بدھ، 17 جون، 2015

کیا نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنا برا ہے ؟


کیا نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنا برا ہے ؟


(عام عوام کو سمجھانے کیلئے عبارت کی آسان اور عوامی انداز میں توضیح کی جارہی ہے علمی بحث پڑھنے کیلئے اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کریں)


حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ پر کچھ رسوائے زمانہ لوگوں نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں سب سے بڑا الزام اور سب سے نمایاں بہتان یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ”صراط مستقیم“ میں لکھا ہے کہ :
”محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نماز میں خیال لے جانا ظلمت بالائے ظلمت ہے ۔کسی فاحشہ رنڈی کے تصور اور اس کے ساتھ زنا کا خیال کرنے سے بھی برا ہے ۔اپنے بیل یا گدھے کے تصور میں ہمہ تن ڈوب جانے سے بدرجہا بد تر ہے “
احمد رضاخان نے صاحب قارونی کے بعض مریدین اور پیروکار اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں اور دیہاتوں میں جاکر بکتے ہیں کہ اسمعیل نے لکھا ہے کہ نماز میں نبی ﷺکا خیال آجانا گھوڑے گدھے کے خیال آنے سے زیادہ برا ہے۔



محترم قارئین!بھلا سوچئے تو کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس ایسے کافرانہ ،ظالمانہ اور احمقانہ جملے لکھ سکتا ہے ؟اس عبارت کا مطلب تو یہ ہوا کہ شاہ اسمعیل ؒ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمازوں کو خراب اور فاسد قرار دے رہے ہیں ۔اس لئے کہ ایسا کون سا مسلمان ہوگا کہ وہ نماز تو پڑھے مگر اسے حضور ﷺ کا خیال نہ آئے؟۔کون نہیں جانتا کہ نمازی کو قدم قدم پر حضور ؑﷺ کا خیال آتا ہے ۔ نمازی وضو کرے گا تو خیال آئے گا،خصوصا جب وضوءکے وقت ہر عضو کو تین تین بار دھوئے ، مسواک کرے گا تو ضرور خیال آےئے گاکہ یہ میرے آقا کی سنت ہے ،پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوگا اور اپنا دایاں پاوں مسجد میں پہلے داخل کرے گا تو اسے خیال آئے گا کہ حضور ﷺ نے ایسی ہی تعلیم دی ہے ۔اسی طرح دوران ِ نماز بھی اسے بار بار ا ن کا خیال آئے گا،نماز میں اگر وہ آیات پڑھی گئیں جن میں حضو رﷺ کا نامِ پاک آیا ہے تو کون ہے کہ ان کا نام تو لے مگر ان کا خیال اسے نہ آئے ۔تشہد میںآخری قعدہ میں ان پر درود پاک پڑھا جاتا ہے جس میں ان کا نام بار بار آتا ہے ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی نمازی کو آنحضرت ﷺ کا خیال نہ آئے؟۔
اب اگر حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ پر لگایا گیا یہ الزام درست تسلیم کرلیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کے نزدیک نہ اس دور کے مسلمانوں کی نماز صحیح ہے نہ پہلے مسلمانوں کی ۔یہاں تک کہ ابو بکر و عثمان،فاروق و علی اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں سے کسی کی بھی نماز صحےح نہیں ہوئی ۔اس لئے کہ نمازی کوئی ہو ،امام ہو یا مقتدی،صحابی ہو یا غیر صحابی، اسے حضور ﷺ کا خیال آہی جاتا ہے بلکہ غضب یہ کہ اگر یہ الزام درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر ان کے نزدیک خود سید العابدین حضرت امام دو جہاں ﷺ کی نماز بھی درست نہ ہوئی (خاک بدہن ِ ظالم و کاذب و مفتری)اس لئے کہ انہیں بھی دوران نماز اپنا خیال آتا ہوگا۔
