جمعرات، 27 اگست، 2015

بریلوی معترض پر خدا کا غضب

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بریلوی معترض پر خدا کا غضب
بجواب
دیوبندیوں کے غوث اعظم رشید احمد گنگوہی کا شجرہ نسب
ساجد خان نقشبندی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک جاہل رضاخانی کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے
کہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے نسب میں قاضی پیر بخش (والد کی طرف سے ) اور فرید بخش (والدہ کی طرف سے) کے نام آتے ہیں اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے نام رکھنے والے مسلمانوں کو شرک میں مبتلا ہونے کو کہا ہے ۔۔لہٰذا حضرت گنگوہی صاحب کے دادا اور نانا مشرک ہوئے اور وہ نجیب الطرفین ایوبی نہ ہوئے اس لئے ان کا شجرہ بچانے کیلئے تقویۃ الایمان سے بیزاری ضروری ہے۔(محصلہ)
جواب
دراصل یہ اعتراض رضاخانی مذہب کے حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی نے اپنی کتاب جاء الحق اور مولوی نصیر الدین سیالوی نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے موصو ف نے بغیر حوالہ دئے ان کا مواد سرقہ کیا ہے اور پھراس کواپنے نام سے شائع کردیا پھر اس پر لاف و گزاف بھی کرتے ہیں۔۔تف ہے ایسی دیانت پر۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود اس مذہب کے حکیم الامت کی عبارت آپ کے سامنے نقل کردیں تاکہ ان کی ذہنی پستی کا بھی آپ لوگوں کو اندازہ ہوجائے اور اس کے بعد تفصیلی جواب ملاحظہ فرمائیں۔

لطیفہ:تقویۃ الایمان میں علی بخش پیر بخش غلام علی مدار بخش عبد النبی نام رکھنے کوشرک کہا مگر تذکرۃ الرشید حصہ اول ص ۱۳ میں رشید احمد صاحب کا شجرہ نسب یوں ہے مولانا رشید احمد بن مولانا ہدایت ابن قاضی پیر بخش ابن غلام حسین ابن غلام علی ۔اور ماں کی طرف سے نسب نامہ یوں لکھا ہے رشید احمد ابن کریم النساء بنت فرید بخش ابن غلام قادر ابن محمد صالح ابم غلام محمد ۔دیوبندی بتائیں کہ مولوی رشید احمد صاحب کے خاندانی بزرگ مشرک مرتد تھے یا نہیں؟اگر نہیں تو کیاں؟اگر تھے تو مرتد کی اولاد حلالی ہے یا حرامی۔(جاء الحق ص ۳۸۷)
جواب
لاحول ولا قوۃ الا بااللہ شیطان اور اس کی اولاد سے پناہ ۔۔مفتی احمد یار گجراتی کی ذریت خبیثہ سے ہماراسوال ہے کہ اگر ماں باپ یا دادا نانا کے مشرک اور کافر ہونے سے اولاد حرامی ہوجاتی ہے تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر کیا فتوی ہے ۔۔؟؟؟
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا شجرہ نسب
ابو عبد اللہ البخاری محمد بن اسمعیل بن ابراہیم بن المغیرۃ بن بردزبہ
بردزبہ کے بارے میں ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ ’’پارسی ‘‘ مجوسی تھے۔۔(سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۳۹۱)
بریلویوں لگاؤ امام بخاری پر فتوی کہ معاذ اللہ معاذ اللہ وہ بھی ثابت النسب اور حلالی نہ تھے ۔۔۔۔ہے اتنی ہمت ۔۔۔؟؟؟؟
پیر مہر علی شاہ گولڑوی مرحوم کا شجرہ نسب
قارئین مولوی احمد رضاخان اپنی کتاب ’’احکام شریعت‘‘ میں لکھتا ہے کہ :
نظام الدین محی الدین تاج الدین اور اسی طرح وہ تمام نام جن میں مسمی کا معظم فی الدین ہونا نکلے جیسے شمس الدین بدر الدین نور الدین فخر الدین شمس الاسلام محی الاسلام بدر الاسلام وغیرہ ذالک سب کو علمائے کرام نے سخت ناپسندیدہ رکھا اور مکروہ و ممنوع رکھا ۔(احکام شریعت ،ص ۹۸)
