بدھ، 17 جون، 2015

تقویۃ الایمان پر ایک اعتراض کا جائزہ

 

تقویۃ الایمان پر ایک اعتراض کا جائزہ

(ساجد خان نقشبندی)


امید کرتا ہوں کہ آپ حضرات خیر خیریت سے ہونگے ۔نور سنت کا تازہ شمارہ ملا پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا اللہ پاک آپ لوگوں کو اسی طرح مسلک حقہ کی ترویج کی توفیق دے آمین۔آپ حضرات کو مراسلہ بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اہل بدعت حضرت کی طر ف سے کئی دن سے یہاں مسلسل پروپگینڈاکیا جارہا ہے کہ تقویۃ الایمان میں معاذ اللہ انبیاء علیہم السلام کو بے عزت اور ذلیل کہا گیا ہے ۔۔کیا تقویۃ الایمان میں واقعی کوئی ایسی عبارت ہے یا یہ بھی اہل بدعت کا جھوٹ اور مکر و فریب ہے ؟اور اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ (محمدراشد)
جواب

میرے محترم پہلے آپ تقویۃ الایمان کی پوری عبارت ملاحظہ فرمائیں اس کے بعد انشاء اللہ فقیر اپنی معروضات عرض کرے گا:
تقویۃ الایمان کی عبارت



و اذ قال لقمان لابیہ وھو یعظہ یا بنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم
(پ ۲۱ سورہ لقمان)
ترجمہ! اور فرمایا اللہ تعالی نے سورہ لقمان میں جب کہا لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو اور نصیحت کرتا تھا اس کواے بیٹے میرے مت شریک بنا اللہ کا بے شک شریک بنانا بڑی بے انصافی ہے ۔

ف:یعنی اللہ صاحب نے لقمان ؑ کو عقل مندی دی تھی سو انھوں نے اس سے سمجھا کہ بے انصافی یہی ہے کہ کسی کاحق اور کسی کو پکڑا دینا اور جس نے اللہ کا حق اس کی مخلوق کو دیا تو بڑے سے بڑے کا حق لے کر ذلیل سے ذلیل کو دے دیا جیسے بادشاہ کا تاج ایک چمار کے سر پر رکھ دیجئے اس سے بڑی بے انصافی کیا ہوگی ؟
اور یہ یقین کرلینا چاہئے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ تعالی کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے ۔
پہلی گزارش
مذکوبارہ بالہ عبارت میں نہ توانبیاء علیہم السلام اور نہ ہی اولیاء اللہ رحمہم اللہ کی صراحت ہے نہ ذکربلکہ مطلقا ایک بات ہے او ر انشاء اللہ آگے آئے گا کہ بعض اوقات اجمال کا حکم اور ہوتا ہے تفصیل کا حکم اور ہوتا ہے ۔ لیکن اگر بالفرض یہاں معترضین کے نزدیک گستاخی اس بنیاد پر ہے کہ اولیاء یا انبیاء کو ذلیل کہا گہا اور یہ کفر اور گستاخی ہے تو پھر آخر یہ دشنام طرازیاں صرف شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی کے خلاف کیوں ؟کیونکہ خود بریلوی
اکا برین اور مسلم بین الفریقین علماء کی عبارات میں تو انبیاء علیہم السلام کا نام لے کر ان کو ذلیل کہا گیا ہے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
احمد رضاخان صاحب کی طرف سے حضور ﷺ کیلئے ’’ذلت ‘‘ کے لفظ کا استعمال:
احمد رضاخان اپنے شاعرانہ مجموعے حدائق بخشش میں حضور ﷺ کے بارے میں ایک شعر یوں بیان کرتے ہیں:
کثرت بعد قلت پہ اکثر درود عزت بعد ذلت پہ لاکھوں سلام
(حدائق بخشش ،حصہ دوم ،ص ۲۹،مدینہ پبلشنگ کراچی)
غور فرمائیں کس واضح انداز میں یہاں حضور ﷺ کیلئے کہا جارہا ہے کہ پہلے آپ ذلیل تھے معاذ اللہ ذلت میں تھے بعد میں جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی کثرت ہوئی تو آپ کو عزت ملی۔۔کیا نبی کریم ﷺ کا نام لے کر ان کو ذلت والا کہنا ان کی توہین نہیں۔۔؟؟؟نصیر الدین گولڑوی بریلوی پر جب اسی قسم کا ایک اعتراض ہوا تو احمد رضاخان کے اسی شعر کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس محولہ بالا شعر میں کس عزت اور کس ذلت کا ذکرفرمارہے ہیں ۔کیا ان کو شان رسالت کا علم نہ تھا کہ انھوں نے ذلت کی نسبت آپ کی ذات عالیہ کی طرف کردی ،کیا وہ آپ کے نزدیک فتوی گستاخی کی زد میں نہیں آتے ؟اگر نہیں تو کیوں‘‘۔
(لطمۃ الغیب علی ازالۃ الریب ،ص ۴۲،مہریہ نصیریہ پبلیشر ز گولڑہ)
اب ہم یہاں بریلویوں سے وہی مطالبہ کرتے ہیں جو نصیرالدین گولڑوی نے کیا اور کیا ہی خوب کہا کہ:
اگر آپ کے نزدیک ذات انبیاء کی طرف کسی قسم کی ذلت یا رسوائی کا انتساب یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اس طبقے پر بھی بصورت امتحان ذلت آسکتی ہے انبیاء کی گستاخی ہے تو لیجئے سب سے پہلے آپ مولانا احمد رضاخان پر گستاخی کا فتوی داغئیے اور جس بے باکی سے آپ کے سحاب قلم نے مجھ پر وہابیت اور گمراہی وغیرہ کے الفاظ برسائے ہیں،خدارا ایسی ہی حق گوئی کا مظاہرہ ذرا فاضل بریلوی کے حق میں بھی کردکھائیں ۔مگر وہ بھی کتابی صورت میں ،اور آج کے بعد سٹیجوں پر بھی اسی طرح فاضل بریلوی کے بے ادب اور گستاخ ہونے کا اعلان فرمائیں،جس طرح میرے لئے زحمت فرمایا کرتے تھے‘‘۔(ایضا،ص ۴۳)
