سوموار، 6 جولائی، 2015

علمائے اہل السنہ والجماعۃ دیوبند پر وہابیت کا الزام اور اس کا جواب


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

علمائے اہل السنہ والجماعۃ دیوبند پر وہابیت کا الزام اور اس کا جواب

(یہ مضمون راقم الحروف کی کتا ب ’’دفاع اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ سے ماخوذ ہے جو بریلوی مولوی کاشف اقبال رضاخانی کی کتاب کے جواب میں ہے کاشف اقبال کے پیش کئے گئے ہر حوالے کا تفصیلی و مدلل جواب میری کتاب میں ملاحظہ فرمائیں یہاں صرف اس الزام کا اصولی و عمومی جواب دیا جارہا ہے)

مولانا ساجد خان نقشبندی


کاشف اقبال رضاخانی نے وہی گھسا پٹا اعتراض کیا ہے کہ ویوبندی وہابی ہیں ان کے بڑے خود کو وہابی کہتے رہے یہی اعتراض آج کل دیگر بریلوی رضاخانی مولویوں کی طرف سے بڑے شد و مد کے ساتھ کیا جارہا ہے اسلئے ہم اس اعتراض پر ذرا تفصیل سے بات کرنا چاہتے ہیں۔


دراصل ہندوستان کے اہل بدعت کی طرف سے وہابی کا لفظ اپنے مخالفین جن کو یہ لوگ بدمذہب اور بے دین سمجھتے ہیں کیلئے وضع کیا گیا ان کے نزدیک ہر متبع سنت اللہ کی توحیدنبی کریم ﷺ کی سنت اور بدعات و خرافات و رسوم جاہلیت سے منع کرنے والا ’’وہابی ‘‘ کہلاتا ہے ۔یہاں میں خو داہل بدعت کے گھر سے ایک حوالہ نقل کرتا ہوں جس سے کافی حد تک وضاحت ہوجائے گی کہ ان کے نزدیک وہابی کسے کہا جاتا ہے :
اہل بدعت کے سرخیل مولوی احمد رضاخان بریلوی سے سوال کیا گیا :
’’بخدمت جناب مجدد ہند مولوی صاحب احمدرضاخان صاحب بعد تسلیم کے گزارش حال یہ ہے کہ آپ کے نام پیر ڈلیہ سے فتوی لکھا ہے وہ شخص مولوی اشرف کاپیرو ہے اور یہاں پر چور سو مکان سنت و جماعت کے ہیں اونکو مولوی اشرف علی کے سپرد کرنا چاہتا ہے یعنی ہمارے پر دستور ہے کہ شادی میں نکاح کے وقت تاشہ بجایا کرتے ہیں اوس کا سبب یہ ہے کہ غیر مقلد ہمار ی جماعت میں نہ آنے پائیں مگر یہ شخص اشرف علی کے پیرو ہوکر تاشہ بجانا منع کرتا ہے اور جس شے میں گناہ نہ ہو اوسکو بھی منع کرتا ہے اس واسطے آپ اسحاق اللہ کے نام پر لکھنا تاکہ ہم ان شیطانوں کے پھندوں سے بچیں اگرچہ یہاں پر تاشہ بجنا بند ہوجائے تو ہم کو مذہب سے پھر جانے کا خوف ہے‘‘ ۔
مولوی احمد رضاخان بریلوی نے اس کا جو جواب دیا اس کا ایک جز کافی دلچسپ ہے جو ہم یہاں نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں :
’’ناجائز بات کو اگر کوئی بدمذہب یاکافر منع کرے تو اوسے جائز نہیں کہا جاسکتا کل کو کوئی وہابی ناچ کو منع کرے تو کیا اوسے بھی جائز کردینا ہوگا ؟‘‘۔
(فتاوی رضویہ قدیم ،ج10حصہ دوم ،ص65،دارالعلوم امجدیہ کراچی)
اس سے اہل بدعت کی سوچ سامنے آجاتی ہے کہ چونکہ تاشہ (تغاری یا تشلہ کی شکل کاکھال منڈھا ہوا چھوٹا باجا جو گلے میں ڈال کر دو پتلی لکڑیوں سے بجایا جاتا ہے اس کی آواز ڈھول سے زیادہ تیز مگر کم گونجدا رہوتی ہے ۔اردو لغت) ناچ گانے سے منع کرنے والا ایک وہابی ہے اس لئے آپ اسے بجانے کی اجازت ہمیں دیں ورنہ ہمارا سارا محلہ وہابی ہوجائے گا معاذ اللہ۔
