اتوار، 21 جون، 2015

حجیت حدیث

حجیت حدیث

 الحمد للہ ر ب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و اشرف المسلمین
علامہ ساجد خان نقشبندی
جب سے مسلمانوں کااقتدار دنیامیں رو بزوا ل ہوا ہے اور یورپ کے اقتدار نے اسکی جگہ لی اس وقت سے مسلمانوں کو اس مرعوبیت نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جوان کے ذہنوں پر مغربی افکار و تہذیب نے مسلط کرد ی ہے۔رفتہ رفتہ یہ مرعوبیت اس درجہ میں بڑھ گئی کہ اسلام کی جوتعلیمات مسلمانوں کے نوتعلیم یافتہ طبقے کو مغربی افکار سے متصادم معلوم ہوئیں ، ان کاانکار کرنے لگے اور یہ بات ان کے ذہنوں میں راسخ ہوگئی کہ دنیا کی کوئی ترقی تقلید مغرب کے بغیر ممکن نہیں ۔مرعوب ذہنیت کایہ طبقہ مختلف ممالک اسلامیہ میں مغرب سے ہمرکاب ہونے کے شوق میں اسلامی تعلیمات میں تحریف تک پر آمادہ ہوگیا اس طبقہ کو اہل تجدد کہا جاتا ہے۔


اس طبقے کے سرکردہ ’’ترکی ‘‘ میں ’’گوک الپ‘‘،’’مصر‘‘ میں ’’طہ حسین‘‘،اور ’’ہندوستان ‘‘ میں ’’سر سید احمد خان‘‘ تھے۔مولوی چراغ علی بھی سر سید احمد خان کے ساتھی تھے ،ان کی قیادت میں یہ تحریک تجدد آگے بڑھی ۔انھوں نے کھل کر حجیت حدیث کاانکار تو نہیں کیا ،لیکن جو حدیث مغربی افکار سے متصادم نظر آئی اس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی ہو،کہیں کہیں دبے الفاظ میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ اس زمانے میں حدیث حجت نہیں ہونی چاہئے ،مگر ساتھ ہی جو حدیث مفید طلب نظر آتی اس سے استدلال بھی کرتے تھے ان کے بعد یہ تحریک ’’عبد اللہ چکڑالوی‘‘ کی قیادت میں قدرے اور منظم ہوئی یہ خود کو اہل قرآن کہتے تھے اور حجیت حدیث کے منکر تھے اور ’’اسلم جی رامپوری‘‘نے اس تحریک کو اور آگے بڑھایایہاں تک کہ ہمارے زمانے میں ’’غلام احمد پرویز‘‘ نے انکار حدیث کو ایک منظم نظریہ بناکر نو تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیلادیا،اس کے رد میں علماء نے الحمد للہ چھوٹی بڑی کتابیں مختلف انداز میں تحریر کیں اردو عربی میں منکرین حدیث کے رد میں الحمد للہ ایک بڑاذخیرہ کتب تیار ہوچکا ہے۔یہاں اس فرقے کے باطل نظریات اور ان کے ابطال کے دلائل اصولی طور پر ذکر کئے جاتے ہیں۔
منکرین حدیث کے نظریات
بنیادی طور پر منکرین حدیث میں تین نظریات پائے جاتے ہیں:
(۱) قرآن سمجھنے کیلئے حدیث کی ضرورت نہیں ،وحی صرف متلو میں منحصر ہے ،غیر متلو کوئی وحی نہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت من حیث الرسول واجب نہیں ۔نہ ہم پر نہ صحابہ کرامؓ پر،صحابہ کرامؓ پر آپ ﷺ کی اطاعت حاکم ہونے کی حیثیت سے واجب تھی نہ کہ من حیث الرسول۔
(۲) احادیث نبویہ صحابہ کیلئے حجت تھیں،ہمارے لئے نہیں۔
(۳) احادیث صحابہ کیلئے بھی حجت تھیں اور ہمارے لئے بھی ،لیکن ہم تک احادیث براہ راست نہیں پہنچیں،بلکہ بہت سے راویوں کے واسطے اور یہ واسطے قابل اعتماد نہیں ۔اس لئے اب ان احادیث کو حجت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ تینوں نظریات باہم متعارض ہیں ۔منکر حدیث کی تقریر یاتحریر میں ان میں سے کوئی ایک نظریہ ضرور پایاجاتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ایک شخص کے اقوال میں بھی یہ تینوں نظریات مختلف اوقات میں پائے جاتے ہیں ۔ہم یہاں ہر نظریہ کے ابطال پر کچھ دلائل پیش کرتے ہیں۔
