جمعہ، 19 جون، 2015

توضیح البیان فی حفظ الایمان

 

توضیح البیان فی حفظ الایمان

مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ


الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و المرسلین
بریلوی فرقے کے بانی مولوی احمد رضاخان صاحب حضرت حکیم الامت مجد د دین و ملت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کے متعلق اپنے مذہب کی بنیادی کتاب ’’حسام الحرمین ‘‘ کے صفحہ ۷۴ پر فرماتے ہیں کہ:
اور ا س فرقہ وہابیہ شیطانیہ کے بڑوں میں سے ایک اور شخص اسی گنگوہی کے دم چھلوں میں سے جسے اشرف علی تھانوی کہتے ہیں ۔اس نے ایک چھوٹی سے رسلیا تصنیف کی چار ورق کی بھی نہیں۔اور اس میں تصریح کی کہ غیب کی باتوں کا جیساعلم رسول اللہ ﷺ کو ہے ایسا تو ہر بچے اور پاگل بلکہ ہر جانور اور ہر چوہائے کو حاصل ہے اور ا س کی ملعون عبارت یہ ہے :
آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید و عمر وبلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کیلئے بھی حاصل ہے ۔الی قولہ اور اگر تمام علوم غیبیہ مراد ہیں اس طرح کہ اس کا ایک فرد بھی خارج نہ رہے تو اس کا بطلان دلیل نقلی و عقلی سے ثابت ہے ۔میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالی کی مہر کا اثر دیکھو یہ شخص کیسی برابری کررہا ہے رسول اللہ ﷺ اور چنیں و چناں میں۔(حسام الحرمین مع تمہید ایمان،ص۷۴،مطبوعہ کراچی،۱۹۹۹ ؁ء)
جواب:


اس جگہ احمد رضاخان صاحب نے حکیم الامت ؒ کے متعلق جو سخت اور متعفن کلمات استعمال کئے ان کا جواب تو ہم کچھ بھی نہیں دے سکتے اس کا ترکی بہ ترکی جواب وہی بازاری دے سکتا ہے جو گالیوں کے فن میں مجدد انہ شان رکھتا ہو ۔ہم تو اس فن سے بالکل عاری ہیں ادھر قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ؛
اے رسول آپ میرے ایمان والے بندوں سے کہئے کہ وہ بات کہیں جو اچھی ہو تحقیق شیطان پھوٹ ڈلواتاہے ان کے درمیان بے شک شیطان ان کا کھلا دشمن ہے ۔(بنی اسرائیل ،۵۳)۔
اس کے بعد ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں لگتا ہے کہ حسام الحرمین لکھتے وقت اس شخص نے قسم کھائی تھی کہ کسی معاملہ میں بھی سچائی اور دیانت داری سے کام نہیں لوں گا غور تو کیجئے کہاں حفظ الایمان کی اصل عبارت اور اس کا حقیقی اور واقعی مطلب اور کجا خان صاحب کا تصنیف کردہ یہ لعنتی مضمون کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم رسول اللہ ﷺ کو ہے ایسا تو ہر پاگل ہر چوپائے کو ہے معاذ اللہ۔کاش کہ احمد رضاخان صاحب اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے حفظ الایمان کی پوری عبارت نقل کردیتے تو ہمیں جواب لکھنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرنا پڑتی اور قارئین کرام خود فیصلہ فرمالیتے۔
حفظ الایمان دراصل ایک مختصر رسالہ ہے جس میں تین بحثیں ہیں اور تیسری بحث یہ ہے :
حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنا درست ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ مولانا کی بحث اس میں نہیں کہ حضور ﷺ کو علم غیب تھا یا نہیں ؟اور تھا تو کتنا بلکہ حکیم الامت ؒ صرف اتنا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنا درست ہے یا نہیں ،اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کیلئے ثابت ہونا اس کو مستلز م نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔قرآن کریم میں اللہ تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے لیکن اس کے باجود فقہاء کرام ؒ نے تصریح کی ہے کہ اللہ تعالی کو خالق القردۃ والخنازیرکہنا جائز نہیں۔۔اسی طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا و وظائف دئے جاتے ہیں اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں ہے کہ ’’رزق الامیر الجند (امیر نے لشکر کو رزق دیا)لیکن اس کے باوجود بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں۔اور حضور ﷺ کے خصائل مبارکہ کے متعلق حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ’’آپ ﷺ خود ہی اپنی نعل مبارکہ کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے تھے‘‘۔
