بدھ، 17 جون، 2015

بیس رکعات تراویح ہی سنت موکدہ اسی پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے

 

بیس رکعات تراویح ہی سنت موکدہ اسی پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے


مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ

(متعلم درجہ خامسہ )


محترم جنید بھائی نے غیر مقلدین کی طرف سے شائع کردہ ایک پمفلٹ دکھایا اور جواب کی استدعا کی۔ہم اس مضمون میں اسی پمفلٹ کا جواب دیں گے۔طریقہ کار یہ ہوگا کہ اول اپنے موقف کو ثابت کریں گے اور پھر انشاء اللہ اس پمفلٹ کا جواب آپ حضرات کے سامنے پیش کریں گے۔
بیس رکعات تراویح کے دلائل:
(۱( عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ ﷺ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج۲،ص۱۶۶)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں بیس رکعات تراویح اور(اس کے بعد( وتر پڑھتے تھے۔
(۲( حدثنا وکیع عن مالک عن یحی بن سعید ان عمر الخطاب امر رجلا ان یصلی بھم عشرین رکعۃ ۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج۳،ص۲۸۵(
حضرت عمرؓ نے ایک آدمی (حضرت ابی بن کعبؓ ( کو کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائیں۔
(۳( حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بیس رکعات تراویح کے ساتھ قیام فرماتے تھے (قراء حضرات( سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں شدت کی وجہ سے لاٹھیوں سے ٹیک لگاتے تھے۔(السنن الکبری ،ص۴۹۶،ج۲(
(۴( حضرت ابو عبد الرحمن سلمیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے رمضان المبارک میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھائیں اور ان کو وتر حضرت علیؓ خود پڑھاتے تھے۔(ایضا ،ج۲،ص۴۹۶(۔
حضرات خلفائے راشدین کا عمل بھی سنت اور حجت ہے:



قارئین کرام یہ بات یاد رکھیں کہ حضور ﷺ سے پورے رمضان میں تراویح پڑھنا یا رکعات کی کوئی تعداد کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں حضور ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے بیس رکعات تراویح پڑھائیں اسی پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہوا اور یہی اب تمام امت مسلمہ کا چودہ سو سال سے معمول بہ عمل ہے۔افسوس کہ غیر مقلدین حضرات شیعہ کی پیروی کرتے ہوئے حضرات صحابہ کرام کو معیار تسلیم نہیں کرتے لیکن خود نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے کہ صحابہ کرام کا عمل بھی سنت میں داخل ہے۔
(۱( حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
فانہ من یعیش منکم بعدی فیری اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنواجذ وایاکم و محدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ۔
(ترمذی ،ج۲،ص۹۲،ابن ماجہ ص ۵،ابو داود ،ج۲،ص۲۷۹(
جو شخص میرے بعد زندہ رہا وہ بہت ہی زیادہ اختلاف دیکھے گا سو تم پر لازم ہے کہ تم میری اور میرے خلفائے راشدینؓ کی سنت کو جو ہدایت یافتہ ہیں مضبوط پکڑو اور اپنی داڑھوں سے محکم طور پر اس کو قابو میں رکھو اور تم نئی نئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔
اس حدیث سے صراحتا معلوم ہوا کہ خلفائے راشدین کا عمل بھی سنت رسول ﷺ ہے اور اس پر چلنے کاحکم دیا گیا ہے خلفائے راشدین سے بیس رکعات تراویح ثابت ہے لہٰذا آج بیس رکعات تراویح پڑھنے والے سنت پر چلنے والے اور آٹھ رکعات کے قائلین بدعتی گمراہ ہیں۔
(۲( حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ:
جلد النبی ﷺ اربعین و ابو بکر اربعین و عمرؓ ثمانین و کل سنۃ(مسلم ج۲،ص۷۲(
آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے شرابی کو چالیس کوڑے سزا دی اور حضرت عمرؓ نے اسی کوڑے دونوں سنت ہیں۔
اب بتاؤ کی آج کوئی شرابی کو چالیس کوڑے مارتا ہے ۔۔؟؟؟اور کیا اسی (۸۰( کوڑے مارنے والوں کو بدعتی کہا جاتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو بیس رکعات تراویح والے بدعتی کیوں؟ حضرت عمرؓ چالیس کوڑوں کی جگہ اسی کوڑے ماریں تو سنت ۸ کی جگہ ۲۰ رکعات تراویح پڑھائیں تو بدعت کیوں۔۔؟؟جواب دیں۔
بیس رکعات ترویح اجماعی مسئلہ ہے:
روی مالک عن یزید بن رومان قال کان الناس یقومون فی زمن عمر فی رمضان بثلاث و عشرین رکعۃ و عن علی انہ امر رجلا یصلی بھم فی رمضان عشرین رکعۃ و ھذا کالاجماع۔(المغنی لابن قدامہ،ص۸۳۴،ج۱(
امام مالک نے یزید بن رومان سے حدیث نقل کی ہے کہ لوگ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بیس رکعات پڑھتے تھے اور حضرت علی سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بیس رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا یہ اجماع کی طرح ہے۔
اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃ (مرقاۃ المفاتیح ،ج۳،ص۳۷۲(
صحابہ کا اس بات پر اجماع ہوا کہ تروایح بیس رکعات ہے۔
ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہوا کہ بیس رکعات تروایح پر تمام صحابہ کرام اور بعد کی امت ،آئمہ کرام کا اجماع ہے اب ہم فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس اجماع کا ساتھ دیتے ہیں یا انگریز کے دور میں پیداہونے والے اس مٹھی بھر گروہ کا ۔پسند اپنی اپنی امام اپنا اپنا۔
ہمارا مطالبہ
غیر مقلدین کوئی ایک مستند حوالہ پیش کردیں کہ چودہ سو سال میں کسی وقت تمام امت کا اجماع ۸ رکعات یا صحابہ کا اجماع آٹھ رکعات پر ہوگیا تھا ۔ہم اپنا موقف چھوڑے کیلئے تیار ہیں۔۔فھل من مبارز۔
حرمین شریفین میں بھی بیس رکعات تراویح ہی پڑھائی جاتی ہیں
قارئین کوئی بھی شخص آج مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ جاکر دیکھ سکتا ہے کہ وہاں بھی آج بیس رکعات ہی پڑھائی جاتی ہیں ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا آئمہ حرمین بدعتی گمراہ ہیں۔۔؟؟اگر ہاں تو تم میں اور بریلویوں میں کیا فرق وہ بھی تو ان کو وہابی مشرک کافر مانتے ہیں ۔۔اگر نہیں تو کیوں کیا اس لئے کہ اگر ان کو بدعتی کہہ دیا تو ’’ریال ‘‘بند ہوجائیں گے؟؟؟۔۔کیا تم کو سارا فساد پاکستان میں نظر آتا ہے ۔۔جو رمضان سے پہلے ہی اس قسم کے پمفلٹ تقسیم کرنا شروع کردئے۔۔جواب دو اب تک کتنے فتوے تم نے سعودی عرب میں وہاں کے آئمہ پر لگائے ۔۔؟؟یہ دوغلاپن کیوں۔۔جواب دو۔۔مالکم لاتنطقون۔
غیر مقلدوں کے پیشوا ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی
بیس رکعات تراویح پر انصار ومہاجرین کا اجماع ہے اور یہی سنت ہے
قد ثبت ان ابی ابن کعب کان یقوم بالناس عشرین رکعۃ فی قیام رمضان و یوتر بثلاث فرای کثیر من العلماء ان ذالک ھو السنۃ لانہ اقامہ بین المھاجرین والانصار و لم ینکر ہ منکر۔
(مجموع فتاوی ابن تیمیہ،ج۲۳،ص۱۲۲(
تحقیق کہ بلاشبہ حضرت ابی بن کعبؓ نے رمضان کے مہینے میں صحابہ کرام کو بیس رکعات تراویح اور (اس کے بعد (تین رکعات وتر پڑھائیں اسی وجہ سے جمہور امت کا مسلک یہی ہے کہ یہ سنت ہے اس لئے کہ یہ فعل مہاجرین و انصار کے سامنے کیا گیا اور کسی نے کوئی نکیر نہیں کی۔
مہاجرین و انصار کا مقام
وَالسَّابِقُوْنَ الَاوََّلُوْنَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَلْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا بِاِحْسَانٍٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْاعَنْہ‘(پ۱۱،توبہ،ع۲(اور جو لوگ سب سے پہلے ہجرت کرنے والے ہیں اور جو مدد مرنے والے ہیں جو ان کی پیرو ی کرنے والے ہیں نیکی کے ساتھ اللہ ان سب سے راضی ہوچکا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
اس آیت سے معلوم ہواکہ مہاجرین و انصار کی پیروی کرنے والوں سے اللہ راضی ہے ہم نے ان کی پیروی کی لہٰذا بیس رکعات پڑھنے والوں سے اللہ راضی جو آج آٹھ (۸( رکعات تراویح پڑھتا ہے وہ مہاجرین و انصار کا مخالف اللہ اس سے ناخوش ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ
ان بنی اسرائیل تفرقت علی ثنتی و سبعین ملۃ وتفترق امتی علی ثلاث و سبعین ملۃ کلھم فی النار الا ملۃ واحدۃ قالوا من ھی یا رسول اللہ قال ما انا علیہ و اصحابی(ترمذی ج۲،ص۸۹،مستدرک،ج۱ص۱۲۹(
بلاشبہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ چکے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی سب فرقے دوزخ میں جائیں گے مگر صرف ایک فرقہ لوگوں نے آپ سے پوچھا یارسول اللہ وہ کونسا فرقہ ہوگا فرمایا وہ فرقہ جس نے وہ کام کئے جو میں نے اور میرے صحابہ نے کئے ہیں۔
صحابہ نے بیس رکعات پڑھی ہم بھی پڑھتے ہیں لہٰذا جنتی اور ناجی فرقہ ہم ہی ہیں غیر مقلدین صحابہ کرام کی مخالفت میں آٹھ رکعات پڑھتے ہیں لہٰذا یہ باطل فرقہ ناری اور جہنمی فرقہ ہوگا۔ناراض نہ ہوں میں نہیں کہتا نبی ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں۔
صحابہ کرام کا اجماع حجت ہے
ان اھل السنۃ والجماعۃ متفقون علی ان اجماع الصحابۃ حجۃ (فتح الباری ،ج۳،ص۲۶۶(اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام کا اجماع حجت ہے۔
غیر مقلدین کے پیشوا ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ:
صحابہ کرام کا اجماع واجب الاتباع ہے بلکہ صحابہ کرام کا اجماع قوی تر حجت ہے اور دوسری (غیر منصوص(حجتوں پر مقدم ۔ (اقامۃ الدلیل،ج۳،ص۱۳۰(
