منگل، 23 جون، 2015

غیر مقلدین (اہلحدیث ) حضرات کے ساتھ ہمارا اختلاف اصولی ہے نہ کہ فروعی

 

غیر مقلدین (اہلحدیث ) حضرات کے ساتھ ہمارا اختلاف اصولی ہے نہ کہ فروعی ۔فتاوی رشیدیہ کے ایک فتوے کی وضاحت

مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی

(یہ مضمون مولانا زید مجدہ کی کتاب ’’دفاع اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ سے ماخوذ ہے )

پانچواں حوالہ :پھر مولوی رشید احمد گنگوہی نے اپنا اور وہابیہ کا عقائد میں متحد ہونا بتلایا ہے لکھتے ہیں کہ:عقائد میں سب متحد مقلد غیر مقلد ہیں البتہ اعمال میں مختلف ہوتے ہیں (فتاوی رشیدیہ،ص62)ایک جگہ اور لکھا ہے :عقائد سب ( مقلد و غیر مقلد )کے متحد ہیں اعمال میں فرق۔۔۔ہے (فتاوی رشیدیہ ،ص266)۔(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص38)
جواب:ہم آپ کے سامنے اولا مکمل سوال و جواب نقل کرتے ہیں اس کے بعد اپنی معروضات عرض کریں گے:
’’سوال :مولانا سید نذیر حسین صاحب کو جو دہلی میں محدث ہیں جو لوگ ان کو مردود اور خارج از اہل سنت جانتے ہیں اور لا مذہب کہتے ہیں آیا یہ کہنا ان کا صحیح ہے یا نہیں باوجود صحیح نہ ہونے کے ایسے لوگ فاسق بدکار ہیں یا نہیں ؟او ر مولانا صاحب کے عقائد اور اعمال موافق اہل سنت والجماعت ہیں یا نہیں اور حضرت سلمہ کے عقائد اور مولانا صاحب کے عقائد میں کچھ فرق ہے یا متفق ہیں گو بعض جزئیات میں یا اکثر میں تخالف ہو تو یہ کچھ ایسا امر نہیں ہے جسکی وجہ سے ان کو ایسا گمان کیا جائے جواب بطور بسط کے ارقام فرمائیں کیونکہ ایک عالم ان کو لعن طعن کرتا ہے اور بد تر فاسقین سے جانتا ہے ۔فقط۔
جواب:


بندہ کو ان کا حال معلوم نہیں اور نہ میرے ساتھ ان کی ملاقا ت ہے لیکن جو لوگ ان کے حال کے بیان میں مختلف ہیں اگرچہ ان کو مردود اور خارج اہل سنت سے کہنا بھی سخت بے جاہے عقائد میں سب متحد مقلد غیر مقلد ہیں البتہ اعمال میں مختلف ہوتے ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ‘‘۔(فتاوی رشیدیہ،62،تالیفات رشیدیہ،ص208)
جواب کا اول جملہ ’’بندہ کو ان کا حال معلوم نہیں ‘‘خو د بتارہا ہے کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے غیر مقلدین حضرات کے عقائد پوری طرح سامنے نہیں آئے تھے مولانا نذیر حسین صاحب کے متعلق اگرچہ منفی خبریں ان تک پہنچی مگر ان کے بالمقابل دیگر حضرات سے ان کی تعریف بھی پہنچی لہٰذا معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت کے سامنے پوری صرتحال واضح نہ تھی اور چونکہ اس وقت زیادہ زور قراۃ خلف الامام ،بیس رکعات تراویح،اور تقلید پر تھا جیسا کہ حضرت گنگوہی ؒ نے ان پر مستقل کتاب بھی لکھی ہے تو حسن ظن یہی رکھا کہ چونکہ یہ حضرات خود کو مسلمان اور عامل بالحدیث کہتے ہیں اس لئے ان کے عقائد بھی اہل سنت کی طرح ہوں گے اور شوافع کی طرح صرف فروع میں احناف کے ساتھ اختلاف ہے اسی لئے عقائد میں دونوں کو متحد کہہ دیا مگر جیسے جیسے ان کی حقیقت کھلتی گئی حضرت کا موقف بھی سخت ہوتا گیا ۔چنانچہ بعد میں ان کا فتوی یہ تھا :
’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ زید آمین پکار کر تو نہیں پڑھتا مگر مولوی نذیر حسین دہلوی کا نہایت مداح ہے یہاں تک کہ جو اشتہار دربارہ گرفتاری ان کی مکہ معظمہ میں مشتہر ہوا تھا اس نے اس کو پھاڑ ڈالااور حنفیوں کو او ر غیر مقلدوں کو برا کہنے والے کو برا جانتا ہے پس ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟فقط۔
الجواب:جو مولوی نذیر حسین دہلوی کا مداح ہے بے شک غیر مقلد ہے اور اس کی امامت درست نہیں اول تو ان لوگوں کے عقائد و اعمال وہ ہیں جو جامع شواہد میں لکھے ہیں جس سے ان کا فاسق اور مبتدع ہونا معلوم ہوتا ہے دوسرے یہ فرقہ تعصب کرکے خواہ مخواہ اعمال میں مخالفت حنفیوں کی کرتے ہیں بہت سے افعال ایسے ہیں کہ اس سے نماز فاسد ہوتی ہے عند الحنفیہ تو ایسے شخص کے امام بنانے میں اپنی نماز کا خراب کرنا ہے لہذا ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھے ۔واللہ تعالی اعلم
(باقیات فتاوی رشیدیہ،ص164)
حضرت کی سوانح تذکرۃ الرشید میں بھی غیر مقلدین حضرات کے متعلق ایک تفصیلی فتوی ہے جس سے صورتحال مزید واضح ہوجاتی ہے :
’’زید اپنے آپ کو حنفی بتاتا ہے مگر مولوی نذیر حسین دہلوی کا مداح ہے اور آمدورفت بھی رکھتا ہے یوں کہتا ہے کہ جامع شواہد میں جو عقائد غیر مقلدین کے درج ہیں وہ غلط ہیں صاحب جامع نے غیر مقلدین پر تہمت کی ہے زید مذکور اکثر بلکہ ہمیشہ غیر مقلدین کے ساتھ شریک ہوکر انکی مسجد میں نماز پڑھتا ہے اب حنفیہ کی مسجد کا امام بننا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ غیر مقلدوں کی مداح کرنے والے شخص کی امامت میں تو کیا حرج ہوسکتا ہے میں تو حنفیہ کی کتابوں سے رافضی اور خارجی کی امامت کا ثبوت دے دوں ایسے شخص کی امامت اور وعظ سننا جائز ہے یا ناجائز شرح قول فیصل تحریر فرمادیجئے کہ نزاع باہمی رفع ہو۔
