بدھ، 17 جون، 2015

ملفوظات حکیم الامت ؒ کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کے ماموں پر اعتراض کا مدلل جواب

ملفوظات حکیم الامت ؒ کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کے ماموں پر اعتراض کا مدلل جواب

مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی

حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات علوم و معارف کا گنجینہ ہیں شیخ الاسلام استاذ محترم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی دورہ حدیث کے فارغ التحصیل علماءکو خاص طور پر جن کتابوں کے مطالعہ کی تلقین کرتے ہیںان میں سر فہرست ملفوظات حکیم الامت ہے ا س سے آپ ان ملفوظات کی وقعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،مگر عقل و شعور سے پیدل تعصب سے مغلوب اہل السنة والجماعة کے دیرینہ دشمن فرقہ رضائیہ کے علماءان ملفوظات پر مختلف قسم کے اعتراضات اپنی جہالت کی وجہ سے کرتے رہتے ہیں انہی اعتراضات میں سے ایک اعتراض ملفوظات میں حکیم الامت ؒ کے ماموں پر بھی ہے جسے بعض رضاخانی نام نہاد مناظرین(۱) نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اس مضمون میں ہم انشاءاللہ اسی اعتراض کا مدلل و منہ توڑ جواب دیں گے
اعتراض:



 ایک واقعہ ان ہی ماموں صاحب کا اور یاد آیا حیدر آباد سے اول بار کانپور تشریف لائے تو چونکہ جلے بھنے بہت تھے ان کی باتوں سے لوگ بہت متاثر ہوئے عبد الرحمن صاحب مالک مطبع نظامی بھی ان سے ملنے آئے اور ان کے حقائق و معارف سن کر بہت معتقد ہوئے عرض کیا حضرت وعظ فرمائےے تاکہ مسلمان منتفع ہوں ماموں صاحب نے اس کا جواب عجیب آزادانہ رندانہ دیا کہا کہ خان صاحب میں اور وعظ صلاح کار کجا من خراب کجا۔پھر جب زیادہ اصرار کیا تو کہا ہاں ایک طرح کہہ سکتا ہوں اس کا انتظام کردیجئے عبد الرحمن خان صاحب بے چارے متین زبرگ تھے سمجھے ایسا طریقہ ہوگا جس کا انتظام نہ ہوسکے ۔ یہ سن کر بہت اشتےاق ہوا پوچھا کہ حضرت وہ طریقہ خاص کیا ہے ماموں صاحب بولے کہ میں بالکل ننگا ہوکر بازار میں ہونکلوں اس طرح کہ ایک شخص تو آگے سے میرے عضو تناسل کو پکڑ کر کھینچے اور دوسرا پیچھے سے انگلی کرے اور ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہو اور وہ یہ شور مچائے جائیں بھڑا رہے بھڑوا بھڑوا ہے رے بھڑوا اس وقت میں حقائق و معارف بیان کروں کیونکہ ایسی حالت میں کوئی گمراہ تو نہ ہوگا سب سمجھیں گے کہ کوئی مسخرہ ہے محمل باتیں کررہا ہے (ملفوظات)
جواب:ملفوظات کی اس عبارت کو بنیاد بنا کر حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ یا علمائے اہل السنة والجماعة پر بے ہودہ اعتراض کرنا نہ صرف جہالت بلکہ ضد و تعصب ہے ۔
اولاً : اس لئے کہ جس عبارت پر ان رضاخانیوں کو اعتراض ہوا وہ ”ملفوظات“ کی عبارت ہے اور بزرگان دین کے ملفوظات رضاخانیوں کے نزدیک معتبر نہیں ہوتے۔ چنانچہ مناظرہ جھنگ کا شکست خوردہ مولوی اشرف سرگودھوی کا لڑکا مولوی نصیر الدین سیالوی اپنی کتاب میں ملفوظات کے حوالے سے لکھتا ہے :
”اس حدیث کو باوجود راویوں کے ثقہ ہونے کے موضوع قرار دیا گیا ہے تو اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ اس واقعہ کے راوی ثقہ ہوں لیکن واقعہ صحیح نہ ہو....بزرگوں کے ملفوظات میں کچھ باتیں ان سے غلط منسوب ہوجاتی ہیں “۔
(عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،ج:۱،ص:391،392،مطبوعہ مکتبہ غوثیہ کراچی)
پس جب خو د رضاخانیوں کو بھی یہ اصول تسلیم ہے کہ بزرگان دین کے ملفوظات میں اکثر غلط باتیں ان سے منسوب ہوجاتی ہیں اس لئے ملفوظات پر مشتمل کتب معتبر نہیں ہوتیں اور بعض اوقات ناقل باوجود ثقہ ہونے کے ایسی بات نقل کردیتا ہے جو غلط اور بے اصل ہوتی ہے ،تو اس سب کے باوجود کیا حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات کی ا س عبارت کو قطعی اور اس واقعہ کو یقینی باور کرکے علمائے دیوبند پر اتنی گھٹےا الزام تراشی کرنا کیا یہ کھلی ہوئی جہالت ، ضد اور اپنے ہی وضع کردہ اصولوں سے انحراف نہیں؟
ثانیاً: اشر ف السوانح کے اندر حضرت حکیم الامت مجدد دین و ملت رحمة اللہ علیہ کے اس ماموں کا تفصیلی ذکر و سوانح موجود ہے اور ان کا شمار صوفیہ کے ”ملامتی فرقے “ میں کیا گیا ہے ۔عبارت ملاحظہ ہو:
”ان سب مجموعہ حالات نے انہیں کچھ ایسے بنادیا تھا جیسا کہ درویشوں میں ایک ”فرقہ ملامتیہ“مشہور ہے “۔
(اشرف السوانح ،ج:۱،ص:229،مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
فرقہ ملامتیہ کیا ہے ؟
قارئین کرام” فرقہ ملامتیہ “صوفیہ میں ایک گروہ ہے جو عوام کے درمیان ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جن کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے اور ان کا مقصود ان افعال سے لوگوں کے درمیان اپنے نفس کے تکبر کوختم کرنا ہوتاہے تا کہ جب لوگ ان کاموں کی وجہ سے ان کو برا بھلا کہیں گے تو انکے نفس کا تکبر، انا اور بڑا پن ختم ہو گا جو اصلاح باطن کی روح ہے ۔
ولی کامل حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ المعروف داتا صاحب اس گروہ کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :
”سلکت طائفة من المشائخ الطریقة طریق الملامة ،والملامة خلوص المحبة تاثیر عظیم ،و مشرب تام“۔
( کشف المحجوب ،ص 259)
ترجمہ:مشائخ طریقت کی ایک جماعت نے ملامت کا طریقہ پسند فرمایا ہے۔ کیونکہ ملامت میں خلوص و محبت کی بڑی تاثیر اور لذت کامل پوشیدہے۔
پھر آگے حضرت ملامت کی تین قسمیں بیان کرتے ہوئے تیسری قسم کا تعارف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”و ملامة الترک ھی ان یکون الکفر و الضلال الطبیعی متمکنان من شخص حتی یقول بترک الشریعة و اتباعھا، ،و ویقول ان ما یفعلہ ملامة و یکون ھذا طریقہ فیھا، ام من یکون طریقہ الاستقامة و عدم مزاولة النفاق و الکف عن الریاءفلکا خوف علیہ من ملامة الخلق و یکون فی کل الاحوال علی مسلکہ و یستوی لدیہ ای اسم یسمونہ بہ“۔
( کشف المحجوب ، ص 261)
ترجمہ:(ملامتیہ کی ایک تیسری قسم ہے ) کہ دل میں تو کفر و ضلالت سے طبعی نفرت بھری پڑی ہو بظاہر شریعت کی اتباع نہ کرے اور خیال کرے کہ ملامتی طرےقے پر ایسا کررہا ہوں اور یہ ملامت کا طریقہ اس کی عادت بن جائے اس کے باوجود دین میں مضبوط اور راست رو ہو لیکن ظاہر طور پر بغرض ملامت نفاق و ریا کے طور طرےقے پر دین کی خلاف ورزی کرے اور مخلوق کی ملامت سے بے خوف ہوکر وہ ہر حال میں اپنے کام سے کام رکھے خواہ لوگ اسے جس نام سے چاہیں پکاریں۔
