منگل، 21 جولائی، 2015

بہشتی زیور کے ایک وظیفہ پر غیر مقلدین و رضاخانیوں کے اعتراض کا منہ توڑ جواب


بہشتی زیور کے ایک وظیفہ پر غیر مقلدین و رضاخانیوں
کے اعتراض کا منہ توڑ جواب
مولانا ساجد خان نقشبندی
اعتراض : بہشتی زیور میں مولانا اشر ف علی تھانوی صاحب نے لکھا یہ آیت ایک پرچہ پر لکھ کر پاک کپڑے میں لپیٹ کر عورت کے بائیں ران میں باندھے یا شیرینی پر پڑھ کر اس کو کھلاوے انشاء اللہ تعالی بچہ آسانی سے پیدا ہوگا آیت اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْ وَ اِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَ تَخَلَّتْ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَ حُقَّتْ ۔ ( بہشتی زیور ،ص۶۴۲ حصہ نہم)
جواب :


 
اس سلسلے میں ایک اصولی بات یاد رکھیں کہ عورت کی زندگی میں وضع حمل سب سے دشوار ترین و تکلیف دہ عمل ہوتا ہے بعض اوقات تو اس کی شدت و تکلیف سے عورت کی جان بھی چلی جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ میں ہے خود راقم جس مسجد میں خدمات سرانجام دے رہا ہے اس علاقے میں پچھلے سال ایک عورت بچے کی ولادت کے دوران شہید ہوئی اور اگلے دن نومولود بھی وفات پاگیا اسی طرح راقم کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کہ میری گھر والی کو سات (۷) ماہ کا حمل تھا ایک دم سے طبعیت خراب ہوئی ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن کرکے بچے کو زندہ نکالا جاسکتا ہے مگر ماں کے مرجانے کا قوی امکان ہے اس لئے اگر ماں کو بچانا ہے تو بچہ ضائع کرنا ہوگا جس پر میں نے کہا اللہ اولاد اور دے دیگا اور بچہ ضائع کرنا پڑا۔ غرض یہ دو واقعات تو خود اس راقم کے مشاہدے میں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت اس وقت موت و حیات کی کیفیت میں ہوتی ہے لہذا یہ حالت ’’حالت اضطراری ‘‘پر محمول کی جائے گی اور حالت اضطراری میں بہت ممنوع بلکہ حرام قطعی بھی مخصوص وقت کیلئے جائز ہوجاتی ہیں، ایسی حالت میں تو خنزیر کھانے اور شراب پینے تک کی بھی گنجائش ہے چنانچہ یہ وظیفہ بھی اسی حالت پر محمول ہے پھر اس میں گستاخی تب ہوتی جب اس کی ناپاکی میں تلوث ہونے کا خوف ہوتا جبکہ اسے کپڑے میں لپیٹ کر باندھنے کی تاکید کی جارہی ہے بہرحال چونکہ یہ حالت ایک اضطراری حالت ہے اس لئے اگر ماہر باشرع عالم دین اس کی اجازت دے دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور حضرت حکیم الامت مولاناشرف علی صاحب تھانویؒ کے علم و تقوی میں بھلا کیا شک و شبہ ہوسکتاہے؟۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے :
اِذَا عُسِرَ عَلَی الْمَرْاأۃِ وِلَادَتُھَا خُذْ اِنآءً نَظِیْفاً فَاکْتُبْ عَلَیْہٖ کَأَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ (الاحقاف ۳۵) اِلَی آخِرِ الآیَۃِ وَ کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَھَا لَمْ یَلْبَسُوْا (النازعات ۴۶)اِلَی آخِرِالآیَۃِ لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃ’‘ لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ (یوسف ۱۱۱)اِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ یُغْسَلُ وَ تُسْقَی الْمَرْاَۃُمِنْہُ وَ یُنْضَحُ عَلَی بَطْنِھَا وَ فِیْ وَجْھِھَا
(کنز العمال ،ج10،ص27،رقم الحدیث 28377، کتاب الطب الباب الثانی ، تعسیر الولادۃ، ادارہ تالیفات اشرفیہ لاہور)
جب کسی عورت پر بچہ جننے میں سختی ہو تو ایک صاحب برتن لیکر اس پر کانھم یوم یرون ما یوعدون آخر آیت تک ( سورۃ الاحقاف آیت ۳۵)اور کانھم یو یرونھا آخر تک (سورۃ النازعات ۴۶)اور لقد کان فی قصصھم آخر آیت تک (سورہ یوسف ۱۱۱)لکھ لے پھر اس میں پانی ڈال کر گھول لے اور وہ پانی عورت کو پلائے اور اس کے پیٹ اور چہرے پر چھڑکے ۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے توقرآن کی آیت کو کپڑے میں لپیٹنے کا قول کیا تھا یہاں تو قرآن کی آیات کو چھڑکنے کا قول وہ بھی صحابی رسول ﷺ سے نقل کیا جا رہا ہے اس پر بھی کسی کو کوئی فتوی لگانے کی جرات ہوگی ؟
خود معترضین نے اس وظیفہ کو جائز لکھا
غیر مقلدین کا حوالہ
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
’’برائے درد زہ
’’جس عورت کو درد زہ ہوا سکے کیلئے ایک پرچہ کاغذ پر یہ آیت لکھے والقت ما فیھا او تخلت و اذنت لربھا و حقت اھیا اشراھیا اور اس پرچہ کو پاک کپڑے میں لپیٹے اور اس عورت کی بائیں ران میں باندھے تو وہ جلد جنے گی‘‘۔