جواب:غیب کی بات تو اللہ ہی جانتا ہے مگر اصل حال یہ ہے کہ اس زمانہ میں غیر مقلد تقیہ کرکے اکثر اپنے آپ کو حنفی کہہ دیتے ہیں اور وہ واقع میں حنفیہ کو مشرک بتلاتے ہیں خود مولوی نذیر حسین نے مکہ معظمہ میں غیر مقلد ہونے سے تبری اور حلف کیا اور حنفی اپنے آپ کو بتلایا اور ہندوستان میں وہ ہر روز سخت غیر مقلد تھے اور اب بھی وہ ویسے ہی ہیں سو جب امام کا یہ حال تو ان کے مقتدی کیسے کچھ ہوں گے اور مولوی نذیر حسین کا حنفیوں کو بدتر از ہنود کہنا معتبر لوگوں سے سناگیا ہے اور خود مخلص شاگرد ان کے تقلید شخصی کو شرک بتاتے ہیں تو یہ شخص مداح ان کا کس طرح حنفی ہوسکتا ہے یہ دعوی اس کا قابل قبول نہیں بظاہر حال اور جامع الشواہد سے لاریب دوسرے غیرمقلدین بھی تبری کہتے ہیں مگر جس رسائل سے صاحب جامع شواہد نے نقل کیا ہے اس میں ہرگز تحریف نہیں چند موقع سے بندہ نے بھی مطالعہ کردیکھی ہے اور یہ عقائد بعض غیر مقلدین کے بعض معتبروں کی زبانی دریافت ہوئے اور وہ خود اقرار کرتے ہیں پس یہ قول اس کا قابل طمانیت اور حال زید کا جو اس سوال میں درج ہے بظاہر اس کے غیر مقلد ہونے کی تصدیق کرتا ہے ۔ اور یہ کہنا اس کا کہ حنفیہ سے صحت امامت رافضی اور خارجی کی دیتا ہوں غلط ہے یہ بھی دلیل اس کے غیر مقلد ہونے کی ہے ۔جو رافضی خارجی کفر کے درجے میں ہیں ان کی امامت کہیں نہیں لکھی اور جو فسق کے درجہ میں ہے اور کفر کے درجہ کو نہیں پہنچا اس کی امامت کراہت تحریمہ ہوجاتی ہے اور اس کے امام بنانے والا برضا گناہ گار ہوتے ہیں اور پہلے وقت کے رافضی خارجی اکثر ایسے ہوتے تھے ۔پس غیر مقلدین اس وقت کے جیسا کہ صاحب شواہد نے نقل کیا لا اقل کے فاسق ہوں گے اور جو غیر مقلد حنفیہ کو مشرک کہتے ہیں اور تقلید شخصی کو شرک بناتے ہیں بے شک فاسق ہیں سو ان کی امامت مکروہ تحریمہ ہے اور دانستہ ان کو امام بنانا حرام ہے اگرچہ نماز مقتدیوں کی بکراہت تحریمہ ادا ہوجاوے اور نماز بھی جب ادا ہو کہ کوئی مفسد نماز نہ ہووے ورنہ اس گروہ کو اس سے بھی باک نہیں ہے قے ہونے اور خون نکلنے سے یہ لوگ وضو نہیں کر تے اور ان کو ناقض وضو نہیں جانتے بھلا اگر ایسے وضو سے امام ہوں گے تو حنفیہ کی نماز کب ان کے پیچھے درست ہوسکتی ہے ۔گنگوہ میں ایک غیر مقلد نے اول فرض ظہر کے جمعہ کے دن تنہا قبل جمعہ کے پڑھے پھر بے خبری میں جو مولوی جانکران کو لوگوں نے امام جمعہ بنادیا تو جمعہ لوگوں کو پڑھا دیا اور پھر لوگوں سے خود اقرار اس قصہ کا کیا ۔اب دیکھو تقیہ اور دھوکا دہی ان کا کام ہے جو عالم ہیں اور مولوی برکت علی شاگرد نذیر حسین کا تھا حنفیہ کے قاعدہ کے موافق اس کا جمعہ بعد ظہر کے برباد گیا۔یہ حال ہے ان لوگوں کا پس بشرطیکہ کوئی مفسدصلوۃ کا بھی امام غیر مقلد نہ کرے تو بھی ایسے غیر مقلدوں کو جو حنفیہ کو مشرک بتادیں امام بنانا حرام ہے چہ جائیکہ ان پر اعتماد بھی نہ ہو۔اور وہ غیر مقلد عامل بالحدیث جو ہوائے نفسانی سے خالی اور محض لوجہ اللہ انصاف او ر صدق سے عمل کریں اور کسی مقلد کو برا نہ کہیں اور سب کو حق پر جانیں ظاہر میں نظر نہیں آتے کوئی مخفی ہوگا۔اس زمانہ کے چھوٹے بڑے پڑھے اور جاہل سب زبان سے تو اپنے آپ کو حنفی بتلاتے ہیں مگر تقلید شخصی شرک ہی جانتے ہیں اور کہتے ہیں سب دعوے ان کے دروغ اور عند التحقیق فریب معلوم ہوئے ۔پس ایسے شخص کی امامت ہرگز ادا نہ کریں اور ایسے شخص کا وعظ سننا بھی عوام کو نہیں چاہئے کہ مآل اس کا اچھا نہیں اور مآل عدم التقلید بہت بد ہوتا ہے ۔فقط واللہ اعلم۔
