بدھ، 17 جون، 2015

علمائے دیوبند کے تراجم پر اعتراضات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ





علمائے دیوبند کے تراجم پر اعتراضات

کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ


مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی


راقم الحروف سب سے پہلے اپنی اور اپنی ٹیم کی طرف سے ادارہ نورسنت کو عظیم الشان ترجمہ کنز الایمان نمبر شائع کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہے جس طرح مناظرہ جھنگ نمبر نے بہت سے دلوں سے شکوک و شبہات کو دور کیا انشاء اللہ یہ نمبر بھی بہت سے لوگوں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بنے گا ۔
قارئین کرام ! نور سنت کے خصوصی شماروں کے حوالے سے بندہ کی یہ ترتیب ہے کہ پہلے سے کسی عنوان کے تحت کوئی مضمون نہیں لکھتا اور نہ ادارہ کسی مضمون نگار کو کسی عنوان کا پابند کرتا ہے۔ اسی لئے جب شمارہ تیار ہوجاتا ہے اور کوئی موضوع رہ جاتا ہے تو بندہ اس پر قلم اٹھاتا ہے تاکہ ایک ہی عنوان کا بار بار تکرار نہ ہو۔ترجمہ کنز الایمان نمبر کے حوالے سے بھی بندے کی یہی ترتیب و سوچ تھی ۔چنانچہ جب شمارے کا مسودہ راقم الحروف کے سامنے آیا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہمارے علماء و مناظرین نے کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا اس لئے اپنی طرف سے ترجمہ کنز الایمان پر مزید کوئی مضمون لکھنے سے بندے نے معذرت کرلی ۔مگر محترم علامہ معاویہ صاحب مدظلہ العالی نے اس معذرت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور دوسری طرف محقق اہلسنت استاذ محترم حضرت علامہ مفتی نجیب اللہ عمر صاحب مدظلہ العالی نے بھی بندے کو حکم دیا کہ آپ نے ہر صورت میں خصوصی نمبر کیلئے کوئی مضمون دینا ہے ۔ اس لئے ناچار قلم اٹھانا پڑا کہ اس حکم کے بعد اب انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی او ر فیصلہ کیا کہ جن بعض تراجم پر اعتراض کا جواب حضرت شیر اہلسنت ترجمان مسلک دیوبند علامہ ابو ایوب قادری صاحب کے مضمون میں نہیں آیا ان کا مختصر جواب دے دیا جائے ۔سو بندہ اب ان اعتراضات کاجواب لکھنے کی ابتداء کرتا ہے اور فیصلہ ہر انصاف پسند قاری پر چھوڑتا ہے کہ بندے کو ان کے جوابات دینے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔
اعتراض نمبر۱: ووجدک ضالا فھدی (سورۃ الضحی)


اور اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو (شریعت سے ) بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلادیا
(حکیم الامت مولنا اشرف علی تھانوی صاحب ؒ )
اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سمجھائی (شیخ الہند مولنا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ)
رضاخانی مولوی ا ن تراجم پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’دیوبندی وہابی مترجمین نے ضالا کا ترجمہ بھٹکتا ہوا ،بے خبر وغیرہ الفاظ سے کیا جو کہ صریحا غلط ہے اور بے ادبی ہے دیوبندی وہابی مولویوں نے یہ نہ دیکھا کہ کس کو بھٹکا ہو ااور بے خبر کہہ رہے ہیں رسول کریم ﷺ کی ناموس و عظمت پر دھبہ لگ جائے ان ظالموں کو اس کی کیا پرواہ کاش یہ مترجمین ترجمہ کرنے سے پہلے سابقہ تفاسیر کا بغور مطالعہ کرلیتے تو شائد ایسا نہ ہوتا جو خود بے خبر ہو بھٹکتا پھرتا ہو وہ ہادی اور راہنما کیسے ہوسکتا ہے ‘‘
(فیصلہ کیجئے ۔از شیر محمد جمشیدی رضاخانی ۔ص:۱۷۔۱۸)
(۲) اس کے علاوہ عبد الرزاق بھترالوی نے (تسکین الجنان ۔ص:۳۷۶)
(۳)رضاء المصطفی اعظمی (کنز الایمان مع خزائن العرفان ۔ص:۲)
(۳)ملک شیر محمد اعوان ( محاسن کنز الایمان ۔ص:۶۶)
(۴)مولوی کاشف اقبال رضاخانی (دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف۔ص:۹۵)
نے بھی ان تراجم پر کم و بیش اسی قسم کا جاہلانہ اعتراض کیا ہے۔
جواب:رضاخانی مولویوں کا ہمارے اکابر کے کئے گئے ترجمہ پر اعتراض کرنا محض جہالت کتب تفسیر سے نابلد ہونے اور ضد و تعصب کا نتیجہ ہے ۔چونکہ رضاخانیوں نے فیصلہ کرنے کیلئے خود ایک اصول لکھ دیا ہے کہ :
’’یہ مترجمین ترجمہ کرنے سے پہلے سابقہ تفاسیر کا مطالعہ کرلیتے تو شائد ایسا نہ ہوتا‘‘(فیصلہ کیجئے ۔ص:۱۷)
لہٰذا اب ہم اسی کسوٹی پر اپنے اکابرکا ترجمہ پرکھتے ہیں ۔
حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر
جمہور کے نزیک نبی کریم ﷺ نے ایک لحظہ کیلئے بھی کفر نہیں کیا قرآن مجید میں ہے:
ما ضل صاحبکم وما غوی
اور انہوں نے اس آیت کے متعدد محامل بیان کیئے ہیں :
ضال : کا معنی غافل حضرت ابن عباس حسن بصری ضحاک اور شہر بن حوشب نے کہا کہ آپ کو احکام شریعت سے بے خبر پایا تو آپ کو ان کی ہدایت دی اور اس کی تائیدان آیات میں ہے :
ماکنت تدری ماالکتاب ولاالایمان (الشوری :۵۲)و ان کنت من قبلہ لمن الغافلین (یوسف :۳۱)
(تفسیر کبیر ۔ج:۱۱۔ص:۱۹۷)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ
’’علامات نبوت اور احکام شریعت سے بے خبر اور ان تمام علوم سے لا علم جن کو جاننے کا ذریعہ سوائے نقل کے نہیں ہے۔اسی مفہوم کے مثل آیت و ان کنت من قبلہ لمن الغافلین اور آیت ما کنت تدری ماالکتاب والایمان کا مفہوم ہے ‘‘۔(تفسیرمظہری ۔ج:۲۱۔ص:۲۹۲)
امام عبد اللہ احمد النسفی رحمۃ اللہ علیہ
ووجد ضالا ای غیر واقف علی معالم النبوت و احکام الشریعۃ وما طریقہ السمع (فھدی) فعرفک الشرائع والقرآن ‘‘(تفسیر مدارک ۔ج۳۔ص:۶۵۴۔۶۵۵)
بیضاوی شریف
ووجدک ضالا عن علم الحکم والاحکام فھدی فعلمک بالوحی والالھام والتوفیق للنظر
زاد المسیر فی علم التفسیر لابن الجوزی ؒ
فیہ ستۃ اقوال : احدھا :ضالا عن معالم النبوۃ واحکام الشریعۃ فھداک الیھا قال الجمہور منھم الحسن و الضحاک
تفسیر خازن
ووجدک ضالا ای عما انت علیہا الیوم (فھدی)ای فھداک الی توحیدہ و نبوتہ و قیل ووجدک ضالا عن معالم النبوۃ و احکام الشریعۃ فھداک الیہا
امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ
غلام رسول سعیدی امام صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’یعنی ہمارے وحی کرنے سے پہلے اور ہمارے علم عطا کرنے سے پہلے از خود اپنی عقل سے دین کا اور شریعت کے احکام کا علم نہ تھا اور جب ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور آپ کو علم عطا فرمایا تو آپ کو ایمان کی اور کتاب کی تفصیلات کا علم ہوا ‘‘
(تاویلات اہل السنۃ ۔ج۵ص:۴۷۷۔۴۷۸ بحوالہ تبیان القرآن ج۱۲ ص ۸۲۴)
قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ
ضالا : عن شریعتک ای لا تعرفھا فھداک الیہا
(شفاء ج۲ص۷۱ مکتبہ حقانیہ)
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ
یعنی و دریافت ترا راہ گم کردہ پس راہ نمودترا و بیان ایں ہدایت و ضلا اانست کہ آنحضرت ﷺ بعد از رسیدن بحد بلوغ بسبب کمال اینقدرمعلوم شد کے عبادت بتاں و رسوم جاہلیت ہمہ ہیچ و پوچ است درپے تفتیش دین حق شدندو از زبان پیراں کہنہ سال شنیدندکہ اصل دین با دین حضرت ابراہیم است آنحضرت ﷺ را ایں خیال در سرافتاد کہ عبادت بتانرا گذاشتہ و رسوم جاہلیت راہ ترک دادہ متوجہ برب ابراہم و او عبادت کنم لیکن چوں ملت ابراہیمی کسے راہ یاد نماندہ بود و نہ در کتابی مدون بود ونہ آنحضرت ﷺ را قدرت خواند ن کتاب حاصل ناچار در تلاش احکام ایں ملت بیتاب و بیقرار بودند و بقدر معلوم از تسبیحات و تھلیلات و تکبیرات و اعتکاف و غسل از جنابت دارے مناسک حج و دیگر امور از ہمیں جنس اشتغال می ورزید ند تاآنکہ حق تعالی ایشانرابوحی خود بر اصول ملت حنیفی آگاہ ساخت ‘‘(تفسیر عزیزی ۔ج۲ص۲۲۰)
