سوموار، 27 جولائی، 2015

اللہ کو پہلے معلوم نہیں ہوتا بلغۃ الحیران پر ایک اعتراض کا جواب


% اللہ کو پہلے معلوم نہیں ہوتا بلغۃ الحیران پر ایک اعتراض کا جواب %
ساجد خان نقشبندی
یہ جواب میری غیر مطبوعہ کتاب "دفاع اہل السنۃ والجماعۃ" سے ماخوذ ہے اس کتاب میں راقم نے بریلویوں کے 500 سے زائد اعتراضات کے جوابات دئے ہیں کمپوزنگ ہورہی ہے اشاعت کیلئے دعا فرمائیں
(اعتراض نمبر۱۰):اللہ تعالی کو پہلے بندوں کے کاموں کی خبر نہیں ہوتی بعد میں ہوتی ہے ۔ نعوذ باللہ
یہ عنوان قائم کرکے ترجمان رضاخانیت لکھتا ہے :


 
’’دیوبندی مذہب کے شیخ القرآن مولوی غلام اللہ خان کے استاد اور دیوبندی مذہب کے محدث اعظم مولوی سرفراز صدفر گھگڑوی کے شیخ طریقت دیوبندی مذہب کے قطب رشید احمد گنگوہی کے شاگرد رشید مولوی حسین علی واں بھچروی لکھتے ہیں کہ :اور انسان خود مختار ہے اچھے کریں یا نہ کریں اور اللہ کو پہلے سے کوئی علم بھی نہیں ہوتا کہ کیا کریں گے بلکہ اللہ کو ان کے کرنے کے بعد معلوم ہوگا اور آیات قرآنیہ جیسا کہ ولیعلم الذین وغیرہ بھی اور احادیث کے الفاظ بھی اس مذہب پر منطبق ہیں ‘‘۔(بلغۃ الحیران،ص157,158،طبع گوجرانوالہ )
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص،دیوبندی مذہب ،ص161،باطل اپنے آئینہ میں41 ،دیوبندسے بریلوی ،ص33 )
جواب :اولا تو اس جاہل ترجمان رضاخانیت کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ بلغۃ الحیران نامی کتاب مولانا حسین علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی کتاب نہیں نہ ان کی تصنیف ہے نہ ہی ہماری معتبر کتاب ہے بلکہ محرف ہے۔یہ ان کی املائی تفسیر ہے جسے ان کے بعض شاگردوں نے جمع کرکے شائع کردیاہے۔ترجمان رضاخانیت نے اپنی کتاب کے سرورق پر لکھا ہوا ہے ’’مستند کتب دیوبندکے حوالہ جات سے مزین‘‘ مزید لکھا ’’توحید باری تعالی کے متعلق عقائد ان کی مستند کتب سے پیش کررہے ہیں ‘‘( دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص49)تو اگر ترجمان رضاخانیت میں جرات ہے تو اہل السنت والجماعت کے اکابر سے اس کتاب کا مستند ہونا ثابت کرے۔
بلغۃ الحیران ہماری معتبر کتاب نہیں
بلغۃ الحیران مولانا حسین علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف نہیں اور محرف بھی ہے۔اس لئے اس کے وہ مندرجات جو قرآن و سنت یا جمہور امت سے متصادم ہوں گے ہمارے لئے حجت نہیں ۔تفصیل کیلئے مولانا عبد الشکور ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’ہدایۃ الحیران ،ص171تا173کا مطالعہ کریں ۔نیز حکیم الامت مجدد دین و ملت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ؒ اسی کتاب کے متعلق لکھتے ہیں :
’’اب ایک التماس پر معروضہ کو ختم کرتا ہوں وہ یہ کہ میں ایسی کتاب جس میں ایسی خطرناک عبارت ہو بعد حاشیہ تنبیہی کے بعد بھی نہ اپنی ملک میں رکھنا چاہتا ہوں نہ اپنے تعلق کے مدرسہ میں اگر عید کے قبل محصو ل و رجسٹری کے ٹکٹ بھیج دئے جائیں تو ان ٹکٹوں سے ورنہ بعد میں اپنے ٹکٹوں سے خدمت میں بھیج دوں گا‘‘۔(امدادلفتاوی ،ج6،ص122 کتاب العقائد والکلام طبع کراچی)
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی احتیاط ملاحظہ ہو جو آدمی ایک عبارت کی وجہ سے کتاب اپنے پاس رکھنے کا روادار نہ ہو اس کے بارے میں کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس نے خو د نبی کریم ﷺ کی توہین کی ہوگی معا ذ اللہ۔
بلغۃ الحیران کی عبارت میں خیانت
