جمعرات، 20 اگست، 2015

حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کا جواب اپنے مرید کو اپنے نام کا کلمہ پڑھواتے ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم.
حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کا جواب
اپنے مرید کو اپنے نام کا کلمہ پڑھواتے ہیں(العیاذ باللہ)
(راقم کی کتاب دفاع اہل السنۃ والجماعۃ سے ماخوذ)

ساجد خان نقشبندی
(اعتراض):

بریلوی حضرات کی طرف سے حضرت حکیم الامت ؒ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کے مرید نے ان کے نام کا کلمہ اور درود پڑھا اور حضرت حکیم الامت ؒ نے بجائے اس پر سرنزنش کرنے کے ان کے متبع سنت ہونے کی گواہی دی۔۔جس کی وجہ سے یہ کافر ہیں معاذ اللہ۔
(۱) انھوں نے نبوت کا دعوی کیا (العیاذ باللہ)
(۲) صاحب واقعہ کو سرنزش اور تنبیہ نہیں کی حالانکہ وہ اس کا مستحق تھا کہ اس کو تجدید ایمان و نکاح کا کہتے مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کفر پر راضی رہنا خو د کفر ہے لہٰذا حکیم الامت ؒ کافر ہوئے ۔معاذ اللہ
(۳) ایسے شیطانی وسوسہ کو حالت محمود پر کیوں حمل کیا اور اس کی تعبیر کیوں دی؟ ،مولوی عمر اچھروی نے اس اعتراض پر یہ سرخی قائم کی ’’دیوبندیوں کا کلمہ بھی مسلمانوں سے جدا ہے‘‘ ۔۔اور رضاخانی فورم پر بھی اس اعتراض پر یہی عنوان ہے۔
(خاتم النبیین ﷺ کا غلام):فقیر اس کے دو جوابات دیگا ایک ’’تحقیقی ‘‘ دوسرا ’’الزامی‘‘۔
تحقیقی جواب
اس اعتراض پر تفصیلی جواب دینے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کو خود حضرت تھانوی ؒ کے ا س ارادتمند کے اپنے الفاظ میں بقدر ضرورت نقل کردیں۔وہ صاحب کہتے ہیں کہ:
اور سو گیا کچھ عرصہ بعد خواب دیکھتا ہوں کہ کلمہ شریف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں لیکن محمد رسول اللہ کی جگہ حضور کا نام لیتا ہوں اتنے میں دل کے اندر خیال پیدا ہوا کہ تجھ سے غلطی ہوئی کلمہ شریف کے پڑھنے میں اس کو صحیح پڑھنا چاہئے اس خیال سے دوبارہ کلمہ شریف پڑھتا ہوں دل پر یہ ہے کہ صحیح پڑھا جاوے لیکن زبان سے بے ساختہ بجائے رسول اللہ کے ﷺ کے نام کے اشرف علی نکل جاتا ہے حالانکہ مجھ کو اس بات کا علم ہے کہ اس طرح درست نہیں ہے لیکن بے اختیار زبان سے یہی نکل جاتا ہے ۔دو تین بار جب یہی صورت ہوئی تو حضور ﷺ کو اپنے سامنے دیکھتا ہوں اور بھی چند شخص حضور ﷺ کے پاس تھے لیکن اتنے میں میری یہ حالت ہوگئی کہ میں کھڑا کھڑا بوجہ اس کے کہ رقت طاری ہوگئی زمین پر گرگیا اور نہایت زور کے ساتھ چیخ ماری۔اور مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ میرے اندر کوئی طاقت باقی نہ رہی اتنے میں بندہ خواب سے بیدار ہوگیا لیکن بدن میں بدستور بے حسی تھی اور وہ اثر ناطاقتی بدستور تھا لیکن حالت خواب اور بیداری میں حضور ﷺ کا ہی خیال تھا لیکن حالت بیداری میں جب کلمہ شریف کی غلطی پر جب خیال آیا تو اس بات کا ارادہ ہوا کہ اس خیال کو دل سے دور کیا جاوے اس واسطے کہ پھر کوئی ایسی غلطی نہ ہو جاوے بایں خیال بندہ بیٹھ گیا اور پھر دوسری کروٹ لیٹ کر کلمہ شریف کی غلطی کے تدارک میں رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی یہ کہتا ہوں اللھم صلی علی سیدنا و نبیینا ومولانا اشرف علی۔حالانکہ اب بیدار ہوں خواب نہیں لیکن بے اختیار ہوں مجبور ہوں زبان اپنے قابو میں نہیں ۔اس روز ایسا ہی کچھ خیال رہا تو دوسرے روز بیداری میں رقت رہی خوب رویا اور بھی بہت سے (وجوہات ہیں)جو حضور (یعنی حضرت تھانوی ؒ )کے ساتھ باعث محبت ہیں کہاں تک عرض کروں۔(الامداد ص۳۵،ماہ صفر ۱۳۳۶ھ)
قارئین کرام اس عبارت میں اس بات کی تصریح ہے کہ کلمہ طیبہ کی غلطی خواب میں ہوئی تھی اور صاحب خواب اس پر خاصہ پریشان ہوا اور خواب میں بھی اپنی غلطی کا احساس کرتا رہا لیکن بے ساختہ زبان سے غلط کلمہ نکلتا رہا اور جب بیداری میں درو د شریف غلط پڑھا تو اس میں بھی وہ کہتا ہے کہ ’’بے اختیار ہوں،مجبور ہوں،زبان قابو میں نہیں ہے۔۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنی ا س غلطی پر بھی وہ ’’خوب رویا‘‘۔اب اس مقام پر چند باتیں قابل غور ہیں ذرا ٹھنڈے دل سے اس پر غور فرمائیں۔
