جمعہ، 14 اگست، 2015

کیا علمائے اہلسنت دیوبند انگریز کے خیر خواہ تھے؟ (حصہ اول)


بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا علمائے اہلسنت دیوبند انگریز کے خیر خواہ تھے۔۔؟؟
ساجد خان نقشبندی
(یہ مضمون ایک بریلوی کے چند اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا تھا مضمون کی افادیت کی بناء پر اس میں مزید اعتراضات اور ان کے جوابات شامل کرکے ترمیمی اضافوں کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔نیز یہ مضمون اب ہدیہ بریلویت میں بھی شامل ہے ۔ماخوذ ازکتاب دفاع اہل السنۃ والجماعۃ از ساجد خان نقشبندی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراض نمبر۱:

مکالمۃ الصدرین ص۷ میں ہے کہ جمعیت علماء اسلام حکومت کی مالی امداد اور اس کی ایماء پر قائم ہوئی۔
جواب: بریلوی حضرات کا یہ دعوی سرے سے باطل ہے۔
(اولا): اس لئے کہ مکالمۃ الصدرین کوئی مستند کتاب نہیں اگر اس کتاب میں درج شدہ باتیں واقعۃ کوئی مکالمہ تھا تواس پر فریقین کے سربراہوں کے دستخط ہونے چاہئے تھے۔جب کہ اس پر نہ تو حضرت مولانا مدنی ؒ کے دستخط ہیں اور نہ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے۔اصل حقیقت اس کی فقط اتنی ہے کہ نظریہ قومیت کے اختلاف کے دنوں میں جمعیۃ علماٗ ھند کے ارکان کا ایک وفد حضرت شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی صاحب ؒ کی تیمارداری کیلئے ان کے مکان پر حاضر ہوا۔اس ملاقات میں چند ایک اختلافی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ارکان جمعیہ اور حضرت علامہ ؒ کے سوا اس مجلس میں کوئی اور شخص موجود نہ تھا ۔جمعیۃ علمائے ہند کے مخالفین کو جب اس ملاقات کا علم ہوا تو ان بزرگوں کا آپس میں مل بیٹھنا سخت ناگوار گزرا۔چنانچہ ان مخالفین نے بتوسط مولوی محمد طاہر صاحب حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب ؒ کی شخصیت کو استعمال کرکے ایسی صورت حال پیدا کردی کہ ان بزرگوں کو دوبارہ آپس میں مل بیٹھنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔مولوی محمد طاہر صاحب نے کچھ باتیں تو حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے حاصل کیں اور بہت سی باتیں اپنی طرف سے ملا کر مکالمۃ الصدرین کے نام سے رسال طبع کرادیا۔اس رسالہ کے غیر مستند ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے مرتب یعنی مولوی محمد طاہر بزرگوں کی اس ملاقات میں سرے سے شریک ہی نہیں تھے چنانچہ حضرت مدنی ؒ فرماتے ہیں کہ:
مگر خود غرض چالاک لوگوں نے نہ معلوم مولانا (عثمانی)کو کیا سمجھایا اور کس قسم کا پروپگینڈا کیا کہ کچھ عرصہ بعد یہ رسالہ مکالمۃ الصدرین شائع کردیا گیا۔جس میں نہ فریقین کے دستخط ہیں نہ فریق ثانی (اراکین جمعیہ)کو کوئی خبر دی گئی نہ ان میں سے کسی سے تصدیق کرائی گئی۔خود مولانا موصوف کے دستخط بھی نہیں بلکہ مولوی محمد طاہر صاحب کے دستخط ہیں جو اثنائے گفتگو میں موجود تک نہ تھے(کشف حقیقت ص ۸)