صحابہ کرام کے اجماع کے حجت ہونے کیلئے مندرجہ ذیل حوالوں کی طرف مراجعت فرمائیں :
منہاج السنۃ ج۱ ص ۲۵۶،اعلام الموقعین،ج۱،ص۶۷بدائع الفوائد ،ج۴،ص۷۷،طبقات سبکی،ج۱ص۲۶۲ وغیرہ۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’القول الفرقۃ الناجیۃ ھم الاخذون فی العقیدۃ والعمل جمیعا بما ظھر من الکتاب والسنۃ و جری علیہ الجمھور الصحابۃ والتابعین الی ان قال و غیر الناجیۃ کل فرقۃ انتحلت عقیدۃ خلاف عقیدۃ السلف او عملا دون اعمالھم (حجۃ اللہ بالغہ،ج۱،ص۱۷۰( میں کہتا ہو ں کہ فرقہ ناجیہ صرف وہی ہے جو عقیدہ اور عمل دونوں میں کتاب و سنت کی اور جس پر جمہور صحابہ کرام و تابعین کاربند تھے پیروی کرے(آگے فرماتے ہیں کہ(اور غیر ناجی ہر وہ فرقہ ہے جس نے سلف کے عقیدے کے خلاف کوئی اور عقیدہ یا ان کے عمل کے علاوہ کوئی اور عمل اختیار کیا۔
غیر مقلدین اس عبارت کی روشنی میں مرنے کے بعد خود ہی اپنا مقام متعین کرلیں ۔عمدۃ المفسرین حضرت حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
واما اھل السنۃ والجماعۃ فیقولون فی کل فعل و قول لم یثبت عن الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم ھو بدعۃ لانہ لو کان خیرا لسبقونا الیہ انھملم یترکوا خصلۃ من خصال الخیر الا وقد بادروا الیھا(تفسیر ابن کثیر ،ج۴،ص۱۵۶(اہل السنت والجماعت یہ فرماتے ہیں کہ جو قول اور فعل نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرامؓ سے ثابت نہ ہو تو وہ بدعت ہے کیونکہ اگر وہ کام اچھا ہوتا تو ضرور حضرات صحابہ کرام ہم سے پہلے اس کام کو کرتے اس لئے کہ انھوں نے نیکی کے کسی پہلو اور کسی نیک اور عمدہ خصلت کو تشنہ عمل نہیں چھوڑا بلکہ ہر کام میں گویا سبقت لے گئے۔
آٹھ رکعات تراویح صحابہ کرام نے نہیں پڑھی نہ یہ ان کا فعل تھا لہٰذاآج جو لوگ آٹھ رکعات پڑھتے ہیں وہ بدعتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مختصر مضمون میں ہم نے انتہائی اختصار کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ہے اس مسئلہ کی مزید تفصیل کیلئے آپ مطولات کا مطالعہ کریں۔اب ہم اختصا ر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غیر مقلدین کے پمفلٹ کا جواب نقل کرتے ہیں۔
پمفلٹ کا عنوان:
آٹھ رکعات تراویح اور’’ غیر اہلحدیث‘‘ علماء
جواب:موصوف ’’نامعلوم مولف‘‘ نے اپنے پمفلٹ میں بیس رکعات تراویح پڑھنے والوں کو’’ غیر اہلحدیث‘‘ علماء کہا ہمارا سوال ہے کہ کس بنیاد پر ؟اگر تو آپ اس وجہ سے ’’اہلحدیث ‘‘ اور ہم ’’غیر اہلحدیث‘‘ کہ آپ تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں تو یہ ناممکن اس لئے کہ بہت سی احادیث منسوخ ہیں اسی طرح بہت سی احادیث نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے چار سے زائد شادیاں کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔اور اگر بعض احادیث پر عمل کرنے کی وجہ سے آپ خود کو ’’اہلحدیث‘‘ کہہ رہے ہیں تو پھر تو سب مخلوق کو کہو کہ ان کا بھی کسی نہ کسی حدیث پر عمل ہوتا ہی ہے تو آج ہم کیوں ’’غیر اہلحدیث‘‘ جو سینکڑوں احادیث رسول ﷺ پر عمل کرنے والے ہیں۔۔جواب دیں۔۔؟؟؟
سنبھل کر چھیڑنا اے طفل دل زلف پریشان کو
لپٹ جاتی ہے یہ عشاق سے کالی بلا ہوکر
پمفلٹ:گیارہ رکعات قیام رمضان (تراویح ( سنت ہے۔
جواب:جناب آپ کے اصول کے تحت اسے سنت کہنا درست نہیں اس لئے کہ صحیح بخاری ج۱ص ۲۶۸ کی حدیث میں تو ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف تین راتیں تراویح کی نماز پڑھائیں اور اس کے بعد ان کی وفات تک دوبارہ جماعت نہ ہوئی تو آج آپ پورا رمضان آٹھ تراویح کو سنت کہہ رہے ہیں کس حدیث کی بنیاد پر جواب دیں۔۔۔؟؟اگر نبی ﷺ کا فعل سنت ہے تو کسی فعل کو ترک کرنا بھی سنت ہے بخاری کی اسی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین راتیں تراویح پڑھائیں پھر چھوڑ دیں تو معلوم ہوا کہ تراویح نہ پڑھنا سنت ہے تو آپ کس بنیاد پر اس کو پورا رمضان آٹھ رکعات سنت کہہ رہے ہیں ۔۔؟؟جواب دیں۔اسی طرح سنن ابی داود باب فی قیام شھر رمضان ج۱ص۲۰۲ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ نماز رمضان کے آخری عشرے میں پڑھائی تو آپ کس اصول کے تحت پورے ماہ تراویح پڑھنے کو سنت کہہ رہے ہیں ؟؟؟جواب دیں۔
اعتراض:نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر (کی اذان ( تک (عام طور پر( گیارہ رکعات پڑھتے تھے آپ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے تھے اور (آخر میں(ایک وتر پڑھتے تھے ۔دیکھئے صحیح مسلم،ج۱،ص۲۵۴۔
جواب:
(۱( یہ روایت حضرت عائشہؓ سے منقول ہے اور انہی سے صحیح بخاری میں تراویح کی(جو ہمارے نزدیک اصل تہجد کی ہے( نماز چار رکعات ایک سلام کے ساتھ اور تین وتر کی منقول ہیں دونوں احادیث باہم متعارض ہوگئیں لہذا استدلال ساقط ہوا ۔اذا تعارضا تساقطا۔
(۲( ویسے تو آپ حنفیوں پر چیختے ہیں کہ بخاری کی حدیث لاؤ بخاری کی حدیث لاؤ اور آج آپ اپنا مسلک ثابت کرنے کیلئے بخاری کو چھوڑ کر مسلم کی طرف چلے گئے بھائی بخاری کی حدیث میں چار رکعات کا ذکر ہے اور تین وتر کا اس پر عمل کرو۔۔اس لئے کہ
سچے ہو وفادار تو وفا کرکے دکھاؤ
کہنے کی وفا اور ہے کرنے کی وفا اور
(۳( مسلم کی اس حدیث میں سرے سے تراویح کا ذکر ہی نہیں لہذا موضو ع سے ہی خارج ، یہاں اما ں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ’’تہجد ‘‘ کی نماز کا ذکر کررہی ہیں اس کا کون منکر ہے۔۔؟؟۔
(۴( جناب اس حدیث پر تو خودآپ کا بھی عمل نہیں اس لئے کہ خود ترجمہ کیا ہے کہ ’’فجر کی اذان تک‘‘ یہ نماز جس کو آپ تراویح کہہ رہے ہیں آپﷺ پڑھتے تھے ،جبکہ آج آپ لوگ عشاء کی نماز کے فورا بعد آٹھ رکعات پڑھ کر نیند کے مزے لیتے ہو صحیح سنت کے مطابق تو حدیث پر آپ کا بھی عمل نہیں تو ہم سے گلہ کس بات کا۔۔؟؟۔
(۵( اس حدیث میں کہیں بھی جماعت کا ذکر نہیں بلکہ حضور ﷺ کا انفرادی عمل ذکر کیا جارہا ہے تو آج آپ تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھ کر خلاف سنت کیوں کرتے ہیں۔۔؟؟؟
(۶( حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تراویح (بقول آپ کے ( پڑھنے کے بعد وتر بھی اکیلے ہی پڑھتے جبکہ آپ لوگ اس کو جماعت سے پڑھتے ہو کیوں۔۔؟؟حدیث توآپ کے بھی مخالف ہے۔
حیرت ہے کہ خود آپ پوری حدیث پر عمل پیرا نہیں اور گلہ ہم سے کرتے ہیں پہلے خود اس حدیث پر مکمل طور پر عمل کریں پھر ہم سے مطالبہ کرنا۔
دیگراں را نصیحت خود میاں فضیحت
اعتراض :نبی کریم ﷺ نے رمضان میں (صحابہ کرامؓ کو جماعت سے (آٹھ رکعتیں پڑھائیں ۔دیکھئے صحیح ابن خزیمہ ج۲ص ۱۳۸ و صحیح ابن حبان وغیرہ۔
جواب:اس حدیث کا مدار عیسیٰ بن جاریہ پر ہے اس کے متعلق ابن معین کہتے ہیں اس کی روایات منکر ہیں امام نسائی فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور اس سے متروک روایات بیان ہوئی ہیں (میزان ج۳،ص۳۱۱(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ابن معین اور ابو داود نے اس کو ضعیف کہا ہے (مجمع الزوائد ج۲ص۷۲(۔اس کے علاوہ اس کی سند میں یعقوب بن عبد اللہ الاشعری القمی ہے امام دار قطنی فرماتے ہیں یہ قوی راوی نہیں کمزور ہے (میزان الاعتدال ،ج۴،ص۴۵۲(۔
اگر حنفی کسی ضعیف حدیث سے استدلال کرلے توآسمان سر پر اٹھالو اور خود ایسی کچی باتیں کرتے ہو۔
ٹھوکریں مت کھائے چلئے سنبھل کر
چال سب چلتے ہیں لیکن بندہ پرور دیکھ کر
بالفرض حدیث صحیح بھی ثابت ہوجائے کہ تراویح آٹھ سنت ہیں اور زائد بدعت توسنن الکبری ج۲ص ۴۹۴میں روایت ہے کہ رمضان میں آپ ﷺ نے صرف تین راتیں باجماعت صحابہ کو نماز پڑھائی ،۲۳،۲۴،۲۵،تو پھر آپ کیوں باقی چھبیس یا ستائیس دن خلاف سنت کرتے ہواگر ہم بارہ (۱۲( سے بدعتی ہوئے تو تم ۲۷ کے عدد سے بدعتی ہوئے۔
اے چشم اشکبار ذار دیکھ تو سہی
یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا ہی نہ ہو
اعتراض:سیدنا امیر المومنینؓ نے (نماز پڑھانے والوں(سیدنا ابی بن کعبؓ اور سیدنا تمیم داریؓ کو حکم دیا کو حکم دیا کہ لوگوں کو (رمضان میں نماز عشاء کے بعد (گیارہ رکعات پڑھائیں ۔دیکھئے موطا اما م مالک ج۱،ص۱۱۴۔السنن الکبرای ج۳ص۱۱۳۔حدیث پر اعتراض نہ کرنا علامہ نیموی حنفی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے دیکھئے آثار السنن ۔
جواب:اگر محدث نیموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’آثار السنن‘‘ میں اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حدیث کا متن بھی بالکل درست ہے۔۔۔؟؟آپ خود کو’’اہلحدیث‘‘ کہتے ہیں کیا محدثین کا یہ اصول یاد نہیں کہ سند کا صحیح ہونا متن کے صحیح ہونے کو لازم نہیں بہت سی احادیث ایسی ہیں جن کے راوی ثقہ ہیں مگر حدیث موضو ع انشاء اللہ مطالبے پر ثبوت بھی پیش کردئے جائیں گے۔
(۱( اس حدیث سے استدلال درست نہیں اس لئے کہ اس کے متن میں اضطراب ہے اور مضطرب حدیث حجت نہیں۔
(۲( حدیث میں ہے کہ گیارہ رکعات پڑھائیں گویا آٹھ رکعات تراویح اور تین وتر کل گیارہ ہوئیں تو آپ آج ایک رکعت وتر کیوں پڑھتے ہیں۔۔بھائی ان حدیثوں پر پہلے خود تو عمل کرلو پھر ہمیں کہنا۔
