جمعرات، 25 جون، 2015

کیا اصل اشیاء میں اباحت ہے بدعتیوں کی دلیل کا جواب

 

کیا اصل اشیاء میں اباحت ہے بدعتیوں کی دلیل کا جواب

جب منع کی کوئی دلیل نہ ہو تو اصل کے اعتبار سے ہر چیز جائز ہے۔اس قاعدے سے نمازِ جنازے کے بعد مروج دعا جائز ہوئی۔

جواب:
پہلا جواب :
جو حضرات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ چیزوں میں اصل باحت اور جواز ہے ان کے کلام میں غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قاعدہ عبادات میں جاری نہیں ہوتا، یہ قاعدہ اموال ، امور عادیہ ، اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق ہے عبادات کے متعلق اصل قاعدہ یہ ہے کہ جو عبادات جس طریقے سے ثابت ہو وہ جائز ہوگی اور جو چیز ہوگی اور جو چیز بطور عبادت رسول ﷺ ، صحابہ وتابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہ ہو وہ عبادت نہیں ہوگی اور اس کا بطور عبادت بھی انجام دینا جائز نہ ہوگا ، بعض اوقات کوئی چیز بطور عبادت تو ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے لئے خاص وقت یا خاص جگہ یا کیفیت کی تعین کا ثبوت نہیں ہوتا تو ایسی عبادت کیلئے اپنی طرف سے ان چیزوں کی تعیین و تخصیص بھی ناجائز ہوگی ، کسی غیر ثابت چیز کو بطور عبادت انجام دینے یا کسی ثابت شدہ عبادت میں اپنی طرف سے کیفیات و اوقات کی تعیین و تخصیص کو شریعت کی اصطلاح میں ’’ بدعت ‘‘ کہتے ہیں ، جو باجماع امت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، چنانچہ علامہ ابو اسحاق شاطبی ؒ فرماتے ہیں :
’’ لا یصح ان یقال فیما یتعبد بہ : انہ مختلف فیہ علی قولین : ھل ھو علی المنع ام علی الاباحۃ۔۔۔ لان التعبدیات انما وضع الشارع ، فلا یقال فی صلوٰۃ سادسۃ مثلا انھا علی الاباحۃ ، فللمکلف وضعھا علی احد القلین ، لیتعبد بھا اللہ ، لانہ باطل باطلاق ‘
( الا عتصام : ۱ / ۳۰۱ )


(ترجمہ ): عبادات کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ اصل کے اعتبار سے ( دلیل آنے سے پہلے ) ممنوع ہیں یا مباح ، کیونکہ عبادت کو شارع ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ ) ہی نے مقرر کیا ہے ( اور جو شریعت میں ثابت نہ ہو وہ عبادت نہیں ہوگی بلکہ ناجائز اور حرام کام ہوگا ) فرض کیجئے کہ اگر کوئی شخص چھٹی نماز ایجاد کرے تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اصل اباحت ہے کہ اصول سے یہ کام اس کے لئے جائز ہے اور اس کو اس طرح ایجاد کا حق ہے بلکہ اس کا یہ فعل مطلقاً باطل ( اور شرعی رو سے قطعاً ناقابل اعتبار ہے ) ہے ۔
اور یہ اصول جو علامہ شاطبی ؒ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ عبادت جب تک ثابت نہ ہوا سے عبادت نہیں کہا جاسکتا ، نیز کسی عبادت کا خاص وقت و کیفیت جب تک ثابت نہ ہو تو اسے عبادت ( مستحب یا بہتر ) قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ وہ باطل ہوگا ، یہ اصول انتہائی قوی ہے اور سب علماء وفقہاء کے ہاں مسلم ہے درج ذیل عبارت اس اصول پر واضح دلیل ہے :