اکابر دیوبند کا ترجمہ ہی جمہو رکے مطابق ہے
ان تمام جمہور مفسرین جن میں ضحاک اور حسن بصری جیسے آئمہ ہیں اس آیت کا مطلب یہی بیان کیا کہ آپ ﷺ کو احکام شریعت کی تفصیل کا علم نہ تھا آپ اس سے بے خبر تھے تو اللہ تعالی نے احکام شریعت کا علم آپ کو عطا کیا اور اس کی طرف راہنمائی کی یہی ترجمہ حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ کا ہے ۔یہ کتنا کھلا ہوا تضا د ہے کہ احمد رضاخان بریلوی کا ترجمہ جو محض بعض صوفیاء سے منقول ہے اسے تو عشق کی معراج قرار دے دیا جائے اور حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا ترجمہ جو جمہو ر کے مطابق ہے اس پر فتوے لگ جائیں ۔اب رضاخانی ہمت کریں اور ان مفسرین کو بھی معاذ اللہ گستاخ کہیں۔
مفسرین نے اس آیت کی ایک تفسیر او ربھی بیان کی ہے کہ آپ اپنے داد عبد المطلب سے گم ہوگئے تھے تو ابو جہل آپ ﷺ کو ان کے پاس لایا جیسے فرعون سے موسی علیہ السلام کی پرورش کروائی۔یا آپ ﷺبی بی خدیجہؓ کے غلا م میسرہ کے ساتھ جارہے تھے ایک کافر نے آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی اور آپ سے راستہ گم ہوگیا اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو آدمی کی شکل میں بھیجا اور آپﷺ کو قافلے کے ساتھ ملا دیا۔
(تفسیر کبیر ج۱۱ص۱۹۷،تفسیر عزیزی ج۲ص۲۲۱،تفسیر مدارک ج۳ص۶۵۵، تفسیر ابن کثیر ج۸ص۴۲۶،تفسیر مظہری ج۱۲ص۲۹۲)
اگر اس تفسیر کو سامنے رکھا جائے تو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ:
’’اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سمجھائی‘‘
بالکل درست بنتا ہے اور سرے سے کوئی اشکال ہی وارد نہیں ہوتا حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی ترجمہ کو ملحوظ رکھا ۔یہ کھلا ہوا تعصب ہے کہ رضاخانی بے خبراور بھٹکتا ہوا کو راہ حق اور اسلام سے معاذ اللہ بے خبری پر محمول کررہے ہیں ۔ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’ضال کا معنی ہے سیدھے راستے کو ترک کرنا ۔خواہ یہ ترک عمدا ہو یا سہوا ۔ کم ہو یا زیادہ تو کسی شخص سے کوئی بھی کسی قسم کی خطا ہوجائے تو اس کیلئے ضال کا لفظ استعمال کرنا صحیح ہے اس لئے لفظ ضلال کی نسبت انبیاء علیہم السلام کی طرف بھی ہوتی ہے اور شیطان کی طرف بھی ہوتی ہے اگرچہ دونوں کے ضلال میں بہت فر ق ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نے ہمارے نبی ﷺ کے متعلق فرمایا ووجدک ضالا فھدی (الضحی :۷)یعنی جب آپ کو نبوت پر فائز کیا تو آپ مکمل شریعت سے آگاہ نہ تھے ‘‘
(المفردات ج۴ص۳۸۸۔۳۸۹ ملخصا بحوالہ تبیان القرآن ج۱۲ص۸۲۲)
یہاں بھی نظر کرم ہو
مولوی غلام رسول سعیدی امام ابو منصور ماتریدی ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’ضال کا معنی ہے غافل اس آیت کے معنی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو انبیاء متقدمین اور صالحین کی خبروں سے غافل پایا ۔بعض علماء نے کہا آپ کو گمراہ قوم میں پایا تو آپ کو ہدایت دی ‘‘ ۔
(تبیان القرآن ج۱۲ص۸۲۴۔۸۲۵)
تفسیر کبیر کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’ضال کا معنی ہے معرفت سے عاری ہونا جب آپ ایام طفولیت میں تھے تو اللہ تعالی نے آپ کو ’’ضال‘‘ پایا یعنی علوم و معارف سے خالی پایا ‘‘
(تبیان القرآن ج۱۲ص۸۲۶)
آل رضا کو حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ کے ترجمہ میں ’’بے خبر‘‘ سے تو بڑی تکلیف ہوئی یہاں بھی :
غافل ۔ہدایت دی،معرفت سے عاری
کے الفاظ پر کچھ نظر کرم فرمائیں گے؟اگر آپ کی طرح کوئی بے حیائی پر اتر آئے تو کہہ سکتا ہے کہ ان مفسرین کی تفاسیر کو پڑھ کر تو لگتا ہے :
’’نبی کریم ﷺ حق سے بے خبر ہدایت و معرفت سے عاری تھے‘‘
العیاذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد
احمد رضاخان صاحب قارونی کے ترجمہ پر ایک نظر
رضاخانیوں کو بڑا ناز ہے کہ ہمارے اعلیحضرت نے اس آیت کا ترجمہ:
’’اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ‘‘
کرکے گویا کمال کردیا اس ترجمہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے ایک رضاخانی اصول ملاحظہ فرمائیں :
(۱) پیر کرم شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’ہر ایسے لفظ کا استعمال بارگاہ رسالت میں ممنوع ہے جس میں تنقیص اور بے ادبی کا احتمال ہو ‘‘ ۔ ( ضیاء القرآن :ج۱:ص ۸۳)
(۲) مفتی احمد یار صاحب نعیمی لکھتے ہیں کہ:
’’اللہ تعالی اور حضور ﷺ کی شان میں ایسے الفاظ بولنا حرام ہیں جن میں بے ادبی کا ادنی شائبہ بھی ہو‘‘۔ (تفسیر نعیمی :ج۱:ص ۵۳۷)
(۳) پیر ابو الحسنات قادری لکھتے ہیں کہ:
’’جس کلمہ میں ان کی شان میں ترک ادب کا وہم بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ‘‘۔(تفسیر الحسنات :ج۱:ص ۲۴۵)
(۴) بریلوی صدر الافاضل مولوی نعیم الدین مراد آبادی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے ‘‘ ۔
(خزائن العرفان :ص ۲۹ ۔مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور )
(۶) مولوی حسن علی رضوی میلسی لکھتا ہے کہ:
’’جن الفاظ کا معنی صحیح اور ایک معنی غلط اور بے ادبی و گستاخی پر مبنی ہو ایسا ذو معنی الفاظ بھی سخت ممنوع ہے ۔للکفرین میں واضح اشارہ ہے ۔انبیاء علیہم السلام کی شان ارفع میں ادنی بے ادبی بھی کفر قطعی ہے ‘‘۔
(محاسبہ دیوبندیت :ج۲ص ۳۷۵ )
ان حوالوں سے معلوم ہواکہ رضاخانیوں کے نزدیک اگرچہ لفظ بظاہر صحیح ہو مگر اس کا دوسرا معنی گستاخی بے ادبی پر مشتمل ہو یا اس کا شائبہ تک ہو تو ایسا لفظ انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی،اور گستاخی کرنا قطعی کفر ہے ۔اب مولوی احمد رضاخان بریلوی نے اللہ کے پیارے رسول اللہ ﷺکیلئے ترجمہ کیا :
’’اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ‘‘
دوسری طرف زلیخا کیلئے بھی یہی الفاظ استعمال کئے :
انا لنراھا فی ضلال مبین (یوسف :۳۰)
ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں
اب دیکھئے زلیخا کا خود رفتہ ہوکا کسی طور پر بھی اچھی نیت سے نہ تھا اس کی محبت تو شہوت اور غلط مقصد کیلئے تھی اب یہی لفظ جو انتہائی غلط معنی رکھتے ہیں نبی علیہ السلام کی محبت اور تڑپ کیلئے بھی استعمال کیئے تو بتائے ایسا محبت او ر تڑپ کیلئے بھی استعمال کیا تو بتائے ایسا ذو معنی لفظ استعمال کرنا عشق و محبت ہے یا کھلا ہوا کفر؟
رضاخانیوں کو ’’بے خبر‘‘ اور ’’بھٹکتا‘‘پر تو بڑا غصہ آیا مگر کیا انہوں نے ’’خود رفتہ ‘‘ کے معنی بھی لغت میں دیکھے ہیں ؟اگر نہیں تو ملاحظہ ہو:
’’خود رفتہ : بے خبر ، بے خود ،جسے اپنے آپ کی خبر نہ ہو‘‘
(فیر وز اللغات ص:۵۹۹)
لیجئے خود رفتہ کے معنی بھی ’’ بے خبر‘‘ ہی ہیں اگر حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ نے معاذ اللہ کفر کردیا تو احمدرضاخان بریلوی بھی بچ کر نہیں جاسکتا ۔اسی طرح ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:
قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی (السبا:۵۰)
تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا
جواب دو یہاں تو ’’خود رفتہ ‘‘ ترجمہ کرنے کا خیال نہیں آیا بلکہ صاف طور پر دو مرتبہ نبی کریم ﷺ کو ’’بہکا ہوا‘‘ کہا اب ذرا اس کا معنی بھی اپنی محبوب لغت میں ملاحظہ فرمالیں:
بہک جانا :(محاورہ ) گمراہ ہوجانا، غلطی کرنا،بدمست ہوجانا ،دھوکا کھانا ‘‘
(فیروز اللغات۔:ص۲۲۷)
رضاخانیوں !