ارکان جمعیۃ کو جب اس رسالہ کی اشاعت کا علم ہوا تو عوام کے بے حد اصرار پر حضرت مولانا مدنی ؒ نے ۱۳۶۵ ؁ ھ بمطابق ۱۹۴۶ ؁ء میں کشف حقیقت کے نام سے اس کا جواب لکھاجو دلی پریس پرنٹنگ سے طبع ہوا(یہ کتاب آپ کو ہماری سائٹ اہلحق پر بریلویوں کے رد میں کتابوں کے سیکشن میں مل جائے گی)جن میں انھوں نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ رسالہ مذکورہ اس کے مرتب کے ذہن کی اختراع ہے جسے غلط طور پر علامہ عثمانی ؒ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے چنانچہ حضرت علامہ مدنی ؒ فرماتے ہیں کہ :
مکالمہ مذکورہ مولوی محمد طاہر صاحب ہی کا اثر خامہ اور ان ہی کے فہم و خیالات کا نتیجہ ہے۔اور ہماری باہمی گفتگو کو صرف ان خیالات و افکار کا حیلہ بنایا گیا ہے اور اسی لئے یہ حقیقت سے دور اور کذب و افتراء کا مجموعہ ہے۔(کشف حقیقت ص ۹)
نیز فرماتے ہیں کہ
اگر واقع میں یہ تمام تحریر مولانا شبیر احمد عثمانی کی مصدقہ تھی تو مولانا نے اس پر دستخط کیوں نہ فرمائے ؟اور اگر اس میں صداقت اور واقعیت تھی تو قبل اشاعت جمعیت کو دکھایا کیوں نہیں گیا۔(کشف حقیقت ص ۱۰)
یعنی حضرت علامہ عثمانی ؒ کا اس پر دستخط نہ کرنا ہی اس چیز کی دلیل ہے کہ یہ رسالہ ان کا مصدقہ نہیں بلکہ مخالفین نے ان بزرگوں کے درمیان مزید بعد پیدا کرنے کیلئے اس کی نسبت حجرت علامہ عثمانی ؒ کی طرف کردی۔چنانچہ حضرت مولانا مدنی ؒ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
چونکہ اس (مکالمۃ الصدرین)کی نسبت علامہ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کی طرف کی گئی ہے اس لئے اس سے لوگوں کو بہت سے شبہات اور خلجانات پیدا ہوئے اور وہ ہماری طرف رجوع ہوئے۔دیکھنے سے معلوم ہوا کہ بلاشبہ اس میں اکذیب اور غلط بیانیاں ہیں کہ جن کو دیکھ کر ہماری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی اور بغیر افسوس اور انا للہ و انا الیہ رجعون پڑھنے کے اور کوئی چارہ کار نظر نہ آیا(ایضا ص ۴)
ان حقائق سے صاف طاہر ہے کہ مکالمۃ الصدرین کوئی مستند اور مصدقہ کتاب نہیں یہ ایک غیر مستند کتاب ہے تو اس پر کسی دعوے کی بنیاد رکھنا ہی سرے سے غلط ہے میری تمام بریلوی حضرات سے گزارش ہے کہ خود کشف حقیقت کا مطالعہ کریں جو ہماری سائٹ سے فری میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ پر تاریخ کے کئی مخفی راز عیاں ہونگے۔
ثانیا: یہ بات مولانا حفظ الرحمن صاحب سے نقل کی گئی مکالمۃ الصدرین میں اور مولانا نے خود ان تمام باتوں کی تردید کی ہے کشف حقیقت میں اس تردید کی تفصیل موجود ہے جس میں سے کچھ عبارتیں ہم آئیندہ پیش کریں گے ۔پس جب کتاب غیر مستند اس کی راوی کی تردید موجود تو ایسے حوالے سے استدلال کرنا سوائے دل ماؤف کو تسکین دینا نہیں تو اور کیا ہے۔
ثالثا: خود مکالمۃ الصدرین کے آگے والے صفحہ میں یہ عبارت موجود ہے کہ انگریز کی طرف سے یہ نوٹ لکھاگیا کہ