(۳( آپ کے پیشوا ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی ہم نے نقل کیا کہ حضرت ابی ابن کعبؓ نے بیس رکعات پڑھائیں اسی پر تمام صحابہ کا اجماع ہوا۔۔اب اس فتوے کو درست مان کر حدیث کا انکار کرو اس لئے کہ اگر حدیث کا راوی خود حدیث کے خلاف عمل کرے تو وہ حدیث حجت نہیں۔۔یا پھر اپنے پیشوا پر فتوی لگاؤ کہ انھوں نے جھوٹ بولا۔۔دونوں میں سے جس قول بھی آپ پسند فرمائیں ہماری طرف سے اس پر آمین ہے۔
(۴( اس حدیث میں یہ بھی احتمال ہے کہ گیارہ رکعات حضرت عمرؓ نے ابی ابن کعبؓ کو پڑھانے کا فرمایا ہوا اور باقی بارہ کسی اور نے پڑھائی ہو ں اسی طرح تمیم داریؓ کے متعلق سمجھ لو۔جس طرح آج مکہ مکرمہ میں دس رکعات ایک امام پڑھاتے ہیں اور دس دوسرے امام۔ تو جب احتمال آگیا استدلال باطل ہوا ۔اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال۔
(۵( علامہ ابن عبد البر اندلسی اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ الاغلب عندی فی احدی عشرۃ رکعۃ الوھم (الاستذکار ،کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی قیام رمضان ،ج۲،ص۶۹،دارالاحیاء التراث بیروت(
اغلب یہی ہے کہ اس حدیث میں راوی کو گیارہ رکعات کے نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔حیرت ہے ’’اہلحدیث‘‘ ہوکر ایسی وہمی روایات سے استدلال؟؟؟۔
ٍٍ (۶( موطا میں تراویح کے متعلق مختلف روایات ہیں گیارہ ،تیرہ، اکیس، تئیس، اور قاعدہ ہے کہ العدد الاقل لا ینافی العدد الاکثر عدد اقل سے عدد اکثر کی نفی نہیں ہوتی اور احتیاط عدد اکثر میں ہے تئیس رکعات میں گیارہ رکعات موجود ہیں مگر گیارہ رکعات میں تئیس (۲۳( رکعات نہیں لہٰذا احتیاط پر عمل کرتے ہوئے تئیس والی روایات کو اختیار کریں گے بیس تروایح کی تین وتر کی ۔
اس کے اور بھی بہت سے جوابات ہیں لیکن فی الحال اتنے ہی کافی ہیں۔
اعتراض:صحابہ و تابعین اور سلف صالحین کا اس پر عمل رہا ہے۔(یعنی آٹھ رکعات پر ۔۔از ناقل(
جواب:کاش کہ موصوف اس کا کوئی ثبوت بھی پیش کردیتے اور ان سلف و صالحین کے اسماء میں بھی نقل کردیتے جن کا عمل آٹھ رکعات پر رہا ہم نے الحمد للہ دلائل سے اس بات کو واضح کردیا کہ صحابہ کرام سلف صالحین آئمہ مجتہدین کا عمل بیس رکعات تراویح پر رہا ہے ۔موصوف نے جھوٹ بولنے والوں کے متعلق قرآن کی یہ آیت تو پڑھی ہوگی کہ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ اس لئے اب جلد سے جلد مستند حوالوں کے ساتھ ان سلف صالحین کا ذکر کریں جنھوں نے آٹھ رکعات پڑھیں اور بارہ کو بدعت کہا ورنہ قرآنی فتوے سے مفر نہیں۔
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سوچنا پڑا
اب خود کشی کریں کہ حوالے لکھا کریں
اعتراض :علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ(اختصار کے پیش نظر صرف ترجمہ نقل کیا جارہا ہے(اس سب کا حاصل یہ ہے کہ قیام رمضان (تراویح ( گیارہ رکعات مع وتر جماعت کے ساتھ سنت ہے،اور باقی بارہ مستحب ہیں ۔امام طحاوی نے کہا ہے کہ نبی ﷺ نے بیس رکعات نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ پڑھیں ہیں ابن نجیم مصری نے بحر الرائق میں ابن ہمام کا قول نقل کیا ہے اور اس پر انکار نہیں کیا ۔ابن ہمام وغیرہ کا آٹھ کے بعد بارہ رکعت کو مستحب کہنا حنفیوں تقلیدیوں کے اس قول کے سراسر خلاف ہے کہ ’’بیس رکعات تراویح سنت موکدہ ہے اس سے کم یا زیادہ جائز نہیں‘‘۔
جواب:ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ بیس رکعات تراویح کا انکار نہیں کرتے البتہ وہ اس کو مستحب کہتے ہیں مگر یہ ان کا تفرد ہے جو ہم پر حجت نہیں علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عبد الحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے تصریح کی ہے کہ یہ ان کا تفرد ہے ان کے علاوہ امت میں کوئی بھی جلیل القدر ہستی اس قول کی قائل نہیں ہے۔(دیکھئے العرف الشذی ص۳۰۹،و حاشیہ ہدایہ ج۱ص ۱۵۱(۔
ان کے ایسے بہت سے تفردات منقول ہیں جو ناقابل عمل اور غیر معتبر سمجھے جاتے ہیں جسکا اقرار خود غیر مقلدین کو بھی ہے چنانچہ آج کے زمانے کے معروف غیر مقلد عالم ارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں کہ:
علامہ ابن ہمام کو فقہ حنفی میں اجتہادی مقام حاصل تھا انھوں نے کئی مسائل میں اپنے ہم فکر علماء سے اختلاف کیا لیکن ان کے اختلاف کو خود علمائے احناف نے بنظر استحسان نہیں دیکھا ۔۔۔لہٰذا مذہب حنفی کے خلاف ان کا جو بھی قول ہوگا وہ مقبول نہیں ہوگا چہ جائیکہ اسے حنفی مذہب باور کرلیا جائے (توضیح الکلام ،ج۲،ص ۵۴۵(
اب غیر مقلدین خود ہی بتائیں کہ ان سے زیادہ اور ہم ان کی کیا تسلی کریں اگر ہماری نہیں مانتے تو کم سے کم اپنوں کی تو مان لو
