جمعرات، 30 جولائی، 2015

کتاب رشید ابن رشید بابت یزید کے متعلق وضاحت


کتاب رشید ابن رشید بابت یزید کے متعلق وضاحت
 مولاناساجد خان نقشبندی
یہ مضمون میری غیر مطبوعہ کتاب ’’دفاع اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ سے ماخوذ ہے دعا فرمائیں کہ کتاب جلد سے جلد مکمل ہوجائے ۔


اعتراض207:یزید کی تعریف و توصیف
کچھ عرصہ قبل لاہور سے ایک کتاب رشید ابن رشید شائع ہوئی جس پر متعدد دیوبندی علماء کی تصدیقات موجود ہیں ان مصدقین میں مفتی محمد شفیع دیوبندی ،عبد الستار تونسوی دیوبندی وغیرہ شامل ہیں اس کتاب کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے امیر المومنین سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ پھر کتاب مذکور میں سرکار امام حسین کے متعلق بے شمار مقامات پر بکواس کی گئی ہے۔
(
دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف ،ص98.99)
کتاب رشید ابن رشید کی حقیقت
رشید ابن رشید کتاب کا مصنف ’’ابو یزید محمد دین بٹ‘‘ایک ناصبی یزیدی اور مشہور ناصبی محمد عباسی کا معتقد ہے اس کا نہ تو علماء دیوبند سے کوئی تعلق ہے نہ اس کا شماراکابر علماء دیوبند میں ہوتا ہے اور یہ بھی صریح کذب بیانی ہے کہ اس کتاب کی تصدیق ان پر تقاریظ علماء دیوبند نے لکھی ہیں ۔دراصل بقول ابو یزید کے جب کتاب لکھی تو ایک خط مختلف علماء کو بھیجا ان علماء نے جو خط کا جواب دیا تو اسے کتاب کے آخر میں لگادیا چنانچہ ابو یزید لکھتا ہے :
’’
ہم نے موجودہ علماء کرام سے ایک سوالنامہ کے ذریعہ جو جوابات حاصل کئے ہیں ان کا مطالعہ قارئین کرام کیلئے یقیناًسبق آموز ثابت ہوگا وہ سوال جو علماء کرام سے دریافت کیاگیاہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرمی جناب مولانا صاحب دام ظلکم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض خدمت اقدس میں یہ ہے کہ آپ عالم دین متین اور وارث انبیاء ہیں بدیں وجہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش وجہ نزاع بناتو مجھ جیسے لوگوں کو آپ کی طرف رجوع کرنا پڑا اب جبکہ ایک مسئلہ درپیش آپ کا فرض عین ہے کہ آپ نائب رسول اللہ کی حیثیت سے آنحضور صلعم کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے کہ میری ایک بات بھی اگر جانتے ہو تو دوسروں تک پہنچا دو فرمان نبوی ص کے مطابق آنحضور صلعم کی عدم موجودگی میں مجھ ایسے افراد کی صحیح رہنمائی فرماتے ہوئے اپنی رائے سے آگاہ فرمادیں مسئلہ وجہ نزاع یہ ہے ہمارے اپنے سنی بھائی شیعوں کی پیروی اور کوئی پروپگینڈا سے متاثر ہوکر امیر المومنین یزیدؓ کو نعوذ باللہ فاجر و فاسق بلکہ کافر تک کہہ دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں قرآن کریم اور احادیث نبوی ص کی روشنی میں درج ذیل دلائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے امیر المومنین صحیح العقیدہ مسلمان تھے :
(
۱)من قال لا الہ الا اللہ فدخل الجنت
(