اب ہمارے اکابر نے جہاں اپنے لئے وہابی کا لفظ استعمال کیا تو اسے اہل بدعت کے مقابلے میں انہی معنوں میں اپنے لئے استعمال کیا کہ چونکہ رسوم و رواج سے منع کر نے والے کو یہ لوگ وہابی سمجھتے ہیں اس لئے ہم وہابی ہی صحیح۔چنانچہ فخر المحدثین مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ہندوستان میں لفظ وہابی کا استعمال اس شخص کیلئے تھا جو آئمہ رضی اللہ عنہم کی تقلید چھوڑبیٹھے پھر ایسی وسعت ہوئی کہ یہ لفظ ان پر بولاجانے لگاس جو سنت محمدیہ پر عمل کریں اور بدعات سیۂ و رسول قبیحہ کو چھوڑ دیں یہاں تک ہواکہ بمبئی اور اس کے نواح میں یہ مشہور ہے کہ جو مولوی اولیاء کی قبروں کو سجدہ اور طواف کرنے سے منع کرے وہ وہابی ہے بلکہ جو سود کی حرمت ظاہرے کرے وہ بھی وہابی ہے گو کتنا ہی بڑا مسلمان کیوں نہ ہو ‘‘۔ ( المہند ،ص31,32)
فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
’’اس وقت اور ان اطراف میں وہابی متبع سنت اور دیندار کو کہتے ہیں ‘‘۔ ( فتاوی رشیدیہ،ج1،ص282)
حکیم الامت مجد د دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اہل ھوآء کے نزدیک اسی لفظ ’’وہابی ‘‘ کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک مرتبہ حیدر آباد دکن میں ایک شخص وہابیت کے الزام میں پکڑا گیا اور دلیل یہ بیان کی گئی کہ تم کو جب دیکھو مسجد سے نکلتے ہوئے جب دیکھو قرآن پڑھتے ہوئے جب دیکھو نماز پڑھتے ہوئے ایک اور ان کے خیر خواہ شخص نے کہا کہ نہیں یہ وہابی نہیں ہیں میں نے انکو فلاں رنڈی کے مجرے میں دیکھا تھا فلاں جگہ قوالی میں دیکھا فلاں قبر کو سجدہ کرتے دیکھا تب بیچارے چھوڑے گئے اور جان بچی ‘‘۔ (ملفوظات ،ج3،ص101،ملفوظ نمبر 168)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
’’میں کہا کرتا ہوں کہ بدعتیوں میں دین نہیں ہوتا اور دین کی باتوں کو وہابیت کہتے ہیں‘‘ ۔
( ملفوظات ،ج4،ص123، ملفوظ نمبر 178)
ظاہر ہے کہ اگر وہابیت اس کا نام ہے تو ہمیں اس وہابیت پر فخر ہے البتہ اگر وہابیت سے مراد محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکار مراد لئے جائیں یا غیر مقلدین جیساکہ ہمارے ہاں اب جماعت اسلامی اور غیر مقلدین اہل حدیث کو وہابی کہا جاتا ہے بلکہ ہمارے پشاور و افغانستان کے علاقوں میں تو ان کو ان کے ان ناموں سے کوئی نہیں جانتا ہے انہیں ان دیار میں وہابی ہی کہاجاتا ہے تو اس معنی میں ہمارے اکابر نے اپنے وہابیت کا انکار پہلے بھی کیا اور اب بھی ہم کرتے ہیں ۔آج کل ہمارے دیار میں وہابی ان کو کہا جاتا ہے جو:
(۱)تصوف اور بیعت طریقت اور اسکے اشغال ذکر مراقبہ توجہ کے سخت مخالف و منکر ہیں جبکہ الحمد للہ علمائے دیوبند ان پر کاربند ہیں۔
(۲)تقلید شخصی کے مخالف ہیں مگر ہمارے اکابر اسے واجب کہتے ہیں اور خو د سراج الآئمہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں ۔