والمتابعۃ کما تکون فی الفعل تکون فی الترک ایضا ، فمن واظب علی فعل لم یفعلہ الشارع فھوا منبتدع۔ ( مرقاۃ : ۱ / ۴۱ )
عن ابی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : ان رفعکم ایدیکم بدعہ ، مازاد رسول اللہ ﷺ علی ھذا یعنی الی الصدر ( مسند احمد : ۲ /۶۱ )
والزیادۃ علی ثمان رکعات لیلا و علی اربع رکعات نھارا مکروہ بالاجماع ( مینۃ المصلی : ص ۱۰۲ )
وقال الکاسانی ؒ فی تعلیلہ : یکرہ الان الزیادۃ علی ھذا لم تروعن رسول اللہ ﷺ ۔ ( بدائع : ۱ /۲۹۵ )
وقال المرغینانی ؒ : و دلیل الکراھۃ انہ علیہ السلام لم یزد علی ذلک ، ولو لا الکراھۃ لزاد ، تعلیما للجواز ۔ (ھدایۃ : ۱ /۱۲۷ )
وفی الھدایۃ : ویکرہ ایتنفل بعد طلوع الفجر باکثر من رکعتی الفجر لانہ علیہ السلام لم یزد علیھما مع حرصہ علی الصلوٰۃ( ھدایۃ : ۱ /۱۵۳ )
ولیس فی الکسوف خطبۃ، لانہ لم ینقل ۔ (ھدایۃ : ۱ / ۱۵۶ )
ولا یتنفل فی المصلٰی قبل الصلوٰۃ العید ، لانہ النبی ﷺ لم یفعل ذلک مع حرصہ علی الصلاۃ ۔ (ھدایۃ : ۱ / ۱۵۳)
قراء ۃ الکافرون الی الآ خرمع الجمع مکروھۃ ، لانھا بدعۃ لم ینقل ذلک عن الصحابۃ والتابعین ۔ (ھندیۃ : ۴ / ۲۶۴ )
وقالوا فی کراھیۃ صلوٰۃ الرغائب : الان الصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم لم تنقل عنھم فھی بدعۃ۔ (کبیری : ص ۴۳۲ ، شامیۃ : ۲ / ۲۶ )
عبارات بالا سے درج ذیل امور ثابت ہوئے:
۱۔ حضور ﷺ کی اتباع جیسا کہ کرنے میں ہوتا ہے اسی طرح نہ کرنے اور کسی چیز کہ چھوڑنے ( کہ کوئی مانع نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے بطور عبادت اسے نہ کیا ہو ) میں بھی لازم ہے ۔
۲۔ حضرت ابن عمرؓ نے دعا میں سینے سے اوپر ہاتھ اٹھانے کو محض اس وجہ سے منع فرمایا اور اسے بدعت قرار دیا کہ حضور ﷺ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ۔
۳۔ فقہائے کرام نے رات کے نوافل میں آٹھ سے اور دن کے نوافل میں چار سے زیادہ رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کو بالا تفاق اس لئے مکروہ قرار دیا کہ شریعت میں اس کا ثبوت نہیں ۔
۴۔ صبح صادق طلوع ہونے کے بعد ماسوائے سنت فجر باقی نوافل کو صاحب ہدایہ نے اس لئے مکروہ قرار دیا ہے کہ ثابت نہیں (واضح رہے کہ طلوع صادق کے بعد نوافل سے صراحتاً حدیث میں بھی منع آیا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ابن عمرؓ کی روایت میں ہے لیکن اگر یہ نہ بھی ہوتا تب بھی صاحب ہدایہ کہ ذکر کردہ دلیل کی وجہ سے ناجائز ہوتا )۔
۵۔ صلوٰۃ کسوف میں صاحب ہدایہ نے اس لئے منع فرمایا کہ منقول نہیں ۔
۶۔ عید گاہ میں عید کی نماز سے پہلے فقہاء نے اس لئے منع فرمایا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ۔
۷۔ آخری سورتوں کے اجتماعی طور پر پڑھنے سے فقہاء کرام نے اس لئے منع فرمایا کہ صحابہ کرامؓ اور تابعین ؒ سے ثابت نہیں ، لہٰذا بدعت اور واجب الترک ہے ۔
