بدھ، 17 جون، 2015

اہل السنة والجماعة کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی ہے



اہل السنة والجماعة کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی ہے


قارئین کرام ! مسلمانوں کا رضاخانیوں کے ساتھ اختلاف اصولی اختلاف ہے بعض حضرات صرف اسے جاہلوں کا گروہ یا صلوة و سلام و میلا د کا اختلاف کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بریلوی حضرات نے جو علم غےب ،حاضر و ناظر ،مختار کل نور و بشر وغیرہا پر جو عقائد اپنائے ہیں پھر ان کی گستاخانہ عبارات وہ کفریہ و شرکیہ ہیں انہیں کسی بھی طرح فروعی اختلاف نہیں کہا جاسکتا یہ ضرور ہے کہ فروع میں بھی اس مذہب والوں کے ساتھ ہمارا اختلاف ہے لیکن اصولی اختلاف ان کے عقائد کی بناءپر ہے۔
مولانا گنگوہی رحمة اللہ علیہ کا فتوی
سوال:حضور فرماتے ہیں کہ جو شخص علم غےب کا قائل ہو وہ کافر ہے حضرت جی آج کل تو بہت آدمی ہیں کہ نماز پڑھتے ہیں وظائف بکثرت پڑھتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کا میلاد میں حاضر رہنا و حضرت علی کا ہر جگہ موجود ہونا دور کی آواز کا سننا مثل مولوی احمد رضا بریلوی کے جنہوں نے رسالہ علم غےب لکھا ہے کہ نمازی اور عالم بھی ہیں کیا ایسے شخص کافر ہیں ایسوں کے پیچھے نماز پڑھنی اور محبت و دوستی رکھنی کیسی ہے؟
جواب:


 
جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا علم غےب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بےشک کافر ہے اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت و مودت سب حرام ہے فقط واللہ تعالی اعلم “َ
(فتاوی رشیدیہ ۔ص:۴۷)
اس جگہ حضرت گنگوہی ؒ نے واضح فتوی دیا ہے کہ ایسا شخص کافر ہے اور ظاہرہے اور احمد رضا کی کئی کتب سے علم غیب کا عقیدہ ثابت ہے تو مندرجہ بالا فتوے میں واضح طور پر ایسے آدمی کی تکفیر کی گئی ہے اور استفتاءمیں خا ص طور پر احمد رضاخان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے مگر حضرت گنگوہی ؒ نے کسی قسم کی رعایت نہیں کی اور حکم شرعی واضح کیا۔
دارالعلوم دیوبند کافتاوی
کیا فرماتے ہیں علماءدین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں ہمارے یہاں تقریبا دو تین سال سے یہ اختلاف روز افزوں ہوتا جارہا ہے اور ہمارے اکابر دیوبند کے منتسبین فریقین میں منقسم ہوتے جارہے ہیں لہذا مندرجہ ذیل امور کا مفصل و مدلل جواب با صواب تحریر فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں ۔
بریلوی ،دیوبندی اختلاف فروعی ہے یا اصولی اور اعتقادی ؟
ایک جماعت کہتی ہے کہ فریقین کے درمیان یہ اختلا ف فروعی ہے اور ہمارے علمائے دیوبند اور اکابر دیوبند نے جو سختی اختیار کی تھی عارضی اور وقتی تھی کیونکہ دونوں فریقین اہل السنت والجماعت میں سے ہیں اور مسلک حنفی پر قائم ہیں اشاعرہ ماتریدیہ کے بیان کردہ عقائد پر قائم ہیں ،بیعت و ارشاد میں بھی دونوں فریق صحیح طریقہ پر موجود ہیں ۔
اب چونکہ اسلام دشمن عناصر قوت سے ابھر رہے ہیں لہذا دیوبندیوں بریلویوں کو متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے ، ماضی کے تجربات کی روشنی میں بتلائیں کہ کیا ایسا اتحاد عملا کامیاب ہوگا ؟ کیا اس مقصد کیلئے دیوبندیوں کو اپنے اصولی موقف اور مسائل سے ہٹنا اور عرس و میلاد اور فاتحہ وغیرہ میں شریک ہونا جائز ہے ؟
دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ اکابر دیوبند کا اختلاف بریلویوں سے فروعی ہی نہیں بلکہ اصولی اور اعتقادی بھی تھا اور ہے مثلا نور و بشر کا اختلاف علم غےب کلی کا اختلاف مختار کل ہونے کا اختلا ف حاضر و ناظر ،قبروں پر سجود کا اختلاف وغےرہ وغےرہ اہم اور عظیم ہیں ،نیز اکابر دیوبند کے بارے میں تکفیری فتاوی ان کی کتابوں میں ہیں لہذا ان سے اتحاد کیلئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنی کتابوں سے تکفیری فتاوی نکال دیں اور ان سے برات ظاہر کریں اور اپنے عقائد درست کریں ۔
اول الذکر حضرات میلاد شریف،اور عرس وغیرہ کے جواز اور استحباب رپر اکابر دیوبند کے بعض اقوال سے استدلال کرتے ہیں مثلا رسالہ ہفت مسئلہ مصنفہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اقوال سے :
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
کیا بریلویوں کی مجالس میلاد و عرس وغیرہ میں مصلحتا شریک ہونا جائز ہے ؟
کیا ان اعمال کو مصلحتا برداشت کرکے متحد ہونے کی دعوت دینا جائز ہے ؟
کیا یہ اختلاف اصولی و اعتقادی ہے یا فروعی؟
کیا بریلویوں کی بدعات فی نفسہ ہمارے حضرات دیوبند کے یہاں بھی جائز ہیں اور مباح ؟
نقش نعلین شریفین کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا اس سے استبراک ،چومنا اور سر پر رکھنا وغےرہ جائز ہے ؟
یہ مسائل پاکستان میں بہت عام ہوتے جارہے ہیں ،ابھی تک علمائے دیوبند کے فتاوی کو یہ لوگ اہمیت دیتے ہیں، امید ہے کہ یہ لوگ خلاف شرع امور سے باز آجائیں ۔بینوا و توجروا۔
فقط ....والسلام ....المستفتی : اسماعیل بدات ....از مدینہ منورہ ....18/10/1417
الجواب من اللہ التوفیق
حامدا و مصلیا و معلما ،اما بعد!
دوسری جماعت کا خیال صحیح ہے کہ:
”دیوبندیوں کا بریلویوں سے اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی اور اعتقادی بھی ہے“
اور پہلی جماعت کا خیال صحیح نہیں ہے کہ :
فریقین کے درمیان یہ اختلا ف فروعی ہے اور دونوں فریق اہل السنت والجماعت میں سے ہیں اور مسلک حنفی پر قائم ہیں نیز اشاعرہ ماتریدیہ کے بیان کردہ عقائد پر قائم ہیں ،بیعت و ارشاد میں بھی دونوں فریق صحیح طریقہ پر موجود ہیں ۔
کیونکہ بریلویوں ( رضاخانیوں ) نے اہل السنت والجماعت کے عقائد میں بھی اضافہ کیا ہے اور ایسے فروعی مسائل کو بھی دین کا جز و بنایاہے جن کی فقہ حنفی میں واقعی کوئی اصل نہیں ہے ،مثلا عقائد میں چار اصول اور بنیادی عقائد بڑھائے ہیں : ۱.... نور و بشر کا مسئلہ ۔۲....علم غیب کلی کا مسئلہ ۔۳....حاضر و ناظر کا مسئلہ ۔۴....مختار کل ہونے کا مسئلہ۔اور فروعی مسائل میں غےر اللہ کو پکارنا ،قبروں پر سجدہ کرنا ،قبروں کا طواف کرنا ،غیر اللہ کی منتیں ماننا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا،میلاد مروجہ اور تعزیہ وغےرہ سینکڑوں باتیں ان کی ایجاد ہیں ،جو صریح بدعات ہیں ۔اور بیعت و ارشاد بھی ان لوگوں نے بہت سی غےر شرعی چیزوں کی آمیزش کرلی ہے مثلا : قوالی اور وجد و سماع وغےرہ۔
نیز فریق اول کا یہ موقف خلاف واقعہ ہے کہ :
”ہمارے علمائے دیوبند اور اکابر دیوبند نے جو سختی اختیار کی تھی وہ عارضی اور وقتی تھی “۔
بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دیوبندیت نام ہی تمسک بالسنة اور تنفیر عن البدعة کا ہے اکابر دیوبند کا عمل ہمیشہ ”فاصد ع بما تومر “ پر رہا ہے ،انہوں نے کبھی دین کے معاملے میں مداہنت نہیں فرمائی ،البتہ انہوں نے مقابلہ آرائی اور محاذ آرائی اور تکفیر بازی سے بھی گریز کیا ہے اور ہمیشہ نرمی اور حکمت سے اصلاح حال کی کوشش کی ہے ،پس آج بھی ان کے اخلاف کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔
رسالہ ”فیصلہ ہفت مسئلہ “ ، ”مسلک منقح “ سے پہلے کی تصنیف ہے ،اس سے استدلال صحیح نہیں ہے ،اور حضرت شیخ سہارنپوری رحمة اللہ علیہ کے ایسے اقوال ہمارے علم میں نہیں ۔
اور بریلویوں کی مجالس میلاد اور عرس وغیرہ میں مصلحتا شرک ہونا بھی جائز نہیں ہے ،اور اس کی ممانعت ودو ا لو تدھن فید ھنون میں مذکور ہے اور لکم دینکم ولی دین میں اشارہ بھی اسی طرف ہے اور حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے امداد الفتاوی ،ج5،ص302میں تحریر فرمایا کہ : ”رسوم بدعات کے مفاسد قابل تسامح نہیں !“اور ج4ص380کے سوال و جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عرس وغیرہ بدعات میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ،ان کی بے ضرورت تعظیم و تکریم کرنے والے بھی ” من وقر صاحب بدعة فقد اعان علی ھدم الاسلام “ کا مصداق ہیں۔
اور بعض اہل بدعات کے فی نفسہ جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ امو ر فی نفسہ تو جائز ہوتے ہیں جیسے جناب رسول اللہ ﷺ کی ولادت مبارکہ کا تذکرہ کرو ،مگر التزام اور شرائط و قیود کی پابندی کی وجہ سے وہ چیزیں بدعت کے زمرہ میں داخل ہوجاتی ہیں ،اور وہ ناجائز ہوجاتی ہیں ۔
اور نقشہ نعل مبارک کی کوئی اصل نہیں ہے ،اور اسبتراک اور اس کا چومنا اور سر پر رکھنا بے اصل ہے اور حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نے امداد الفتاوی ج4ص378میں اپنے رسالہ ”نیل الشفا ءبنعل المصطفی “ سے رجوع فرمالیا ہے ۔واللہ اعلم و علمہ اتکم و احکم۔
حررہ :سعید احمد پالن پوری عفا اللہ عنہ ....خادم :دارالعلوم دیوبند ،23ذ و القعدہ ۷۱۴۱ھ
محمد ظفیر الدین ....مفتی دارالعلوم دیوبند ۵۲ ذو القعدہ ۷۱۴۱ھ
الجواب الصحیح ....العبد نظام الدین ....مفتی دارالعلوم دیوبند ذ و القعدہ ۷۱۴۱ھ
( یہ فتوی آپ کے مسائل اور ان کا حل میں موجود ہے حوالہ آخر میں آرہا ہے)
سوال : سنیت میں دو ٹکڑے ۔دیوبندیت اور بریلویت کیسے جائز ہے ؟
جواب : بریلوی فرقہ کا اہل السنت والجماعت سے اختلاف صرف فروعی نہیں اصولی ہے ،اس لیے یہ لوگ اہل السنة والجماعة ہی سے خارج ہیں ۔واللہ تعالی اعلم ....دارالافتاءدارالعلوم دیوبند ۔
یہ مذکورہ فتوی دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے :
فتوی نمبر N=12/1433/1059-1076 سوال نمبر 42170
مظاہر العلوم سہارنپور کا فتوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ( دیوبند ) اس بارے میں کہ
حضرات اکابرین دیوبند کا جماعت بریلویہ سے جو اب تک اختلاف رہا ہے ،یہ اختلاف فروعی ہے یا اصولی و عقائد کا اختلاف ہے ؟
اور جو بدعات بریلویوں نے اختیار کررکھی ہیں مثلا تیجہ ،بیسواں ،چالیسواں ،برسی،قبروں پر سالانہ عرس،میلاد کا قیام،اجتماعی سلام، وغیرہ ان امور کی اکابر دیوبند خصوصا حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی اور ان کے خلفاءو تلامذہ نے جو شدت سے ان کی تردید کی تھی کیا موجودہ علمائے دیوبند اس پر قائم ہیں ؟ یا اس میں کچھ خفت آگئی ہے ؟
