جمعہ، 3 جولائی، 2015

انقلاب یا انتشار۔۔۔!!!

 

انقلاب یا انتشار۔۔۔!!!


قارئین کرام !موجودہ ملکی صورتحال دیکھ کر یقیناًآپ بھی غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہوں گے ۔ملک عجیب بحران سے دوچار ہے شاید یہ کہنا بالکل نا مناسب نہ ہوگاکہ ملک کو ایسی مشکل کبھی پیش نہ آئی کہ ملک کو ہر طرف سے دشمن پسیجنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایک طرف ہندو بنیا پاکستان کی ڈیڑھ سو کلو میٹر سے زاید بانڈری لکیر کراس کر کے دراندازی کررہا ہے ، تو دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کا تقیہ باز دشمن ایران دو کلومیٹر اندر گھس کر ملک کی عوام کو قتل کررہا ہے ۔عالمی صلیبی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اس پر مستزاد ہے ۔
اندرون ملک صورتحال یہ ہے کہ ہر طرف سیلاب نے تباہی مچادی ہے ۔لیکن آزمائش سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو ملک کو دونوں طرف سے نقصان پہنچنانے والے ان بیرونی عناصر سے کئی زیادہ وہ لوگ ملکی بحران کے ذمہ دار ہیں جو ملک کے مرکز میں چوکڑی مارے بیٹھے ہیں ۔ انہیں یہ بحران اس لئے نظر نہیں آتا کہ یا تو وہ طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے یا پھر غیر ملکی شہریت کا حامل ہے ۔