اب ذار پیر مہر علی شاہ صاحب کا شجرہ نسب بھی ملاحظہ فرمالیں:
سید مہر علیشاہ ابن سید نذر دین شاہ ابن سید غلام شاہ ابن سید روشن دین ابن سید عبد الرحمن نوری ابن سید عنایت اللہ ابن سید غیاث علی ابن سید فتح اللہ ابن سید اسد اللہ ابن سید فخرالدین۔۔۔۔۔
اور پھر آگے چل کر تاج الدین۔۔اوروالدہ کی طرف سے نسب میں سید صدر الدین کا نام آتا ہے۔۔
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ احمد رضاخان نے ا سکو سخت ناپسند مکروہ کہااور مطلق مکروہ حرام پر بولا جاتا ہے ۔۔تو کیا پیر صاحب کے آباؤ اجداد نے ایک حرام کام کو حلال سمجھ کر کیا اور کیا حرام کو حلال سمجھنے والے مسلمان ہوسکتے ہیں۔۔۔؟؟؟اگر ہا ں تو کیسے؟ ۔۔اگر نہیں تو پیر صاحب کے نسب کے بارے میں کیا فتوی ہے کہ آیا وہ معاذ اللہ حلالی رہے یا حرامی۔۔۔؟؟؟ان کے آباؤ اجداد فاسق فاجر تھے یا مشرک؟۔۔۔اور کافر یا مسلمان؟۔۔۔
بریلویوں ۔۔اب بتاؤ پیر صاحب کو نجیب الطرفین سید ثابت کرنے کیلئے احمد رضاخان کی کتابوں پر تین حرف بھیجنے پڑیں گے یا نہیں؟
احمد رضاخان کا فتوی اور بریلوی ملاں کے ماں باپ کا ایمان
اسی احکام شریعت میں احمد رضاخان لکھتا ہے کہ:
لوگوں سے دیکھئے کیا اپنی اولاد کانام شیطان ملعون رافضی خبیث خوک وغیرہ رکھنا گوارا کریں گے ؟ہر گز نہیں تو قطعا معنی اصلی کی طرف لحاظ باقی ہے پھر کس منہ سے اپنے آپ اور اپنی اولاد کو نبی کہلواتے ہیں کیا کوئی مسلمان اپنا یا اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ خاتم النبیین یا سید المرسلین نام رکھنا روا رکھے گا؟حاشا و کلا۔پھر محمد نبی ،احمد نبی ،نبی احمد کیونکر روا ہوگیا یہاں تک کہ بعض خدا نا ترسوں کا نام نبی اللہ سنا ہے۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔کیا رسالت و ختم نبوت کا ادعاء حرام ہے اور نری نبوت کا حلال؟ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے ناموں کو تبدیل کردیں۔(احکام شریعت ،ص ۹۴،۹۵)
اس عبارت سے معلوم ہوا نبی احمدنام رکھنا حرام ہے اس کا تبدیلی کرنا ضروری ہے یہ نام رکھنا گویا نبوت کا دعوی کرنا ہے ۔۔
اب اٹھاؤ عبد الحکیم شرف قادری کی کتاب ’’تذکرہ اکابر اہلسنت ‘‘ کھولو اس کاص ۵۲ جس پر اس نے اپنی جماعت کے ایک بزرگ کا تعارف دیا ہے جس کانام
خواجہ نبی احمد
بریلوی جاہل معترضین بتائیں کہ کیا نبی احمد کے والدین نے اپنے بیٹے کیلئے نبوت کے دعوے کو پسند کیا ۔۔؟؟؟کیا انھوں نے حضور ﷺ کی نام کی توہین نہ کی۔۔؟؟؟اگر نہیں تو کیسے ۔۔؟؟اگر ہاں تو کیا نبی احمد صاحب کے والدین مسلمان رہے۔۔؟؟؟اور بدون تجدید ایمان و نکاح ان کی ہمبستری زنا خالص اور اولاد ولد الحرام ہوئی یا نہ ہوئی۔۔۔؟؟؟
یا تو جواب ہاں میں دو یا اپنے مولویوں اور ان کے والدین کو حلالی ا ور مسلمان ثابت کرنے کیلئے احمد رضاخان کی کتاب پر لعنت بھیجو اورآپ ہی کی زبان میں
غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
بلائے صحبت لیلےٰ و فرقت لیلےٰ
بریلوی ہمارے سوال کا جواب دیں
اگر ماں باپ یا دادا نانا کے مشرک ہونے سے اولاد حرامی ہوجاتی ہے جیسا کہ احمد یار گجراتی نے کہا تو ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر کیا فتوی ہے جن کے ماں باپ مشرک تھے۔۔۔؟؟؟؟
مقدس ہستیوں کے نسب میں مشرکانہ نام
*حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ہیں اور حضو ر ﷺ کی والد ہ محترمہ حضرت طیبہ طاہری سیدہ آمنہ خاتون کے شجرہ نسب میں ’’عبد مناف‘‘ کا نام آتا ہے جو ’’مناف‘‘ بت کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔
* حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ورقہ ابن نوفل کے سلسلہ نسب ’’عبد العزی‘‘ سے جاملتا ہے اور ’’عزی ‘‘بت کا نام تھا۔
* حضرت خواجہ ابو طالب کا اصل نام ’’عبد مناف ‘‘تھاان کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔
* حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا ان کا نکاح ابو لعاص بن ربیع بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی ۔سے ہوا۔
* ام المومنین سودہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر ۔۔۔
* ام المومنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان بن امیہ بن عبد الشمس بن عبد مناف بن قصی۔
غرض فہرست طویل ہے یہ چند مقدس و مکرم ہستیوں کے شجرے میں نے نقل کردئے ہیں ۔۔۔اب احمد یار گجراتی کی ذریت ناپاک جس میں
شان اسلم بھی شامل ہے ہمیں جواب دیں کہ ہم تمہار ے قائم کردہ اصول کے تحت ان پر کیا فتوی لگائیں۔۔۔؟؟؟؟
بریلویوں کچھ تو شرم کرو کہ تمہارے ان گستاخ قلموں سے کیسی کیسی مقدس شخصیات پر حرف آرہاہے۔۔۔دراصل تمہارا حقیقی مقصد بھی اسلام کی انہی مقدس ہستیوں پر نکہ چینی کرنا ہوتا مگر عوام کے خوف وڈرسے نام علمائے اہلسنت کا لیتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراصل قارئین کرام یہ بریلوی حضرات کا محض افتراء ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے یہ فتوی دیا ہے کہ پیر بخش یا فرید بخش نام رکھنے والا مشرک اور مرتد ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی بات کا مقصد یہ تھاکہ چونکہ عام طور پر ہندوستان کے معاشرے میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیٹا فلاں بزرگ نے دیا ہے یہ فلاں نے پھر انہی کی نسبت سے لوگ اپنی اولاد کی نسبت ان زبرگان دین کی طرف کرتے ہیں اس لئے ایسے ناموں میں چونکہ شرک کا شائبہ ہے اس لئے اس سے پرہیز لازم ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو بھی یہ نام رکھے گا اسکاعقیدہ یہی ہوگا بلکہ بعض اوقات عرف کی وجہ سے بھی لوگ اس قسم کے نام رکھ لیتے ہیں حالانکہ ان کے معنی یا مراد کی طرف ہرگز ان کا دھیان نہیں ہوتا جیسا کہ احمد رضاخان نے کہا کہ میں نے خود بعض لوگوں کا نام رسول اللہ سنا حالانکہ کوئی بھی یہ نام اس وجہ سے نہیں رکھتا کہ وہ معاذ اللہ حقیقت میں اللہ کا رسول ہے ۔
غرض ان کا مقصد صرف بطور تہدید و تنبیہ کے تھا کہ اس قسم کے ناموں میں شرک کا شائبہ موجودہے اس لئے نہ رکھے جائیں نہ یہ کہ رکھنے والا ہی مرتد کافر اور مشرک ہوجاتا ہے۔
جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑنے والا کافر ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ باوجود استطاعت کے حج نہ کرنے والا یہودیت اور نصرانیت پر مرنے والا ہے۔تو علماء نے ان احادیث کی تشریح میں یہی کہا کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مسلمان مشرک یا کافر یا یہودی ہوجاتا ہے بلکہ یہ قول صرف بطور توبیخ و تہدید کے ہے۔
ہم نے مختصر اپنی معروضات پیش کردیں ہیں۔جب فریق مخالف کی طرف سے اس کا کوئی جواب الجواب آئے گاتو انشاء اللہ مزید وضاحت کی جائے گی۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