جمعرات، 9 جولائی، 2015

شاہ عبد اللہ مرحوم کی وفات اور بریلوی مفتیوں کا امتحان


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
تحفہ لاثانی برائے حنیف قریشی رضاخانی
شاہ عبد اللہ مرحوم کی وفات اور بریلوی مفتیوں کا امتحان
مولانا ساجد خان نقشبندی
بنتے ہو وفادار تو وفا کرکے دکھاؤ
کہنے کی وفا اور ہے کرنے کی وفا کچھ اور ہے
کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر پنڈی کے رضاخانی مولوی حنیف قریشی کا ایک ویڈیو کلپ گردش کررہا تھا جس میں وہ فرمارہے تھے کہ دہشت گردوں کا سب سے بڑا حامی ملک ریاض ہے کیونکہ اس نے اپنی مسجدوں میں دیوبندی مولوی رکھے ہوئے ہیں۔نیز دیوبندی خارجی ہیں معاذاللہ دہشت گرد ہیں ہمیں رکھو جو یہ فتوی دیں گے کہ انہیں قتل کرنے والے کو دو جنتیں ملیں گی ۔
 (ملخصا)

العیاذباللہ جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو علماء دیوبند ہر پلیٹ فارم پر اس کی سختی سے تردید کرچکے ہیں اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں ۔اس وقت ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ اگر ملک ریاض بیچارہ اس وجہ سے مطعون ہے کہ اس نے خارجی دہشت گردوں کی سرپرستی کی ہے تو ہم ملک ریاض سے بھی بڑے خارجی و دہشت گرد بریلوی مسلک کے فتاوی کی روشنی میں پیش کرنے جارہے ہیں جن کی سرپرستی حکومت پاکستان و پاک فوج کررہی ہے اور حنیف قریشی سے امید کرتے ہیں کہ اگر ان کا شمار واقعی علماء حق میں ہوتا ہے تو سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلہ حق بلند کرنا ہے حدیث نبوی ﷺ پر ان کا ایمان ہے اور وہ دنیاکی چند روزہ زندگی او ر چند ٹکوں کی خاطر اپنا ایمان جرات غیرت حمیت بیچنے والے نہیں ہیں تو خارجیوں گستاخوں دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ان لوگوں کے متعلق بھی ایک ویڈیو بیان اسی طرح ریکارڈ کروائیں تاکہ ساری دنیا پر آپ کی انصاف پسندی اور جرات ظاہر ہوجائے۔
سعودی عرب کے لوگوں پر شیطان مسلط ہے
آل بریلویت کے موجودہ سربراہ مولانا اختر رضاخان ازہر ی لکھتے ہیں:
بالکل اسی طرح شیطان نے حرمین طیبین یا عرب شریف میں داخل ہو کر وہاں سینکڑوں ہزاروں لاکھوں کو اپنا ہم نوا و ہم خیال تو بنالیا مگر شیطان کو منہ کی کھانی پڑی کہ اپنی حکمرانی اور دور دورہ کے ارادہ میں ناکام و نامراد رہا کہ وہاں کے سارے لوگ اس کے مطیع اور محکوم نہ ہوئے اور نہ قیامت تک ہوں گے لیکن بہرحال شیطان کے یہ جو ہزاروں لاکھوں ہم نوا اور ہم خیال ہیں ان پر اس کا کامل طور پر ہولڈ اور پکڑ ہے ‘‘۔ ( فتاوی بریلی شریف ،ص240)
آل حرمین سعودی قاتل و غارت گر ہیں
یہاں بریلویوں نے اہل عرب سعودیوں کو شیطان کا ہم نوا اور ہم خیال قرار دیا ہے معاذ اللہ۔آگے لکھتے ہیں :
’’حرمین شریفین میں موجودہ وہابیوں نجدیوں کی فتنہ سامانیوں پر تو عالم گواہ ہے ان کے ظلم و استبداد و قتل و غارت گری صحابہ کرام و بزرگان دین کے مزارات کی بے حرمتی پر تو چشم فلک نے بھی آنسو بہائے جس سے دنیا با خبر ہے ‘‘۔
(فتاوی بریلی شریف ،ص243)
آئمہ حرمین کافر و مرتد ہیں
مفتی غلام محمد شرقپوری لکھتے ہیں