ایسے لوگوں یا انجمنوں پر حکومت کا روپیہ صرف کرنا بالکل بے کار ہے اس پر آئیندہ کیلئے امداد بند ہوگئی۔(مکالمۃ الصدرین،ص۸)
پس اگر جمعیت علمائے اسلام انگریز حکومت کی حمایت یافتہ تھی اور اس کی پشت پناہی حاصل تھی تو انگریز نے یہ حمایت اور یہ امداد بند کیوں کردی ۔۔ ؟؟؟اور کیوں یہ کہا کہ ایسے انجمنوں پر پیسہ لگانا فضول ہے۔
اس سے آپ حضرات ’’سابقہ دیوبندی کلین شیو‘‘ خلیل رانا صاحب کے دجل و فریب کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔
باقی رہا جمعیت علمائے ہند کا انگریز کے خلاف جدوجہد تو الحمد للہ اس پر اب تک پوری پوری کتابیں لکھی جاچکی ہیں اس جماعت کو ایسے اکابرین بھی ملے جنھوں نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگیاں جیلوں میں گزار دیں میں یہاں صرف ایک حوالہ پیش کرتا ہوں:
جمعیت علمائے ہند کے ۱۹۲۰ کے اجلاس میں جو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ہوا انگریز کے خلاف یہ فتوی صادر کیا گیا:
مسلمانوں کیلئے ایسی ملازمت جس میں دشمنان اسلام (انگریز)کی اعانت و امداد ہو اور اپنے بھائیوں کو قتل کرنا پڑے قطعا حرام ہیں۔
اس فتوے پر چار سو چوہتر علماء نے دستخط کئے اور اسی فتوے کے بعدتحریک ترک موالات شروع ہوئی ۱۹۲۱ میں جمعیت کا یہ فتوی ضبط کرلیا گیا مگر جمعیت نے قانون شکنی کرکے بار بار اس کو شائع کیا ۔اور اسی تحریک میں حضرت شیخ الہندرحمۃ اللہ علیہ اور مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ ’’اسیر مالٹا‘‘ ہوئے ۔ غور فرمائیں انگریز کی روٹیوں پر پلنے والے اس طرح ہوتے ہیں؟؟۔اگر یہ لوگ بھی انگریز کی جوتیاں چاٹنے والے ہوتے تو جیلیں آباد کرنے کے بجائے احمد رضاخان کی طرح ساری زندگی ’’بریلی ‘‘ کے ایک حجرے میں بیٹھ کر ہر اس تحریک پر کفر کا فتوی لگاتے جو انگریز کی مخالفت پر کمر بستہ ہو۔

اعتراض نمبر۲:تبلیغی جماعت کو بھی ابتداء میں حاجی رشید احمد کے ذریعہ حکومت سے کچھ روپیہ ملتا۔مکالمۃ الصدرین،ص۸۔
جواب:اس سے بھی فریق مخاف کو کوئی فائدہ نہیں
اولا: اس لئے کہ مکالمۃ الصدرین کی حقیقت پہلے بیان ہوچکی ہے وہ غیر معتبر کتاب ہے لہٰذا اس پر کسی دعوے کی بنیاد رکھنا ہی درست نہیں ۔
ثانیا: یہ روایت بھی مولانا حفظ الرحمن کے حوالے سے ہے اور مولانا نے خود اس کی پرزور تردید کی ہے:
چنانچہ کشف حقیقت ص۴۲ میں یہ عنوان ہے مولانا حفظ الرحمن صاحب کا بیان اور پھر ص۴۴ میں مکالمۃ الصدرین کے حوالے سے لکھا کہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے کہا کہ مولا نا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغی تحریک کو بھی ابتداء حکومت کی جانب سے بذریعہ حاجی رشید احمد صاحب کچھ روپیہ ملتا تھا پھر بند ہوگیا مکالمۃ الصدرین اس کا جواب حضرت حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ ناظم جمعیۃ علماء ہند یہ دیتے ہیں :