قارئین کرام!!!اور اہل انصاف بریلوی اس عبارت کو غور سے پڑھیں اور بار بار پڑھیں اور پوچھئے بریلوی حضرات سے کہ کیا وجہ ہے کہ اپنے بڑوں کی ا ن عبارتوں کو تو آپ نے چھپا رکھا ہے جنھوں نے نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء کی صراحت کرکے ان کو ذلت کاشکار کہا ہے اور شاہ صاحب کی عبارت جس میں کسی ولی یا نبی کی صراحت نہیں ا س کے خلاف ہر چھوٹے بڑے بریلوی کی گز بھر زبان نکلی ہوئی ہوتی ہے۔۔؟؟؟کیا یہ کھلی منافقت نہیں؟؟؟کیا یہ محض تعصبِ ضد اور ہٹ دھرمی نہیں۔۔؟؟؟
اسرار قادری کا حوالہ:
صاحبزادہ الحاج غلام جیلانی سلطان صاحب کی اجازت اور اہتمام سے حضرت سلطان باہو کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے اس کی ایک عبارت ملاحظہ فرمائیں:
آدم علیہ السلام کی ذلت شہوت کی وجہ سے تھی
(اسرار قادری ،ص ۶۰شبیر برادرز)
معاذ اللہ عبارت کو بار بار پڑھیں اور پوچھئے بریلوی حضرات سے کہ کیا کسی عاشق رسول ﷺ نے کبھی اس کتاب اس کے شائع کرنے والوں اور اس کو پڑھ کر اب تک خاموش رہنے والوں کے خلاف بھی قلم اٹھایا۔۔؟؟؟اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو آخر یہ کھلی منافقت کیوں۔۔؟؟ یہ گستاخی کے فتوے صرف اہلحق پر کیوں۔۔؟؟
صاحب جلالین کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت عزیز علیہ السلام کیلئے ذلیل کا لفظ استعمال کرنا:
صاحب جلالین جو بریلوی حضرات کے ہاں بھی مسلم مفسر ہیں سورہ طہ کی آیت ان کل من فی السموت والارض اتی الرحمن عبدا کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ای ذلیلا خاضعا یوم القیامۃ منھم عزیر و عیسی۔(جلالین،ص ۲۶۰)
غور فرمائیں کس طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کا نام لیکر ان کیلئے ’’ذلیل ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا بریلوی جواب دیں اگر تقویۃ الایمان کی عبارت گستاخانہ ہے تو اس سے بڑھ کر گستاخی ہم نے جلالین سے ثابت کردی تمہارے قلم ان کے خلاف کیوں نہیں چلتے ؟؟؟۔۔کہاں گئے تمہارے عشق رسول کے دعوے۔۔؟؟؟
اگر بریلویوں کے یہ فتوے واقعی عشق رسالت کی بنیاد پر ہیں تو کریں ہمت اور لگائیں ایک عدد فتوی صاحب جلالین پر، لکھیں ایک کتاب اس عبارت کے خلاف، منعقد کریں ایک جلسہ صاحب جلالین کی گستاخی پر، لیکن یہ لوگ ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کی روزی روٹی تو علمائے دیوبند کو بدنام کرنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ہم جلالین کی اس عبارت کا ترجمہ نہیں کررہے اور ترجمہ بریلوی حضرات پر چھوڑ رہے ہیں جو ترجمہ اس عبارت کا بریلوی حضرات کریں گے جو مطلب یہ بیان کریں گے وہی ترجمہ اور وہی مطلب ہماری طرف سے تقویۃ الایمان کی عبارت کا مان لیں
ماکان جوابکم فھو جوابنا
تفسیر نسفی کا حوالہ
اسی آیت کی تفسیر میں ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمو النسفی ؒ فرماتے ہیں:
ای خاضعا ،ذلیلا منقادا ۔(تفسیر نسفی ج۲،ص ۳۵۴،داربن کثیر بیروت)
اور ہم اوپر ثابت کرچکے ہیں کہ ان آنے والوں میں سے حضرت عیسی علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام بھی ہیں تو اب کیا فتوی ہے بریلوی حضرات کا علامہ نسفی پر۔۔۔؟؟؟
صاحب سبع سنابل کا حوالہ:
سبع سنابل بریلوی اکابرین کے ہاں مستند کتاب ہے اس کا ترجمہ مفتی خلیل خان برکاتی نے کیا اس میں قرآن پاک کی آیت ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ میں تضرعا کا ترجمہ ذلت کا خواری کرتے ہیں۔
(سبع سنابل ،ص ۲۵۶حامد اینڈکمپنی،لاہور)
بریلوی حضرات سے ہمارا سوال ہے کہ کیااس آیت کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ،تمام اولیا ء اللہ،،فقہاء محدثین،اور خود نبی کریم ﷺ ہیں یا نہیں ؟اگر نہیں تو کس دلیل سے اگر ہاں تو کیا ان کیلئے ذلیل اور خوا ر کا لفظ استعمال کرکے برکاتی صاحب کافر گستاخ اور بے ادب ٹھرتے ہیں یا نہیں۔۔؟؟؟
اوراق غم کا حوالہ:
اوراق غم کے مصنف احمد رضاخان کے خلیفہ ہیں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’وہ آدم جو سلطان مملکت بہشت تھے ۔وہ آدم جو متوج بتاج عزت تھے آج شکار تیر مذلت ہیں ۔
(اوراق غم،ص ۲،منظور عام سٹیم پریس لاہور)
رضائے مصطفی کا حوالہ
حضر ت عمر نے عرض کیا : پھر ہم دین میں ذلت کیوں گوارا کریں‘‘۔ (رضائے مصطفی :ص۶ :اپریل ۲۰۱۲)