(۳)توسل کے منکر ہیں ہم قائل ہیں ۔
(۴)بزرگان دین و محترم شخصیات سے تبرکات کے منکرہم قائل۔
(۵)حیات النبی ﷺ کے منکر ہیں جبکہ ہم زور و شور سے اس کے قائل ہیں اب تک اس عقیدے کے ثبوت پر ہمارے علماء کئی مناظرے کرچکے ہیں۔
(۶)روضہ مبارک ﷺ کیلئے سفر کو ممنوع قرار دیتے ہیں جبکہ ہم اسے افضل المستحبات جانتے ہیں۔
(۷)نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک کے سامنے سلام و تشفع کے منکر ہیں ہم اس کے قائل ہیں ۔
غرض اس معنی میں ہمیں ’’وہابی ‘‘ کہنا یا سمجھنا تہمت صریح و کذب بیانی ہے اور ہمارے اکابر نے بھی اس معنی میں خود پر وہابیت کی تہمت کی سختی سے تردید کی ہے چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کتنے غضب اور ظلم کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں کو بدنام کرتے ہیں اور وہابی کے لقب سے یاد کرتے ہیں ہمارے قریب میں ایک قصبہ ہے جلال آباد وہاں پر ایک جبہ شریف ہے جو حضور ﷺ کی طرف منسوب ہے اس کی زیار ت حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا شیخ محمد صاحب کیا کرتے تھے اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق میرے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ اگر منکرات سے خالی وقت میں زیارت میسر آنا ممکن ہو تو ہرگز دریغ نہ کریں بتلائے یہ باتیں وہابیت کی ہیں ان بدعتیوں میں دین تو ہوتا نہیں جس طرح جی میں آتا ہے جسکو چاہتے ہیں بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں خود تو بد دین دوسروں کو بد دین بتلاتے ہیں‘‘ ۔ ( ملفوظات ،ج4،ص32،ملفوظ 55)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
’’ایک جماعت ہے جو ہم لوگوں کو وہابی کہتی ہے لیکن ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آئی کہ ہمیں کس مناسبت سے وہابی کہتے ہیں کیونکہ وہابی وہ لوگ ہیں کو ابن عبد الوہاب کی اولاد میں سے ہیں یاوہ لوگ ہیں جو اس کا اتباع کرتے ہیں ابن عبد الوہاب کے حالات کتابوں میں موجود ہیں ہر شخص ان کو دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ وہ نہ اتباع کی رو سے ہمارے بزرگوں میں ہیں نہ نسبت کی رو سے البتہ آج کل جن لوگوں نے تقلید چھوڑ کر غیر مقلدی اختیار کرلی ان کو ایک اعتبار سے وہابی کہنا درست ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے اکثر خیالات ابن عبد الوہاب سے ملتے ہیں ہم لوگ حنفی ہیں کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اصول چار ہیں کتاب اللہ حدیث رسول اجماع امت اور قیاس مجتہد سوا ان چار کے اور کوئی اصل نہیں اور مجتہد بہت سے ہیں لیکن اجماع امت سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ چار امام یعنی امام ابو حنیفہ امام شافعی امام احمد بن حنبل اور امام مالک رحمھم اللہ کے مذاہب سے باہر ہوجانا جائز نہیں نیز یہ بھی ثابت ہے کہ ان چاروں میں جس کا مذہب رائج ہو اس کا اتباع کرنا چاہئے تو چونکہ ہندوستان میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب رائج ہے اس لئے ہم انہیں کا اتباع کرتے ہیں ہم کو جولوگ وہابی کہتے ہیں قیامت میں اس بہتان کی ان سے باز پرس ضرور ہوگی ‘‘۔( اشرف الجواب )