وکفی باللہ شھیدااس کا ایک ایک حرف افتراء اور بہتان ہے میں نے ہر گز ہر گز یہ کلمات نہیں کہے اور نہ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغی تحریک کے متعلق یہ بات کہی گئی ہے سبحانک ھذا بہتان عظیم۔بلکہ مرتب صاحب (مولوی محمد طاہر مسلم لیگی)نے اپنی روانی طبع سے اس کو گھڑ کر اس لئے میری جانب منسوب کرنا ضروری سمجھاکہ اس کے ذریعہ سے حضرت مولانا الیاس صاحب کی تحریک سے والہا نہ شغف رکھنے والے ان مخلصوں کو بھی جمعیۃ علماء ہند سے برہم اور متنفر کرنے کی ناکام سعی کریں جو جمعیۃ علماء ہند کے اکابر و رفقاء کار کے ساتھ بھی مخلصانہ عقیدت اور تعلق رکھتے ہیں اب یہ قارئین کرام کا اپنا فرض ہے کہ وہ اس تحریر کو صحیح قرار دیں جس کی بنیاد شرعی اور اختلافی احساسات کو نظر انداز کرکے محض جھوٹے پروپگینڈے پرقائم کی گئی ہے یا اس سلسلہ میں میری گزارش اور تردید پر یقین فرمائیں البتہ میں مرتب صاحب کی اس بے جا جسارت کے متعلق اس سے اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتا ہوں والی اللہ المشتکی واللہ بصیر بالعباد۔انتھی بلفظہ کشف حقیقت ص۴۴،۴۵۔
ایسی واضح اور صریح تردید کی موجودگی میں تبلیغی جماعت کو سرکار برطانیہ کا ہمدرد اور نمک خوار ثابت کرنا کہاں کاانصاف و دیانت ہے ؟سچ کہا
نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
ثالثا: اس لئے کہ فریق مخالف نے عبارت نقل کرنے میں بھی دجل سے کام لیا ہے اور پوری عبارت نقل نہیں کی جواس طرح ہے کہ :
اس ضمن میں مولاناحفظ الرحمن صاحب نے کہا کہ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ابتداء حکومت کی جانب سے بذریعہ حاجی رشید احمد کچھ روپیہ ملتا تھا۔پھر بند ہوگیا۔ص۸۔
خلیل رانا صاحب نے اپنے اعلحضرت اور دیگر اکابر کا روایتی طریقہ واردات اختیار کرتے ہوئے آخری خط کشیدہ جملہ حذف کردیا ہے یہ جملہ باقی رہتا اور حذف نہ کیا جاتا تو ہر قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوتا کہ:
(۱) اگر تبلیغی جماعت گورنمنٹ کے مقاصد کیلئے استعمال ہورہی تھی تو یہ روپیہ بند کیوں کردیا گیا؟اس روپیہ کا بند ہوجانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ تبلیغی جماعت گورنمنٹ کے مقاصد کیلئے استعمال نہ ہوسکی اور انگریز کواس کی توقع بھی نہ تھی ورنہ رقم کبھی بند نہ ہوتی رقم کابند ہوجانا اور بند کردینا ہی اس کی روشن دلیل ہے کہ تبلیغی جماعت انگریز کیلئے آلہ کار نہیں بنی اور بفضلہ تعالی پہلے سے اب جماعت تمام دنیا میں زیادہ عروج پر ہے اور ان ملکوں اور علاقوں میں بھی کام کررہی ہے جو انگریزوں کے سخت مخالف ہے۔
(۲) انگریز کچھ لوگوں اور بعض انجمنوں کواپنے جال میں پھنسانے کیلئے ابتداء کچھ رقمیں دیا کرتا تھا پھر بند کردیں۔۔چنانچہ مذکورہ بالا عبارت سے متصل ہی یہ عبارت بھی مذکور ہے کہ (ایک سرکاری ہندو افسر نے)گورنمنٹ کو نوٹ لکھا جس میں دکھلایا گیا کہ ایسے لوگوں یا انجمنوں پر حکومت کا روپیہ صرف کرنا بالکل بے کار ہے اس پر آئیندہ کیلئے امداد بند ہوگئی۔