۸۔ فقہاء نے صلوٰۃ الرغائب ( رجب کے پہلے جمعہ کے دن جماعت سے پڑھی جانے والی نفل جماعت ) کو محض اس وجہ سے ممنوع فرمایا کہ صحابہ کرامؓ تابعین ؒ اور صلف صالحین سے اس کا ثبوت نہیں ۔
اس طرح کی اور بھی بے شمار عبارات ہیں ان عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ عبادات میں رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامؓ اور تابعین ؒ کا داعیہ کے باوجود کسی چیز کو چھوڑنا اور نہ کرنا اوؤس چیز کے ناجائز ہونے کی دلیل ہے اور محدثین اور فقہائے کرام کے ہاں ایک مستقل ضابطہ اور قاعدہ ہے ۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوا کہ جنازہ کے بعد مروج دعاء کو محض اس وجہ سے کہ اس سے منع نہیں فرمایا ہے جائز اور مستحب کہنا قطعاً صحیح نہیں ہے ، صحیح بات یہ ہے کہ جنازے کے بعد مروج دعا چونکہ ثابت نہیں اس لئے بدعت ، ناجائز و حرام ہے ۔
دوسرا جواب :
یہ قاعدہ کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے ، قفہاء کرام اور علم اصول کے ماہرین کے ہاں اتفاقی نہیں بلکہ علماء کی ایک کثیر تعداد کا قول یہ ہے کہ ہر چیز میں اصل توقف ہے ، جب تک کسی جانب پر دلیل قائم نہ ہواسے جائز یا نا جائز نہیں کہا جاسکتا۔ شیخ ابو منصور ماتریدی ، عام محدثین اور اشعر یہ سب کا یہی مذہب ہے ۔ ( شامیہ : ۴/۱۶۱)
’’المذھب منصور ان الاصل فی الاشیاء التوقف ‘‘( در مختار : ۱ / ۱۰۵ )
ان الصحیح من مذھب اھل السنۃ ان الاصل فی الاشیاء التوقف ۔ ( حوالہ بالا : ۴ / ۱۶۱ )
جن علماء کرام نے یہ قاعدہ ( کہ اشیاء میں اصل جواز ہے ) بیان فرمایا ان کے نزدیک بھی یہ شریعت آنے سے پہلے زمانے کے متعلق ہے کہ جب تک آخری شریعت نہیں آئی تھی تو افعال و اقوال اور دیگر امور میں اصل اباحت تھی ، لیکن شریعت نازل ہونے کے بعد یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا بلکہ شریعت نازل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس چیز کا ثبوت ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں چنانچہ علامہ بحر العلوم اس مسئلے پر محققانہ گفتگو کے بعد بطور خلاصہ فرماتے ہیں ۔
’’ فاذا لیس الخلاف الا فی زمان الفترۃ الذی اندرست فیہ الشریعۃ بتقصیر من قبلھم ( الی قولہ ) ولعل المراد من الافعال ما عدالکفرو لحو فان حرمتہ فی کل شریع بتین ظھور اتاما ۔‘‘ (فواتح الرحموت شرح مسلم النبوت : ۱ / ۴۹ ، ۵۰ )
’’ وفی الشامیۃ : فی شرح اصول لبز دوی للعلامۃ الاکمل : قال اکثر اصحابنا و اکثر اصحاب الشافعی : ان الاشیا ء التی یجوز ان یردو الشرع بابا حتھا و حر متھا ، قبل و رودھا علی الاباحۃ و ھی الاصل فیھا حتی ابیح لمن لم یبلغہ الشرع ان یاکل ماشاء ‘‘۔
(۴/ ۱۶۱ )
شریعت کے وار ہونے کے بعد اموال کے متعلق یہ قاعدہ ہے عبادات کے متعلق نہیں ۔
فی الشامیۃ : فی اصول البزدوی : بعدو رود الشرع الاموال علی الاباحۃ بالاجماع مالم یظھر دلیل الحرمۃ ، لان اللہ تعالیٰ اباحھا بقولہ : (خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الاَرضِ جَمِیعا )۔(۴/۱۶۱)