اور کیا جماعت بریلویہ کو کسی بھی اعتبار سے اہل السنت والجماعت میں شمار کیا جاسکتا ہے ؟
کیا ان لوگوں کا مذہب حضرات اشاعرہ اور حضرات ماتریدیہ کے موافق ہے ؟
بعض ایسے لوگ ہیں جو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمة اللہ علیہ سے انتساب کے مدعی ہیں ، انہوں نے یوں کہنا شروع کیا کہ :اکابر دیوبند جو بدعات سے منع فرماتے تھے وہ سدا للباب تھا اور عارضی طور پر ان سے بچنے کی تاکید فرماتے تھے ،اور یہ کہ مصلحتوں کی بنا پر ان بدعات کو اختیار کرلینا چاہئے ۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
کیا واقعی موجودہ حضرات علمائے دیوبند نے بریلویوں کی بدعات کی مخالفت میں کچھ ہلکا پن اختیار کرلیا ہے ؟
اور کیا مصلحتا ہلکا ہوجانا مناسب ہے ؟
اور کیا حضرت شیخ الحدیث صاحب قدس سرہ کچے دیوبندی تھے ؟
ان کے اکابر نے جو سوچ سمجھ کر بدعات بریلویہ کا سختی سے مقابلہ کیا تھا،کیا یہ شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو گوارا نہیں تھا ؟
ان سے انتساب رکھنے والے جو بعض لوگ بریلویوں کی بدعات (جیسا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی صاحب نے ”اکابر کا مسلک و مشرب“ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا ہے )والے اعمال کو مصلحت کے نام سے اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں ، ان لوگوں کی رائے کا کیا وزن ہے ؟
کیا ان لوگوں کے انتساب سے حضرت شیخ الحدیث صاحب قدس سرہ کی شخصیت پر حرف نہیں آرہا ہے ؟
بینوا توجروا! ۔السائل ....اسماعیل بدات ،مدینہ منورہ
الجواب
حضرات علمائے دیوبند جن کے اسمائے گرامی سوال میں مذکور ہیں ،اور ان کے تلامذہ و خلفاءسب پکے متبع سنت تھے ،اور ہر ایسی چیز کے شدت سے مخالف ہے جو شرعی اصول کے مطابق بدعت کے دائرہ میں آتی ہو ،چونک حسب فرمان نبی اکرم ﷺ ہر بدعت گمراہی ہے ،اس لئے اس گمراہی سے امت کو محفوظ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے ،اس سلسلے میں ان کی چھوٹی بڑی کتابیں معروف و مشہور ہیں ،اور ان کی تردیدی مضامین اور فتاوی ”البراہین القاطعہ “ ،”المہند علی المفند “ ، اور ”الشہاب الثاقب “ ،”امداد الفتاوی “ اور ”اصلاح الرسوم “ میں موجود ہیں ۔انہوں نے سوچ سمجھ کر اپنی عالمانہ ذمہ داری کو سامنے رکھ کر خوب کھل کر نہ صرف بریلویوں کی بدعات بلکہ ہر اس بدعت کی ( جو اعتقادی ہو یا عملی)جس کا کسی بھی علاقہ میں علم ہوا ،سختی سے تردید فرمائی ،ان کی یہ تردید عارضی نہیں تھی ۔
بدعت کبھی سنت نہیں ہوسکتی ،لہٰذا اس کی تردید بھی عارضی نہیں ہوسکتی ،اور اس کی تردید میں ہلکا پن ادختیار کرنے کی شرعا کوئی اجازت نہیں ۔
حضرات اکابر دیوبند نے جو بدعات کی تردید کی اور اس بارے میں جو مضبوطی کے ساتھ اہل بدعت کے ساتھ جم کر مقابلہ کیا ، ان کی محنت اور کوشش سے کروڑوں افراد نے بدعتوں سے توبہ کی اور سنتوں کے گرویدہ ہوئے ۔آج اگر کوئی شخص یوں کہتا ہے کہ اب بدعتوں کی تردید میں سختی نہ کرنی چاہئے یا مصلحتا ان کو کسی تاویل سے اپنا لینا چاہئے ،ایسا شخص دیوبندی نہیں ہے ،اگرچہ اکابر دیوبند سے متعلق ہونے کا مدعی ہے۔حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندہلوی قدس سرہ بہت ہی پکے دیوبندی تھے ۔ اپنے اکابر ؒ کے مسلک سے سرمو انحراف کرنا انہیں گوارا نہ تھا ،ان کی ساری زندگی اور ان کی کتابیں اسی پر گواہ ہیں ،جو کوئی شخص ان کی طرف بدعت کے بارے میں ڈھیلاپن منسوب کرتا ہے ،وہ اپنی بات میں سچا نہیں ہے۔