اس سرکاری افسر کے بیان سے بالکل عیا ں ہوگیا کہ جن لوگوں اور انجمنوں کو جال میں پھنسانے کیلئے انگریز کچھ رقمیں دیا کرتا تھا وہ بند کردی گئی تھیں کیونکہ ان میں رقمیں صرف کرنا بالکل بے کار تھا اس لئے کہ ان سے انگریز کے حامی ہونے کی قطعا کوئی توقع نہ تھی ۔جو بزبان حال یوں گویا ہے
ہزار دام سے نکلاہوں کہ ایک جنبش سے جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
الفضل ما شھدت بہ الاعداء
تبلیغی جماعت کے متعلق بریلویوں کے روحانی پیشوا نظام الدین مرولوی صاحب فرماتے ہیں کہ:
تبلیغی جماعت کی کوششیں بے حد مخلصانہ ہیں لیکن اس کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہورہے ہیں۔(ھو المعظم،ص۷۲)
اس کے نتائج خاطر خواہ کیسے ظاہر ہوں (بقول نظام الدین مرولوی صاحب کے) جبکہ بریلوی حضرات کی طرف سے اس کی مخالفت کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں ان کے بستروں کو مسجدوں سے باہر پھینک دیا جاتا ہے خودتو کبھی گھروں سے نکلنے کی توفیق نہ ہو اور تبلیغی جماعت جنھوں نے لاکھوں انگریزوں کو مسلمان کیا پر انگریز کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جائے ان کووہابی کہہ کر بدنام کیا جائے۔
اعتراض نمبر ۳:حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کو ۶۰۰ روپے انگریز سے ملتے تھے ملاحظۃ مکالمۃ الصدرین اس امر کی تردید خود حضرت تھانوی صاحب بھی نہ کرسکے ملاحظہ ہوالاضافات الیومیہ ص ۶۹ ج۶۔
جواب:یہ حوالہ بھی فریق مخالف کیلئے سود مند نہیں اس لئے کہ
(اولا) مکالمۃ الصدرین کی حقیقت واضح کی جاچکی ہے ایسی غیر مستند کتاب پر کسی دعوے کی بنیاد رکھنا ہی جہالت ہے۔
(ثانیا): اگر بالفرض اس مکالمہ کو مصدقہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی بریلوی حضرات کا یہ دعوی کے مکالمہ الصدرین میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مولانا تھانوی ؒ انگریز سے چھ سو روپے ماہوار لیا کرتے تھے سراسر دجل اور صریح افتراء ہے کیونکہ مکالمہ میں حضرت علامہ عثمانی ؒ کی اصل عبارت اس طرح منقول ہے فرماتے ہیں کہ:
عام دستور ہے کہ جب کوئی شخص کسی سیاسی جماعت یا تحریک کا مخالف ہو تو اس قسم کی باتیں اس کے حق میں مشتہر کی جاتی ہیں۔دیکھئے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ہمارے اور آپ کے مسلم بزرگ پیشوا تھے۔ان کے متعلق بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ان کو چھ سو روپے ماہوار حکومت کی جانب سے دئے جاتے تھے۔(مکالمۃ الصدرین ص ۹)
اس عبارت میں حضرت عثمانی ؒ صاف لفظوں میں اس الزام کو مخالفین کا سیاسی پروپگینڈا قرار دے رہے ہیں لیکن بریلوی حضرات کا دجل ملاحظہ فرمائیں کہ وہ پوری عبارت نقل کرنے کے بجائے صفحہ کو ایک مخصوص جگہ سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں۔فالی اللہ المشتکی۔
