جمعہ، 10 جولائی، 2015

مولانا قاسم نانوتوی ؒ و مولانا گنگوہی ؒ پر بریلویوں کی طرف سے بعض سوقیانہ اعتراضات کا دندان شکن جواب



مولانا قاسم نانوتوی ؒ و مولانا گنگوہی ؒ پر بریلویوں کی طرف سے بعض سوقیانہ اعتراضات کا دندان شکن جواب
ساجد خان نقشبندی

سوال : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مناظر اسلام وکیل ناموس صحابہ ترجمان مسلک حقہ علماء دیوبند محترم و مکرم حضر ت مولانا رب نواز حنفی زید مجدہ زادکم اللہ فیوضہم ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! سلام مسنونہ کے بعد امیدواثق رکھتا ہوں کہ آنجناب نہایت خیر و عافیت کے ساتھ ہوں گے اور مستقلا دعا گو ہوں کہ باری تعالی آنجناب کو خیر و عافیت کے ساتھ رکھے اور دشمنان اسلام کے عزائم سے آنحضرت کی حفاظت فرمائے (آمین)۔سلام مسنونہ اور علیک سلیک کے بعد راقم کا تعارف یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔تحریر کا مقصد یہ ہے کہ راقم کو تحریر لکھنے سے دو دن قبل نیٹ سے ایک پوسٹر جوکہ موسوم تھا ’’دیوبندیوں کا اسلام ‘‘ جس میں علماء دیوبند کے سرخیل قاسم العلوم والخیرات حضرت نانوتوی ؒ نور اللہ مرقدہ اور حضرت گنگوہی ؒ نور اللہ مرقدہ جو علم زہد و تقوی میں اپنی مثال آپ ہیں ان دو حضرات پر الزامات اور بہتان اکبر لگایاگیا ہے اور مسلک علماء دیوبند پر کیچڑ اچھالا گیا ہے اور یہ پوسٹر ان لوگوں کی جانب سے لکھا گیا ہے جو کہ ہمیشہ علماء دیوبند کو بدنام کرنے کی مذموم جسارت کرتے ہیں اور ناکامی ان کا شکریہ ادا کرتی ہے ( اس سے مراد بریلوی حضرات ہیں ) اور اس پوسٹر کو پڑھنے سے معلوم ہوا کہ یہ پوسٹر جواب ہے اس پوسٹر کا جس کا نام ’’بریلویوں کا اسلام ‘‘ ہے اس پوسٹر جسکا نام بریلویوں کا اسلام ہے کوئی علم نہیں ہے کس نے لکھا کہاں لکھا اور نیٹ پر بھی موجود نہیں ہے آپ سے جو معلوم کرنا ہے اسے پہلے درست معلوم ہوا ہیکہ اس پوسٹر (دیوبندیوں کا اسلام ) من و عن مع حوالہ نقل کیا جائے ۔لہذا اولا پوسٹر (دیوبندیوں کا اسلام ) نقل کرتا ہوں بھر سوالات رقم کروں گا امید کرتا ہوں کہ نظر کرم فرمائیں گے۔


’’دیوبندیوں کا اسلام ‘‘
دیوبندی فرقے نے اپنی کفر یہ عبارات پر ’’پردہ‘‘ ڈالا اور لوگوں کی توجہ کو ان سے ہٹانے کیلئے ایک مکاری و جھوٹ پر مشتمل پوسٹر ’’بریلویوں کا اسلام ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا جس میں علماء حق کی عبارات توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ’’فیوضات فریدیہ ‘‘ جیسی غیر مستند کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے ۔جس کی مسلک حق اہلسنت والجماعۃ (حنفی بریلوی ) پر کوئی ذمہ داری نہیں ذیل میں اس فرقہ کے مستند اکابر کی چند خرمستیاں ان کی معتبر کتب سے پیش کی جاتی ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمان ان شہوت پرست انگریز نواز مولوی نما زشیطانوں کی مکروہ صورتیں دیکھ کر اپنے سرمایہ ایمان کو ان سے بچائیں ۔
دیوبندی کی خانقاہ (لواطت کے مریض )
حضرت گنگوہی نے حضر ت نانوتوی سے محبت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ یہاں ذرا لیٹ جاؤ حضرت نانوتوی شرماسے گئے مگر پھر حضرت نے فرما یا تو مولانا بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے حضرت بھی اسی چارپائی پر لیٹ گئے اور مولانا کی طرف کروٹ لیکر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیاکرتا ہے مولانا ہر چند فرماتے ہیں کہ میاں کیا کررہے ہو لوگ کیا کہیں گے حضر ت نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو۔
(ارواح ثلاثہ ،ص۲۷۳،۲۷۴،مکتبہ رحمانیہ لاہور)
داڑھی والی دلہن
ایک بار ارشاد فرمایا کہ میں ( رشید احمد گنگوہی ) نے ایک بار خواب دیکھاتھا کہ مولوی محمد قاسم صاحب عروس کی صورت میں ہیں اور میرا ان سے نکاح ہوا ہے سو جس طرح زن و شوہر میں ایک کو دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے اس طرح مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے فائدہ پہونچتا ہے ۔ ( تذکرۃ الرشید ،ج۲،ص۲۸۹،ادارہ اسلامیات لاہور)
بچوں سے تسکین
مولانا ( قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند ) بچوں سے ہنستے بولتے بھی تھے اور جلال الدین ( صاحبزادہ مولانا محمد یعقوب ) سے جو اس وقت بالکل بچے تھے بڑی ہنسی کیا کرتے تھے کبھی ٹوپی اتارتے کبھی کمر بند کھول دیتے تھے ۔ ( ارواح ثلاثہ ،ص۲۵۶،مکتبہ رحمانیہ لاہور)
علماء دیوبند کے خلاف لکھا جانے والا غلیظ شدہ پوسٹر آپکی خدمت میں حرف بحرف نقل کردیا گیا اس کے بعدآپ سے چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں یقین واثق رکھتا ہوں کہ آنحضرت سوالات کے جوابات دیکر راقم الحروف کو شرف قبولیت سے نوازیں گے اور عند اللہ ماجور ہوں گے۔