قارئین کرام!تقویۃ الایمان کی جس عبارت پر اعتراض کیا گیا تھا اس میں نہ تو کسی نبی کی صراحت ہے نہ ولی کی جبکہ ہم نے مندرجہ بالا حوالہ جات میں ثابت کردیا کہ احمد رضاخان ،پیر نصیر ،مولوی ابو الحسنات ،صاحب جلالین ،اسرا قادری،سبع سنابل،تفسیر نسفی میں انبیاء علیہم السلام بلکہ نبی کریم ﷺ کا نام لیکر ان کے لئے ذلت اور ذلیل کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔۔پس اگر یہ کفر اور گستاخی ہے تو یہ حضرات صاحب تقویۃ الایمان سے کہیں بڑھ کر گستاخ اور بے ادب ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ بریلوی حضرات پھر بھی ان کو اپنے اکابر میں سے تسلیم کرتے ہیں۔؟آج تک ایک چھوٹا سا کتابچہ، چند منٹ کی تقریر ان گستاخیوں کے خلاف نہیں لکھی گئی نہ کہی گئی۔؟؟اگر یہ عبارتیں گستاخانہ نہیں تو صاحب تقویۃ الایمان کیوں گستاخ ٹھرے۔۔۔؟؟؟تقویۃ الایمان کی عبارت کس طرح گستاخی بن گئی۔۔؟؟؟
بریلویوں میں شرم کا کچھ بھی اثر نہیں
اعتراض اوروں پر اپنی خبر نہیں
دوسری گزارش :
قارئین کرام! یہاں یہ بات بھی قابل غور و لائق توجہ ہے کہ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ معاذ اللہ تقویۃ الایمان کی اس عبارت میں انبیاء علیہم السلام کی توہین ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احمد رضاخان نے تقویۃ الایمان لفظ بلفظ پڑھی اس کے خلاف کتابیں بھی شائع کی ہیں مگر کہیں بھی احمد رضاخان نے حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تکفیر نہیں کی ۔چنانچہ تمہید ایمان میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’علمائے محتاطین انہیں (شاہ صاحب کو) کافر نہ کہیں یہی صواب ہے وھو الجواب و بہ یفتی و علیہ الفتوی و ھو المذہب و علیہ الاعتماد و فیہ السلامۃ و فیہ السداد‘‘ ۔(تمہید ایمان ،ص ۵۳،مکتبۃ المدینہ)
اسی طرح الکوکبۃ الشہابیہ جو خاص حضرت شاہ صاحب کے خلاف لکھی اس کے آخر میں بھی واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ان کی تکفیر نہیں کرتے اور اس باب میں اپنی زبان کو ان کی تکفیر سے روکتے ہیں ملاحظہ ہو: (الکوکبۃ الشہابیہ،ص ۶۰،مطبوعہ لاہور)
جبکہ دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:
’’تمام مسلمانوں کا اجما ع ہے کہ جو حضور اقدس ﷺ کی شان پاک میں گستاخی کرے وہ کافر ہے اور جو اس کے معذب یا کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے‘‘ ۔
(تمہید ایمان ، ص ۳۶)
غور فرمائیں یہاں صاف طور پر احمد رضاخان نے فتوی دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر اور اس پر اجماع نقل کیا ہے اس لئے فقہاء ومتکلمین کی تقسیم کرنا باطل ہوا،پس اگر معاذ اللہ صاحب تقویۃ الایمان گستاخ ہیں تو یقیناًمعاذ اللہ کافر بھی ہونگے مگر دوسری طرف احمد رضاخان ایسے گستاخ کو مسلمان ماننے کی وجہ سے خود کافر ہوگئے ہیں۔لہٰذا اگر تقویۃ الایمان کی مذکورہ بالا عبارت گستاخانہ ہے تو پہلے احمد رضاخان کے ایمان اور کفر پر بحث ہوگی جو اس عبارت کے لکھنے والے کو مسلمان کہہ رہے ہیں۔۔اور اگر احمد رضاخان کو اپنے ہی اقراری کفر سے بچانا ہے تو لامحالہ تقویۃ الایمان کی اس عبارت کو بے غبار تسلیم کرنا پڑے گا۔
حضرت شاہ صاحب کی کرامت تو دیکھئے کہ جیسے ہی باطل پرستوں نے ان کے خلاف زبان درا ز کی خود ان باطل پرستوں کے امام وعدہ معاف گواہ بن کر آگئے اور یہ گواہی دے دی کہ حضرت شاہ صاحب گستاخ نہیں بلکہ مسلمان اور اہل لاالہ الا اللہ ہیں۔
تکفیر مسلم ہی ہے جن کا مشغلہ تم دیکھنا
عنقریب ان کا بھی اب یوم حساب آجائے گا
بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ اعلی حضرت نے تکفیر اس وجہ سے نہیں کہ شاہ اسمعیل شہید کو ان عبارات کا کفر ہونا معلوم نہ تھا جس کی وجہ سے وہ التزام کفر سے بچ گئے حالانکہ شفا شریف میں ہے کہ کسی نے نبی ﷺ کی گستاخی کی اور پھر کہا کہ مجھے علم نہ تھا کافر ہوجائے گا ہر گز جہالت کا عذر مسموع نہ ہوگا اور اس کی سزا قتل ہی ہوگی۔(شفاء شریف :ج۲:ص ۱۴۲)ایک تاویل یہ بھی کرتے ہیں کہ احتمال تھا کہ یہ عبارات شاہ صاحب کی نہیں حالانکہ احمد رضاخان نے الکوکبۃ الشہبیہ میں چیخ چیخ کر کہا ہے کہ یہ گستاخیاں شاہ اسمعیل شہید ہی نے کی ہیں۔احمد رضاخان صاحب کو بچانے کیلئے لزوم و التزام کی آڑمیں بریلوی حضرات نے جو گل کھلائے ہیں وہ خود ایک مستقل مضمون کا متقاضی ہے اگر اس جواب کے جواب الجواب میں کسی بریلوی نے ان باتوں کو بیان کرنا چاہاتو پھر تفصیل سے گفتگو ہوگی۔
تحقیقی جواب