خود رضاخانیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ وہابی اصل اور آج کل کے عرف کے اعتبار سے غیر مقلدین کو کہا جاتا ہے چنانچہ بریلوی مناظر مفتی حنیف قریشی کہتا ہے :
’’اہل حدیث جماعت پر لفظ وہابی کا عمومی اطلا ق ہوتا ہے‘‘ ۔ ( مناظرہ گستاخ کون ،ص65)
بریلوی حکیم الامت مولوی منظور اوجھیانوی المعروف احمد یار گجراتی صاحب اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہابی غیر مقلدین کو کہا جاتا ہے چنانچہ لکھتا ہے :
’’اسمعیل کے معتقدین دو گروہ بنے ایک تو وہ جنہوں نے اماموں کی تقلید کا انکار کیا جو غیر مقلد یا وہابی کہلاتے ہیں‘‘۔
(جاء الحق ،ص13)
خود کاشف اقبال رضاخانی نے جب اہل السنۃ والجماعۃ کے خلاف کتاب لکھی تو اس کا نام دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف رکھا اور جب غیر مقلدین کے خلاف کتاب لکھی تو اس کانام وہابیت کے بطلان کا انکشاف لکھا سوال یہ ہے کہ اگر یہ دونوں ایک ہی ہیں تو دو الگ الگ ناموں سے دو مختلف کتابیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
مفتی حنیف قریشی ایک اور مقام پر کہتا ہے :
’’آپ کے سرخیل مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کتاب فتاوی ثنائیہ جلد اول ص99پر لکھتے ہیں : یہ بات وہابیت کی تاریخ میں واضح طور پر موجود ہے کہ وہابی کی اصطلاح کا عموم اطلاق جماعت اہل حدیث پر ہوتا ہے‘‘ ۔ ( مناظرہ گستاخ کون ،ص64)
اپنے گھر کی خبر لو
بریلوی جامع المعقول والمنقول غلام محمد پپلانوی لکھتے ہیں :
’’وہابی دو قسم کے پائے جاتے ہیں ایک مسلمان وہابی دوم منافق وہابی‘‘ ۔(نجم الرحمان ،ص36)
بریلوی شمس الاسلام مولانا معین الدین اجمیری مرحوم لکھتے ہیں :
’’اعلی حضر ت نے ایک دنیا کو وہابی کر ڈالا ایسا بد نصیب کون ہے جس پر آپ کا خنجر وہابیت نہ چلا ہو وہ اعلی حضرت جو بات بات میں وہابی بنانے کے عادی ہوں وہ اعلی حضرت جنکی تصانیف کی علت غائیہ وہابیت جنہوں نے اکثر علماء اہل سنت کو وہابی بناکر عوام کالانعام کو ان سے بدظن کرادیا جن کے اتباع کی پہچان کہ وہ وعظ میں اہل حق سنیوں کو وہابی کہہ کر گالیوں کو مینہ برسائیں جنہوں نے وہابیت کے حیلہ سے علماء ربانیین کی جڑ کاٹنے میں وہ مساعی جمیلہ کیں کہ جن کا خطرہ حسن بن صباح جیسے مدعی امامت و نبوت کے دل میں بھی نہ گذراہوگا اور جن کے فتنہ و فساد کے سامنے حسن بن صباح کے خدائی بھی گرد ہوں اگر حسن بن صباح زندہ ہوکر آجاوے تو اس کو اعلی حضرت کے کمالات کے بالمقابل سوائے زانوائے ادب نہ کرنے کے چارہ کا ر نہو غرض ایسی مقتد جماعت کا پیشوا جنکی زبانیں سوائے وہابی اور وہبڑے اور لہبڑے کے دوسرے الفاظ سے اثناء وعظ میں آشنا ہی نہیں ہوتیں اگر درپردہ وہابی ثابت ہوجاوے تو پھر تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی خلقت کہتی ہے وہ اعلی حضرت جو اپنے آپ کووہابی کش ظاہر فرماتے ہیں بالآخر خودوہابی ثابت ہوئے اور اس طرح وہ وہابی کش کے درحقیقت خود کش ہیں خلقت اپنے اس جزمی دعوے کے ثبوت میں اعلی حضرت کے چند اقوال پیش کرتی ہے‘‘ ۔