سوالات :
سوال نمبر۱: بریلویوں کا اسلام نامی پوسٹر مسلک دیوبند کی جانب سے شائع کیا گیا ہے یا نہیں اگرشایع کیا گیا ہے تو کس نے کیا (مراد تنظیم یا شخص ) ؟
سوال نمبر۲:کیا پوسٹر بنام بریلویوں کا اسلام سچ و حق پر مشتمل تھا یا مکاری و جھوٹ پر مشتمل تھا؟
سوال نمبر۳: پوسٹر بنام بریلویوں کا اسلام میں ذکر کردہ کتاب فیوضات فریدیہ مسلک بریلوی کی ہے یا نہیں اگر مسلک بریلوی کی کتاب ہے تو مستند ہے یا غیر مستند اگر مستند کتاب ہے تو اس کا مفصل مع برہان جواب عنایت فرمادیں ۔
سوال نمبر ۴: اگر فیوضات فریدیہ مسلک بریلوی کی کتاب ہے تو وہ اسکو غیر مستند قرار دیکر اس سے برات کا اظہار کیوں کررہے ہیں ۔
سوال نمبر ۵ : کیا پوسٹر بنام دیوبندیوں کا اسلام میں ذکر کردہ باتیں سچ و حق پر مشتمل ہیں یا پھر مکر و فریب اور جھوٹ پر مشتمل ہیں۔
سوال نمبر ۶: دیوبندیوں کا اسلام نامی پوسٹر مسلک بریلوی کی جانب سے کس شخص یا کس تنظیم نے شائع کیا ہے ۔
سوال نمبر ۷: پوسٹر بنام دیوبندیوں کا اسلام میں ذکر کردہ حوالہ جات درست ہیں یا نہیں ؟
سوال نمبر ۸: دیوبندیوں کااسلام نامی پوسٹر میں ذکر کردہ کتب ( ارواح ثلاثہ ) مسلک دیوبند کی کتاب ہے ؟ اور کس نے تحریر کی ہے۔
جواب
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
جناب محترم محمد عاصم صاحب ! امید کرتا ہوں کہ آنجناب خیرت و عافیت سے ہوں گے آپ کا عنایت نامہ چند دن قبل قائد اہلسنت مناظر اسلام پیر طریقت استاذی مرشدی و مولائی حضرت علامہ مولانا رب نواز حنفی صاحب زید مجدہ کو موصول ہوا ،مگر اپنی بے پناہ جماعتی تبلیغی و مسلکی سرگرمیوں و مصروفیات کی وجہ سے انہیں آپ کے خط کاجواب لکھنے کا موقع نہ مل سکا جس کے بعد حضر ت نے راقم کو جواب کی ذمہ داری سونپی اور بندہ اسے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے حضرت کی طرف سے آپ کے خط اور ان میں ذکر کردہ اشکالات و سوالات کا جواب لکھ رہا ہے ۔سب سے پہلے تو میں ادارے کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے حقیقت حال معلوم کرنے کیلئے ہم سے رابطہ کرنے کی زحمت کی ورنہ آج کل بعض حضرات کے اعتقاد کاتو یہ حال ہے کہ چلتے چلتے کسی مراثی کی زبان سے بھی اگر کوئی اعتراض سن لیا تو اکابر اہلسنت پر چہ مگوئیاں شروع کردیتے ہیں بہر حال ترتیب وار جواب ملاحظہ فرمائیں ۔
بلاشبہ قاسم العلوم والخیرات حجۃ الاسلام مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی و فقیہ العصر محدث کبیر حضرت علامہ مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہما علم و عمل زہد و تقوی میں اپنی مثال آپ تھے اور کیوں نہ ہوں کہ جب یہ دونوں حضرات وقت کے اولیاء کاملین رأس المتقین میں سے تھے وقت کے مقتداء تھے ۔یہ محض مبالغہ آرائی یا عقیدت سے مغلوب ہوکر لکھی گئی مجذوبانہ بڑنہیں بلکہ یہ وہ حضرات و مقدس شخصیات ہیں جن کے زہد و تقوی کی گواہی ان کے مخالفین نے بھی دی ہے ۔چنانچہ محمد احمد برکاتی صاحب بریلوی مذہب کے خیر آبادی سلسلہ کے ممتاز عالم دین و محقق گزرے ہیں وہ اپنے والد برکات احمد صاحب مرحوم کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’والد ماجد ( مولانا حکیم دائم علی ) مولانا محمد قاسم کے خواجہ تاش تھے اس لئے ایک بار مجھے ان سے ملانے کیلئے دیوبند لے گئے تھے جب ہم پہنچے تو مولانا چھتہ کی مسجد میں سو رہے تھے مگر اس حالت میں بھی ان کا قلب ذاکر تھا اور ذکر بھی بالجہر کررہا تھا‘‘۔
(مولانا حکیم سید برکات احمد سیرت اور علوم ،ص۱۸۵،برکات اکیڈمی لیاقت آباد کراچی)
اللہ اکبر ! ایسی مقدس و مطہر شخصیت پر ایسی سوقیانہ الزام تراشی کرنا کیا انسان کے ازلی بدبخت اور دائمی شقاوت قلبی کی سیاہ ترین مثال نہیں تو اور کیا ہے ؟ حجۃ الاسلام کی ولایت علم تقوی و فضل پر مزید تفصیلی حوالہ جات کیلئے فاتح مناظرہ مٹیاری مناظر اسلام حضرت مولانا مفتی نجیب اللہ عمر صاحب مدظلہ العالی کا لا جواب مضمون ’’مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بریلوی اکابرین کی نظر میں ‘‘ مجلہ نور سنت شمارہ نمبر ۱۰ میں ملاحظہ فرمائیں ۔مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی مخالفین کے گھر سے چند حوالے ملاحظہ ہوں :
فقیہ العصر مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کا قلم عرش کے پرے چلتا ہے
رضاخانی مفتی اعظم ہند مصطفی رضاخان کا خلیفہ اجل مولوی عبد الوہاب قادری لکھتا ہے کہ :