(۱) پہلی بات خواب کی ایک صورت ہوتی ہے اس میں نپہاں ایک حقیقت ہوتی ہے جس کو تعبیر کہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خواب بڑا خوشنما ہوتا ہے لیکن اس کی تعبیر انتہائی بھیانک اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خواب بظاہر بڑا خوفناک لیکن اس کی تعبیر خوش آئیند ہوتی ہے اور تعبیر سامنے آنے کے بعد خواب دیکھنے والے کی خوشی کی کوئی انتہاء نہیں رہتی ۔اس دوسری مد کے خوابوں کے بارے میں بطور اختصار صرف دو حولے عرض کروں گا۔
* حضور اکرم ﷺ کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارثؓ نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ آج رات میں نے ایک براخواب دیکھا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیا خواب ہے ۔انھوں نے فرمایا وہ بہت ہی سخت (اندیشہ) ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ بتاؤ یو سہی کہ خواب کیا ہے؟حضرت ام فضلؓ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آپ ﷺ کے جسم مبارک سے ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں ڈالا گیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا خواب دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ انشاء اللہ میری لخت جگر بیٹی (سیدہ حضرت فاطمہؓ ) کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا جو تمہاری گود میں کھیلے گا۔چنانچہ حضرت حسینؓ پیدا ہوئے اور میری گود میں کھیلے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا۔(مشکوۃ ص ۵۷۲ ج۲)
ملاحظہ کیجئے بظاہر کس قدر برا خواب تھا کہ حضرت ام فضلؓ بتلانے سے بھی گھبرا رہی تھیں مگر اس کی تعبیر کس قدر خوشنما تھی۔ایک اور مثال حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کی ملاحظہ تاکہ بناسپتی حنفیوں کی آنکھیں کھل جائیں جو حضرت حکیم الامت ؒ کے مرید کے خواب پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں۔
* حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے مزار اقدس پر پہنچے اور وہاں پہنچ کر مرقد مبارک کو اکھاڑا (العیاذ باللہ )پس اس پریشان کن اور وحشت انگیز خواب کی اطلاع انہوں نے اپنے استاد کو دی اور اس زمانے میں حضرت امام صاحب علیہ الرحمۃ مکتب میں تعلیم حاصل کررہے تھے ۔ان کے استاد نے فرمایا اگر واقعی یہ خواب تمہارا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ تم جناب نبی اکرم ﷺ کی احادیث کی پیروی کرو گے اور شریعت محمدیہ ﷺ کی پوری کھود کرید کرو گے ۔ہس جس طرح استاد نے فرمایا تھا یہ تعبیر حرف بحرف پوری ہوئی۔(تعبیر الرویا ص ۱۰۸،اکبر بک سیلز)۔
غور فرمائیں کس قدر وحشت ناک خواب ہے لیکن تعبیر کس قدر خوشنما ہے ۔۔بتائیں بریلوی حضرات حضرت امام ابو حنیفہ ؒ پر کیا فتوی لگائیں گے؟؟ میں حلفیہ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہاں میں نے امام ابو حنیفہ ؒ کی جگہ کسی دیوبندی عالم کا نام لکھا ہوتا تو بریلوی حضرات اب تک یہ فتوی لگاچکے ہوتے کہ ’’دیوبندیوں نے دشمنی رسول ﷺ می ان کی قبر مبار ک کو بھی اکھاڑ پھینکا‘‘۔العیاذ باللہ ۔اللہ پاک سمجھ دے۔
ان دونوں خوابوں کے بتلانے کا مقصد یہ تھا کہ بظاہر اگرچہ خواب خوفناک ہو لیکن ضروری نہیں کہ اس کی تعبیر بھی کوفناک ہو۔۔پس جو خواب حضرت حکیم الامت ؒ کے مرید نے دیکھا تھا اگرچہ بظاہر خوفناک تھا لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تعبیر بھی خوفناک ہو۔جیسا کہ آگے ہم خود حضرت حکیم الامت ؒ کے اقوال سے اس کو ثابت کریں گے۔
(۲) قارئین کرام یہ ایک خواب تھا اور خواب نیند کی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور نیند کی حالت میں جو کلمات زبان سے سرزد ہوتے ہیں شریعت میں ان کا کوئی اعتبار نہیں ۔بالفرض اگر کسی سے خواب میں الفاظ کفریہ سرزد ہوجائیں تو اس پر حکم کفر ہر گز نہ لگایا جائے گا۔چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
رُفِعَ اْلقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ النَّاءِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقَظَ وَ عَنِ المُبْتَلٰی حَتّٰی یَبَرَأَ وَ عَنِِ الصَّبِیِّ حَتّٰی یَکْبُرَ(الجامع الصغیر ج۲ص۲۴)