اس سے ثابت ہوا کہ منسلکہ فتویٰ میں علامہ شامی کے حوالے سے جوبات نقل کی ہے کہ اکثر احناف اور شوافع کے نزدیک چیز وں میں اصل ہے جواز ہے ‘‘ ، یہ شریعت کے آنے سے پہلے کے متعلق ہے جیسا کہ خود علامہ شامی کے نقل کردہ حوالہ جات سے ثابت ہوا ، شریعت کے آنے کے بعد کسی فعل کو عبادت کے طور پر جائز کہنے کیلئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے جہاں دلیل نہ ہو وہاں عدم جواز ہی کا حکم لگایا جایا گا، البتہ اموال میں یہ قاعدہ شریعت جاری ہونے کے بعد بھی جاری ہوتا ہے ۔
تیسرا جواب:
یہ بات ( کہ افعال و عبادات میں اصل جواز ہے اور کسی بھی فعل کے جواز کیلئے یہ کافی ہے کہ اس سے منع ثابت نہ ہو ) اگر بالفرض مان بھی لی جائے تب بھی آج کل جنازے کے بعد جو مروج دعاہے اس کو جائز نہیں کہا جا سکتا ، کیونکہ شریعت کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ وہ مباح بلکہ مستحب چیز جس کو لوگ لازم سمجھنے لگیں وہ ناجائز و حرام بن جاتی ہے اور آج کل جنازے کے بعد مروج دعا کو بھی لوگ لازم سمجھتے ہیں ، نہ کرنے والوں کو گمراہ کہتے ہیں ۔
قال الحلبی فی شرح المنیۃ : ’’ وما یفعل بعد الصلوۃ فمکروہ ، لان الجھال یعتقد ونھا سنۃ او واجبۃ ، وکل مباح یودی الی ھذا لمکروہ۔ ‘‘ (ص: ۶۱۷ )
علامہ حلبی ؒ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے بعد جو لوگ سجدہ شکر کرتے ہیں تو یہ مکروہ ہے اس لئے کہ جاہل لوگ اس اجتماعی ہئیت کو سنت یا ضروری سمجھتے ہیں اور ہر مباح چیز جب اس کو سنت یا لازمی کا درجہ دے دیا جائے وہ مکروہ بن جاتی ہے ۔
قال ابو معاویۃ و رکیع عن الاعمش عن عمارۃ عن الاسود قال ، قال عبد اللہ : لا یجعلن احد کم للشیطان نصیا من صلونہ ان یریٰ ان حقا علیہ ان لا نصرف الاعن یمینہ ۔ اکثر مارایت رسول اللہ ﷺ نیصرف عن شمالہ ۔‘‘(ضیاء النور احالۃ علی مصنف ابن ابی شیبۃ : ۱ /۲۰۶ )
علامہ حلیمی شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کی تشریح فرماتے ہیں :
’’ من اصر علی امر مندوب و جعلہ عزما و ثم یعمل بالر خصۃ فقد اصاب منہ الشیطان باالاضلال فلیک من اصر علی بدعۃ اومنکر ‘‘۔
یعنی مستحب چیز پر ایسے اہتمام سے عمل کرنا کہ اس کو لازم کا درجہ دے دیا جائے یہ شیطان کی گمراہانہ چال کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ کارِ خیر اور باعث ثواب۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں طرف گھومنے کو اپنے اوپر لازم سمجھ کر شیطان کو نماز میں حصہ نہ دے ، کیونکہ ( دائیں طرف گھومنا اگرچہ افضل ہے لیکن ) نبی کریم ﷺ سے بائیں طرف گھومنا بھی ثابت ہے ۔
چوتھا جواب:
نماز جنازہ خود دعا ہے ، اس کے بعد اجتماعی دعا کا خیر القرون سے کوئی ثبوت نہیں ۔ احادیث مشہورہ سے اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا نماز جنازہ پڑھنا صرف سلام پھیرنے تک منقول ہے ، اس کے بعد دعا کا ذکر کہیں منقول نہیں ، لہٰذا یہ ناجائز اور بدعت ہے جس سے اجتناب لازم ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کو جاننے اور سمجھنے والے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسے بدعت اور ناجائز قرار دے کر اس سے منع فرمایا ہے ۔ ذیل میں چند مشہور فقہائے کرام ؒ کی عبارات نقل کی جاتی ہیں :