’’جس زمانے میں مسئلہ امکان کذب پر آپ (رشید احمدگنگوہی )کے مخالفین نے شور مچایا اور تکفیر کا فتوی شائع کیا سائیں توکل شاہ انبالوی کی مجلس میں کسی مولوی نے امام ربانی (رشید احمد گنگوہی )کاذکر کیا اور کہا کہ امکان کذب باری کے قائل ہیں یہ سن کر سائیں توکل شاہ نے گردن جھکالی اور تھوڑی دیر مراقب رہ کر منہ اوپر اٹھاکر اپنی پنجابی زبان میں یہ الفاظ فرمائے :
’’لوگوتم کیا کہتے ہو میں مولانا رشید احمد صاحب کا قلم عرش کے پرے چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں‘‘۔
(تذکرۃ الرشید ،جلد دوم ،ص۳۲۲)
نمبر۱۔ سائیں توکل شاہ انبالوی ان پڑھ بے علم علمائے دیوبند کے پرستار فضلہ خوار ہیں ‘‘۔
(صاعقۃ الرضا علی اعداء المصطفی المعروف مطالعہ بریلویت کی جھلکیاں ڈاکٹر خالد محمود اپنے علم و حواس کے آئینے میں ۔ص:۱۷۲۔۱۷۳۔بزم اعلحضرت امام احمد رضابرانچ یوپی موڑ نارتھ کراچی)
نوٹ:الحمد للہ رضاخانی مولوی نے سائیں توکل شاہ انبالوی کی اس روایت کو درست تسلیم کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ سائیں توکل شاہ انبالوی علمائے دیوبند کے فضلہ خوار و پرستار تھے ۔اب آئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ سائیں توکل شاہ انبالوی کون تھا ؟ ۔ انبالوی صاحب بریلوی مولوی نور ببخش توکلی کا پیر و مرشد تھا نور بخش توکلی نے اپنے اس پیر کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب؛
’’تذکرہ مشائخ نقشبند ۔ص۴۸۱ تا ۶۹۲مطبوعہ مشتاق بک کارنر لاہور‘‘
پر کیا ہے ۔اقبال زید فاروقی نور بخش توکلی کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ:
’’انبالہ میں ان دنوں حضرت سائیں توکل شاہ انبالوی رحمۃ اللہ علیہ روحانیت کی تعلیم کا مرکز تھے مولانا نے حضرت شاہ صاحب کے دست حق پرست پر بیعت کی اور اس نسبت سے آپ توکلی کہلائے‘‘۔
(تذکرہ علمائے اہلسنت و جماعت لاہور ۔ص۲۹۶۔مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور)
مورخ بریلویت عبد الحکیم شرف قادری نے نور بخش توکلی کو اپنے اکابر میں ذکر کرکے لکھا کہ :
’’جن دنوں آپ محمڈن سکول انبالہ کے ہیڈ ماسٹر تھے حضرت خواجہ توکل شاہ رحمۃ اللہ تعالی (م۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ ء) کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے‘‘۔
(تذکرہ اکابر اہلسنت ۔ص:۵۵۹ نوری کتب خانہ لاہور)
(۲) مولانا غلام رسول قاسمی جنہیں بریلوی مذہب کے محقق عصر حکیم محمد موسی امرتسری نے مایہ ناز حنفی علماء میں شمار کیا ہے وہ فرماتے ہیں :
’’ میں مولوی رشید احمد صاحب کا نہ تو شاگرد ہوں نہ استاد ہوں نہ مرید ہوں نہ پیر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں لیکن آخر وہ ایک عالم ہیں اور ایک عالم کی اس طرح توہین و تکفیر ہرگز جائز قرار نہیں دی جاسکتی ‘‘۔ (تذکرہ علما ء امرتسر ،ص۶۵والضحی پبلی کیشنز لاہور)
بریلوی شیخ الاسلام ابو الحسن زید فاروقی صاحب اپنے والد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر آپ نے درج ذیل تاثرات کا اظہار کیا :
مرگ مولوی رشید احمد زخمے است کہ مرہم نہ دارد عالم صالح دیندا ردریں وقت حکم عنقادارد انا اللہ وانا الیہ راجعون مردن ایں چنیں یک شخص از مردن یک ہزار بر دینداران سخت تر است ‘‘۔ ( بزم خیر اززید ،ص۹۴،۹۵،حضرت شاہ ابو الخیر اکاڈمی دہلی )
ترجمہ :مولوی رشید احمد کی موت ایسا زخم ہے کہ اس کا مرہم نہیں اس وقت میں عالم صالح دیندار عنقا کے حکم میں ہیں انا اللہ وانا الیہ راجعون دینداروں پر ایک ہزار افراد کے مرنے سے ایسے ایک شخص کا مرنا بھاری ہے ‘‘۔
(مقامات خیر سوانح ہادی کامل شاہ ابو الخیر ،ص۵۲۷،از ابو الحسن فاروقی ، طبع دہلی)
اللہ اکبر ! وہ نفوس قدسیہ جن کے پاک و منور دل حالت نوم میں بھی اللہ اللہ کی ضربیں لگاتے ہوں اور جن کا قلم عرش کے ورے چلتا ہو جن کا صرف وجودمسعود ہی ہزا ر اہل اللہ پر بھاری ہو رضاخانی ظالموں کی طرف سے ان نفوس قدسیہ پر ایسی گھٹیا الزامی تراشی کرنا پرلے درجے کی بے ایمانی شقاوت قبلی اور اپنی قبر کی تاریکی کو مزید سیاہ کرنے کے مترادف ہے۔
پہلا حوالہ
اس حکایت پر یہ بدبودار عنوان قائم کرنا رضاخانی معترض کی ذہنی پستی اور گھر خانقاہ اور بریلی مدرسہ میں دی گئی ننگی تعلیم و تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ورنہ اس پورے واقعہ میں دور دور تک کوئی بھی ایسی بات نہیں جس سے یہ گندا مفہوم مراد لیا جائے ۔
اولا: اس لئے کہ یہ واقعہ کئی حضرات کے سامنے ہوا بریلوی مفتی اعظم اور بریلوی حکیم الامت مولوی منظور اوجھیانوی المعروف احمد یار گجراتی کا جانشین اقتدار نعیمی لکھتا ہے :
مجامعت اور پیشاب پاخانہ شرم و حیاء کے کام ہیں اس لئے تنہائی میں پردہ کے ساتھ کئے جاتے ہیں کتوں اور گدھوں کی طرح کھلم کھلا اعلانیہ نہیں کئے جاتے ‘‘۔
(راہ جنت ،ص۱۲ نعیمی کتب خانہ لاہور )