تین شخص مرفوع القلم ہیں (یعنی شرعی قوانین کی زد سے محفوظ ہیں)سونے والا جب تک کہ بیدار نہ ہو اور جنون میں مبتلا یہاں تک کہ اس کو افاقہ ہوجائے اور بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے
اور حضرت عمرؓ اور سیدنا حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ :
رُفِعَ القَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ الْمَجْنُوْنِ الْمَغْلُوْبِ عَلٰی عَقْلِہٖ حَتّٰی یَبْرَأَ وَ عِنِ النَّاءِمِ حَتّٰی یستیقظ و عن الصبی حتی یَحْتَلِمَ(الجامع الصغیر ج۲ص۲۴)
تین شخص مرفوع القلم ہیں (یعنی شرعی قوانین کی زد سے محفوظ ہیں) مجنوں جس کی عقل پر پردہ پڑا ہو ہے اورسونے والا جب تک کہ بیدار نہ ہو اور بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے
ایک روایت میں آتا ہے کہ سیدنا حضرت قتادہؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ
اِنَّہ‘ لَیْسَ فِیْ النَّوْمِ تَفْرِیْط’‘ وَ اِنَّمَا التَّفْرِےْطُ فِیْ الْیَقَظَۃِ (ترمذی ج۱ص۲۵)
یعنی نیند کی حالت میں کوئی کوتاہی اور جرم نہیں ہاں بیداری کی حالت میں کوتاہی ہو تو اس میں جرم ہے۔
اسی قسم کی روایات سے حضرات فقہاء کرام ؒ نے یہ قاعدہ اور اصول اخذ کیا ہے کہ نیند کی حالت میں کوئی بھی بات کسی بھی درجہ میں قابل اعتبار نہیں ۔خواہ کوئی اسلام لائے یا خواہ معاذ اللہ کوئی مرتد ہوجائے خواہ کوئی نکاح کرلے یا طلاق دے دے۔چنانچہ علامہ محمد امین بن عمر الشامی الحنفی ؒ لکھتے ہیں
وَلِذَا لاَ یَتَّصِفُ بِصِدْقٍ وَلاَ کِذْبٍ وَلَا خَبَرٍ وَلاَ اِنْشَاءٍ وَ فِیْ التَّحْرِےْرِ وَ تَبْطُلُ عِبَارَاتُہ‘ مِنَ الِاسْلاَمِ وَ الرَّدَّۃِ وَالطَّلاَقِ وَلَمْ تُوْصَفْ بِخَبَرٍ وَلاَ اِنْشَاءٍ وَ صِدْقٍ وَ کِذْبٍ کَالْحَانِ الطُّےُوْر(شامی ج۲ص۵۸۸ ،طبع مصر فی مطلب طلاق المدہوش)
آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:
وَمِثْلُہ‘ فِیْ التَّلْوِیْحِ فَھَذَا صَرِےْح’‘ فِیْ اَنَّ کَلاَمَ النَّاءِمِ لاَ یُسَمّٰی کَلاَماً لُغَۃً وَلاَ شَرْعًا بِمَنْزِلَۃِ الْمُھْمَلِ۔
اور اسی لئے سونے والے کا کلام صدق و کذب خبر و انشاء سے متصف نہیں ہوتا اور تحریر الاصول میں ہے کہ سونے والے کا کلام مثلا اسلام لانا یا مرتد ہوجانا یا بیوی کو طلاق دینا (وغیرہ)یہ سب لغو اور بے کار ہے نہ اس کو خبر کہا جاسکتا ہے اور نہ انشاء اور نہ سچ اور نہ جھوٹ جیسے پرندوں کی آواز۔
اور ایسا ہی تلویح میں ہے پس اس عبارت سے صراحۃ معلوم ہوا کہ نیند کی حالت کاکلام نہ لغۃ کلام ہے اور نہ شرعا جیسے مہمل۔
حدیث اور فقہ کے ان صریح حوالوں سے معلوم ہوا کہ نیند اور خواب کی حالت کی بات پر کوئی فتوی صادر نہیں ہوسکتا ۔جب مسئلہ کی حقیقت یہ ہے تو حضرت تھانوی ؒ ایسے شخص پر کس طرح فتوی لگاتے اور کس طرح اس کو کافر اور مرتد کہتے ۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
انصاف ۔۔۔انصاف ۔۔انصاف
(اعتراض):ٹھیک ہے بھائی آپ کی یہ بات تو ہم مان لیتے ہیں کہ کبھی خواب کی حقیقت کوئی اور ہوتی ہے ظاہر کوئی اور اور نیند میں مواخذہ نہیں مگر آپ لوگوں کو کس طرح دن دھاڑے دھوکہ دے رہے ہیں آپ کو شرم آنی چائے کہ وہ مرید آگے خود لکھتا ہے کہ جب نیند سے بیدار ہوا تب بھی یہی حالت تھی۔اب تو نیند والی حالت نہ تھی ۔اب کفر کیوں نہ ہوا؟؟۔۔جناب میں بریلوی ہوں بریلوی اعلی حضرت کا کتامیرے سامنے سوچ سمجھ کر بات کرنا۔
(خاتم النبیین ﷺ کا غلام):جناب آپ بریلوی ہیں یہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے اور بریلوی کس قسم کی مخلوق ہے بھلاان کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہوگا۔۔جیسا کہ آپ کے بھی علم میں یہ بات ہے ۔۔آپ نے یہ تو تسلیم کیا کہ یہ بات خواب کی تھی اور خواب پر مواخذہ نہیں شکر ہے ورنہ اس سے پہلے تو یہی رٹ کہ کافر کافر خواب میں کلمہ پڑھا کفر۔۔اس بار جو آپ نے حضرت تھانوی ؒ کو کافر ثابت کرنے کیلئے استدلال کیا اور اعتراض کیا اس کا جواب بھی ملاحظہ فرمالیں۔