تو جو شخص دنیا بھر کے عام مسلمانوں اور خاص اور کامل الایمان مسلمانوں حتی کہ خود سید الانام ﷺ کی نمازوں کو ناقص اور فاسد بتائے اس کی حماقت اور کفر میں کسی کو کیا شبہ ہوسکتا ہے ؟ ہم تو ایسے شخص کو بدتین کافر کہیں گے ،جو حضرات صحابہ جیسی عظیم ہستیوں اور ستم بالائے ستم یہ کہ خود سرور کائنات ﷺ کی نمازوں کو ناقص و فاسد کہے گا ۔مگر قارئین ِ محترم آپ کو حیرت ہوگی کہ امن میاں یعنی آل قارون احمد رضاخان صاحب اور ان کے پیروکار حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ پر الزام بھی لگاتے ہیں اور پھر احمد رضاخان قارونی افغانی انہیں کافر بھی نہیں کہتے ۔احمد رضاخان صاحب قارونی لکھتے ہیں کہ:
”امام الطائفہ اسمعیل کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا“۔ (حسام الحرمین ۔ص:42)
مزدید لکھتے ہیں: ”علماءمحتاطین انہیں کافر نہ کہیں“۔ (تمہید مع حسام الحرمین۔ص:42)
اگر اتنا بڑا جرم کرنے والا بھی کافر نہیں تو
ع مجھے بتاوتو سہی اور کافری کیا ہے ؟
قارئین کرام! یقین فرمائیں کہ یہ الزام محض جھوٹا ہے اور کذب و دجل کے پیکروں نے اسے باخدا انسان کی طرف اپنے مخصوص مفادات کے تحت یہ انتہائی ظالمانہ الزام منسوب کردیا۔
قارئین محترم!آئے دیکھتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب ؒ نے لکھا کیا ہے اور مو ت و قیامت سے غافل ان کے ظالم اور بے حےاءدشمنوں نے اسے کیا سے کیا بنادیا۔اس بحث میں پڑے بغےر کہ جس کتاب سے یہ عبارت شاہ صاحب کی طرف منسوب کی جارہی ہے وہ کتاب دراصل ہے کن کی؟ ہم اس عبارت کا مفہوم سہل اور آسان انداز میں عرض کرنے کی کوشش کریں گے۔جہاں تک اس کی علمی مباحث کا تعلق ہے تو حقےقت یہ ہے کہ اہل علم اور اہل تصوف و معرفت شاہ اسمعیل شہید ؒ کی عشق و محبت سے بھرپور اس عبارت پر عش عش کر اٹھے ہیں۔اہل نظر اس عالمانہ،،فقیہانہ،اور عاشقانہ عبارت کو پڑھ کر حضرت شہید کی بالغ نظری اور فراست و فقاہت کی داد دئے بغےرنہیں رہ سکتے۔مگر افسوس کہ ان کے ظالم و نادان دشمن جان بوجھ کر ان کی عبارت کا غلط مطلب بیان کرکے خدا کے عذاب کو دعوت دےتے ہیں اور یا بیچاروںکا ذہن ِنارسا علمی حقائق و باریکیوں کو سمجھنے سے ہی قاصر ہے اور ع
چوں ند ید ند حقیقت رہِافسانہ زدند
پہلے عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔حضرت شاہ صاحب نماز کے متعلق مسائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”صرف ہمت بسوئے شیخ و امثال آن از معظمین گو جناب رسالتمآب باشد بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق در صورتِ گاو خرِخود است کہ خیال آں با تعظیم اجلال بسوایدا ئے دل ِ انسان مے چسپد بخلاف ِ خیال گاو خرنہ آں قدر چسپیدگی مے بود و نہ تعظیم بلکہ مہان و محقر بود“۔
ترجمہ:(نماز میں صوفیائے کرام کا)اپنی تمام توجہ کو اپنے شیخ اور شیخ جیسی بزرگ ہستیوں کی طرف لگا دینا اگرچہ وہ شخصیت جناب رسالتمآب (ﷺ )کی ہی ہو،اپنی گائے اور گدھے کے خیال میں مستغرق ہوجانے (ڈوب جانے)سے کئی درجہ برا ہے کیونکہ بزرگ ہستیوں کا خیال تو تعظیم اور بزرگی کے ساتھ انسان کے دل کی گہرائیوں میں جا چپکتا ہے اور بیل اور گدھے کا خیال،نہ تو اس قدر دل تو لگتا ہے اور نہ اس میں تعظیم ملحوظ ہوتی ہے بلکہ حقیر و ذلیل ہوتاہے ۔