پس یہ کام جو معتراض نے مراد لیا ہے پردے میں کئے جاتے ہیں تو یہ واقعہ جو مجمع عام میں ہوا اس سے یہ مراد لینا کتوں اور گدھوں والی سوچ و ذہنیت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔
ثانیا: واقعہ مذکورہ میں کہیں بھی لواطت کا ذکر نہیں صرف اتنا ہے کہ اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھ دیا آخر سینے پر ہاتھ رکھنے سے لواطت مراد لینا کہاں کا انصاف ہے ؟ اس کا مطلب ہے کہ جو بھی رضاخانی پیر آئیندہ کے بعد اپنے مرید کے سینے پر پاتھ رکھے گا تو وہ خانقاہ بریلیہ کے مخصوص حجرے میں لواطت کی دعوت دینے پر محمول کیا جائے گا ؟
شرم ۔۔شرم ۔۔شرم
آل قارون نواب احمد رضاخان المختار کا ملفوظ ہے :
’’حضور ﷺ کے دربار میں ایک عورت اپنی لڑکی کو لائیں عرض کی صبح و شام یہ مصروعہ (مرگی زدہ ہوجانا)ہوجاتی ہے حضور نے اس کو قریب کیا اور اس کے سینے پر ہاتھ ما ر کر فرمایا اخرج یا عدو اللہ و انا رسول اللہ نکل اے خدا کے دشمن میں اللہ کا رسول ہوں اسی وقت اسے قے آئی ایک سیاہ چیز جو چلتی تھی اس کے پیٹ سے نکلی اور غائب ہوگئی اور وہ عورت ہوش میں آگئی۔
(ملفوظات اعلی حضرت حصہ سوم ،ص۳۲۰،اکبر بک سیلز لاہور ،ص۲۹۴،۲۹۳،نوری کتب خانہ لاہور ،۳۵۶ پروگریسو بکس لاہور ،۳۵۵،۳۵۴محمد علی کارخانہ اسلامی کتب لاہور)
اگر کسی کے چت لیٹ جانے اور اس کے ’’سینے پر صرف ہاتھ ‘‘رکھ دینے سے معاذاللہ لواطت کا ثبوت ہوجاتا ہے تو کسی عورت کو اپنے قریب کرنے اور پھر اس کے سینے پر ہاتھ مارنے سے رضاخانی کیا مراد لیں گے ؟ العیاذ باللہ۔اور کیا نبی کریم ﷺ کی عفت و حیاء اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ ایک عورت کے سینے پر ہاتھ ماریں ؟
یاد رہے کہ نواب احمد رضاخان نے جس روایت کا ذکرکیا اس میں اپنے کمزور و خراب حافظہ کی وجہ سے عورت و لڑکی کا ذکر کردیا حالانکہ روایت میں چھوٹے بچے یعنی لڑکے کا ذکر ہے روایت میں ابنی و صبی کے الفاظ ہیں ۔یہ حال ہے چودہ سو سال کی کتابیں حفظ کرنے والے کے نام نہاد حافظہ کا۔
(المستدرک ج۲،ص۶۷۴دارالکتب العلمیہ بیروت ،المعجم الکبیر ،ج۲۲،ص۲۶۴، مسند امام احمد ،ج۲۹،ص۹۲،مجمع الزوائد ،ج۸،ص۲۸۶،جامع المسانید ،ج۸،ص۴۷۷ ،الاحاد والمثانی ،ج۳،ص۲۵۰ ریاض )
مگر خان صاحب نے لڑکے کو لڑکی بنادیا اور پھر ایک دم سے چھلانگ لگاتے ہوئے لڑکی سے عورت پر آگئے حدیث کے بیان کرنے میں احمد رضاخان صاحب نے اپنی عادت بعد( سوء حفظ) کے مطابق دیگر بھی کئی سنگین غلطیاں کی ہیں تفصیل کیلئے حضرت مفتی نجیب اللہ عمر صاحب کا تحقیقی مقالہ ’’ملفوظات اعلی حضرت کا جائزہ ‘‘ ملاحظۃ فرمائیں ۔ دعو ت اسلامی نے جو تحریف در تحریف والا ملفوظات کا نسخہ شائع کیا ہے اس میں اس ملفوظ میں تحریف کردی ہے۔تفصیل کسی موقع پر میرے مضمون ’’بریلوی علماء یہود کے نقش قدم ‘‘ میں آجائے گی۔
ثالثا: عام حالات میں بھی دیکھیں کہ جب کوئی مریض چارپائی پر لیٹا ہوا اور اٹھنے کے قابل نہ ہو تو ملاقات کیلئے آنے والے معانقہ کرنے کی غرض سے اوپر جھک جاتے ہیں اور سینے سے سینا مل جاتا ہے مگر رضاخانی سوچ کے مطابق اسے بھی لواطت پر محمول کیا جائے گا ۔ العیاذ باللہ من سوء الفہم ۔
کافی عرصہ پہلے جہانیاں کے ایک نام نہاد محقق رضاخانی نے راقم کے سامنے یہ حوالہ پیش کیا تو میں نے کہا کہ آخر اس میں قباحت کیا ہے ؟ یہاں پر تو صرف سینے پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے میں اس سے بھی بڑی بات آپ کے گھر سے لے آتا ہوں کیا آپ کے ابو جان نے آپ کو یا آپ کی ہمشیرہ کو کبھی محبت و عشق میں گلے سے نہیں لگایا ؟ اگر سینے پر ہاتھ رکھنا اتنا بڑا جرم ہے تو سینے سے سینا ملادینا کتنا بڑا جرم ہوگا۔
نواب احمد رضاخان بریلوی کے سوانح نگاروں نے ان کے متعلق لکھا کہ جناب نواب کلب علی خان نے انہیں اپنے پاس بلایا تو :
’’انہوں نے ’’خاص پلنگ‘‘ پر بٹھایا اور ’’بہت لطف و محبت ‘‘ سے باتیں کرتے رہے‘‘۔
(المیزان کا امام احمد رضا نمبر ،ص۳۳۲)
آپ حضرات نے آج تک نشست خاص کا لفظ تو سنا ہو گا کسی کو بٹھانے کیلئے ’’پلنگ خاص ‘‘ کی اصطلاح شاید پہلی بار سن رہے ہیں ۔اب اسی رضاخانی سوچ کا مظاہرہ اگر کوئی کرے اور کہے کہ جناب پلنگ خاص پر بٹھایا نہیں لٹایا جاتا ہے اور نواب صاحب کو پورے گھر میں اپنے ساتھ بٹھانے یا لٹانے کیلئے اور اس سے پیار و محبت کی باتیں کرنے کیلئے ’’پلنگ خاص ‘‘ ہی کیوں ملا؟ آخر کچھ تو ہے جس کی بناء پر نواب صاحب ایک نوخیز نوجوان کو پیار و محبت کرنے کیلئے ’’اپنا خاص پلنگ ‘‘ پیش کررہے ہیں اور وہ بھی ا س حال میں کہ نواب کی محبت کا شکار بریلی کا یہ نو عمر ہو بھی رافضی جن کا عقیدہ ہے :