ان بزرگوں کو برا کہنے سے کیا پھل پاؤ گے
دیکھ لو گے تم بھی اس کی کیا سزا کل پاؤ گے
گھر کی گواہی
حافظ نذر احمد صاحب اس آیت کا لفظی ترجمہ کرتا ہے :
ووجدک ضالا اور آپ کو پایا
ضالا بے خبر
فھدی تو ہدایت دی
(آسان ترجمہ قرآن ۔ص:۱۲۶۹)
اس ترجمہ کی تائید مفتی محمد حسین نعیمی بریلوی مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور اور مولوی سرفراز نعیمی جیسے آپ کے جید اکابر نے کی ہے۔
رضاخان بریلوی کے والد نقی علی خان صاحب اسی آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:
’’اور پایا تجھے راہ بھولا پھر تجھے راہ بتائی ‘‘ (الکلام الاوضح ۔ص:۶۷)
مظہر اعلی حضرت حشمت علی رضوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اور پایا تجھے راہ بھٹکا ہوا پس ہدایت فرمائی ‘‘
(۱۵ تقریریں۔ص:۳۴۰ نوری کتب خانہ لاہور)
لو جی حضرت محمودحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ آپ کے گھر سے برآمد ہوگیا اب اپنی کفر ساز مشین گن سے دو تین گولے اپنے ان اکابر کی قبروں پر بھی برساؤ
ابھی ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
سابقہ اکابر کے تراجم
دریافت تراہ گم کردہ یعنی شریعت نمی دانستی پس راہ نمود ( شاہ ولی اللہ ؒ )
یعنی و دریافت ترا راہ گم کردہ پس راہ نمودترا
(شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ تفسیر عزیزی ج۲ ص ۲۲۰)
بھٹکتا پر تو بڑا اعتراض ہے یہاں ’’راہ گم کردہ ‘‘ پر کیا فتوی ہے ؟
اور پایا تجھ کو راہ بھولا ہوا پس راہ دکھائی (شاہ رفیع الدین دہلوی ؒ )
اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ دی ( شاہ عبد القادردہلوی ؒ )
شاہ عبد القادر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ سامنے رکھو
رضاخان بریلوی کا بریلویوں کو حکم
شاہ صاحب کے اسی ترجمے جس کو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے برقرار کھا کہ متعلق آل رضا کے پیشوا احمد رضاخان صاحب بریلوی رضاخانی لکھتے ہیں کہ:
’’فقیر کی رائے قاصر یہ ہے کہ مولانا شاہ عبد القادرصاحب کا ترجمہ پیش نظر رکھا جائے ‘‘
(فتاوی رضویہ ج۱۲ ص۳۴ سنی دالاشاعت فیصل آباد: و ج۲۶ ص۴۵۷ جدید)
مگر خان صاحب کی نا خَلْف اولاد آج اسی ترجمہ کو گستاخانہ کہہ رہی ہے۔
اعتراض نمبر۲:لا اقسم بھذا البلد (سورۃ البلد ۔۱)
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی (حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ )
قسم کھاتا ہوں اس شہر کی (شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ)
اس پر جاہل معترض تبصرہ کرتے ہیں کہ:
اللہ تبارک و تعالی کھانے پینے سے پاک اور بے نیازہے اور اللہ تعالی کی طرف قسم کھانے کی نسبت کرنا اور ایسا ترجمہ کرنا سخت بے ادبی اور جہالت ہے ‘‘۔(فیصلہ کیجئے ۔ص:۵۲ مکتبہ غوثیہ کراچی ،انوار رضا ۔ص:۳۸)
جواب: قارئین کرام ! ملاحظہ ہو یہ ہے ان پڑھے لکھے جہلا ء کی علمی حالت ۔مردے کے ترکہ اور تیجے کے دیگوں کے ان بھوکوں کو بس ’’کھانا نوش فرمانے ‘‘ کے علاوہ اور کچھ آتا جاتا ہی نہیں ۔اگر کوئی غریب یہ کہہ دے کہ میں ’’قسم کھاتا ہوں کہ بریلوی گمراہ ہیںُ ‘‘ تو ان جیسے جاہل رضاخانی فورا سر پکڑ کے بیٹھ جائیں گے کہ یہ ’’قسم ‘‘ کونسی ’’ڈش‘‘ ہے جسے آپ ’’تناول‘‘ فرمارہے ہیں ؟ ہمیں تو آج تک کسی چالیسویں میں اس کی پیش کش نہیں ہوئی ۔ جیسے کسی بھوکے رضاخانی مولوی سے پوچھو کہ دو اور دو کتنے ؟ تو جواب دے ’’چار روٹیاں‘‘ یہی حال یہاں ہے کہ قسم کھاتا ہوں تو مطلب یہ ہے کہ قسم کوئی کھانے پینے کی چیز ہے جسے کھایا جاتا ہے اور اس کھانے کی نسبت چونکہ دیوبندیوں نے اللہ کی طرف کردی لہٰذا یہ کافرہوگئے کیونکہ اللہ تعالی تو کھانے پینے سے پاک ہے ۔تف ہے تمہاری عقلوں پر۔
ان رضاخانیوں کو اگر مردے کی قرآن خوانی کے چاول ’’کھانے ‘‘ سے فرصت ملے تو ایک نظر اپنی محبوب لغت میں بھی دیکھ لیں کہ وہاں لکھا ہوا ہے کہ :
قسم کھانا (محاورہ ) عہد کرنا ،قول دینا ،حلف اٹھانا الخ
)فیروز اللغات ۔ص:۹۵۵)
’’کھانے ‘‘ کے ’’دشمنوں‘‘ قسم کھانا اردو کا محاورہ ہے جس کا معنی حلف اٹھانا ہے نہ کہ ’’حلف کو کو گیارہویں کی جلیبیاں سمجھ کر اسے کھانا‘‘ شکرہے کہ ان رضاخانیوں نے ’’قسم توڑنا‘‘ محاورہ نہیں سنا ورنہ اس پر بھی واویلا کرتے کہ یہ قسم کوئی ’’تیجے ‘‘ کے ’’چاولوں ‘‘ میں مارے جانا والا’’چمچ‘‘ ہے جسے توڑا جارہا ہے ؟۔نیز یہ ’’کھانے ‘‘ کے دشمن ’’ہوا کھانا‘‘ ،غصہ پیجانا کے متعلق کیا ارشاد فرمائیں ؟اسی پر ایک لطیفہ یاد آیاایک منہوس شکل والے بریلوی صاحبزادے سے کسی نے پوچھا کہ اعلحضرت رمضان شریف آگیا ہے اس میں ’’جھوٹی قسم‘‘ ’’کھانے ‘‘کا کیا ہوگا؟ صاحبزادہ نے فرمایا کہ کچھ بھی نہ ہوگابے کھٹکے قسم کھالو کیونکہ قسم خواہ جھوٹی ہو یا سچی اس کے ’’کھانے‘‘ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
اپنے گھر کی خبرلو
غلام رسول سعیدی اس آیت کا ترجمہ کرتا ہے :
لا قسم بھذا البلد
میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں (تبیان القرآن ج۱۲ ص ۷۴۶)
اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ :
اس شہر کی قسم نہیں کھاتا ۔۔۔۔اس شہر کی قسم کھاتا ہوں ۔۔۔اس شہر کی اس وقت قسم نہیں کھاتا ۔۔۔۔اور جب اللہ تعالی اس شہر کی قسم کھاچکا تو پھر اس شہر کے قسم کھانے کی ۔۔الخ
(تبیان القرآن ج۱۲ ص ۷۴۷)
لیجئے پانچ (۵) مرتبہ قسم کھانے کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی غلام رسول سعیدی صاحب نے۔ آپ تو نسبت کورو رہے ہیں سعیدی صاحب تو فرمارہے ہیں کہ:
اللہ تعالی ۔۔قسم کھا چکا۔۔۔
کوئی ہے جو غلام رسول سعیدی صاحب کا گریبان پکڑے؟ اور سعیدی صاحب کا مقام و مرتبہ اپنے مفتی اعظم پاکستان منیب الرحمان صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
’’ہم پیش آمدہ دینی مسائل کے حل کیلئے شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی مدظلہم کی تفسیر تبیان القرآن اور شرح صحیح مسلم سے بھی استفادہ کرتے ہیں اور براہ راست بھی ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ان کا وجود اہلسنت وجماعت کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے انہوں نے تحریری میدان میں جو علمی شاہکار تخلیق کئے ہیں مجھے امید ہے وہ آئیندہ صدیوں بلکہ ہزاریوں تک مطلع علم پر آفتاب نصف النہار کی طرح ضوفگن رہیں گے ‘‘۔(تفہیم المسائل ۔ج۳ص:۱۶)
پیر کرم شاہ ازہری صاحب اس آیت کا ترجمہ لکھتے ہیں :
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر (مکہ) کی ۔۔اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اولا د کی
(تفسیر ضیاء القرآن ج۵ص ۵۶۵ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور ۱۴۰۰ ؁ھ)
مولانا نور بخش توکلی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :
’’اللہ تعالی نے حضور ﷺ کی رسالت پر قسم کھائی ‘‘۔
(سیرت رسول عربی ۔ص:۵۱۳ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اسی آیت کا ترجمہ کرتے ہیں :
میں کھاتا ہوں اس شہر کی قسم (سیرت رسول عربی ۔ص:۵۱۳)
یہ ’’سیرت رسول عربی ‘‘ اور ’’نور بخش توکلی ‘‘ کون ہے ملاحظہ ہو:
فیض احمد اویسی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ مولنا توکلی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ تصنیف ہے جس پر انہیں حضور سرور دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی فلہٰذا گویا یہ کتاب رسو ل اللہ ﷺ کی منظور شد ہ ہے ‘‘ ۔(نہایت الکمال ۔ص:۴)
آئینہ اہلسنت کے مولف کی یہ عبارت بھی پڑھ لیں:
’’مولانا الحاج عبد الحمید لدھیانوی نے خواب میں آپ کی وفات کے بعد آپ کو ایک باغ میں سنہری تخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا اس اعزاز کی کیا وجہ ہے مولانا توکلی صاحب نے جواب دیا میرے اللہ کو میری یہ کتاب سیرت رسول عربی پسند آگئی اور مجھے یہ انعام ملا ‘‘ ۔
(میٹھی میٹھی سنتیں اور دعوت اسلامی ۔ص:۳۸)
اب جو ترجمہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو پسند ہو یہ بد بخت کہتے ہیں کہ وہ کفر ہے تو بتاؤ یہ فتوی کس کس پر جاکر لگا؟کفر و گستاخی تمہارے سیاہ دلوں میں ہے ترجمہ میں نہیں۔ داغ سے معذرت کے ساتھ
پڑا کبھی دل جلوں کو فلک سے کام نہیں
جلا کر خاک نہ کردوں تو دیوبندی نام نہیں
سابقہ اکابر کا ترجمہ
قسم می خورم بایں شہر)شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)
لا اقسم بھذا البلد یعنی سوگند میخورم بایں شہر(تفسیرعزیزی ج۲ص۱۷۶)
قسم کھاتا ہوں اس شہر کی (شاہ رفیع الدین دہلوی ؒ )
اعتراض نمبر ۳:انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ماتاخر (الفتح پ۲۶)