یہ ہے اس عبارت کا سلیس اور آسان ترجمہ۔اس میں حضرت شاہ صاحب ؒ نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں معظم،اجلال،تعظیم،اور رسالتمآب جیسے شاندار الفاظ استعمال فرمائے۔رسول خدا ﷺ کی توہین کا اس عبارت میں اشارہ تک نہیں ملتا ۔مگر شہید ؒ کے ظالم دشمن اس عبارت کا مفہوم بہت خوفناک بناکر بیان کرتے ہیں۔خصوصا اس عبارت میں میں موجودہ دو لفظوں پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اپنی خصلت بد کے مطابق ان کا مطلب و مفہوم لب و لہجہ کے ذریعہ بدل کر عام مسلمانوں خصوصا دیہاتیوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔سادہ لوح مسلمان جب ان دلدگان ِبدعت کا خود ساختہ ترجمہ و مطلب سنتے ہیں تو حےران رہ جاتے ہیں اور شاہ شہید رحمة اللہ علیہ کی مخالفت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔وہ دو لفظ یہ ہیں کہ انہوں نے نماز میں گھوڑے گدھے کے خیال کو بد اور حضور ﷺ کے خیال کو بدتر کہا۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب ؒ نماز میں حضور ﷺ کے خیال آنے کو ہرگزنقصان دہ نہیں سمجھتے وہ تو ”صرف ہمت“ کو نقصان دہ سمجھتے ہیں ”صرف ہمت“ کا ترجمہ یار لوگوں نے ”خیال “ کردیا۔حالانکہ اس کا مطلب خیال نہیں۔اس کا مطلب ہے کامل توجہ ،کسی کے دھیان میں خود کو غرق کردینا۔کسی ایک ہستی پر دھیان جمالینا۔سب سے یکسو ہوکر ایک طرف متوجہ ہوجانا۔غرض اس کا ترجمہ و مطلب خیال آنا نہیں بلکہ خیال میں کھوجانا ہے ۔گوےا خیال اور صرف ہمت میں زمین و آسمان کا فرق ہے مگر اندھے دشمنوں کو یہ فرق نظرنہیں آتا۔
اتنی بات تو ہر مسلمان جانتا ہوگا کہ نماز میں نمازی کی کامل توجہ کا حقدار اللہ تعالی ہی ہے جان بوجھ کر اپنی توجہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف پھیرنا نمازی کیلئے درست نہیں۔ارشاد خداوندی ہے :"اقم الصلاة لذكري“اور میری یاد کی نماز پڑھاکرو۔نیز ارشاد ہے :
قوموا لله قانتین اورکھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے۔حضور ﷺ فرماتے ہیں :ان تعبد اللہ کانک تراہ (الحدیث)اللہ کی عبادت اس طرح کرو گوےا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ خیال باندھ لو کہ بلاشبہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
اب جبکہ نماز میں خدائے پاک کے سوا کسی اور کی طرف صرف ہمت (صوفیانہ توجہ) کی اجازت نہیں تو اس لئے حضرت شاہ صاحب کسی اور کی طرف صرف ہمت کو نقصان دہ بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرماتے ہیںکہ اگر صرف ہمت کسی گھٹیا اور کم تر چیز کی طرف ہوگی تو نقصان کم ہوگا اور اگر اعلی ہستی کی طرف صرف ہمت ہوگی تو زیادہ نقصان دہ ہے۔اس عبارت میں نہ تو حضور اکرم ﷺ کی کوئی توہین کی گئی ہے اور نہ کسی قسم کی گستاخی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
ہم ایک مثال عرض کرتے ہیں امید ہے کہ اس مثال سے حضرت شاہ صاحب ؒ کی عبارت کا مفہوم سمجھنا زیادہ آسان ہوگا۔
ایک مریض ہے طبےب اسے قیمتی دوا کھلانا چاہتا ہے مگر اس قیمتی دوا کی خاطر خواہ اثرات ظاہر ہونے کیلئے طبےب یہ ضروری سمجھتا ہے کہ مریض ۶۱ گھنٹے پیاسا رکھا جائے ۔مریض کی جان بچانے کی خاطر اس کے لواحقین اور تیمارداروں نے اس کو گھر کے ایک کمرہ میں بند کردیا اور تمام اہل خانہ اور آنے جانے والوں سے کہہ دیا کہ مریض کے پاس کوئی بھی پانی یا پینے کی کوئی اور چیزلے کر نہ جائے۔شدید گرمی کے موسم میں مریض نے جیسے تیسے بارہ گھنٹے گزار لئے۔بارہ گھنٹے بعد جب مریض کو شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ ایک شخص گرم اور بدبودار پانی ایک گلاس لئے مریض کے کمرے میں چلا گیا ۔