پس حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے یہ ماموں بھی ملامتیہ کے اسی فرقے سے تھے اور بظاہر اس طرح کی باتیں کرکے ان کا مقصود یہی تھا کہ لوگ ان پر ملامت کریں اور یوں یہ اپنے مقصود کو پہنچے۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ آج کے رضاخانی حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ المعروف داتا صاحب کے نام پر عوام کے ٹکڑے کھارہی ہے مگر دوسری طرف صوفیہ کے جس فرقے کو وہ اولیاءاللہ میں شمار کررہے ہیں اس پر آج کے یہ رضاخانی اس طرح کے بے ہودہ اعتراض کررہے ہیں۔
اسی ملامتی گروہ کی صفات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جاننا چاہئے کہ ملامتیوں کی طبعیت کسی امر سے اتنی نفرت نہیں کرتی جتنی لوگوں میں عزت و منزلت پانے سے انہیں نفرت ہوتی ہے :
”اعلم ان ھذا الطبع لایکون اشد نفورا من حضرة اللہ تعالی بشیءالا بالقدر الذی یکون کافیا لجاہ الخلق“َ
(کشف المحجوب ،ص 263)
پس حضرت کے ان ماموں کا مقصد بھی اس قسم کی باتوں سے یہی تھا کہ لوگ انہیں ملامت کریں اور اس طرح یہ اپنے مقصود کو حاصل کریں۔ حضرت ہجویری رحمة اللہ علیہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ کا واقعہ اسی باب میں نقل کرتے ہیں :
”و یروی عن السید ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ انہ سئل ارایت نفسک عن قد بلغت المراد ابدا ؟ قال نعم رایت ذالک مرتین مرة کنت قد رکبت سفینة لم یعرفنی بھا احد،و کنت البس خلقا و قد طال شعری وکنت علی حال کان اہل السفینة معہ یسخرون منی و یھزاون بی ، و کان مع القوم مھرج یاتی الی کل لحظة و یشد شعری و ینتزعہ منی و یستخف بی علی سبیل السخریة و کنت اجد نفسی علی مرادی افرح بذل نفسی الی ان بلغ السرور یوما غایتة بان قام المھرج و تبول علی“۔
(کشف المحجوب ص 265)
ترجمہ:حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ سے کسی نے سوال کیا کیا آپ نے کبھی اپنے مقصد میں کامیابی دیکھی؟ انھوں نے فرمایا ہاں دو مرتبہ ایک اس وقت جب میں کشتی میں سوار تھا اور کسی نے مجھے نہیں پہچانا کیونکہ میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور بال بھی بڑھ گئے تھے ایسی حالت میں کشتی کے تمام سوار میرا مذاق اڑا رہے تھے ان میں ایک مسخرہ اتنا جری تھا کہ وہ میرے پاس آکر میرے بال نوچنے لگا اور میرا مذاق اڑانے لگا ۔اس وقت میں نے اپنی مراد پائی اور اس خراب لباس اور شکستہ حالی میں مسرت محسوس ہوئی یہاں تک میری یہ مسرت بایں سبب انتہاءکو پہنچی کہ وہ مسخرا اٹھا اور اس نے مجھ پر پیشاب کردیا۔
غور فرمائیں کہ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے ماموں کی بات اور حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ کے اس واقعہ میں مال کے اعتبار سے کیا فرق ہے؟حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ شخص اٹھا ننگا ہو اپنا آلہ تناسل مجھ پر پکڑ کرپیشاب کردیا اور اسی وقت میں مراد کو پہنچا اور اسی قسم کی بات حضرت کے ان ماموں صاحب نے کہی فرق یہ ہے کہ انھوں نے صرف ایسی خواہش کا اظہار کیا اور حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ اس بات کو بالفعل ذکر کررہے ہیں۔
