منگل، 7 جولائی، 2015

مولانا طارق جمیل صاحب کی بنی گالا آمد۔۔۔۔۔اور معترضین!!!



مولانا طارق جمیل صاحب کی ایک سیاسی شخصیت سے ملاقات اور یار لوگوں کی کرم فرمائی!!!

براہ کرم اس مضمون کو ایک بار مکمل ضرور پڑھیں

ساجد خان نقشبندی عفی عنہ

کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر ایک تحریر پڑھی تھی جس میں کسی دل جلے نے لکھا تھا کہ کل تک نکاح کے وقت جن کی ٹانگیں صرف اس لئے کانپتی تھیں کہ کہیں قاضی صاحب چھ کلمے نہ پوچھ لے وہ آج سوشل میڈیا پر اسلامک سکولر بنے پھرتے ہیں اور کل تک پڑوسی کے جھگڑے کے وقت گھر کا دروازہ بند کردینے والے آج میڈیا پر دفاعی تجزیہ نگار بنے ہوئے ہیں ۔شومئی قسمت کہ ہمیں بھی جلد ہی اس تلخ تجربہ کا سامنا کرنا پڑا اور بظاہر اس لطیفے کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دیکھا ۔ہواکچھ یوں کہ پوری امت کا غم دل میں سموئے مبلغ اسلام ولی کامل حضرت مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی حال ہی میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی دعوت پر ان کے گھر گئے وہاں افطار کے وقت ایک کھانے کی میز پر ان سیاسی شخصیت کی زوجہ کی تصویر مولانا کے ساتھ سوشل میڈیا پر آئی ،تصویر کا آنا تھا کہ سوشل میڈیا کے مذہبی بھانڈوں کی قوالیاں شروع ہوگئیں ۔اور علامہ الدہر ،شیوخ الاسلام حضرات پردے اور غیر محرم کے حوالے سے مسائل دقیقہ و تحقیقات انیقہ کے لیکچر مولانا کو سنانے لگے ۔۔افسوس تو یہ کہ واعظ کی یہ مجالس ان حضرات کی طرف سے منعقد کی جارہی ہیں جو خود کئی فرائض و واجبات شرعیہ سے بے بہرہ اور کھلم کھلاان کے باغی ہیں ۔جن کو اگر بٹھاکر صرف یہ پوچھ لیا جائے کہ کن کن سے پردہ فرض ہے اور کون کو ن محرم ہے اور اس کے متعلق قرآن میں حکم کہاں ہے ؟تو یقیناًوہ اپنی بغلیں جھانکنا شروع کردیں گے ۔مجھے نہ تو ایسے لوگوں سے گلہ ہے نہ اس وقت میں ان سے مخاطب ہوں کیونکہ ان دوکانداروں کو اپنی دکان چلانے کیلئے کوئی نہ کوئی مال چاہئے اور ظاہر ہے کسی کی عزت کا سودا کرنے سے زیادہ منافع بخش کام اور کیا ہوسکتا ہے ؟