یہ بات میں پہلے ثابت کرچکا ہوں کہ اس شخص کی زبان سے یہ کلمات بیداری میں غیر اختیاری طور پر نکلے تھے جس کا اظہار اس نے خود کیا اور اس پر کافی پریشان بھی تھا بلکہ وہ خود کہتا رہا کہ سارا دن روتا رہا اس حرکت پر۔اور جناب والا بیداری میں غیر اختیار ی طور پر زبان سے جو بات سر زد ہوجاتی ہے گو وہ بات کفر ہی کیوں نہ ہوشریعت اس پر بھی کفر و ارتداد کا کوئی حکم نہیں لگاتی ۔قرآن کریم میں مومنوں کی زبان سے یہ دعا اللہ تعالی نے جاری فرمائی ہے ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطأنا یعنی اے ہمارے رب اگر ہم سے کوئی بھول یا خطا سرزد ہو تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا۔اور حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہ دعا قبول فرمائی ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ج۱ص۳۴۳ طبع مصر بحوالہ مسلم۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِیْ اَلْخَطَاءَ وَالنِّسْیَانَ وَمَااسْتَکْرَھُوْاعَلَیْہٖ (مشکوۃ ج۲ص۵۸۴،ابن ماجہ ص ۱۴۸وغیرھم)
بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اور نسیان اور جس چیز پر ان کو مجبور کیا گیاہو کے مواخذہ سے درگزر فرمایا۔
اس سے معلو م ہواکہ اگر خطا کی صورت میں کوئی کلمہ کفر کہہ دیا تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ گنہگار بندہ کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے کوئی مسافر کسی جنگل وغیرہ بے آب و گیاہ میں ہو اور اس کا سامان اور سواری وغیرہ گم ہوجائے اور اس کی تلاش سے مایوس ہوکر مرنے کیلئے کسی درخت کے سایہ میں آکر لیٹ جائے اسی حال میں اس کی آنکھ لگ گئی تھوڑی دیر بعد جب آنکھ کھلی تو دیکھے کہ اس کا اونٹ مع اپنے ساز و سامان کے اس کے پاس کھڑا ہے اور اس کی زبان سے بے اختیار خوشی میں یہ الفاط نکل جاتے ہیں۔اَللّٰہ‘ اَنْتَ عَبْدِیْ وَ اَنَا رَبُّکَ اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرارب اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ اَخْطَاءَِ منْ شِدَّۃِ الفَرْحِ خوشی کی وجہ سے اس سے خطاء سرزد ہوگئی (مسلم ج۲ص۳۵۵مشکوۃ ج۱ص۲۰۳)
یعنی وہ بیچارہ کہنا تو یہ چاہ رہا تھا کہ اے اللہ تو میرا رب میں تیرا بندہ لیکن خطا کردیا ۔نہ بے ہوشی میں ہے نہ غشی میں نہ سویا ہوا ہے بیدار ہے مگر کلمہ کوئی اور نکل گیا جس پر ا س کو اختیار نہ تھا ۔فقہاء احناف نے خطا کی تعریف و تشریح میں کافی تفصیل کی ہے ۔چنانچہ قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں
اَلْخَاطِیْ مَنْ یَجْرِیْ عَلٰی لِسَانِہٖ مِنْ غَےْرِ قَصْدٍ کَلِمَۃً مَکَانَ کَلِمَۃً (فتاوی قاضی خان ج۴ص ۸۸۳)
اور خطا کرنے والا وہ ہے جس کی زبان پر بغیر قصد کے ایک کلمہ کی جگہ کوئی دوسرا کلمہ نکل جائے۔
نیز تحریر فرماتے ہیں کہ
اَلْخَاطِیْ اِذَا جَرٰی عَلِیِ لسَانِہٖ کَلِمَۃَ الْکُفْرِ خَطَاءً بِاَنْ کَانَ اَرَادَ اَنْ یَتَکَلَّمَ بِمَا لَیْسَ بِکُفْرٍ فَجَرٰی عَلٰی لِسَانِہٖ کَلِمَۃَ الْکُفْرِ خَطَاءً لَمْ یَکُنْ ذَالِکَ کُفْراً عِنْدَ الْکُلِّ۔(ایضا)
اور بہرحال خاطی کی زبان پر جب خطاء کفر کا کلمہ جاری ہوگیا مثلا وہ ایسا کلمہ بولنا چاہتا تھا جو کفر نہیں ہے لیکن خطاء اس کی زبان سے کفر کا کلمہ نکل گیا تو تمام فقہاء کرام کے نزدیک یہ کفر نہ ہوگا۔
کم و بیش یہی مضمون اور یہی بات کشف الاسرار شرح اصول بزدوی ج۴ص۳۵۵طبع مصر ۔فتاوی شامی،شرح فقہ اکبر ص۱۹۸ طبع کانپور مذکور ہے
(نوٹ):عربی کتب کے حوالہ جات حضرت امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کتاب ’’عبارات اکابر ‘‘سے لئے گئے ہیں۔البتہ آسانی کیلئے ان عبارات پر اعراب بھی لگادئے گئے ہیں۔
اب بجائے کہ ہم اس پر مزید تحقیق کریں خود فریق مخالف کے اعلحضرت کا فتوی نقل کرکے اس بات کو سمیٹتے ہیں:
مولوی احمد رضاخان کا فتوی
شریعت میں احکام اضطرار احکام اختیار سے جدا ہیں(ملفوظات حصہ اول ص ۵۵،فرید بک اسٹال)۔
اب ساری بحث کو ملحوظ رکھ کر خود انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ جو شخص خود چلا چلا کر کہتا ہے کہ بے اختیار ہوں ،مجبور ہوں ،زبان قابو میں نہیں ہے اور اس میں بعد میں روتا بھی ہے ایسے شخص کو حضرت تھانوی ؒ کیوں کافر کہتے۔۔؟؟؟اور جب وہ خود کافر نہیں تو رضابالکفر کس طرح ثابت ہوا ۔۔؟؟؟اور حضرت تھانوی ؒ کیوں کافر قرار پائے ۔۔؟؟جبکہ خان صاحب بریلوی کا فتوی بھی احکام اضطراریہ میں وہی ہے جو حضرات فقہائے کرام ؒ کا ہے کیا خوب ہے:
ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن مان کنعاں کا
(اعتراض):یہ جھوٹ ہے وہ یہ کلمہ کفر آپ کے حکیم الامت کی محبت میں بول رہا تھا اچھا بتاؤ اگر اس سے غلطی ہورہی تھی تو چپ رہتا خاموش ہوجاتا کہ میری زبان صحیح ادا نہیں کررہی ہے بار باریہ وظیفہ پڑھنے کا کیا مطلب یہی کہ حکیم الامت کی محبت اس سے یہ اگلوا رہی تھی۔
(خاتم النبیین ﷺ کا غلام):بریلوی صاحب یہ بات تو طے ہے کہ میں آپ کو کتنا ہی سمجھا دوں آپ نے نہیں ماننا کیونکہ آپ نے ہر حالت میں حضرت حکیم الامت ؒ کو کافر کہنا کہ آپ کی روزی روٹی کا مسئلہ ہے ۔۔لیکن الحمد اللہ انصاف پسند دنیا آج بھی زندہ ہے ۔۔وہ خود ہی دیکھ لے ۔جہاں تک آپ نے یہ اعتراض کیا کہ وہ خاموش کیوں نہیں رہا چپ ہوجاتا تو اللہ کے بندے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جو الفاظ ادا کررہا تھا اس کے بارے میں اس کو علم تھا کہ یہ درست نہیں ہے اور زبان اس کے قابو میں نہیں ہے لیکن اس نے سکوت اختیار کرنے کے بجائے تکلم دو وجہ سے کیا
(۱) ایک یہ کہ اسے توقع تھی کہ اب اس کی زبان سے صحیح الفاظ نکلیں گے جس سے گزشتہ الفاظ کی تلافی ہوجائے گی
(۲) اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے غم کھایا جارہا تھا کہ اگر اسی لمحہ اس کی موت واقعہ ہوگئی تو نعوذ باللہ ایسے الفاظ پر خاتمہ ہوگا اسی لئے اس نے دوبارہ تکلم کیا تاکہ الفاظ بھی صحیح ادا ہوجائیں اور سوء خاتمہ کے اندیشے سے بھی نجات مل جائے۔جہاں تک آپ نے یہ کہا کہ وہ حضرت حکیم الامت ؒ کی محبت میں یہ سب کہہ رہا تھا تو تف ہے آپ کی عقل پر اگر وہ ان کی محبت میں کہتا تو کیا اس کی وضاحت کرتا کہ زبان پر قابونہیں بے اختیار ہوں؟؟۔۔اور کیا وہ اس پر روتا ؟؟بلکہ وہ تو اس پر خوش ہوتا کہ دیکھیں حضرت جی میں تو آپ کی محبت میں آپ کا کلمہ بھی پڑھنے لگ گیا ہوں۔۔میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ جو لوگ کلمہ میں اپنے پیر کا کلمہ محبت کی وجہ سے پڑھتے ہیں ان کی حالت کیسی ہوتی ہے اور وہ کس طرح اس کا اظہار کرتے ہیں:
ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو
بریلویوں کے معتمد علیہ صوفی بزرگ اور ولی غلام فرید اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:
حضرت مولانا فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے حضرت شیخ کے تمام مریدین برگزیدہ تھے اور محبت شیخ میں اس قدر محو تھے کہ کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘حضرت شیخ کے ڈر سے کہتے تھے ورنہ ان کا جی چاہتا تھا کہ شیخ کے نام کا کلمہ پڑھیں۔(مقابیس المجالس ص۶۷۱)
کوئی رضاخانی مجھے بتائے کہ شیخ اور پیر کی محبت میں کلمہ کون پڑھتا ہے کس کا دل چاہتا ہے کہ شیخ کی محبت میں اسلام کے کلمہ کی جگہ پیر کا کلمہ پڑھوں اور کون مظلوم غلطی اور بے اختیاری کی حالت میں بھی کلمہ سرزد ہوجانے پر روتا ہے۔اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَشِیْد ۔
انصاف ۔۔انصاف۔۔۔انصاف۔
(اعتراض):اچھا مجھے بتاؤ کہ اگر ایک شخص سارا دن کلمہ کفر بکتا رہے اور بعد میں عذر کرے کہ میں بے اختیار تھا زبان قابو میں نہیں تھی تو کیا اس کا عذر مسموع ہوگا۔۔؟؟مجھے بتاؤ ایک شخص سارا دن آپ کے مولانا تھانوی صاحب کو گالیاں دے اور پھر بعد میں عذر کرے کہ زبان قابو میں نہ تھی غلطی ہوگئی تو کیا آپ اس کو غلطی تسلیم کریں گے ۔۔نہیں نہ آپ تو یہی کہیں گے کہ دیکھو دیکھو ہمارے مولانا کی گستاخی کردی۔
(خاتم النبیین ﷺ کا غلام):جناب من آپ کے اس اعتراض کا زیر بحث واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہاں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ غلطی اس شخص سے ایک دفعہ سے زیادہ ہوئی اور وہ سارا دن یہ کلمہ پڑھتا رہا بلکہ بیداری میں غلطی صرف ایک ہی دفعہ ہوئی تھی اور ایک دو دفعہ ایسی غلطی کا خطاء لسانی سے ہوجانا اور وہ بھی کسی وحشت انگیر خواب سے آنکھ کھلنے کے بعد کہ بے خودی اور بے حسی کی حالت میں ہے عادۃ کچھ مستعبد نہیں ۔۔لیکن دن بھر کسی کی زبان کا یونہی بہکنا عادۃ مستعبد ہے البتہ اگر اس پر کسی خاص مرض کا حملہ ہوا ہو اور اس کی وجہ سے وہ بہکی بہکی باتیں کرے اور اسی حالت میں اس کی زبان سے کلمات کفر بھی نکلیں تو بے شک وہ کافر نہ ہوگا لیکن اس کو خاطی نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ ’’معتوہ‘‘اور ’’مجنون ‘‘قرار دیا جائے گا۔شریعت میں ایسے شخص کی عدم تکفیر کے بارے میں بھی اقوال موجود ہیں اگر ضرورت ہو تو پیش کردئے جائیں گے۔