تیمارداروں کو پتہ چلا تو دوڑ کر کمرے میں گئے اور فورا گلاس انڈیل دیا اور گلاس لانے والے کو ڈانٹا کہ تونے بڑی نامناسب حرکت کی کہ پیاسے مریض کے پاس پانی لایا۔ گرم اور بدبودار سہی مگر پانی تو ہے۔ اس کے ایک گھنٹہ بعد ایک اور شخص انتہائی ٹھنڈے اور عمدہ شربت کا لبالب بھرا جگ مریض کے کمرے میں لے گیا۔تیمارداروں اور نگرانی کرنے والوں نے دیکھا تو تیزی سے اس کے پیچھے دوڑے او ر جگ اس کے ہاتھوں سے چھےن کر ا س سے کہا کہ تم نے تو پہلے والے شخص سے بھی کہیں زیادہ بری حرکت کی وہ گرم اور بدبودار پانی لے کر گیا تھا۔مگر تم نے تو ظلم کی حد کردی اس درجہ عمدہ خوش رنگ خوش ذائقہ اور ٹھنڈا شربت ایسے مریض کے پاس لے گئے جو اس وقت بے حد پیاسا ہے۔
اب ذرا اس مثال پر غور فرمائے ۔تیماردار حضرات گرم پانی لے جانے والے سے کہہ رہے ہیں کہ ”تونے نامناسب حرکت کی“ اور شربت لے جانے والے سے کہہ رہے ہیں کہ ”تونے زیادہ بری حرکت کی“ ،”اور ظلم کی انتہاءکردی“ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ تیمارداروں نے ”شربت کی توہین کردی“ اور اسے بدبودار پانی سے بھی کم اور حقےر جانا (کیونکہ) بدبودار پانی لے جانے والے کو انہوں نے قدر سخت الفاظ میں تنبیہ نہیں کی جس قدر سخت و شدید الفاظ میں شربت پلانے والے کو ڈانٹا۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں سمجھے گا ۔معمولی عقل و شعور والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ تیمارداروں نے شربت کی قطعا ًتحقیر نہیں کی اس لئے کہ شربت کو تو وہ خود خوش رنگ،خوش ذائقہ اور ٹھنڈا و عمدہ کہہ رہے ہیں جب کہ اس پانی کو گرم اور بدبودار کہہ رہے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح حضرت شاہ صاحب ؒ کی طرف منسوب عبارت مذکورہ کی بناءپر یہ بات منسوب کرنا جھوٹ اور فریب دہی کے سوا کچھ نہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی توہین کی ہے۔دیکھئے جیسے مریض کے تیمارداروں نے شربت کے متعلق ”خوش رنگ،خوش ذائقہ اور عمدہ و ٹھنڈا“ کے الفاظ استعمال کئے تھے اسی طرح حضرت شاہ صاحب ؒ نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں ”اجلال،تعظیم،معظم اور رسالتمآب“ جیسے شاندار الفاظ استعمال فرمائے اور جس طرح تیمارداروں نے پانی کو گرم اور بدبودار کہا تھا اسی طرح حضرت شاہ صاحب ؒ نے بیل گدھے کو حقیر اور بے وقعت فرمایا۔اب جیسے کسی کا یہ کہنا حماقت اور جہالت ہے کہ تیمارداروں نے شربت کی توہین و تحقیر اسی طرح یہ کہنا بھی حماقت ہے ،جہالت،اور شرارت ہے کہ شاہ صاحب ؒ نے پیغمبر کی توہین کردی۔حقیقت یہ ہے کہ نہ مریض کے تیمارداروں نے شربت کی توہین کی اور نہ حضرت شاہ صاحب ؒ نے حضور اکر مﷺ کی توہین کی۔
رہی یہ بات کہ پھر تیمارداروں نے مریض کے پاس شربت لے جانے والے کو زیادہ سخت الفاظ میں کیوں ڈانٹا تو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ تیماردار جانتے تھے کہ گندے اور غلیظ پانی کے پینے سے مریض کو باز رکھنا مشکل نہیں اول تو اس کا اپنا ضمیر ہی اسے گندہ پانی نہیں پینے دے گا بصورت دیگر گھر والوں کے معمولی سمجھانے بجھانے سے بازہ رہ جائے گا لیکن خوش رنگ اور ٹھنڈے شربت کے پینے سے اسے روکنا بہت مشکل ہے۔بس اسی بنا پر گندہ پانی لے جانے والوں کو تیمارداروں نے کم تنبیہ کی اور شربت لے جانے والے کو زیادہ۔خلاصہ یہ کہ مریض پر معالج اور نمازی پر خدا کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں میں جو چیز جس درجہ دخل انداز ہوگی وہ چیز اسی درجہ میں مضر کہلائے گی۔