طاہر القادری جو کہ بریلوی مذہب کے شیخ الاسلام ہیں اور خیر سے ’’دہشت گردی اور فتنہ خوارج ‘‘ نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں ۔جہاد دشمن عالمی سامراج کی خواہش پر لکھی جانے والی اس کتاب میں وہ خوارج اور باغی کی خود ساختہ نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مسلم ریاست کے نظم و اتھارٹی کو چیلنج کرنا اس کے خلاف اعلان جنگ کی سخت ممانعت ہے ایسا کرنے والا شرعا خارجی و باغی مسلم ریاست کا فرض ہے کہ ایسے دہشت گردوں کا قلع قمع کردے ،‘‘۔
( ’دہشت گردی اور فتنہ خوارج ،ص:31منہاج القرآن پبلی کیشنز)
لیکن مارچ 2010 ؁ء میں دئے گئے اپنے اس فتوے کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے طاہر القادری نے اگست 2014میں لاہور کو خون میں نہلادیا اور کئی پولیس اہلکار قتل کرادئے ، تھانہ نذر آتش کردیا ،دس گاڑیاں جلادیں اور دو درجن سے زائد پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا (روزنامہ جنگ ،دنیا ،ایکسپریس 10اگست 2014)
اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مسلم ریاست کے نظم و اتھارٹی کو اس طرح چیلنج کرنا ،سیکیورٹی اداروں کوہدف بنانا اس سے جہاں ایک طرف طاہر القادری اپنے ہی فتوے سے خارجی ،باغی اور واجب القتل قرار پاتا ہے تو دوسری طرف ملک میں موجودہ بحران ،خوان خرابے اور افراتفری کا اصل ذمہ دار بھی یہی دہشت گرد ٹھرتا ہے ۔ٍ
طاہر القادری صاحب انقلاب کی بات کرتے ہیں ،نظام تبدیل کرنے کے خوشنما دعوے کرتے ہیں مگر انہیں اس انقلاب کا خیال کبھی کینیڈا میں بیٹھ کر نہیں آیا جس کے وہ شہری ہے ۔ اگر انہیں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت صرف اس لئے ہے کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں تو کیا وہ کینیڈا کے شہری نہیں ؟ جس میں وہ آج تک مقیم رہے اور کیا وہاں کوئی برائی نہیں ؟ جس ملک میں ہم جنس پرستی کو قانون کا تحفظ حاصل ہو ،زنا عام ہو ،پوری معیشت سود پرہو ،کفر کا نظام ہو حیرت ہے انہیں اس نظام کو ختم کرنے کیلئے تو کبھی انقلاب کا خیال نہ آیا بلکہ وہاں بیٹھ کر سود جسے زنا سے بھی بدتر کہا گیا ہے اسے مسلمانوں کیلئے جائز قرار دے دیتے ہیں آخر یہ منافقت اور دورنگی کیوں ؟
ہوسکتا ہے کہ ان کا کوئی قصیدہ خواں کہے کہ اجی دارالحرب میں سود لینا جائز ہے ۔تو جناب اگر سود لینا جائز ہے تو کیا دارالسلام کو چھوڑ کر دارالحرب میں رہائش اختیا کرنا جائز ہے ؟ یہاں آپ کو فقہاء یا د کیوں نہیں آتے؟
طاہر القادری کو چاہئے کہ اس ملک اور اپنے بے وقوف مریدوں پرترس کھائیں ان کی جان چھوڑیں اور دارالحرب میں دھرنے دیکر وہاں کی برائیاں ختم کریں جہاں وہ یہ دنگا فساد مچاکر دوبارہ برا جمان ہوجائیں گے ۔حیرت ہے کہ آج انہیں اس ملک کا انتخابی نظام تمام برائیوں کی جڑ نظر آرہا ہے لیکن ماضی میں اپنی سیاسی جماعت عوامی تحریک کے یوم تاسیس 25مئی 1989کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’ہمیں ووٹ دو ہم تین سال میں انقلاب لائیں گے ‘‘۔ ( ماہنامہ منہاج القرآن خصوصی اشاعت مارچ 1992،ص234,235)
اگر 25سال تک انہیں اس نظام میں کوئی خرابی نظر نہ آئی اور اسی نظام کے تحت وہ اقتدار میں آکر انقلاب لانا چاہتے تھے تو اب اچانک کونسی افتاد آپڑی ؟اس سے پہلے تو انہیں کبھی اس طرح کے انقلاب کا خیال نہ آیا مگر یکدم اپنی سابقہ زندگی کی تردیدکئے بغیر ملکی نظام کو فرسودہ کہہ رہے ہیں اور خود ساختہ انقلاب کا نعرہ لگارہے ہیں اور انقلاب بھی کیسا لانا چاہتے ہیں خود ہی ملاحظہ فرمالیں جس کا بھانڈا بریلوی مجلہ ہی نے بیچ چوراہے پھوڑ دیا:
’’اہم فیصلہ : چونکہ پروفیسر طاہر القادری کے شیعہ فرقہ سے الحاق و اشتراک اور نفاذ فقہ جعفریہ میں ان کا معاون و مددگار بننے سے ان کے عزائم بالکل نمایاں ہوگئے اور ان کی عوامی تحریک اور تحریک فقہ جعفریہ کے مختلف مقامات پر مشترکہ جلوسوں میں کالے جھنڈوں اور خمینی کی تصویروں کی تشہیر و نمائش سے مذہب اہلسنت ۔۔۔کے خلاف شدید خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور مولانا محمد غفران صاحب نے امریکہ میں طاہر القادری کے رافضیوں قادیانیوں کے ساتھ مشترکہ پروگرام کی رپورٹ بھی پیش کی ہے ۔۔۔۔مولانا محمد غفران صاحب نے بھی خطاب کیا جو امریکہ سے آیئے ہوئے مہمان تھے اور جو آستانہ محدث اعظم کے خاص خدام میں سے ہیں ۔ انہوں نے فرقہ شیعہ کے عقائد باطلہ سے آگاہ فرماکر انکشاف کیا کہ ’’اوائل جنوری 1990 ؁ء میں جب طاہر القادری امریکہ گئے تو انہوں نے وہاں ہم خدام اہلسنت کے ساتھ رابطہ کے بجائے شیعہ قادیانیہ سے تعلق استوار کیا ۔العیاذ باللہ ۔