۲)امیر المومنین یزیدؓ نے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جہاد میں حصہ لیا اوربڑے بڑے اجل صحابہ کرامؓ ان کے ماتحت جہاد میں لڑتے رہے اور حدیث مغفور میں امیر کی حیثیت سے شامل تھے ۔
(
۳)آنحضور نے فرمایا کہ میری امت کی جو پہلی فوج قیصر کے شہر قسطنطینیہ پر جہاد کرے گی اس کیلئے مغفرت ہے (صحیح بخاری )
(
۴)بڑے بڑے اجل صحابہ کرامؓ مثل عبد اللہ بن عباسؓ عبد اللہ بن عمرؓ عبد اللہ بن جعفرؓ نے امیر المومنین یزیدؓ سے خلافت کی بیعت کی تھی اس کے علاوہ یہ فرمان الٰہی بھی اس کی تائید کرتے ہیں جو کوئی لڑے اللہ کے راستہ میں وہ مارا جائے یا غالب آجائے پس البتہ دیں گے ہم اس کو ایک اجر زیادہ سورۃ نسآء آیت ۷۵ اس کے علاوہ سورہ نسآء آیت ۹۵،۹۶اور سورہ۹ صف آیت ۴ ملاحظہ فرماویں ۔میرا عقیدہ ہے کہ ان دلائل کی روشنی میں امیر یزیدؓ یقیناًجنتی ہیں میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ پھر ان فرامین خدا اور رسول ص کے ہوتے ہوئے امیر موصوف کے بارے میں آپ کا خیال خیال ہے براہ کرم جواب سے جلد مطلع فرماکر شکریہ کا موقعہ دیں آپ کا بیحد ممنون ہوں گا۔
والسلام السائل ابو یزید بٹ
(
رشید ابن رشید ،ص337,تا339،لنڈا بازار لاہور)
اس کے بعد ان علماء سے منسوب خط پیش کئے لہذا یہ رضاخانیوں کا صریح دھوکا و جھوٹ ہے جو کہتے ہیں کہ اس کتاب پر تقریظ لکھی یا تصدیق کی جب کتاب ان کے سامنے پیش ہی نہیں کی گئی تو تقریظ و تصدیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا رضاخانیوں نے جو مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نام لیا تو وہ تصدیق نہیں بلکہ ابو یزید کے اس سوال کا جواب ہے چنانچہ ابو یزید خود لکھتا ہے :
’’
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ العالی کراچی میرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :
(
الجواب )یزیدؓ کے بارے میں علماء محققین کے نزدیک سکوت احوط ہے علماء محققین یزیدؓ کو مومن جانتے ہیں اس کو کافر نہ سمجھنا چاہئے ۔
فقط واللہ اعلم و علمہ اتم بندہ محمد شفیع عفی عنہ‘‘۔
(
رشید ابن رشید ،ص365,366)
اول جب خود مصنف کہہ رہا ہے کہ ’’میرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں ‘‘ تو اس کو کتاب کی تقریظ و تصدیق پر محمول کرنا کیا اسی دھوکا منڈی کا ثبوت نہیں جو احمد رضاخان نے حسام الحرمین کی صورت میں مکہ و مدینہ میں سجائی تھی ؟
ثانیا :جواب کی دو سطروں میں تضاد بیانی ہی اس کے جعلی اور محرف ہونے کی گواہی دے رہی ہے اس لئے کہ پہلی سطر میں محققین کا قول یہ نقل کررہے ہیں کہ ان کے بارے میں سکوت احوط ہے اور دوسری عبارت میں محققین کا قول ان کے مومن ہونے کا نقل کررہے ہیں جب مومن کہہ دیا تو پھر سکوت (خاموشی رکھو نہ مومن کہو نہ کافر )اختیار کرنے کا کیا معنی ؟
ثالثا:جواب میں یزید کے نام پر ’’رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘ کی علامت بھی مصنف ابو یزید کی خباثت ہے اس ظالم نے پوری کتاب میں جہاں یزید کا نام لکھا اس پر ’’ ؓ ‘‘ لکھ دیا چنانچہ اسی کتاب میں لکھتا ہے :
’’
