منگل، 14 جولائی، 2015

صحافتی بھتہ پر پلنے والا ’’امت اخبار‘‘ اپنی زبان کو لگام دے


صحافتی بھتہ پر پلنے والا ’’امت اخبار‘‘ اپنی زبان کو لگام دے
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہ اللہ

ہمارے ملک میں صحافت ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ،ولوگوں کی عزتیں اچھالنا ،بلیک میلنگ ،جھوٹ ،بے بنیاد الزام تراشی ،بنا ثبوت رپورٹنگ ،غلط افواہیں اس کا روز کا معمول ہے ۔اس کالی صحافت کی دنیا میں صف اول میں آپ کو ’’امت ‘‘ اخبار نظر آئے گا ۔جو مخالفین کے ہاتھوں اپنا اخبار بکوانے کیلئے آئے دن کبھی مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ العالی اور کبھی مفتی نعیم صاحب مدظلہ العالی کے خلا ف جھوٹی خبریں شائع کرتا رہتاہے اور ثبوت ایک بھی نہیں دیتا۔جس کی خبر اور کالم قصہ کہانیوں کا واحد ذریعہ ’’امت کے خاص ذرائع ‘‘ نامی ’’نامعلوم افراد‘‘ہوتے ہیں۔تازہ شمارے میں اپنی کالی صحافت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے جنید جمشید اور اس کی آڑ میں ولی کامل مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی پر تبرا کرکے اپنی سیاہ بختی کا ثبوت دیا ہے اور گڑھے مردے اکھاڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔امت کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کی توہین کے جھوٹے الزام کا ایسا منہ توڑ جواب یہ راقم دے چکا ہے کہ الزام لگانے والے اب تک منہ چھپائے پھر رہے ہیں اور اپنے گھر کا گندچاٹ رہے ہیں ۔امت اخبار کو مقدس شخصیات کی ناموس کا اتنا ہی خیال ہے کہ تو اپنے قائد سید ابو الاعلی مودودی کی گستاخیاں بھی چھاپے جو حضرت موسی علیہ السلام کو گناہ گار نبی اکرم ﷺ کوعرب کا ان پڑھ ،حضرت عثمان غنی و امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کو بدعتی کہتا تھامعاذ اللہ ۔ جس کے کفریہ عقائد پر ملک کے جید علماء کفر کے فتاوی دے چکے ہیں ۔امت اخبار میں اگر جرات ہے تو جنید جمشید اور مودودی کے حوالے سے جس فورم پر چاہے مجھ سے مناظرہ کرلے ۔اگر یہ نہیں ہوسکتا تو کیا امت انتظامیہ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اس حوالے سے میرے مضمون کو اپنے صفحات کی زینت بنانے کی یقین دہانی کرائے؟رمضان ٹرانسمیشن کی آڑ میں علمائے پر تبرا کرنے والا امت کیا بھول گیا کہ پچھلے سال گستاخ صحابہ عامر لیا قت حسین بریلوی نے جیو میں لائیو یہ کہا تھا کہ امت کے صحافی اور کالم نگار مجھے سے اپنی فیملی کے ساتھ پروگرام میں شرکت کیلئے ٹکٹ کی بھیک مانگتے رہے اور ٹکٹ نہ ملنے پر میرے خلا ف کالم لکھ دیا۔کراچی میں کس کو یہ معلوم نہیں کہ امت اپنے رنگین صفحہ پر کسی بھی ادارے یا شخصیت کی حمایت میں کالم چھاپنے پر پانچ ہزار سے پچیس ہزار تک کی رشوت وصول کرتا ہے اور نہ دینے پر دھمکیاں دیتاہے ۔میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ پانچ ہزار روپے دے کر آپ امت اخبار میں کسی بھی جھوٹ کو چھاپ یا خبر کی اشاعت کو رکواسکتے ہیں ۔امت اخبار کا ایمان کراچی کی ٹریفک پولیس سے بھی سستا ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