بدھ، 17 جون، 2015

نبی کریم ﷺ کے بارے میں رضاخانیوں کے ایک غلیظ عقیدے کی نقاب کشائی


%%% نبی کریم ﷺ کے بارے میں رضاخانیوں کے ایک غلیظ عقیدے کی نقاب کشائی %%%

:: ساجد خان نقشبندی ::

بریلوی غزالی و رازی دوراں و فلاں فلاں مولوی عمر اچھروی اپنی بدنام زمانہ کتاب ’’ مقیاس حنفیت ‘‘ میں لکھتاہے:
’’حضور ﷺ زوجین کے جفت ہونے کے وقت بھی حاضر ناظر ہوتے ہیں‘‘۔
(مقیاس حنفیت ،ص282)
استغفر اللہ ! العیاذباللہ! و ہ حیاء دار نبی !شرم و عفت کا وہ پیکر! جس کی امت کو یہ تعلیم ہو کہ جب چلو تو نگاہیں نیچی کرکے چلو ،جس حیاء دار نبی کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ کنواری دلہن سے زیادہ شرم و حیاء والے ،او جن کی بیبیوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ جب تم نبی کی بیبیوں سے کچھ پوچھو تو پردے کے پیچھے سے پوچھو،جس نبی کی عفت مآب بی بی ہماری ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عفت شرم و حیاء کا یہ عالم ہو کہ فرماتی ہیں’’ جب میرے گھر میں عمر فاروق کی تدفین ہوئی تو اس کے بعد میں پردہ کرکے قبور مطہرہ کی زیارت کو آتی‘‘۔ جو صدیقہ نبی کی حیاء کو ان الفاظ میں بیان کرے کہ ساری زندگی نہ سرکار نے میرا ستر دیکھا نہ میں نے ان کا ستر دیکھا ،ارے وہ مقام جہاں شرم و حیاء کے مارے فرشتے بھی الگ ہوجائیں یہ بدبخت بے حیاء کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ وہاں بھی حاضر ہوتے ہیں موجود ہوتے ہیں سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں ملاحظہ فرمارہے ہوتے ہیں ۔
یا اللہ !آسمان پھٹ کیوں نہیں پڑتا۔۔۔؟زمین شق کیوں نہیں ہوجاتی۔۔۔؟قلم ٹوٹ کیوں نہیں جاتے۔۔۔ ؟ان بد بختوں کے ہاتھوں پر یہ سب بکواس لکھتے ہوئے ریشہ طاری کیوں نہیں ہوتا۔۔۔؟



کیا کوئی بے غیرت بیٹا یہ پسند کرے گا کہ جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ مخصوص حالت میں ہو تو اس کاباپ وہاں ’’حاضر و ناظر ‘‘ ہو؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں ،تو نبی کے بارے میں اس قسم کی بکواس کرتے ہوئے تمہیں موت نہیں آتی؟
ہائے ! جس نبی کے دین میں میاں بیوی کو یہ حکم ہو کہ اگر آس پاس کوئی جانور ہو تو اس مخصوص حالت میں نہ آؤ آج اسی دین کے نام لینے والے بد بخت ’’مقیاس حنفیت ‘‘ کا نام لیکر نبی کو وہاں حاضر ناظر مان رہے ہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔خدا کی قسم ہم پیشاب کی بوتل پر لگے ہوئے اس زمزم کے لیبل کو ہر گز فروخت ہونے نہیں دیں گے ۔ یہ بکواس ’’مقیاس الکفر‘‘ تو ہوسکتی ہے ،مقیاس حنفیت نہیں ۔
پھر اس بدبخت مولوی نے جس حدیث کو آڑ بناکر یہ بکواس کی ہے حضرت ابو طلحہؓ کی اس حدیث میں تو اتنا ہے کہ حضرت ابو طلحہؓ کے بیٹے بیمار تھے اس رات وہ فوت ہوگئے حضرت ابوطلحہؓ جب سفر سے رات کو گھر آئے تو بیوی نے اس خبر کو ان سے چھپائے رکھا کانوں کان خبرنہ ہونے دی کہ رات کا وقت ہے پوری رات غمگین و حزین رہیں گے ان کی بیوی نے بالکل عام حالات کی طرح ان سے برتاؤ کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔حضرت ابو طلحہؓ نے ان سے رات کو جماع فرمایا جب صبح ہوئی تو ام سلیم نے یہ خبر جاگزیں سنائی: ’’ رات آ پ کے بیٹے فوت ہوگئے تھے میں نے آپ کو خبر نہ کی کہ آپ پریشان ہوں گے اب ان کی تجہیز و تکفین کا بندو بست کردیں‘‘۔صبح حضرت ابو طلحہؓ نے خود سارے واقعہ کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی جس پر حضرت ابوطلحہ کی زوجہ کے صبر و استقلال پر بطور تعجب سوالیہ انداز میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