لیکن اس کے باوجود حضور اقدس ﷺ کو خاصف النعل اور حالب الشاۃ نہیں کہا جاسکتا بہرحال یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے مگر اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اس تمہید سے قارئین کرام سمجھ گئے ہونگے کہ حضور ﷺ کو علم غیب ہونا نہ ہونا ایک الگ بحث ہے اور آپ ﷺ کی ذات مقدسہ پر عالم الغیب کے اطلاق کا جوا ز و عدم جواز یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔اور ان دونوں میں باہم تلازم بھی نہیں۔جب یہ بات ذہن نشین ہوگئی تو اب سمجھئے کہ حفظ الایمان میں اس موقع پر حضرت حکیم الامت ؒ کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات مقدسہ پر عالم الغیب کا اطلاق کیا جاناجائز ہے یا نہیں اور حضور ﷺ کو جس طرح خاتم النبیین ،سید املرسلین،رحمہ للعالمین وغیرہ وغیرہ القابات سے یاد کرسکتے ہیں اسی طرح لفظ ’’عالم الغیب‘‘ سے بھی کیا حضور ﷺ کو یاد کیا جاسکتا ہے؟۔اور اس مدعا کی دو دلیلیں حضرت حکیم الامت ؒ نے پیش کی ہیں۔
پہلی دلیل کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ چونکہ عام طو ر پر شریعت کے محاورات میں عالم الغیب اسی کو کہاجاتا ہے جس کو غیب کی باتیں بلا واسطہ اور بغیر کسی کے بتلائے ہوئے معلوم ہوں (اور یہ شان صرف اللہ تعالی کی ہے)لہٰذا کسی دوسرے کو عالم الغیب کہا جائے گا تو اس عر ف عام کی وجہ سے لوگوں کا ذہن اسی طرف جائے گا کہ ان کو بھی بلاواسطہ غیب کا علم ہے (اور یہ عقیدہ صریح شرک ہے)پس اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو عالم الغیب کہنا بغیر کسی ایسے قرینہ کے جس سے معلوم ہوسکے کہ قائل کی مراد علم غیب بلا واسطہ نہیں ہے اس لئے نادرست ہوگا کہ اس سے ایک مشرکانہ خیال کا شبہ ہوتا ہے قرآن کریم میں ایسے کلمات سے منع فرمایا گیا ہے۔
مگر چونکہ خان صاحب احمد رضاخان کو اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں اور اپنی کتاب الدولۃ المکیہ میں ایک جگہ اسی بات کو کافی تفصیل سے ذکر کیا ہے اس لئے ہم اس کی تصویب و تائید میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔اب حکیم الامت ؒ کی دوسری دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسی میں وہ عبارت واقع ہے جسکے متعلق خان صاحب کا دعوی ہے کہ اس میں تصریح ہے کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم رسول خدا ﷺ کو ہے ایسا تو ہر بچے ہر پاگل اور ہر جانور اور ہر چارہائے کو حاصل ہے۔
لیکن ہم حفظ الایمان کی اصل عبارت نقل کرنے سے پہلے ناظرین کی سہولت کیلئے یہ بتلادینا مناسب سمجھتے ہیں کہ اس دوسری دلیل میں مولانا نے مسئلہ کی دو شقیں کرکے ان میں سے ہر ایک کو غلط اور باطل ثابت کیا ہے اور حاصل مولانا کی اس دوسری دلیل کا صرف یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی ذات مقدسہ پر عالم الغیب کا اطلاق کرتاہے اور آپ ﷺ کو عالم الغیب کہتا ہے (مثلازید)وہ یا تو اس وجہ سے کہتا ہے کہ اس کے نزدیک حضور ﷺ کو بعض غیب کا علم ہے یااس وجہ سے کہ آپ ﷺ کو کلی غیب کا علم ہے یہ دوسری شق تو اس وجہ سے باطل ہے کہ حضور ﷺ کو کلی غیب کا علم نہ ہونا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے)اور پہلی شق (یعنی مطلق بعض علم غیب کی وجہ سے حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنا)اس لئے باطل ہے کہ اس صورت میں لازم آئے گاکہ ہر انسان بلکہ حیوانات تک کو عالم الغیب کہا جائے کیونکہ غیب کی بعض باتوں کا علم تو سب کو ہے جیسا کہ آگے اس کی تفصیل آرہی ہے۔
یہ ہے مولانا کی ساری تقریر کا خلاصہ اس کے بعد ہم حفظ الایمان کی اصل عبارت مع توضیح کے درج کرتے ہیں ۔حضرت مولانا ؒ پہلی دلیل کی تقریر سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے ہیں کہ:
حفظ الایمان کی عبارت اور اس کی توضیح:
آپ ﷺ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا (یعنی آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر ’’عالم الغیب‘‘ کا اطلاق کرنا)اگر بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب امر (اسی زید سے)یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد (یعنی اس غیب سے جو لفظ عالم الغیب میں واقع ہے اور جس کی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کو عالم الغیب کہتا ہے)بعض غیب ہیں یا کل غیب(یہاں حضرت حکیم الامت ؒ اس شخص سے جو حضور ﷺ کو عالم الغیب کہتا ہے اور اس کو جائز سمجھتا ہے جس کا فرضی نام زید ہے ،یہ دریافت فرمارہے ہیں کہ تم جو حضور ﷺ کو عالم الغیب کہہ رہے ہو تو کس اعتبار سے آیا اس وجہ سے کہ حضور ﷺ کو بعض علم غیب ہے یا اس وجہ سے کل علم غیب ہے)اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں (یعنی تم حضور ﷺ کو بعض علوم غیبیہ کی وجہ سے عالم الغیب کہہ رہے ہو اور تمہارا اصول یہی ہے کہ جس کو غیب کی بعض باتیں معلوم ہونگی اس کو تم عالم الغیب کہو گے )تو اس میں (یعنی مطلق بعض غیب کے علم میں اور اس کی وجہ سے حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنے میں)حضور ﷺ کی کیا تخصیص ؟ایسا(بعض علم غیب کہ کسی کو عالم الغیب کہنے میں تم ضروری سمجھتے ہو یعنی مطلق بعض مغیبات کا علم)تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہئے کہ(تمہارے اس اصول کی بناء پر کہ مطلق بعض غیب کے علم کی وجہ سے بھی عالم الغیب کہا جاسکتا ہے )سب کو عالم الغیب کہا جاوے۔
حفظ الایمان کی عبارت میں خان صاحب کی تحریفات کی تفصیل
یہ تھی حضرت حکیم الامت ؒ کی اصل عبارت اور یہ تھا اس کا صاف اور صریح مطلب جوہم نے عرض کیا ۔لیکن خان صاحب نے اپنی حاشیہ آرائی سے اس میں وہ معنی ڈالے کہ شیطان بھی جس کو سن کر پناہ مانگے ۔اس سلسلہ میں خان صاحب نے جو تحریفات کی ہیں اس کی مختصر تفصیل یہ ہے :
(۱) حفظ الایمان کی عبارت میں ’’ایسا‘‘کا لفظا آیا تھا اور اس سے مطلق بعض غیوب کا علم تھا نہ کہ حضور ﷺ کا علم اقدس مگر خان صاحب نے اس سے حضور ﷺ کا علم شریف مراد لیا اور لکھ مارا کہ’’اس میں تصریح ہے کہ غیب ۔۔۔الخ
(۲) حفظ الایمان کی اصل عبارت اس طرح تھی
’’ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کیلئے بھی حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے۔
خان صاحب نے ا س آخری خط کشیدہ حصہ درمیان میں سے بالکل اڑا دیا کیونکہ اس سے صراحۃ معلوم ہوجاتا ہے کہ زید و عمرو وغیرہ کے متعلق جو علم تسلیم کیا گیا ہے وہ مطلق بعض غیب کا علم ہے نہ کہ معاذ اللہ رسول خدا ﷺ کا علم شریف۔
(۳) حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ کے طور پر یہ فقرہ تھا
تو چاہئے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے۔
خان صاحب نے اس کو بھی بالکل اڑادیا کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور ﷺ کے علم مبارک کی مقدار میں کلام نہیں فرمارہے ہیں بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے اور اتنا معلوم ہوجانے کے بعد رضاخان کی ساری کاروائی کی حقیقت کھل جاتی ہے۔بہرحال آپ حضرات نے دیکھ لیا کہ کس طرح خان صاحب نے ان عبارتوں کو بالکل ہضم کردیا جس سے اس عبارت کا صحیح معنی معلوم ہوسکتا تھا اور صرف شروع کی اور درمیان کی عبارت کو ہضم کرکے آخر کا فقرہ جوڑ دیا اورچالاکی یہ کی کہ عربی عبارت میں اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا جس سے معلوم ہوتا کہ یہ الگ الگ عبارتیں ہیں اور بیچ کا حصہ غائب کیا گیا ہے ۔یہ ہے اس مذہب کے بانی کی امانت و دیانت۔
حفظ الایمان کی مزید توضیح
اگر چہ خان صاحب کی دیانت اور ان کے فتوے کا حال تو ہمارے ناظرین کو اسی قدر بیان سے معلوم ہوگیا ہوگا مگر ہم بحث کی مزیدتوضیح کیلئے اس کے خاص خاص گوشوں پر کچھ اور روشنی ڈالنا چاہتے ہیں:
حضرت حکیم الامت ؒ کی دوسری دلیل کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ کلی غیب کی وجہ سے اور دوسری یہ کہ بعض کی وجہ سے ۔پہلی شق تو اس لئے باطل ہے کہ آپ ﷺ کو کلی علم غیب کا نہ ہونا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثاہت ہے اور دوسری اس لئے باطل کہ بعض غیب کی چیزوں کا علم دنیا کی دوسری حقیر چیزوں کو بھی ہے تو اس اصول پر سب کو عالم الغیب کہنا پڑے گا جو ہر طرح سے باطل ہے۔اگر اس دلیل کے اجزاء کی تحلیل کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بنیادی مقدمات صرف یہ ہیں:
(۱) جب تک مبداء کسی چیز کے ساتھ قائم نہ ہو اس پر مشتق کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا مثلا کسی کو عالم جب ہی کہا جاسکتا ہے جب کہ اس کی ذات میں علم کی صفت پائی جائے اور کاتب وہی کہلائے گا جو وصف کتابت کے ساتھ موصوف ہو۔
(۲) علت کے ساتھ معلول کا پایا جانا بھی ضروری ہے ۔
(۳) حضور ﷺ کو کل غیوب کا علم حاصل نہ تھا۔
(۴) مطلق بعض مغیبات کی خبر غیر انبیاء علیہم السلام بلکہ غیر انسانوں کو بھی ہوجاتی ہے۔
(۵) ہر زید و عمرو کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
ان مقدمات میں سے پہلے دونوں اور اخری دونوں تو عقلی مسلمات میں سے ہیں اور گویا بدیہی ہیں جس سے دنیا کا کوئی عاقل بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ اس لئے سر دست ہم صرف تیسرے اور چوتھے مقدمے کو خان صاحب ہی کی تحریرات سے ثابت کرتے ہیں۔
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
حفظ الایمان کے اہم مقدمات کا ثبوت خود خان صاحب کی تصریحات سے
حضرت مولانا تھانوی ؒ کی دلیل کا تیسرا مقدمہ یہ تھا کہ ’’آنحضرت ﷺ کو کل غیوب کی علم حاصل نہ تھا۔اس کا ثبوت خان صاحب کی کتابوں سے ملاحظہ ہو:
ہمارا یہ دعوی نہیں ہے کہ رسول خداﷺ کا علم شریف تمام معلومات الٰہیہ کو محیط ہے کیونکہ یہ تو مخلوق کیلئے محال ہے۔
اور آگے لکھتے ہیں کہ:
اور ہم عطائے الٰہی سے بھی بعض علم ہی ملنا مانتے ہیں نہ کہ جمیع
(الدولۃ المکیہ،ص۲۸،خالص الاعتقاد،ص۲۳)
اور یہی خان صاحب تمہید ایمان ص ۳۴ پر فرماتے ہیں کہ:
حضور ﷺ کا علم بھی جمیع معلومات الٰہی کو محیط نہیں۔
اس کے علاوہ مزید بھی کئی عبارات ہیں جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ خان صاحب کے نزدیک بھی حضور ﷺ کو کل غیب کا علم حاصل نہ تھا ۔ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل کا چوتھا قابل غور مقدمہ یہ تھا کہ ’’مطلق بعض مغیبات کی خبر غیر انبیاء علیہم السلام بلکہ غیر انسانوں کو بھی ہوجاتی ہے ۔اس کا ثبوت بھی خود خان صاحب کی کتابوں سے ملاحظہ ہو:
الدولۃ المکیہ کے ص۱۳ پر لکھتے ہیں کہ
بے شک ہم ایمان لائے ہیں قیامت پر اور جنت پر اور دوزخ پر اور اللہ تعالی کی ساتوں صفات اصلیہ پر اور یہ سب کچھ غیب ہے اور ہم کو اس کا علم تفصیلی حاصل ہے اس طور پر کہ ہمارے علم میں ان میں سے ہر ایک دوسرے سے ممتاز ہے ۔
خان صاحب کی ا س عبارت سے معلوم ہوا کہ غیب کی کچھ باتوں کا علم ہر مومن کو حاصل ہے۔
خان صاحب کے والد بزرگوار کو بھی غیب کا علم تھا:
موصوف اپنے ابا حضور کی ایک پیشنگوئی کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
یہ چودہ برس کی پیشنگوئی حضرت نے فرمائی۔اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو کہ حضور ﷺ کے غلامان غلام کے کفش بردار ہیں ،علوم غیب دیتا ہے ۔(ملفوظات ،حصہ چہارم،ص۱۴۳،۱۴۴،مطبوعہ لاہور)۔
خان صاحب کے نزدیک گدھے کو بھی بعض غیوب کا علم ہے
خان صاحب اپنے ملفوظات میں ایک جگہ ایک گدھے کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
ہم مصر گئے تھے وہاں ایک جلسہ بڑا بھاری تھا ۔دیکھا کہ ایک شخص ہے اس کے پاس ایک گدھا ہے اس کی آنکھوں پر ایک پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ایک چیز ایک شخص کی دوسرے کے پاس رکھ دیجاتی ہے۔بس گدھے سے پوچھا جاتا ہے گدھا ساری مجلس میں دورہ کرتا ہے جس کے پاس ہوتی ہے سامنے جاکر سر ٹیک دیتا ہے۔(ملفوظات ،حصہ چہارم،ص۳۴۲)
خان صاحب کے اس ملفوظ سے معلوم ہوا کہ گدھے کو بھی بعض اوقات بعض مخفی باتوں کا علم ہوجاتا ہے وھو المقصود۔
دنیا کی ہر چیز کو بعض غیوب کا علم حاصل ہے
ہر شے مکلف ہے حضور اقدس ﷺ پر ایمان لانے اور خدا کی تسبیح کے ساتھ(ملفوظات ،ص۴۱۸،حصہ چہارم)
ایک ایک روحانیت تو ہر ہر نبا ت ہر ہر جماد سے متعلق ہے اسے خواہ اس کی روح کہا جائے یا کچھ اور اور وہی مکلف ہے ایمان و تسبیح کے ساتھ حدیث میں ہے (ترجمہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے)کوئی شے ایسی نہیں جو مجھ کو خدا کا رسول نہ جانتی ہو سوا سرکش جن اور انسانوں کے۔(ایضا ص۴۲۰)
