جمعہ، 24 جولائی، 2015

جنید جمشید بھائی کے حوالے سے جاہلانہ سوالات کے مختصر جوابات


%% جنید جمشید بھائی کے حوالے سے جاہلانہ سوالات کے مختصر جوابات %%

ساجد خان نقشبندی
بغض اور حسد کی آگ انسان کو پاگل کردیتی ہے دنیا میں کئی ایسے لوگ ہوں گے جو دین کا کھلم کھلا مزاق اڑا رہے ہوں گے دین کا تماشہ بنادیا ہوگا عامر لیاقت حسین نے گستاخی کی جیو نے اہل بیت کی توہین کی مگر ان رضاخانیوں کو اگر جلن بغض اور حسد ہے تو صرف اور صرف جنید بھائی سے کیونکہ اس نے کوکب نورانی اور مظفر حسین کے چیلے اور بریلوی مولوی گستاخ صحابہ گندی زبان والے عامر لیاقت حسین کی دکان بندکردی ہے لہذا اب اپنی دکانداری چمکانے کیلئے آئے دن کوئی نہ کوئی پروپگینڈا اسی دلی حسد و بغض کا اظہار ایک سوالنامہ کے طور پر ہمارے بہت ہی محترم بھائی ڈاکٹر ساجد صاحب نے ارسال کئے کہ ان سے ان کے کسی بریلوی رشتہ دار نے کئے ہیں لہذا مختصرا جواب حاضر ہے۔

 
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ ۱ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮﺗﺬﮐﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﯿﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﯽ ﺍﺧﺘﺮﺍﻉ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﯾﺚ، ﮐﺴﯽ ﺻﺤﺎﺑﯽ، ﺗﺎﺑﻌﯽ ﯾﺎ ﺗﺒﻊ ﺗﺎﺑﻌﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻗﻮﻝ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮﯼ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
جواب: یہ سوال قائم کرنا رضاخانیوں کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے کہ کسی آیت کی تفسیر میں کسی حدیث کسی صحابی تابعی کے قول کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں بات مجمل ہو اور قابل تشریح و تاویل ہو جو بات بالکل واضح اور مبرہن ہو اس پر اس قسم کے مطالبہ کرنا جہالت ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کوئی کہے کہ دن میں سورج نکلا ہے اس پر کسی صحابی کا قول پیش کرو یہ سورہ فاتحہ ہے اس پر کسی صحابی کا قول پیش کرو
قرآن میں جب بی بی مریم علیہ السلام کے علاوہ کسی اور عورت کا نام نہیں تو یہ بات بالکل واضح ہے اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں دلیل تو نظری بات کے ثبوت کیلئے چاہئے ہوتی ہے بدیہی بات خود دلیل ہے آمد آفتاب دلیل آفتاب است اسی موقع پر کہا جاتا ہے
حیرت ہے یہ مطالبہ وہ لوگ کررہے ہیں جن کی ساری زندگی قرآن کی معنوی تحریف میں گزری میں یہاں صرف ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں مولانا احمد رضاخان بریلوی لکھتے ہیں
اقول توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کرکے اسے راضی کرنا اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اللہ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم ﷺ کا گنہگار ہے قال اللہ تعالیٰ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ویلزمہ عکس النقیض من لم یطع اللہ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اللہ فقہ عصی الرسول اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اللہ و رسول کو راضی کرو قا ل اللہ تعالیٰ واللہ و رسولہ احق ان یرضوہ ان کانو ا مومنین سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اللہ و رسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔۔۔
یہ نفیس فوائد کہ استطراداً زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ"" اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے ""۔
(جزاء اللہ عدوہ باباۂ ختم النبوۃ ص ۴۸ ،مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ ۱۹۹۸ )
خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں خان صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جو توبہ کا مطلب اور ان آیات میں نے جو نکتہ بیان کیا ہے وہ میرے اس کتاب کے علاوہ کہیں اور نہیں ملیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ احمد رضا خان صاحب کی بیان کردہ یہ فوائد یا نکات یا تفسیر جو بھی آپ کہہ لیں کسی حدیث یا تفسیر میں ہے ؟
اگر ہیں تو احمدرضاخان صاحب کا اپنے دعوے میں کاذب ہونا لازم آرہا ہے ، اگر نہیں تو آپ کے فتوے کی رو سے کافر ، کہئے کیا جواب ہے؟
میرے خیال میں کافر کہنے سے کاذب تسلیم کرلینا زیادہ آسان رہے گا ۔
آپ کے مفتی احمد یار گجراتی صاحب لکھتے ہیں ۔
لن تنالواالبر حتی تنفقوا مما تحبُّون (آل عمران :۹۲ )
شب برات کا حلوہ اور میت کی فاتحہ اس کھانے پر کرنا جو میت کو مرغوب تھی اس سے مستنبط ہے ۔ (نورالعرفان ص ۴۱،نعیمی کتب خانہ)
کہئے جناب اس آیت کی تفسیر میں ’’ شب برأت کا حلوہ ‘‘ کس مسلم بین الفریقین مفسر نے کیا ہے ۔؟
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۲ : ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺟْﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﺍﺧﺘﺮﺍﻉ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﻮ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺑﺎﻟﺮﺍﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﻔﺴﯿﺮﺑﺎﻟﺮﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﮯ ﻣْﺼﻨّﻒ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻮﺩﻭﺩﯼ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﻋﻠﻤﺎ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﺳﮯ ﺑﺎﺯﭘْﺮﺱ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟
جواب:یہ ہرگز تفسیر بالرائے نہیں تفسیر بالرائے وہ ہے جو خان صاحب اور مفتی احمد یار گجراتی نے کی ہے اور حدیث نبوی کے مصداق اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۳ : ﺟْﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﮨﻞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﺸﺮﯾﺢ ﮐﺮﮮ؟
جواب: جاہل کبھی تواضع کیلئے بھی بولا جاسکتا ہے ضروری نہیں کہ جو آدمی یہ کہے حقیقتا وہ بالکل جاہل ہے ہم آپ کے اعلی حضرت نے اپنی کتب میں خود کو کتا اپنی اولاد کو اعلی نسلی کتا اور خود کو ذلیل تک کہا ہے تو کیا آپ انہیں ذلیل اور کتا ماننے کیلئے تیار ہیں نیز جنید جمشید نے کسی آیت کی تشریح و تفسیر نہیں کی بالکل قرآن سے ایک واقعہ بیان کیا اور جاہل اگر کسی کا قول نقل کرے تو وہ جائز ہے لہذا بالفرض جاہل بھی مان لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ جنید جمشید نے یہ حکایت کسی عالم دین سے سنی ہو اور وہ صرف ناقل ہوں
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ ۴ : ﺍﮔﺮ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮐﻮ ﺩﺭْﺳﺖ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺛﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮐﺎ ﺍﻃﻼﻕ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟
جواب: عورتوں کے احکام کو مردوں پر قیاس کرنا آپ کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ضروری نہیں جو چیز عورتوں کیلئے باعث افتخار ہو وہ مردوں کیلئے بھی ہو عورت کا افتخار پردے میں ہے اور پردہ کا حکم قرآن میں ہے اب آپ کیا مردوں کیلئے بھی پردے کا مطالبہ کریں گے? اف لکم
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۵ : ﺍﮔﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﻮﺭﮦ ﻟﮩﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻟﮩﺐ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻣﺮﺍﺗﮧ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮﻣﯿﮟ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟
جواب: یہ بھی آپ کی جہالت اور قرآن فہمی سے عدم بصیرت کی روشن دلیل ہے کبھی نام نہ لینا اہانت و توہین کیلئے بھی ہوتا ہے کہ اگلا بندہ اتنا ذلیل ہے کہ زبان سے اس کا نام لینا بھی گنوارا نہیں یہاں ابو لہب کی بیوی کا نام نہ لینا اس کی تکریم و عزت کیلئے نہ تھا بلکہ اس کی اہانت و توہین کیلئے تھا
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۶ : ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺟْﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍْﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﻮﺯﮎ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺗﺮﮎ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﺑﺠﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻂ ﻋﻤﻞ ﯾﺎ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻣْﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ؟
جواب : آپ کے اشرف سیالوی نے اپنی کتاب تحقیقات کے میں اپنے اوپر رضاخانیوں کی طرف سے گستاخی کے فتووں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اتنا بھی نہ سوچا گیا کہ محمد اشرف سیالوی حسب سابق وہابیہ اور گستاخ فرقوں کا رد کررہا ہے
(تحقیقات ،ص56)
اب بتائے اعتراض کے جواب میں موصوف بھی اپنے پچھلے کارنامے اور پچھلی زندگی بتارہے ہیں کیا جواب ہے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر خلاف شرع کسی سے کوئی قول سرزد ہوجائے تو دیکھیں اگر ملحد و زندیق ہے تو اس کا رد کریں گے اور اگر مسلمان ہے تو خدا و رسول پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے قول کی کوئی اچھی تاویل کرلینی چاہئے (مکتوبات مکتوب نمبر 122دفتر سوم)
مجدد صاحب بھی سابقہ زندگی اور عقائد کا لحاظ کررہے ہیں یہی بات جنید بھائ کہہ رہے ہیں کہ جب تک میں گویا تھا میں کچھ کرتا رہا تم خاموش اب جب دین کی طرف راغب ہوگیا ہوں تو تم میرے دشمن بن گیے ہو کم سے کم اتنا تو خیال کرلو اتنی تو شرم کرلو کہ میں سابقہ کیسی زندگی ترک کرکے آیا ہوں
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۷ : ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳٰﯽ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺒﻮﯼ ﺫﻣّﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﺟﺮ ﮐﺎ ﻣْﻄﺎﻟﺒﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﮐﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﺗﮯ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﺎﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ؟
جواب: وہ پیسے لیتے ہیں ہمارے علم میں نہیں آپ نے کوئی ثبوت نہیں دیا اگر لیتے ہوں تو وہ رقم تبلیغ کی نہیں وقت کی لیتے ہیں تبلیغ کیا مدنی چینل مفت کا چل رہا ہے ?