بریلویوں کی طرف سے اس عبارت پر اعتراض محض تعصب کا شاخسانہ ہے اگر یہ لوگ مصنف کے طرز کلام اور تقریر کے رویہ کو غور اور تامل سے اور ساری کتاب کو انصاف کی رو سے دیکھتے تو ہر گز یہ اعتراض نہ کرتے۔اللہ رب العزت نے مشرکوں اور کافروں کو غور و تدبر نہ کرنے پر بارہا الزام دیا ہے اَفلاَ یتَدَبرَُّوْنَ الْقُرْآن اہل علم پر کچھ چھپا نہیں کہ یہ اعتراض بوگس ہے اورحقیقت یہ ہے کہ تعصب ،اورضد کا علاج ہمارے پاس کچھ نہیں ۔
ناکس کا صفا کیش سے مطلب نہ بر آئے
جو کورہو عینک سے اسے کب نظر آئے
مولنا حکیم برکات احمد صاحب (جنکا شمار بریلوی اکابر میں ہوتا ہے )نے کیا خوب کہا کہ:
’’اکابر علماء کا یہ طریقہ ہے کہ جو کسی عالم کی تصنیف میں غلطی ہوجائے تو اس کو حتی الامکان بناتے ہیں اگر صحیح ہو تو فھوا المراد اور اگر وہ غلطی صحیح نہ ہوسکے تو مصنف کو برائی سے یاد نہ کرے چہ جائے کہ اس کو کافر کہیں اگر تقویۃ الایمان میں کوئی غلطی نظر آئے تو اس کو حتی الامکان صحیح کرنا چاہئے اگر صحیح نہ ہوسکے تو اس کو چھوڑ دے مصنف کتاب کو کافر نہ کہے یہ متقدمین علماء کے خلاف ہے اگر تقویۃ الایمان سمجھ میں نہیں آتی تو اس کو نہ دیکھیں‘‘۔
(مولانا حکیم سید برکات احمد سیرت و علوم:ص ۱۹۰:برکات اکیڈمی کراچی ۱۹۹۳)
اہل علم پر یہ بات خوب واضح ہے کہ حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اللہ تعالی کی حکمتوں اور قدرت کاملہ کو بیان کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں مخلوق کی عاجزی ضعف اور کمزوری کو بیان کرنا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی بات کو بیان کرنے کیلئے جس پیرایہ کو اختیار کیا ہے وہ ہر گز کسی ولی یا نبی کی توہین نہیں دیکھو اللہ تعالی عیسائیو ں کے فاسد عقائد کو رد کرتے ہوئے فرماتا ہے لَقَدُ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنَ مَرَیمَ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِکَ الْمَسِیح ابن مَرْیَمَ وَ اُمَّہ‘ وَ مَنْ فِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعاً ۔جن کو خدا نے عقل دی ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ معاذ اللہ قابل ہلاکت اور عذاب کے نہیں ہیں اللہ تعالی نے صرف ایسے معتقدوں کے گمان فاسد کے رد کیلئے ایسی تنبیہ اور زجر فرمائی ہے کہ وہ لوگ عقیدہ باطل سے توبہ کریں اور خدائے قہار و جبارکا حکم بجا لائیں تو صاحب تقویۃ الایمان نے جاہل عوام کے گمان باطل اور زعم فاسد کا رد کیا ہے کہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فلاں مخلوق یا فلاں ہستی جو چاہیں سو کریں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں وہ مختار کل ہیں خدائی اختیارات کے مالک ہیں تو ایسے لوگوں کے گمان کو ر دکرتے ہوئے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ۔غور فرمائیں کہ یہاں بیان دو نسبتوں کا ہے ایک تو نسبت مخلوق کی خالق سے ہے اور دوسری نسبت ایک مخلوق کی دوسری مخلوق سے اور یہاں پہلی نسبت کابیان ہے گویا مقصود صاحب تقویۃ الایمان کا صرف یہی ہے کہ نسبت مخلوق کے مراتب کی خالق کے مراتب کی نسبت کے ساتھ بالکل کچھ بھی نہیں ایک ذرہ برابر بھی مخلوق کا مرتبہ خالق کے مراتب کے آگے نہیں اس واسطے کے تمام مخلوق حادث محتاج ہے قدیم پیدا کرنے والے قدرت کامل رکھنے والے کی اس سے اس کو کچھ بھی مناسبت و مشابہت نہیں لیس کمثلہ شیء اس کی تو شان یہ ہے کہ اذا رادا شیئا ان یقول لہ کن فیکون پس صاحب تقویۃ الایمان کا یہ قول ہے کہ ہر مخلوق اللہ تعالی کی شان کے آگے چما ر ے بھی زیادہ ذلیل ہے بہت بجااور بالکل درست ہے کیونکہ ہر موحد مسلمان کا یہی اعتقاد ہیکہ اس عزیزذو انتقام کے آگے ہر مخلوق ذلیل یعنی نہایت ضعیف اور عاجز بے سر و سامان ہے۔یہاں ذلت کا لفظ بھی اسی لئے استعمال کیا گیا کہ اس کی نقیض عزت ہے ہے جس کے معنی قوت اور وہ دائمی قدیمی سوائے اللہ کے کسی کو نہیں وہ خود فرماتا ہے کہ میں ذلت سے منزہ و مبرہ ہوں و لم یکن لہ ولی من الذل یعنی وہ رب ایسا نہیں کہ اسے کسی ذلیل یعنی کمزور کی حاجت ہو۔
پس وہ خالق بے نیاز و غنی ہے اور ہر مخلوق سراسر احتیاج و محتاج ہے اس ذات کے ساتھ اس کی کسی طرح برابری شرکت اور مقابلہ نہیں کیونکہ وہ خالق مطلق اور رزاق برحق ہے ازل سے ابد تک عزیزوقوی و،مالک الملک قاہر و غالب قدیم ہے ولہ الکبریاء فی السموت والارض اور حدیث قدسی الکبریاء ردائی و العظمۃ ازاری اس عزیزالسلطان کی شان ہے ۔