آخر پلنگ خاص اور احمد رضاخان میں کیا مناسبت ہے ؟ اور وہ کوسنی لطف و محبت کی باتیں تھیں جو نواب صاحب کو پلنگ خاص ہی پر کرنی تھیں ؟ جو مناسبت رضاخانی حضرات یہاں بیان کرنا مناسب سمجھیں جو توجیہ و تاویل اس واقعہ کی بیان کریں وہی ارواح ثلاثہ کے حاشیہ پر ہماری طرف سے لکھ دیں ۔
دراصل چونکہ رضاخانی حضرات مسجدوں میں گدھیوں سے معاذ اللہ بدفعلی کرنے والے کو ’’خضر وقت ‘‘ سمجھتے ہیں اس لئے ہر وقت اللہ اللہ کے ذکر سے منور علماء دیوبند کی خانقاہوں کو بھی یہ بدبخت اپنی عبادت گاہوں پر قیاس کرتے ہیں میں یہ محض الزام نہیں لگارہا بلکہ شرم و حیاء سے عاری رضاخانی اکابر نے بڑے فخر سے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے ملاحظہ ہو :
بریلوی جماعت کا شمس العارفین نور اللہ حسن شاہ بخاری اپنی کتاب میں لکھتا ہے :
حضرت غوث علی شاہ صاحب پانی پتی قدس سرہ نے فرمایا کہ ہمارے پیر و مرشد حضرت میر اعظم علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ قصبہ مہم سے دہلی کو وآپس آتے ہوئے اثنائے راہ میں ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔دوپہر کے وقت ایک درخت کے سایہ میں گاڑی ٹھیرادی تاکہ ذرا آرام لیکر اور نماز ظہر پڑھ کر بعد فرو ہونے تمازت آفتاب کے آگے کو چلیں تھوڑی دیر بعد ایک فقیر صاحب وارد ہوئے ہم نے روٹی پانی کی تواضع کی۔کھاپی کر وہ بھی سوگئے اور ہم بھی۔جب آنکھ کھلی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہماری گاڑ ی ایک سرائے میں کھڑی ہے بیل گھاس کھارہے ہیں بھٹیاری کھانا پکارہی ہے اور فقیر صاحب پڑے سوتے ہیں ہماری حالت سکتہ کی سی ہوگئی کہ الٰہی یہ کیسی سرائے اور کونسا شہر ہے؟اور ہم یہاں کیونکر پہنچے ؟بھٹیاری سے دریافت کیا کہ اس شہر کا نام کیا ہے ؟ کہا ہ ’’حیرت آفزا‘‘ پوچھا کہ ارے نیک بخت !یہ سرائے کس کی ہے ؟کہا کہ انہی فقیر صاحب کی اور جتنے روز تم یہاں ٹھرو گے سب خرچ بھی ان کے ذمہ ہے۔ آٹھ روز تک ہم اسی شہر میں رہے نہ اس کی ابتداء معلوم ہوئی نہ انتہا۔ حقیقت میں وہ شہر حیرت افزا تھا ۔آدمی وہاں کے نیک سیرت ،پاکیزہ صورت ،مرفع حال مکانات خوش قطع اور مصفا ،اشیاء رنگا رنگ موجود ،بازار نہایت مکلف و پر بہار جدھر جاتے صورت تصویر بن جاتے ۔جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی اسلام کا زور و شور پایا ہر شخص کہ یاد خدا میں مشغول دیکھا ۔قال اللہ وقا ل الرسول کے سوا کچھ ذکر نہ تھا ۔غرض آٹھویں رات کو جب ہم سوکر اٹھے تو گاڑی اسی درخت کے تلے کھڑی ہے اور وہی وقت ہے ۔فقیر صاحب بھی سوتے ہیں۔ہم نماز پڑھ کر روانہ ہوئے ۔فقیر صاحب بھی ہمارے ساتھ ہولئے ۔راستہ میں جس شخص سے پوچھا وہی تاریخ وہی دن وہی مہینہ بتلایا۔ہم کو حیرت ہوئی کہ یہ آٹھ دن کہاں گئے ۔آخر بہادر گڑھ پہنچے وہاں ایک مکان میں ٹھیرے ۔فقیر صاحب نے فرمایا کہ بعد نماز عشاء ہماری روٹی اسی مسجد میں لے آنا ۔
جب ہم روٹی لے کر مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ میاں صاحب ایک گدھی سے مصروف ہیں ۔میں نے منہ پھیر لیا ۔پھر جو دیکھا تو نماز پڑھتے ہیں ،
بعد فراغت کھانا کھایا باتیں کرنے لگے۔جب آدھی رات گئی تو فرمایا کہ شہر کے دھوبی کپڑے دھورہے ہیں جاو ہمارا لنگوٹ دھلوالاؤ ۔ میں نے کہا کہ حضرت !آدھی رات ادھر آدھی رات ادھر بعد اس وقت کون کپڑے دھوتا ہوگا؟فرمایا ذرا تم لے تو جاؤ میں چلا اور شہر کے دروازے سے باہر نکلا تو دیکھتا ہوں کہ دو گھڑی دن چڑھا ہے اور دھوبی کپڑے دھورہے ہیں جب دروازے کے اندر آتا ہوں تو نصف شب معلوم ہوتی ہے اور جب باہر جاتا ہوں تو ہی دو گھڑی دن چڑھا ہوا نظر آتا ہے ۔غرض دھوبیوں کے پاش پہنچے ۔ایک دھوبی نے کہا لاؤ میاں صاحب کا لنگوٹ دھودوں۔اس نے دھویا صاف کیا دھوپ میں سوکھا کہ حوالہ کیا ۔میاں صاحب کی خدمت میں لے آیا ۔مجھ کو ان باتوں کا نہایت تعجب تھا ۔فرمایا کہ
تعجب نہ کرو یہ بھان متی کا سانگ ہے۔اور ایسی شعبدے ہم بہت دکھلاسکتے ہیں لیکن فقیری کچھ اور ہی چیز ہے۔ان باتوں کا خیال مت کرو۔
صبح کے وقت ہم دہلی کو روانہ ہوئے اور وہ فقیر صاحب غائب ہوگئے ۔جب ہم دہلی میں پہنچے تو مولانا شاہ عبد العزیزصاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا ۔انھوں نے فرمایا کہ وہ شخص خضر وقت یا ابو الوقت تھا۔
(الانسان فی القرآن ،ص ۲۵۳،۲۵۴،۲۵۵،از نور الحسن شاہ بخاری ،مطبوعہ گوجرانوالہ)