(تجلیات انوار المعین ،ص42)
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں پہلی بات تو یہ کہ احمد رضاخان نے کئی سنی علماء کو وہابی بنا ڈالا دوسرا احمد رضاخان بریلوی خود بہت بڑا وہابی تھا اور یہ بات پوری خلقت میں مشہور تھی۔
بریلوی وہابی کس کو کہتے ہیں
مولانا معین الدین اجمیری صاحب لکھتے ہیں :
’’خلقت کہتی ہے کہ اعلحضرت صر ف وہابی ہی نہیں بلکہ ان کے سرتاج ہیں لیکن ہم کو خلقت کے اس خیال سے اتفاق نہیں اصل یہ ہے کہ وہابیت کے مفہوم سمجھنے میں خلقت نے غلطی کی وہ وہابی اس کو سمجھتی ہے جو اکابر کی شان میں گستاخی اور آئمہ کے دائرہ اتبا ع سے خارج ہوا اور اعلی حضرت صرف اس کو وہابی کہتے ہیں جو ان کے مجددیت کا منکر ہو پھر وہ خواہ خلقت کے نزدیک کیسا ہی زبردست سنی ہو لیکن اعلی حضر ت کے نزدیک وہابی ہے اور جو حضرت کی تجدید کا اعتراف کرے پھر وہ وہابی ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اعلی درجہ کا سنی ہے‘‘ ۔
(تجلیات انوار المعین ،ص44)
اس سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں :
(۱) ہندوستان میں عام خلقت کا تاثر یہی تھا کہ احمد رضاخان نہ صر ف خود وہابی ہیں بلکہ وہابیوں کے سرتاج ہیں ۔
(۲)یہ تاثر اس لئے تھا کہ احمد رضاخان اکابر کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والا اور آئمہ کے دائرہ اتباع سے خارج ہونے والا تھا۔
(۳)حضرت مولانا معین الدین صاحب کا تجزیہ یہ ہے کہ اعلی حضرت اور ان کے ماننے والوں کے نزدیک جو احمد رضاخان کو مجدد نہ مانے ان کی بزرگی کا قائل نہ ہو تو وہ خواہ کتنا ہی پکا سنی ہو ان کے مذہب میں وہ وہابی ہے۔ اور ایک شخص کتنا ہی بڑا وہابی کیوں نہ ہو مگر احمد رضاخان کو مجدد مانتا ہو تو ان کے نزدیک سنی ہے۔
ہم پر رضاخانیوں کی طرف سے وہابیت کا الزام بھی صرف اسی وجہ سے ہے کہ ہم احمد رضاخان بریلوی کی بزرگی کے قائل نہیں اور ہمارے بزرگوں نے بھی جو بعض مقامات پر اہل بدعت کے مقابلے میں خود کو ہابی کہا تو وہ اس بناء پر کہ وہ خود کو احمد رضاخان کا نہ تو متبع مانتے ہیں اور نہ اس کے دعوی مجددیت کی حمایت کرتے ہیں۔
احمد رضاخان کے نزدیک وہابی ہمارے اپنے ہیں
بریلوی محقق دوراں رائیس القلم سید عبد الکریم سید علی ہاشمی لکھتا ہے :
’’اگرچہ احمدرضاخان سید احمدزینی دحلان کے شاگرد اور مرید تھے آپ نے ہندی وہابیوں کی سرکوبی کیلئے اسی شدت سے کام نہیں لیا جو علمائے حرمین کا طریقہ تھا کیوں کہ وہ لوگ وہابیوں کو غیر سمجھتے تھے اور احمد رضا یہاں کے وہابیوں کو غیر نہیں سمجھتے تھے بلکہ سنیوں کی اولاد سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ وعظ و پند سے وہ سدھر جائیں گے‘‘ ۔