خان صاحب کے ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ
(۱) ہر مومن کو غیب کی کچھ باتوں کا علم ضرور ہوتا ہے۔
(۲) غیر مسلموں کو بھی کشف ہوتا ہے۔
(۳) گدھے جیسے احمق جانور کو بھی بعض مخفی باتوں کا علم ہوجاتا ہے۔
(۴) کائنات کی ہر چیز حتی کے نباتات و جمادات کو بھی غیب کی کچھ باتوں کا علم ہوتا ہے۔
اور یہی حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل کا چوتھا بنیادی مقدمہ تھا ۔الحمد للہ خان صاحب نے جن باتوں کی بنیاد پر حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت پر کفر کا فتوی لگایا تھا وہی مضمون ہم نے احمد رضاخان صاحب کی کتابوں سے ثابت کردیا اگر یہ کفر ہے تو احمد رضاخان صاحب اس کفر میں برابر کے شریک ہیں۔
چہ خواہی گفت قربانت شوم تا من ہما ں گویم
یاد رہے کہ حکیم الامت ؒ کی پہلی دلیل کہ مخلوق پر عالم الغیب کا اطلاق کیا جانا حرام ہے اور عرف میں اس کا اطلاق اس ذا ت پر ہوتا ہے کہ جسے ذاتی طوپر پر علم غیب حاصل ہو یہ بھی خان صاحب کو مسلم ہے لیکن چونکہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اس لئے اس کی وضاحت ضروری نہیں سمجھتے ورنہ مطالبہ پر یہ دونوں باتیں بھی انشاء اللہ خان صاحب ہی کی کتابوں سے ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔
اگر چہ اس عبارت کے متعلق اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر ہم مزید توضیح کیلئے ایک مثالی فوٹو پیش کرتے ہیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔
فرض کیجئے کسی ملک کا بادشاہ بہت بڑا مخیر ہے اس کے یہاں لنگر خانہ جاری ہے اور صبح و شام ہزاروں مسکینوں اور محتاجوں کا کھانا کھلایاجاتا ہے ۔اب کوئی احمق مثلا زید کہتا ہے کہ میں تو اس بادشاہ کو رازق کہوں گا ۔اس پر ایک دوسرا شخص مثلا عمرو کہے کہ بھائی تم جو اس بادشاہ کو رازق کہتے ہو کس وجہ سے ؟آیا اس وجہ سے کہ وہ ساری مخلوق کو رزق دیتا ہے ؟یا اس وجہ سے کہ بعض انسانوں کو کھانا کھلاتا ہے ؟پہلی شق تو بداہۃ باطل ہے اور اب دوسری صورت یعنی یہ کہ اس بادشاہ کو صرف اسی وجہ سے رازق کہا جارہا ہے کہ وہ بعض انسانوں کو کھانا کھلاتا ہے تو اس میں اس کی کوئی تخصیص نہیں ہے کیونکہ ایک غریب انسان اور ایک معمولی مزدو ر بھی کم از کم اپنے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے اور انسان تو انسان چھوٹی چھوٹی چڑیاں بھی اپنے بچوں کو دانہ دیتی ہے ۔تو پھر تمہارے اس اصول پر چاپئے کہ سب کو رازق کہا جائے۔۔الخ
غور فرمایا جائے کہ کیا عمرو کہ اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ ا س نے مخیر اور فیاض بادشاہ اور ہر غریب انسان اور ہر معمولی مزدور کو بالکل برابر کردیا اور اس نے ہر انسان اور ہر معمولی مزدور کو اس فیاض بادشاہ کے برابر فیاض مان لیا ۔ظاہر ہے کہ ایسا سمجھنا سمجھنے والی کی حماقت ہے ۔پس حفط الایمان میں جو کچھ کہا گیا وہ اس سے زیادہ نہیں ۔
لفظ ’’ایسا‘‘ کی تحقیق
رضاخانی مذہب کے مناظر اکثر مناظروں یا کتابوں میں اس بات کا بھی واویلاکر تے ہیں کہ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت میں ’’ایسا‘‘ کا لفظ تشبیہ کیلئے ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ حضور ﷺ کے علم کو چوپائیوں سے تشبیہ دے رہے ہیں۔حالانکہ یہ ان کی جہالت ہے اس لئے کہ لفظ ’’ایسا‘‘ اگر ’’جیسا‘‘ کے ساتھ ہو تب تو تشبیہ کیلئے آتا ہے مگر یہی ’’ایسا‘‘ جب بغیر’’جیسا‘‘ کے ہو تو تشبیہ کیلئے آنا ضروری نہیں جیسے ہم کہتے ہیں کہ ’’خدا ایسا قادر ہے ‘‘ تو کیا یہاں خدا کی قدرت کو کسی سے تشبیہ دیجارہی ہے۔۔؟؟ہر گز نہیں۔لغت سے اس کی دلیل مطلوب ہو تو ملاحظہ ہو:
ایسا: اس قدر ،اتنا (فقرہ)ایسا مارا کہ ادھ منوا کردیا۔(نور اللغات ،ج۱،ص۴۲۵،از مولوی نور الحسن مرحوم)
ایسا:اس قدر ،اتنا،(فقرہ)ایسا کھانا کھایا کہ بد ہضمی ہوگئی۔(فرہنگ آصفیہ،ج۱،ص۳۳۳)ٍ
اس قسم کا ،اس شکل کا،(فقرہ)ایسا قلمدان ہر ایک سے بننا دشوار ہے،آتش:
محبوب نہیں باغ جہاں میں کوئی ایسا بو رکھتا ہے گل ایسی نہ لذت نہ ثمر ایسی
اس قدر ۔برق
اس بادہ کش کا جسم ہے ایسا لطیف و صاف زنار پر گمان ہے موج شراب کا
(امیر اللغات،ج۲،ص۳۰۲،از امیر بنائی مرحوم)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ لفظ ایسا ہر حال میں ہر گز تشبیہ کیلئے نہیں آتا بلکہ اتنا کے معنی اس قدر کے معنی میں بھی مستعمل ہے ۔۔جیسا کہ اردو فقروں اور اشعار میں اس کا استعمال ہوا ہے تو اب حفظ الایمان کی عبارت کا مفہوم بھی یہی ہوگا کہ اتنا علم غیب یعنی مطلق بعض علم غیب کہ جسے تم عالم الغیب کے اطلاق کیلئے جائز سمجھتے ہو غیر انبیاء بلکہ غیر انسانوں کو بھی حاصل ہے۔
اور بالفرض اگر عبارت میں ایسا کو تشبیہ کیلئے مان بھی لیا جائے تب بھی اس سے کوئی گستاخی لازم نہیں آتی اس لئے کہ ایسا اس صورت میں ہوتا کہ جب حضور ﷺ کے علم کو تشبیہ دی جارہی ہوتی جبکہ یہاں مطلق بعض غیوب کی بحث ہورہی ہے نہ کہ حضور ﷺ کے علم شریف کی مقدار کا۔
عقائد کی کتابوں سے حفظ الایمان کی عبارت کے مفہوم کا ثبوت
قارئین کرام بریلوی حضرات پر ہر طرح سے اتمام حجت کیلئے ہم یہاں علامہ جرجانی ؒ کی کتاب کا ذکر کرتے ہیں جس میں وہی بات کہی گئی جو کہ
حکیم الامت صاحب ؒ نے فرمائی اور فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں:
امام اہلسنت شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز کتاب میں فرماتے ہیں کہ:
قلنا ما ذکر تم مردود بوجوہ اذ الاطلاع علی جمیع المغیبات لا یجب للنبی اتفاقا منا و منکم ولھذا قال سید الانبیاء ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر و ما مسنی السوء والبعض ای الاطلاع علی البعض لا یختص بہ ای النبی۔
(شرح مواقف،موقف سادس،مرصد اول،مقصد اول،ج۳،ص۱۷۵)
اور جو کچھ تم نے کہا چند وجوہ سے مردود ہے اس لئے کہ تمہاری مراد اس اطلاع علی المغیبات سے کیا ہے کل مغیبات پر اطلاع ہونی چاہئے یا بعض پر کل مغیبات پر مطلع ہونا تو کسی کے نزدیک بھی ضروری نہیں نہ ہمارے نزدیک نہ تمہارے نزدیک اور اسی وجہ سے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ولو کنت۔۔الخ اور بعض مغیبات پر مطلع ہوجانا نبی کے ساتھ خاص نہیں (یعنی یہ غیر نبی میں بھی پائی جاتی ہے)
قارئین کرام یہ عبارت علامہ جرجانی ؒ نے فلاسفہ کے عقیدے کے رد میں لکھی غور فرمائیں فلاسفہ کی جگہ اگرزید کو رکھیں اور سید جرجانی رحمۃ اللہ علیہ کی جگہ حضرت حکیم الامت ؒ کو رکھیں اور پھر اس کی روشنی میں ہمیں بتلائیں کہ حفظ الایمان اور اس عبارت کے مفہوم میں کیا فرق ہے ۔۔اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص حفظ الایمان کے خلاف کب کشائی کرتا ہے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں۔۔۔اس کو موت ہی سمجھا سکتی ہے ہم تو اس سے عاجز ہیں
سوف تری اذن کشف الغبار اتحت رجلک فرس ام حمار
انصاف۔۔۔انصاف۔۔۔۔انصاف
حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کا موقف
قارئین دنیا جہاں کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اپنی کسی بات کی وضاحت خود کہنے والے شخص سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا غالب کے اشعار جس طرح مرزا غالب کو سمجھ آئے کوئی دوسرا اس طرح نہیں سمجھ سکتا اسی اصول کے تحت آئیں ہم مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے اس عبارت سے کیا مطلب لیا اور جو مضمون احمد رضاخان نے ان کی طرف منسوب کیا اس کے متعلق وہ کیا کہتے ہیں چناچہ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا مرتضی حسن چاند پوری رحمۃ للہ علیہ کو جب اس بہتان کو علم ہوا تو انھوں نے اس عبارت کے متعلق حضرت والا کو ایک خط بھیجا اور ان سے چند سوال کئے جس کا جواب انھوں نے یہ دیا
(۱) میں نے یہ خبیث مضمون(یعنی حسام الحرمین میں جو میری طرف منسوب کیا گیا ہے)کسی کتاب میں نہیں لکھا۔لکھنا تو درکنار میرے قلب میں بھی اس مضمون کا کبھی خطرہ نہیں گزار۔
(۲) میری کسی عبارت سے یہ مضمون لازم نہیں آتا چنانچہ اخیر میں عرض کروں گا
