بدھ، 17 جون، 2015

مسلکِ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ



%% مسلکِ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ %%



::: مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی :::

قارئین کرام!اللہ رب العزت کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ انسان کو وہ حکمت اس کی ناقص عقل کی وجہ سے سمجھ میں نہ آئیے ۔کچھ عرصہ پہلے مولوی ایاز سیفی رضاخانی نے تبلیغی جماعت اور اکابر دیوبند پر تبرا کیا میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بھی اللہ کی حکمت تھی چنانچہ اگر مولوی مذکور ایسا نہ کرتا تو ان اولیاء اللہ کے دفاع میں جو مضامین راقم الحروف کے قلم سے نکلے نہ جانے خیال و ہم کے کسی کونے میں مدفون یہ خزانہ کب قرطاس و قلم کی زینت بنتا ۔اسی بیان میں اس نے قاضی صاحب ؒ کی تفسیر سے ایک حوالہ پیش کیااور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ قاضی ثناء پانی پتی ؒ بھی مشرکین پاک وہند کے مسلک پر ہیں معاذاللہ جس کا منہ توڑ جواب راقم سابق مضمون میں دے چکا ہے اس میں بھی اللہ کی حکمت کا ظہور یوں ہوا کہ رب تعالی نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ قاضی صاحب کے مسلک و موقف پر ایک پورا مضمون سپرد قلم کردوں سو ملاحظہ ہو۔
قاضی صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف بریلوی علماء سے
مولوی احمد رضاخان بریلوی لکھتے ہیں :

 
’’قاضی ثناء اللہ پانی پتی جن سے مولوی اسحق نے ماءۃ مسائل اور اربعین میں استناد کیا اور جناب مرزا صاحب ان کے پیر و مرشد و ممدوح عظیم شاہ ولی اللہ صاحب نے مکتوب۵ ۷ میں انہیں فضیلت ولایت مآب مروج شریف و منور طریقت و نور مجسم و عزیز ترین و مجودات و مصدر انوار فیوض وبرکات لکھا اور منقول کہ شاہ عبد العزیز صاحب انہیں بیہقی وقت کہتے ‘‘۔
(فتاوی رضویہ جدید ،ج9،ص803رضافاؤنڈیشن لاہور)
جس انداز سے احمد رضاخان صاحب نے قاضی صاحب کا تعارف کروایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قاضی صاحب سے خاصاناراض ہیں اس کی وجہ آگے معلوم ہوجائے گی۔
بریلوی شیخ الحدیث والتفسیر فیض ملت فیض احمد اویسی لکھتے ہیں :
قاضی ثناء اللہ پانی پتی جسے شاہ عبد العزیز دہلوی اپنے زمانہ کا بیہقی محدث فرماتے تھے ‘‘۔
( تحقیق الاکابر فی قدم الشیخ عبد القادر،ص113۔مکتبہ اویسیہ بہاولپور)
’’جس کا خلاصہ بیہقی وقت علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ ‘‘۔
( تحقیق الاکابر فی قدم الشیخ عبد القادر،ص175۔مکتبہ اویسیہ بہاولپور)
حافظ عرفان اللہ حنفی ابن مفتی پیر محمد عابد حسین سیفی متعلم دارالعلوم محمد یہ غوثیہ لاہور لکھتے ہیں:
’’دنیائے علم و تصوف میں حضرت بحر علوم الظہریہ والباطنیہ شیخ قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ کا نام ایک آفتاب درخشندہ کی طرح جانا جاتا ہے آپ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے دین اسلام کی ترویج و ترقی کیلئے اپنی بے حد خدمات سر انجام دیں جوکہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ نے بہت سے موضوعات پر کتب تحریر فرمائیں آپ کے کارناموں میں سے تفسیر مظہری ( جو دس جلدوں پر مشتمل ہے )ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور ایک بہت بڑا علمی خزانہ ہے اس کے علاوہ آپ نے فقہی مسائل پر ایک کتاب رقم فرمائی جو کہ مالا بد منہ کے نام سے مسمی ہے اس کتاب کو اس قدر پذیرائی ملی کہ مدارس اسلامیہ میں اب تک یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے ‘‘۔