شاہ صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ مقدس و معظم ہستیوں کے خیال میں خود کو مستغرق کرنا زیادہ مضر ہے کیونکہ ان ذی شان ہستیوں کا خیال دل کی گہرائیوں میں جا چپکتا ہے اور پھر نہیں ہٹتا۔ شاہ صاحب کے احمق اور بے علم مخالفین کے سیاہ قلوب کوچونکہ دنیوی چیزوں کا خیال ہی زیادہ چپکتا ہے ۔ اس لئے خدا کے رسول ﷺ کے خیال کا دل میں چپکنے والی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
اب حضرت شہید ؒ کی عبارت پر غور فرمائے کہ نماز میں گھوڑے ،بیل اور گدھے کے خیال میں ڈوب جانا برا ہے مگر کسی عظیم ہستی کی طرف توجہ لگادینا زیادہ برا ہے ،اس کی وجہ بھی حضرت شاہ صاحب ؒ نے خود ہی بیان فرمادی ہے کہ گدھا گھوڑا حقےر اور بے وزن ہیں ان سے انسان کو خاص دلچسپی نہیں ہوتی (کہ ان کے خیال میں ڈوب جانے کے بعد ڈوبا ہی رہے) لیکن عظیم الشان ہستیوں کی طرف اگر صرف ہمت ہوگی تو پھر ان عظیم الشان ہستیوں سے توجہ ہٹانا بہت مشکل ہوجائے گا کیونکہ ان محترم ہستیوں کا خیال انسان کے دل کی گہرائیوں میں جاچپکتا ہے ۔گوےا حضرت شاہ صاحب ؒ گھوڑے گدھے کے خیال کو غلیظ اور گندے پانی جیسا سمجھ رہے ہیں اور بزرگان دین خصوصا نبی اکرم ﷺ کے خیال کو شدید پیاسے کیلئے خوش رنگ ،خوش ذائقہ عمدہ اور ٹھنڈے شربت جیسا سمجھ رہے ہیں۔کوئی بتائے کہ اس میں توہین اور گستاخی کیا نام کو بھی ہے؟ ۔
مزید وضاحت و تشفی کی غر ض سے ہم ایک واقعہ لکھ دینا بھی مناسب سمجھتے ہیں۔
ایک خطیب نے رمضان شریف کے ایک جمعہ کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے روزہِ رمضان سے متعلق یہ مسئلہ بیان کیا کہ :روزے کی حالت میں اگر تم میں سے کوئی شخص میرے منہ کا اُگلا ہوا نوالہ کھالے تو اس کا روزہ توٹ جائے گا مگر کفارہ ا س پر نہیں آئے گا ۔اسی طرح آپ حضرات میں سے کسی صاحب کے منہ کا اُگلا ہوا لقمہ اگر میں کھالوں تو میرا بھی روزہ ٹوٹ جاےئے گا مگر کفارہ لازم نہیں۔البتہ اگر رسول اللہ ﷺ کے مبارک منہ کا اُگلا ہوا لقمہ کھالوں یا آپ میں سے کوئی کھالے تو نہ صرف یہ کہ روزہ ٹوٹ جائے گا بلکہ کھانے والے پر کفارہ (ساٹھ روزے ) بھی لازم ہوگا۔ایسے ہی حضور اکرم ﷺ کے اُگلے ہوئے نوالے کو ابوبکرؓ ،فاروق اعظم ؓ ،حضرت عثمان و علی ؓ اور دیگر تمام صحابہ آئمہ امت اولیاءامت اور صحےح العقیدہ مسلمانوں میں سے کوئی کھالے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور کفارہ بھی ہوگا۔
خطےب سے یہ مسئلہ سن کر سب سامعین حیرت سے اس کا منہ تکنے لگے ۔بعض کے ماتھوں پر شکن نمودار ہوئے وہ اسے حضور ﷺ کی توہین تصور کرنے لگے ۔بعض حاضرین نے ایک دوسرے سے سرگوشی کی کہ یہ تو عجیب مسئلہ ہے ۔ہمارے اُگلے ہوئے لقمے کے کھانے سے کھانے والے پر صرف ایک روزہ اور نبی ﷺ کا لقمہ کھانے والے پر اکسٹھ روزے؟
خطیب بھانپ گیا کہ لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگی ،چنانچہ خطیب نے کہا کہ جس بات سے تم ناخوش ہورہے ہو اور ناگواری محسوس کررہے ہو تشرےح کے بعد اسی بات پر جھوم اٹھو گے۔ اور پھر خطیب نے وضاحت کی کہ روزے کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ گھٹےا اور بے وقعت اور ایسی چیز کہ جس سے گھن آئے کھانے سے صرف روزہ ٹوٹ جاتا ہے کفارہ لازم نہیں آتا ،مگر اعلیٰ بڑھےا ور عمدہ غذا ،دوا اور لذت کے طور پر کھانے والی چیز کے کھانے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ بھی لازم آتا ہے، زمزم پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضاءو کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔اسی طرح رینٹھ چاٹنے سے صرف قضاءلازم آئے گی مگر شہد چاٹنے سے کفارہ بھی۔