اس شیطانی حکایت کو پڑھنے کے بعد تو انسان یہ تسلیم کرنے کے پرمجبور ہوجاتا ہے کہ رضاخانی مذہب میں نماز جیسی اہم عبادت میں پاکیزگی بالکل شرط نہیں اور رضاخانی پیر پہلے وضو کرتے ہیں پھر گدھی سے بدفعلی کرتے ہیں پھر فورا بعد نماز پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ رضاخانیوں تمھیں حیاء نہیں آتی کہ اس شخص کو تم خضر وقت کہہ رہے ہو جو مسجد جیسی مقدس جگہ میں ایک گدھی کے ساتھ منہ کالا کرتا ہے ؟ قارئین کرام آج جو آئے دن آپ کو مزارات پر عورتوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں وہ اسی ’’ولایت ‘‘ کا شاخسانہ ہے رضاخانی مذہب میں جو شخص جتنا بڑا زانی ۔۔اغلام باز ۔۔شرابی کبابی ہو گااتنا ہی بڑا ولی ہے ۔۔رضاخا نیوں کی جہالت تو دیکھیں کہ پیر صاحب مرید کو کہتے ہیں کہ ’’تعجب مت کروایسے شعبدے ہم بہت دکھلاسکتے ہیں‘‘تو معلوم ہوا کہ رضاخانی پیرو مولویوں کی اکثریت شعبدہ باز ہوتی ہے ،رضاخانی پیر، مجدد، امام، حکیم الامت، غزالی زماں، وغیرہ وغیرہ سب سے پہلے اس شیطانی تصوف پر عمل کرتے ہوئے مسجدوں اور عبادت گاہوں میں گدھیوں کے ساتھ منہ کالا کرتے ہیں اس کے بعد لوگوں کو گمراہ کرنے کا دھندا چلاتے ہیں پھر یہ عجیب مذہب ہے کہ جس میں گدھی سے بدفعلی کرنے کے لئے بھی باوضوہونا ضروری ہے اور نماز ناپاکی کی حالت میں پڑھتے ہیں ۔
ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں رضاخانی دو چوٹی کے علماء غلام مہر علی اور مفتی عبد المجید سعیدی رحیم یار خانی کے درمیان ’’مغفرت ذنب‘‘ پر اختلا ف چل نکلا اسی اختلا ف کے ضمن میں غلام مہر علی کے بیٹے کے قلم سے ایک حقیقت یوں بیان ہوگئی :
’’ماشاء اللہ صدر صدام کے دور حکومت میں تو عراقیوں کو ملاماجن کے عربی مقالے کی ضرورت نہیں پڑی اب مسلم کش یہودیوں اور عیسائیوں کے آنے سے ملاں ماجن کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ وہ لوگ بھی شوقین حضرات ہیں بلکہ ہم جنسی پرستی کا بہت زیادہ شوق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے سوچا کہ دنیائے عرب اور مسلم ممالک سے تو کوئی ایسا عزت والا آدمی نہیں ملے گا بس ملاں ماجن کو ہی عربی مقالہ تحریر کرنے کے نام پر بلا لیا جائے تاکہ ہم چھڑے یہودیوں کے کام آسکے ‘‘۔
(چیلنج ،ص۱۲،منجانب مناظر بن مناظر ابن مناظر مصطفی رضا مہر ابن علامہ غلام مہر علی مہتمم مدرسہ عربیہ نور المدارس عیدگاہ چشتیاں )
عبارت میں ’’ملاں ماجن ‘‘ سے مراد بریلوی مناظر عبد المجید سعیدی ہے اندازہ خود لگالیں کہ ’’شوقین حضرات ‘‘، ’’ہم جنسی پرستی ‘‘، ’’چھڑے یہودیوں کے کام آسکے ‘‘ جیسے الفاظ عبد المجید کے بارے میں استعمال کرکے کس ’’حقیقت ‘‘ کو بیان کیا جارہا ہے ؟
اسی عبد المجید کے بارے میں مناظر ابن مناظر لکھتا ہے :
تجھ جیسے یہودیوں کے لونڈ ے سے ڈر کر کیسے بھاگیں گے ۔ ( چیلنج ،ص۱۳)
بریلوی مسلک کی مایہ ناز شخصیت مفتی محمد ذوالفقار علی رضوی صاحب جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ابو الخیر زبیر حیدر آبادی اور ان کے استاد اشرف سیالوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’مجھے سمجھ نہیں آتی خراف زادہ زبیر کے پاس بچپن کی وہ کونسی کشش باقی تھی جسکو محسوس فرما کر سارے اگلے پچھلے گناہ بھول کر حضرت شیخ الحدیث بزعم خویش نے خوارج دیابنہ کے ترجمہ کو ترجیح دے کر خراف زادہ کو بری فرمادیا ‘‘۔
(پیر کرم شاہ کی کرم فرمائیاں ،ص۳۰۶،۳۰۷)
خراف زادہ زبیر سے مراد ابو الخیر زبیر ہیں او ر شیخ الحدیث سے مراد بریلوی اشرف العلماء استاد العلماء اشرف سیالوی ہیں عبارت میں ’’بچپن کی کشش‘‘، اور ’’اگلے پچھلے گناہ بھول ‘‘ کر کے الفاظ پر خود ہی غور فرمالیں کہ موصوف کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ہماری تہذیب ان جملوں پر تبصرے کی اجازت نہیں دیتی ۔
قصہ مختصر یہ حوالے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بریلوی مسلک کے چوٹی کے علماء اپنے مدارس ،خانقاہوں ،و مساجد میں کس قسم کے ماحول سے گزر کر اس مقام پر پہنچے بلکہ اب تو میڈیا پر بھی کئی واقعات آچکے ہیں جس میں مسجدوں میں بریلوی استادوں نے اپنے طلباء کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد قتل کردیا ہمارے فیس بک پیج اور یوٹیوب پر یہ ویڈیوز دیکھی جاسکتی ہیں غالبا یہ تلخ تجربہ بریلوی حکیم الامت امت منظور اوجھیانوی المعروف احمد یار گجراتی کو بھی ہوچکا تھا اسی لئے انہیں اس بات کا گلہ کرنا پڑا :
’’سب سے پہلے دینی مدارس حرام ہونے چاہئیں کیونکہ وہاں مرد بے داڑھی والے بچے جوانوں کے ساتھ پڑھتے ہیں انکا آپس میں اختلاط بھی ہوتا ہے کبھی کبھی اس کے برے نتیجے بھی برآمد ہوتے ہیں ‘‘۔ ( جاء الحق ،ص۲۱۱،شوکت بک ڈپو پرانا بازار گجرات )
دوسرا حوالہ
