جمعرات، 2 جولائی، 2015

زاغ معروفہ کی حلت و حرمت کا مسئلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم.

زاغ معروفہ کی حلت و حرمت کا مسئلہ

علامہ ساجد خان نقشبندی مدظلہ العالی

قارئین کرام کافی عرصہ سے ساتھیوں کی طرف سے مسلسل اس بارے میں تقاضہ کیا جارہا تھا کہ فقیر اس مسئلہ پر کچھ لکھے مگر پے درپے مصروفیات کی وجہ سے باوجود قلبی رغبت کے اب تک اس موضوع پر کوئی خاطر خواہ مضمون نہ لکھ سکا ۔آج اللہ رب العزت نے توفیق دی اور کچھ فارغ وقت ملا تو سوچا اس موضوع پر کچھ لکھتا جاؤں۔
قارئین کرام !دراصل قطب الاقطاب فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے سہانپور کے کسی باشندے نے سوال کیا کہ :
سوال:جس جگہ زاغ معروفہ کو اکثر حرام جانتے ہوں اور کھانے والے کو برا کہتے ہوں تو ایسی جگہ اس کوا کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا۔یا نہ ثواب ہوگا نہ عذاب؟۔



جواب:ثواب ہوگا۔(فتاوی رشیدیہ،ص۱۳۰،ج۲)۔

اتنی سی معمولی بات پر نام نہاد بریلوی مولویوں نے اپنا کمالِ علم یہ ظاہر فرمایا کہ وعظ و تقریر اشتہارات و رسائل غرض جملہ مراحل طے کر ڈالے اپنے اکابر و اساتذہ کو گالیاں دیں اور عوام سے دلوائیں حالانکہ متعارف کوے کا یہ مسئلہ کوئی جدید مسئلہ نہیں ۔دیگر آئمہ کرام کے زمانے میں بھی اس کے متعلق سوال ہوئے اور انھوں نے اس کی حلت پر فتوے دئے۔۔لیکن زمانہ کا اقتضاء اور چودہویں صدی کی آزادی کا منشاء ہے کہ عقل و فہم کو،اصول و شریعت کو،مسلک حنفیت کو سب کو بالائے طاق رکھ کر آنکھیں بند کرکے وہ وہ خامہ فرسائی کی گئی کہ الامان والحفیظ۔
جبکہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کے محض زاغ معروفہ کی حلت کے فتوے کی بنیاد پر اگر علمائے دیوبند کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو یہ حضرات امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں زبان کیوں نہیں کھولتے جو ہر طرح کے کوے کو حلال مانتے ہیں۔حوالہ ملاحظہ ہو:
مسلک مالکی میں ہر قسم کا کوا حلال ہے
المالکیۃ قالوا:یحل اکل الغراب بجمیع انواعہ۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعہ،ج۲،ص۱۸۳،کتاب الحظر والاباحۃ،طبع مصر)
مالکیہ کے نزدیک ہر قسم کا کوا کھانا حلال ہے۔
حیرت ہے کہ مسلک مالکی والے اگر ہر قسم ،ہر نوع کے کوا کھانے کو حلال لکھ دیں تو ان کے خلاف ایک لفظ ان حضرات کے منہ سے نہیں نکلتا۔مگر علمائے دیوبند اگر فقہ حنفی کی روشنی میں کسی چیز کی حلت کا فتوی دے دیں تو آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے ۔۔؟؟؟آخر یہ محض تعصب اور دیوبند دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔؟۔
پھر بریلوی حضرات کو فتاوی رشیدیہ کا یہ فتوی تو نظر آتا ہے مگر کیا کبھی اپنے گھر کی خبر بھی لی ہے کہ جن کے اعلحضرت نے ’’چمگادڑوں ‘‘ اور ’’الوؤں‘‘ تک کے حلت کے فتوے دئے ہیں۔ملاحظہ ہو:
مولوی احمد رضاخان کے نزدیک ’’چمگادڑ ‘‘ حلال ہے
چمگادڑ چھوٹا ہو یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیں اس کی حلت و حرمت ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالی میں مختلف فیہ ہے ۔بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی۔اس وجہ سے کہ و ہ ذی ناب ہے مگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے کہ مطلقا دانت موجب حرمت نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتا ہو۔ظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیں لہٰذا درمختار میں قول حرمت کی تضعیف کی گئی ہے۔(فتاوی رضویہ،ج۲۰،ص۳۱۸)