(۳) جب میں اس مضمون کو خبیث سمجھتا ہوں اور میرے دل میں بھی کبھی اس کا خطرہ نہیں گزرا جیسا کہ اوپر معروض ہوا تو میری مراد کیسے ہوسکتی ہے۔
(۴) جو شخص ایسا اعتقاد رکھے یا بلا اعتقاد صراحۃ یا اشارۃ یہ بات کہے میں اس شخص کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں کہ وہ تکذیب کرتا ہے نصوص قطعیہ کی اور تنقیص کرتا ہے حضور سروردوعالم فخر بنی آدم ﷺ کی۔(بسط البنان مع حفظ الایمان،ص۱۰۶)
اس کے بعد خود حضرت حکیم الامت ؒ نے اس عبارت کی وضاحت کردی جس پر ہم نے ماقبل میں تفصیلی گفتگو کی جس کی تفصیل آپ اس رسالہ بسط البنان میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں جو حفظ الایمان ہی کے ساتھ چھپ رہا ہے۔
قارئین کرام آخر یہ کونسا اصول ہے کہ ایک شخص خود کہے کہ جو ایسا عقیدہ رکھے وہ نصوص کا انکار کررہا ہے ایسا عقیدہ خبیث عقیدہ ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے۔۔۔اس کے باجو د بھی کہا جائے کہ یہی عقیدہ تو آپ کا ہے ۔۔۔کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ اس وضاحت کے بعد بھی وہ کونسا اصول ہے جس کے تحت تکفیری فتوے سے رجو ع نہیں کیا گیا۔۔۔اگر دنیا میں انصاف و دیانت ختم نہیں ہوگئی تو کوئی ہمیں اس سوال کا جواب ضرور دے۔

نوٹ: اس عبارت کے متعلق ہمیں ابھی مزید بھی کچھ عرض کرنا ہے مگر افسوس کہ وقت او مصروفیات اس کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔آپ حضرات دعا فرمائیں انشاء اللہ جیسے ہی موقع ملے گا مزید حقائق اس عبارت کے متعلق آپ کے سامنے لاؤں گا۔
خاکپائے اہلسنت دیوبنداحناف
%% حفظ الایمان مولوی احمد رضاخان کے اصولوں کی روشنی میں %%
قارئین کرام کسی شخص کی تکفیر کیلئے مولوی احمد رضاخان نے جو اصول مقرر کیا ہے اگر اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو حفظ الایمان کی عبارت میں نہ تو کوئی خرابی ہے اور نہ اس عبارت کی بنیاد پر حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی تکفیر کی جاسکتی ہے۔۔چنانچہ خود احمد رضاخان صاحب لکھتے ہیں کہ
* فقہاء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ جس سے کوئی لفظ ایسا صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیں ان میں ۹۹ پہلو کفر کی طرف جاتے ہوں اور ایک اسلام کی طرف تو جب تک ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے خاص کوئی پہلو کفر کا مراد رکھا ہے ہم اسے کافر نہ کہیں گے آخر ایک پہلو اسلام کا بھی تو ہے کیا معلوم کہ شائد اس نے یہی پہلو مراد رکھا ہو اور ساتھ ہی فرماتے ہیں ۔۔۔۔
پھر آگے خود اس کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
مثلا زید کہے عمرو کو علم قطعی یعنی غیب کا ہے۔اس کلام میں اتنے پہلو ہیں:
(۱)عمر اپنی ذات سے غیب دان ہے یہ صریح کفر و شرک ہے۔۔۔(۲)عمر و آپ تو غیب دان نہیں مگر جن علم غیب رکھتے ہیں ان کو بتائے سے اسے غیب کا علم یقینی حاصل ہوجاتا ہے یہ بھی کفر ہے۔۔(۳)عمرو نجومی ہے (۴)رمال ہے(۵)سامندرک جانتا ہے ،ہاتھ دیکھتا ہے(۶)کوے وغیرہ کی آواز (۷)حشرات الارض کے بدن پر گرنے(۸)کسی پرندے یا وحشی چرندے کے داہنے یا بائیں نکل جانے (۹)آنکھ یا دیگر اعضاء۔۔۔
غرض اس طرح کی کل ۲۰ مثالیں دی جو آپ اصل عکسی حوالے میں ملاحظہ فرمالیں گے پھر ۲۱معنی لیتے ہوئے لکھتے ہیں (۲۱) عمرو کو رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے سمعا یا عینا یا الہاما بعض غیوب کا علم قطعی اللہ عزو جل نے دیا یا دیتا ہے یہ خالص اسلام ہے ۔۔
تو محققین فقہاء اس قائل کو کافر نہ کہیں گے اگرچہ اس بات کے اکیس پہلوؤں میں بیس کفر ہیں مگر ایک اسلا م کا بھی ہے احتیاط و تحسین ظن کے سبب اس کا کلام اسی پہلو پر حمل کریں گے جب تک ثابت نہ ہو کہ اس نے کوئی پہلو کفر ہی مراد لیا۔
(تمہید ایمان،ص۴۳۔۴۵،مطبوعہ کراچی ۱۹۹۹)۔