غرض اس گروہ کا مقصود اسی قسم کی باتےں یا حرکات کرکے اپنے مقصود تک پہنچنا ہوتا ہے مگر یہ باتیں ان رضاخانی جاہلوں کو کون سمجھائے جنہیں تعصب نے اندھا ،بہرکردیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ جمہور مشایخ نے اس طریقہ اصلاح نفس کو پسند نہیں کیا۔
ثالثاً : اشرف السوانح جلد اول ص ۶۵،۷۵ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے یہ ماموں” مجذوب“ بھی تھے ۔اور مجاذیب کے متعلق رضاخانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مرفوع القلم ہوتے ہیں ان سے شطیحات ظاہر ہوتی ہیں بلکہ مفتی حنیف قریشی بریلوی صاحب نے تو ”گستاخ کون “ میں اپنا پورا ایک رسالہ شطیحات اولیاءکے بارے میں شامل کیا ہے ۔پس حضرت کے یہ ماموں بھی چونکہ مجذوب تھے لہٰذا ان کے اس قول کو جو ملفوظات میں مذکور ہے ہمیں اس کو ان کی شطح پر محمول کرناچاہئے رضاخانیوں کو شرم کرنی چاہئے کہ مجاذیب کے متعلق تو بقول بریلویوں کے فرشتے بھی اپنے قلم روک لیتے ہیں مگر ان کم بختوں کے قلم یہاں بھی چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔
احمد رضاخان صاحب کے ملفوظات میں ایک مجذوب کا واقعہ ان الفاظ میں مذکور ہے :
”سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعت مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کریگاحضرت سیدی موسی سہاگ رحمة اللہ مشہور مجاذیب میں سے تھے احمد آباد میں مزار شریف ہے ۔میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں ۔زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شدید پڑابادشاہ و قاضی جمع ہوکر حضرت کے پاس دعا کیلئے گئے انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزری ایک پتھر اٹھاےا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی طرف جانب منہ اٹھاکر فرمایا مینہ بھیجئے یااپنا سہاگ لیجئے یہ کہنا تھا کہ گھٹائیں پہاڑکی طرح امڈ آئیں اور جل تھل بھردئے۔ایک دن نماز جمعہ کے وقت بازار میں جارہے تھے ادھر سے قاضی شہر کہ جامع مسجد کو جاتے تھے آئے اور انہیں دیکھ کر امر بالمعروف کیا کہ یہ وضع مردوں کو حرام ہے مردانہ لباس پہنئے اور نماز کو چلئے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتارامسجد کو ہولئے خطبہ سنا جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکبیر تحریمہ کہی اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی فرمایا اللہ اکبر میرا خاوند حی لا یموت ہے کہ کبھی نہ مرے گا اور یہ مجھے بیوہ کےئے دیتے ہیں اتنا کہنا تھا کہ سر سے پاوں تک وہی سرخ لباس تھا اور وہی چوڑیاں “۔
(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص:208،فرید بک سٹال لاہور)
آل قارون نواب احمد رضاخان بڑہیچ کی ذکر کردہ اس حکایت سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:
(۱) ۔ یہ موصوف جسے خان صاحب اولیا ءاللہ میں شمار کررہے ہیں زنانہ لباس پہنتے تھے جو مردوں پر حرام ہے بلکہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں۔
(۲)۔لباس بھی سرخ یہ بھی مردوں کیلئے جائز نہیں ۔
(۳) زیورات جو ظاہر ہے طلائی ہوں گے یہ بھی مردوں کیلئے حرام۔
(۴)۔موصوف نماز جمعہ تک نہیں پڑھتے تھے اور اس مبارک وقت میں بازاروں میں گھومتے تھے جو ابغض البلاد الی اللہ ہیں ۔
(۵) ۔ موصوف کا دعوی تھا کہ مرد ہونے کے باوجود وہ معاذ اللہ کسی کی بیوی ہیں۔
