ہفتہ، 27 جون، 2015

بریلویت استعمار کی طرف سے ایجاد کردہ ایک سیاسی تحریک


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

بریلویت استعمار کی طرف سے ایجاد کردہ ایک سیاسی تحریک

قارئین کرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!! پیش نظر ویب سائٹ اس تحریک کی داستاں خوچکاں ہے جس نے ملت اسلامیہ کے قلب میں ایسا ناسور پیدا کردیا جس کا اندمال بہ ظاہر اسباب تا قیامت مشکل ہی نہیں اشد محال ہے ۔میری مرا د اس سے ’’بریلوی تحریک‘‘ ہے جو کسی بھی حال میں ابن سبا اور ابن صباح کی تحریک سے مختلف نہیں ۔جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایک خود ساختہ مذہب میں قوم کو الجھا کر انگریز ایسے دشمن اسلام کی سیاسی اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اٹھی تھی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دینی نزاع ہے حاشا و کلا !ایسا نہیں باللہ العظیم یہ ایک جاسوسی اور مخبری کرنے والی سیاسی جماعت و تحریک ہے جو انگریزوں نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے پیدا کی اور دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح سے مدد کرکے پروان چڑھایا۔
چنانچہ خود انگریز مورخ سر فرانسس رابنس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ
  :