(ثالثا): اگر مکالمہ کے حوالے بالفرض سے اس الزام کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی اس کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔کیونکہ خود حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے اس الزام کی تردید موجود ہے ۔چنانچہ جب حکیم الامت ؒ کو جب اس الزام کا علم ہوا تو برا حکیمانہ جواب دیافرمایا:
اگر چھ سو روپے گورنمنٹ سے پاتا ہوں تو طمع ہے خوف نہیں اور اگر طمع کا یہ عالم ہے تو تم نو سو روپے دے کر اپنے موافق کرلو۔اگر قبول کرلوں تو صحیح وگرنہ غلط۔(الاضافات الیومیہ ص ۶۹۸ ج ۴،بحوالہ مولانا اشرف علی تھانوی اور تحریک آزادی ص۵۴)۔
جبکہ اس کے مقابلے میں فریق مخالف کے اعلحضرت کی حکومت انگریز کیلئے وفاداری کا اقرار خود انگریزوں نے کیا ہے ملاحظ ہو:
The mashrik of gorakhpor and albashir usually took note the pro-government fatwas of Ahmed raza Khan.(Separatism among india Muslims,page 268).
انگریز مورخ سر فرانسس رابنسن کی کتاب علماء فرنگی محل اینڈ اسلامی کلچر میں مندرجہ ذیل الفاظ میں احمد رضاخان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے:
The actions of One learned man ,the very influcntional Ahmed Rada Khan (1855,1921) of barielly,present our conlusion yet more Clearly....at the same time he Support the colonial Government loudly and vigorousily through world warI,and through the khilafat Movement when he opposed mahatma Gnadhi allaince with tha nationalist movement and and non-Cooperation with the british.(ulam farange Mehal and Islamic culture page )
Khan ahmed rada of bareilly 37,37 & 47,58,67 and Support for the British 196(Index ,ulma farangi mehal and Islamic Culture page 263)
جبکہ اس کے برخلاف خود انگریز مورخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ہمارے راستے میں سب سے سخت رکاوٹ دارالعلوم دیوبند تھا ملاحظہ ہو:
The most Vital School of Ulma in india is the second Half of the initeenth Century was that centerd upon Deoband,the Darul Uloom.(The Muslims or british India,byP.Hardy page 170).
اعلی حضرت اعلی سیرت کے صفحہ ۳۳ اور اسی طرح حیات اعلی حضرت میں یہ بات موجود ہے کہ مولوی احمد رضاخان کے دادا نے گورنمنٹ کی پولیٹیکل خدمات انجام دی جس کے عوض ان کو آٹھ گاؤں جاگیر میں ملے اور ان کے ساتھ آٹھ سو فوجیوں کی بٹالین ہواکرتی تھی۔
شاہ عبد العزیز ؒ کے فتوے کے خلاف کے ہندوستان دارالحرب ہے اعلی حضرت نے ہندوستان کے دارلسلام ہونے کا فتوی دیا اس لئے کہ دارالسلام میں جہاد جائز نہیں۔اس کے علاوہ اس مکتبہ فکر نے آزادی کے ہر متوالے پر کفر کے فتوے لگا کر عوام کوان سے بد ظن کرنے کی کوشش کی۔۱۹۱۴ میں الدلائل القاہرہ علی الکفرۃ النیاشرہ کے نام سے فتوی شائع ہوا جس میں خان صاحب کے علاوہ کئی بریلوی علمائے کے تصدیقات موجود تھے جس میں قائد اعظم کو کافر کہا گیا اور مسلم لیگ سے ہر قسم کے تعاون کو حرام قرار دیا گیا۔