(۶)۔ ان صاحب کا دعوی تھا کہ ان کے خاوند حی لا یموت جس کی شان اللہ اکبر ہے یعنی اللہ تعالی ان کے خاوند ہیں استغفر اللہ نقل کفر کفر نہ باشد۔
اب ان تمام کفریات و بکواسات کے باوجود بقول نواب بریلی کے یہ موصو ف اللہ کے اتنے بڑے ولی اور مستجاب الدعوات تھے کہ لوگ ان سے دعاوں کی درخواست کرنے آتھے ان کی دعاوں سے بارشیں برستی تھی قحط سالی دور ہوتی تھی ،پس ان تمام کفریات و غیر شرعی امور کے ارتکاب کے باوجود جو تاویل ان صاحب کو ولی ثابت کرنے کیلئے رضاخانی صاحبان کریں وہی تاویل ملفوظات کے مندرجہ بالا حوالے کے حاشیہ پر بھی رقم فرمادیں۔
اسی طرح ان کی سوانح حیات میں ایک مجذوب کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے :
”(ایک مرتبہ خود ) اعلی حضرت نے فرمایا بریلوی میں ایک مجذوب بشیر الدین اخوند زادہ کی مسجد میں رہا کرتے تھے جو کوئی ان کے پاس جاتا تھا کم سے کم پچاس گالیاں سناتے تھے مجھے ان کی خدمت میں حاضرہونے کا شوق ہوا ....“۔
(حیات اعلی حضرت ،ج۱،ص:،تجلیات امام احمد رضا ،ص:47 برکاتی پبلی شرز کراچی)
کہئے یہاں تو ایک مجذوب عورتوں کا لباس پہن کر خود کو اللہ کی بیوی معاذ اللہ باور کرارہے ہیں اور دوسرے مجذوب صاحب ہمیشہ ننگے رہتے اور خوب موٹی موٹی گالیاں لوگوں کو دیتے مگر اس کے باوجود احمد رضاخان صاحب نہ صرف ان کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان سے دعائیں لینے جاتے ہیں ۔پس جو جواب رضاخانی ان دو واقعات کا دیں وہی ہماری طرف سے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کے ا س ماموں کے متعلق تصور کرلیں۔
ماکان جوابکم فھو جوابنا
رابعاً:معترضین ”ملفوظات “ کی عبارت نقل کرنے میں بدترین خیانت کا ارتکاب کرتے ہےں۔معترضیں اگر ملفوظات ج ۹ ص ۲۱۲ کا حوالہ دیتے وقت اگر ملفوظات ج ۹ ص ۳۱۲ یعنی اس سے اگلے صفحے کی عبارت بھی نقل کردیتے تو ہمیں اس کا جواب دینے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی ۔اس ملفوظ کے اگلے صفحے پر ہی حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کا قول موجود ہے کہ ان کی انہی باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے میں نے اپنے ان ماموں سے ترک تعلق کردیا تھا اور ان کیلئے دعا کی تھی کہ خدا آپ کو شریعت کی اتباع کی توفیق دے اور حضرت حاجی صاحب کے خواب کا ذکر بھی کیا کہ مجھے ان کے پاس بےٹھنے سے منع کیا ۔ملاحظہ ہو:
”گو میرے ماموں تھے مگر پھر بھی میں نے اوروں کی مصلحت کی خاطر ان سے بالکل کنارہ کرلیا تھا۔ادھر حضرت حاجی صاحب رحمة اللہ علیہ نے بھی روحانی دستگیری فرمائی خواب میں فرمایا کہ اپنے ماموں کے پاس مت بےٹھا کرو خارش ہوجائے گی ۔اہل تعبیر نے بتایا کہ خارش اور جذام کی تعبیر بدعت ہے چاہے غلبہ حال سے معذور ہوں لیکن حقیقت تو بدعت ہے میں نے دیکھا کہ عوام پر ان سے میرے تعلق کا برا اثر پڑتا ہے جب یہاں تک نوبت پہنچ گئی اور اھر دیکھا کہ جس غرض سے میں نے ان سے رجوع کیا تھا وہ غرض بھی حاصل نہ ہوئی یعنی رفع پریشانی بلکہ اور الٹی پریشانی بڑھ گئی تو ادب سے عذر کردیا اور ادب سے تبلیغ بھی کردی یعنی میں نے ان کو خط میں یہ بھی لکھ دیا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کا حال اور قال شریعت کے موافق ہوجائے “۔