چنانچہ وہ خود اپنی شان کے متعلق فرماتا ہے کہ ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا اور ہم ماقبل میں تفسیر نسفی سے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ عبد کا معنی ذلیل اور عاجز ہے اور صاحب جلالین نے تو صاف تصریح کردی کہ ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا م اور حضرت عزیر علیہ السلام بھی داخل ہیں آخر یہ معترضین صاحب جلالین پر کوئی فتوی کیوں نہیں لگاتے جو ان اولو العزم انبیاء کا نام لیکر ان کو ذلیل لکھ رہے ہیں۔۔۔؟؟؟؟ان پر فتوے کیوں نہیں۔۔؟؟کسی نے کیا ہی خوب کہا
ہنر بچشم عداوت قبیح تر باشد حسد بحاسد طبعے فضیح تر باشد
امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عبد کے معنی ذلیل کے لکھے ہیں تو ان پر کوئی فتوی کیوں نہیں جس طرح ان کا مقصد توہین نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ اس واحد القہار ذات کے سامنے تمام مخلوق ہے وہ ضعیف و ناتواں ہے جس کو ذلیل سے تعبیر کیا ہے پس یہی مقصود تقویۃ الایمان کی اس عبارت کا ہے حیرت تو یہ ہے کہ صاحب تقویۃ الایمان نے نہ تو کسی ولی کا ذکر کیا نہ نبی کا مگر پھر بھی وہ گستاخ اور یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کا نام لکھ کر یہی الفاظ استعمال کررہے ہیں مگر پھر بھی ولیاء اللہ ۔مگر
ان بزرگوں کو برا کہنے سے کیا پھل پاؤ گے
دیکھ لو گے تم بھی کل اس کی کیا سزا پاؤ گے
صاحب جلالین قرآن پاک کی آیت ماالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل و امہ صدیقہ کانا یاکلان الطعام کی تفسیر میں لکھتے ہیں کانا یاکلان الطعام کغیر ھما من الحیوانات (ص ۱۰۴)غور فرمائیں یہاں تو ایک اولو العزم نبی اور ان کی پاک باز والدہ کو بسبب احتیاج اور ضعیف ہونے کے جانوروں سے تشبیہ دے دی گئی اور حیوانات کے ساتھ ان کا ذکر کردیا گیا اب کوئی بریلوی حضرات کی طرح شرم و حیاء کا کرتہ تین سال کی عمر میں اٹھالے اور کہے کہ :
حیوانات میں تو کتا بھی ہے۔۔۔۔
خنزیر بھی ہے۔۔۔۔۔
گدھا بھی ہے۔۔۔۔
الو بھی ہے۔۔۔۔۔
گویا صاحب جلالین نے معاذ اللہ۔۔۔۔۔۔اندازہ لگائیں بات کہاں تک پہنچ گئی؟ تو اگر صاحب تقویۃ الایمان نے مخلوق کی کمزوری و عاجزی کو ثابت کرنے کیلئے مطلقا مخلوق کیلئے چمار(موچی) کا لفظ استعمال کردیا تو کسی کو کیا تکلیف۔۔؟؟بتائیں کیاجلالین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کو بسبب احتیاج کے اور اختیار نہ ہونے کے مانند اور جانوروں کی طرح لکھنا کیا ان کی حقارت اور گستاخ کرنے کیلئے لکھا گیا ہے ۔۔؟؟؟؟ نعوذ باللہ من سوء الفہم
شیخ سعدی بھی اسی قہا ر عزیزو جبار کی شان میں فرماتے ہیں کہ
گر بمحشر خطاب قہر کنند
انبیاء را چہ جائے معذرت است
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اس قہار و جبار ذات کی کبریائی اور مخلوق کی بے چارگی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’و اما معرفت دوم آں بود کہ از صفت وی نخیزد ،ولکن از ناباکی و قدر آں خیزد کہ از وی من ترسد ،چنانچہ کسی در چنگال افتد و بترسد ،نہ از گناہ خویش لیکن از آنکہ صفت شیر می داند کہ طبع وی ہلاک کردن است و آنکہ بہ وی و بہ ضعیفی وی ہیچ پاک ندارد ،و ایں خوف تمام تر و فاضل تر ، و ہرکہ صفات حق تعالی بشناخت و جلالت و بزرگی و توانائی و بے باکی وی بداں آنست کہ اگر ہمہ عالم ہلاک کنند و جاوید د دوزخ دارد ،یک ذرہ از مملکت وی کم نشود و آنچہ آں را رقت و شفقت گویند از حقیقت آں ذات او منزہ است،جائی آں بود کہ بترسدو ایں ترس انبیاء را نیز بود اگرچہ دانند کہ از معصیت معصوم اند و ہر کہ بخدائے تعالی عارف تر بود تر ساں تر باشد و رسول اللہ(ﷺ) از ایں گفت ’’من عارف ترین شما ام بخدائے و تر ساں ترین و برائے ایں گفت انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء و ہر کہ جاہل تر بود ایمن تر بود و وحی آمدبداود (علیہ السلام)کہ یا داود از من چناں ترس کہ از شیر خشمگین ترسی۔(کیمیائے سعادت ،ج۲،ص ۴۰۱،۴۰۲،طبع تہران)