اعرستم اللیلۃ
کیا اس اندو دہناک واقعہ کے بعد تم نے گھر والی سے جماع بھی کیا اور وہ پھر بھی کچھ نہ بولی؟ حضرت ابوطلحہ نے فرمایا’’ جی ہاں‘‘۔
اس میں یہ کہا ں ہے کہ نبی کریم ﷺ خود وہاں موجود تھے ؟ زید اگر الیاس عطار سے پوچھے کے حضور رات گھر والی سے جماع کیا؟ اور عطار صاحب بولے جی ، تو اس کا مطلب ہے کہ زید وہاں بیٹھا تھا؟ کچھ تو عقل کو ہاتھ لگاؤ ۔
چنانچہ علام نووی نے ’’اعرستم اللیلۃ ‘‘ کا یہی معنی بیان کیا جو میں نے ذکر کیا:
السوال للتعجب من صنیعھا و صبرھا و سروراً بحسن رضاھابقضاء اللہ ثم دعا صلی اللہ علیہ وسلم لھما بالبرکۃ فی لیلتھما فاستجاب اللہ۔( شرح مسلم ج2ص209)
نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان اعرستم اللیلۃ یہ ام سلیم کے اس فعل اور ان کے اس عظیم صبر پر بطور تعجب کے تھا اور اللہ تعالی کی قضا پر اس طرح خوش اسلوبی سے راضی رہنے پر بطور خوشی کے تھا پھر نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کیلئے اس رات میں برکت کی دعا کی جو اللہ نے قبول کی یعنی اللہ نے انہیں ایک بیٹے سے نوازا۔
بریلوی شیخ الحدیث غلام رسول سعیدی ’’اعرستم اللیلۃ‘‘ کا مطلب بیان کرتے ہیں:
’’رسول اللہ ﷺ نے جو حضرت ابو طلحہ سے عمل زوجیت کے متعلق سوال کیا اس کی ان کے اس صبر اور راضی برضا ئے الٰہی رہنے کے حیرت انگیز جذبے پر تعجب کا اظہار تھا
(شرح مسلم ،ج6ص505،فرید بک سٹال لاہور ،دسمبر 2002)
عمر اچھروی نے یہ روایت مسلم ہی کے حوالے سے نقل کی مگر مسلم کے شارع امام نووی شافعی ؒ کو یہ شیطانی استدلال نہ سوجھا جو عمر اچھروی کو سوجھا۔خود مسلم میں اس پر یہ عنوان باندھا گیا:
استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ و حملہ الی صالح یحنکہ و جواز تسمیتہ یوم ولادتہ و استحباب التسمیۃ بعبد اللہ و ابراہیم و سائر اسماء الانبیاء علیہم
(الصحیح للمسلم ج2ص208)
بچہ کی پیدائش کے وقت اس کو گھٹی دینے اور اس کی پیدائش کے دن اس کا نام رکھنے کا استحاب اور عبد اللہ، ابراہیم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے اسماء پر نام رکھنے کا استحسان۔
ابن اثیربھی اس روایت پریہی باب باندھتے ہیں :
(جامع الاصول فی احادیث الرسول،ج1ص366)
ریاض الصالحین میں حضرت نووی نے اس روایت پر’’ باب الصبر ‘‘ قائم کیا۔
( ریاض الصالحین ،ص54)
ابن قیم جوزی رح نے اس روایت پر باب قائم کیا:
’’فی استحباب تحنیکہ‘‘۔(تحفۃ المولود،ص32)
غرض جس جس محدث نے اس روایت کو ذکر کیا انہوں نے اس روایت پر کم و بیش اسی عنوان کے باب قائم کئے جو ہم نے ذکر کئے۔
چیلنج
پوری دنیا کے زندہ مردہ بریلویوں کو چیلنج ہے کہ چودہ سو سال کے مسلم بین الفریقین کسی بھی شارح حدیث سے اس جملے کا وہ شیطانی مطلب بیان کرنا ثابت کردیں جو عمر اچھروی کے فتنہ پرور و حیاء سوز دماغ میں آیا ۔اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو جان لو کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث پر جھوٹ بول کر تم نے اپنا ٹھکانہ جہنم بنالیاہے۔