ابطال نظریہ اولی
وحی غیر متلو کاثبوت:
* وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہ‘ اللّٰہ‘ اِلَّا وَحْیاًاَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ اَوُْ ےْرسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ۔(سورۃ الشوری،آخری ع)
اس آیت میں بشر سے ہمکلام ہونے کی اللہ تعالی نے تین صورتیں بیان فرمائیں۔جن میں سے ’او یرسل رسولا‘‘کے ساتھ وحی متلو یعنی قرآن کریم خاص ہے ،باقی دونوں صورتیں یعنی وحیا اور من وراء حجاب کا تعلق غیر متلو سے ہے اور وہی حدیث ہے ،اویرسل رسولا کے ساتھ قرآن کے مخصوص ہونے کی دلیل خود سورہ شعراء کی یہ آیت و انہ لتنزیل رب العالمین نزل بہ الروح الامین ہے۔
* وَمَا جَعَلْنَاالْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَااِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعَ الرَّسُوْلَ ۔(سورۃ البقرہ،آیت ۱۴۳)
یہ آیت تحویل قبلہ کے موقع پر نازل ہوئی القبلۃ التی علیہا سے مراد بیت المقدس ہے وما جعلنا میں اللہ تعالی نے بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے جس سے یہ ثابت ہوا کہ بیت المقدس کو قبلہ بنانے کاحکم اللہ تعالی کی طرف سے تھا،مگر پورے قرآن میں یہ حکم کہیں مذکور نہیں،ظاہر ہے کہ یہ حکم وحی غیر متلو کے ذریعہ آیا اس سے وحی کا متلو میں منحصر نہ ہونااور وحی غیر متلو کا حجت ہونا بھی ثابت ہوا۔
* وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنُْ ھوَاِلاَّوَحْی’‘ یُّوْحٰی(سورۃ النجم،آیت ۳۔۴)
ا س آیت میں اللہ تعالی نے صاف فرمایا کہ آپ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ وہی کہتے ہیں جس کاآپ کو حکم ہوا اس سے بھی ثابت ہوا کہ آپ کا ہر کلام وحی کے مطابق ہوتا تھا۔
* عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْءٰنَ بٰشِرُوْھُنَّ(البقرہ،آیت ۱۸۷)
ابتداء اسلام میں لیالی رمضان (رمضان کی راتوں میں ) جماع ممنوع تھا بعض صحابہ کرامؓ سے خلاف ورزی ہوئی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں ممانعت کی خلاف ورزی کو خیانت سے تعبیر کیا گیا حالانکہ یہ ممانعت پورے قرآ ن میں کہیں بھی مذکور نہیں معلوم ہوا کہ یہ وحی غیر متلو کی ذریعہ تھی۔اور اس کی اطاعت وجب ہے۔
* یَاَایُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَطِےْعُوْا اللّٰہَ وَ اَطِےْعُوْا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ(سورۃ النساء ،آیت،۵۹)
اس میں صراحۃ اطاعت رسول کا حکم ہے۔منکرین حدیث تو کہتے ہیں کہ رسول ﷺ کی اطاعت من حیث الرسول واجب نہیں بلکہ بحیثیت حاکم المسلمین واجب تھی اس کا بھی صراحۃ رد ہے وہ اس طرح کہ اول تو اس لئے کہ مشتق پر جب کوئی حکم لگتا ہے تو مادہ اشتقاق اس حکم کی علت ہوتی ہے یہاں رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور لفظ رسول مشتق ہے اور مادہ اشتقاق رسالت ہے تو معلوم ہوا کہ رسول کی اطاعت من حیث الرسول واجب ہے ،ثانیا یہ کہ اس آیت میں حاکم المسلمین کی اطاعت اولی الامر سے مستقلا بیان کی گئی ہے ۔
* لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلیَ الْمُوْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِےْھِمْ رَسُوْلاًمِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ (ال عمران،۱۶۴)
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو معلم قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ استاد کتاب کی تعلیم اپنے اقوال ا افعال ہی سے کرتا ہے اگر یہ اقوال و افعال معتبر نہ ہوں تو تعلیم بے کار ہی ہے تو ایسی بے کار تعلیم پر حضور ﷺ کو مقرر کرنے کی نسبت الی اللہ لازم آتی ہے اور عبث کی نسبت الی اللہ محال ہے پس اس کے سوا چارہ نہیں کہ آپ ﷺ کے اقوال و افعال جو کہ حدیث (وحی غیر متلو)ہیں اور قرآن کی تفسیر ہیں حجت قرار دیا جائے۔
اس کے علاوہ بھی ہم اپنے موقف پر دیگر سینکڑوں نصوص قطعیہ رکھتے ہیں ان سب کو یہاں اس مختصر مضمون میں نقل کرنا ممکن نہیں سمجھنے والے کیلئے اتنا بھی کافی اور نہ ماننے والے کیلئے دفتر کے دفتر بھی ناکافی۔
بعض عقلی دلائل:
قرآن کریم ایک جامع کتاب ہے اس میں قیامت تک کے تمام ضروری احکام اجمالی طورپر بیان کردئے گئے ہیں، مگر ان کو سمجھنا محض لغت یا عقل سے ممکن نہیں اس کا ذریعہ صرف احادیث نبویہ ہی ہے ۔کیونکہ اگر تفسیر قرآن میں احادیث نبویہ سے قطع نظر کرکے محض لغت پر مدار رکھا جائے تو قرآن کریم ناقابل عمل کتاب ہوکر رہ جائے گی او ر ارکان اسلام کی تفصیلات تک اس سے معلوم نہ ہونگی مثلا نماز میں تعداد اور رکعات ترتیب ارکان کہیں کہاں بھی مذکور نہیں یہ باتیں صرف حدیث سے معلوم ہوئیں اور صلوٰۃ کے جو معنی شریعت میں معرو ف ہیں یہ بھی حدیث سے معلوم ہوئے۔
پھر چودہ سوسال سے پوری امت کے عوام و خواص حدیث کو حجت مانتے آرہے ہیں اب د و حال سے خالی نہیں یا تو ان سب کے سب نے دین کو سمجھا نہیں اگر یہ بات ہے تو ایسا دین معاذ اللہ کیسے قابل اتباع ہوسکتا ہے جسے چودہ سو سال تک نہ سمجھا جا سکا ہو اور اس کی کیا دلیل ہے کہ منکرین حدیث نے صحیح سمجھا اور پھر یہ سب لوگ دین کے نعوذ باللہ دشمن تھے جو ایک غلط عقیدہ دین میں شامل کردیا پھر اس کی کیا دلیل ہے کہ پرویز صاحب دین کے مخلص دوست ہیں نیز ہم تک قرآن بھی پچھلی مسلم نسلوں ہی کے زریعہ پہنچا اگر یہ دین کے دشمن تھے تو قرآن پہنچانے میں بھی قرآن دشمنی سے کام لیا ہوگا تو اس قرآ ن پر اعتماد ہی نہ رہا۔معاذ اللہ۔
منکرین حدیث کے چند دلائل اور ان کا جواب
منکرین حدیث یہ دلیل بہت زور و شور سے پیش کرتے ہیں کہ:
* وَلَقَدْ یَسَّرْ نَا اْلقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ
اس سے معلوم ہو ا کہ قرآن خود صاف اور واضح آسان ہے اسے سمجھنے کیلئے کسی تفسیر یا حدیث کی حاجت نہیں ۔
اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ اگر تفسیر کی حاجت نہیں تو پرویز صاحب نے تفسیر کیوں تصنیف کی ؟۔اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ قرآن حکیم میں مضامین میں دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کا تعلق فکر آخرت ،اللہ کی یاد ،خو ف خدا ،ترغیب و ترہیب،عام نصیحتوں سے ہے اور دوسرے وہ جن کا تعلق احکام عملیہ سے ہے اس آیت میں قسم اول کے آسان ہونے کا ذکر ہے قسم ثانی کا نہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں یسرنا القرآن کو للذکر کے ساتھ مقید کیا گیا ہے جس کے معنی نصیحت حاصل کرنے کے ہیں نیز اس آیت میں فھل میں مدکر فرمایا گیا فھل من مستنبط نہیں فرمایا چنانچہ دوسری آیت میں صراحت کردی گئی کہ قرآن فہمی کیلئے معلم کی حاجت ہے ۔اور و ہ آیت ہم نے ماقبل میں بیان کردی ہے۔
