منگل، 4 اگست، 2015

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا یزید کے متعلق فتوٰے کی وضاحت

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا یزید کے متعلق فتوٰے کی وضاحت
از افاداتِ حضرت مولانا ساجد خان نقشبندی صاحب حفظہ اللہ
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی سائٹ پر ایک شخص نے سوال کیا تھا کہ کیا یزید کے ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاسکتا۔سوال کے مطابق جواب دیا گیا کہ
سلف صالحین سے ثابت ہے کہ رضی اللہ عنہ صحابہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور غیر صحابہ کے لئے رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور پڑھا جاتا ہے جیسے تابعین وغیرہ۔اس وجہ سے یزید کے لئے رحمۃ اللہ علیہ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
کچھ فتنہ پرور لوگ یہاں دھوکہ دیتے ہیں کہ جب اہل سنت والجماعت کا اس معاملے میں سکوت ہے تو رحمۃ اللہ علیہ استعمال کرنے کا کیا مطلب۔ اس سلسلے میں عرض ہےکہ سکوت اس کو لعن طعن کرنے اور کافر کہنے میں ہے اس کے فسق بیان کرنے میں نہیں رہا رحمۃ اللہ علیہ تو اکابر علماء دیوبند یزید کو فاسق فاجر مانتے ہیں کافر نہیں اور ظاہر ہے کہ فاسق بھی خدا کی رحمت کا محتاج بلکہ اصل محتاج ہی فاسق ہے لہذا اگر کوئی اس کے گناہوں پر اس کیلئے اللہ سے رحمت کی دعا کرلے کہ یا اللہ تھا تو وہ ظالم فاسق مگر تو ہی بخشنے والا ہے لہذا اس پر بھی رحم فرماتو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اب ذرا رضاخانی اپنے گھر کا گند پڑھ لیں تاکہ دوبارہ اس قسم کے اعتراض کی جرات نہ ہو۔
مولوی عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتا ہے :
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی تھے ان کا بیٹا یزید تابعی تھا طبقہ وسطی تابعین میں یعنی جس طبقہ میں حسن بصری اور ابن سیرین ہیں یہ اسی طبقہ میں تھا۔(انوار ساطعہ ،ص۷۱،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اس کتاب پر احمد رضاخان بریلوی کی تقریظ بھی موجودہے ۔تم یزید کو حسن بصریؓ اور ابن سیرین ؒ کے طبقہ کا تابعی کہو تو کوئی بات نہیں اپنا یہ عقیدہ بھی تو لوگوں کے سامنے لاؤ پھر نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے : خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم بہترین لوگ میرے صحابہ ہیں پھر تابعین پھر تبع تابعین تو تمہارے مذہب میں تو معاذ اللہ یزید کا درجہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے بعد ہے۔
یزید کیلئے رحمت کی دعا کرنا مستحب ہے:
غلام رسول سعیدی علامہ حلبیؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں : امام غزالی سے پوچھا گیا جو شخص صراحۃ یزید پر لعنت کرے کیا وہ فاسق ہے ؟ اور کیا یزید کیلئے دعا رحمت صحیح ہے ؟ امام غزالی نے جواب دیا جو شخص اس پر لعنت کرے گا وہ فاسق و گناہگار ہوگا کیونکہ مسلمانوں پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے اور ہمیں جانوروں پر بھی لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حدیث شریف کے بموجب مسلمان کی عزت کعبہ سے زیادہ ہے یزید کا اسلام صحیح ہے اور یہ صحیح نہیں ہے کہ اس نے حضرت حسینؓ کو قتل کرنے کا امر کیا یا ان کے قتل پر راضی ہوا اور جو چیز صحیح نہیں ہے اس کا گمان کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ مسلمان کے ساتھ بدگمانی جائز نہیں ہے اورجب حقیقت حال معلوم نہیں تو یزید کے ساتھ حسن ظن کرنا واجبب ہے علاوہ ازیں قتل کرنا کفر نہیں ہے معصیت ہے اور اس کیلئے رحمت کی دعا کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے ‘‘۔ ( شرح مسلم ،ج۳،ص۶۲۲ فرید بک سٹال لاہور)
رضاخانیو! امام غزالیؒ یزید کو نہ صرف مسلمان بلکہ رحمۃ اللہ علیہ اور کعبہ سے زیادہ ان کی عزت بتارہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یزید کے متعلق جتنی بھی فسق کی باتیں ہیں تو یہ درست نہیں اور اس کو تمہارا شیخ الحدیث نقل کررہا ہے تو اب اگر غیرت ہے تو لگاؤ ان پر بھی معاذ اللہ خارجیت کا فتوی یہ قول اگر خوانخواستہ کوئی اہل سنت دیوبندی اختیار کرلیتا تو رضاخانی آسمان سر پر اٹھالیتے کہ گستاخ اہل بیت ہیں خارجی ہیں مگر امام غزالی کے نام پر چونکہ عوام سے روٹیاں لینی ہیں اس لئے دیکھنا اب منہ پر تالا لگ جائے گا ۔ یاد رہے کہ امام غزالیؒ کا یہ موقف جمہور کے خلاف ہے اور ہم بھی اس سے متفق نہیں تفصیل آگے آرہی ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