( ۱) : قال شمس الائمۃ السرخسی رحمہ اللہ علیہ : ولمقصود بالصلوٰۃ علی الجنازۃ الا ستغفار للمیت والشفاعۃ لہ۔۔۔۔ لان ھذہ لیست بصلوٰۃ علی الحقیقۃ، انما ہی دعا و استغفار للمیت ۔(المبسوط : ۲ / ۶۴)۔
(۲) وفی المرقدۃ شرح المشکوٰۃ : ولا بدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ، لانہ یشنہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازہ۔( مرقاۃ المقاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح : ۴ /۱۷۰ )۔
(۳) وقال العلامۃ النسفی رحمہ اللہ فی کنز الدقائق : وھی اربع تکبیرات بثناء بعدا لاولیٰ ، وصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد الثانیۃ و دعا بعد الثالثۃ۔
قال العلامۃ ابن نجیم ؒ تحت قولہ : ( دعا بعد الثالثہ ) و قید بقولہ بعد الثالثۃ : الانہ لا ید عو بعد التسلیم کما فی الخلاصۃ ۔ ( البحر الرائق : ۲ / ۱۸۳)
(۴) قال العلامۃ طاہر بن عبد الرشید البخاری رحمہ اللہ : ولا یقوم بالدعا ء بعد صلوٰۃ الجنازہ ۔۔۔ ولا یقوم بالدعاء فی قراءۃ القرآن لأھل المیت بعد الصلوٰۃ الجنازۃ و قبلھا ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ : ۱ /۲۲۵)۔
(۵) وفی الفتاوٰی النزازیۃ : لا یقوم باالدعاء بعد صلاۃ الجنائز : لأنہ دعا مرۃ لأن اکثرھا دعاء ( الفتاویٰ البزازیۃ علی الھامش الھندیۃ : ۴ /۸۰)۔
بدعتیوں کے دلائل:
امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی ؒ لکھتے ہیں : ’’ نبی ﷺ نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ، جب حضور ﷺ جنازہ پڑھا کر فارغ ہوچکے تو اس وقت حضرت عمرؓ کچھ لوگوں کے ساتھ آئے اور دوبارہ نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا:’’ نماز جنازہ دوبارہ نہیں پڑھی جائیگی لیکن میت کیلئے دعا کرو اور اس کیلئے استغفار کرو ‘‘۔اور عمر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علیؓ کے ساتھ یزید بن مکفف کی نماز جنازہ پڑھی ، انہوں نے ان پر ( جنازے کی ) چار تکبیرات پڑھیں ، پھر چلیں یہاں تک کہ میت کے قریب آگئے اور عرض کیا ’’ اے اللہ ! ( یہ ) تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا فرزند ہے ، آج تیرے حضور حاضر ہے ، تو اس کے گناہوں کو معاف فرما، اس کی قبر کو اس کیلئے وسیع فرما ، ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے اور تو اس ( کے حال ) کو بہتر جانتا ہے ‘‘۔ حدیث شریف میں حضرت ابو ہریر ہؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ : ’’ جب تم میت پر نماز پڑھ چکو تو اخلاص کے ساتھ اس کیلئے دعا کرو ‘‘۔
جواب:
علامہ کاسانی ؒ کے حوالہ سے جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف اتنا ہے کہ ’’ میت کیلئے دعا کرو اور اس کیلئے استغفار کرو ‘‘ اس سے جنازے کے فوراً بعد اجتماعی دعا کہاں ثابت ہے ؟ اس میں تو صرف میت کیلئے دعا و استغفار کرنے کا حکم ہے ، اس سے کون انکار کرتا ہے ؟ پر شخص ہر وقت انفرادی طور پر یہ کرسکتا ہے ۔