(تذکرۃ الرشید،جلد اول ،ص178,179،ادرہ اسلامیات لاہور)
اس فتوے میں حضرت نے اول تو صاف اس بات کو واضح کردیا کہ یہ لوگ تقیہ کرتے ہیں اور تقیۃ خود کو حنفی کہتے ہیں اس لئے حضرت گنگوہی ؒ کے سامنے بھی اولا انہوں نے خود کو حنفی اور اپنے عقائد موافق اہل السنۃ والجماعۃ ہی بتلائے ہوں گے اس لئے حضرت نے یہ کہہ دیا تھا کہ مقلد و غیر مقلد عقائد میں سب متحد ہیں مگر بعد میں جب تقیہ کی چادر اتری اور ان کے حقیقی عقائد سامنے آئے جیسا کہ اس فتوے اور اس سے ماقبل فتوے سے واضح ہے تو سختی سے ان کا رد کیا ان کی امامت کو مکروہ تحریمی اور وعظ سننے کا ناجائز قرار دیا۔ان کو خارج از اہل سنت قرار دے کر بدعتی شمار کیا۔ہمارے دیگر اکابر کا موقف بھی غیر مقلدین کے متعلق یہی ہے کہ ان کے ساتھ ہمارا اصولی اختلاف ہے نہ کہ فروعی چنانچہ بطور مثال صرف ایک حوالے پر اکتفا کرتا ہوں :
غیر مقلدین کے ساتھ ہمارا اصولی اختلا ف ہے نہ کہ فروعی حضرت تھانوی ؒ
’’نقل معاہدہ اہل حدیث و فقہ مدخولہ عدالت کمشنری دہلی سے گزرا مضمون معلوم ہوا ان جھگڑوں میں بولنے کو لکھنے کو جی نہیں چاہا کرتا کیونکہ کچھ فائدہ نہیں نکلتا ناحق وقت ضائع ہوتا ہے مگر آپ نے دریافت فرمایا ہے ناچار عرض کیا جاتا ہے کہ اس کا مضمون بظاہر صحیح ہے مگر حقیقت میں دھوکا دیا ہے کیونکہ ہمارا نزاع غیر مقلدین سے فقط بوجہ اختلاف فروع و جزئیات کے نہیں ہے اگر یہ وجہ ہوتی تو حنفیہ و شافعیہ کی کبھی نہ بنتی لڑائی دنگا رہا کرتا حالانکہ ہمیشہ صلح و اتحاد رہا بلکہ نزاع ان لوگوں سے اصول میں ہوگیا ہے کیونکہ سلف صالح کو خصوصا امام اعظم علیہ الرحمۃ کو طعن و تشنیع کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور چار نکاح سے زائد کو جائز رکھتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دربارہ تراویح کے بدعتی بتلاتے ہیں اور مقلدوں کو مشرک سمجھ کر مقابلہ میں اپنا لقب موحد رکھتے ہیں اور تقلید آئمہ کو رسم مثل جاہلان عرب کی کہتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے وجدنا علیہ آبائنا معاذ اللہ استغفر اللہ خدا تعالی کو عرش پر بیٹھا ہوا مانتے ہیں فقہ کی کتابوں کو اسباب گمراہی سمجھتے ہیں اور فقہاء کو مخالف سنت ٹھراتے ہیں اور ہمیشہ جوہائے فساد و فتنہ انگیزی رہتے ہیں علی ہذا القیاس بہت سے عقائد باطلہ رکھتے ہیں کہ تفصیل و تشریح اس کی طویل ہے اور محتاج بیان نہیں بہت بندگان خدا پر ظاہر ہے خاص کر جو صاحب ان کی تصنیفات کو ملاحظہ فرماویں پر یہ امر اظہر من الشمس ہوجاوے گا پھر اس پر عادت تقیہ کی ہے موقع پر چھپ جاتے ہیں اکثر باتوں سے مکر جاتے ہیں اور منکر ہوجاتے ہیں پس بوجوہ مذکورہ ان سے احتیاط سب امور دینی و دنیاوی میں بہتر معلوم ہوتی ہے ‘‘۔ ( امداد الفتاوی ،ج 4،ص562)
نوٹ : اس فتوے پر مندرجہ ذیل حاشیہ ہے :
البتہ جس غیر مقلد میں یہ امور نہ ہوں اس کا حکم مثل شافعی المذہب کا ہے ‘‘۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