سوموار، 22 جون، 2015

تقویۃ الایمان پر اعتراض:میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں

 

تقویۃ الایمان پر اعتراض

میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں
مولانا ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ

تقویۃ الایمان کی ایک عبارت پر اعتراض کیا جاتا کہ اس میں لکھا ہے کہ نبی مٹی میں مل جاتے ہیں اور معاذ اللہ ان کا جسم صحیح سلامت نہیں رہتا ۔
جواب دینے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تقویۃ الایمان کی پوری عبارت آپ کے سامنے رکھی جائے اور پھر انشاء اللہ اس پر تبصرہ کیا جائے گا:
مشکوۃ کے باب عشرۃ النساء میں لکھا ہے کہ ابو داود نے ذکر کیا کہ قیس بن سعد نے نقل کیا کہ گیا میں ایک شہر میں جس کا نام حیرہ ہے سو دیکھا میں نے وہاں کے لوگوں کو کہ سجدہ کرتے تھے اپنے راجہ کو سو کہا میں نے البتہ پیغمبر خدا زیادہ لائق ہیں کہ سجدہ کیجئے ان کو پھر آیا میں پیغمبر خدا کے پاس پھر کہا میں نے کہ گیا تھا میں حیرہ میں سو دیکھا میں نے لوگوں کو کہ سجدہ کرتے ہیں اپنے راجہ کو سوتم بہت لائق ہو کہ سجدہ کریں ہم تم کو توفرمایا مجھ کو بھلا خیال تو کر جو تو گزرے میری قبر پر کیا سجدہ کرے تو اس کو کہا میں نے نہیں فرمایا تو مت کر۔


ف:یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں تو کب سجدہ کے لائق ہوں سجدہ تو اسی پاک ذات کو ہے کہ نہ مرے کبھی ۔
(تقویۃ الایمان ،ص85,86)
اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ حدیث شریف کی تشریح و تفصیل ہے اور ان معنی خیز الفاظ کا حدیث کے ساتھ گہرا تعلق ہے اس میں غیر اللہ کو سجدہ نہ کرنے کی علت بیان کی گئی ہے کہ جو مرکر مٹی میں دفن ہونے والا ہے اس کو سجدہ روا نہیں سجدہ صرف اسی کو ہوسکتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے اور اس پرکسی وقت بھی موت طاری نہ ہو اور نہ وہ مرکر مٹی میں دفن ہونے والا ہو۔
افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں مخالفین نے اپنی جہالت کی وجہ سے ’’مٹی میں ملنے والا ہوں ‘‘ کے جملے سے یہ سمجھ لیا کہ
معاذ اللہ حضرت شاہ صاحب کا عقیدہ ہے کہ انبیاء اپنی قبروں میں سلامت نہیں رہتے حالانکہ یہ ان کی جہالت ہے ۔اردو زبان میں یہ لفظ یا جملہ دفن ہونے کیلئے بولا جاتا ہے ۔
چنانچہ جامع اللغات ،ج۲،ص۵۶۵ میں ملنا کے معنی دفن ہونا اور منیر اللغات ص ۹۰ میں ہے خاک میں ملنا یعنی دفن ہونا، ہیں۔نور اللغات میں ہے کہ مٹی میں ملنا یعنی دفن ہونا اور پھر اس معنی کے صحیح ہونے پر شعر سے استدلال کرتے ہیں
میں تو خاک کا پتلا یوں ہی تھا قضاء نے اور مٹی میں ملادیا (شاد)
(نور اللغات ،ج۴،ص۱۱۸۹)
یہاں ’’مٹی میں ملادیا‘‘ کے معنی ’’مٹی میں دفن ہونا ‘‘ ہیں۔اسی طرح اردو کی مبسوط ترین لغت ’’اردو لغت تاریخی اصول پر‘‘ میں ’’مٹی میں مل جانا‘‘ کے معنی ’’مٹی میں دفن ہوجانا ‘‘ کے کئے گئے ہیں اور پھر عبارت نقل کی گئی کہ :
جب پانی رخصت ہوجاتا ہے تو باقی صرف مٹی رہ جاتی ہے جسے قبرستان میں چھوڑ آتے ہیں کہ مٹی مٹی کے ساتھ مل جائے۔
(قصے تیرے افسانے ہیں ،ص۳۱۱)
یہاں مٹی کے ساتھ مل جائے ’’مٹی میں دفن ہوجانا‘‘ کے معنی میں لیا گیا ہے ۔
اسی طرح ’’مٹی میں ملنا‘‘ کو محاورہ کہہ کر اس کے معنی ’’ میت کومٹی دینا ‘‘ کے لکھے ہیں ،میت کی تجہیز و تکفین ہونا لکھے ہیں۔۔آگے اس معنی کے مناسبت سے شعر لکھتے ہیں کہ:
دنیا میں اعتبار ہے کیا حال و جاہ کا مٹی گدا کے ہاتھ سے ملی ہے شاہ کو
(دیوان سیر ،ج۲،ص۳۴۲)
یہاں ’’مٹی ملی ہے‘‘ میت کو مٹی دئے جانے کے معنی میں ہے ۔۔اسی طرح ایک معنی دفن کرنے کے لکھے ہیں اور اس معنی کی مناسبت سے شعر لکھتے ہیں کہ:
نسیم اعداء سے شکوہ کیا ہمیں یاروں نے مٹی میں ملادیا
(نسیم دہلوی ،ص ۸۷)
(اردو لغت تاریخی اصول پر ،ج۱۷،ص۲۰۷)
الحمد للہ ہم نے اردو لغات سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ’’مٹی میں ملنا‘‘ کے معنی ’’دفن ہونے کے ہیں اوراردو زبان میں اس محاورے کا استعمال ’’نثر ‘‘ اور ’’اشعار‘‘ دونوں میں ملتا ہے اور اردو لغت کے بلغاء نے اس کو استعمال کیا ہے ۔۔لہٰذ ا اس عبارت پر اعتراض کرنا محض جہالت اور تعصب ہے۔
بریلویوں کا عقیدہ کہ نبی کے جسم کو کیڑے کھاجاتے ہیں (معاذ اللہ)
بریلوی حضرات دوسروں پر اعتراض کرنے سے پہلے ذرا اپنے گھر کی خبر بھی لے لیں ۔چنانچہ بریلوی مولوی ابو الحسنات قادری حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ :
حدیث میں ہے کہ ’’چار ہزار کیڑے‘‘ آپ کے جسد مبارک میں پیدا ہوگئے اور وہ ’’اعضاء مبارک کو کھاتے‘‘۔(اوراق غم، ص۷۳)۔
یہ بات تو درست ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ کی طرف سے ایک آزمائش آئی تھی مگر یہ بات بریلوی حضرات کے ذمہ ہے کہ وہ کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت کریں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن مبارک کو ’’چار ہزار کیڑے ‘‘ کھاتے تھے۔حیرت ہے کہ حدیث میں تو ہے کہ ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء کہ اللہ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء علیھم السلام کے جسموں کو کھائے مگر بریلویوں کا عقیدہ ہے کہ اس اللہ نے کیڑوں کیلئے یہ بات حلال کردی تھی معاذ اللہ۔۔تقویۃ الایمان پر اعتراض کرنے والوں کو کیا اپنے گھر کی یہ گستاخی نظر نہیں آتی۔۔؟؟

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