آپ نے ایک یہ اعتراض بھی کیا کہ اگر آپ کے مولانا تھانوی ؒ کو کوئی گالیاں دے پھر زبان کی بے اختیاری کا بہانہ کرے تو کیا تم اس کو معاف کردو گے؟۔میں عرض کرتا ہوں کہ بے شک اگر قرائن اس کے عذر کی تکذیب نہ کریں تو ضرور ہم اس کو معاف کردیں گے مثلا کوئی شخص نیند سے اٹھایا جائے اور وہ اسی نیم خوابی کی حالت میں ہم کو یا ہمارے کسی عالم کو گالیاں دے اور بعد میں یہ عذر کرے کہ میں خواب میں دیکھ رہا تھا کہ میری آپ سے لڑائی ہورہی ہے اور میں آپ کو گالیاں دے رہا ہوں اور اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی اور بالکل بلا قصد میری زبان سے گالی نکل گئی اور اب میں بہت پشیمان ہوں ۔تو بے شک ہم اس کا عذر قبول کرلیں گے ۔اور اگر وہ جھوٹا نہیں ہے تو اللہ تعالی کے نزدیک بھی اس کا یہ عذر ضرور قبول ہوگا۔
لیجئے آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے اگر اور کوئی اعتراض ہو تو وہ بھی پیش کردیجئے میں آج ہر طرح سے حجت تمام کر دوں گا ۔
خواب کی تعبیر پر اعتراض
(اعتراض):بھائی یہ باتیں تو میری سمجھ میں آگئی ہیں لیکن اس خواب کی تعبیر صحیح نہیں آخر جب وہ غلط الفاظ کہہ رہا تھا تو اس کی تعبیر یہ کیوں دی کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے ۔۔معلوم ہوا کہ آپ کے حکیم الامت نبوت کا اعلان کرنے کے موڈ میں تھے۔
(خاتم النبیین ﷺ کا غلام):جناب معترض صاحب میں اس بات کی وضاحت پہلے کرچکا ہوں کہ خواب کا برا ہونا تعبیر کے برا ہونے کو مستلزم نہیں ہے باقی اس تعبیر کی خواب سے کیا منابست ہے تو کاش اعتراض کرنے سے پہلے کم سے کم اس کتاب کو ہی مکمل پڑھ لیتے جس میں یہ واقعہ لکھا ہوا کہ اسی کتاب میں اس کا جواب موجود ہے جو خود حضرت حکیم الامت ؒ نے دیا ملاحظہ ہو:
بعض اوقات خواب میں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں ہیں اور دل بھی گواہی دیتا ہے کہ حضور ﷺ ہی ہیں لیکن زیارت کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ شکل کسی اور کی ہے تو وہاں اہل تعبیر یہی کہتے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس شخص کے متبع سنت ہونے کی طرف پس جس طرح یہاں بجائے شکل نبوی کے دوسری شکل مرئی ہونے کی (یعنی دکھائی دینے کی)تعبیر اتباع سنت سے دی گئی ہے اسی طرح بجائے اسم نبوی ﷺ دوسرا ملفوظ ہونے کے تعبیر اگر اسی اتباع سے دیجائے تو اس میں کیا محذور شرعی لازم آگیا ۔(الامداد بابت ماہ جمادی الثانیہ ۱۳۳۶ھ ص ۱۹)
امید کرتا ہوں کہ خود حضرت حکیم الامت علیہ الرحمۃ کی اس وضاحت کے بعد اس کی تعبیر اور خواب میں مناسبت بھی عقل شریف میں آگئی ہوگی۔پھر یہ کہنا کہ اس سے نبوت کا اردہ ہے کس قدر گھٹیا سوچ ہے ذرا حضرت تھانوی ؒ کے الفاظ پر غور کریں وہ تو ’’متبع سنت‘‘ کے لفظ استعمال کرتے ہیں دور دور تک اس میں نبوت کی بو بھی نہیں یعنی جس کی طرف تم نے رجوع کیا ہے وہ تو آقا مدنی ﷺ کا غلام ہے ان کی سنتوں کا پیرو ہے ۔۔ان کی غلامی اور ان کے طور طریقوں کی پیروی کو اپنے لئے سرمایہ سمجھتا ہے ۔۔افسوس ۔۔افسوس !!! اس ضد اور ہٹ دھرمی کا ۔
قارئین کرام بنظر انصاف غور فرمائیں کہ اگر یہی واقعہ مرزا غلام قادیانی یا کسی دوسرے مدعی نبوت کے ساتھ پیش آتا تو کیا وہ بھی یہی لکھتا جو حضرت تھانوی ؒ نے لکھا ۔۔؟؟؟مالک عرش کی قسم وہ ہرگز یہ نہ لکھتا بلکہ اس کو اپنے دعوے کی روشن ترین دلیل کہتا ۔اور ہزار ہا تعداد میں اس مضمون کے اشتہار شائع کرواتا ’’جو لوگ میری نبوت و رسالت کے منکر ہیں خدا ان سے بجبر گردن پکڑے میری رسالت کا اقرار کراتا ہے اور میرا کلمہ پڑھواتا ہے‘‘۔میرا یہ نکتہ خاص کر ان حضرات کیلئے قابل غور ہے جو مرزا قادیانی کی سیرت کا تھوڑا بہت مطالعہ رکھتے ہیں ۔لیکن دوسری طرف حضرت تھانوی ؒ کیا جواب دیتے ہیں کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ تو حضور ﷺ کا غلام ہے متبع سنت ہے۔غور کریں کیا اس میں کوئی ایسا لفظ بھی ہے جس سے نبوت کی بو آتی ہے ۔کیا حضور ﷺ کی غلامی کا اقرار کرنا کوئی سنگین جرم ہے ۔