( بستان السالکین اردو ترجمہ ارشاد الطالبین ،عنوان کچھ مصنف کے بارے میں )
اولیاء اللہ سے مانگنا
ایا ز سیفی اور رضاخانیوں کے نزدیک ہمارے لئے اللہ کافی ہے کہنا درست نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ بھی مشکل کشا حاجت روا ہیں ان سے اپنی حاجت برائی کیلئے مانگنا نہ صرف جائز بلکہ ایمان ہے مگر قاضی صاحب کیا لکھتے ہیں ملاحظہ ہو:
’’مسئلہ : اگر کسے گوید کہ خدا و رسول برین عمل گواہ اند کافر شود اولیاء قادر نیستند بر ایجاد معدوم یا اعدام موجود پس نسبت کردن ایجاد و اعدام و اعطاء رزق یا اولاد و دفع بلا و مرض وغیر آن بسوئے شان کفر است قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ما شاء اللہ یعنی بگو اے محمد ﷺ مالک نیستم من برائے خویشتن نفع را و نہ ضرر را مگر آنچہ خدا خواہد و اگر نسبت بطریق بسببیت بود مضائقہ ندارد
مسئلہ : اگر کوئی کہے کہ خدا اور رسول اس عمل پر گواہ ہیں تو وہ کافر ہوجاتا ہے اولیاء کرام معدوم کو موجود کرنے یا موجود کو معدوم کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اس لئے پیدا کرنے رزق دینے بلا دور کرنے اور مرض سے شفاء دینے وغیرہ کی نسبت ان سے مدد طلب کرنا کفر ہے فرمان خداوندی ہے قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ما شاء اللہ یعنی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے میں اپنے آپ کیلئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر وہ جو کچھ اللہ چاہے اور اگر سبب کے لحاظ سے نسبت ہو تو کوئی حرج نہیں ۔
(بستان السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص47,48،)
مترجم کا تعارف :بستان السالکین کے نام سے اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے سیفیوں رضاخانیوں بریلویوں کے استاد العلماء مفسر قرآن علامہ پیر مفتی محمد عابد حسین سیفی ۔ کتاب پر پیش لفظ سید امتیاز حسین شیرازی سرفرازی سیفی محمدی ،تقاریظ :مولوی محمد سعید حیدری سابق چیف جسٹس آف افغانستان علامہ مولوی حمید جان شیخ الحدیث و پرنسپل جامعہ سیفیہ باڑہ شریف پشاور ،فاضل ذیشان صاحبزادہ صاحب مقام علامہ مولوی احمد سعید سیفی عرف یار صاحب مدرس جامعہ سیفیہ باڑہ شریف کی لکھی ہوئی ہیں۔
اب قاضی صاحب تو فرمارہے ہیں کہ اولیاء اللہ کو رزق اولاد نفع و نقصان دینے والا سمجھنا اور اس نیت سے ان سے اپنی حاجات طلب کرنا کفر ہے کیونکہ خود قرآن نبی کریم ﷺ کے بارے میں کہہ رہا کہ آپ ﷺ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ۔ہاں بعض اوقات اللہ انہیں سبب بنادیتا ہے مگر وہ محض واسطہ و سبب ہوتے ہیں ان چیزوں پر مختار نہیں ہوجاتے جس کی تفصیل میرے سابقہ مضمون میں گزرچکی ہے۔ایک دو حوالے مزید قاضی صاحب سے ملاحظہ فرمالیں قاضی صاحب اسی سبب و واسطہ کی وضاحت کرتے ہیں :
’’و خلق و تکوین صفتے است مختص بوئے تعالی ممکن چہ باشد کہ ممکن را پیدا می تواند کرد ممکنات بہ تمامہا چہ جوہر و چہ عرض و چہ افعا ل اختیاریہ بندگان ہمہ مخلوق او تعالی اند اسباب و وسائط را روپوش فعل خود ساختہ است بلکہ دلیل بر ثبوت فعل خود کردہ‘‘۔ ( مالا بد منہ ،ص7)
اور پیدا کرنا اور وجود میں لانا یہ بھی اسی ذات پاک کیلئے خاص صفت ہے ممکن جیسے حقیر کو کیا طاقت کہ دوسرے ممکن کو پیدا کرسکے تمام ممکنات جوہر ہوں یا عرض یا بندوں کے اختیاری کاروبار سب حق تعالی کے پیدا کئے ہوئے ہیں ظاہری سببوں اور وسیلوں کو (حکمت کی بناء پر) اپنے کام کا پردہ بنارکھا ہے بلکہ اپنے کام کے ثبوت کی دلیل بنادی۔
ایک اور جگہ اس سبب و واسطہ وسیلہ کی وضاحت یوں کرتے ہیں :