بے شک ہم نے آپ ﷺ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تاکہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے سبب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمادے۔(حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ)
ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوچکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔(شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ)
ان تراجم پر رضاخانیوں کو اعتراض ہے کہ :
’’مسلمانو! غور فرمائے !دیوبندیوں اور نجدی وہابی مولویوں کے تراجم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ پہلے بھی گناہ گارتھے اور آئیندہ بھی گناہوں کی امید تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالی کو ایک سند دینا پڑی کہ ہم نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردئے ۔معاذ اللہ ‘‘۔
)فیصلہ کیجئے ۔ص:۱۹)
اسی طرح حشمت علی کے بھائی مولوی محبوب علی خان نے ان تراجم پر کفر کا فتوی لگایا
(النجوم الشھابیہ ؛ص:۵۸) اس پر ۵۴ رضاخانی اکابر کی تصدیقات ہیں
حنیف قریشی صاحب کہتے ہیں کہ ان تراجم کے ہوتے ہوئے ہم عیسائیوں کے سامنے نبی کریم ﷺ کا دفاع نہیں کرسکتے (ملخصا گستاخ کون؟ص:۱۹۶)
شیر محمد اعوان رضاخانی آف کالا باغ لکھتے ہیں:
حضور سرور کائنات ﷺ کو معاذ اللہ خطا کار اور قصور وار بناڈلا۔۔۔ایک عام مسلمان یا ایک غیر مسلم کیا تاثر لے سکتا ہے یہی کہ معاذ اللہ حضور ﷺ کا دامن بھی خطاوں سے پاک نہ تھا کیا یہ تراجم دشمنان اسلام کے ہاتھ میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار تھمادینے کے موجب نہیں ہوں گے؟کیا ان تراجم سے عصمت انبیاء علیہم السلام کا مسلمہ عقیدہ مجروح نہیں ہوتا؟‘‘۔ (محاسن کنز الایمان ص :۵۶۔۵۷)
جواب:علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے کئی اقوال نقل کئے ہیں چند ملاحظہ ہو:
واختلف اہل التاویل فی معنی لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذں بک و ماتاخر فقیل (ماتقدم من ذنبک ) قبل الرسالۃ (وماتاخر)بعدھا قالہ مجاہد و نحوہ قال الطبری وسفیان الثوری قال الطبری: ھو راجع الی قولہ تعالی (اذا جاء نصر اللہ والفتح الی قولہ توابا)لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وماتاخر قبل الرسالۃ (وماتاخر) الی وقت نزول ھذہ الآیۃ و قال سفیان الثوری (لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک ) ما عملتہ فی الجاہلیۃ قبل ان یوحی الیک (وماتاخر)کل شیء لم تعلمہ ۔و قالہ الواحدی قد مضی الکلام فی جریان الصغائر علی الانبیاء فی سورۃ البقرہ فھذا قول و قیل ما تقدم من ذنبک قبل الفتح وماتاخر بعد الفتح ۔۔۔ و قال عطا الخراسانی من ذنبک ابوک آدم و حوا۔۔الخ
(الجامع لاحکام القرآن ج۱۶ص۲۶۲)
خلاصہ کلام :سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جو ذنب ہوگیا اور وما تاخر سے مراد ہر وہ ذنب جسے آپ نہیں جانتے اس کی مغفرت کی نوید ہے ۔اور علامہ واحدی فرماتے ہیں کہ انبیاء سے صغائر کے صدور کے جواز پربحث گذرچکی ہے اس آیت سے مراد فتح سے پہلے کے ذنوب اور ماتاخر سے مراد فتح کے بعد کے ذنوب عطاء خراسانی فرماتے ہیں ما تقدم من ذنبک سے مراد حضرت آدم و حواء کا ذنب ہے۔
اسی طرح علامہ محی السنۃ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم البغدادی اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں:
لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر قیل اللام فی قولہ تعالی لیغفر لک لام کی والمعنی فتحالک فتحا مبینا لکی یجتمع لک مع المغفرۃ تمام النعمۃ بالفتح و قیل لما کان ھذا الفتح سببا لدخول مکۃ والطواف بالبیت کان ذالک سببا للمغفرۃ و معنی الآیۃ لیغفرلک اللہ جمیع ما فرط منک ما تقدم من ذنبک یعنی قبل النبوۃ وما تاخر یعنی بعدھا(تفسیر خازن ج۶ص۱۵۷)
(خلاصہ کلام)اس قول میں لام لام کئی ہے اور اس کا معنی ہے کہ ہم نے تیرے واسطے ایک واضح فتح دی تاکہ آپ کیلئے فتح کو مغفرت کے ساتھ جمع کرکے نعمت کو پورا کردیا جائے اور بعض نے فرمایا کہ یہ فتح سبب ہے مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کا تو اصل یہی سبب مغفرت ہے تو اس صورت میں آیت کا معنی یوں ہوگا کہ اللہ تعالی نے آپ کیلئے نبوت ملنے سے پہلے اور نبوت کے بعد آپ کی تمام کوتاہیاں معاف کردی گئی ہیں۔
معلوم ہواکہ یہاں لام سبب کیلئے نہیں جیسا کہ رضاخان بریلوی نے سمجھا بلکہ لام کئی ہے۔
علامہ سفیان ثوری ؒ سے اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں:
ما تقدم من ذنبک مما کان منک قبل النبوۃ وما تاخر یعنی کل شیء لم تعلمہ و یذکر مثل ھذا علی طریق التاکید کما تقول اعط من تراہ و من لم تراہ واضرب من لقیت و من لم تلقہ فیکون المعنی ما وقع لک من ذنب وما لم یقع فھو مغفور لک (تفسیر خازن ج۶ص۱۵۷)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
’’وہ تمام فرو گذاشتیں جو رسالت سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں آپ سے ہوگئی ہوں اور وہ تمام زلات جو رسالت کے بعد یعنی اس سورت کے نزول کے بعد آپ سے ہوجائیں اور ان پر عتاب ہوسکتا ہو اس سے لازم نہیں آتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی معصیت کا ارتکاب کیا ہو صلحاء کی نیکیاں بھی اہل قرب کیلئے لغزشیں ہوتی ہیں۔۔
عطا خراسانی نے کہا کہ ما تقدم سے مراد آدم و حواء کی غلطیاں ہیں
(تفسیر مظہری ج۱۰ص۳۳۸)
اسی طرح ایک حدیث ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کیلئے خوشخبری ہو آپ کے رب نے تو بیان فرمادیا کہ آپ کے ساتھ آخرت کا کیا معاملہ ہوگا مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟ آخرت میں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیدخل المومنین والمومنات جنات الی فوزا عظیما
(بخاری رقم الحدیث ۴۱۴۸ مسلم رقم الحدیث ۱۷۸۶ مسند امام احمد بن حنبل ج۳ص۱۹۷)
معلوم ہوا کہ صحابہ بھی اس آیت میں ’’ذنب‘‘ کی اضافت نبی کریم ﷺ ہی کی طرف مانتے نہ کہ اپنی طرف ورنہ ان کو یہ سوال پوچھنے کی نوبت نہ آتی۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’انہیں خصائص میں سے ہے کہ حق تعالی نے اپنی کتاب مجید میں چونکہ انبیاء علیہم السلام کے توبہ و غفران اور ان سے واقع شدہ زلۃ و خطاکا ذکر فرمایا ہے تو نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں فرمایا انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر فتح کو مقدم رکھا اس کے بعد غفران ذنوبِ گذشتہ و آئیندہ کا ذکر فرمایا


(مدارج النبوۃ ج۱ص۲۶۴۔مترجم مفتی معین الدین نعیمی بریلوی)
ان تمام مفسرین و علماء نے آیت میں ’’ذنب ‘‘ کی اضافت نبی کریم ﷺ ہی کی طرف رکھی اور پھر اپنے ذوق کے مطابق اس کی مختلف توجیہات بیان کی کسی نے خلاف اولی کسی نے صغائر کسی نے خطائیں کسی نے کچھ ۔
اگر رضاخانیوں کو حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ کے ترجمہ میں ’’خطائیں ‘‘ پر غصہ ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق خان صاحب کے اس ترجمہ پر بھی نظر کرم کریں:
’’والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی ۔سورۃ الشعرآء ۸۲/۲۶
اور جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری ’’خطائیں ‘‘ قیامت کے دن بخشے گا
(کنزالایمان)
اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو بھی ملاحظہ فرمالیں:
’’والانبیاء علیہم السلام کلھم منزھون عن الصغائر والکبائر و قد کانت منھم زلات و خطیئات
(شرح فقہ اکبر۔ص:۵۷)
انبیاء کرام علیہم السلام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے منزہ اور پاک ہوتے ہیں ہاں البتہ کبھی کبھار زلات و خطیئات کا صدور ہوتا ہے ۔
اور اگر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن علیہ الرحمہ کے ترجمہ میں ’’گناہ‘‘ پر اعتراض ہے تو اپنے استاذ المناظرین کی اس عبار ت کو بھی سامنے رکھیں:
’’ترک اولی کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترک اولی ہرگز گناہ نہیں‘‘۔(فیصلہ مغفرت ذنب ۔ص:۴۸)
مزید تفصیل انشاء اللہ آگے رضاخانی حوالہ جات میں آرہی ہے۔
فاضل بریلوی کے ترجمہ پر ایک نظر
خان صاحب نے اس آیت میں عطا خراسانی مرحوم کی توجیہ کو اختیار کیا ہے ۔ جسے رضاخانیوں نے بنیاد بناکر ان کے ترجمہ کو گویا اردو کا قرآن معاذ اللہ کہہ دیا اور اس بنیاد پر ان سارے اکابر کی بے دھڑک تکفیر کررہے ہیں ۔لیکن اول بات یہ ہے کہ اسی عطا خراسانی نے ذنب اور گناہ کی نسبت حضرت آدم و حوا علیہما السلام کی طرف کی ہے جیسا کہ ماقبل میں تفسیری حوالوں میں گذرا۔ اگر عطا خراسانی ذنب کی نسبت امت کی طرف کرنے پر عاشقان رسول ﷺ کے سردار ہیں اور باقی تمام مترجمین ایک نمبر کے گستاخ معاذ اللہ تو اسی اصول کے تحت ایک نبی اور ان کی زوجہ محترمہ کی طرف گناہ کی نسبت کرنے پر یہ گستاخ کیوں نہیں؟اگر ایک توجیہ قبول ہے تو دوسری توجیہ بھی مانو ۔نیز عطا خراسانی کی اس توجیہ کا رد علامہ سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب القول المحرر میں ان الفاظ کے ساتھ کی :