ایک باطل تاویل کا جواب
پنڈی مناظرے میں حنیف قریشی رضاخانی ،طالب الرحمن زیدی غیر مقلد کو کہتا ہے کہ تم نے آگے کی عبارت نہیں پڑھی اس میں لکھا ہے :’’ یہ الگ بات ہے مثل کراماکاتبین
الجواب: یہ تاویل بالکل باطل اور خود مصنف کے موقف کے خلاف ہے اس لئے کہ وہ تو نبی کریم ﷺ کو ’’حاضر ناظر ‘‘ ثابت کرنا چاہ رہا ہے اگر نبی کریم ﷺ آنکھیں بند کرلیں تو پھر ’’ناظر‘‘ تو نہ رہے۔ تو عمر اچھروی کی عبارت میں ’’حاضر ناظر‘‘ بیک وقت دونوں لفظوں کا مقصد کیا ہوا؟نیز یہ تاویل کرنا کہ آنکھیں بند کرلیتے ہیں اس بات کی دلیل ہے کہ تم بھی وہاں نبی کریم ﷺ کو ’’ناظر‘‘ ماننا گستاخی سمجھتے ہو تو اگر ’’ناظر‘‘ ہونا گستاخ اور نبی کریم ﷺ کی شان کے خلاف ہے تو ’’حاضر ‘‘ ہونا کیوں نہیں ؟
ثانیاً:اگر تمہاری اس تاویلِ باطل کو تسلیم کرلیا جائے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمہارے نزدیک اگر نبی کریم ﷺ آنکھ بند کرلیں تو ان کو آنکھ کے پیچھے نظر نہیں آتا تو ایک طرف تو تم مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہو کہ ان کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں یہ گستاخ ہیں ۔دیوار تو اتنی موٹی یہاں تم آنکھوں کے پتلے پتلے پپوٹوں کے پیچھے کے علم کی نفی کررہے ہو کہ کیا ہورہا ہے حضور ﷺکو کچھ علم نہیں، کیا یہ گستاخی نہیں؟
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
ثالثاً:آپ کے مذہب کا اصول ہے کہ ایسا ذو معنی لفظ جس میں نبی کریم ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے وہ بھی کفر و گستاخی ہے تو اس میں پہلو نہیں صراحتاً نبی کریم ﷺ کی گستاخی ثابت ہورہی ہے اس لئے اگر کوئی پہلو اچھا نکال بھی لو تب بھی یہ گستاخی ہی تسلیم کیا جائے گا۔ اگر جواب یہ دو کہ ہم آپ کے پہلو کے ذمہ دار نہیں تو اس پر ہمارا جواب ہے کہ پھر ہماری عبارتوں میں آپ کے خود ساختہ احتمالات کے ہم ذمہ دار نہیں ۔
رابعا: نصیر الدین سیالوی بن اشرف سیالوی سرگودھوی لکھتاہے:
’’اس سے پتہ چلا کہ عبارت گستاخی کی موہم ہے کیونکہ سمجھنے سمجھانے کی ضرورت وہیں پیش آتی ہے جہاں الفاظ کسی غلط معنی کے موہوم ہوں ‘‘۔
( عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،ج1ص128)
اس کتاب پر بریلوی استاذ المناظرین اشرف سیالوی کی تقریظ ثبت ہے۔
منشاء تابش قصوری رضاخانی لکھتا ہے:
’’صا ف اور سیدھی بات ہے کہ توہین آمیز الفاظ یا عبارات کے قائل کو شرعا اخلاقااپنی صفائی کا قطعا حق نہیں پہنچتا‘‘۔
(دعوت فکر،ص16،مکتبہ شرفیہ ۔مرید کے1983)
’’کچھ دیوبندی حضرات ان کفریہ عبارات کی تاویلات کرتے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ اگر یہ عبارات کفریہ نہیں تو تاویلات کیوں ؟تاویلات دینے سے تو یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ عبارا ت کفریہ ہیں تو تاویلات کی جارہی ہے ‘‘۔(معرفت ،ص102)
اس کتاب پر 36’’رضاخانی مفتیان ‘‘ کی تقریظات موجود ہیں۔
تو جناب آپ کا اس عبارت کو سمجھانا اس کی تاویل کرنا ہی اس کی دلیل ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے۔