’’حق العباد میں ایک دوسری قسم ان لوگوں کے حقوق ہیں جو اللہ تعالی کے بعض حقوق کے مظہر ہوتے ہیں ایجاد (پیدا) کرنے ،پرورش کرنے ،روزی پہنچانے ،اور ا س طرح کے دیگر امور کا وہ ظاہر میں واسطہ ہوا کرتے ہیں جیسے ماں باپ دادے اور دادیاں وغیرہ جن لوگوں کے واسطہ اور ذریعہ سے اللہ تعالی رزق پہنچاتا ہے یا جن کے ذریعہ پرورش کرتا ہے یا مالی انعام کی کوئی قسم کی منفعت عطا فرماتا ہے تو ان حضرات کا شکر ادا کرنا بھی والدین کے شکر کی طرح واجب ہے‘‘۔
( مفید الانام ترجمہ حقیقت الاسلام ،ص37مترجم رسول بخش مہر آبادی بریلوی ، مطبوعہ ،المدینہ دارالاشاعت لاہور)
اب بریلوی رضاخانی اگر واسطہ و سبب کو ہی مختار کل مشکل کشا مانتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ اپنے ماں باپ دادا۔دادی ، اور افسران وغیرہ کو بھی مشکل کشا حاجت روا مانیں اور لوگوں کو ان کے در پر جھکنے کی تعلیم دیں ۔
اس ساری تفصیل کے بعد اب اگر ایاز سیفی رضاخانی اور اس کی جماعت کے لوگوں میں رائی کے دانے کے برابر غیرت ہے تو ایاز سیفی کے 22مناظروں کی تعداد کی نسبت سے 22دفعہ چلو بھر پانی میں 22دفعہ ناک ڈبو کر اپنی ارواح خبیثہ کو اجسام رذیلہ کی قید سے آزاد کرائیں تاکہ خس کم جہاں پاک ہو۔
اولیاء اللہ کی قبور سے مانگنے والے
قاضی صاحب ولایت کے متعلق غلط مشرکانہ بریلویانہ عقیدہ کابیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بعضے در اولیاء اللہ عصمت خیال می کنند و می دانند کہ اولیاء ہر چہ خواہند ہمان شود و ہر چہ نخواہند معدوم گردہ و ازقبور اولیاء باین خیال مرادات خود طلب می کنند و چون در اولیاء اللہ و مقربان درگاہ کہ زندہ این صفت نمی یابند از ولایت آنہا منکری شوند و از فیوض آنہا محروم می مانند
بعض اولیاء کے معصوم ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اولیاء جو کچھ چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتے وہ نہیں ہوتا اور اسی خیال سے اولیاء اللہ کی قبروں سے اپنی مرادیں طلب کرتے ہیں اور جو وہ زندہ اولیاء اللہ اور مقربان خداوندی میں یہ صفت نہ پاتے تو ان کی ولایت کا انکار کرکے ان کے فیوض سے محروم رہتے ہیں‘‘ ۔
(بستان السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص1,2)
علم غیب اور حاضر ناظر
اگر کسے گوید کہ خدا و رسول برین عمل گواہ اند کافر شود
مسئلہ : اگر کوئی کہے کہ خدا اور رسول اس عمل پر گواہ ہیں تو وہ کافر ہوجاتا ہے
(بستان السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص47,48،)
اور اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں :
’’مسئلہ اگر کسے بدون شہود نکاح کرد و گفت کہ خدا و رسول خدا را گواہ کردم یا فرشتہ را گواہ کردم کافر شود ‘‘۔( مالا بد منہ ،ص146میرمحمد کتب خانہ کراچی)
اگر کوئی شخص بدون گواہ کے نکاح کرے اور کہے کہ میں نے خدا اور اس کے رسول کو یا فرشتہ کو گواہ کیا تو کافر ہوجائے گا ۔
کیونکہ رسول خدا ﷺ اور ملائکہ کو عالم الغیب سمجھنا کفر ہے کہ یہ صفت خاصہ رب باری تعالی ہے تفصیل میرے سابقہ مضمون ’’رضاخانیت بمقابلہ حنفیت قسط اول ‘‘ میں گزرچکی۔
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :
’’بندگان خاص الٰہی را در صفات واجبی شریک داشتن یا آنہارا در عبادت شریک ساختن کفر است چنانچہ دیگر کفار بہ انکار انبیاء کافر شد ند ہمچناں نصاری عیسی را پسر خدا و مشرکان عرب ملائکہ را دختران خدا گفتند و علم غیب بآنہا مسلم داشتندکافر شدند ‘‘۔
(مالا بد منہ،ص11,12،مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)