میرے دل کو دیکھ میری وفا کو دیکھ کر بندہ پرور منصفی کرنا خدا دیکھ کر
باقی خود بریلوی حضرات نے کس طرح مولوی احمد رضاخان کو نبوت کی مسند پر بٹھایا اور خود احمد رضاخان صاحب نے کس طرح نبوت کے دعوے کئے اس کیلئے میرا آرٹیکل ’’بریلویوں کا نبی کون۔۔؟؟ ملاحظہ فرمائیں اس کے علاوہ ’’گستاخ رسول ﷺ کون فیصلہ آپ کریں‘‘ بھی کافی مفید رہے گااس کا مطالعہ کریں طبعیت صاف ہوجائے گی۔اور انشاء اللہ آگے مستقبل میں اس پر باقاعدہ ایک مضمون ’’ بریلوی مذہب میں انبیاء کا مقام ‘‘ لکھنے کا ارادہ ہے۔
حضرت حکیم الامت ؒ کی طرف سے اعلان اور وضاحت
قارئین کرام لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت حکیم الامت ؒ کو اس تعبیر پر کوئی اصرار بھی نہیں ہے چنانچہ و ہ خود لکھتے ہیں کہ :
باقی مجھ کو اس پر اصرار نہیں اگر یہ خواب وسوسہ شیطانی ہو یا کسی مرض دماغی سے ناشی پیدا ہو ا ہواور اس کی تعبیر یہ نہ ہو یہ بھی ممکن ہے لیکن غلط تعبیر دینا صرف ایک وجدان کی غلطی ہوگی جس پر کوئی الزام نہیں ہوسکتا۔(الامداد ص ۲۰)
قارئین کرام انصاف فرمائیں کہ جب حکیم الامت ؒ خود کہہ رہے ہیں کہ مجھے اس تعبیر پر اصرار نہیں یہ غلط بھی ہوسکتی ہے اور ممکن ہے کہ شیطانی وسوسہ ہو پھر بھی یہ کہنا کہ اپنے مریدوں سے اپنے کلمہ پڑھواتے ہیں ۔۔نبوت کا دعوی کردیا ۔۔کس قدر ظلم ہے ۔الحساب یوم الحساب۔
انصاف ۔۔انصاف ۔۔انصاف۔
الزامی جواب
اس تمام تر تفصیل کے باوجود بھی اگر بریلوی حضرات کے استدلال کا یہی نہج ہے تو ہم ان کے مشکور ہونگے کہ وہ ذیل کے واقعات میں بھی اسی طرح تکفیری فتوے نافذ کرکے اس کی اسی طرح تبلیغ اور نشر و اشاعت کریں جس طرح وہ حضرت تھانوی اور دیگر اکابر علماء ؒ کے خلاف کرتے ہیں ،ملحوظ رہے کہ ہم نے جو کچھ لکھا وہ صرف استفسار ہے اس سے ہماری رائے کے متعلق کوئی خیال قائم کرنا شدید ظلم ہوگا یہاں ہم کو بریلوی کے ان مفتیان کرام کی انصاف پسندی کا امتحان کرنا مقصود ہے اور بس ۔قارئین کرام آپ بھی ذرا ان مفتیان کا انصاف اور ان کی دیانت ملاحظہ فرمالیں۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ
آپ نے پھر ایک اور واقعہ بیان کیا کہ میں اور بہت سے اہل صفا جناب معین الدین ؒ کی خدمت میں حاضر تھے اولیاء اللہ کے متعلق گفتگو ہورہی تھی اس موقع پر ایک شخص آیا بغرض بیعت آپ کے قدموں پر سر رکھ لیا ۔آپ نے بیٹھنے کیلئے کہا وہ بیٹھ گیا آپ اپنی خاص حالت میں تھے آپ نے فرمایا کہ میں جو کچھ کہوں گا وہ کہو گے تو مرید کروں گا اس نے عرض کی حکم بجا لاوں گا فرمایا تو کلمہ کس طرح پڑھتا ہے اس نے کہا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ آپ نے فرمایا کہو لاالہ الا اللہ چشتی رسول اللہ ۔اس نے اس طرح کہا تو آپ نے حلقہ بیعت میں داخل کردیا خلعت اور نعمت عطا کی۔(فوائد السالیکن ،ہشت بہشت مجموعہ ملفوظات مشائخ چشت ص ۱۵۱)
حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ کا ملفوظ
ایک مرتبہ کوئی شخص شیخ شبلی ؒ کی خدمت میں مرید ہونے کیلئے آیا آپ نے فرمایا کہ اس شرط پر مرید کرتا ہوں کہ جو کچھ میں کہوں وہی کرے۔عرض کی ویسا ہی کروں گا ۔پوچھا کلمہ طیبہ کس طرح پڑھتے ہو عرض کی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔فرمایا اس طرح پڑھو لاالہ الا اللہ شبلی رسول اللہ ۔مرید نے فورا اسی طرح پڑھا ۔(فوائد الفواد ،مجلس ۸ج ۵ ،ہشت بہشت ص ۱۰۱۲)
بریلوی اکابرین کے حوالے
بریلوی پیرخواجہ فرید کا حوالہ
پیر فرید کوٹ مٹھن والے(المتوفی ۱۹۰۱) کا شمار بریلوی اکابرین اور اولیاء اور معتمد علیہ بزرگوں میں ہوتا ہے ۔ان کے تفصیلی حالات ان کے ملفوظات ’’مقابیس المجالس‘‘ میں موجود ہے جس کا اردو ترجمہ ’’ارشادات فریدی‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے مقابیس المجالس ان کے خلیفہ خاص ’’مولانا رکن الدین ‘‘ نے ان کے سامنے حرف حرف پڑھ کر سنائی اور اس کی تصحیح و توثیق کروائی (ص۵۰۹)۔تذکرہ علمائے اہلسنت میں ان کو ان القابات سے یاد کیا گیا ہے کہ :
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین چاچڑاں شریف (تذکرہ علمائے اہلسنت والجماعت لاہور ص۲۰۸)۔
