ہفتہ، 25 جولائی، 2015

اندرا گاندھی اور دارالعلوم دیوبند

اندرا گاندھی اور دارالعلوم دیوبند
مولانا ساجد خان نقشبندی
بعض رضاخانی اعتراض کرتے ہیں کہ اندرا گاندھی دارالعلوم دیوبند کے جلسہ میں آئی تھی ۔ اس سلسلے میں اولا گزارش یہ ہے کہ اگر وہ جلسہ میں آئی تھی تو آخر اس میں اعتراض والی کیا بات ہے ؟قرآن مجید میں ایک کافر ملک کی کافرہ ملکہ بلقیس کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت پر ان کی بادشاہت میں حاضر خدمت ہوئی تھی اور وقت کے نبی نے انہیں اپنی مملکت کی سیر کرائی ایک طرف نبی کا یہ فعل مگر دوسری طرف علماء دیوبند کا طرز بھی دیکھ لیں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی لکھتے ہیں :



اس جلسے میں اندرا گاندھی (وزیر اعظم ہندوستان ) کی شرکت بلاشبہ ایک افسوسناک واقعہ تھا لیکن اول تو یہ خبر انتہائی غلط اور شر انگیز ہے کہ اجلاس کا افتتاح ان سے کرایا گیا واقعہ یہ ہے کہ وہ ایک عام مقرر کی حیثیت سے جلسے میں خود شریک ہوئیں ان کی شرکت دارالعلوم کے منتظمین کی خواہش پر نہیں بلکہ خود ان کے اصرار پر ہوئی دارالعلوم نے کسی بھی سربراہ حکومت کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی تھی (جہان دیدہ ،ص505,506)
اس کے مقابلے میں مایہ ناز بریلوی عالم حسن علی رضوی خود لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی دو بار آستانہ عالیہ بریلی شریف پر خود چل کر آئی (دارالعلوم منظر اسلام ،ص6)
رضاخانیوں نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ خود آئی تھی بلایا تھوڑا ہی تھا ۔یہ عجیب پیمانہ ہے یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اندراگاندھی ایک دفعہ نہیں دو دفعہ خود چل کر آئے تو برا نہیں اور اگر ایک دفعہ دارالعلوم میں بلالیا جائے تو یہ باعث ملامت ہے ۔پھر یہ بھی دیکھیں کسی جگہ کوئی شخص دوبارہ اسی وقت جائے گا جب اس کے ساتھ پہلی بار انتہائی خوش اخلاقی سے رویہ برتا گیا ہو اگر پہلی بار ہی کسی کو دھتکار دیا جائے تو دوبارہ اسے آنے کی جرات نہ ہو اندرا گاندھی کا دوبارہ آنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ پہلی بار آمد پر انہیں بھرپور اعزاز اور مہمان نوازی سے نوازا گیا ۔
آگے چلئے ماہنامہ رضائے مصطفی فروری ۲۰۱۲،ص۱۷ پر اندرا گاندھی کا خواجہ کے دربار پر آنے کو فخر سے ذکر کیا اور اندرا گاندھی کی آمد پر استدلال کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر اب بھی کوئی خواجہ کے فیض کو نہ مانے تو اس کی مرضی۔رضاخانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ دربار تو ہر کوئی آتا ہے تو جناب ہمارا اعتراض اس پر نہیں تھا کہ دربار میں ہر کوئی آتا ہے ہمارا استدلال تو اس بات پر ہے کہ اندرا گاندھی کی آمد کو خواجہ صاحب کی حقانیت پر بطور دلیل پیش کیا جارہا ہے ۔اگر اندرا گاندھی کا خواجہ کے مزار پر آنا خواجہ صاحب کی حقانیت کی دلیل ہے تو اسی اندرا گاندھی کا دارالعلوم دیوبند کے جلسہ میں شرکت کرنا دارالعلوم دیوبند والوں کی حقانیت کی دلیل کیوں نہیں ؟ہے اس کا کوئی جواب کسی رضاخانی کے پاس ؟ یہ کیا منافقت ہے کہ اندرا دارالعلوم دیوبند آئے تو سب رضاخانی گز بھر زبان نکا ل لیں اور ان کے اپنے آستانوں پر آئے تو یہ ان کی حقانیت کی دلیل بن جائے کیا یہ کھلی منافقت نہیں ؟جہاں تک ماہنامہ تبصرہ میں ایک ہندو سرکاری ملازم کا خط ہے کہ اندراگاندھی کو دعوت دی گئی تو شیخ اسلام صاحب کے بیان کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔پھر بالفرض دارالعلوم دیوبند نے طوہا و کرہا دعوت دی بھی تو آخر اس میں شرعی قباحت کیا ہے ؟
اسی طرح ایک ہندو عورت ڈاکٹر اوشا سانیال نے احمد رضاخان اور بریلویت پر ایک مقالہ لکھا بنام ’’عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست ‘‘ اس کے مقدمہ ص۷ پر وہ خود اقرار کرتی ہیں کہ مقالہ لکھتے وقت وہ ایک ہفتہ بریلوی مسعود ملت پروفیسر مسعود کے گھر رہی اور ان سے استفادہ کرتی رہی اسی طرح ہندوستان میں یہ استفادہ اور رہائش بریلوی مولوی یسین اختر مصباحی آج جامعہ مبارک پور سے ہوتا رہا اب جواب دو تم ہندو عورت کو پورا پورا ہفتہ اپنے گھروں میں رکھو اور ہم پر اعتراض ؟ شرم شرم شرم

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