بریلوی حضرات اب بتلائیں کہ تمہارے گروجی احمد رضاخان بریلوی تمہیں کس مقام پر لے آئیں۔اب تو مہمانوں کی ضیافت پر اور میت کے سوم یعنی تیسرے دن اور میت کے چالیسویں میں اور ششماہی اور سالانہ ختم شریف میں اور شادیوں کے موقعہ پر مرغی کا انتا مہنگا گوشت خریدنے سے تمہاری جان چھوٹ گئی۔کیونکہ حضرت امام قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مرغی کا گوشت کھانا مکروہ ہے لہٰذا مکروہ سے بچنے کیلئے آپ کے امام صاحب نے آپ کی سہولت کیلئے یہ بابرکت فتوی دیا لہٰذا اب ہر بابرکت بریلوی محفل میں (خصوصا گیارہویں شریف اور احمد رضاخان صاحب کے سالانہ عرس ) میں اس گوشت کو عام کیا جائے تاکہ مرغی کے گوشت کی مہنگائی کا توڑ بھی ہوسکے اور مہمان گوشت سے لطف اندوز بھی ہوسکیں۔اور احمد رضاخان صاحب کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں دیں کہ جس نے آپ حضرات کو مہنگائی کے منہ سے نکال کر بغیر قیمت کے ملنے والا چمگادڑ کا گوشت کھانے کا فتوی دے دیاتاکہ اس کے مقلدین پریشان نہ ہوں۔
اگر آپ کہیں کہ حضرت آپ ذرا صبر سے کام لیں ہمارے ’’آلہ حضرت ‘‘نے اس کو اپنی طرف سے حلال نہیں کیا بلکہ فقہاء احناف کے حوالے دئے ہیں تو یہی بات ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کوے کی ایک قسم کی حلت پر فقہاء احناف کے حوالے بطور دلیل رکھتے ہیں اس وقت آپ حضرات کو یہ اصول یاد کیوں نہیں آتے۔۔۔؟؟؟۔
’’الو‘‘ حلال ہے احمد رضاخان صاحب کا فتوی
اہلسنت والجماعت پر اعتراض کرنے والوں ذراآنکھیں کھول کر دیکھو کہ آپ کے خان صاحب نے تو ’’الو‘‘ کے حلال ہونے کابھی ایک قول نقل کیا ہے ۔فتوی ملاحظہ ہو:
بعض نے کہا کہ شقراق نہ کھایا جائے اور بوم(الو) کھا یا جائے ۔۔۔و عن الشافعی ؒ قول انہ حلال اما م شافعی کا ایک قول ہے کہ یہ(الو) حلال ہے۔ (فتاوی رضویہ ،ج۲۰،ص۳۱۳،۱۳۴)
اگرچہ خان صاحب نے الو کھانے کے قول کی تضعیف کی ہے مگر کل کو اگر کوئی بریلوی اس فتوے کو دیکھ کر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے الو کھانے لگ جائے تو کیا بریلوی حضرات اس شخص پر بھی اسی قسم کے سوقیانہ جملے کسیں گے جو وہ علمائے دیوبند پر بولتے ہیں اور کیا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بھی کبھی ان لوگوں کی دراز زبانیں کھلیں گی ۔۔یا یہ گالیاں صرف حضرات دیوبند کیلئے رہ گئی ہیں؟؟؟۔۔ہاں ہاں کبھی ان کے خلاف ایک لفظ نہ بولیں گے اس لئے کہ علمائے دیوبند کے خلاف بکواس کرنے پر اوپر سے مرغ مسلم ملتا ہے اور ان حضرات کے خلاف بولنے پر جوتے۔
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی یہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا ہی نہ ہو
زاغ معروفہ اور فقہاء احناف
قارئین کرام حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو فتوی دیا اور فقہاء حنفیہ کی تصریحات کے عین مطابق ہے اور ان کی فقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس سلسلے میں حضرات سلف رحمہم اللہ کے اقوال پیش کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کو ے کی تین قسمیں ہیں:
(۱) وہ کو ا جس کی خورا ک صرف اور صرف نجاست ہو یہ بالاتفاق حرام ہے۔
(۲) وہ کوا جس کی خوراک صرف پاک چیزیں ہوں جوصرف دانہ وغیرہ کھاتا ہے عموما دیہات وغیرہ میں ہوتا ہے یہ بالاتفاق حلال ہے۔