(الاضافات الیومیہ ،ج:۹۔ص:213،مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ)
پس جب خود حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے ان مجذوب کے ان افعال کو غےر شرعی قرار دےکر ان سے لاتعلقی کا ظہار کردیا بلکہ ان کیلئے دعا بھی کی ان کو تنبیہ بھی کی تو اس کے باوجود ان تمام افعال کو ان کے سر تھوپنا او ر اس کو بنیا د بنا کر پوری جماعت کو طعن و تشنیع کانشانہ بنانا کیا کھلا ہوا دجل و فریب نہیں؟
باقی جوبعض معترضین اس ملفوظات کی بنیاد پر دشنام طرازی کرتے ہوئے حضرت تھانوی ؒ سے اپنے دلی بغض کا اظہار کرنے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم تھانوی صاحب کے ماموں کو........یا تھانوی کو ان کے ماموں کی نسبت سے .... ماموں کا بھانجا کہہ دیں تو دیوبندیوں کو برا نہیں منانا چاہئے تواگر اس کے جواب میں ہم احمد رضاخان کے مندرجہ ذیل شعر کو بنیاد بناکر احمد رضاخان کو ”آوارہ کتا“ کہنے لگ جائیں تویقینا آپ کو برا نہیں لگنا چاہئے:
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
(حدئق بخشش ،حصہ اول ،ص۴۴،مدینہ پبلیشنگ کراچی)
با ز آ اپنی خوئے بد سے یار
ورنہ ہم بھی سنائیں گے دو چار
بریلوی اپنے گھر کی خبر لیں
میاں شیر محمد شرقپوری کے بارے میں ان کے سوانح نگار نے لکھا:
”شرقپور شریف کا واقعہ ہے میاں صاحب ؒ ایک صبح اپنے مکان میں بیٹھے تھے ان کا مکان رفتہ رفتہ ایک خانقاہ کی شکل اختیار کرگیا تھا اچانک ایک بڑھیا اند ر چلی آئی اور بڑے درد سے بولی بابا ! بابا تم بہت سے لوگوں سے سلوک کرتے ہو میری بھی ایک آرزو پوری کردو۔ میں نبی کریم ﷺ کا روضہ دیکھنا چاہتی ہوں ۔میاں صاحب نے نرمی سے کہا مائی درود شریف پڑھاکرو اور پڑھتے وقت خیال کرلیا کرو کہ تم وہیں ہو ۔بڑھیا نے اسی وقت یہ تصور کرکے درود شریف پڑھا اور بے اختیار پکار اٹھی” خدا کی قسم میں روضے کے سامنے ہوں ۔ میں روضے کے سامنے ہوں “۔میاں صاحب ؒ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوےئے کہ :
”لوگ کسی بھڑوے کا پردہ بھی نہیں رہنے دیتے“
بھڑوے کا لفظ انہوں نے اپنے لئے کہا تھا نقل میں تبدیلی ناروا ہے اس لئے یہاں بجنسہ یہ لفظ دہرایا ہے وہ اس طرح اپنا نفس مارتے تھے ۔یہ شیوہ میاں صاحب ؒ ہی کا نہیں تھا ناموروں میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں“۔(منبع انوار ،ص:49،مطبوعہ اویسی بک سٹال گوجرانوالہ)
اس کتاب کو مرتب کرنے والے بریلوی پیر طریقت جمیل احمد شرقپوری کے صاحبزادے جلیل احمد شرقپوری ہیں۔بقول بریلویوں کے خود کو ”بھڑوا“ کہنا نفس کو مارنے کا ایک طریقہ ہے اور اس کی نامور لوگوں یعنی بزرگان دین میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں اب اگر ہم اس واقعہ پر شرم و حیاءکا جامہ اتا ر کر اسی طرح لب کشائی کریں جس طرح رضاخانی ملفوظات کی عبارت پر کرتے ہیں تو یقینا انہیں برا نہیں لگنا چاہئے کہ
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہو ویسی سنو
الحمد للہ راقم کا یہ دعوی آج پھر سچ ثابت ہوا کہ میرے اکابر کی یہ کرامت ہے کہ رضاخانی معترض ان کی جس عبارت پر اعتراض کریں گے اسی مفہو م کی عبارت ان کے گھر سے بھی نکل آئے گی ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