امام اکعبہ اور امام مسجد نبوی عبد الوہاب نجدی اور دیگر عبارات کفریہ کے قائلین کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کو کافر نہیں مانتے لہذا امام کعبہ اور امام مسجد نبوی کافر ٹھرے مرتد ٹھرے اور جو ان کو کافر نہ کہے وہ بھی کافر ہے اور ایسے ماموں کے پیچھے نماز پڑھنی ناجائز ہے اور ان کا ذبیحہ مردار ہے ‘‘۔
(کیا ہر فرقہ کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے ؟،ص22)
بریلوی شیخ الحدیث والتفسیر فیض احمد اویسی صاحب لکھتے ہیں :
امام حرم ( مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ) ہمارے دور میں وہابی عقائد سے منسلک ہیں اس لئے برے عقیدے والے کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی ‘‘۔
(امام حرم اور ہم ،ص6)
موصوف آگے لکھتے ہیں :
’’حرمین شریفین پر نجدیوں وہابیوں کا قبضہ ہے اور وہابی نجدی اپنے عقائد پر نہ صرف خود کاربند ہیں بلکہ ذرا برابر بھی کسی میں اپنے عقائد کے خلاف پاتے ہیں تو اس کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں ‘‘۔ ( امام حرم اور ہم ،ص8)
آل سعود اور سعودی حکمرانوں کا استقبال کرنا کفر ہے توبہ و تجدید ایمان کرنا چاہئے
معروف بریلوی عالم جن کا شمار صف اول کے بریلوی اکابر میں ہوتا ہے مولوی اجمل سنبھلی سے کسی نے سوال کیا کہ زکریا مسجد کے اما م نے آل سعود کا استقبال کیا اور سعودی حکومت کے استحکام کیلئے دعا کی ایسے امام کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے (ملخصا ) تو اجمل سنبھلی اس کا جواب دیتے ہیں :
(۱)بلا کسی معذوری و مجبوری کے ابن سعود اور اس کے بیٹوں کے عقائد باطلہ حرکات نالائقہ پر مطلع ہوکر ان کہ نہ فقط ایسی تعریفیں اور استقبال و اعزاز کرنا بلکہ ان کے باطل مذہب کو صحیح قرار دینا ان کے اصولی اختلافات کو فروعی اختلافات بتانا کسی صحیح العقیدہ سنی المذہب شخص سے ممکن نہیں تجربہ شاہد ہے کہ ایسی حرکات ایسے افعال کسی گمراہ و بد دین نجدی سیرت سے صادر ہوں گے ۔۔۔۔امام زکریا مسجد پر نجدی کے کفری عقائد کو معمولی اختلافات کہنے اور باوجود اس کی ایسی ناپاک گستاخیوں کے اسے قابل ملامت و طعن اور لائق توہین و تذلیل نہ ٹھرانے کا جرم کم از کم ضرور عائد ہوتا ہے جو خود اس کے نجدی ہم عقیدہ ہونے اورصحیح معنی میں سنی المذہب نہ ہونے کا صاف اظہار کررہاہے لہذا اس امام مذکور پر توبہ و استغفار لازم و ضرور ی ہے ۔
(۲)بلا توبہ کے نہ اس کی امامت صحیح نہ اس کی اقتداء درست نہ فریضہ مقتدی ذمہ سے ساقط ہو ۔۔
(۳)امام مذکور کو باعلان عام علی روس الاشہاد توبہ کرنا اور تجدید ایمان کرنا اور اسکا تقریر و تحریرا اظہار کرنا ضروری ہے ۔
(فتاوی اجملیہ،ج4،ص20,21)
نجدی وہابی سعودیوں کے گستاخانہ عقاید
ایک جگہ نجدی وہابیوں سعودیوں کے عقائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
میری یہ لاٹھی محمد ( ﷺ ) سے بہتر ہے کیونکہ اس سے سانپ جیسی چیزوں کے مارڈالنے کا نفع حاصل ہوجاتا ہے اور محمد ( ﷺ ) مرگئے کہ ان کی ذات سے کسی طرح کا نفع نہ رہا وہ تو صرف قاصد (ڈاکیہ ) تھے ۔۔ہمارے نبی اور تمام انبیاء و مرسلین اور اولیاء علیہ و علیہم السلام کی توہین کرنا اور ان کے مزارات کو کھدوانا اور بعض مزارات اولیاء کو قضائے حاجت کی جگہ بنانے کا حکم ۔۔۔ الحاصل اس تفصیل سے یہ ظاہر ہوگیا کہ حدیث شریف میں مشرق سے جس راس الکفر کے نکلنے اور نجد سے جن فتنوں اور زلزلوں کے ظاہر ہونے کی جو خبر دی گئی تھی وہ راس الکفر محمد بن عبد الوہاب نجدی ثابت ہوا ‘‘۔ (فتاوی اجملیہ ،ص215,216)
