ہفتہ، 25 جولائی، 2015

طاہر القادری یہود و نصاری کا ایجنٹ


طاہر القادری یہود و نصاری کا ایجنٹ بشکریہ مولانا ساجد خان نقشبندی

پروفسیر کے انگریز کے ایجنٹ ہونے کی ایک اور بہت بڑی دلیل اس کا دہشت گردی کے خلاف فتوی ہے یہ فتوی اس نے
 
 کسی مسلمان ملک میں بیٹھ کر مسلمانوں کو درمیان شائع نہیں کیا بلکہ یہ فتوی لندن میں ایک ایسے ہال میں بیٹھ کر دیا گیا جس میں لندن پولیس و سرکاری انتظامیہ سمیت مختلف کافر ملکوں کے اہم سرکاری عہدہ دار موجود تھے جبکہ ہال کے ارد گرد انگریز وزرآءاعظم کی تصاویر صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے یہ سب ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس ایک سکرین شارٹ ہم بھی آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فتوے کو مسلمانوں سے زیادہ کافروں نے پذیرائی دی اور اب کافر ملکوں میں یہی فتوی طاہر القادری کی سب سے اہم پہچان ہے انگریزی زبان میں اس فتوے کو پیش پروفیسر جون نے کیا اور اس کا تعارف انگریزی زبان میں پروفیسر جوئیل نے دیا جو امریکی ائیر فورس کالج یعنی وہ کالج جہاں سے امریکی فضائیہ تربیت پاکر مسلم ممالک پر بم برساتے ہیںکے سربراہ نے پیش کیا۔اس کے صفحہxxv پر پروفیسرجون لکھتا ہے کہ بہت سے اسلامی مفتیوں نے خود کش فدائی حملوں کے حرام ہونے کا فتوی دیا مگر ساتھ ہی وہ مفتی حضرات فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں اور عراق میں امریکی فوجیوں پر خودکش حملے کے جواز کے قائل تھے جس کی وجہ سے معاملہ مشتبہ ہوگیا مگر طاہر القادری نے ایسے وقت میں رہنمائی کی اور ان کے اس اہم فتوے میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کسی بھی قسم کے خود کش حملے خواہ مسلم پر ہوں یا غیر مسلم پر کو ناجائز و حرام قرا ردیا (xxvIII) کیااب بھی کوئی شک رہ جاتا ہے کہ طاہر القادری اور اس کا یہ فتوی سراسر اس کی یہودی و امریکی ایجنٹی کا ثبوت ہے جب انگریز خود اس بات کا اقرار کررہا ہے کہ عراق و فلسطین میں خود کش حملوں سے ہمیں پریشانی ہورہی تھی تو اس صورت میں طاہر القادری کا یہ فتوی دہشت گردی کے خلاف سمجھا جائے یا یہودی و امریکی فوجیوں کی نصرت اور جان بخشی کیلئے اس کا فیصلہ ہر آدمی خود کرسکتا ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