اولا گذارش ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے خواب ایک حقیقت طلب چیز ہوتی ہے اس کی ظاہری کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور باطنی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے جس کو تعبیر کہتے ہیں اگر معترض کو علم التعبیر سے ذرا بھی مناسبت ہوتی تو اس خواب پر یہ عنوان قائم کرکے اپنی خانگی تربیت کا ثبوت نہ دیتے ۔علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ جنہیں نواب احمد رضاخان آل قارون نے بھی ’’عارف باللہ سیدی عبد الغنی ‘‘ (فتاوی رضویہ ،ج۲۶،ص۵۲۷) لکھتے ہیں اس قسم کے خواب کی تعبیر میں لکھتے ہیں :
’’و ان رای انہ ینکح شابا معروفا فان الفاعل یفعل بالمفعول خیرا::۔
(تعطیر الانام ،ج۲،ص۲۳۰)
اگر کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس نے کسی معروف(یعنی جس کو وہ جانتا ہے) نوجوان سے نکاح کیا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ فاعل مفعول سے بھلائی کا معاملہ کرے گا ۔
اور تاریخ شاہد ہے کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت نانوتوی ؒ سے صرف بھلائی ہی نہیں بے شمار بھلائیاں کی ہیں اور خود حضرت گنگوہی ؒ نے حضرت علامہ عبد الغنی کی تعبیر کے عین مطابق اس خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے اس بھلائی کا بھی ذکر کردیا جس کو معترض نے نہ جانے کیوں ذکر نہ کیا :
سو جس طرح زن و شوہر میں ایک دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے فائدہ پہنچا ہے انہوں نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف کرکے ہمیں مرید کرایا اور ہم نے حضرت سے سفارش کرکے انہیں مرید کرادیا‘‘۔
(تذکرۃ الرشید ،ج۲،ص۲۸۹)
اسی طرح علامہ ابن سیرین ؒ لکھتے ہیں :
و من رای انہ ینکح رجلا فان کا ن ذالک الرجل مجھولا و ھو شاب فانہ یظفر بعدوہ و ان کان معروفا و لیس بینھما عداوۃ فان المفعول یصیب من الفاعل خیرا ‘‘۔
(تعبیر الرویا ،ص۱۰۱،فرید بک سٹال لاہور )
اگر خواب میں کسی آدمی سے نکاح کررہا ہواور وہ آدمی جوان مگر ناآشنا ہو تو خواب دیکھنے والا اپنے دشمن پر فتح یاب ہوگا اور اگر اس کو پہچانتا ہے اور ان دونوں میں دشمنی نہیں ہے تو وہ اس سے فائدہ پائے گا۔
اگر اب بھی تسلی نہیں ہوتی تو لیجئے بریلویوں کے گھر سے ایک عدد حوالہ ملاحظہ ہو بریلوی شیخ الحدیث والتفسیر فیض ملت فیض احمد اویسی صاحب لکھتے ہیں :
’’صحبت کرنا مرد کے ساتھ جس سے صحبت کی اگر وہ صاحب عزت ہے تو خواب والا مطلب نفع سے کامیا ب ہو ‘‘۔
(خوابوں کی تعبیر ،ص۲۷،قطب مدینہ پبلی شرز کراچی )
مٹیاری مناظرہ میں بریلوی مناظر ظفر رضوی بڑے اوچھل اوچھل کر داڑھی والی دلہن نامی ایک وقیانہ تحریر دکھا رہے تھے اب اگر فیض احمد اویسی کی اس عبارت کی روشنی میں سوال کیا جائے :
’’میں نے خواب دیکھا کہ ظفر رضوی صاحب کے استاد محمد علی حنفی صاحب ان سے صحبت کررہے ہیں ‘‘۔
تو اس خواب پر یہ بدباطن بریلوی فیض احمد اویسی کی بتائی گئی تعبیر کی روشنی میں کیا عنوان قائم کریں گے ؟۔
داڑھی والی دلہن کاعنوان قائم کرنے والے ذرا غیرت کا ثبوت دیں اور احمد رضاخان بریلوی کی اس عبارت پر بھی کوئی عنوان قائم کریں جس میں نبی کریم ﷺ کی طرف دلہن کی نسبت کی گئی ہے :
’’جب حضور ﷺ مزار مبارک سے روز قیامت اٹھیں گے تو ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ باہر تشریف لائیں گے جو حضور کو بارگاہ عزت میں یوں لے چلیں گے جیسے نئی دلہن کو کمال اعزاز و اکرام و فرحت و سرور و راحت و آرام و تزک و احتشام کے ساتھ دولہا کی طرف لے جاتے ہیں ‘‘۔ ( فتاوی رضویہ قدیم ،ج۶،ص۲۰۲،مکتبہ رضویہ کراچی ۱۹۹۲)
تیسرا حوالہ
اگر کوئی چھوٹے بچوں سے ہنسی کرتا ہے ان سے پیار و محبت کا اظہار کرتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے ؟ اگر رضاخانی علماء سے مدارس و خانقاہوں میں کسی نے ’’تسکین‘‘ حاصل کی ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ ہر ایک کو خود پر قیاس کرنے لگ جائیں اگر اعتراض کمر بند کھولنے پر ہے تو یہ بھی جہالت و گندی سوچ کا شاخسانہ ہے یہاں کمر بند سے مراد ’’ازار بند ‘‘ نہیں کیونکہ عقلا و نقلا دونوں اعتبار سے ازار بند مرادلینا درست نہیں ۔اس لئے کہ چھوٹے بچے ازار بند نہیں باندھتے بلکہ بریلویوں کے ہاں تو اس عمر کے بچے سرے سے شلوار ہی نہیں پہنتے چنانچہ نواب احمد رضاخان بریلوی کے تمام سوانح نگاروں کا اس پر ’’اجماع‘‘ ہے کہ جب وہ چھوٹی عمر میں بریلی کی گلیوں میں’’ فاحشہ عورتوں ‘‘کو’’ وعظ‘‘ کہنے نکلتے تو بغیر شلوار صرف ایک ’’لمبا کرتا ‘‘ زیب تین کیا ہوتا اور عین وعظ کے وقت اسے بھی شرما کر اوپر کرلیتے جب امام کا یہ حال ہے تو مقتدی تو بالکل ’’الف‘‘ کی طرح ہوں گے مزید تفصیل کیلئے نورسنت کا کنزالایمان نمبر میں راقم کا مضمون ’’تعارف صاحب کنز الایمان ‘‘ ملاحظہ ہو ۔
اور نقلا یہ معنی مراد لینا اس لئے باطل ہے کہ لغت میں کمر بند کا معنی لکھا ہوا ہے :
کمر باندھنے کی چیز ،کمر باندھنے کا دوپٹہ ؂