شیخ الشیوخ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ (ایضا ص ۲۰۹)
بریلویوں کے پیر ’’پیر نصیرالدین ‘‘ سجادہ نشین گولڑہ شیرف لکھتے ہیں کہ :
حضرت خواجہ غلام فرید کی زبان حق ترجمان(لطمۃ الغیب ص ۱۵۹)
وابستگان سلسلہ چشتیہ کے نزدیک بالعموم اور بصیر پوری و سیالوی صاحب کے نزدیک بالخصوص مستند و حجت کتاب مقابیس المجالس ۔(لظمۃ الغیب ص ۲۱۰)۔
پیر فرید کوٹ مٹھن والے کہتے ہیں:
ایک شخص خواجہ معین الدین چشتی کے پاس آیا اور فرمایا مجھے اپنا مرید بنالیں فرمایا کہہ لاالہ الا اللہ چشتی رسول اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں چشتی اللہ کا رسول ہے۔(فوائد فریدیہ ص ۸۳)
(خبردار):فوائد فریدیہ خواجہ غلام فرید ہی کی تصنیف ہے ۔خواجہ غلام فرید کے ملفوظات کے مستند مجموعہ ’’مقابیس المجالس ‘‘ میں اس کتاب کو غلام فرید کی تصانیف میں شمار کیا گیا ہے ۔اسی طرح رضاخانی نام نہاد مناظر محمد حن علی رضوی اپنی کتاب ’’برق آسمانی ‘‘ میں اس کو خواجہ غلام فرید کی تصنیف تسلیم کیا ہے اصل عبارت ملاحظہ ہو:
بہر حال اتنا ضرور ہے کہ مصنف نے جس ’’فوائد فریدیہ کا نا تمام و غیرمکمل حوالہ دیا ہے وہ حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے ۔۔۔۔۔۔اب جبکہ یہ ثابت اور مسلم ہے کہ فوائد فریدیہ خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے۔(برق آسمانی ص ۹۸،ناشر البرہان پبلیکیشنز لاہور)
ان تمام کتب و حوالی جات کے اصل صفحات سکین ہمارے پاس موجود ہیں اور مطالبہ پر اصل صفحات کے عکس بھی پیش کردئے جائیں گے۔
سجادہ نشین بیر بل شریف صاحبزادہ محمد عمر کا کلمہ انگریز اللہ کے رسول ہیں

زاں بعد آپ نے فرمایا کہ کہو لا الہ الا اللہ انگریز رسول اللہ ۔لاالہ الا اللہ لندن کعبۃ اللہ وہ بے چارہ ہیبت سے لرز رہا تھا ۔اور مجلس دم بخود تھی اور برابر پڑھ رہا تھا ۔(انقلاب حقیقت فی التصوف والطریقت ،ملفوظ نمبر ۷۲)۔
کیا بریلویوں نے کبھی ان کتابوں پر بھی فتوے لگائیں ہیں ۔۔؟؟؟کبھی ان کو بھی کافر کہا ہے ۔۔اور اب جب یہ حوالہ ان کے سامنے آگئے تو اب ان کے مصنفین کے بارے میں بریلوی کے ’’دارالافتاء ‘‘ جس سے کفر کے فتوے ’’تھوک ریٹ‘‘ میں دستیاب ہیں کیا فتوی لگائیں گے؟؟ ۔۔انصاف شرط ہے۔قارئین کرام غور فرمائیں کہ جو لوگ سر عام زبردستی لوگوں سے انگریز کے کلمہ پڑھواتے رہیں لندن کو اللہ کا کعبہ نعوذ باللہ تسلیم کرواتے رہیں وہ تو پکے ٹکے مسلمان ولی سجادہ نشین سنی عاشق رسول ﷺ اور جن سے خواب میں ایسی غلطی واقعہ ہوجائے اس پر وہ شرمندہ بھی ہوں احساس ندامت کی وجہ سے سارا دن رو رہے ہوں ۔۔بے اختیار ہوں ۔۔مجبور ہوں ۔۔وہ کافر ۔۔۔۔ان کو مسلمان کہنے والا یا سمجھنا والا بھی کافر۔۔۔۔۔فوااسفا۔۔الحساب یوم الحساب ۔۔ایک دن سب نے مرنا ہے ۔۔اور قیامت کا دن اسی قسم کی نا انصافیوں کا حساب چکانے کیلئے ہے ۔
انصاف۔۔۔ انصا ف۔۔۔ انصاف
رضاخانی درود
رضاخانیوں کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ حضرت تھانو ی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید نے ان پر درود پڑھا مگر یہ اعتراض کرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں میں نیچے بریلوی ملاؤں کی کتاب کے سکین صفحات دے رہا ہوں جس میں وہ تھوک ریٹ کے حساب سے اپنے مولویوں اور اکابرین پر درود بھیج رہے ہیں اور کوئی معمولی درود بھی نہیں بلکہ درود ابراہیمی ۔۔اور کم بختی تو ملاحظہ ہو کہ حضور ﷺ پر درود بھیجتے ہوئے ان کیلئے ضمیر غائب کو ذکر کررہے ہیں اور اپنے ملاؤں پر نام لے لے کر درود پڑھ رہے ہیں ۔۔امید ہے کہ بریلوی انصاف کرتے ہو ئے اور خدا کا خو ف دل میں رکھتے ہوئے ان پر بھی اسی طرح گستاخی رسول ﷺ اور کفر کا فتوی لگائیں گے جس طرح حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ پرلگایا ہے۔
مولوی عمر اچھروی یہ بات بخوبی یاد رکھیں
قیامت کے دن ہمارا اصلی کلمہ اسلام
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ
اور درود شریف ابراہیمی تمہارے بہتان عظیم اور سنگین الزام کے خلاف جھگڑتا ہوا آئے گا کہ تم نے
دنیا میں چند روز رہ کر علمائے اہلسنت دیوبند پر کیسے کیسے
ظلم و ستم کے تیر برسائے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