اب دیکھئے ! چونکہ میرے اگلے ہوئے لقمے سے آپ نفرت کرتے ہیں اور آپ کے اگلے ہوئے نوالے سے مجھے گھن آتی ہے اس لئے اگر ہم ایک دوسرے کا لقمہ کھالیں گے تو صرف قضاءہوگی کفارہ نہ ہوگامگر چونکہ حضور ﷺ کے مبارک منہ کے لقمے سے کسی صحیح العقیدہ مسلمان کو گھن آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہر مسلمان حضور کے منہ کے نوالے کو بہت بڑی نعمت سمجھتا ہے ۔ مسلمان کی نظر میں کائنات میں حضور کے لقمے سے اعلی ،مقدس اور محبوب ترین غذا اور کوئی نہیں ایک مسلمان کیلئے حضور کا لقمہ دوا بھی ہے شفاءبھی اور اعلی ترین غذا بھی۔دور صحابہ تو خیر دور صحابہ تھا آج اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے کروڑوں مسلمان موجود ہیں کہ ان کے سامنے اگر مختلف پلیٹوں میں شہد ،کھیر ،حلوا،کباب دیگر لذیذ چیزیں رکھ دی جائیںاور دوسری طرف ایک پلیٹ میں ان کے آقا و مولی کے مبارک دہن سے نکلا ہوا لقمہ رکھ دیا جائے تو وہ تمام پلیٹوں کی لذیذ چیزوں کو ٹھکرا کر بڑی بے تابی و بے قرار ی سے اپنے آقا و مولی کے لقمے پر ٹوٹ پڑیں گے،
زمانہ محوِ حیرت ہے میری شانِ گدائی پر
کہ میں ہر شے کو ٹھکرا کر تمہاری خاک پا مانگوں
حاصل یہ کہ حضور ﷺ کا لقمہ معاذ اللہ گھٹیا نہیں اس لئے اس کے کھانے سے قضاءکے ساتھ کفارہ بھی لازم آئے گا۔گوےا آنحضرت ﷺ کا لقمہ کھالینے پر کفارہ آنا تو ہین کیلئے نہیں بلکہ احترام و اکرام اور اظہار ِ شان کیلئے ہے ۔اپنے خطیب کا یہ بیان اور وضاحت سننے کے بعد ان حضرات پر وجد کیسی کیفیت طاری ہوگئی جو وضاحت سے پہلے ماتھوں کر شکن ڈالے ہوئے تھے ،جس بیان کو وہ حضور ﷺ کی توہین سمجھ رہے تھے بہت جلد انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ بیان تو ان کے آقا و مولی کی تعظیم و توقیر اور ان کے جلال و اکرام کا بیان ہے ۔
اس موقع پر خطیب نے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے آج کے اس بیان کو سادہ لوح دیہاتی مسلمانوں کے سامنے اس طرح بیان کرے گا کہ ”فلاں مولوی نے کہا کہ میر ا لقمہ کھانے سے صرف روزہ ٹوٹتا ہے کفارہ نہیں آئے گا مگر نبی ﷺ کا لقمہ کھانے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ بھی لازم ہوجاتا ہے “ تو ظاہر ہے کہ وہ بےچارہ بھڑک اٹھے گا اور کہے گا کہ خدا غارت کرے اس گستاخ مولوی کو ،اسی طرح اگر کوئی یہ بات میری والدہ یا والد کو کہے اور اگر انہیں تفصیل کی خبر نہ ہو تو وہ یقینا خفا ہوں گے اور میری ہدایت کیلئے دعا کریں گے۔خطیب نے کہا کہ اگر میرے اس بیان کو کوئی حضرت شاہ صاحب ؒ کے ظالم دشمنوں کی طرح اس ظالمانہ انداز سے بیان کرے،
”مسلمانو!مسلمانو!خدارا ان ناپاک ملعونی شیطانی کلموں کو غور کرو محمد رسول اللہ ﷺ کا لقمہ کھانے سے اکسٹھ روزے رکھنے پڑیں گے اور اس نابکار مولوی اور اس کے مقتدیوں کے لقمے کھانے سے صرف ایک روزہ۔مسلمانو!للہ انصاف !رینٹھ چاٹنے غلیظ بدبودار گوشت کھانے سے صرف ایک روزہ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے اُگلے ہوئے نوالے کے کھانے سے اکسٹھ روزے !مسلمانو! کیا ایسا کلمہ کسی اسلامی زبان و قلم سے نکلنے کا ہے ۔حاش للہ“۔