کیا خوب کہ اپنا پردہ کھولے جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے
باقی رہا ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ اور امام طحاوی کا کہ وہ ان کے اس قول کو بلا انکار نقل کرتے ہیں لہٰذا وہ بھی آٹھ کے سنیت کے قائل ہیں تو یہ موصوف کی غلط فہمی ہے اس لئے کہ علامہ ابن نجیم بیس رکعات کی سنیت ہونے پر اپنا مسلک اس طرح واضح کرتے ہیں کہ:
و سن رمضان عشرون رکعۃ و علیہ عمل الناس شرقا و غربا (البحر الرائق ،ج۲،ص ۷۲(رمضان میں مسنون بیس رکعات (تراویح( ہیں اور اسی پر شرقا و غربا تمام مسلمانوں کا عمل ہے۔اسی طرح امام طحاوی بیس رکعات کو سنت کہتے ہیں:
وہی عشرون رکعۃ الحکمۃ فی تقدیرھا بھذا العدد مساوات المکمل وھی سنن للمکمل وھی الفرائض الاعتقادیہ والعملیہ(حاشیہ طحاوی علی مراقی الفلاح ،ص۲۲۵(اور تراویح کی بیس رکعات ہیں اور تراویح کی بیس رکعات ہونے میں حکمت یہ ہے کہ (جو بیس رکعات (سنن ہیں وہ مکمل جو فرائض اعتقادیہ و عملیہ کے برابر ہوجائیں ۔
انھوں نے اگر علامہ ابن ہمام کا قول نقل کیا ہے تو محض ان کا تفرد بیان کرنے کیلئے بلکہ انھوں نے تو بیس رکعات کو سنت کہہ کر گویا اس قول پر رد کیا اللہ کرے کہ آپ کی سمجھ میں بات آگئی ہو۔
اعتراض:دیوبندیوں کے منظور نظر محمد احسن نانوتوی فرماتے ہیں کہ لان النبی ﷺ لم یصلھا عشرین بل ثمانیا۔حاشیہ کنزالدقائق۔
جواب:کاش کے موصوف حضرت احسن نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری عبارت نقل کردیتے تو ہمیں جواب دینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی حضرت ؒ اسی عبارت سے بالکل متصل لکھتے ہیں کہ:و لم یواظب علی ذالک و بین العذر فی ترک المواظبۃ علیھا بالجماعۃ وھو خشیۃ ان تکتب علینا (حاشیہ کنز الدقائق ،ص ۳۶( لیکن نبی ﷺ نے اس آٹھ رکعات پر مواظبت اختیار نہیں کی عذر اور خوف کی وجہ سے کہ کہیں یہ ہم پر فرض نہ کردیجائے۔گویا ان کے نزدیک آٹھ رکعات پڑھنا پورا ماہ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں اورپھر آگے ہی مزیداپنا موقف واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:ولنا ماروی البیھقی باسنادصحیح انھم کانوا یقومون علی عھد عمرؓ بعشرین رکعۃ وکذا علی عھد علی وعثمانؓ فصار اجماعا۔(اور بیس رکعات پڑھنا ترایح سنت موکدہ ہے( ہمارے اس قول کی دلیل بیہقی کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ صحابہ کرام نے حضرت عمرؓ کے دور میں بیس رکعات تراویح پڑھی اور یہی صورتحال حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے دور میں رہی گویا بیس رکعات پر صحابہ کرام کا اجماع ہوگیا۔
موصوف کوشرم آنی چاہئے کہ وہ دعوی تو کرتے ہیں کہ’’اب اس مضمون میں حنفی تقلیدی علماء کے حوالے پیش خدمت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک بھی آٹھ رکعات تراویح سنت ہے‘‘۔اور حوالے نقل کرتے ہوئے اس طرح کی خیانتیں کرتے ہیں اور ما یرضی بہ قائلہ کے تحت اپنے مطلب کی وہ عبارت نقل کرتے ہیں جس کی تردید یا وضاحت خود مصنف نے آگے کردی اور اسی میں اپنا مسلک بھی بیان کردیا۔۔۔سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنا آخر اسلام کی کونسی خدمت ہے۔۔؟؟؟
اعتراض :دیوبندیوں کے منظور نظر عبد الشکور لکھنوی لکھتے ہیں کہ :اگرچہ نبی ﷺ سے آٹھ رکعات تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بیس رکعات بھی ۔مگر۔۔۔۔علم الفقہ
جواب:افسوس کے باوجود کوشش کے کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر یہ کتاب ہمیں میسر نہ ہوسکی۔۔مگر جو عبارت آپ نے دی ہے اس میں خود آپ کی خیانت واضح ہے کہ ’’مگر‘‘سے آگے کی عبارت نقل نہیں کی یعنی جس عبارت میں حضرت عبد الشکور لکھنوی ؒ اپنا اصل موقف اور ماقبل عبارت کا صحیح مطلب واضح کرنا چاہ رہے تھے اسے آپ ہضم کرگئے ۔۔اور جہاں تک ابن عباسؓ کی حدیث کا ضعف ہے تو اسے تلقی بالقبول حاصل ہے اور جس حدیث کو تلقی بالقبول حاصل ہوجائے اس کا ضعف کچھ نقصان دہ نہیں۔
اعتراض:دیوبندیوں کے منظور نظر عبد الحی لکھنوی ؒ بھی بیس رکعات تراویح کے قائل ہیں۔
جواب:آپ کا یہ کہنا بھی سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ وہ بیس رکعات تراویح کو سنت موکدہ سمجھتے ہیں اور اس کے تارک پر گناہ گار کا فتوی لگایا ہے ملاحظہ ہو ان کا اصل مسلک:
بیس رکعات تراویح سنت موکدہ ہے اس لئے کہ اس پر صحابہ کرام نے مواظبت کی ہے اگرچہ نبی کریم ﷺ نے مواظبت نہیں فرمائی اور پہلے یہ بات گزرچکی ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی لازم الاتباع ہے اور اسے چھوڑنے والا گناہ گار ہے ۔اگرچہ سنت خلفاء کے چھوڑنے کاگناہ سنت نبویہ کے چھوڑنے کے گناہ سے کم ہے اور جو آٹھ رکعات تراویح پر اکتفاء کرتا ہے وہ خلفاء راشدین کی سنت کا تارک ہونے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔(تحفۃ الاخیار ،ص۳۰۸،ادارۃ القرآن(