سیدنا حسینؓ نے جناب امیر معاویہؓ سے فرمایا تھا کہ میں ’’یزیدؓ ‘‘ سے بہتر ہوں اس لئے خلافت میرا حق ہے اور سیدنا معاویہؓ نے جواب دیا تھا کہ برخوردار یزیدؓ امت محمدیہ ص کے انتظامی امور میں تم سے بہتر ہے ‘‘ ۔ ( رشید ابن رشید ،ص199)
اب جواب دیں کیا پوری زندگی میں امیر معاویہؓ یا امام حسینؓ نے یزید کو ’’رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘ کہا ؟ ہرگز نہیں مگر اس ظالم نے ان کی گفتگو میں یزید کے نام پر رضی اللہ کی علامت لگادی۔تو کیا اب امام حسین و امیر معاویہ پر بھی کوئی فتوی ہے ؟
یہی ناصبی مقدمہ ابن خلدون کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’
جب یزیدؓ سے بداعمالیاں آزادانہ ہونے لگیں ‘‘۔ ( رشید ابن رشید ،ص196)
علامہ ابن خلدون صاف لکھ رہے ہیں کہ یزید سے بداعمالیاں سرزدہونے لگیں مگر یہ ظالم اس پر بھی یزیدؓ لکھ رہا ہے لہذا مفتی صاحب کے خط میں جو یزید پر رضی اللہ کی علامت لگی ہوئی ہے وہ اس بے ایمان کی اپنی زیادتی ہے علماء دیوبند اس کے ذمہ دار نہیں۔پس جب مفتی صاحب کے خط میں اس کی طرف سے تصحیف ثابت ہوگئی تو اب ان خطوط کا کوئی اعتبار نہ رہا۔
رابعا : خود مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب ؒ اپنی کتاب میں یزید کے متعلق لکھتے ہیں :
(
۱) یزید کا فسق و فجور بھی اس وقت تک کھلا نہیں تھا(شہید کربلا ،ص۱۳،دارلاشاعت کراچی)
(
۲) یزید اور اس کے امراء و حکام نے شیطان کی پیروی کو اختیار کررکھا ہے اور رحمن کی اطاعت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور زمین میں فساد پھیلا دیا حدود الٰہیہ کو معطل کردیا اسلامی بیت المال کو اپنی ملک سمجھ لیا اللہ تعالی کے حلال کو حرام کر ڈالا اور حلال کو حرام ٹھرادیا ۔
(
شہید کربلا ،ص۵۷،۵۸)
(
۳) بعض روایات میں ہے کہ یزید شروع میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر راضی تھا اور ان کا سر مبارک لایا گیا تو خوشی کا اظہار کیا اس کے بعد جب یزید کی بدنامی سارے عالم اسلام میں پھیل گئی اور وہ سب مسلمانوں میں مبغوض ہوگیا تو بہت نادم ہوا ۔۔۔ یزید کی یہ زد و پشیمانی اور بقیہ اہل بیت کے ساتھ بظاہر اکرام کا معاملہ محض اپنی بدنامی کا داغ مٹانے کیلئے تھا یا حقیقت میں کچھ خدا کا خوف اور آخرت کا خیال آگیا یہ تو علیم خبیر ہی جانتا ہے مگر یزید کے اعمال اور کارنامے اس کے بعد بھی سب سیاہ کاریوں ہی سے لبریز ہیں مرتے مرتے بھی مکہ مکرمہ پر چڑھائی کیلئے لشکر بھیجے ہیں اسی حال میں مرا ہے ‘‘۔ ( شہید کربلا ،ص۸۸)
اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ امام حسینؓ کی حقانیت اور مظلومیت کو بیان کیا گیا اور یزید اور اس کے حکام کے ظلم و جبر کی تفصیل بیان کی گئی اس کتا ب میں اسی (۸۰) دفعہ سے بھی زیادہ یزید کا نام آیا مگر کہیں بھی ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ کی علامت موجود نہیں جو رشید ابن رشید میں یزید کے بام پر اس علامت کے جعلی ہونے کا بین ثبوت ہے۔