’’لاینسب ذنب الغیر الی غیر صدر منہ بکاف الخطاب (کسی کا گناہ دوسرے شخص کی طرف کاف خطاب کے ساتھ منسوب نہیں ہوسکتا جس سے کہ وہ گناہ سرزد نہ ہوا ہو )فلان ذنوب الامت لم تغفر کلھا بل منھم من یغفر لہ و منھم لا یغفرلہ (نیز یہ توجیہ اس لئے بھی درست نہیں کہ امت کے تمام تر گناہ نہیں بخشے گئے بلکہ بعض کیلئے بخشش ہوگی اور بعض کیلئے نہیں ہوگی )
(بحوالہ جواہر البحار ج۴ص۲۱۳)
اب جواب دو کیا علامہ سیوطی علیہ الرحمہ وہابی دیوبندی مودودی نجدی گستاخ تھے جو عشق و رسالت اور عصمت انبیاء کے عین مطابق ترجمہ کو رد کررہے ہیں معاذ اللہ؟ یہ کہاں کا انصاف ہے ایک کے ساتھ جمہور امت ہو وہ تو غلط اور دوسرے کے ساتھ عطا خراسانی ہو وہ بھی مرجوح قول کے ساتھ مگر وہ عاشق رسول او ر جو اس کی توجیہ کو نہ مانے وہ دنیا کا سب سے بڑا گستاخ ۔ فیا للعجب
علمائے دیوبند عصمت انبیاء علیہم السلام کے قائل ہیں
حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا فتوی ملاحظہ ہو:
سوال: رسول ﷺ کے معصوم ہونے کے متعلق کوئی آیت خیال شریف میں ہو تو اطلاع فرمادیں میں نے شرح العقائد و نشر الطیب میں تلاش کی لیکن کوئی آیت صاف اس مضمون کی نہیں مل رہی البتہ نشر الطیب میں ایک حدیث ملی اگر مادہ عصمت کے ساتھ کوئی آیت ملے تو بہت ہی بہتر ہوگا۔
الجواب: مادہ عصمت کا وارد ہونا ضروری نہیں ،اس کے مفہوم کا ثبوت کافی ہے آیات متعدد لوگوں نے ذکر کی ہیں لیکن میرے نزدیک دعائے ابراہیمی قال و من ذریتی کے (جو وعدہ انی جاعلک للناس اماما پر معروض ہے )جواب میں جو قال لا ینال عھدالظالمین ارشاد ہوا ہے کافی حجت ہے کیونکہ امامت سے مراد نبوت ہے کما ھو ظاھر اور اس کا نیل (یعنی ملنا) ظالم کیلئے ممتنع شرعی قرار دیا ہے ۔اور ظلم عام ہے ہر معصیت کو پس اس سے جمیع معاصی ست عصمت ثابت ہوئی اور جو بعض قصص وارد ہیں وہ مأوّل ہیں ضرورت معصیت کے ساتھ اور حقیقت معصیت کی منفی ہے ۔فقط )امداد الفتاوی ج۵ص۴۰۷)
اپنے گھر کی خبر بھی لیں
ان اللہ والوں پر تو آپ نے کفر و گستاخی کے خوب گولے برسائے ہیں مگر اب وقت انتقام آچکا ہے اور آپ کے عشق رسالت کا امتحان بھی ہونے والا ہے ۔مولوی احمد رضاخان کے حاشیہ کے ساتھ شائع ہونے والی اس کے والد مولوی نقی علی خان کی کتاب میں ہے:
خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے
واستغفر لذنبک وللمومنین والمومنات
مغفر ت مانگ اپنے گناہوں کی اور سب مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لئے
(فضائل دعا ۔ص:۶۹ مکتبۃ المدینہ)
ہے کوئی رضاخانی سچا عاشق رسول جو خان صاحب اور ان کے والد کو کفر کے گھاٹ اتارے ؟ مگر صبر کریں مزید حوالے بھی ملاحظہ فرمالیں نقی علی خان صاحب مزید لکھتے ہیں:
تاکہ معاف کرے اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ
(انوار جمال مصطفی ۔ص:۷۱ شبیر برادرز)
یہی نقی علی خان صاحب ایک حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں آپ نے اس قدر عبادت کی کہ پائے مبارک سوج گئے لوگوں نے کہا آپ تکلیف اس قدرکیوں اٹھاتے ہیں کہ خدا نے آپ کی اگلی پچھلی خطا معاف کی فرمایا افلااکون عبدا شکورا ‘‘۔
(سرور القلوب ۔ص:۲۳۶ شبیر برادرز )
حضرت تھانوی کے ترجمہ پر اعتراض کرنے والو!کہ ہائے نبی کریم ﷺ کو خطا کا ر کہہ دیا ہائے گستاخی کردی ہائے اسلام مٹادیا یہاں بھی واویلا کرو ۔میں کئی بار نور سنت میں اور دوسری محفلوں میں بھی ببانگ دہل کہہ چکاہوں کہ اکابر دیوبند کی سب سے بڑی کرامت یہی ہے کہ جو بھی الزام ان پر بدعتیوں نے لگایا ان کی صفائی ان ہی بدعتیوں کے گھر سے نکل آئی آج اکابرعلمائے دیوبند کی ایک اور کرامت اور حقانیت کا ظہوراپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں۔
ہوا مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
مظہر اعلی حضرت حشمت علی رضوی صاحب لکھتے ہیں :
’’حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ اکثر رات قیام فرماتے۔نماز میں کھڑے رہتے حتی تورمت قدماہ یہاں تک کہ پائے مبارک ورم فرماگئے پس صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اتنی تکلیف اتنی مشقت حضور کس واسطے فرماتے ہیں آپ کے رب عز و جل نے تو آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادئے قد غفر لک ما تقدم من ذنبک و ما تاخر پس آپ نے فرمایا افلا اکون عبدا شکورا۔۔‘‘
(۱۵ تقریریں ۔ص:۱۷۰)
نبی ﷺ کی طرف گناہ کی نسبت کرکے حشمت علی صاحب اپنے ہی بھائی محبوب علی خان رضوی کے فتوائے کفر تلے دب گئے ہیں (النجوم الشھابیہ کا حوالہ گذرچکا)
مزید لکھتے ہیں :
’’آپ معصوم ہیں اللہ نے آپ کے سب اگلے پچھلے گناہ پہلے ہی عفو فرمادئے لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وماتاخر‘‘۔
(۱۵ تقریریں۔ص:۲۴۶)
بریلوی اشرف العلماء مناظرہ جھنگ کا شکست خوردہ اشرف سیالوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے بشارت دی ہے لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر ۔ یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ اے محبوب اللہ تعالی نے وہ تمام امور جنہیں تم مرتبہ قرب اور منصب محبوبیت کے لحاظ سے گناہ سمجھتے ہو وہ تم سے صادر ہوئے یا ابھی سرزد نہیں ہوئے وہ سب بخش دئے ‘‘۔
(کوثر الخیرات ۔ص:۲۲۵ اہل السنۃ پبلی کیشنز جہلم)
یہ کو ن اشر ف سیالوی ہیں ؟ وہی اشرف سیالوی جسے اہلحق کے سامنے مناظرہ کرنے سے مفرور گھر میں بیٹھ کر چیلنج دینے کے بادشاہ حنیف قریشی رضاخانی کے چیلوں نے اس کے مناظرے کی روئیداد گستاخ کون ؟ میں استاذ المناظرین لکھا اور وہی اشرف سیالوی جس کے بارے میں بدعتیوں کے مفتی اعظم منیب الرحمان صاحب یہ لکھتے ہیں کہ:
’’مصنفاتِ علامہ سعیدی ،شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن کو ہمارے عہد کے دو ممتاز اکابر علماء اہلسنت علامہ عبد الحکیم شرف قادری اور علامہ محمد اشرف سیالوی مد اللہ ظلہما نے مسلک اہلسنت وجماعت کیلئے مستند مو متفق علیہما قرار دیا ہے ،یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ دونوں اکابر ہمارے مسلک کیلئے حجت و استناد کی حیثیت رکھتے ہیں ‘‘۔
(تفہیم المسائل ۔ج۳۔ص۱۷ ۔ضیاء القرآن پبلی کیشنز طبع دوم ۲۰۰۹)
معلوم ہوا کہ نہ صرف اشرف سیالوی بلکہ تبیان القرآن و شرح مسلم بھی رضاخانی مسلک میں حجت و استناد کا درجہ رکھتی ہیں۔
اب کہاں ہے عشق رسالت ﷺ کی آڑ میں دنیا بھر کے توحید کے متوالوں کو گستاخ اور کافر کہنے والے ؟ لگاؤ اپنے ان اکابرپر کفر کے فتوے ،ڈالو انہیں جہنم کی آگ میں، تاکہ سب کو پتہ چلے کہ یہ عشق صرف دکھاوے کا نہیں مبنی بر حقیقت ہے
بنتے ہو وفادار تو وفا کرکے دکھاؤ
کہنے کی وفا اور ہے کرنے کی وفا اور ہے
رضاخانیو! قوم کو دھوکا مت دو
رضاخانی لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ دیکھو یہ دیوبندی وہابی تو انبیاء علیہم السلام کو گناہ گار مانتے ہیں معاذ اللہ حالانکہ ہمارے عقیدہ تو ہے کہ نہ ان سے صغائر ونہ کبائر کا صدور ممکن ہے یہ دیکھو جی یہ گستاخ ہیں ۔جھوٹ بولتے ہیں ملاحظہ ہو ان کا اصل عقیدہ جو ان کے حکیم الامت احمد یار گجراتی صاحب کا لکھا ہوا ہے :
’’نبیاء کرام ارادۃ گناہ کبیرہ کرنے سے ہمیشہ معصوم ہیں کہ جان بوجھ کر نہ تو نبوت سے پہلے گناہ کبیرہ کرسکتے ہیں اور نہ اس کے بعد ہاں نسیانا خطا ءً صادر ہوسکتے ہیں ‘‘۔(جاء الحق ۔ص:۴۳۴)
دیکھا ان کے ہاں تو معا ذ اللہ انبیاء سے نسیانا اور خطاء گناہ کبیرہ بھی صادر ہوسکتے ہیں رضاخانیوں اب وہ وقت نہیں کہ تم اپنے اس مکروہ چہرے پر جعلی نقاب اوڑھ کر عوام سے چھپے رہ سکو یہ نقاب نوچ لیا گیا ہے ۔تم کسی نے رضاخان بریلوی کی مدح سرائی کرنے سے منع نہیں کیا ہر ایک کا حق ہے کہ وہ اپنے محبوب کے کمالات بیان کرے لیکن تم نے یہ عجیب ڈرامہ بنایا ہوا ہے کہ جب تک احمد رضاخان بدعتی کے مقابلے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر و گستاخ نہ بنادو تمہیں مدح ہضم ہی نہیں ہوتی ۔دوسروں کے اکابر کی پگڑیاں اچھالنے والے یہ مت بھولیں کہ ان کے اکابر کی پگڑیاں بھی بیچ بازار اچھالی جاسکتی ہیں۔ بہت برداشت کرلی اولیاء اللہ پر تمہاری یہ بکواس اب ایک نہیں سنی جائے گی،
کیوں کر دل جلوں کے لبوں پر فغاں نہ ہو
ممکن نہیں کہ آگ ہو اور دھواں نہ ہو