کرتا تن اطہر میں رسول عربی کا
زیب کمر پاک کمر بند علیؓ (نور اللغات ،ج۴،ص۱۵۳،نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد ۱۹۸۵)
ترتیب وار سوالات کے جوابات
سوال نمبر ۱،۲کا جواب : بریلویوں کا اسلام نامی پوسٹر کا راقم کو علم نہیں کہ کس نے شائع کیا ہے اور اس میں کس قسم کا مواد ہے ۔واللہ اعلم بالصواب۔
سوالنمبر ۳ کا جواب : فیوضات فریدیہ جو کہ غلام فرید کی کتاب ’’فوائد فریدیہ ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب بریلویوں کی مستند ترین کتاب ہے جوکہ مکتبہ معین الادب جامع مسجد شریف ڈیرہ غازی خان سے چھپی تھی ۔مورخ بریلویت عبد الحکیم شریف قادری غلام فرید کواپنے اکابر میں ذکر کرکے لکھتا ہے :
’’آپ کی بلند پایہ اور مقبول عام تصانیف یہ ہیں :
۱۔فوائد فریدیہ ،مسلک توحید اور اعتقادی مسائل میں بہترین کتاب ہے
(تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۳۲۴ نوری کتب خانہ لاہور )
بریلوی نام نہاد مناظر ضیغم اہلسنت حسن علی میلسی نے برق آسمانی اور قہر خداوندی نامی اپنی کتابوں میں اس کتاب کو مستند مانتے ہوئے اس کا نام نہاد دفاع کیا ہے ۔
مفتی حنیف قریشی اینڈ کمپنی نے بھی اسے غلام فرید کی کتاب تسلیم کرتے ہوئے اپنے موقف پر استدلال کیا :
’’اس پر سب سے پہلی گواہی خواجہ صاحب کی اپنی تصنیف فوائد فریدیہ ہے ‘‘۔
(مناظرہ گستاخ کون ،ص۱۴۶،اسلامک بک کارپوریشن راولپنڈی)
خواجہ غلام فرید صاحب کے ملفوظات کے مستند مجموعہ میں ہے : فوائد فریدیہ یہ ایک فارسی زبان میں رسالہ ہے جو سلوک اور ولایت سے متعلق حضرت اقدس کے افادات کا مجموعہ ہے ‘‘۔
(مقابیس المجالس ،ص۸۸الفیصل ناشران کتب لاہور )
فیض احمد اویسی لکھتا ہے :
تصانیف فوائد فریدیہ فارسی زبان میں ہے خواجہ صاحب نے اپنے معتقدات اور دیگر مسلک توحید کے مسائل و دلائل کو بیان فرمایا ہے ۔
(التذکار السعید فی ذکر خواجہ غلام فرید ،ص۶۴،مکتبہ اویسیہ حامد آبادڈاکخانہ بہاولپور)
سوال نمبر ۴کاجواب : اس کا جواب تو آپ کو رضاخانی حضرات ہی دے سکتے ہیں پارلیمنٹ میں جب مرزا ناصر اپنے مذہب کی گستاخیوں کا دفاع نہ کرپاتا تو کہتا کہ یہ ہمارے امام کی کتاب نہیں ہماری معتبر کتاب نہیں ہے ہمارے لئے حجت نہیں ہے بریلوی حضرات سے بھی جب اپنے اکابر کی گستاخیوں کا جواب نہیں بن پاتا تو کہتے ہیں کہ ہمارے معتبر مولوی نہیں ہماری معتبر کتاب نہیں ۔اگر معتبر نہیں تو فتوی لگاؤ فتوی لگانے پر موت کیوں آتی ہے ؟
سوال نمبر ۵ کا جواب : عبارات درست ہیں عنوانات اور اس سے کشید کیا گیا مطلب دجل و فریب پر مشتمل ہے ۔
سوال نمبر ۶کا جواب :میرے علم میں نہیں ۔
سوال نمبر ۷ کا جواب : جی درست ہیں البتہ سیاق و سباق سے کاٹ کر اور غلط مفہوم دے کر حوالہ جات کو پیش کیا گیا ہے۔
سوال نمبر ۸کا جواب : عام طور پر مشہور ہے کہ ’’ارواح ثلاثہ‘‘ حضرت حکیم الامت مجدد دین و ملت الشاہ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے آج کل جو مارکیٹ میں ارواح ثلاثہ دستیاب ہے اس پر بھی مصنف کا نام مولانا اشرف علی تھانوی بطور مصنف و مرتب درج ہے ۔مگر یہ درست نہیں دراصل ارواح ثلاثہ تین مختلف رسائل کا مجموعہ ہے :
(۱)امیر الروایات ۔از امیر باز خان مرحوم۔
(۲)روایات الطیب: از حکیم الاسلام قاری طیب صاحب مرحوم اس مجموعہ میں امیر باز خان صاحب کی بیان کردہ روایات کو جمع کیا گیا ہے ۔
(۳) اشرف التنبیہ : یہ رسالہ دراصل حضرت مولانا نبیہ صاحب مرحوم کا ہے جس میں انہوں نے ملفوظات حکیم الامت سے بزرگان ولی الٰہی کی حکایات کو جمع کیا ہے ۔
بعد میں ظہور الحسن صاحب ؒ نے ان تینوں رسائل کو یکجا کرکے حضرت حکیم الامت ؒ کی تجویز پر اس کانام ’’ارواح ثلاثہ‘‘رکھ کر شائع کردیا(ارواح ثلاثہ ،ص۱۳ دارالاشاعت کراچی)
غالبا اسی سے ناشرین کو مغاطلہ لگا اور انہوں نے اسے حضرت تھانوی ؒ کی مستقل کتاب سمجھتے ہوئے حضرت حکیم الامت ؒ کی طرف منسوب کردیا آج بھی انڈیا سے جو ارواح ثلاثہ شائع ہورہی ہے اس پر مرتب کا نام مولانا ظہور الحسن صاحب کسولوی ؒ لکھا ہوا ہے :
(ارواح ثلاثۃ مطبوعہ مکتبہ تھانوی یوپی)
مصطفی رضاخان کے خلیفہ عبد الستار ہمداری بھی جب اس کا حوالہ دیتا ہے تو یوں لکھتا ہے :
’’ارواح ثلاثۃ مرتب ظہور الحسن کسولوی ناشر کتب خانہ امداد الغرباء سہارنپور (یوپی)
(امام احمد رضا ایک مظلوم مفکر ،ص۳۸،مکتبہ اعلی حضرت مزنگ لاہور)
بہرحال ارواح ثلاثہ حضر ت تھانوی ؒ کی تصنیف نہیں بلکہ تین الگ الگ رسائل کا مجموعہ ہے رہی یہ بات کہ کیا پوری کتاب بلفظہ مستند ہے تو چونکہ اس کتاب کا تعلق تاریخی واقعات سے ہے لہذا تحقیقی نہج پر کتاب میں موجود روایات و واقعات سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