حق تعالی کے خاص بندوں کو اس کی صفات واجبی میں شریک ٹھرانا یا انکو بندگی میں شریک بنانا کفر ہے جس طرح دوسرے کفار نبیوں کے انکار سے کافر ہوئے اسی طرح نصاری عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور عرب کے مشرک فرشتوں کو خدا کی بیٹی کہہ کر اور فرشتوں کیلئے علم غیب کا عقیدہ مان کر کافر ہوگئے ( یہی عقیدہ مشرکین پاک و ہند کا بھی ہے)نبیوں اور فرشتوں کو خدا تعالی کی صفات میں شریک بنانا جائز نہیں ۔
عرس کرنا مزارا ت پر خرافات کرنا
لا یجوزما یفعلہ الجھال بقبور الاولیاء والشھدآء من السجود و الطواف حولھا واتخاذ السرج والمساجد علیھا و من الاجتماع بعد الحول کالاعیاد ویسمونہ عرسا عن عائشۃ و عن ابن عباس قالا لما نزل برسول اللہ ﷺ مرض طفق یطرح خمیصۃ لہ علی وجھہ فاذا اغتم کشفہا عن وجھہ ویقول ھو کذالک لعنۃ اللہ علی الیہود والنصاری اتخذوا قبور انبیاءھم مساجد قالت فحذر عن مثل ما صنعوا متفق علیہ و کذا روی احمد والطیالسی عن اسامۃ بن زید وروی الحاکم و صححہ عن ابن عباس لعن اللہ زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج و روی مسلم من حدیث جندب بن عبد الملک قال سمعت النبی ﷺ قبل ان یموت بخمس وھو یقول الا لا تتخذوا والقبور مساجد انی انھاکم عن ذالک
(تفسیر مظہری،ج2،ص68,69،دارالاحیاء التراث العربی)
اولیاء اور شہداء کے مزارات پر سجدے کرنا ،طواف کرنا ،چراغ روشن کرنا ان پر مسجدیں قائم کرنا عید کی طرح مزارات پر عرس کے نام سے میلے لگانا جس طرح آج کل جاہل کرتے ہیں جائز نہیں ۔حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ مرض وفات میں رسول اللہ ﷺ نے دھاری دار کمبل سے چہرہ مبارک ڈھانک لیا اور دم گھٹا تو منہ سے ہٹا دیا ( اللہ اکبر ساری دنیا کے مشکل کشاء حاجت روا مختار کل کو اپنی سانس مبارک پر بھی اختیار نہیں از ناقل ) اور اسی حالت میں فرمایا یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا حضرت عائشہؓ کا بیان ہے حضور ﷺ نے اس ارشاد میں یہود و نصاری کے فعل سے مسلمانوں کو بازداشت کی ۔بخاری و مسلم امام احمد و ابو داؤد طیالسی نے بھی حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ۔حاکم نے ابن عباسؓ کی یہ روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پراور ان لوگوں پر جو قبروں کو سجدہ گاہ بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں اللہ کی لعنت ہو ۔مسلم نے حضرت جندب بن عبد المالک کا قول نقل کیا ہے جندبؓ کا بیان ہے کہ میں نے خود سناوفات سے پانچ راتیں پہلے حضور ﷺ فرمارہے تھے ہوشیار قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانامیں تاکید کے ساتھ تم کو اس کی ممانعت کرتا ہوں۔
قبروں پر مزار بنانا
’’مسئلہ آنچہ بر قبور اولیاء عمارتہائے رفیع بنا میکند و چراغاں روشن میکنند و ازین قبیل ہر چہ میکنند حرام است یا مکروہ‘‘۔ ( مالا بد منہ ،ص84)
اولیاء کی قبور پر جو اونچی عمارتیں بناتے ہیں اور چراغاں کرتے ہیں اور اس قسم کے جتنے کام کرتے ہیں ( مثلا غلاف عرس وغیرھما) سب حرام یا مکروہ ( تحریمی ) ہیں ۔
بدعت حسنہ
’’حضرت خواجہ عالی شان خواجہ بہاء الدین نقشبند رضی اللہ عنہ وامثال شان حکم کردہ اند بدانکہ ہرعبادت کہ موافق سنت است آن عبادت مفید تر است برائے ازالہ رزائل نفس و تصفیہ عناصرو حصول قرب الٰہی لہذا از بدعت حسنہ مثل بدعت قبیحہ اجتناب می کنند کہ رسول اللہ ﷺ فرمودہ کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ پس نتیجہ این حدیث آنست کہ کل محدث ضلالۃ و بدیہی است کہ لا شیء من الضلالۃ بھدایۃ فلا شیء من المحدث بھدایۃ‘‘۔