لفظ ”اہل السنت والجماعت “ کا اطلاق حضرات اشاعرہ ماتریدیہ پر ہوتا ہے ،احمد رضاخان بریلوی اور ان کی جماعت کا ان دو جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ،احمد رضاخان جو رسول اللہ ﷺ کیلئے علم غیب کلی مانتے ہیں ،یا یوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سارے اختیارات سپرد کردئے گئے تھے ، یہ دونوں باتیں اشاعرہ اور ماتریدیہ کے یہاں کہیں نہیں ،نہ کتب عقائد میں کسی نے نقل کی ہیں ۔اور نہ ان کی کتابوں میں ان کا کوئی ذکر ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں ، یہ سب بریلویوں کی اپنی ایجاد ہیں ،اگر کوئی شخص بریلوی فرقہ کو اہل السنت والجماعت میں شمار کرتا ہے تو یہ اس کی صریح گمراہی ہے۔
ہم سب دستخط کنندگان کی طرف سے تمام مسلمانوں پر واضح ہونا چاہئے کہ اب بھی ہم اسی دیوبندی مسلک پر شدت کے ساتھ قائم ہیں ،جو ہمارے عہد اول کے اکابر سے ہم تک پہنچا ہے ،ہمیں کسی قسم کی خفت گوارا نہیں ہے ۔و باللہ التوفیق
محمد عاقل عفا اللہ عنہ ....صدر المدرسین محمد سلمان ....قائم مقام ناظم
مقصود علی ....مفتی مدرسہ عبد الرحمن عفی عنہ ....مفتی مدرسہ
(مہر دارالافتاءمظاہر العلوم سہارنپور )
( بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل از شہید اسلام مولانا یوسف لدھیانوی ؒ ،ج10،ص207تا213)
امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمة اللہ علیہ
امام اہلسنت کے تلمیذ حضرت مولانا محمد رشید صاحب مدظلہ العالی ( استاذ الحدیث مدنیہ بہاولپور ) فرماتے ہیں :
میں نے ایک بار حضرت امام اہل السنت سے پوچھا کہ بریلویوں کا کیا حکم ہے ؟ ہمیں ان کے بارے میں کیا نظریہ رکھنا چاہئے ؟ تو فرمایا : ان کے مولوی اور پیر قسم کے لوگ تو کفریہ عقائد کی وجہ سے پکے کافر اور مشرک ہیں ،ان کے پیچھے نماز باطل بلاشک ہے البتہ عوام کی ہم تکفیر نہیں کرتے ،کیونکہ وہ محض جاہل ہیں ،ان کو سمجھانا چاہئے اگر و ہ سمجھانے کے باوجود جانتے بوجھتے ہوئے کفریہ و شرکیہ نظریات پر ڈٹے رہیں تو پھران کی بھی تکفیر کی جائے ۔ورنہ نہیں ۔
حضرت کے فرزند ارجمند مولانا عبد القدوس قارن صاحب مدظلہ العالی نے اس بیان کی تصدیق فرمائی ۔
( ماہنامہ صفدر ،شمارہ نمبر 30،اگست 2013،ص4)
مزید تفصیل کیلئے مولانا حمزہ احسانی صاحب کا مضمون ”دیوبندی بریلوی اختلاف ....اور....حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ “ مندرجہ ” ماہنامہ صفدر ،شمارہ نمبر 30،اگست 2013“ کا مطالعہ فرمائیں ۔
ان فتاوی کو نقل کرنے کا مقصد
یہ ہے کہ اگر اکابر علماءدیوبند مثلا حضرت تھانوی ؒ ،مولانا اعزاز علی ؒ علامہ کشمیری ؒ کا احمد رضاخان یا بریلوی مسلک کے متعلق وہی موقف ہوتا جو کوکب اوکاڑوی یا مجید نظامی یا دیگر رضاخانیوں نے جھوٹے حوالے گھڑ کر ثابت کرنے کی کوشش کی تو ان کے علوم و عقائد کے امین ان کے اصاغر و تلامذہ خلفاءہر گز یہ موقف نہ اپناتے جن کا ذکر ماقبل کے فتاوی میں موجود ہے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