علامہ کاسانیؒ خود فرماتے ہیں :
’’ ولیس فی ظاھر المذھب بعد التکبیرۃ الرابعۃ دعاء سوی السلام ‘‘۔
سواگر ان کے نزدیک سلام کے بعد دعا مستحب ہوتی تو ضرور اس جگہ اس کا ذکر فرماتے ۔ ( بدائع : ۲/۳۲۴)
عمیر بن سعید کے حوالہ سے حضرت علیؓ سے جو میت کیلئے دعا کرنا منقول ہے تو اس سے بھی مروجہ دعا ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ اس سے انفرادی دعا کا ثبوت ہوتا ہے اور اس کا کوئی منکر نہیں ۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ’’ جب تم میت ہر نماز پڑھ چکو تو اخلاص کے ساتھ اس کیلئے دعا کرو ‘‘ کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا بھی مروج دعا سے کوئی واسطہ نہیں ، اس حدیث میں مذکورہ دعا سے نماز جنازہ کے اندر پڑھی جانی والی دعا مراد ہے ۔ مطلب یہ کہ تم نماز جنازہ کے اندر میت کیلئے دعا جو پڑھتے ہو وہ مکمل اخلاص قلب کے ساتھ پڑھا کرو۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دعا کہ الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن تم دل میں اس دعا کو میت کیلئے خاص کیا کرو۔ مشکوٰۃ المصابیح کے مشہور شارح ملا علی قاری ؒ نے اس حدیث کے تحت یہی تشریح فرمائی ہے اور ان سمیت کسی محدث نے بھی اس سے جنازے کے بعد مروج دعا مراد نہیں لی بلکہ ملا علی قاری ؒ نے حافظ ابن حجر شافعی ؒ کا قول بھی نقل کیا ہے کہ اس سے مراد تیسری تکبیر کے بعد پڑھی جانے والی دعا ہے ۔
ملا علی قاری ؒ چند صفحات کے بعد ایک دوسری حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’ ولا یدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازہ ، لأنہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازہ ‘‘۔
یعنی نماز جنازہ کے بعد میت کیلئے دعا نہ مانگے ، کیونکہ یہ نماز جنازہ میں زیادتی کے مشابہ ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح : ۴ / ۱۶۱ ، ۱۷۰ )
اسی طرح بذل المجہور و شرح ابی داؤد میں بھی اس حدیث کی تشریح میں یہی لکھا گیا ہے کہ نماز جنازہ پڑھتے ہوئے میت کیلئے نہایت اخلاص سے دعا کرو ۔ ( بزل المجہور : ۱۴ / ۱۷۰ )
خلاصہ یہ کہ رسول ﷺ ، صحابہ کرامؓ اور خیر القرون کے زمانے سے نماز جنازے کی جو کیفیت منقول ہے ، اس میں سلام کے بعد اجتماعی دعا کا کوئی ذکر نہیں ۔ پس ان قرون ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں نماز جنازہ کی جو شکل موجود تھی اسی پر عمل کی جائے اور اس پر ہونے والی زیادتی کو رسول ﷺ کے ارشاد :
’’من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ‘‘۔ اور ’’ فان کان محدثۃ بدعۃ ‘‘ اور’’ وکل بدعۃ ضلالۃ ‘‘
کی روشنی میں مردود اور گمراہی ٹھرا کر رد کیا جائے ۔
واللہ الھدی الیٰ سبیل الرشاد والھدیٰ

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