اس سے بڑا کفر کوئی اور ہوسکتا ہے ؟
قارئین کرام مندرجہ بالا عبارت میں مفتی صاحب نے تسلیم کیا کہ انبیاء علیہم السلام سے گناہ ہوسکتے ہیں معاذ اللہ اور بریلوی اصول کے مطابق نبی کریم ﷺ کی طرف رضاخانیوں نے گناہ کی نسبت کر کے نبی کریم ﷺ کو گناہ گار تسلیم کرلیا معاذ اللہ اب انہی رضاخانیوں کی یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو:
’’اگر پیغمبر ایک آن کیلئے بھی گناہ گار ہوں تو معاذ اللہ حزب الشیطان (شیطانی گروہ) میں داخل ہوں گے ‘‘۔ (تفسیر نعیمی ج۱ص۲۶۳)
معاذ اللہ اول تو ملاحظہ فرمائیں کہ کس قدر گستاخانہ پیرائے میں انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا جارہا ہے ۔ثانیا رضاخانیوں نے انبیاء سے گناہوں کا صدور ممکن مانا اب اس عبارت کی روشنی میں دیکھیں کہ بات کہاں تک پہنچ گئی؟ رضاخانیوں اس طرح کفر اور گستاخی ثابت ہوتی ہے اگر ہے کسی میں جرات تواپنے اکابر سے اس گستاخی اور کفر کو ہٹاکر دیکھے اور منہ مانگاانعام وصول کرے۔
رضاخانی پیران پیر علیہ الرحمۃ کے باغی
رضاخانیو!تم جس ترجمہ کو کفر کہہ رہے ہو جس ترجمہ کو گناہ و گستاخی کہہ رہے وہی پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے :
’’قال تعالی واستغفر لذنبک ای لذنب وجودک ‘‘۔
(سر الاسرار ۔ص:۷۴)
اللہ نے اپنے محبوب سے فرمایا کہ اپنے گناہوں یعنی اپنے وجود کے گناہوں کی معافی مانگ
لگاو فتوی شیخ جیلانی علیہ الرحمۃ پر بھی مگر تم ایسا کبھی نہیں کروگے کہ کہیں ’’گیارہویں کی دیگ‘‘ کی نذر کالعدم نہ ہوجائے اس لئے کہ تمہارا حضرت سے یہ عشق تو صرف گیارہویں کی کھیر کی رکابی کے گرد گھومتا ہے ۔علمائے دیوبند کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ تمہارے شرک و بدعت کے امڈتے ہوئے سیلاب کے آگے بندھ باندھے ہوئے ہیں ورنہ اندرون خانہ تم بھی سمجھتے ہو کہ یہ لوگ سچے عاشقان رسول ﷺ ہیں:
ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب است
گل است سعدی و در چشم دشمناں خار است
آل قارون رضاخان بریلوی کا ترجمہ رضاخانیوں نے رد کردیا
سورہ فتح کی جس آیت کے ترجمہ پر رضاخانیوں کاناز ہے اور جس کی بنیاد پر پوری امت مسلمہ کی تکفیر کی جارہی ہے اس کے متعلق علامہ سعیدی کا تبصرہ بھی ملاحظہ ہو:
’’ہمارے نزدیک یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ ترجمہ لغت اطلاقات قرآن ، نظم قرآن اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے اور اس پر عقلی خدشات اور ایرادات ہیں‘‘
(شرح صحیح مسلم ج۷ص۳۲۵ مطبوعہ لاہور)
’’یہ تفسیر احادیث صحیحہ کے خلاف ہے اور عقلا مخدوش ہے ‘‘۔
(شرح صحیح مسلم ۔ص:۹۸)
’’اس تفسیر پر عقلی خدشات ہیں ‘‘۔ (شرح صحیح مسلم ج۳ص۱۰۰)
رسول اللہ ﷺ کی صریح اور صحیح احادیث کے برعکس ہے ‘‘۔
(شرح صحیح مسلم ج۶ص۶۹۱)
’’اس آیت سے امت کی مغفر ت لینا صحیح نہیں ‘‘۔
(شرح صحیح مسلم ج۳ص۹۸)
’’یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے (تاکہ اللہ تعالی تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں اور پچھلوں کے)‘‘۔ (شرح صحیح مسلم ج۶ص۶۹۴)
بحوالہ سالنامہ معارف رضا کا کنز الایمان نمبر ۲۰۰۹ ۔ص:۱۵۵۔۱۵۶)
اکابر دیوبند کا ترجمہ سابقہ اکابر کے ترجمہ کے عین مطابق ہے
محدث اعظم ہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:
ہر آئینہ ما حکم کردیم برائے تو بفتح ظاہر عاقبت فتح آنست کہ بیا مرز ترا خدا انچہ کہ سابق گذشتہی از گناہ تو واانچہ پس ماند‘‘۔
شاہ رفیع الدین علیہ الرحمۃ کا ترجمہ
’’تحقیق فتح دی ہم نے تجھ کو ظاہر توکہ بخشے واسطے تیرے خدا جو کچھ ہوا تھا پہلے گناہوں سے تیرے اور جو کچھ پیچھے ہوا‘‘۔
شاہ عبد القادرؒ جس کا ترجمہ رضاخان بھی پیش نظر رکھنے کی تلقین کرتے ہیں:
’’ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تا معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوئے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے‘‘۔
آثار سحر کے پیداہیں اب رات کا کا جادو ٹوٹ چکا
ظلمت کے بھیانک ہاتھوں سے تنویر کا دامن چھوٹ چکا
اعتراض نمبر ۴:اھدنا الصراط المستقیم (سورۃ الفاتحہ :آیت ۵)
بتلا ہم کو راہ سیدھی (شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ )
بتلادیجئے ہم کو رستہ سیدھا )حکیم الامت علیہ الرحمۃ)
اس پر اعتراض ہے کہ :
’’تمام دیوبندی ،مودودی ،نجدی وہابی مترجمین کے تراجم سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا سیدھی راہ اب تک بتائی ہی نہیں گئی ۔یہ دیوبندی اب تک دعا مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ جل جلالہ ہمیں سیدھی راہ بتلا۔جبکہ اسلام کو آئے ہوئے ۱۴۲۰ سال ہوچکے ہیں لیکن انہیں اب تک سیدھی راہ ہی پتہ نہ چل سکی ‘‘۔(فیصلہ کیجئے ۔ص:۵۵)
رضاء المصطفی اعظمی صاحب لکھتے ہیں:
’’کوئی غیر مسلم اگر یہ دعا کرے تو مناسب ہے کہ وہ سیدھا راستہ دیکھنے کا متمنی ہے مگر ایک مسلمان جو کہ قبول اسلام کے ساتھ ہی سیدھا راستہ دیکھ چکا وہ ہر دعا میں خصوصا نماز میں سیدھا راستہ دیکھنے کیلئے اپنے خدا سے دعا کرتا ہے کس قدر لا یعنی اور لغو التجا ہے ‘‘۔
(اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ ۔ص:۷)
رضاخانی شیخ الاسلام محمد مدنی میاں صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’یہ ترجمہ وہی تو کریگا جسے ابھی تک سیدھا راستہ معلوم نہ ہوسکا‘‘۔ (انوار رضا ص:۳۸۔ المیزان کا امام احمد رضا نمبر ۔ص:۸۷)
جواب: اس کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ خان صاحب قارونی نے ترجمہ کیا ہے :
’’ہم کو سیدھی راستے پر چلا‘‘
اب رضاخانی الٹی سوچ کے مطابق یہ رضاخانی ابھی تک سیدھے راستے پر نہیں چلے تبھی اس پر چلنے کی دعا مانگ رہے ہیں راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اسلام کو آئے ہوئے ۱۴۳۵ سال سے زائد ہوگئے ہیں مگر یہ لوگ ابھی تک سیدھے راستے پر نہیں چلے جو اس پر چلنے کی دعا مانگ رہے ہیں کس قدر لغو دعا و التجا ہے۔خدا تم رضاخانیوں کو سمجھ دے۔
نیز بطور لطیفہ اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ آپ یہ کیوں سمجھ رہے ہیں کہ حقیقی مسلمان ہی صرف اس دعا کو مانگتے ہیں ؟ کیا آپ جیسے گمراہ بدعتی ،منکر حدیث ،قادیانی ،رافضی اسی قرآن کو نہیں پڑھتے؟ تو یہ ترجمہ آپ جیسے لوگوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے آپ کے اس بدعتی راہ پر اب تک گامزن ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے خود کو ہدایت یافتہ سمجھا ہوا ہے اگر اسی ترجمہ کو سامنے رکھ کر دعا مانگا کریں تو کچھ بعید نہیں کہ آپ کو سیدھی راہ دکھا دیجائے ۔
خیر یہ تو ایک لطیفہ ہو ا اب جواب سنئے :
امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے مفردات القرآن میں ہدایت کے تین درجے بیان فرمائے ہیں :
۱ ایک درجہ ہدایت کا عام ہے جو کائنات و مخلوقات کی تمام اقسام ،جمادات ، حیوانات ،نباتات وغیرہ کو شامل ہے یہاں آپ یہ خیال نہ کریں کہ ان بے جان و بے شعور چیزوں جو ہدایت سے کیا کام کیونکہ قرآنی تعلیمات سے یہ واضح ہے کہ کائنات کی تمام اقسام ان کا ذرہ ذرہ اپنے درجے کے موافق حیات و احساس رکھتا ہے ،عقل و شعور بھی۔
۲ دوسرا درجہ ہدایت کا اس کے مقابلے میں خاص ہے یعنی صرف ان چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے جو عرف میں ذوی العقول کہلاتی ہیں ۔یعنی انسان اور جن یہ ہدایت انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہر انسان اور جن کو پہنچتی ہے ۔
۳ تیسرا درجہ ہدایت کا اس سے بھی زیادہ خاص ہے کہ صرف مومنین متقین کے ساتھ خاص ہے یہ ہدایت بھی اللہ تعالی کی طرف سے بالواسطہ انسان پر فائض ہوتی ہے اس ہدایت کا دوسرا نام توفیق ہے یعنی ایسے اسباب اور حالات پیدا کرنا کہ قرآنی ہدایت کا قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا آسان ہوجائے اور ان کی خلاف ورزی دشوار ہوجائے اس تیسرے درجے کی وسعت غیر محدود اور ا س کے درجات غیر متناہی ہیں۔یہی درجہ انسان کی ترقی کا مدار ہے اعمال صالحہ کے ساتھ اس درجہ ہدایت میں ترقی ہوتی رہتی ہے ۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس زیادتی کا ذکر ہے۔مثلا: والذین اھتدوا زادھم ھدی اور دوسری آیت میں ہے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلناجو لوگ ہمارے رستے میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنے رستوں کی مزید ہدایت کرتے ہیں ۔یہی وہ میدان ہے جہاں پربڑے سے بڑا رسول او ر نبی اور ولی اللہ آخری عمر تک زیادتی ہدایت و توفیق کا طلبگار رہتا ہے ۔
(ماخوذ از معارف القرآن ج۱ص۹۰)