( المیزان کا امام احمد رضا نمبر ،ص614)
وہابیوں کا مذہب صوفیا ء کا مذہب ہے
بریلوی فرید ملت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن فرماتے ہیں :
’’آپ نے فرمایا کہ بے شک اسی طرح ہے وہابی نہ صحابہ کرام کو برا کہتے ہیں نہ ولایت سے انکار کرتے ہیں ۔۔۔ اس کے بعد فرمایا کہ تو حید کے بارے میں وہابیوں کے عقائد صوفیاء کرام سے ملتے جلتے ہیں وہابی کہتے ہیں کہ انبیاء اور اولیاء سے مدد مانگنا شرک ہے بے شک غیر خدا سے امداد مانگنا شرک ہے توحید یہ ہے کہ خاص حق تعالی سے مدد طلب کرے چنانچہ ایاک نعبد و ایا ک نستعین ( ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ہیں )کا مطلب یہی ہے ‘‘۔( مقابیس المجالس ،ص797)
علماء حق پر وہابیت کی تہمت کس نے لگائی
خرم ملک فاروق ملک صاحبان لکھتے ہیں :
’’پنجاب یوپی اور دوسرے تمام صوبوں سے مسلم مجاہد ین تواترسے آرہے تھے اب سکھوں نے مذہبی حربہ استعمال کیا انہوں نے سید احمد شہید کو وہابی مشہور کیا او عام مسلمانوں کو بھڑکا دیا کہ آپ صحیح اسلامی عقائد کے حامل نہیں سرحد اور پنجاب میں سید صاحب کے مذہبی نظریات کے خلاف شدید ردعمل شروع ہوا فتوے جاری ہونے لگے اور سید صاحب کی سیاسی قوت کوشدید دھچکا لگا‘‘۔
(مطالعہ پاکستان رائج ڈگری کلاسز صدارتی ایوارڈ اعزاز فضیلت ،خرم بکس اردو بازار لاہور ،ص54)
تو کاشف اقبال رضاخانی صاحب آپ بھی تو کہیں ان سکھوں کی روحانی اولاد نہیں جو آباء معنوی کی پیروی میں علمائے حق پر وہابیت کی تہمت لگارہے ہیں ؟ اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند پر وہابیت کا الزام سب سے پہلے احمد رضاخان بریلوی نے لگایا چنانچہ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق لکھتے ہیں :
’’اسی وجہ سے اہل عرب خصوصا اس کے اور اس کے اتباع سے دلی بغض تھا اور ہے اور اس قدر ہے کہ اتنا قوم یہود سے ہے نہ نصاری سے نہ مجوس سے نہ ہنود سے غرض کہ وجوہات مذکورۃ الصدر کی وجہ سے ان کو اس کے طائفہ سے اعلی درجہ کی عدوات ہے اور بے شک جب اس نے ایسی ایسی تکالیف دی ہیں تو ضرور ہونا بھی چاہئے وہ لوگ یہود و نصاری سے اس قدر رنج و عدوات نہیں رکھتے جتنی کہ وہابیہ سے رکھتے ہیں چونکہ مجدد المضلین اور اس کے اتباع کو اہل عرب کی نظروں میں خصوصا اور اہل ہند کی نگاہوں میں عموما ان کے بہی خواہ اور دوسروں کو ان کا دشمن دین کا مخالف ظاہر کرنا مقصود ہونا ہے اس لئے اس لقب سے بڑھ کر ان کو کوئی لقب اچھا معلوم نہیں ہوتا جہاں کسی کو متبع شریعت و تابع سنت پایا چٹ وہابی کہہ دیا تاکہ لوگ متنفر ہوجائیں اور ان لوگوں کے مصالح اور تر لقموں میں جو طرح طرح کے مکاریوں سے حاصل ہوتی ہیں فرق نہ پڑے ۔