مجھے گلہ اپنے لوگوں سے ہے جو سوشل میڈیا کے ہر جھوٹ اور سچ کو وحی الٰہی سمجھ کر معاذاللہ اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں اور دشمن کے منفی پروپگینڈے میں شعوری یا لا شعوری طور پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ہم میں سے کسی کے پاس بھی یہ یقینی ثبوت نہیں کہ یہ تصاویر اصلی ہیں یا جعلی ،اگر اصلی ہیں تو ان کا پس منظر کیا ہے ؟تصویر بنائے جانے سے پہلے ماحول کیا تھا اور تصویر بننے کے متصل بعد ہی ماحول کیا تھا ؟جسے کیمرے کی آنکھ محفوظ نہ کرسکی ۔ایسی موہوم بات کی بنیاد پر ایسی مقدس شخصیت کو مورد الزام ٹھرانا کہاں کا انصا ف ہے جس کے ہاتھوں پر لاکھوں گمراہوں نے ہدایت کے جام پئے ،ہوس کی ماری ہوئی آنکھیں جس کی ایک نظر کیمیاء سے حیاء کا پیکر بن گئیں ،ہر روز شام کو اپنی عزتوں کا سودا کرنے والی کتنی ہی قوم کی بیٹیاں آج اس عظیم شخص کی بدولت عفت ،شرم ،و حیاء کا پیکر بنی ہوئی ہیں ۔
میرا رب قرآن میں فرماتا ہے کہ ادعوا الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ اپنے رب کی طر ف لوگوں کو بلاؤ حکمت اور بھلی بات نرم بات کے ساتھ۔دعو ت الی اللہ کی بنیاد ہی ’’حکمت ‘‘ اور ’’گفتار و کردار کی نرمی و شیرینی ‘‘ پر ہے ۔پس یہ ہوسکتا ہے کہ اپنی ناقص عقل کی وجہ سے ہمیں کوئی کام بظاہر مناسب معلوم نہ ہوتا مگر مستقبل اور مآل کے اعتبار سے وہ اپنے اندر ایک عظیم انقلاب رکھتا ہوایسے موقع پر اگر بعض اوقات نرمی کرلی جائے اور شریعت کے مزاج سے بظاہر تھوڑ اہٹ کر کچھ کرلیا جائے تو آخر اس میں کیا برائی ہے ؟الضروریات تبیح المحظورات کا قاعدہ اسی دن اور اسی گھڑی کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔یہ سیاسی و دنیا دار لوگ ویسے ہی مولویوں سے نالاں ہیں اوپر سے مولوی اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا مسجد سے باہر چل کر کسی کو رب کی طرف بلانے کو اپنی توہین سمجھتا ہے(عمومی بات ہے اس سے سب مراد نہیں) تو اگر ایسی صورتحال میں اس قسم کے لوگ مولانا کو بلائیں اور مولانا وہاں جاکر اکڑ کر بیٹھ جائیں تو نتیجہ کیا نکلے گا ہم سب جانتے ہیں ۔مجھے لاہور کے حالیہ سفر میں ایک سابق مرزائی ملا جو اب ختم نبوت کا بہت بڑا مبلغ تھا اس نے ہمیں کہا کہ میری ہدایت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’مولویوں کا رویہ و اخلاق تھا‘‘ میں جب کسی مولوی کے پاس جاتا اسے پتہ چلتا کہ یہ قادیانی ہے تو وہ ناک منہ چڑھالیتا بس اس کے بعد میں اس کی کوئی بات سنتا ہی نہ تھا چہ جائیکہ توجہ دیتا اور ہم سے اس نے گزارش کی کہ آپ کے پاس کوئی بھی آئے خدارا بھائیوں کی طرح ملنا اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ آپ کا یہ ملنا ہی ان کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے گا۔
ایسے ماحول میں اگر مولانا نے مولویت کے خول سے نکل کر ایک حکمت عملی کے تحت یہ رویہ رکھا تو مجھے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی مگریہ بھی اس صورت میں جب ان تصاویر کو سیاق و سباق کے ساتھ حقیقت پر مبنی محمول کیا جائے ۔ورنہ یہ بھی توہوسکتا ہے کہ یہ عورت مولانا کی بے خبری میں تشریف فرما ہوں اور اس کو یہی وعظ کیا جارہا ہو کہ آپ کا یہاں بیٹھنا مناسب نہیں اور پردے کا اہتمام کریں اور اسی دوران تصاویر لے لی گئی ہوں چنانچہ سیاسی حضرات کے ساتھ ایک فوٹو گرافر مستقل اسی کام کیلئے ہوتا ہے جو ان کے ہر ہر لمحہ کی تصویر لیتا ہے ممکن ہے کہ اس تصویر کے بعد ماحول بدل گیا ہو مگر اسے کیمرے کی آنکھ محفوظ نہ رکھ سکا ہو یا محفوظ تو کرلیا گیا ہو مگر اسے دانستہ ظاہر نہ کیا جارہا ہو۔آخر ظنو ا المومنین خیرا بھی تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام ہی کی حدیث ہے۔
اب میں آپ کے سامنے ایک حدیث نقل کرنے جا رہا ہوں تاکہ معترضین کی آنکھیں کھل جائیں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ عید کے دن مردوں میں وعظ کرنے کے بعد حضرت بلالؓ کے سہارے نبی کریم علیہ السلام عورتوں کے پاس آئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا صدقہ خیرات کرو کیونکہ تم میں اکثر جہنم کا ایندھن ہیں پھر عورتوں کے درمیان بیٹھی ہوئی ایک عورت جس کے رخساروں کا رنگ سرخی مائل تھا (سفعاء الخدین حدیث کے الفاظ ہیں )نے کہا اللہ کے رسول ایسا کیوں ہے ؟آپ نے فرمایا کیونکہ تم شکوہ شکایت بہت کرتی ہواور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔
(مسلم جلد اول ،ص289،نسائی جلد اول ،ص233، قدیمی کتب خانہ کراچی )
حضرت جابرؓ اس حدیث کے راوی ہیں اس عورت نے چہرہ نہیں چھپایا تھا نبی کریم ﷺ اس مجلس میں موجو د ہیں اور حضرت جابرؓ نے اس عورت کے چہرے کو دیکھ لیا حتی کہ رنگ بھی بتادیا ۔اب شکر ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ اس دور میں نہ تھے ورنہ یہ فیس بکئے مفتیان نہ جانے ان پر معاذ اللہ کس قسم کے فتوے لگاتے۔
اب آئے ذر ا اکابرکا بھی ایک واقعہ سنتے جائیں حکیم الامت رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ ایک بار بازار کسی کام سے گئے اس بازار میں ایک حسین اور پڑھی لکھی رنڈی تھی جس کے ہاں معمولی قسم کے مردوں کو آنا جانے کا تصور بھی نہ تھا حضرت کا جب اس کے کوچے سے گزر ہوا تو وہ اپنے دروازے پر کھڑی تھی آگے کی عبارت یہ ہے :
’’سید صاحب اس جگہ ذرا ٹھٹکے اور ایک نظر اس کی طرف دیکھا اس کے بعد گھوڑا بڑھا کر آگے روانہ ہوگئے‘‘۔ ( ارواح ثلاثہ ص119)
ولی کامل کی یہ اک نظر ہی اس کی ہدایت کا ذریعہ بن گئی آگے کیا ہوااس رنڈی نے کہا :
’’اے میاں سوار خدا کیواسطے ذرا گھوڑا روک لے آپ نے گھوڑا روک لیا اور وہ بے تحاشہ گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں کو لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ‘‘۔ ( ارواح ثلاثہ ۔ص119)
آگے تفصیلی واقعہ ہے کہ اس عورت او ر سید صاحب میں پھر گفت و شنید ہوئی اور سید صاحب نے پھراس کا نکاح پڑھوایا ۔اصل کتاب کی طرف مراجعت کرلیں ۔یہ تھا اکابر کا مزاج اور دعوت کا طریقہ مولانا جمیل صاحب نے نہ تو کسی رنڈی کے مکان کے پاس کھڑے ہوکر اسے دیکھا نہ کوئی رنڈی آکر ان کی سواری سے لپٹی ۔اگر تحریک آزادی کے عظیم مجاہد سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ قابل مذمت نہیں اور اکابر نے اس کو نقل کیا تو آج مولانا پر زبان طعن دراز کیوں ؟
میں پوچھنا چاہتا ہوں جو لوگ اعتراض کررہے ہیں وہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ کیا سوشل میڈیا یا نیٹ استعمال کرتے ہوئے ان کی نظر کبھی دانستہ یا غیر نادانستہ طور پر غیر محرم پر نہیں پڑی ؟اگر جواب ہاں میں ہے اور یقیناًہاں میں ہے تو اگر آپ دین کے کام کیلئے اس امر کو طوہا و کرہا برداشت کررہے ہیں تو مولانا طارق جمیل صاحب کو یہ رعایت دینے کیلئے تیار کیوں نہیں ؟
اب آئیے اہل بدعت کی طرف ہمیشہ کی طرح انہوں نے ایک بار پھر اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہامگر آل بدعت کو یہ اعتراض کرتے ہوئے بھی حیاء آنی چاہئے کوکب نورانی عامر لیا قت حسین بریلوی کے رمضان ٹرانسمیشن نامی ’’مجرے ‘‘ میں بیٹھا ہوتا ہے اس وقت ان کی غیرت کہاں ہوتی ہے ؟جب مفتی منیب الرحمن طیبہ خانم شیعہ عورت کے ساتھ حامد میر کے کیپیٹل ٹالک میں بیٹھ کر دین بتارہے ہوتے ہیں اس وقت ان رضاخانیوں کی غیرت کہاں تھی؟ تمہاری غیرت اس وقت کہاں تھی جب تمہارا امام احمد رضاخان بریلوی کہتا ہے کہ میں نے خود 18,20سال کی عورت کو اس کی ماں کی چھاتی پر چڑھ کر دود ھ پیتے دیکھا (ملفوظات ،حصہ دوم،ص311)جو یہ کہتا ہے کہ پیر کسی وقت مرید سے جدا نہیں ہوتا ہر آن اس کے ساتھ ہوتا ہے حتی کہ جماع کے وقت بھی (ملفوظات حصہ دوم ،ص179) جن کا امام بچپن میں فاحشہ عورتوں کے سامنے اپنا ستر کھول کر جنسانیت پر لیکچر دے اور اندھے مرید اس کو ’’غیورانہ ‘‘ حرکت کہیں ایسے لوگوں کو دوسروں پر اعتراض کرتے ہوئے بھی شرم آنی چاہئے جن کا مذہب مزار پر عورت کے مجرے سے شروع ہوتا ہے اور مجاوروں کے زنا پر ختم ہوتا ہے وہ آج ’’پردے ‘‘ کی باتیں کرتے ہیں!!! ۔احمد رضاخان صاحب نے خود واقعہ لکھا کہ سید احمد بدوی کبیر کے مزار پر عبد الوہاب گئے دیکھا کہ ایک تاجر کے ساتھ کنیز ہے ان کی نظر اس پر پڑی اور عاشق ہوگئے تاجر نے وہ لونڈی مزار کی نذر کردی تو مزار میں سے سید بدوی کبیر نے کہا بابا دیکھتے کیا ہولے جاؤ اور حاجت پوری کرلو (ملفوظات حصہ سوم ،ص275)اگر انہیں پردوں کا اور غیر محرم کا اتنا ہی غم کھایا جارہا ہے تو ان واقعات کو بھی سر عام عوام کے سامنے لاکر ان کے نقل کرنے والوں پر بھی لعنت بھیجیں تاکہ سب پر آپ کی انصاف پسندی اور شریعت نوازی کا پول کھول جائے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