حضرت خواجہ عالی شان خواجہ بہاالدین نقشبند ؒ اور آپ جیسے دیگر بزرگان نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ عبادت جو سنت کے موافق ہے وہ رذائل نفس تصفیہ عناصر اور قرب الٰہی کے حصول کیلئے زیادہ مفید ہے۔اس لئے بدعت حسنہ سے بھی بدعت قبیحہ کی طرح بچتے ہیں کیونکہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا ہے کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ ہر نئی بات بدعت ہے اور تمام بدعتیں گمراہی ہیں پس اس حدیث کا نتیجہ یہ ہے کہ کل محدث بدعت اور ظاہر ہے کہ لا شیء من الضلالۃ بھدایۃ فلا شیء من المحدث بھدایۃ گمراہی کی کوئی چیز ہدایت نہیں ہے پس ہر نئی بات بھی ہدایت نہیں ہے ۔
( بستان السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص69-72)
تیجہ ،چالیسواں ،برسی
قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی وصیت میں لکھتے ہیں:
’’بعد مردن من رسوم دنیوی مثل دہم و بستم و چہلم و ششماہی و برسی ہیچ نکند‘‘۔
(مالا بد منہ ،ص161)
میرے مرنے کے بعد دنیوی (بریلوی ) رسمیں مثلا دسواں اور بیسواں اور چالیسواں اور ششماہی اور سالانہ برسی عرس کچھ بھی نہ کریں ۔
ذکر جہر بدعت ہے
’’جمیع مشائخ سلاسل برائے مریدان ہمین ذکر لا الہ الا اللہ مقرر داشتہ اند بعضے بجہر میگویند و ازان می جویند و نقشبندذکر جہر را بدعت دانستہ اندبذکر خفی اکتفا کردہ اند‘‘۔
تمام سلسلوں کے مشائخ نے اپنے مریدوں کیلئے اسی کلمہ لا الہ الا اللہ کاذکر مقرر کیا ہے بعض اونچی آواز سے ذکر کرتے ہیں اور اسی میں (لذ ت/قرب )تلاش کرتے ہیں جبکہ ( سلسلہ ) نقشبند ( کے مشائخ) نے بلند ذکر کو بدعت سمجھا ہے اور ذکر خفی پر اکتفاء کیا ہے ۔
(ہدایۃ السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص117,118)
سیفی بھی خود کو نقشبندی کہتے ہیں مگر ان کی کسی مجلس میں چلے جائیں دل جاری کرنے کے نام پر پوری مسجد میں عجیب دھمکا چوکڑی مچائی ہوئی ہوتی ہے سپیکر پر گلے پھاڑ پھاڑ کر پوری مسجد میں وجد کے نام پر دھمال ڈالے جارہے ہوتے ہیں قاضی صاحب کے فتوے کی رو سے یہ سب سلسلہ نقشبند کے باغی اور جہنمی بدعتی ہیں عوام سے بھی گزارش ہے کہ کسی صحیح العقیدہ نقشبندی بزرگ کے ہاتھ پر بیعت ہوں۔
کلمہ کا معنی
ایاز سیفی کہتا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا معنی لامعبود الا اللہ کے علاوہ کرناتفسیر بالرائے اور کفر ہے جس کا رد سابقہ مضمون میں گزرچکامگر قاضی صاحب ؒ لکھتے ہیں :
’’کلمہ لا الہ الا اللہ کی حقیقت اس مقام پر ثابت ہوتی ہے لا الہ الا اللہ کے معنی منتہیان کے حسب حال لا معبود الا اللہ ہیں چنانچہ شریعت میں اس کے یہی معنی قرار پاتے ہیں اور لا موجود لا وجود اور لا مقصود کہنا اوسط درجہ کے مبتدیوں کیلئے مناسب ہے ‘‘۔
( بستان السالکین ترجمہ ارشاد الطالبین ،ص104)
کیا لا الہ الا اللہ کا معنی لامعبود کے علاوہ لا مقصود لا موجو د لا وجود کرکے قاضی صاحب ؒ نے بھی معاذ اللہ کفر اور تفسیر بالرائے کیا ؟پھر دلچسپ بات کہ قاضی صاحب اس معنی کو سامنے رکھ کر مبتدیوں کو اس کلمہ کی تلقین فرمارہے ہیں یقیناًآپ بھی پیر ی مریدی سے وابستہ ہیں آپ کے شیخ نے بھی یہی طریقہ آپ کو بتایا ہوگا آپ نے اس پر عمل بھی کیا ہوگا تو اپنا ہی کفر کا فتوی تجھ پر لوٹ آیا اور نبی کی حدیث سچ ہوئی کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے اوروہ کافر نہ ہو تو کہنے والے پر کفر لوٹ جاتا ہے ( ملخصا)۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