مولانا عبد الستار تونسوی ؒ کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے بھی کتاب کی تصدیق کی سیاہ جھوٹ ہے بلکہ انہوں نے تو یزید بٹ کی سوچ ہی کو خلاف شریعت قرار دیا ہے ابو یزید کا سوال یہ تھا کہ میں یزید کو قطعی جنتی مانتا ہوں اس کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اہل سنت کے نزدیک ہر وہ شخص جنتی ہے جس کے متعلق بہشتی ہونے کا رسول اللہ فرماگئے ہیں اس کے سوا کیلئے قطعی فیصلہ کرنا خلاف شریعت ہے ‘‘۔ ( رشید ابن رشید ،ص۳۶۹)
کتنا صریح دھوکا ہے کہ ان کے اس موقف کو غلط رنگ اور جھوٹ بول کر تقریظ باور کرایا جارہا ہے ان حضرات کی اصل عبارات اسی لئے رضاخانی ترجمان نے پیش نہیں کی ہیں کہ کہیں ڈھول کا پول نہ کھول جائے۔
مولانا عبد الستار تونسوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ شیعہ مناظراسمعیل گوجر کے سامنے اپنا اور اہل سنت کا نظریہ یوں بیان کرتے ہیں :
’’
یزید کے متعلق یہ خوف نہ کھائیں کہ یہ اہل سنت کا امام و پیشوا ہے یہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے دیکھئے اہل سنت کے عقائد کی کتاب نبراس (شرح عقائد نسفی ) کے ص۵۵۳پر لکھا ہے :
واتفقوا علی جواز اللعن علی من قتلہ او امر بہ و اجازہ و رضی بہ ترجمہ اور ہمارے علماء ان لوگوں پر لعنت کرنے کے جواز پر متفق ہیں جنہوں نے امام حسینؓ کو قتل کیا یا امام حسینؓ کے قتل کا حکم دیا یا امام حسینؓ کے قتل کی اجازت دی اور ان کے قتل پر راضی وخوش ہوئے اور اس کے بعد اسی نبراس کے ص ۵۵۴ پرہے : لعنۃ اللہ علیہ و علی اعوانہ و انصارہ ترجمہ اللہ تعالی کی لعنت ہو یزید پر اور اس کے معاونین اور مددگاروں پر جنہوں نے امام حسینؓ کو شہید کرنے میں اس کی امداد کی دیکھئے مولوی اسمعیل صاحب اگر یزید اہل سنت کا امام ہوتا تو ہم اس کے متعلق یوں لکھتے ‘‘۔( مناظرہ باگڑ سرگانہ ،ص۲۱۶،تنظیم اہل سنت پاکستان )
یہ حوالہ ان حضرات کیلئے بھی درس عبرت ہے جو شیعت کے رد کا بہانہ کرکے یزید کی حمایت کرتے ہیں ۔
الحمد للہ ! ہم نے اکابر علماء دیوبند کا یزید کے متعلق موقف انہی کی کتابوں سے ثابت کردیا بریلوی مناظر مفتی حنیف قریشی دیوان محمدی پر سعید احمد کاظمی کے مضمون کے متعلق لکھتے ہیں :
علامہ سعید کاظمی ۔۔نے دیوان محمدی پر تقریظ سرے سے لکھی ہی نہیں بلکہ آپ سے منسوب ایک مضمون کہ جس میں انہوں نے دیوبندیوں کو وحدۃ الوجود پر اعتراض کا جواب دیا تھا خواجہ یار محمد فریدی ۔۔۔کے متبعین میں سے کسی نے کتاب کے شروع میں چھاپ دیا ہے علامہ کاظمی شاہ صاحب کی طرف سے اس مضمون کی نسبت بھی مشکوک ہے خود کاظمی شاہ صاحب ۔۔۔ کی کسی کتاب میں یہ مضمون درج نہیں ۔
(
مناظرہ گستاخ کون ،ص۵۶۴)
جب رضاخانیوں کے دربار میں سجادہ نشینوں کی طرف سے شائع شدہ کتابوں پر ان کے اپنے مولوی کا مضمون مشکوک ہوسکتا ہے تو کسی ناصبی خارجی یزیدی کی کتاب میں علماء دیوبند سے منسوب تحریرات ،مضامین و خطوط مشکوک کیوں نہیں ہوسکتے ؟
%%
بریلوی اور یزید %%
یزید اکابر تابعین ولی اللہ میں سے تھا ۔معاذ اللہ
مولوی عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتا ہے :