اس تشریح سے معلوم ہوا کہ یہاں بتلانے سے مراد اگلے درجہ مراد ہے ۔ چنانچہ علامہ جلال الدین محلی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں کہ:
ای ارشدنا الیہ (جلالین ج۲ص۵۱۰)
یعنی اے اللہ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما
یہ جلالین وہ ہے کہ جس کے متعلق خان صاحب آف بریلی کہتے ہیں کہ اس میں صرف راجح قول نقل کیا جاتا ہے (فتاوی رضویہ ۱۲)
اب جواب دیں جلالین والے کے متعلق کیا فتوی ہے؟ ۔
حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اھدنا الصراط المستقیم : بنمای ما را راہ راست باید بدانست کہ مہ چند شخصی در بعضی امور بر راہ راست باشد لیکن اورا از طلب راہ راست چارہ نیست ذیراکہ بعد از ہر مرتبہ کمال مرتبہ دیگر است بالا تر ازاں پیس صاحب مرتبہ سفلانی طالب راہ راست مرتبہ فوقانیست و ھکذا الی غیر النھایۃ‘‘۔
(تفسیر عزیزی ج۱ص۱۰)
خلاصہ کلام:ہمیں دکھاسیدھا راستہ ہر چند کہ آدمی بعض امور میں راہ راست پر ہوتا ہے لیکن اس کو بھی راہ راست طلب کرنے کے سوا چارہ نہیں ہوتا اس لئے کہ یہ بات جان لینی چاہئے کہ ہر مرتبہ کمال کے بعد ایک اور مرتبہ بھی ہے جو اس سے بھی اونچا ہے پس نیچے کے مرتبہ والا اپنے سے اوپر کے مرتبہ والے کا طالب رہتا ہے۔
آپ کے غزالی زماں رازی دوراں عمر اچھروی صاحب نے جب نبی کریم ﷺ کے نوری مخلوق ہونے پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ :
اللھم اجعل نورا فی قلبی ۔۔الخ تو وہابی نے اعتراض کیا کہ جب نور تھے تو سوال کرنے کی کیا ضرورت؟ تو غزالی دوراں صاحب جواب دیتے ہیں کہ:
محمد عمر: تم نما ز میں کھڑے ہوکر اللہ سے سوال کرتے ہو اھدنا الصراط المستقیم کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے ۔کیا نماز میں ہاتھ باند کر خدا کی عبادت میں قبلہ رخ ہوتے ہوئے پھر اللہ سے صراط مستقیم طلب کرتے ہو کیا نماز کی حالت میں گمراہی کے راستے پر کھڑے ہوتے ہو؟ نہیں بلکہ ترقی درجات کی طلب ہوتی ہے ہمیشہ یہ قاعدہ چلا آتا ہے کہ جو بہتر چیز اپنے پاس موجود ہو اس کے لطف حاصل ہونے پر اس کی طلب زیادہ ہوجاتی ہے اس کا لطف اسے حریص بنادیتا ہے ۔۔الخ
(مقیا س حنفیت ۔ص:۲۵۲)
اچھروی صاحب نے وہی ترجمہ کیا جو ہم نے کیا اور اس کی توجیہ بھی خود بیان کردی یہی بات ہم سمجھانا چاہ رہے تھے اب جاکر یہ دھمال اچھروی صاحب کی قبر پر ڈالو
کیا خوب کہ اپنا پردہ کھولے جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے
رضاخانی اپنے گھر کی خبر لیں:
خان صاحب آف بریلی مندرجہ ذیل آیت کا ترجمہ کرتے ہیں کہ:
کلا ھدینا و نوحا ھدینا من قبل و من ذریتہ داود و سلیمن وایوب و یوسف و موسی و ھرون )سورۃ الانعام :۸۵)
’’ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسی اور ہارون کو ‘‘ (کنز الایمان)
آگے اور انبیائے کرام کے اسماء کا ذکر کرکے ارشاد فرمایا
واجتبینھم و دھینا ھم الی صراط مستقیم (سورۃ الانعام :۸۸)
اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی (کنز الایمان)
اب جواب دیں کہ کیا سیدھی راہ دکھانے کے بعد سیدھی راہ پر چلا یا بھی تھا؟ اور کیا یہ جلیل اقدر انبیاء علیہم السلام پہلے سے کیا سیدھی راہ پر نہ تھے جو اللہ انہیں سیدھی راہ دکھانے کا کہہ رہے ہیں؟اپنے اصول یہاں بھی ذرا منطبق کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:
اجتبہ و ھداہ الی صراط مستقیم (سورۃ النحل :۱۲۱)
اللہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھی راہ دکھائی (کنز الایمان )
حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق ارشاد کا ترجمہ کرتے ہیں:
ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ و ھدی(سورہ طہ )
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی (کنز الایمان)
حضرت یہ قرب خاص کونسے لفظ کا ترجمہ ہے ؟ اور کیا حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے قرب میں نہ تھے ہدایت پر نہ تھے جو اللہ انہیں راہ دکھلا رہا ہے ؟ معاذ اللہ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ایک اور آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:
الذی خلقنی فھو یھدین (سورۃ الشعرا۔۷۸)
وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہ مجھے راہ دے گا
جناب ان تراجم کے متعلق آپ کی کیا رائے ؟
حضرت موسی و ہارون علیہما السلام کے متعلق ارشاد کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
و ھدینا ھما الی الصراط المستقیم (سورہ صافات)
اور ان کو سیدھی راہ دکھائی
بتائے کیا یہ سیدھے راستے پر نہ تھے ؟ خان صاحب سے بڑا کوئی گستاخ ہے اس جہاں میں ؟
و قد ھدانا سبلنا)سورہ ابراہیم)
اس نے ہماری راہیں ہمیں دکھادیں
اور خود نبی کریم ﷺ کے متعلق ارشاد کا کیا ترجمہ کیا وہ بھی ملاحظہ ہو:
قل اننی ھدانی ربی الی صراط مستقیم (سورہ انعام ۔۱۶۱)
تم فرماؤ بے شک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی (کنزالایمان)
اب یہ سارے رضاخانی عقل کے دشمن جواب دیں کہ نبی کریم ﷺ پہلے کونسی راہ پر تھے جو انہوں رب کی طرف سے سیدھی راہ دکھانی پڑی؟اب دیر نہ کریں عشق رسالت کا تقاضہ یہی ہے کہ اپنا ہو یا پرایا ہو گستاخ ہے تو کفر کے گھاٹ اتار کر جہنم پہنچانا ہے اپنی کفر ساز مشین گن کے دس بیس نہیں تو دو چار فائر ہی خان صاحب کی قبر کی طرف ماریں تاکہ سب آپ کی انصاف پسندی کی داد دیں۔
رضاخانی اکابر کے مصدقہ ترجمہ میں آیت کا ترجمہ ہے
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے )آسان ترجمہ قرآن ۔ص:۳فرید بک ڈپو دہلی)
سابقہ اکابر کا ترجمہ
نیما مارا راہ راست )شاہ ولی اللہ صاحب ؒ )
دکھا ہم کو راہ سیدھی)شاہ رفیع الدین صاحب ؒ )
بنمای را راہ راست(شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ )
اعتراض نمبر ۵:و مکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین
اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کادوا سب سے بہتر ہے (شیخ الہندؒ )
رضاخانی لکھتے ہیں:
’’ مکرکے لغوی معنی خفیہ تدبیر کرنے کے ہیں مگر اردو میں یہ لفظ دھوکہ اور فریب جیسی مبتذل صفات کے اظہار کیلئے استعمال ہوتا ہے سوچئے کہ خدا کی ذات سے مکر اور داو جیسے الفاظ کا استعمال کس قدر سوء ادبی کا متحمل ہے ‘‘۔(محاسن کنز الایمان ۔ص:۳۴)
رضاء المصطفی صاحب لکھتے ہیں:
اللہ کی طرف مکر،فریب ،بدسگالی کی نسبت اس کی شان میں حرف گیری کی مترادف ہے ‘‘ (اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ ۔ص:۵)
کاشف اقبال رضاخانی لکھتا ہے کہ:
’’دیوبندی مترجمین نے بے دھڑک اللہ تعالی کی طرف چالبازی مکر اور داو منسوب کیا ہے اس سے ترجمہ کا عام قاری یہی نتیجہ اخذکریگا کہ اللہ تعالی چالباز اور مکار ہے ‘‘۔
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف۔ص:۶۳)
جواب: جناب عام قاری تو ترجمہ پڑھتے ہی سمجھ جائے گا کہ یہاں ’’مکر‘‘ احمد رضاخان بریلوی کا مکہ و مدینہ میں حسام الحرمین کیلئے کیا گیا ’’مکر ‘‘ مراد نہیں بلکہ وہ مکر مراد ہے جو اللہ کی شان اور نظم قرآن کا منشاء ہے ،البتہ آپ جیسے ’’مکار‘‘ وہی مطلب کشید کرو گے جو کیا۔
رضاخان صاف آف بانس بریلی قرآن پاک کی آیت
اللہ یستھزی بھم و یمدھم فی طغیانھم یعمھون (بقرہ ۔۱۵)
کا ترجمہ کرتے ہیں
’’اللہ تعالی ان سے استھزاء فرماتا ہے (جیسا اس کی شان کے لائق ہے )اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں‘‘۔ (کنز الایمان)
یہاں اللہ کی طرف ’’استھزاء ‘‘ کا لفظ خان صاحب نے منسوب کیا حالانکہ ’’استھزاء ‘‘ کا معنی اردو لغت میں :
ٹھٹھا کرنا ،ہنسی کرنا، تمسخر(نور اللغات ج۱ص۳۲۴ جنرل پبلشنگ ہاوس کراچی)
ہے ۔ اب رضاخانی الٹی سوچ کے مطابق عام قاری ترجمہ قرآن جب اس ترجمہ کو پڑھے گا تو یہی تاثر لے گا کہ معاذ اللہ نقل کفر کفر نہ باشد اللہ مسخرہ پن کرنے والا مسخرہ ٹھٹھا با زہے العیاذباللہ۔اگر خان صاحب کا یہ ترجمہ کرتے ہوئے عام قاری یعنی بریلوی رضاخانی جسے رضاخان صاحب ’’بھولی بھیڑیں‘‘ کہتا ہے سب کو معلوم ہے کہ بھیڑ بے وقوف جانور ہے اور ہو بھی بھولی تو نور علی نور بس اگر اس طرح کی بے وقوف بریلوی بھیڑیں یہاں یہ الٹا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ استہزاء کا وہی معنی لیتے ہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہو تو علمائے دیوبند کا ترجمہ پڑھنے والا پڑھے لکھے قاری بھی اس کا ہر گز وہ معنی نہیں لیتے جو آپ سمجھ رہے ہو یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں دنیا بھر کے لاکھوں عازمین حج خصوصا پاکستانی حاجیوں کو شیخ الہند ؒ کا یہ ترجمہ مفت دیا جاتا ہے ۔
دوسری بات رضاخانی کہتے ہیں کہ تدبیر ترجمہ کرکے اعلی حضرت نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا حالانکہ یہی ترجمہ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کیا :