الحمد للہ ! رضاخانیوں کے بنائے ہوئے اپنے ہی اس اصول سے اب تک بدنام زمانہ گستاخان رسول ﷺ احمد رضاخان ،احمد یار گجراتی ،حشمت علی ،نعیم الدین ،عمر اچھروی وغیرہم کی جن عبارات کی تاویل رضاخانی کرتے ہیں یا ان کی عبارات کے دفاع میں اب تک جو کچھ لکھا گیا وہ سب کالعدم ہوگیا بلکہ ان کے دفاع میں لکھی جانے والی یہ کتب ان رضاخانیوں کے گستاخان رسول ﷺ ہونے پر رجسٹری ہے۔
خامساً:خود مولوی عمر اچھروی لکھتا ہے:
’’جیسا کہ اللہ تعالی پاک کی نسبت ان برے مقامات پر باوجود موجودیت کے نسبت کرنا گستاخی و کفر ہے کیونکہ اس کو ان مقامات سے نفرت ہے اسی طرح نبی ﷺ بھی حاضر ناظر تو ہیں اور اس کو جاننے والے بھی ہیں ۔اور آپ کی شہادت بھی ان مقامات کی ضرور ہوگی ۔ لیکن بوجہ آپ کی ذات پاک ہونے کے ان مقامات متنفرہ کی طرف منسوب کرنا عین گستاخی ہے اور ایمان سے بعید ہے‘‘۔
(مقیاس حنفیت ،ص279،دارالمقیاس ۔اچھرہ ۔دسمبر 1966)
تو عمر اچھروی کا نبی کریم ﷺ کی طرف ان مقامات کی نسبت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ عمر اچھروی گستاخ رسول ﷺ اور یہ عبارت ایمان سے بعید ہے۔
الحمد للہ ! انتہائی مختصر انداز میں اس عبارت کے متعلق رضاخانی تاویل کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں اگر بریلوی پٹاری میں مزید کوئی جواب ہو تو اسے بھی سامنے لے آئے کیونکہ ،
یار زندہ صحبت باقی
بریلوی حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی لکھتا ہے :
تاریک راتوں میں تنہائی کے اندر جو کام کئے جاویں وہ بھی نگاہ مصطفی علیہ السلام سے پوشید ہ نہیں ( جاء الحق ،ص79)
تاریک راتوں میں تنہائی میں سوائے حرام کاریوں کے یا بیوی کے ساتھ ہم بستری او ر کونسے کام کئے جاتے ہیں ؟ رضاخانیوں کا گندہ عقیدہ ملاحظہ ہو ۔عمر اچھروی کا شاگرد اور رضاخانی امام المناظرین اپنے استاد کا سکھایا ہوا گند اس طرح ظاہر کرتا ہے :
کیا سینماؤں شراب خانوں ناچ گھروں اور چکلوں پر اللہ تعالی اور رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام اور فرشتوں کا حاضر اور ناظر ہونا اور ہم جیسے بدکار انسانوں کا حاضر و ناظر ہونا دونوں برابر ہیں ؟ اور کیا اللہ تعالی اور اس کے رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کا فلمی کاروائیوں اور اس جیسی دیگر بے حیائی کا علم رکھنا اور عام انسانوں کا ان گندے علوم کو حاصل کرنا برابر ہے ؟(تنویر الخواطر،ص71)
یہ بدبخت کہنا چاہ رہا ہے کہ نبی شراب خانوں سینماوں فلمی گھروں چکلہ خانوں میں حاضر ناظر ہیں فلمی گانوں کا علم رکھتے ہیں اور بدکار انسانوں پر انہیں قیاس مت کرورضاخانیوں کی طرح بدکار انسانوں کا ان مقامات پر حاضر و ناظر ہونا تو یقیناًان کی گستاخی ہے مگر نبی کریم ﷺ کیلئے یہ سب جائز ہے اس لئے گستاخی بھی نہیں اس لئے برابر نہیں نبی کا اور بدکار انسانوں کا ان مقامات پر حاضر و ناظر ہونا استغفر اللہ میں کہتا ہوں کہ کیا تو احمد رضاخان بریلوی ،احمد یار گجراتی ،عمر اچھروی ،الیاس عطاری اختر رضاخان کو بھی بدکار انسان مانتا ہے ؟اگر نہیں تو انہیں کبھی چکلنے خانے شراب خانے اور انڈین فلمیں دیکھنے اور بنانے کیلئے حاضر ناظر کیا ہے ؟