(۳) وہ کوا جو کبھی غلاظت کھاتا ہے کبھی پاک چیزیں اور اس کی خوراک دونوں قسم کی چیزیں ہیں۔تو یہ کوا امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک مکروہ اور امام اعظم امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حلال ہے ۔اور فتوی بھی حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر ہے۔اور یہی کوا ہمارے علاقے میں پایا جاتا ہے اور اسی کو فتاوی رشیدیہ میں حلال کہا گیا ہے۔
چنانچہ امام محمد بن محمد سرخسی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب مبسوط میں کوے کی اقسام اور ان کے احکام کے بارے میں بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
فان کان الغراب بحیث یخلط فیاکل الجیف تارۃ والحب تارۃ فقد روی عن ابی یوسف ؒ انہ یکرہ لانہ اجتمع فیہ الموجب للحل والموجب للحرمۃ وعن ابی حنیفۃ ؒ انہ لا باس باکلہ وھو الصحیح علی قیاس الدجاجۃ فانہ لاباس باکلھا۔(المبسوط،ج۱۱،ص۲۴۸،بیروت)
اگر کوا وہ جو کبھی گندگی کھاتا ہے اور کبھی دانے تو حضرت امام ابویوسف ؒ سے روایت ہے کہ وہ مکروہ ہے ۔کیونکہ اس میں حلت و حرمت دونوں موجب جمع ہوچکے ہیں۔اور حضرت امام ابو حنیفہ ؒ سے روایت ہے کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔اور یہی صحیح ہے۔مرغی پر قیاس کرتے ہوئے کیونکہ اس کے کھانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
اب بریلوی حضرات جواب دیں کہ امام ابو حنیفہ ؒ کو تم لوگ بھی اپنا پیشوا مانتے ہو مندرجہ بالا عبارت کو بار بار پڑھیں اور غور فرمائیں کہ امام سرخسی ؒ امام ابو حنیفہ ؒ سے کیا نقل کرگئے ہیں اور کس طرح اس کو صحیح قرار دے چکے ہیں ۔اور یہ بھی بتادیں کہ کوے کی مذکورہ قسم پر حلت کا فتوی صرف ہمارے پیشوا حضرت گنگوہی ؒ نے ہی دیا ہے یا امام اعظم ؒ سے بھی اس کاکچھ ثبوت ملتا ہے۔۔۔؟؟؟
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے
اسی طرح امام علاؤ الدین ابو بکر کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کوے کی حلت و حرمت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
فحصل من قول ابی حنیفۃ ان ما یخلط من الطیور لا یکرہ اکلہ کاالدجاج و قال ابو یوسف ؒ یکرہ لان غالب اکلہ الجیف ۔(البدائع الصنائع ،ج۶،ص۱۹۷)
امام ابو حنیفہ کے قول سے معلوم ہوا کہ جو پرندے حلال و حرام دونوں طرح کی غذا کھاتے ہیں وہ مکروہ نہیں ہیں جیسے مرغی او ر امام ابویوسف ؒ فرماتے ہیں کہ مکروہ ہیں کیونکہ ان کی غالب غذا مردار ہے۔
اس عبارت سے معلوم ہوگیا کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر کسی جانور میں مردار و نجاست کا غلبہ ہو تو وہ بھی حرام ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عام پھرنے والی مرغی کو بھی حرام کہتے ہیں اور امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اس قسم کا پرندہ حلال ہے ۔حیرت ہے کہ بریلوی حضرات دیوبند دشمنی میں کوے کی حرمت پر تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرتے ہیں مگر مرغ مسلم ٹھونستے وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے کو بالکل پست پشت ڈال دیتے ہیں۔
اسی طرح عنایہ علی ہامش فتح القدیر میں ہے کہ:
اما الغراب الابقع و الاسود فھو انواع ثلثہ :نوع یتلقط الحب ولا یاکل الجیف و لیس بمکروہ ،و نوع منہ لا یاکل الا الجیف وھو الذی سماہ المصنف الابقع الذی یاکل الجیف و انہ مکروہ و نوع یخلط یاکل الحب مرۃ والجیف اخری و لم یذکرہ فی الکتاب وھو غیر مکروہ عند ابی حنیفۃ مکروہ عند ابی یوسف ۔(عنایہ ،ص۵۱۲،ج۹)
