ذلیل کہا گیا ہے ۔۔کیا تقویۃ الایمان میں واقعی کوئی ایسی عبارت ہے یا یہ بھی اہل بدعت کا جھوٹ اور مکر و فریب ہے ؟اور اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ (محمدراشد)
جواب

میرے محترم پہلے آپ تقویۃ الایمان کی پوری عبارت ملاحظہ فرمائیں اس کے بعد انشاء اللہ فقیر اپنی معروضات عرض کرے گا:
تقویۃ الایمان کی عبارت


اذان میں نام اقدس ﷺ سن کر انگوٹھے چومنے والی روایت کی فنی تحقیق


اذان میں نام اقدس ﷺ سن کر

انگوٹھے چومنے والی روایت کی فنی تحقیق

مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی


ہمار ے معاشرے میں ایسی بہت سی حدیثیں زبان زد عام ہیں جن کا ثبوت موجود نہیں ۔ چنانچہ محدثین کرام ان روایتوں کو صاف الفاظ میں بے اصل اور غیر ثابت شدہ قرار دیتے ہیں۔کیونکہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی بھی کلام اور کلمات کو رسول اللہ ﷺ کی جانب ایک خاص اصل اور قاعدے سے منسوب کیا جاسکتا ہے،جسے’’ اسناد‘‘ کہتے ہیں اس اسناد میں موجود راویوں کے حالات ،ان کے مابین اتصال اور انقطاع وغیرہ امور کو دیکھ کر حفاظ حدیث ہر حدیث کو اس کا فنی مقام دیتے ہیں ،اس چھان بین میں بعض حدیثوں کو وہ بے اصل قراردیتے ہیں لہٰذا ایسی حدیثوں کو بیان کرنا جائز نہیں۔ اسی سلسلے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب ایک روایت ہے جس میں اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کا ذکر ہے۔اس عنوان کے تحت ہم اس روایت کی تحقیق کریں گے۔
تحقیق کا خلاصہ

نبی کریم ﷺ کے بارے میں رضاخانیوں کے ایک غلیظ عقیدے کی نقاب کشائی


%%% نبی کریم ﷺ کے بارے میں رضاخانیوں کے ایک غلیظ عقیدے کی نقاب کشائی %%%

:: ساجد خان نقشبندی ::

بریلوی غزالی و رازی دوراں و فلاں فلاں مولوی عمر اچھروی اپنی بدنام زمانہ کتاب ’’ مقیاس حنفیت ‘‘ میں لکھتاہے:
’’حضور ﷺ زوجین کے جفت ہونے کے وقت بھی حاضر ناظر ہوتے ہیں‘‘۔
(مقیاس حنفیت ،ص282)
استغفر اللہ ! العیاذباللہ! و ہ حیاء دار نبی !شرم و عفت کا وہ پیکر! جس کی امت کو یہ تعلیم ہو کہ جب چلو تو نگاہیں نیچی کرکے چلو ،جس حیاء دار نبی کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ کنواری دلہن سے زیادہ شرم و حیاء والے ،او جن کی بیبیوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ جب تم نبی کی بیبیوں سے کچھ پوچھو تو پردے کے پیچھے سے پوچھو،جس نبی کی عفت مآب بی بی ہماری ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عفت شرم و حیاء کا یہ عالم ہو کہ فرماتی ہیں’’ جب میرے گھر میں عمر فاروق کی تدفین ہوئی تو اس کے بعد میں پردہ کرکے قبور مطہرہ کی زیارت کو آتی‘‘۔ جو صدیقہ نبی کی حیاء کو ان الفاظ میں بیان کرے کہ ساری زندگی نہ سرکار نے میرا ستر دیکھا نہ میں نے ان کا ستر دیکھا ،ارے وہ مقام جہاں شرم و حیاء کے مارے فرشتے بھی الگ ہوجائیں یہ بدبخت بے حیاء کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ وہاں بھی حاضر ہوتے ہیں موجود ہوتے ہیں سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں ملاحظہ فرمارہے ہوتے ہیں ۔
یا اللہ !آسمان پھٹ کیوں نہیں پڑتا۔۔۔؟زمین شق کیوں نہیں ہوجاتی۔۔۔؟قلم ٹوٹ کیوں نہیں جاتے۔۔۔ ؟ان بد بختوں کے ہاتھوں پر یہ سب بکواس لکھتے ہوئے ریشہ طاری کیوں نہیں ہوتا۔۔۔؟


مسلکِ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ



%% مسلکِ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ %%



::: مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی :::

قارئین کرام!اللہ رب العزت کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ انسان کو وہ حکمت اس کی ناقص عقل کی وجہ سے سمجھ میں نہ آئیے ۔کچھ عرصہ پہلے مولوی ایاز سیفی رضاخانی نے تبلیغی جماعت اور اکابر دیوبند پر تبرا کیا میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بھی اللہ کی حکمت تھی چنانچہ اگر مولوی مذکور ایسا نہ کرتا تو ان اولیاء اللہ کے دفاع میں جو مضامین راقم الحروف کے قلم سے نکلے نہ جانے خیال و ہم کے کسی کونے میں مدفون یہ خزانہ کب قرطاس و قلم کی زینت بنتا ۔اسی بیان میں اس نے قاضی صاحب ؒ کی تفسیر سے ایک حوالہ پیش کیااور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ قاضی ثناء پانی پتی ؒ بھی مشرکین پاک وہند کے مسلک پر ہیں معاذاللہ جس کا منہ توڑ جواب راقم سابق مضمون میں دے چکا ہے اس میں بھی اللہ کی حکمت کا ظہور یوں ہوا کہ رب تعالی نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ قاضی صاحب کے مسلک و موقف پر ایک پورا مضمون سپرد قلم کردوں سو ملاحظہ ہو۔
قاضی صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف بریلوی علماء سے
مولوی احمد رضاخان بریلوی لکھتے ہیں :