* منکرین حدیث کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآنی آیات کو بینات فرمایا لہٰذا معلم کی حاجت نہیں ۔
اس کا الزامی جواب یہ ہے کہ پھر پرویز صاحب درس قرآن کیوں دیتے ہیں اور تفسیر قرآن کیوں لکھی۔۔؟۔اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ آیات بینات ان مواقع پر فرمایا گیا جہاں اسلام کے بنیاد ی عقائد کا بیان ہے کہ ان بنیای عقائد کو سمجھنے اور ان پر ایمان لانے کیلئے یہ آیات اس قدر واضح ہیں کہ عربی جاننے والا ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ قرآن میں عموما ان آیات کیلئے نہایت سادہ اور عام مشاہدے میں آنے والے دلائل پیش کئے گئے ہیں۔اگر علی الاطلاق ہر قسم کی مضامین کی آیت خود بخود واضح ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یوں نہ فرمایا جاتا ویعلمھم الکتاب اور لتبین للناس مانزل الیھم۔
* پرویزی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآن حکیم نے عام انسانوں کی طرح قرار دیا ہے،پس آپ کے اقوال و افعال واجب الاتباع ہونے کی کوئی وجہ نہیں کقولہ تعالی قل انما انا بشر مثلکم۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی آیات مشرکین عرب کی طرف سے مخصوص معجزوں کے مطالبے کے جواب میں آئی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ تم جو معجزہ بھی مانگو میں خود لانے پر قادر نہیں کیونکہ میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں ۔معجزہ کی قدرت اللہ کو ہے ۔نیز آگے یوحی الی کہہ کر افراد امت کے درمیان بابہ الفرق واضح کردیا گیا کہ مجھ پر وحی آتی ہے تم پر وحی نہیں آتی اور یہاں وحی مطلقا مذکور ہے جو متلو اور غیر متلو دونوں کو شامل ہے ۔اور ظاہر ہے کہ وحی واجب الاتباع ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ بھی واجب الاتباع ۔یہ تو ہماری دلیل ہوئی نہ کہ آپکی۔
* پرویزی کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں بہت سی جگہ پر آپ ﷺ کے فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے جیسے ماکان لنبی ان یکون لہ ۔۔الخ انفال ۶۷ اورعفااللہ عنک لم اذنت لھم۔۔۔ وغیرھما۔۔پس آپ کے اقوال ا فعال کیسے واجب الاتباع ہوسکتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ان واقعات میں بلاشبہ آپ ﷺ سے اجتہادی خطا ہوئی لیکن انہی آیات میں غور کیا جائے تو ان سے بھی آپ کے اقوال و افعال واجب الاتباع اور حجت ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہی واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اجتہادی خطا ء پر آپ ﷺ کو برقرا ر نہیں رکھا گیا اور بذریعہ وحی اس کی تصحیح کردی گئی ۔یہ خود حجیت حدیث کی دلیل ہے ۔

اللہ پاک ہدایت دے۔اور اسلاف کے دامن سے جڑے رہنے کی توفیق دے۔دعا کا طالب
خاکپائے اہلسنت وجماعت احناف دیوبند

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