(الدآء والدوآء ،ص125،مکتبۃ التوحید دہلی )
اب انصاف و دیانت کا تقاضہ یہی ہے کہ نواب صاحب پر بھی فتوی لگایا جائے اگر غیر مقلدین حضرات اس کے جواب میں کہیں کہ ہم نواب صاحب کے مقلد نہیں تو ہم نے بھی آپ کو ان کی تقلید کی دعوت نہیں دی ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح آپ حضرت حکیم الامت ؒ کے مقلد نہیں ہیں مگر انہیں فتووں سے نواز ا اسی طرح آئیندہ جب بھی کسی جلسہ کسی کتاب میں اس وظیفہ پر فتوی لگائیں تو ساتھ ہی نواب صاحب کی اس کتاب کا حوالہ دے کر انہیں بھی انہی فتووں سے نوازیں تاکہ پوری دنیا پر آپ کی دیانت و انصاف پسندی واضح ہوجائے ۔
رضاخانی حضرات
بریلوی مناظر اعظم نظام الدین ملتانی لکھتے ہیں :
’’دردزہ کیلئے
اس آیت کریمہ کو لکھ کر پارچہ میں لپیٹ کر اس کی بائیں ران پر باندھنے سے انشاء اللہ تعالی لڑکا بہت جلد اور آسانی سے پیدا ہوگا والقت مافیھا و تخلت و اذنت لربھا و حقت اھبا و اشراھیا ‘‘۔
(فتاوی انوار شریعت ،ج۲،ص۴۳۹،سنی دارالاشاعت فیصل آباد)
اس فتوے کو بریلوی مفتی غلام سرور قادری استاذ الحدیث والتفسیر جامعہ رضویہ لاہور کے حاشیہ کے ساتھ ’’فتاوی نظامیہ ‘‘ کے نام سے اشاعت القرآن پبلی کیشنز لاہور کی طرف سے شائع کیا گیا مگر اس میں سے اس وظیفہ کو نکال دیا گیا ہے ،
شرم ۔۔۔شرم ۔۔۔شرم۔۔۔
بریلوی کتب میں تحریفات پر راقم کا لاجواب قسط وار مضمون ’’بریلوی علماء یہود کے نقش قدم پر ‘‘مجلہ نورسنت کراچی میں ملاحظہ فرمائیں ۔
ایک نظر ادھر بھی
یہی نواب صدیق حسن خان صاحب احتلام روکنے کا وظیفہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :
اگر داہنی ران پر آدم اور بائیں ران پر حواء لکھے گا تو یہی احتلام سے بچا رہے گا‘‘۔
(الداء والدواء ،ص۱۷۹)
استغفر اللہ ! کسی غیر مقلد میں دم ہے کہ اس وظیفہ پر بھی کوئی فتوی لگائے ؟
جمعیت علماء پاکستان کے صدر صاحبزاد ابو الخبیرز بیر حیدر آبادی کے متعلق بریلوی شیخ الحدیث نعیمیہ کراچی غلام رسول سعیدی لکھتا ہے :
’’اعضاء کی پیوند کاری کے جواز کو ثابت کرنے کیلئے صاحبزادہ صاحب نے فقہ کے اس جزئیہ سے بھی استدلا ل کیا ہے کہ جس شخص کو نکسیر آئے اور خون بند نہ ہوتا ہو تو وہ اپنے خون سے اپنی پیشانی پر قرآن کریم سے کچھ لکھ سکتا ہے اگر پیشاب سے لکھنے میں شفاء ہوتو اس سے بھی لکھ سکتا ہے چنانچہ اپنے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
شریعت اسلامیہ میں انسانی جان کی قدر و قیمت اور کس قدر اس کو اہمیت حاصل ہے ۔۔ ؟ اس کا اندازہ اس سے لگائے کہ کلام اللہ یعنی قرآن پاک کی عظمت و حرمت عام آدمی کی عظمت و حرمت سے کہیں زیادہ ہے جس کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ جنبی کو اس کا پڑھنا اور بے وضو آدمی کو اس کا ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں لیکن اگر اس کے مقابلے میں انسانی جان بچانے کی بات آجائے تو ترجیح انسانی جان کو ہی دی جائے گی اس سلسلہ میں فقہاء کے بیان کردہ اس کو مسئلہ کو ملاحظہ فرمائے ۔۔۔
اور جس کو نکسیر آئے اور خون بند نہ ہو تا ہو تو اگروہ اپنے خون سے اپنی پیشانی پر قرآن سے کچھ لکھنا چاہے تو ابوبکر کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے ان سے پوچھا گیا کہ اگر پیشاب سے قرآن کا کچھ حصہ لکھا جائے تو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اس میں اس کی شفاء ہے تو ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
(جدید طبی مسائل کا شرعی حکم ،ص55،54)
(بحوالہ ،تبیان القرآن ،ج9،ص184رید بک سٹال لاہور و حقائق شرح صحیح مسلم و دقائق تبیان القرآن ،ص104,105،فرید بک سٹال لاہور )
استغفر اللہ ! اب ہے کسی رضاخانی میں یہ جرات کے اپنے اتنے بڑے مولوی کو بھی اتنی سنگین بات لکھنے پر قرآن کی توہین کے الزام میں جہنم واصل کرے ؟
دیدہ باید
**********
ضروری اعلان
الحمد للہ راقم نے یہ پختہ ارادہ کیا ہوا کہ جب تک جان میں جان ہے مسلک دیوبند پر کاربند رہوں گا اور اکابر علماء دیوبند اللہ کے سچے ولیوں کا دفاع کرتا رہوں گا اگر آپ کے ذہن میں بھی اولیاء دیوبند کے متعلق کوئی اشکال یا اعتراض ہو تو ترجمان احناف کے دفتر ارسال کردیں انشاء اللہ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اس کا جواب دوں۔ساجد۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