ہماری معلومات کے مطابق مظفر حسین شاہ ایک بیان کے تیس ہزار لیتا ہے حنیف قریشی غفران سیالوی اور ٹوکا کا ریٹ 50،000 تک ہے حیدر آباد کے ساتھیوں نے بتایا کہ غفران سیالوی جب یہاں آرہا تھا تو کہا میرے لئے انڈس ہوٹل میں کمرہ بک کرانا جو تھری سٹار اور حیدر آباد کا مہنگا ترین ہوٹل ہے
یہ جتنے نعت خواں جیو پر آتے ہیں یہ کیا مفت کورے ہیں کبھی یہ سوال اپنے گستاخ مولوی عامر لیاقت حسین کے متعلق بھی کیا
نیز یہ بتائیں کیا اذان دینا تبلیغ نہیں کیا آپ کے محلے کے تمام موذنین فی سبیل اللہ یہ کام کرتے ہیں شرم کرو یہ سوال وہ کررہے ہیں جو مردے کیلئے دعا بھی بغیر حلوے کے کرنے کے روادار نہیں
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۸ : ﺟْﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﻧﮯ ﻣﯿﻮﺯﮎ ﭼﮭﻮﮌﮐﺮ ﺩﯾﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ، ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﻣْﺒﻠّﻎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻃﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺷﻮﺯ ﮐﯽ ﻣﯿﺰﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﮧ ﺁﮐﺮ ﺷﻮﺯ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﯿﻮﺯﮎ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍْﺳﯽ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﺎ ﻧﻌﻢ ﺍﻟﺒﺪﻝ ﻣﯿﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﻮﺯﮎ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۹ : ﮐﯿﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺷﻮﺯ ﮐﺎ ﺧﻄﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻭﺻﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﮐﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﯿﺪ ﮐﮯ ﮨﻢ
ﻋﺼﺮﮔﻠﻮﮐﺎﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۰۱ : ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﮐﺎ ﮐﺮﺗﮧ ﺑﺰﻧﺲ ﮐﯿﺎ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﻥ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎ ﻋﻨﺼﺮ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺣﺎﻟﯿﮧ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣْﻨﺎﻓﻊ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟
جواب: سب مفروضے ان سوالوں کا عقاید و عمل سے کوئی تعلق نہیں بلکہ سراسر سوئے ظن پر مبنی ہیں یہی سوال ہمارا کوکب نورانی و مظفر حسین کے چیلے عامر لیاقت کے متعلق بھی ہے
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ۱۱ : ﺍﮔﺮ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﺗﺎ ﺣﺎﻝ ﻭﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺗﺒﺎﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣْﻄﺎﺑﻖ ﻏﯿﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﻣْﺒﻠّﻎ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮐﯿﺎ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﺎ ﺍﻃﻼﻕ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ؟
جواب: میں نے ان کی زبان سے کبھی کوئی قرآن عبارت نہیں سنی نہ اس بیان میں کوئی آیت تلاوت کی نیز یہ اصول ان کیلئے ہے جو غلطی کریں اگر کوئی صحیح پڑھ سکے تو مضائقہ بھی نہیں یہ سوال بھی مفروضہ ہے
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ ۱۲ : ﮐﯿﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﺳﮯ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯﭘْﺮﺱ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ؟
جواب: رائیونڈ سے رابطہ کریں
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ ۱۳ : ﺍﮔﺮﺟﻨﯿﺪ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﺒﻠﯿﻐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﻻﺗﻌﻠﻘﯽ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺍْﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺪﺷﮧ ﮨﮯ؟
تبلیغی جماعت میں رکن سازی نہیں ہوتی جو اعلان برات کرنا ضروری ہے نہ ہی تبلیغی جماعت میں وقت لگانے والا تبلیغی جماعت کا باقاعدہ رکن ہے یہاں سب کام اپنے بل بوتے پر ہوتا ہے ایک ہی فرد اپنی ذات میں متکلم بھی ہے مبلغ بھی ہے امیر بھی ہے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