(حضرت شہید رحمة اللہ علیہ کی اس عالمانہ عبارت کے خو د ساختہ مفہوم کے اول و آخر میں بریلی کے پوپ رضاخان صاحب نے”الکوکبة الشہابیہ“میں انہی الفاظ میں واویلا کیا ہے )
تو ظاہر ہے کہ اس خوفناک اندازِ بیان سے سادہ لوح اور مسئلہ کی حقیقت سے بے خبر مسلمان ”وہ کچھ کہیں گے کہ خدا کی پناہ“۔
قارئین محترم ! خطیب کے بیان کو ایک بار پھر غور سے پڑھئے اور پھر بتائے کہ خطیب کے بیان میں کوئی ادنی سا شائبہ بھی توہین رسالت کا پایا جاتا ہے ۔بالکل یہی حال حضرت شاہ اسمعیل شہید ؒ کی اس زیر بحث عبارت کا ہے جس میں گستاخی و توہین کا تو قطعا اشارہ ہی نہیں۔حضرت کی عبارت عاشقانہ عالمانہ و فاضلانہ ہے مگر ناہنجار دشمن اسے ظالمانہ و گستاخانہ عبارت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یوں عوام الناس کو بہکاتے او ر اپنے دام تزویر میں پھنساتے ہیں اور یہ ظالم خود کو اور اپنے حوریوں کو اہل حق کی دشمنی کے باعث جہنم کے شعلوں کا ایندھن بناتے ہیں۔حضرت شاہ صاحب ؒ کی عبارت کا مفہوم اس کے سوا اور کیا ہے کہ جیسے روزے کی حالت میں گھٹےا چیز کھانا کم نقصان دہ ہے اور اعلی چیز کھانا زیادہ نقصان دہ ہے ۔اسی طرح نماز میں گھٹےا چیزوں کے خیالات میں منہمک ہوجانا کم نقصان دہ اور عظیم ہستیوں کے خیالات میں منہمک ہوجانا زیادہ نقصان دہ ہوتاہے۔گھوڑا بیل جبھی حضرت شہید انہیں محقر لکھتے ہیں اور ان کے خیال میں منہمک ہونے کوکم نقصان دہ بتاتے ہیں۔آقادو عالم ﷺ اعلی ترین و افضل ترین ہستی ہیں جبھی تو حضرت شہید ؒ انہیں عظمت والی ذات جلالت والی ہستی اور رسول نہیں رسالتمآب لکھتے ہیں اور اسی لئے نماز کے دوران ان کے خیال میں غرق ہوجانے کو نماز کیلئے نقصان دہ باتے ہیں۔غرض یہ کہ شاہ صاحب کا یہ لکھنا کہ نماز میں حضور ﷺ کے خیال میں خود کو مستغرق کردینا زیادہ برا ہے یہ آپ کی توہین کیلئے نہیں بلکہ ایسا آپ کی بلند و بالا شان اور بے نظےر عظمتوں اور بلند تر درجات کی وجہ سے ہے۔کوئی دلدادہ بدعت اسے نہ سمجھتا ہو تو اس میں شہید کا کیا قصورہے؟
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب راہ چہ گناہ
اور اب آخر میں شہید کے عشق و محبت میں لبریز اس جملہ پر ایک بار پھر غور فرمائے
”خیال آں با تعظیم و اجلال بسویدائے دل انسان می چسپد“
یعنی آقائے کائنات ﷺ کے خیال میں اس قدر مٹھاس ہے اتنی زیادہ حلاوت و شیرینی ہے اور اس درجہ کشش ہے کہ وہ انسان کے دل کی گہرائیوں میں اترجاتا ہے اور پھر چپک کر رہ جاتا ہے۔ہر شخص اپنے دل کی کیفیت خود ہی زیادہ جان سکتا ہے ۔شاہ اسمعیل شہید ؒ نے اپنی دلی کیفیت کا اظہار اس جملہ میں کردیا اور پھر دوسرے مسلمانوں کی حالت و کیفیت کو بھی اپنی حالت پر قیاس کیا کہ جیسے میرے دل کی گہرائیوں میں آنحضرت ﷺ کا خیال اپنی تمام عظمتوں اور انتہائی جلالت ِ شان کے ساتھ جاچپکتا ہے دوسرے مسلمانوں کے قلوب کی گہرائیوں میں بھی اسی طرح چپکتا ہوگا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات ،ا ن کے نام اور ان کے ذکر و خیال میں رب العالمین نے کچھ ایسی کشش اور ایسی حلاوت و مٹھاس رکھ دی ہے کہ صحیح العقیدہ انسان ایسی کشش اور مٹھاس دوسری کسی چیز میں نہیں پاتا۔حضرت شہید کے عشق و محبت میں ڈوبے ہوئے اس جملے کا مطلب خان صاحب اور ان کے متبعین کی سمجھ میں نہیں آرہا وجہ یہ ہے کہ جو دل و دماغ مسلسل غلط کاریوں کے نتیجے میں سلامتی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ان کیلئے کشش دوسری چیزوں میں ہوتی ہے ۔اللہ کے رسول کے خیال اور ان کی سنت میں نہیں۔