غور فرمائیں کہ علامہ عبد الحی رحمۃ اللہ علیہ تو بیس رکعات تراویح کو بطور قیاس اقترانی ثابت کررہے ہیں یعنی دعوی التراویح عشرون رکعۃ صغری دلیل لانہ ما واظب علیہ الخلفاء الراشدون،او ر اس میں کوئی کلام نہیں کبری کی دلیل علیکم بسنتی و سنۃ خلفا ء الراشدین صغری و کبری دونوں مسلم ہیں لہٰذا حد اوسط کو حذف کیا نتیجہ نکلا التراویح عشرون رکعۃ سنۃ موکدۃ اب آپ اس نتیجے کو صغری بنائیں اور کبری ہے و کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا نتیجہ التراویح عشرون رکعۃ یاثم تارکھا۔
پمفلٹ کے مولف کو شرم کرنی چاہئے کہ ا سقدر واضح عبارت کے موجود ہوتے ہوئے وہ ان کی مجمل عبارات میں قطع و برید کرکے علماء یہود کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔۔شرم۔۔شرم۔۔شرم۔۔
لطیفہ :موصوف نے علامہ عبد الحی لکھنوی ؒ کو سنی دیوبندی حضرات کا منظور نظر کہا ہے حالانکہ یہ ہستی حضرت شاہ اسمعیل شہید ؒ اور حضرت سید شہید ؒ کی بھی منظور نظر تھی حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ کے داماد ،حضرت شاہ اسمعیل شہید ؒ کے پیر بھائی اور حضرت سید احمد شہید کے اجل خلفاء ،قاضی القضاء اور جماعت کے امیر المبلغین تھے ۔۔اور ان تینوں حضرات کو غیر مقلدین بھی اپنے اکابر میں شمار کرتے ہیں معلوم ہوا کہ حضرت شاہ اسمعیل شہید ؒ ،سید احمد شہید ؒ کا مسلک بھی بیس تراویح ہی تھا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس تحریک کے بانی نے شرک و بدعت کو ختم کرنے کیلئے پورے برصغیر کا دورہ کیا ہر قسم کی صعوبتیں برادشت کیں حتی کے اسی راہ میں شہید ہوگئے وہ اپنی جماعت میں ایک بدعتی کو اس قدر اہم عہدوں پر فائز کرے۔۔کلا۔
اعتراض:خلیل احمد سہارنپوری ؒ لکھتے ہیں کہ البتہ بعض علماء نے جیسے ابن ہمام آٹھ کو سنت اور زائد کو مستحب لکھا ہے سو یہ قول قابل طعن نہیں۔
جواب:معترض کو شرم کرنی چاہئے کہ اسی عبارت سے اوپر یہ عبارت موجود ہے کہ :
’’تراویح آٹھ سے زیادہ کو بدعت کہنا قول کسی عالم کا نہیں بلکہ قول سفہاء کاہے‘‘۔(براہین قاطعہ ،ص ۸(جس عبارت میں غیر مقلدین کو بے وقوف کہا گیا اسے موصوف ’’سعودی ریال‘‘ سمجھ کر ہضم کرگئے ۔۔تف ہے ایسی دیانت پر ۔۔اور صد حیف ہے ایسی تحقیق پر۔۔
کار شیطاں می کنند بر نامش ولی
اگر ولی ایں بود لعنت بر ولی
باقی رہا ابن ہمام ؒ کا مستحب لکھنا تو اس کی وضاحت ماقبل میں کردی گئی ہے۔
اعتراض:سنت موکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعات تو بالاتفاق ہے اگر خلاف ہے تو بارہ میں ہے۔(براہین قاطعہ،ص ۱۹۵(
جواب:یہ عبارت بھی موصوف کو چندہ مفید نہیں اس لئے کہ انھوں نے اختلاف کا لکھا ہے یہ تو نہیں کہا کہ جو اختلاف ہے وہ درست بھی ہے اس سے تو عبارت ساقط ہے۔۔بلکہ وہ تو بارہ کو بدعت کہنے والوں کو بے وقوف کہہ رہے ہیں ۔۔لیکن اس کے باوجود معترض ان کو اپنا ہمنوا سمجھتے ہیں۔۔فیا للعجب!!۔
اعتراض :انور شاہ کشمیری دیوبندی نے بھی آٹھ رکعات تراویح کو سنت کہا ہے۔
جواب:یہ بھی معترض کا محض دھوکہ ہے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ بھی بیس رکعات تراویح کے سنت موکدہ ہونے ہی کے قائل ہیں :
لم یقل احمد من الائمۃ باقل من عشرین رکعۃ فی التراویح و الیہ ذھب الجمہور۔(العرف الشذی ،ص ۳۰۸،ج۱(
آئمہ میں سے کوئی بھی بیس رکعات تراویح کا قائل نہیں اور اسی قول کو جمہور امت نے لیا ہے۔اسی کتاب کے ص ۳۰۹ پر انھوں نے ابن ہمام ؒ کا رد کیا ہے جنھوں نے بیس رکعات کو مستحب کہا۔
غیر مقلدین سے چند سوالات
(۱( کوئی ایک حدیث بخاری کی یا کم سے کم صحاح ستہ کی دکھادیں جس میں تراویح کا لفظ ہو نبی کریم ﷺ نے پورے ماہ دو رکعت سلام پر جماعت کے ساتھ ایک وتر پر تراویح پڑھائی ہو ۔ہم اپنے دعوے سے رجوع کرنے کیلئے تیار ہیں۔
(۲( آٹھ رکعات تراویح والی حدیث غیر مقلدین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت نقل کرتے ہیں ہمارا سوال ہے کہ جس وقت حضرت عمرؓ نے بیس رکعات پر صحابہ کرام کو جمع کیا اس وقت حضرت عائشہؓ نے اس پر کوئی نکیر کیوں نہیں کی اور حضرت عمرؓ کو معاذ اللہ اس بدعت سے منع کیوں نہیں کیا۔۔؟۔
(۳( کسی بھی مستند حوالے سے ثابت کردیں کہ صحابہ کرامؓ اور تمام امت کا اجماع ’’آٹھ رکعات‘‘ پر ہوگیا تھا ہم اپنے دعوے سے رجوع کیلئے تیار ہیں۔