ان کے مولوی حشمت علی نے مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری کے نام سے کتاب لکھی جس میں قائد اعظم کو کافر قرار دیا گیا۔مولوی مصطفی رضاخان نے اس زمانے میں مسلمانوں کے دلوں سے کعبہ و مدینہ کی محبت نکالنے کیلئے حج کے ساقط ہونے کا فتوی دیا اور آج بھی بریلوی برملا امام کعبہ اور مدینہ کو کافر لکھتے اور کہتے ہیں۔مصطفی رضاخان نے ایک کتاب لکھی اس زمانہ میں جو اب نایاب ہے رسالۃ الامارہ والجہاد جس میں انگریز سے جہاد کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ چند مثالیں میں نے دے دی ہے ورنہ ان کی غداریوں سے تاریخ کے صفحات آج بھی بھرے پڑے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے تاریخ آزادی میں کہیں بھی اس گروہ کا نام و نشان نہیں جس کا اعتراف خود مولوی احمد رضاخان کے سوانح نگار کرتے ہیں کہ اور اس کا الزام مورخین پر ڈالتے ہیں کہ انھوں نے محض تعصب کی وجہ سے ہمارے اعلحضرت کا ذکر کہیں نہیں کیا اور وہابی (یعنی دیوبند) کی خدمات سے ساری تاریخ کو بھر دیا۔
حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کے حوالے سے بھی آپ نے اپنی ’’مخصوص رضاخانیت‘‘ کامظاہرہ کیا ہے پوری عبارت اس طرح ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا تھا کہ چھ سو روپیہ ماہانہ گورنمنٹ سے پاتا ہے ایک شخص نے ایک ایسے ہی مدعی سے کہا کہ اس سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ خوف سے متاثر نہیں لیکن طمع سے متاثر ہے بلکہ خوف سے تو گورنمنٹ ہی متاثر ہوئی چنانچہ تمھیں اور ہمیں سو روپیہ نہیں دیتی تو اب اس کا امتحان یہ ہے کہ تم نو سو روپے دیکر اپنی موافق فتوی لے لو اگر وہ قبول کرلے تو وہ بات صحیح ہے ورنہ وہ بھی جھوٹ ۔(الاضافات الیومیہ،ج۶،ص۱۰۳،ملفوظ نمبر،۸۸)
غور فرمائیں کس حکیمانہ اور بلیغ انداز میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس الزام کی تردید کررہے ہیں مگر خلیل رانا صاحب کہتے ہیں کہ نہیں وہ تو تردید نہیں بلکہ تصدیق کررہے ہیں۔۔تف ہے ایسی تحقیق پر اور ایسی دیانت پر۔۔۔ہم بار بار خلیل رانا صاحب کو یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان حوالہ جات کو کل کو کوئی چیک بھی کرسکتا ہے ۔۔
اعتراض: تھا کون جو انگریز کو کہتا رحمت؟ کس نے کیا گوروں کے وظیفے پر گزارا
جواب: ارے وہی جس کی وفاداری کے گن گاتے انگریز بھی بھائی وہی جن کو سیر کرائی جاتی ہے پینٹاگون کی آج بھی
(روزنامہ وقت لاہور ۱۰ مئی ۲۰۱۰ ؁ء کی خبر کے مطابق بریلوی علماء و مشائخ کو انتہا ء پسندی کے خلاف پینٹاگون میں تربیت دی جائے گی۔)
اعتراض نمبر ۴: مولانا رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی صاحب اپنی مہربان سرکار کے دلی خیر خواہ تھے ۔ملاحظہ ہو تذکرۃ الرشید ج۱ص۷۹۔