آئے ایک بار پھر یہ شاندار روح پرور اور وجد آفریں جملہ دہرا کر اپنے قلب و روح کی بشاشت و انبساط کا سامان کریں :
خیال آں باتعظیم و اجلال بسویدائے دل انسان می چسپد
کتنے مبارک ہیں وہ قدسی صفات لوگ جن کے پاک دلوں کو حضور ﷺ کی یاد اپنا گھر بنالے اور ان کے دل کی گہرائیوں میں آپ ﷺ کا خیال چپک کر رہ جاتا ہے۔
اب ذرا رسول اللہ ﷺ کے ایک جلیل المرتبت صحابی حضرت انس ؓ سے پوچھتے ہیں کہ دوران نماز جب رخ زیبا پر نظر پڑ گئی تھی تو اس وقت عاشقانِ رسالت ﷺ کی کیفیت کیا تھی ؟ بخاری شریف میں ہے کہ :
”حضور ﷺ کے مرض وصال کے دنوں میں حضرت ابو بکر ؓ نماز پڑھاتے تھے حتی کے جب پیر کا دن ہوا اور صحابہ کرام نماز میں صف باندھے ہوئے تھے تو جناب رسالتمآب ﷺ نے حجرہ اقدس کا پردہ کھولا اور کھڑے ہوکر ہمیں دیکھ رہے تھے چہرہ اقدس گوےا قرآن کا ورق تھاپھر آپ تبسم فرماتے ہوئے ہنسے،فھمنا ان نفتنن من الفرح برویة النبی ﷺ ۔ رسول پاک ﷺ کے چہرے کو دیکھنے کی وجہ سے مارے خوشی کے ہم نے ارادہ کیا ان نفتنن کہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں (یعنی نماز کی نیت توڑ دیں) (بخاری۔ج:۱۔ص:93)
جیسے چہرہ انور کو دیکھ کر حضرات صحابہ کرام ؓ کا وفورِ مسرت سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ نماز توڑنے کا ارادہ کرلیا ،ایسے ہی صوفیاءکرام اور صحےح العقیدہ مسلمان کا ان کے خیال و دھیان میں مستغرق ہونے کے بعد فرحت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا او رنماز کے ختم ہوجانے یا خراب ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔
اے حقیقی عشق و محبت کے جذبات و احساسات سے عاری لوگو!اپنے امام اعلی حضرت ، عظیم البرکت مجدد ملت یکے از علامات قیامت کے طریقہ غلیظہ کی پیروی کرتے ہوئے کیا بخاری شریف کی اس حدیث پاک کے متعلق یہ کہو گے کہ:
”مسلمانو!مسلمانو! خدارا ان ۔۔۔۔کلموں پر غور کرو،ہما شما کے دیکھنے سے تو فتنے میں پڑنے کا ارادہ نہ کیا مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے چہرہ کو دیکھنے سے فتنہ میں پڑنے کا قصد کیا ۔ مسلمانو! ۔۔مسلمانو!انصاف ! کرو۔لوگ حضور ﷺ کے چہرے کو دیکھ کر ہدایت پاتے ہیں ۔۔انسؓ ۔۔۔۔ کہ ہم نے چہرے کو دیکھنے کی وجہ سے فتنہ میں پڑنے کا ارادہ کیا ۔مسلمانو! للہ انصاف کیجئے ۔۔۔کیا ایسا۔۔۔۔کلمہ کسی ۔۔۔۔زبان و قلم سے نکل سکتا ہے “۔
ع شرم تم کو مگر نہیں آتی
اس حدےث پاک کے بعد حضرت شہید ؒ کی زیر بحث الہامی عبارت کے اس کیفیت زا جملے کا ترجمہ مزے لے لے کر پڑھئے گا:
”ان کا خیال تعظیم و بزرگی کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں جا چپکتا ہے “
اے گروہ اہل بدعت ! اور اے فریب خوردہ مسلمانو! اپنے دلوں کو بدعت کی آلائش اور اہل حق کے کینہ و کدورت سے پاک کرو۔اپنی ان حرکتوں پر خدا سے معافی طلب کرو تاکہ تمہیں مجاہد فی سبیل اللہ عاشق ِ رسول ﷺ حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمة اللہ علیہ کی یہ بات سمجھ میں آجائے کہ خدا کے رسول کی ذات ،بات میں ،ذکر میں زبردست حلاوت و مٹھاس اور بے پناہ کشش موجود ہے اور ان کی یاد اور ان کا خیال اپنی تمام تر عظمتوں اور رعنائیوں کے ساتھ قلبِ مومن میں جا چپکتا ہے ۔
فصلی اللہ علی رسولہ و آلہ و سلم

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