پھر آج تک جس بھی رضاخانی نے اس عبارت کو نقل کیا کبھی پورا نقل نہیں کیا اور نواب احمد رضاخان کی بدعت سیۂ پر عمل کرتے ہوئے قطع و برید کرکے عبارت کو پیش کیا کیونکہ عبارت اس طرح شروع ہوتی ہے :
’’معتزلہ کہتے ہیں کہ پہلے ذرہ بذرہ لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ جو چاہا تھا لکھا تھا سب چیز موجود کا عالم ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا بھی عالم ہے اور جس چیز کا ابھی ارادہ بھی نہیں کیا اس کا عالم نہیں کیونکہ اصل میں وہ شے بھی نہیں ہے اور انسان خود مختار ہے اچھے کام کریں یا نہ کریں اور اللہ کو پہلے سے کوئی علم بھی نہیں کہ کیا کریں گے بلکہ اللہ کو ان کر نے کے بعد معلوم ہوتا ہے ‘‘۔
(بلغۃ الحیران،ص157,158)
خط کشید عبارت ملاحظہ ہو کتنا بڑا دھوکا ہے کہ وہ یہاں ’’معتزلہ ‘‘ کا عقیدہ بیان فرمارہے ہیں مگر شروع کے الفاظ نکال کر معتزلہ کے اس عقیدے کو مولانا کی طرف منسوب کیا جارہاہے شرم شرم شرم ۔
مولاناحسین علی صاحب کی اپنی کتاب سے علم الٰہی اور تقدیر کے متعلق ان کا عقیدہ
اعلم ان مذہب اھل الحق اثبات القدر و معناہ ان اللہ تبارک و تعالی قدر الاشیاء فی القدم و علم ھو سبحانہ انھا ستقع فی اوقات معلومۃ عندہ سبحانہ و تعالی و علی صفات مخصوصۃ نووی ج1ص27 فھی تقع علی حسب ما قدرھا سبحنہ و انکرت القدریۃ ھذا و زعمت انہ سبحانہ لم یقدر ھا ولم یتقدم علمہ و انھا مساتنفۃ العلم ( ای انما یعلمھا سبحانہ بعد وقوعھا و کذابوا علی اللہ سبحانہ و تعالی و جل عن اقوالھم الباطلۃ علوا کبیرا نووی شرح مسلم ج1،ص27‘‘۔
(تحریرات حدیث ،ص491,492)
ترجمہ : اے مخاطب تو جان لے کہ اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ تقدیر حق اور ثابت ہے اور اس کا مطلب یہ ہیکہ اللہ ازل ہی میں تمام اشیاء کا ایک اندازہ مقرر کردیا ہے اور تمام امور اس کے علم میں تھے کہ وہ اپنے اپنے مخصوص وقت میں واقع ہوں گے ( اور ان کے اوقات وصفات مخصوصہ سب اللہ تعالی کے علم میں تھے ) تو یہ امور اسی اندازے کے مطابق واقع ہوتے ہیں جسکو اللہ تعالی نے متعین کردیا ہے اور قدریہ فرقہ اس کا انکار کرتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان اشیاء کا پہلے سے کوئی اندازہ مقرر نہیں کیا ۔اور نہ وہ پہلے سے اللہ تعالی کے علم میں ہے بلکہ اللہ تعالی کا علم ان سے بعد کو وابستہ ہوتا ہے یعنی اللہ تعالی ان امور کو ان کے وقوع کے بعد جانتا ہے اور انہوں نے اللہ تعالی پر خالص جھوٹ کہا اللہ تعالی کی ذات گرامی انکے اقوال باطلہ سے بلند اور بالاتر ہے ‘‘۔
کیا اس واضح اوع دو ٹوک موقف کے بعد انصاف و دیانت کی دنیا میں یہ احتمال باقی رہ رجاتا ہے کہ حضرت معتزلیوں قدریوں کی طرح علم الٰہی کے ازلی ہونے سے منکر ہیں ۔معاذ اللہ۔
کاظمی مغاطلہ کا جواب
بریلوی غزالی زماں رازی دوراں احمد سعید کاظمی ( جس کے بیٹے حامد سعید کاظمی نے وزارت میں حاجیوں کو خوب لوٹا)نے اہل السنت والجماعت کے خلاف سب سے پہلے اسی عبارت کو اسی طرح ناقص نقل کیا اندازہ خود لگالیں کہ جب بریلوی غزالی اور رازی کی دیانت کا یہ حال ہے تو عام رضاخانی دیانت اور خدا خوفی کے کس مقام پر ہوگامگر چونکہ دل میں چور تھا اس لئے حاشیہ میں اس طرح مغالطہ دینے کی کوشش کی :
’’اس مقام پر یہ کہنا کہ ا س عبارت میں مولوی حسین علی صاحب نے اپنا مذہب بیان نہیں کیا بلکہ معتزلہ کا مذہب نقل کیا ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے اسلئے کہ جب مولوی صاحب مذکور نے قرآن و حدیث کو اس مذہب پر منطبق مانا تو اس کی حقانیت کو تسلیم کرلیا خواہ وہ معتزلہ کا مذہب ہو یا کسی دوسرے کا ‘‘۔ ( الحق المبین ،ص60،طبع ملتان )