ترجمہ:معرفت کی دوسری صور ت یہ ہے کہ اپنے عیوب اور معاصی کے باعث یہ خوف نہ ہو بلکہ وہ جس سے ڈرتا ہے اس کی بے باکی اور قدرت ا س کی معرفت کا سبب بنی ہو،مثلا جب کوئی آدمی شیر کے پنجے میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ اپنی غلطی اور کوتاہی کے سبب سے نہیں ڈرتا بلکہ ا س بات سے ڈر رہا ہوتا ہے کہ شیر درندہ جانور ہے اور اس کو پنجے میں گرفتار ہونے والے کی کمزوری کی کچھ پروا ہ نہیں ، یہ خوف بہت فٖضیلت رکھتا ہے ،پس جس نے اللہ کی صفت قدرت کو پہچانا اس کی بزرگی قوت او بے پروائی کو جانا اور سمجھ گیا کہ اگر وہ سارے عالم کو ہلاک کردے اور ہمیشہ کیلئے دوزخ میں رکھے تو اس کی بادشاہت سے ایک ذرہ بھی کم نہیں ہوگا اور بے جانرمی و شفقت بے جا سے اس کی ذات پاک ہے تو یقیناًوہ ڈرے گا ایساخوف انبیاء کرام کو بھی ہوتا ہے اگرچہ وہ معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں اور جس شخص کو یہ درجہ معرفت جس قدر زیادہ حاصل ہوگا وہ اسی قدر (اس ذات بے نیاز سے )زیادہ ڈرنے والا ہوگا اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یقیناًمیں تم میں سب سے زیادہ اپنے رب کی معرفت رکھنے والا ہوں اور تمہاری نسبت سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا بھی ہوں اسی سبب سے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس کے بندوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والے اہل علم ہی ہیں اور جو اس کے عرفان ذات و صفات سے جس قدر بے بہر اور جاہل ہوگا وہ اس کی ذات سے اتنا ہی زیادہ بے خوف ہوگا ۔حضرت داود علیہ السلام کی طرف وحی آئی کہ اے داود ! مجھ سے ایسا ڈر جیسے شیر سے ڈرتا ہے ۔
امام غزالی ؒ کی روحانی و علمی وجاہت کا کوئی جاہل ہی منکر ہوسکتا ہے جب انھوں نے اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی بے پرواہ ذات کی بڑائی و کبریائی کو ثابت کرنے کیلئے بھیڑئے اور درندے کی مثال دے دی اور نبی کریم ﷺ اور حضرت داود علیہ السلام کے ناموں کی اس میں تصریح کردی تو اگر شاہ صاحب نے مخلوق کیلئے چمار کی مثال دے دی یا ذلیل کا لفظ استعمال کرلیا تو کسی کو کیا تکلیف؟ ۔
غرض اس طرح کی مثالیں معاذ اللہ کسی کی توہین یا تنقیص کو بیان کرنے کیلئے نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی طاقت و قدرت اور مخلوق کی بے بسی کو ظاہر کرنے کیلئے بیان کی جاتی ہیں حضرت شاہ صاحب نے جو اسلوب اختیار کیا وہ قرآن و سنت اور بزرگان دین کے اسلوب بیان کے عین مطابق ہے ۔۔تو پھرآخر یہ دشمنی صرف شاہ صاحب سے ہی کیوں۔۔؟؟؟
شاہ صاحب کی عبارت میں ’’آگے‘‘ کا لفظ ہے جس کا عام معنی ’’مقابلہ ‘‘ ہوتا ہے ۔جیسے کہا جاتا ہے کہ چاند کی سورج کے آگے کیا حیثیت ہے یعنی چاند کی سورج کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے ۔اسی طرح کہتے ہیں کہ صدر کے حکم کے آگے تھانیدار کے حکم کی کوئی وقعت نہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ صدر کے حکم کے مقابلے میں تھانیدار کے حکم کی کوئی وقعت نہیں ۔حضر ت شاہ صاحب کی عبارت میں آگے کا لفظ اسی مقابلہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی خالق کے مقابلہ میں ۔
اسی طرح ’’ذلت ‘‘ کے لفظ کے متعلق وضاحت کردوں کہ ذلت کے معنی ضعف کمزور ی قلت کے ہیں امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الذل ما کان عن القھر۔۔یقال الذل والقل ،والذلۃ والقلۃ(مفردات القرآن ،ص ۱۳۶)
غرض ذلت کے معنی کمزور ،عاجز ناتواں ہونا دوسرے کے مقابلے میں، اور عزت کے معنی قوت و غلبہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ قرآن پاک کی آیت ولقد نصرکم اللہ ببد ر و انتم اذلۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
قال صاحب الکشاف الاذلۃ جمع قلۃ۔۔۔انہ تعالی قال و اللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین فلا بد من تفسیر ھذا الذ ل بمعنی لاینافی مدلول ھذہ الآیۃ ، و ذالک ھو تفسیرہ بقلۃ العدد و ضعف الحال وقلۃ السلاح و المال و عدم القدرۃ علی مقاومۃ العدو و معنی الذل الضعف عن المقاومۃ و نقیضہ العز و ھو القوۃ والغلبۃ۔
(تفسیر کبیر ، ج ۸،ص ۲۲۸)
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے خود اس آیت کی نقیض اور معارضے میں قرآن پاک کی ایک اور آیت و للہ العزۃ ولرسولہ و اللمومنین کو پیش کرکے اس کا جواب دیا بریلویوں کے مناظر اعظم عمر اچھروی نے بھی مقیاس حنفیت میں اسی آیت کو تقویۃ الایمان کی اس عبارت کی نقیض میں پیش کرکے واویلا کیا مگر شاہ صاحب کی کرامت تو دیکھئے کہ اس کا جواب امام رازی نے اس وقت دے دیا جب ابھی عمر اچھروی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔۔
اس حوالے سے صاف طاہر ہے کہ ہر مخلوق خالق بدیع السموت کے قوت و غلبہ و عز کے مقابلے میں بلا ریب ذلیل ہے یعنی ذرہ کے مانند ضعیف و ناتواں کس قدر افسوس کی بات ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو تو کفار مشرکین اور عاجز مخلوق کے مقابلے میں ذلیل کہا جارہا ہے مگر وہی اسلوب جب شاہ صاحب مخلوق اور خالق کے درمیان نسبت کو بیان کرنے کیلئے اختیار کریں تو کفر گستاخی توہین کے فتوے۔