غراب ابقع اور غراب اسود کی تین قسمیں ہیں ایک قسم صرف دانے چگتی ہے مردار خور نہیں یہ مکروہ نہیں ایک قسم صرف مردار خور ہے مصنف ؒ نے اسی کو ابقع کہا ہے یہ مکروہ ہے ۔اور ایک قسم دونوں طرح کی غذائیں کھالیتی ہے۔کتاب میں اس کا ذکر نہیں امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور اما ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ ہے۔
پھر آگے اس اختلاف کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
اصل ذالک ان ما یوکل الجیف فلحمہ نبت من الحرام فیکون خبیثاعادۃ وما یوکل الحب لم یوجد ذالک فیہ وما خلط کالدجاج فلا باس باکلہ عند ابی حنیفہ و ھو الاصح لان النبی ﷺ اکل الدجاجۃ و ھی مما یخلط۔(ایضا،ص۵۱۲،۵۱۳،ج۹)
اس اختلاف کی بنیاد اس بات پر ہے کہ جو پرندہ گندگی کھاتا ہے تو چونکہ اس کا گوشت بھی اسی سے نشو نما پاتا ہے اس لئے مکرو ہ ہے اور جو صرف دانہ کھاتا ہے تو چونکہ اس میں یہ صورت نہیں تو وہ حلال ہے ۔اور جو پرندہ گندگی اور پاک چیزیں دونوں کھاتا ہے تو وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حلال ہے اور یہی صحیح قول ہے اس لئے کہ مرغی بھی نجاست اور پاک چیزیں دونوں کھاتی ہے مگر حضور ﷺ نے اس کو تناول فرمایا ہے۔
در مختار میں ہے کہ:
حل (غراب الذرع)الذی یاکل الحب (والارنب والعقعق)ھو غراب یجمع بین اکل جیف و حب والاصح حلہ ۔(درمختارمع فتاوی شامی،ص۳۷۳،ج۹)
اور کھیتی کا کوا جو دانا کھاتا ہے حلال ہے اور خرگوش اور عقعق وہ کوا ہے جو گندگی اور دانا دونوں کھاتا ہے صحیح قول کے مطابق اس کا کھانا حلال ہے۔
اسی طرح فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے کہ:
والغراب الابقع مستخبث طبعا فاما الغراب الذرعی الذی یلتقط الحب مباح طیب و ان کان الغراب بحیث یخلط فیاکل الجیف تارۃ والحب اخری فقد روی عن ابی یوسف رحمۃ اللہ علیہ انہ یکرہ و عن ابی حنیفۃ انہ لا باس باکلہ وھو الصحیح علی قیاس الدجاجۃ۔(فتاوی عالمگیری،ج۵،ص۳۵۸)
اور غراب ابقع جو صرف مردار کھاتا ہے طبعا گندہ ہے اور غراب زرعی جو صرف دانہ چگتا ہے مباح اور پاکیزہ ہے۔اور اگر کوا ایسا ہو جو مردار اور دانہ دونوں کھالیتا ہو تو اس کے بارے میں امام ابو یوسف ؒ سے مروی ہے کہ مکروہ ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں یہی صحیح قول ہے جیسا کہ مرغی دونوں چیزیں کھانے کا باوجود حلال ہے۔
ان حوالوں سے بھی صاف طور پر معلوم ہوا کہ وہ کوا یا کوئی بھی پرندہ جو غلاظت اور پاک اشیاء دونو ں کھائے وہ صحیح تر قول کے مطابق ہے حلال ہے اور اسی بنیاد پر فتاوی رشیدیہ میں حلت کا فتوی دیا گیا۔غرض اس قسم کے کوے کی حلت میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں مگر چونکہ متروک الاستعمال ہے اس لئے نہ کسی نے اس کو کھانے کا خیال کیا نہ استفتاء کی ضرورت پیش آئی بلکہ عوام کا خیال یہی رہا ہے کہ حرام کوا یہی ہے۔لہٰذا سہارنپور کے کسی باشندے نے شیخ المشائخ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے استفتاء کیا اور مولانا ممدوح نے معمولی طور پر جواب دے دیا۔اتنی سی معمولی بات پر نام نہاد مولویوں نے اپنا کمال علم یہ ظاہر فرمایا کہ وعظ و تقریر میں وہ وہ گالیاں دی کہ الامان والحفیظ حالانکہ ان جاہلوں نے ذرا یہ نہ سوچا کہ ان گالیوں کی زد میں صرف حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ ہی نہیں آرہے ہیں۔۔بلکہ یہ اعلام امت بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔غرض فقہ حنفی کی ہر مستند کتاب میں یہ مسئلہ مذکور ہے طوالت کے خوف سے ہم انہی حوالہ جات پر بس کرتے ہیں اس لئے کہ ماننے والے کیلئے ایک حوالہ بھی کافی ہے اور نہ ماننے والے کیلئے دفتر کے دفتر بھی ناکافی۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے متعلق مولوی احمد رضاخان کا اصول