( ماہنا مہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ مص22،جولائی 2014)
رضائے مصطفی کی انتظامیہ کے تعصب کا اندازہ لگائیں کہ سنی اتحاد کونسل بمع اپنے سربراہ حامد رضا طاہر القادری کا مکمل حمایتی ہے اس کے جلوس اور حکومت سے مذاکرات میں شریک رہا مگر یہ لوگ مطعون صرف طاہر القادری کو کررہے ہیں اور صاحبزادہ حامد رضا کا نام اس لئے نہیں لے رہے کہ وہ رسالے کے مدیر ابو داؤد صادق کے پیر و مرشد گھرانے کا فرد ہے ۔
دشمن کے گھر کی یہ پکار چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے عالمی سرامراج طاہر القادری جیسے کٹھ پتلیوں کے ذریعہ اس ملک میں خمینی ازم لانا چاہتا ہے ۔طاہر القادری کا خمینی ازم کا پیروکار ہونا اور ایران نواز ہونا کسی سے پوشیدہ نہیں جس کا اقرار خود بریلوی مایہ ناز عالم ابو داود صادق نے اس طرح کیا :
’’شیعہ روافض کے امام خمینی کی یاد میں منعقد تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ( طاہر القادری نے ) کہا ’’امام خمینی تاریخ اسلام کے شجاع اور جری مردان حق میں سے ہیں جن کا جینا علی اور مرنا حسین کی طرح ہے ۔خمینی کی محبت کا تقاضہ ہے کہ ہر بچہ خمینی بن جائے اور فرعونیت کے نقوش کو مسمار کرکردے۔جس کو پاش پاش کرنا امام خمینی کا پیغام ہے ۔
( روزنامہ نوائے وقت لاہور 8جون 1989بحوالہ خطرہ کی گھنٹی ،ص135)
طاہر القادری کی طرف سے خمینی کی قصیدہ خوانی میں اس حد تک غلو کیا گیا کہ اس کے مدرسہ کا مفتی اعظم عبد القیوم ہزاروی جس کا شمار بریلوی مذہب کے جید علماء میں ہوتا ہے ہرزہ سعائی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
’’خمینی کو حضرت علی سے تشبیہ دینے میں کوئی برائی نہیں ہے ‘‘۔
(ملخصا منہاج الفتاوی ج 1ص380منہاج القرآن پبلی کیشنز)
استغفر اللہ۔اس تفصیل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ اس انقلاب کے پیچھے قادیانی اور ایرانی لابی کارفرما ہے ۔کیا انقلاب سڑکوں پر قوم کی ماں بہنوں کو رقص کروا کر آتا ہے ؟ طاہر القادری کو حیاء نہیں آتی کہ وہ قرآن وحدیث اور اسلام کا نام لے کر اپنے دھرنوں میں گانے بجوا کر مردوں عورتوں کی مخلوط مجالس منعقدکرکے ناچ گانے کی محفلیں سجارہا ہے یہ بے حیائی کا انقلاب تو ہوسکتا ہے مکی مدنی انقلاب نہیں ہوسکتا۔اسی نام نہاد انقلابی دھرنوں نے خدا کے غضب کو دعوت دی اور پورا ملک سیلاب کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے ۔ہر رات سٹیج پر کھڑے ہوکر خود کو حسین اور اپنے مخالفین کو یزید کہہ کر ان کی پگڑیاں اچھالنے والے نام نہاد بریلوی شیخ الاسلام یہ کیوں بھول گئے کہ ان کی اپنی زندگی جھوٹ ،تضاد بیانیوں ،دھوکہ دہی ،ذاتی مفادات کے حصول کیلئےء ہر حد تک جانے کے بدنما داغوں سے داغدار ہے ۔چونکہ اس پر اب مارکیٹ میں مستقل کتب آچکی ہیں اس لیئے ہم تفصیل میں نہیں جاتے قارئین صرف نواز کھرل صاحب کی کتاب ’’متنازعہ ترین شخصیت ‘‘ ہی کا مطالعہ کرلیں تو کافی ہے ۔
ملک کے غریب اور سادہ لوح عوام کو انقلاب کی نوید سنانے والوں اور ان سے قربانیاں مانگنے والوں کا اپنا خاندان بچے اور بیوی نہ تو انقلابی دھرنے میں کہیں نظر آئے اور نہ ناچ گانا کرتے ہوئے کسی انقلابی مجرے میں ۔البتہ غریب عوام کو جس بات کا جھانسہ دے کر لایا گیا وہ بھی بی،بی ،سی اردو نے طشت ازبام کردیا کہ فی کس 10,000روپے کا لالچ دے کر لوگوں کو دھرنے میں لا یاگیا ۔جواب دیں کیا انقلاب پیسے دیکر لایا جاتا ہے ؟ کیا انقلاب عورتوں اور مردوں کا دھمال ڈال کر لایا جاتا ہے ؟ان انقلابی قائدین کی منافقت اور دو رنگی کا اندازہ تو اس سے لگائیں کہ دعوی تو یہ کررہے ہیں کہ ہم ملک سے طبقاتی نظام ختم کرنا چاہتے ہیں امیر غریب کا فرق مٹائیں گے مگر عملی حالت یہ ہے کہ خود کروڑوں روپے کے بلٹ پروف کنٹینروں میں جس میں دنیا کی ہر آسائش میسر ہے دن رات گزار رہے ہیں ااور عوام کو سڑکوں پر دھوپ بارش گرمی سردی میں خوار کررہے ہیں ۔
عوام کو بھی چاہئے کہ ان مذہبی مداریوں کے دھوکہ و فریب میں نہ آئیں اور اپنا دین و ایمان ان لٹیروں سے بچا کررکھیں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