صاحبوا ! شراب پیو داڑھی منڈواؤ گور پرستی کرو نذر لغیر اللہ مانو زناکاری اغلام بازی ترک جماعت و صوم و صلاۃ جو کچھ کرو یہ سب علامات اہل السنت والجماعت ہونے کی ہو اور اتباع شریعت صورۃ و عملا جسکو حاصل ہو و ہوہابی ہوجائے گا مشہور ہے کہ کسی نواب صاحب نے کسی اپنے ہم نشین سے کہا کہ میں نے سناہے تم وہابی ہو انہوں نے جواب دیا حضور میں تو داڑھی منڈاتا ہو ں میں کیسے وہابی ہوسکتا ہوں میں تو خالص سنی ہوں دیکھئے علامت سنی کی داڑھی منڈانا ہوگیا دجال المجددین نے اس رسالہ میں اس غرض خاص سے ان اکابر کو وہابی کہا تا کہ اہل عرب دیکھتے ہی غیظ و غضب میں آکر تلملا جائیں اور بلا پوچھے گچھے بغیر تامل تکفیر کا فتوی دے دیویں اور پھر لفظ وہابیت کو متعدد جگہوں میں مختلف عنوانوں سے الفاظ خبیث سے یاد کیا حالانکہ عقائد وہابیہ اور ان اکابر کے معتقدات و اعمال میں زمین و آسمان بلکہ اس سے زائد کا فرق ہے ‘‘۔( الشہاب الثاقب ،ص184,185)
وہابیت کا ایک خوفناک تصور
بریلوی مجاوروں پیشہ ور واعظوں اور علماء سو کو چونکہ علم ہے کہ ان کی عوام جب تک جاہل رہے گی ان کے نذرانے چلتے رہیں گے اسی لئے جہاں انہوں نے عوام کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ ہر متبع سنت اور بدعات و شرک سے منع کرنے والا وہابی ہے ۔ان کے ذہنوں میں وہابیت کا ایسا خوفناک تصور بٹھایا ہوا ہے کہ کوئی شخص وہابیت کے اس تصور کے بعد ان کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔مولاا بو الکلام آزاد بھی اسی ماحول میں پلے بڑھے اپنے والد مولانا خیر الدین دہلوی جن کا شمار بریلوی اکابر میں ہوتا ہے کی تربیت کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر اور مریدین کے درمیان وہابیت کا کیا تصور قائم کیا ہوا تھا :
’’ہمیں اس وقت یقین تھا کہ وہابی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اول تو نبی ﷺ کی فضیلت کے قائل ہی نہیں اگر قائل ہیں بھی تو صرف اتنے جیسے چھوٹے بھائی کیلئے بڑا بھائی معجزات کے بھی منکر ہیں ختم نبو ت کے بھی قائل نہیں آنحضرت ﷺ سے ان کو تو ایک خاص بغض ہے ۔ جہاں کوئی بات ان کی فضیلت و منقبت کی آئی اور انہیں مرچیں لگیں مجلس میلاد کے اس لئے منکر ہیں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ۔درود پڑھنے کو بھی برا جانتے ہیں کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ مت کہو کیونکہ رسول اللہ کی یا د انہیں کیوں پسند آنے لگی جہاں کوئی بات رسول کی فضیلت اولیاء اللہ کی منقبت بزرگان دین کی بزرگی کی کہی جائے یا کی جائے فورا اسے شرک و بدعت کہہ دیتے ہیں اس لئے کہ انہیں ان سب سے بغض و کینہ ہے اور ان کی توہین و تذلیل ان کو خوش آتی ہے بحیثیت مجموعی وہابیوں کے بدترین خلائق ہونے کافر ہونے کافروں میں بھی بدترین قسم کے کافر ہونے میں کسی ردو کد کی ضرور ت نہیں سمجھی جاتی تھی وہابیت کے متعلق یہ فضا تھی جس میں میں نے پرورش پائی‘‘۔
( آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ،ص279,278)