ایک طرف تو رضاخانی کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے برابر نہیں سمجھتے اور پھر جب نبی کریم کے متعلق ان کے کسی خدائی عقیدے پر اعتراض کیا جاتا ہے تو فورا معاذاللہ اللہ پر قیاس کرنے لگ جاتے ہیں مثلا اگر اللہ کے نبی ہر جگہ حاضرناظر تھے تو تو اپنے صحابہ کے بیر معونہ میں کیوں بھیج دیا زہر آلود گوشت کیوں کھالیا تو جھٹ سے جواب دیں گے کہ اللہ بھی تو یہ سب جانتا تھا خدا کے بندے اللہ تو فعال لما یرید
لا یسئل عما یفعل و ھم یسئلون
اس کی شان ہے کل تو کو کوئی تمہاری طرح عقل سے پیدل کسی کو قتل کردے کسی کی ٹانگ یاتھ توڑ دے کسی کو آگ میں ڈال دے اور یہی قیاسی شگوفہ چھوڑے کہ جب اللہ یہ سب کچھ کررہا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں تو مجھ پر کیوں
ان سے کہا جاتا ہے کہ جب ہر جگہ حاضر ناظر تو کیا گندے مقامات پر بھی تو جھٹ سے جواب کیا اللہ کو وہاں کا علم نہیں
ظالمو! اللہ اللہ ہے اور مخلوق مخلوق میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتی میں ان کیلئے یہ جائز تھا کہ وہ ان مقامات پر جائے غیر محرم عورتوں کو دیکھے?
ایک ساتھی نے کہا کہ میں نے ان رضاخانیوں سے سوال کیا کہ جب حضور حاضر ناظر ہیں ہر جگہ تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتے
تو کہا اللہ کیوں نظر نہیں آتا
پھر اللہ کو مثال میں پیش کردیا کیا تم نبی کو اللہ مانتے ہو ?
جاہلو اللہ جسم سے پاک ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جسم رکھتے تھے وہ بھی جسم کثیف حیاتی میں ہر ایک کو جب موجود تھے تو نظر بھی آتے تھے خدا تو اس وقت بھی نظر نہیں آتا اب جب حضور موجود نہیں تو نظر بھی نہیں آتے
ایسے جاہلوں کو یوں جواب دو کہ قرآن میں اللہ کے ہاتھ و چہرے کا ذکر ہے اب لازم ہوا کہ اللہ کا معاذاللہ نبی کریم کی طرح ہاتھ بھی ہے اور چہرہ بھی ہے
اس لیے کہ جب تم نبی کو اللہ پر قیاس کرسکتے ہو تو کوئی اور اللہ کو نبی پر قیاس کیوں نہیں کرسکتا
اب پوچھو منظور ہے یہ سیاسی شگوفہ?
ان حضرات کی بنیادی غلطی ہی یہی ہے کہ مخلوق کو اللہ پر قیاس کرتے ہیں اس لئے خدا ئی صفات بھی ان کیلئے تسلیم کرتے ہیں اگر یہ مخلوق کو مخلوق کی حد تک محدود رکھتے تو ان شرکیہ عقائد میں کیوں گرفتار ہوتے۔۔۔!!!
ایک اور بدبخت رضاخانی سید فیض علی شاہ نبی کریم ﷺ سے اپنی دلی بغض کا اظہار یوں کرتا ہے :
جس جگہ کوئی زنا کررہا ہے جس جگہ کوئی رشوت حاصل کررہا ہے جس جگہ کوئی شراب نوشی کررہا ہے یا جس جگہ کوئی بدکاری کررہا ہے یا خلوت میں بدفعلی کررہا ہے یا چوری کررہا ہے حضور اس کے شاہد ہیں حضور مشاہدہ فرمارہے ہیں (تفسیر اسرار البیان ،ص23)
استغفر اللہ۔شرم۔۔۔۔۔۔۔شرم۔۔۔۔شرم
حیرت ہے کہ اگر یہودی عیسائی نبی کریم ﷺ پر زیادہ شادیاں کرنے اور اس پر ایک گندہ اعتراض کریں تو سب کی زبانیں باہر نکل آتی ہیں اور یہ پاکستانی سلمان رشدی تمہاری بغلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ ان ننگی باتوں کو نبی کریم ﷺ کا کمال بتارہا ہے آخر کوئی حد ہے اس بے ایمانی کی یعنی سور کو بکرے کا گوشت بتاکر بیچا جارہا ہے اور اعتراض کرنے والوں کو الٹا الزام کے یہ بکرے کی حلت کے منکر وہابی گستاخ ہیں ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