 ان (احمد رضاخان صاح) کا معمول کا طریقہ کار حکومت کی حمایت کرنا تھا اور جنگ عظیم اول اور تحریک خلافت میں انھوں نے مسلسل حکومت کی حمایت جاری رکھی اور ۱۹۲۱ ؁ ء میں بریلی میں ترک موالات کے مخالف علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی ان کا عوام پر خاطر خواہ اثر تھالیکن مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی حمایت حاصل نہ تھی۔(سپیرٹزم امنگ انڈین مسلم، ص۴۴۳ ،کیمبرج یونیورسٹی ۱۹۷۴)
اسی طرح کانپور کے ایک بریلوی رسالے ’’استقامت ‘‘ نے مفتی اعظم نمبر شائع کیا اس کے ص ۲۳ پر ہے کہ :
جن دنوں ہندوستان میں تحریک خلافت اور ہندو مسلم اتحاد اور انگریزوں کی حکومت کے خاتمہ کی تحریک زوروں پر تھی رجب ۱۳۳۹ ؁ھ کا واقعہ ہے کہ خادم آستان بریلی شریف حاضر ہوا اس وقت یہ عام تحریک چل رہی تھی کہ ہندوستان میں ایک قومی حکومت قائم ہوگی اور اس سلسلے میں ایک بہت بڑا جلاس بریلی میں زیر صدارت ابو الکلام آزاد منعقد ہوا اس اجلاس میں اعلحضرت کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر انھوں نے اس جلسے میں شرکت نہیں فرمائی بلکہ اجلاس کے غیر شرعی ہونے پر ستر سوالات بھیج دئے۔(استقامت کانپور کامفتی اعظم نمبر ،ص۲۳ ،رجب ۱۴۰۳ ؁ھ ،شمارہ ۴)
غور فرمائیں کہ انگریز کو نکالنے کی تحریک زوروں پر تھی اس تحریک میں حصہ نہ لینا بلکہ اس کے غیر شرعی ہونے پر فتوے دینا آخر کس کی نمک حلالی کے ثبوت دے رہے ہیں۔۔؟؟۔
انگریز مورخ سر فرانسس رابنس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ :
The Mashriq of Gorakhpur and all-bashir usually took not of the Pro- Government "Fatwas" of Ahmed Raza Khan. [The Separation Among India Muslim . Page No. 268]
مشرق اور البشیر اخبارات میں اکثر احمدرضاخان صاحب کے انگریز کے حق میں دئے گئے فتوے شائع ہوتے رہتے۔
یہی انگریز مورخ لکھتا ہے کہ
ایک پڑھے لکھے اور لچیلے شخص احمد رضا خان بریلوی کے ایکشن اور کام ہمارے نتائج کو بہت اچھی طرح پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ہی وقت میں پوری قوت اور زور و شورر کے ساتھ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کو سپورٹ کیا، جنگ عظیم کے دوران خلافت تحریک ، مہاتما گاندھی الائنس کی قوم پرست تحریک کے ساتھ دینے، اوربرطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک کی مخالفت کی۔
( علماء فرنگی محل اینڈاسلامک کلچر صفحہ ۲۶۳ )
The actions of One learned man ,the very influcntional Ahmed Rada Khan (1855,1921) of barielly,present our conlusion yet more Clearly....at the same time he Support the colonial Government loudly and vigorousily through world warI,and through the khilafat Movement when he opposed mahatma Gnadhi allaince with tha nationalist movement and and non-Cooperation with the british(ulam farange Mehal and Islamic culture page 263)
اب ذار اسی کتاب کے اینڈکس کی ایک سرخی بھی ملاحظہ فرمالیں
Khan ahmed rada of bareilly and Support for the British (Index37,37 & 47,58,67,196 ulma farangi،, mehal and Islamic Culture page 263)
صرف یہی نہیں احمد رضاخان صاحب کاپورا خاندان انگریز کا نمک حلال تھا چنانچہ ان کے دادا کاظم علی نے حکومت کی پولیٹیکل خدمات انجام دیں اور بدلے میں کئی جاگیریں وصول کیں۔(بحوالہ اقبال کے ممدوح علماء ص ۱۸ و،اعلحضرت اعلی سیرت)
مولوی احمد رضاخان کے خسر شیخ فضل حسین،نواب کلب علی خان والی رام پور کے مشیروں میں سے تھے اور نواب صاحب انگریزوں کے نہایت معتمد اور خاص آدمی تھے۔احمد رضاخان نے دھوکہ دہی کرکے جب مکہ و مدینہ کے علماء سے اہلسنت کے خلاف کفر کے فتوے حاصل کئے تو نواب صاحب کے دربار سے ان کو ۵۰۰ روپے انعام دیا گیا۔(ہفت روزہ چٹان لاہور،ص ۱۰، ۲۲اکتوبر ۱۹۶۶)
ماہنامہ اعلحضرت منظراسلام بریلوی کے ص ۴۲۳ پر ہے کہ سرکار عالی جا کی طرف سے مدرسہ کیلئے ۲۰۰ روپے ماہوار مقرر کیا گیا جس سے مدرسے کے جملہ اخراجات کی ایک مستقل صورت پیدا ہوگئی۔
غور فرمائیں یہ امدادیں اس وقت مل رہی تھیں جب گندم ڈیڑھ روپے من اور بکرے کا گوشت تین آنے سیر ملتا تھا۔
مولوی احمد رضاخان کا بیٹا اور بریلویوں کا مفتی اعظم ہند مولوی مصطفی رضاخان نے انگریز کے خلاف جہاد کے حرام ہونے کے متعلق ایک رسالہ لکھا اس میں انگریزکے خلاف جہاد کے ناجائز ہونے کے جواز میں پانچ مقدمات پیش کئے جس کے بعد لکھتے ہیں کہ:
ان مقدمات سے ظاہر ہوا کہ جو حکم انسانی قوت و طاقت بشری وسعت و استطاعت سے باہر ہو وہ ہر گز حکم شریعت مطہرہ کا نہیں جس حکم میں کوئی فائدہ نہ ہو عبث ولغو ہو وہ ہر گز ہماری پاک شرع کا حکم نہیں جس حکم میں بے فائدہ اتلاف جان و اہلاک نفس ہو وہ اس شرع مبین کا حکم نہیں یونہی جس حکم سے فتنے جاگیں فساد برپا ہوں وہ کبھی مقدس اسلام کا حکم نہیں ہوسکتا اب یہ خود دیکھ لو کہ یہاں اس وقت حکم جہاد میں تکلیف مالا یطاق ہے یا نہیں؟اس میں کوئی فائدہ ہے یاسرار مضرت ؟جانوں کی بے وجہ ہلاکت ہے یا حفاظت فتنہ و فسادکی اثارت ہے یااماتت ؟اس میں مسلمانوں کی عزت ہے یاذلت ؟یہ حکم قبل از وقت ہے یا خاص وقت پر؟ان امور پر غور کرلینے کے بعد مسئلہ بالکل صاف ہوجائے گااصلا خفاء نہ رہے گا۔(طرق الہدی والارشاد ص۲۹)
غور فرمائیں کس دیدہ دلیری سے انگریز کے خلاف جہاد کو فتنہ و فساد کہاجارہا ہے العیاذباللہ ۔
جب انگریزنے ترک خلافت اسلامیہ کوختم کیا اور اس کے خلاف مسلمانوں نے تحریک خلافت کاآغاز کیا تو عین اس تحریک کے زمانے میں مولوی احمد رضاخان نے ’’دوام العیش‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں فتوی دیاکہ ترکی خلافت ،خلافت اسلامیہ نہیں ترکوں کومسلمانوں پر حکومت و خلافت کرنے کاکوئی حق نہیں اور اس کے دفاع کیلئے مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ۔حالانکہ یہ وہی ترکی خلافت تھی جوجو چار(۴) سو سال سے چلی آرہی تھی اس عرصہ میں سینکڑوں فقہاء علماء اور بزرگان دین گزرنے کسی نے بھی اس قسم کافتوی نہ دیا۔اور سب نے اس خلافت کو خلافت اسلامیہ تسلیم کیا۔اس خلافت کے خاتمہ کے تباہ کن نتائج آج پوری امت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی کہ ہر جگہ امت مسلمہ کفار کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہے۔ اس رسالے کے نام پر بھی غور فرمائیں ’’دوام العیش‘‘ یعنی ہمیں ہمیشہ کا چین و سکون اسوقت ملے گاجب ترکی خلافت ختم ہوگی اور انگریزی حکومت آئے گی۔
غرض ان حوالہ جات کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ بریلوی کوئی ’’مذہبی جماعت یاگروہ یافرقہ ‘‘ نہیں بلکہ خالص ’’انگریزی تحریک‘‘ ہے جسے انگریز نے اپنے مقاصد کیلئے چلایا اپنے خلاف لڑنے والے غیور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے پیدا کیا۔انگریز کو بھی علم تھا کہ ہماری یہ سازش اس وقت تک عوام میں مقبول نہیں ہوسکتی جب تک اس کو مذہب اور عقیدت کا رنگ نہ دے دیاجائے چنانچہ اس خالص استعماری تحریک کو ’’اہلسنت والجماعت ‘‘ کانام دے کر عوام میں متعارف کروایا گیا کہ ایک طرف تو یہ ہماری کاسہ لیس ہوگی تو دوسری طرف مسلمانوں میں ایک مذہبی بھونچال پیدا کردیا جائے گا اور اس مذہبی بھونچال کے سبب ہمارے مخالفین کا سارا دھیان سارا زور اور توانائیاں ان مذہبی جھگڑوں پر خرچ ہوجائیں گی خود مولوی احمد رضاخان کو بھی اس بات کا علم تھا کہ میری قائم کردہ یہ جماعت شائد میرے بعد زیادہ عرصہ نہ چل سکے اس لئے مرتے وقت اپنے متعلقین کو یہ وصیت کر گئے کہ
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔(وصایا شریف،ص ۹)۔

والسلام
خاکپائے اہلسنت والجماعت دیوبند
مولانا ساجد خان نقشبندی

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