ظاہر ہے کہ وہابیت کے اس مکروہ تصور کو ادنی سے ادنی مسلمان بھی اپنے لئے قابل قبول تصور نہیں ہوسکتا۔اہل بدعت کی اسی سوچ اور تصور کے مقابلے میں علمائے اہل السنت والجماعت نے خود پر وہابیت کے الزام جس سے مقصود درپردہ اس قسم کے مکروہ عقائد کی نسبت تھی ہمیشہ سے سخت تردید کی اور ہم اب بھی کرتے ہیں۔
الحمد للہ یہاں تک تو ہم نے کھل کر وضاحت کردی کہ ہماری طرف وہابیت کی نسبت محض افتراء اور غلط ہے ہم اہل السنت والجماعت اور فروع میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں ہمارے اکابر نے اگر بعض مقامات پر خود کو وہابی کہا ہے تو وہ بھی بطور طنزا تعریضا ایسا کہا اس کے ہر گز یہ معنی نہ تھے نہ ہیں کہ معروف معنی میں بھی وہ وہابی ہیں معاذ اللہ۔دیکھیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک معروف شعر ہے :
ان کا ن رفضا حب آل محمد فلیشھد الثقلان انی رافضی
اگر آل محمد کی محبت رافضیت ہے تو اے جن و انس گواہ رہو میں رافضی ہوں
اب کوئی اس شعر کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ رافضی تھے حالانکہ وہ اپنی رافضیت پر گواہ بھی قائم کررہے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ امام صاحب تو تعریضا ایک بات کہہ رہے ہیں کہ اگر تم نے اہل بیت سے محبت کو رافضیت کا نام دے دیا ہے تو ٹھیک ہے مجھے رافضی سمجھو مگر اہل بیت کی محبت نہیں چھوڑ سکتا۔یہی ہمارے اکابر کا مقصود تھا کہ اگر تم نے سنت کی دعوت بدعات رسومات و خرافات سے منع کرنے کو ’’وہابیت ‘‘ سمجھ لیا ہے تو ہم وہابی ہی سہی مگر دعوت توحید و سنت نہیں چھوڑ سکتے۔
بریلوی علماء کا اقرار کے دیوبندی وہابیت کے مخالف ہیں
مولوی غلام مہر علی لکھتا ہے :
’’اگر وہابیوں کو برا کہنا ہی پیٹ پرستی ہے اور دنیا پرستی کی دلیل ہے تو پھر فیروز الدین صاحب کے سب اکابر دیوبندی مولوی بھی حرام خور ثابت ہوں گے‘‘۔ ( دیوبندی مذہب ،ص137)
ظاہر ہے کہ یہ حرام خوری اسی صورت میں ثابت ہوسکتی ہے جب اکابر دیوبند نے وہابیوں کو برا بھلا کہا ہو۔
مولون حسن علی رضوی آف میلسی لکھتا ہے :
’’علاوہ ازیں جس طرح علماء اہلسنت کو علماء نجد کے ساتھ اعتقادی اختلافات ہیں اسی طرح علماء دیوبند کو بھی علماء نجد ومحمد بن عبد الوہاب سے شدید اختلا ف و نفرت ہے لہذا اگر علماء اہلسنت کا نجدی سعودی مکتب فکر سے اختلاف کوئی گناہ ہے تو خود اکابر علماء دیوبند بھی اس گناہ کے مرتکب ہیں ۔۔۔علماء دیوبند علماء نجد کے ساتھ اپنے اکابر دیوبند کا شدید اختلاف و نفرت ملاحظہ کریں‘‘ ۔
(رضائے مصطفی ،جمادی الاخری 1407ھ،ص2,3)
جب پاکستان میں اپنے لوگوں سے نذرانے وصول کرنے ہوں تو دیوبندی وہابی بن جاتے ہیں اور جب سعودی عرب کو مشترکہ طور پر گالیاں دینے کا موقع تلاش کرنا ہو تو دیوبندی وہابیوں کے شدید مخالف بن جاتے ہیں عجیب منافقت ہے۔
www.FaceBook.com/RazaKhaniFitna

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