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی تھے ان کا بیٹا یزید تابعی تھا طبقہ وسطی تابعین میں یعنی جس طبقہ میں حسن بصری اور ابن سیرین ہیں یہ اسی طبقہ میں تھا۔(انوار ساطعہ ،ص۷۱،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اس کتاب پر احمد رضاخان بریلوی کی تقریظ ب بھی موجودہے ۔تم یزید کو حسن بصریؓ اور ابن سیرین ؒ کے طبقہ کا تابعی کہو تو کوئی بات نہیں اپنا یہ عقیدہ بھی تو لوگوں کے سامنے لاؤ پھر نبی کریم کی حدیث ہے :
خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم
بہترین لوگ میرے صحابہ ہیں پھر تابعین پھر تبع تابعین
تو تمہارے مذہب میں تو معاذ اللہ یزید کا درجہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے بعد ہے۔
یزید کیلئے رحمت کی دعا کرنا مستحب ہے
غلام رسول سعیدی علامہ حلبی ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں :
امام غزالی سے پوچھا گیا جو شخص صراحۃ یزید پر لعنت کرے کیا وہ فاسق ہے ؟ اور کیا یزید کیلئے دعا رحمت صحیح ہے ؟ امام غزالی نے جواب دیا جو شخص اس پر لعنت کرے گا وہ فاسق و گناہگار ہوگا کیونکہ مسلمانوں پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے اور ہمیں جانوروں پر بھی لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حدیث شریف کے بموجب مسلمان کی عزت کعبہ سے زیادہ ہے یزید کا اسلام صحیح ہے اور یہ صحیح نہیں ہے کہ اس نے حضرت حسینؓ کو قتل کرنے کا امر کیا یا ان کے قتل پر راضی ہوا اور جو چیز صحیح نہیں ہے اس کا گمان کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ مسلمان کے ساتھ بدگمانی جائز نہیں ہے اورجب حقیقت حال معلوم نہیں تو یزید کے ساتھ حسن ظن کرنا واجبب ہے علاوہ ازیں قتل کرنا کفر نہیں ہے معصیت ہے اور اس کیلئے رحمت کی دعا کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے ‘‘۔ ( شرح مسلم ،ج۳،ص۶۲۲ فرید بک سٹال لاہور)
رضاخانیو! امام غزالی ؒ یزید کو نہ صرف مسلمان بلکہ رحمۃ اللہ علیہ اور کعبہ سے زیادہ ان کی عزت بتارہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یزید کے متعلق جتنی بھی فسق کی باتیں ہیں تو یہ درست نہیں اور اس کو تمہارا شیخ الحدیث نقل کررہا ہے تو اب اگر غیرت ہے تو لگاؤ ان پر بھی معاذ اللہ خارجیت کا فتوی یہ قول اگر خوانخواستہ کو ئی دیوبندی اختیار کرلیتا تو رضاخانی آسمان سر پر اٹھالیتے کہ گستاخ اہل بیت ہیں خارجی ہیں مگر امام غزالی کے نام پر چونکہ عوام سے روٹیاں لینی ہیں اس لئے دیکھنا اب منہ پر تالا لگ جائے گا ۔
یاد رہے کہ امام غزالی ؒ کا یہ موقف جمہور کے خلاف ہے اور ہم بھی اس سے متفق نہیں تفصیل آگے آرہی ہے ۔

1 تبصرے:

Shadab Momin نے لکھا ہے کہ

jaza kallah ustad e muhtaram m.sajid khan naqshbandi sb db allah apke ilm me aur barkat atta farmai aur hame bhi amke ilm se istefada hasil karne ki taufeeq atta far mai.amen.

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