تفسیر ابو سعود میں ہے کہ :
اذلۃ جمع ذلیل و انما جمع قلۃ للایذان باتصفاھم حینئذ یوصفی القلۃ والذلۃ اذا کانوا ثلاثماءۃ و بضعۃ عشر و کان ضعف حالھم فی الغایۃ (تفسیر ابو سعود ،ج۱،ص ۴۰۹)۔
پس قرآن شریف اور تفسیروں سے واضح ہوا کہ اس مالک الملک نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو بسبب ضعف و قلت مال کے کفار کے مقابلے میں ذلیل فرمایا تومخلوق اس مالک الملک کی عزت کاملہ و سلطنت قاہرہ کے آگے اور قوت باہرہ کے سامنے کیوں کر ضعیف و نحیف و ذلیل نہ گنے جائیں اس لئے کہ ذلت و ضعف محتا ج انسان کا نشان ہے اور فرمان رب اس پر دلیل ہے وہ خو د فرماتا خلق الانسان ضعیفا اور یہ شان تو اسی کی ہے ھو القاہر فوق عبادہ۔
پھر حضرت شاہ صاحب نے بادشاہ اور چمار کا ذکر کرکے واضح کردیا کہ یہاں ذلیل کے معنی کمزور ضعیف اور بے سرو سامان کے ہیں نہ کہ حقیر ،کمینہ اور بے عزت جیسا کہ بریلوی حضرات لوگوں کو مغالطہ دیتے ہیں کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ موچی بادشاہ کے مقابلے میں کمزور ،ضعیف تو ہوتا ہے بے عزت اور کمینہ نہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ بریلوی نادار اور ضعیف کو ہی کمینہ سمجھتے ہوں کیونکہ ان حضرات کی ساری توجہ دنیا کے مال و متاع ہی پر ہوتی ہے اسی دنیاوی متاع کیلئے اپنا ایمان بھی بگاڑا اور لوگوں کے ایمان بگاڑنے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ بے عزت ، حقیر اور رسوا تو وہ ہوتا ہے جو جو بد عمل ،بد کردار ،بد عقیدہ ہو جو شخص غلط عقائد رکھتا ہو ،غلط کام کرتا ہو بے عزت و رسوا وہی ہوتا ہے خواہ ہفت اقلیم کی بادشاہت رکھتا ہو اور جو شخص خدا کے پسندیدہ کام کرتا ہو وہ خواہ کتنا کمزور و ضعیف کیوں نہ ہو بے عزت و حقیر نہیں ہوتا کہ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ۔غرض عبارت کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہر مخلوق چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور ،دولت مند ہو یا نادار اللہ تعالی کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ کمزور و ناتواں ہوتی ہے جتنا کہ ایک موچی بادشاہ کے مقابلے میں ضعیف اور کمزور ہوتا ہے ۔
تقویۃ الایمان کی عبارت میں بریلوی مولوی اکثر’’بڑا‘‘،’’چھوٹا‘‘ کے لفظ سے دھوکہ دیتے ہیں کہ بڑے سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں اور چھوٹے سے مراد اولیاء اللہ (جیسا کہ احمد سعید کاظمی نے الحق المبین میں لکھا) حالانکہ چھوٹا بڑے سے مراد عوام اور بادشاہ بھی ہوسکتے ہیں ،طاقتور اور کمزور بھی بڑا چھوٹا کہلائے جاسکتے ہیں ، جب کہا جاتا ہے ’’بڑا ملک چھوٹے ملک پر حملہ نہ کرے‘‘تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ طاقتور ملک کمزور ملک پر حملہ نہ کرے ،اسی طرح مالدار اور نادار پر بھی چھوٹے بڑے کا اطلاق ہوسکتا ہے ،زیادہ عمر والوں اورکم عمر والوں کو بھی بڑا چھوٹا کہا جاتا ہے غرضیکہ چھوٹے بڑے کے بہت سے معنی مراد لئے جاسکتے ہیں مگر برا ہو تعصب کا کہ بریلویوں نے ہر حال میں یہ رٹ لگانی ہے کہ نہیں بڑے سے مراد انبیاء ہیں اور چھوٹے سے مراد اولیاء اللہ ۔اگر کفر ایسے ہی ثابت ہوتا ہے تو احمد رضاخان صاحب کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قد م اعلی تیرا
(حدائق بخشش:حصہ اول :ص ۴۔مدینہ پبلشنگ)
اب کوئی کہے کہ یہاں اس شعر میں اونچے سے مراد تو اولیاء اللہ ہیں او ر اس اونچے سے بھی اونچوں سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں گویا احمد رضاخان صاحب کے نزدیک شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا مرتبہ معاذ اللہ انبیاء سے بھی بڑھ کر ہے۔کیا کوئی بریلوی ہماری اس تشریح کو تسلیم کرے گا؟ایک جگہ ایک بریلوی کے سامنے جب فقیر نے یہی شعر پیش کیا تو کہا کہ اعلی حضرت نے دیگر مقامات پربیان کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا رتبہ سب سے اونچا ہے لہٰذا انبیاء اس شعر سے خارج ہیں میں نے فورا کہا کہ اللہ کے بندے شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے جو جگہ جگہ انبیاء کی شان و مراتب کو بیان کیا کیا وہ تجھے نظر نہیں آتی؟
حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’کسی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کے سامنے ساری خلقت اس طرح ظاہر نہ ہوگویا و ہ اونٹ کی مینگنی ہے‘‘ ۔
(فوائد الفواد :ص ۲۲۳۔علماء اکیڈمی محکمہ اوقاف پنجاب)