جواب:افسوس کہ کاظمی صاحب نے یہ کیوں نہ سوچا کہ کیا یہ انطباق صحیح بھی ہے یا غلط ؟ حق ہے یا باطل ؟اپنی حقیقت پر محمول ہے یا اس کی مناسب تاویل کی جاتی ہے ؟یہ اور اس قسم کی دیگر اہم باتیں اس مقام پر مذکور نہیں جس کو کاظمی علمائے دیوبند کی طرف منسوب کرکے اپنے قلب مریض کی بھڑاس نکال رہے ہیں بلکہ اسی بلغۃ الحیران میں متصل یہ عبارت ہے :
’’مگر بعض مقام قرآن جو ان (معتزلہ ) کے مطابق نہیں بنتے ان کا معنی صحیح کرتے ہیں ‘‘ (ص158)
اس امر کا صاف اور واضح قرینہ ہے کہ وہ لیعلم الذین وغیرہ میں ظاہری الفاظ کے پیش نظر جو معنی معتزلہ نے کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے اور اسی لئے آگے اہل سنت کا حوالہ دیتے ہوئے علم کا معنی ظہور کرکے اس امر کو واضح کردیا ہے مگر بددیانتی کا تو کوئی علاج نہیں ۔
علامہ عبد الوہاب شعرانی لکھتے ہیں :
’’فان قلت المراد بقولہ تعالی ولنبلونکم حتی نعلم و قولہ تعالی ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب نحوہما من الآیات فان ظاھر ذالک یقتضی ان الحق تعالی یستفید علما بوجود المحدثات فالجواب ان ھذہ المسئلۃ اضطرب فی فھمہا فحول العلماء ولا یزیل اشکالھا الالکشف الصحیح
(الیواقیت والجواھر ،ج1،ص86)
ترجمہ : اگر تو یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالی کا ارشاد کہ ہم تمہارا امتحان لیں گے کہ حتی کہ ہم جان لیں اور اسی طرح یہ فرمانا تاکہ اللہ تعالی جان لے ان لوگوں کو جو بن دیکھے اس کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں اور اسی طرح کی اور آیا ت قرآنی بظاہر اس کو چاہتی ہے کہ اللہ تعالی کو محدثات کے وجود کے بعد ہی علم ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایسا مشکل مسئلہ ہے جس کے سمجھنے میں بڑے بڑے ماہر علماء پریشان ہوئے ہیں اور کشف صحیح کے بغیر یہ اشکال سرے سے رفع ہی نہیں ہوتا۔
اب کاظمی کا کوئی چیلہ جواب دے کہ امام شعرانی ؒ بھی معاذ اللہ کیا معتزلی ہیں جو قرآن کی آیات کے ظاہر کو ان کے عقیدے پر منطبق مان رہے ہیں او ر کہہ رہے ہیں کہ قرآن کی آیات بظاہر اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کو پہلے سے علم نہیں ہوتا اور یہ دلالت اس قدر واضح ہے کہ بڑے بڑے علماء اس مسئلہ کو حل کرنے میں پریشان رہے ؟۔بلکہ امام رازی ؒ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ محققین نے بڑے سر پیر مارے مگر کوئی مضبوط بات نہیں کی:
و قد کان السلف والخلف من المحققین معولین علی الکلام الھادم لاصول المعتزلۃ یھدم قواعدھم ولقد قاموا و قعدوا واحتالوا علی دفع اصول المعتزلۃ فما اتوا بشیء منقع (
اب جواب دیں کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ پر کیا فتوی ہے ؟
خود احمد سعید کاظمی صاحب لکھتے ہیں :
’’بعض آیات قرآنیہ مثلا وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا الا لنعلم اور ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم جن سے بظاہر علم الٰہی کی نفی مفہوم ہوتی ہے ‘‘۔
( ترجمہ البیان ،ص5،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
جواب دیں بقول آپ کے قرآن کی یہ آیت اللہ تعالی کے علم کی نفی کا اظہار کررہی ہیں تو کیا معاذ اللہ آپ بھی اسی کے معتقد ہیں ؟ اگر نہیں تو مولانا حسین علی رحمۃ اللہ علیہ ہی کیوں ؟

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