ظاہر ہے کہ جو ایسے گستاخوں کی حمایت کرے ان کی وفات پر تعزیت کرے ان کے جنازے میں شریک ہو انہیں مسلمان سمجھے وہ بھی انہی کی طرح ہوگا۔
سعودی خارجی ہیں
علماء دیوبند کو حنیف قریشی خارجی سمجھتے ہیں معاذ اللہ اسی لئے ان کو قتل کرنے پر دو جنتوں کی بشارت بھی دے رہے ہیں تو ان کے اکابر نے سعودیوں کو بھی خارجیوں میں شمار کیا ہے لہذا ان سعودیوں کو مارنے والوں کو بھی دو جنتیں ملنی چاہئیں ملاحظہ ہو:
فرقہ وہابیہ نجدیہ خارجیوں میں سے ہے ( فتاوی اجملیہ،ص217)
محمد بن عبد الوہاب کے کارنامے گناتے ہوئے لکھتے ہیں :
اس کا چھ صدی کے مسلمانو ں کو کافر ٹھرانا اور بہت کتابوں کو جلانا اور اس کا کثیر علماء اور عام و خاص لوگوں کا قتل کرانا اور ان کے خونوں اور مالوں کو مباح قرار دینا اور اللہ تعالی کیلئے جسم ظاہر کرنا اور ہمارے نبی اور تمام انبیاء و مرسلین اور اولیا علیہ و علیہم السلام کی توہین کرنا ۔ (فتاوی اجملیہ ،ص215)
ایک اور مقام پرلکھتے ہیں :
’’یہ فرقہ وہانیہ نجدیہ خوارج میں سے ہے تو اس کے ثبوت کے لئے علامہ شامی کا ردالمحتار میں لکھ دینا نہایت کافی ہے دلیل ہے ‘‘۔
(فتاوی اجملیہ،ص219)
نام نہاد طالبان کے متعلق ان کا یہی عقیدہ ہے کہ وہ ظالم ہیں اس لئے کہ ناحق مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں تو یہی عقیدہ سعودیوں کا بھی ہے اس لئے جو حکم طالبان کا ہونا چاہئے وہی ان سعودیوں کا بھی ہونا چاہئے جو فتوی طالبا ن کے حمایتیوں کیلئے ہو نا چاہئے وہی فتوی سعودی عرب کے حمایتیوں کیلئے بھی ہونا چاہئے ۔
تصویر کا دوسرا رخ
اب ملاحظہ فرمائیں چند دن پہلے بقول رضاخانی بریلویوں کے خارجی ظالم طالبان دہشت گرد قاتل گستاخ وہابی سربراہ شاہ عبد اللہ صاحب مرحوم کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور دیگر اعلی سرکاری حکام نے سعودی عرب جاکر شرکت کی ان کا نماز جنازہ پڑھا۔
(روزنامہ ایکسپریس ،نوائے وقت ،دنیا ،جنگ کا مین پیج 24 جنوری 2015)
غضب خدا کا خارجیوں کے جنازے میں شرکت دہشت گرد سربراہ کے جنازے میں شرکت !!! قریشی صاحب جوش خطابت کا اظہار کریں
آگے ملاحظہ ہو
آرمی چیف نے سعودی سفارت خانہ جاکر شاہ عبد اللہ کی وفات پر تعزیت کی اور اپنے تاثرات لکھے شاہ عبد اللہ کی وفات عالمی سانحہ ہے آرمی چیف۔
(29جنوری 2015،ایکسپریس،جنگ،نوائے وقت )
قریشی صاحب وقت امتحان ہے ڈرئے مت موت تو آنی ہے پھر حق کلمہ کہنے کی پاداش میں موت آجائے تو اس سے بہتر موت کیا ہوگی اس لئے ہمت کریں۔اب امید کرتے ہیں کہ قریشی صاحب جلد سے جلد خارجیوں کے ان حماتیوں کے خلاف بھی ایک بیان ریکارڈ کروائیں گے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو عوام سمجھ جائے کہ امریکی ڈالروں پر پلنے والے ان جمعراتی مولویوں کو پاک فوج پاکستان کی عوام کی نظروں میں علماء دیوبند کی عظمت ہضم نہیں ہورہی ہے اور وطن کی محبت نہیں بلکہ دل کا بغض ایسے بیانات کرنے پر ان کو ابھارتا ہے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