پشاور کے معروف بریلوی عالم پیر محمد چشتی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’تمام مخلوق میں وہ (یعنی ذوات قدسیہ انبیاء مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام)بھی شامل ہیں‘‘۔
(اصول تکفیر :ص ۱۹۷)
جواب دیں کیا اس اصول کے تحت ’’ساری خلقت‘‘ کے لفظ میں انبیاء مرسلین شامل نہیں؟احمد رضاخان صاحب اس عبار ت کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مخلوق کی د و قسمیں ہیں ایک تو انبیاء اولیاء اللہ نیک مومنین اور دوسری مخلو ق جو دینی اعتبار سے کسی عظمت کے لائق نہیں ان کے بد تر و ذلیل تو کفار مشرکین مثل وہابیہ دیوبندیہ غیر مقلدین پھر باقی ضالین ،اس قسم کی عبارتوں میں یہی دوسری قسم کی مخلوق مراد ہیں اور انبیاء اولیاء اللہ اس سے مستثنی ہیں ۔
(ملخصا ۔عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ :ص ۱۱۸تا۱۲۱)
غو ر فرمائیں عبارت میں دور دور تک اس تقسیم کا کوئی ذکر نہیں مگر چونکہ اس عبارت پر فتوی لگانے پر مزارات کی آمدنی رکنے کا اندیشہ تھا اس لئے اتنی دور کی کوڑی لائے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ تقویۃ الایمان میں ہر مخلوق سے مراد وہ مخلوق ہے جن کی دینی اعتبار سے کوئی عظمت نہیں ان کے بدتر وذلیل تو کفار مشرکین مثل رضاخانی ،مرزائی اور شیعہ ہیں۔ اس عبارت میں مقصود انہی کو بیان کرنا ہے کہ بڑے سے مراد تو ان کے بڑے پیشوا جیسے احمد رضاخان صاحب ، نعیم الدین مراد آبادی صاحب، مرزا قادیانی اور چھوٹے سے مراد بعد کے پیر فقیر تو شاہ صاحب فرمارہے ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر ان جیسوں کو حاجت روا مشکل کشا اپنا نبی ماننا ایسا ہے کہ جیسے کسی بڑی ہستی کا منصب ان جیسے ذلیلوں کو دے دیاجائے ۔بریلوی حضرات سیخ پا نہ ہوں کیونکہ جب وہ اس عبارت میں انبیاء و اولیاء کو داخل کرنے کی جسارت کرسکتے ہیں تو یہ مشق احمد رضاخان ،نعیم الدین اور دیگر بریلوی مشکل کشاؤں پر کیوں نہیں کی جاسکتی؟۔
آخری گزارش
مصطفی رضاخان صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’یہاں وہابیہ سخت دھوکا دیتے ہیں کہ جب تنقیص و توہین شان رسالت کفر ہے تو اسماعیل نے بھی کی ۔وجہ کیا ہے کہ اشرفعلی وغیرہ ایسے کافر ہوں کہ ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہو اور اسمعیل ایسا نہ ہو؟ مگر مسلمان ہوشیار ہوں یہاں خبثاء کا سخت دھوکا ہے ۔اصل یہ ہے کہ اسماعیل اور حال کے وہابیہ کے اقوال میں فرق ہے ۔ ہم اہل سنت متکلمین کا مذہب یہ ہے کہ جب تک کسی قول میں تاویل کی گنجائش ہوگی تکفیر سے زبان روکی جائے گی کہ ممکن ہے اس نے اس قول سے یہی معنی مراد لیا ہو‘‘۔
(حاشیہ ملفوظات اعلی حضرت (تحریف شدہ) :ص ۱۷۲: مکتبۃ المدینہ )
اس ایڈیشن پر الیاس قادری عطاری صاحب کی تقریظ موجود ہے اور اسے دعوت اسلامی کی مجلس مدینۃ العلمیہ نے شائع کیا ہے جوبریلوی مفتیان و علماء پر مشتمل بورڈ ہے ۔یہاں حاشیہ نگار نے متکلمین کا نام استعمال کرکے خان صاحب کو بچانے کی جو ناکام کوشش کی ہے فی الوقت اس کا رد مقصود نہیں صرف اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ مصفطی رضاخان کہنا چاہ رہے ہیں کہ متکلمین کے ہاں اگر کسی عبارت میں ایسی تاویل ہوسکتی ہے جو کفریہ نہ ہو جس کی وجہ سے قائل پر کفر کا فتوی نہیں لگتا ہے تو ہم اسی تاویل کو اختیار کرکے کفر کا فتوی نہ دیں گے ۔اب ہم پوری جماعت رضویہ سے سوال کرتے ہیں کہ آخر وہ کونسا صحیح مفہوم ہے جو اس عبارت سے مستفا د ہوتا ہے جس کی بنیاد پر کفر کا فتوی نہیں لگے گا؟ اور احمد رضاخان ،ان کے بیٹے اور دعوت اسلامی کے ذمہ داران نے اسی صحیح تاویل کو اختیار کرکے فتوائے تکفیر سے اعراض کیا؟ ۔بریلوی حضرات ا س تاویل کی وضاحت کریں اور ساتھ میں یہ بھی جواب دیں کہ آج کل کے جو بریلوی ان عبارات میں کسی بھی قسم کی تاویل نہ مان کر احمد رضاخان کے دین و ایمان سے پھر گئے ہیں کیا وہ مسلمان رہے ہیں یا نہیں ؟
الحمد للہ ہم نے اس مختصر وضاحت سے ثابت کردیا کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت قرآن و سنت اور بزرگان دین کے اسلوب کے عین مطابق ہے اور خود مخالفین کے ہاں بھی اس عبارت میں کفر کا معنی مراد نہیں لیا جاسکتا جس کی وجہ سے وہ تکفیر بھی نہیں کررہے ہیں پس انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر یہ گستاخی ہے تو پہلے فتوی قرآن و سنت اور ان بزرگان دین اور بریلوی اکابرکے خلاف لگنا چاہئے حضرت شاہ صاحب تو محض ان کے مقلد کہلائیں گے۔اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