اور وہ تو اپنی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ میاں اپنی تدبیر کررہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے ‘‘۔ (بیان القرآن سورہ انفال ۔۳)
کتنا کھلا تعصب ہے کہ ایک طرف تو حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ پر دل کھول کر سب و شتم کیا جائے مگر جہاں تمہارے اصول کے مطابق حضرت تھانوی علیہ الرحمۃ نے صحیح اور اللہ کی شان کے لائق ترجمہ کیا اسے نقل ہی نہیں کیا یہ تعصب نہیں؟اگر یہ سب کچھ انصاف کی رو سے لکھا جارہا ہوتا تو ہر منصف کا یہ فرض منصبی ہے کہ یہاں کسی کی برائی کو نقل کرے اس کی خوبیوں اور اچھائیوں کو بھی ذکر کرے ۔
رضاخانی اپنی چارپائی کے نیچے جھاڑو پھیریں
خان صاحب آف بانسی بریلی لکھتے ہیں:
کوہ فگن تھا انکا مکر مگر مکر حق تھا بڑا محب رسول )حدائق بخشش ج۳ص۴۱)
رضاخانی حکیم الامت احمد یار گجراتی صاحب لکھتے ہیں:
رب تعالی کے مکر سے بے خوف نہ ہو )تفسیر نعیمی ج۳ص۲۶۳)
رضاخانی شیخ الحدیث والتفسیر فیض احمد اویسی صاحب لکھتے ہیں:
اعلی حضرت نے اللہ تعالی کیلئے مکر کا معنی خفیہ تدبیر لکھا )سیدنا اعلی حضرت ۔ص:۲۸)
غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
اللہ کے مکر سے مراد(تبیان القرآن ص۱۸۰)
عبد الرزاق بھترالوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اللہ کے مکر سے مراد )تسکین الجنان ۔ص:۱۶۵)
ان تمام رضاخانیوں نے ’’اللہ کے مکر‘‘ کا جملہ استعما ل کیا اور رب تعالی کے گستاخ ہوئے رضاخانی جو تاویل یہاں کریں وہی علمایے دیوبند کے ترجمہ میں کرلیں ۔مگر فی الحال تو جلد سے جلد اپنے ان اکابر پر گستاخی کا فتوی لگا کر ان کیلئے ہاویہ میں جگہ بک کروائیں۔
سابقہ اکابر
شیخ عبد القادر جیلانی ؒ
مکر ا من اللہ و امتحانا (فتوح الغیب مقالہ نمبر ۸)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ
مکر خدا آنست )شرح فتوح الغیب ۔ص:
ز آنکہ بود اند ایمن از مکر خدا (مثنوی دفتر سوم ج۲ص۸۰)
شیخ سعدی ؒ
پس ایمن نشونداز مکر خدا مگر گروہ زیا ں کاراں (ترجمہ شیخ سعدی اعراف ۹۹)
وایشاں بدسگالی میکردند وخدابدسگالی میکرد (یعنی بایشاں)و خدا بہترین بدسگالی کنند کافی است (شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ)
ان اعتراضات کی ضرورت کیوں پیش آئی
قارئین کرام ! آ پ نے ماقبل میں ملاحظہ فرمالیا کہ اکابر علمائے دیوبند نے جو ترجمہ کیا وہ قرآن و سنت اور بزرگان دین و مفسرین کرام کے ترجمہ و تفسیر کے عین مطابق ہے ۔ رضاخانی حضرات چونکہ کھلم کھلا ان اکابر کے نام لیکر دشنام طرازی تو نہیں کرسکتے کیونکہ انہی کے نام پر بعد میں عوا م سے روٹیاں لینی ہیں اسی لئے قرآن کے صحیح تراجم سے عوام کو بدظن کرنے کیلئے اہلحق کے تراجم پر دل کھول کر تبرا بازی کی گئی ۔خود خان صاحب آف بریلی نے یہ ترجمہ کس طرح لکھوایا ملاحظہ ہو:
’’صدر الشریعۃ مولانا امجد علی علیہ الرحمۃ نے قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کی ضرورت پیش کرتے ہوئے اعلی حضرت سے ترجمہ کردینے کی گذارش کی آپ نے وعدہ فرمالیا لیکن دوسرے مشاغل کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی جب صدر الشریعہ کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیحضرت نے فرمایا چونکہ ترجمہ کیلئے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سونے کے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجا یا کریں ‘‘۔
(معارف رضا سالنامہ ۲۰۰۹ کنز الایمان نمبر ۔ص:۳۵)
ایک طرف آل رضا کہتی ہے کہ آل قارون رضاخان بریلوی پورے ہندوستان میں ناموس رسالت ﷺ کا واحد چیمپئن تھا اگر یہ نہ ہوتا تو آج پورے ہندوستان میں وہابیت ہوتی ساری زندگی ناموس رسالت کیلئے وہابیوں کا رد اور مسلمانوں کو کافر بناتے رہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر اکابر دیوبند کے تراجم گستاخانہ تھے تو کیا اس کا رداور اس کاحل پیش کرنا رضاخان صاحب کی ذمہ داری اور عشق رسالت کا تقاضہ نہ تھا؟اگر تھا تو قرآن مقدس جیسی عظیم کتاب کی خدمت کیلئے وقت کیوں نہیں ؟اس کی وجہ صرف یہی سمجھ آتی ہے کہ رضاخان صاحب عوامی آدمی نہ تھے انہیں عوام میں بیان کرنے کیلئے نہ کوئی بلاتا نہ خود جانے کا شوق نہ دعوت و تبلیغ سے سروکار نہ عوامی جلسے جلوس میں شرکت کا داعیہ نہ تعلیم و تعلم سے کوئی تعلق اور مناظرے کا نام تو سن کر ویسے ہی ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ان سب کاموں کیلئے ا س آدمی نے اپنے ان خلفاء کو رکھا ہوا تھا ظاہر ہے کہ عوام نے ان کا گریبان پکڑا ہوگا کہ تم قرآن پاک کے نام پر دھوکہ دیتے ہو جب ہم قرآن کھول کر اسے پڑھتے ہیں تو ہمیں ایسا کوئی عقیدہ اس میں نظر نہیں آتا جس کا تم پرچار کرتے ہواس لئے مولوی امجد علی صاحب گھوسوی نے ہوشیاری کرتے ہوئے اس وقت کے آل بدعت کے سرخیل سے یہ گذارش کی کہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ نظم قرآنی میں تو ہم سے تحریف ممکن نہیں اس لئے ترجمہ کے نام پر اس تحریف کا ارتکاب کردیا جائے۔ادھر ضاخان صاحب آف بریلی چونکہ علمائے حق کی مخالفت انگریز کے حکم پر کررہے تھے اور قرآن سے انگریز کو بغض تھا اس لئے اس کی خدمت کے صلے میں پونڈ ملنے کی امید نہ تھی جس پر امجد علی صاحب کو ٹال دیا مگر جب امجد علی صاحب نے با ر بارگذارش کی اور اصل صورتحال سامنے رکھی تو خان صاحب کو بھی بات سمجھ آگئی اور اس کیلئے راضی ہوگئے مگر کس وقت ؟ ’’نیم غنودگی‘‘ کی حالت میں ۔رب کریم کے اس مقدس کلام سے اس بے اعتنائی ہی کا نتیجہ ہے کہ خان صاحب کو ساری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت کی کوئی توفیق نہ ملی۔اور دوسری طرف جنہیں ساری زندگی کافر کہتے رہے اللہ نے ان سے اپنے کلام اور رسول ﷺ کی حدیث کی وہ خدمت لی کہ آج میرا مضمون پڑھنے والے بریلوی کے گھرمیں بھی علمائے دیوبند کا چھپا ہوا قرآن ہوگا اور میرا مضمون پڑھنے والے رضاخانی مولوی نے علمائے دیوبند کی چھاپی ہوئی حدیث کی کتاب ہی سے حدیث رسول پڑھ کر امتحان دیا ہوگا ۔ بہرحال اگر اس کی تفصیل میں جایاجائے تو ایک اور مستقل مضمون ہوجائے گا۔
ایک مطالبہ
آج جب ہم خان صاحب کو آف بریلی کے کفر و ایمان پر بات کرنے کیلئے رضاخانیوں کو دعوت دیتے ہیں تو فورا چلا اٹھتے ہیں اور گلو خلاصی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے اکابر نے نہیں کہا تو ہم بھی رضاخانیوں سے سوال و مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ تراجم خان آف بریلی کے سامنے بھی تھے کیا آپ ان تراجم پر یہی اعتراضات خان صاحب سے پیش کرسکتے ہیں جو آج آپ حضرات کرتے ہیں ؟ دیدہ باید۔
فیصلہ کن بات


مولانا عبد الستا ر خان نیازی صاحب بریلوی لکھتے ہیں کہ:
’’پاکستان کی تمام جماعتیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ،شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ کے افکار و نظریات پر اصولا متفق ہے لہٰذا ہم اپنے تمام منتازعہ فیہ امور ان کے عقاید و نظریات کی روشنی میں حل کریں ‘‘۔(اتحاد بین المسلمین ۔ص۱۱۳ والضحی پبلی کیشنز لاہور)
اسی طرح پنڈی کا رضاخانی حنیف قریشی کہتا ہے کہ :
’’حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ہستی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سوائے شیعہ کے تمام مسالک کی متفقہ شخصیت ہیں‘‘۔
(روئیداد مناظرہ گستاخ کون؟ص:۳۸۰ اسلامک بک کارپوریشن راولپنڈی)
اسی طرح مولوی کاشف اقبال رضاخانی لکھتا ہے کہ:
’’حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی علیہ الرحمۃ و غیرہم )دو آدمیوں کیلئے علیہ الرحمۃ اور پھر غیرہم ۔۔سبحان اللہ شیخ الحدیث صاحب کے علم کا زو ر ہے یہی حرکت اگر کوئی دیوبندی کرلیتا تو حسن علی رضوی آسمان سر پر اٹھالیتا۔از ناقل)کے نظریات وہی تھے جوکہ آج اہل سنت وجماعت (بریلوی) کے ہیں جن کی ترجمانی ۔۔۔ احمد رضا خان بریلوی ۔۔۔نے فرمائی ہے‘‘۔
(یوبندیت کے بطلان کا انکشاف ۔ص:۳۵ دارالغوثیہ سمندری شریف)



الحمد للہ ماقبل میں ہم نے قریبا تمام تراجم میں محد ث اعظم ہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے تراجم پیش کئے اور ثابت کیا کہ اکابردیوبند نے انہی تراجم کی ترجمانی کی جنہیں رضاخانی حضرات متنازعہ فیہ امور میں حکم ماننے کیلئے تیار ہیں ۔اب اگر یہ ہاتھی کے دانت دکھانے کیلئے نہیں ہیں تو ترجمہ کنز الایمان کو آگ لگائیں اور اکابر دیوبند کے ترجمہ کو حرزجان بنائیں جو چودہ سو سال کے علماء و مفسرین کے عقائد و نظریات کے عین مطابق ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