قارئین کرام ماقبل کے حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ حضرت علامہ رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جو فتوی دیا وہی فتوی امام اعظم اما م ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ احمد رضاخان صاحب کے اصول کے تحت جو مسلک اور موقف علامہ رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کوے کی حلت کے متعلق اختیا ر کیا احمد رضاخان صاحب کے اصول کے تحت وہی مسلک ان کا بھی بنتا ہے ۔چنانچہ اللہ رب العزت نے مولوی صاحب کے قلم سے ایسی بات نکلوادی جس سے مسلک اہلسنت دیوبند کی زبردست تائید ہوتی ہے۔احمد رضاخان صاحب فرماتے ہیں کہ:
اگرچہ کتب حنفیہ میں یہاں قول صاحبین پر بھی بعض نے فتوی دیا مگر اصح و احوط اقدم قول امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے اور فقیر کا معمول ہے کہ کسی مسئلہ میں بے خاص مجبوری کے قول امام سے عدو ل نہیں کرتا جس کی تفصیل جلیل میرے رسالہ اجلی الاعلام بان فتوی علی القول الامام میں ہے۔اذا قال الامام فصدقوہ فان القول ما قال الامام ۔ہم حنفی ہیں نہ کہ یوسفی یا شیبانی۔(ملفوظات،حصہ دوم،ص۱۴۴)
قارئین کرام احمد رضاخان صاحب کی اس عبارت سے ثابت ہوگیا کہ وہ ہر حال میں فتوی امام اعظم ؒ کے مذہب پر ہی دیتے ہیں الاکوئی سخت مشکل ہو بلکہ وہ تو اس میں اس قدر جنونی ہوچکے تھے کہ اس کی تائید میں ایک عدد رسالہ بھی لکھ دیا تھا جس کا حوالہ انھوں نے اپنے اوپر کے ملفوظ میں بھی دیا۔پس ہم نے ثابت کردیا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ زاغ معروفہ کو حلال مانتے ہیں اور احمد رضاخان کے قائم کردہ اصول کے تحت یہی مذہب مولوی احمد رضاخان کا بھی بنتاہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی اسی پر ہے۔پس یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ علمائے دیوبند کی ضد میں ان لوگوں نے نہ صرف امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کو چھوڑدیا بلکہ اپنے دین کے بانی جن کے نام پر ان کے پیٹ کے دھندے چل رہے ہیں کہ تقلید کو بھی خیر باد کہہ دیا۔
پھر یہ بھی دیکھیں کہ ہم نے ماقبل میں ثابت کردیا کہ اما م ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مرغی کھانا مکرو ہے یہ لوگ کوے کی حرمت پر تو ان کے قول پر فتوی دیتے ہیں مگر نہ معلوم مرغی کے حرام ہونے پر یہ لوگ امام ابو یوسف کے مذہب پر کب فتوی دیں گے۔۔؟؟؟مرجائیں گے مگر مرغی کھانا نہ چھوڑیں گے اگرچہ حرام کی ہی کیوں نہ ہو ۔۔پس بریلوی حضرات کو بھی غور کرنا چاہئے کہ اگر وہ کوے کے مسئلہ میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر فتوی دیں گے تو رد عمل میں مرغی کی حرمت پر بھی فتوی دینا ہوگا۔اور اس صورت میں مولوی احمد رضاخان کے وصایا شریف میں دج ایک درجن مرغن غذاؤں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔توکیا اس کیلئے تیار ہو۔۔۔؟؟؟۔
وقت کی کمی کی وجہ سے یہ چند معروضات پیش کردی ہیں۔اگر کسی بریلوی کی طرف سے کوئی ردعمل آیاتو انشاء اللہ مزید تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔اللہ پاک حق بات قبول کرنے اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