(۴( سعودی عرب میںآج غیر مقلدوں کی من پسند حکومت ہے وہاں مکہ و مدینہ میں بیس رکعات ہوتی ہیں۔۔ہما را سوال یہ ہے کہ کیا وہ بدعتی ہیں ۔۔اگر نہیں تو کیوں۔۔؟؟اگر ہاں تو بدعتی کے بارے میں بخاری کی حدیث ہے کہ اس پر اللہ اس کے رسول اور فرشتوں کی لعنت اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ بدعتی کا نہ نفل قبول نہ فرض۔۔وضاحت فرمائیں کہ کیا (معاذ اللہ(ایسے مبغوض لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔۔؟؟؟نیز یہ بھی بتائیں کہ اب تک موصوف یا ان کے اساتذہ یا جماعت کے لوگوں نے کتنے پمفلٹ کتابچے اور فتوے عربی میں آئمہ حرمین کے خلاف لکھے ہیں جس میں ان کو بیس رکعات تراویح پڑھنے پر بدعتی کہا گیا ہے۔۔؟؟؟قارئن کرام !کوئی ایک بھی نہیں دکھاسکتے اس لئے کہ پھر ریالوں کے نذرانے کہاں سے آئیں گے۔۔۔؟؟؟مدینہ یونیورسٹی کا سالانہ وظیفہ کہاں سے کھائیں گے۔۔؟؟
ہم ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات کے منتظر ہیں لیکن
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
کیا جمہور امت حق کا معیار نہیں۔۔؟؟؟
اس پمفلٹ کے آخر میں ایک صفحہ دیا گیا ہے جس کا عنوان ہے کہ ’’اکثریت حق پر نہیں‘‘الحمد للہ کم سے کم غیر مقلدین نے اتنا تو مان لیا کہ آج بیس رکعات تراویح پر ہی بقول ان کے اکثر امت (حقیقت میں کل امت( کا عمل ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ ان کو اس قسم کے پمفلٹ شائع کرنے کی ضرورت پڑی۔۔اب مرضی آپ کی ہے چاہیں تو جمہور امت کے ساتھ رہیں چاہیں تو انگریز کے دور میں پیدا ہونے والے ایک ٹولے کا ساتھ دیں۔پسند اپنی اپنی ،امام اپنااپنا۔
معترض کے اس طرز استدلا ل نے ہمارے دل کو بہت دکھ پہنچایا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے آج بیس رکعات تراویح پڑھنے والے جس میں صحابہ ،چاروں آئمہ سلف صالحین ضال مضل فاسق بے ایمان ہیں معاذ اللہ۔۔کوئی ہمیں بتائے کہ شیعوں اور آج کے غیر مقلدین میں کیا فرق رہ گیا صرف یہی کہ وہ کھل کر تبراء کرتے ہیں اور یہ تقیہ کی آڑ لیکر۔۔موصوف جاہل عوام کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھ کر ا ن کو گمراہ کر رہے ہیں۔۔فَوَیْل’‘ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَےْدِےْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھَذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لَیَشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَناً قَلِیْلاً۔بڑی خرابی ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے سے خرید لیں دنیا کا تھوڑا نفع۔
معترض اول تو خود جہالت کا شکار ہیں کہ وہ صحابہ کرامؓ ،آئمہ مجتہدین،سلف صالحین کی اکثریت کو آج کل کے مغربی نام نہاد جمہوریت پر قیاس کرتے ہیں۔۔کیا موصوف کے نزدیک آج کل کے فاسق فاجر لوگوں کی جمہوری اکثریت اور صحابہ کرامؓ ،آئمہ مجتہدین کی اکثریت اور رائے میں کوئی فرق نہیں۔۔۔؟؟؟ہاں اگر ایک طرف محض کثرت ہو اور دوسری طرف قوی دلیل ہو تو سر آنکھوں پر ہم اس اصولی مسئلہ کو تسلیم کرتے ہیں کہ العبرۃ للقوۃ لا للکثرۃ اور یہی مقام ہے سو سنا ر کی ایک لوہار کی مگر یقین جانئے مسئلہ آٹھ رکعات تراویح اس مقام میں ہر گز ہر گز نہیں کیونکہ بیس رکعات تراویح صحیح احادیث و روایات سے ثابت ہے جس پر جمہور (بقول آپ کے ضال و مضل(کا عمل ہے ۔
معترض نے اپنے مدعا میں جتنی بھی آیات پیش کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ان کو سود مند نہیں اور ہمیں مضر نہیں اس لئے کہ پہلی آیت وَ اِنَّ کَثِےْراً مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُوْنَ۔(المعائدہ ۴۹(میں جس فسق کا ذکر ہے وہ کفر کا فسق ہے کفر توحید اسلام کے بنیادی مسائل ہیں جس میں باطل پرستوں کی اکثریت کاکوئی اعتبارنہیں اور مسئلہ تراویح کی ہر گز یہ پوزیشن نہیں ۔بیس رکعات قائلین کا تمام طبقہ صحابہ تابعین تبع تابعین اور امت مسلمہ کا ہے یہ الگ بات ہے کہ ایک طرف اکثریت دوسری طرف چند گنے چنے حقیقی گمراہ۔دوسری آیت قُلْ لَا یَسْتَوِی الَخَبِےْثُ وَالطَّےِّبُ وَلَوْاَعْجَبَکَ کَثْرَۃَ الْخَبِےْثِ (المعائدہ ۱۰۰(میں خبیث وطیب میں حرام و حلال کا تقابل ہے مطلب یہ کہ اگر بدقسمتی سے کہیں اکثریت حرام کھانے والوں کی ہوجائے تو وہ حلال کی قلت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔حرام حرام ہے اور حلال حلال اب ذرا ازروئے انصاف فرمائیں بشرطیکہ ہو کہ بیس اور آٹھ رکعات تراویح کا کونسا پہلو طیب اور خبیث ہے ۔۔؟؟؟پھر ان میں سے کون سا گروہ خبثاء اور کونسا طی

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