اللہ اکبر قارئین کرام غور فرمائیں کہ بات بات پر کفر کے فتوے دینے والوں کے قلم سے اللہ رب العزت نے کیسی بات لکھوادی خود خان صاحب فرمارہے ہیں کہ ایک شخص کے قول میں بیس کفریات ہیں ایک اسلام ہے ہم اس اسلام پر فتوی دیں گے۔۔۔اب میں اہل انصاف سے کہتا ہوں کہ آخرت کو سامنے رکھ کر فیصلہ فرمائیں کہ کیا حکیم الامت ؒ کی عبارت میں کوئی پہلو کفر کا ہے؟؟؟ ۔۔۔اور اگر بالفرض ایسا ہوتا بھی تو کیا خود مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کفریہ احتمال کو رد کرکے عین اسلام والی بات نہ کہہ دی۔۔۔؟؟؟؟کیا تمہید ایمان کی اس عبارت کے ہوتے ہوئے حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی تکفیر کی جاسکتی ہے؟؟؟ ۔۔اس کا فیصلہ ہم قارئین کرام کے ضمیر پر چھوڑتے ہیں۔
امکان کذب پر جب احمد رضاخان کی طرف سے عقائد کی کتابوں کا کوئی معقول جواب نہ دیا جاسکا تو انھوں نے اپنی جان بچانے کیلئے ایک نرالا اصول نکالا کہ ان کتابوں کا اصل مقصد صرف مدمقابل کو خاموش کرنا ہوتا ہے اس طرح کی فلسفیانہ اور الزامی عبارتوں کا مقصد اپنا عقیدہ ظاہر کرنا نہیں ہوتا عقیدہ وہی ہوتا ہے جو متون کتابوں میں موجود ہو اس لئے بالفرض اگر ان کتابوں میں کوئی ایسی بات ہو جو متون کتابوں کے خلاف ہو تو ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے لہٰذا امکان کذب پر یہ عبارات پیش نہ کی جائیں اس لئے کہ یہ تو ان کا اصل عقیدہ ہی نہیں اصل عبارت ملاحظہ ہو:
* جب بد مذہبوں کا شیوع ہوا اور گمراہ مکلبوں نے عوام مسلمین کو بہکانے کیلئے اپنے عقائد باطلہ پر عقلی و نقلی مغالطے پیش کرنے شروع کئے علمائے اہلسنت والجماعت کو حاجت ہوئی کہ ان کے دلائل باطلہ کا رد کریں اپنے عقائد حقہ پر دلائل قائم کریں یہاں سے کلام متاخرین کی بنا پڑی۔اب کہ استدلال بحث و مباحثہ کا پھاٹک کھلا خو اپنے دلائل و جوابات کی جانچ پرکھ کی حاجت ہوئی اذہان مختلف ہوتے ہیں۔اور بحث و استخراج میں خطاو اصابت آدمی کے ساتھ لگے ہوتے ہیں ایک نے مذہب پرایک دلیل قائم فرمائی یا مخالف کے کسی اعتراض کا جواب دیا دوسرے نے اس پر بحث کردی کہ اپنے مذہب پر یہ دلیل کمزور ہے مخالف کی طرف سے اس کا رد یہ ہوسکتا ہے اس رد و بحث کا اثر فقط اسی دلیل و جواب تک ہوتا ہے عام ازیں کہ اس دلیل و جواب ہی میں تصور ہو جیسا کہ بحث کرنے والے کا بیان ہے یا خود اس باحث ہی کی نظر نے خطا کی دلیل و جواب صحیح و صواب ہو ۔بہرحال معاذ اللہ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اپنا اصل مذہب باطل یا مخالف کا ضلال حق ہے۔۔۔۔نہ معاذ اللہ یہ بحث کرنے والا اپنا عقیدہ بدلتا ہے ۔۔۔
عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون و مسائل میں بیان کردیا بالائی تقریریں اس کے موافق ہیں تو حق ہیں مخالف ہیں تو وہی ان کی بحث بازیاں اور ذہن آزمائیاں اور قلم کی جولانیاں ہیں ۔
(سبحن السبوح،ص۱۷۳،نوری کتب خانہ لاہور،۲۰۰۳)
قارئین کرام اس عبارت کو بار بار پڑھیں اورفیصلہ کریں کہ آخر حفظ االایمان بھی تو کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں تھی بلکہ اسی بحث و مباحثہ اور مخالفین کے باطل عقائد کے رد میں چند سوالوں کا جواب ہے۔۔۔اور احمد رضاخان صاحب نے خود اس میں تصریح کردی کہ ان کتابوں کو ان حضرات کے اصل عقائد شمار نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔بالفرض اگر حفظ الایمان میں وہی بات کہی گئی ہوتی جو احمد رضاخان نے ان کی طرف منسوب کی تب بھی یہ عقیدہ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کا نہیں تھا ۔۔بلکہ ان کا اصل عقیدہ وہی ہے جو انھوں نے متون میں بیان کردیا ۔۔بریلوی حضرات احمد رضاخان کی اس عبارت کو بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ آج وہ جن کتابوں پر اعتراض کر رہے ہیں ان سب کا تعلق اسی قسم کی کتابوں ہی سے تو ہے جس کے متعلق آپ کے اعلحضرت فرماتے ہیں کہ اصل عقیدہ اس میں نہیں ہوتا اس لئے اس قسم کی کتابوں میں کوئی بھی بات اگر ہو تو وہ بطور عقیدہ ان کی طرف منسوب نہ کی جائے گی۔۔۔
میں اس موضوع پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہوں گا۔۔بریلوی حضرات ہر گز اس اعتراض سے رجوع نہیں کرسکتے کہ ان کے پیٹ روزی روٹی کا مسئلہ ہے لیکن اہل انصاف اور خوف خدا رکھنے والوں کیلئے بہت کچھ عرض کردیا گیا ہے۔
اللہ پاک سمجھنے کی توفیق دے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