بدھ، 17 جون، 2015

بائبل اور توحید خداوندی




بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء و المرسلین

بائبل اور توحید خداوندی

علامہ ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ


قارئین کرام مروجہ عیسائیت کا دینی ماخذ’’بائبل‘‘کو کہا جاتا ہے۔موجودہ بائبل کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک عہد نامہ قدیم جسے عہد نامہ عتیق بھی کہا جاتا ہے۔جس میں حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں آنے والے انبیاء سے منسوب تعلیمات ہیں۔جبکہ دوسرے حصے (عہد نامہ جدید)میں موجود تعلیمات کو سیدنا عیسی علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔عہد نامہ قدیم کی 49 کتابوں کو تمام عیسائی مستند مانتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ سات مزید کتابیں ہیں جنہیں Aporyphaiکہا جاتا ہے ۔یعنی ان کے ثقہ ہونے میں عیسائی حضرات کا آپس میں اختلاف ہے۔عہد نامہ قدیم کو یہودی میں مقدس مانتے ہیں ،جبکہ عہد نامہ جدیدمیں چار انجیلیں یعنی ’’متی،لوقا،مرقس،اور یوحنا‘‘ہیں اس کے علاوہ سینٹ پال یعنی پولس رسول کے خطوط اور یوحنا کے مکاشفے سمیت کل ستائیس کتابیں ہیں ۔
ذیل کی چند سطور میں اسی بائبل کے عہد نامہ قدیم کی آیا ت کے حوالے سے توحید خداوندی کا ثبوت دیا جائے گا۔عہدنامہ قدیم کی پانچویں کتاب’’تثنیہء‘‘ میں ہے کہ:



سن اے اسرائیل !کہ خداوند ہمارا خدا !!وہی اکیلا خداوند ہے۔
(باب ۶،آیت ۴،ص۱۸۷)
قارئین کرام غور فرمائیں کس واشگاف الفاظ میں ’’توحید باری تعالی‘‘ کا اعلان کیا جارہا ہے۔اسی طرح بائبل میں خدا کی تجسیم کے تصور کا بھی وشگاف الفاظ میں رد کیا گیا ہے ملاحظہ ہو:
تیرے لئے میرے حضور کوئی دوسرا معبود نہ ہو۔تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی چیز یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین میں یا زمین کے نیچے کے پانی میں ہے مت بناتو انہیں سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی خدمت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا خدائے غیور ہوں۔
(کتاب خروج،باب ۲۰،آیت ۳۔۵،عہد نامہ عتیق،ص۷۸)۔

بالکل یہی پیغام کتاب تثنیہء کے باب ۵ آیات ۷ تا ۹ میں بھی دہرایا گیا ہے ملاحظ ہو:
میرے حضور تیرے لئے کوئی دوسرا معبود نہ ہو تو اپنے لئے تراشی ہوئی مورت یا کسی ایسی چیز کی صورت نہ بنانا جو اوپر آسمان یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے تو اسے سجدہ نہ کرنا نہ اس کی خدمت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا خدائے غیور ہوں۔

کس واشگاف الفاظ میں اللہ کی توحید اور صرف اسی کی ذات کو عباد ت کے لائق سمجھنے کا اعلان کیا جارہا ہے اور ان عیسائی حضرات کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جو آج حضرت عیسی علیہ السلام کی خیالی مورت بنا کر اس کی عبادت میں مصروف ہیں۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ موجودہ بائبل میں متعدد ،بلکہ اکثر مقامات پر تحریف کی گئی ہیں۔ورنہ حضرت عیسی علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیھم السلام ساری زندگی توحید خداوندی کی دعوت دیتے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تر تحریفات کی ذمہ داری اور بائبل کی اصل تعلیمات کو عوام سے چھپانے کا کارنامہ روم میں بیٹھنے والے عیسائی اکابرین اور ان کے روحانی آباء کے سر ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