جواب:فریق مخالف کا یہ حوالہ بھی بالکل سود مند نہیں اس لئے کہ انھوں نے تو یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت گنگوہی اور حضرت حجۃ الاسلام رحمہمااللہ انگریز کے وفادار تھے اور اس کے خلاف انھوں نے کچھ نہ کہا مذکورہ بالا عبارت مولف تذکرۃ الرشید کی ہے جس کے ذمہ دار وہ خود ہیں کسی اور کی عبارت کو لیکر کسی اور پر فٹ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔۔؟؟آپ کا یہ ثابت کرنا کہ ان حضرا ت نے انگریز کی مخالف نہیں کہ قطعا باطل اور مردود ہے جبکہ خود اسی تذکرۃ الرشید میں یہ حوالے بھی موجود ہیں کہ:
(۱) تینوں حضرات (حاجی امداد اللہ صاحب ،حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ )کے نام چو نکہ وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں اور گرفتار کنندہ کیلئے صلہ (انعام) تجویز ہوچکا تھا اس لئے لوگ تلاش میں ساعی اور حراست کی تگ و دو میں پھرتے تھے۔(تذکرۃ الرشید ،ج۱،ص۷۷)
(۲) روش (پولیس)رامپور پہنچی اور حضرت امام ربانی مولانا رشید احمد صاحب قدس سرہ حکیم ضیاء الدین صاحب کے مکان سے گرفتار ہوئے تخمینے سے یہ زمانہ۱۲۷۵ ؁ ھ کا ختم یا ۱۲۷۶ کا شروع سال ہے (الی قولہ)آپ کے چاروں طرف محاٖفظ پہرہ دار تعنیات کردئے گئے اور بند بیل (بیل گاڑی)میں آپ کو سوار کرکے سہارنپور چلتا کردیا گیا (الی قولہ)حضرت مولانا سہارنوپر پہنچتے ہی جیل خانہ بھیج دئے گئے اور حوالات میں بند ہوکر جنگی پہرہ کی نگرانی میں دے دئے گئے۔(تذکرۃ الرشید ،ج۱،ص۸۲)
(۳) حضرت مولانا تین یا چار یوم کال کوٹھری میں اور پندرہ دن جیل خانہ کی حوالات میں قید رہے تحقیقات پر تحقیقات اور پیش پر پیشی ہوتی رہی آخر عدالت سے حکم ہوا کہ تھانہ بھون کا قصہ ہے اس لئے مظفر نگر منتقل کیا جائے چنانچہ امام ربانی جنگی حراست اور ننگی تلواروں کے پہرہ میں براہ دیوبند دو پڑاؤ کرکے پاپیادہ مظفر نگر لائے گئے اور اب یہاں کے جیل خانہ میں بند کردئے گئے ۔(الی قولہ)مظفر نگر کے جیل خانہ میں حضرت کوکم و بیش چھ ماہ رہنے کا اتفاق ہوا اس اثناء میںآپ کی استقامت ،جوانمردی ،استقلال کی پختگی ،توکل،رضا،تدین،اتقاء،شجاعت،ہمت،اور سب پر طرہ حق تعالی کی اطاعت و محبت جو آپ کی رگ رگ میں سرایت کئے ہوئے تھی اس درجہ حیرت انگیز ثابت ہوئیں کہ جن کی نظیر نہیں نظر ملتی۔(تذکرۃ الرشید،ج۱،ص۸۴)
(۴) حضرت امام ربانی قطب الارشاد مولانا رشید احمد صاحب قدس سرہ کو اس سلسلہ میں امتحان کا بڑا مرحلہ طے کرنا تھا اس لئے گرفتار ہوئے اور چھ مہینے حوالہ جات میں بھی رہے ۔(تذکرۃ الرشید،ج۱،ص۷۹)
ان تمام واضح حوالوں سے حضرت مولانا گنگوہی اور ان کے رفقاء کا گرفتار ہونا جنگی حراست میں رہنا حوالہ جات اور کال کوٹھریوں کا آباد کرنا اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا روز روشن کی طرح واضح ہے اور ہمارا مدعی بھی یہی ہے۔غرض ان کو انگریز کا وفادار ثابت کرنا تاریخ کو مسخ کرنا ہے اور خلیل رانا صاحب نے جو مجمل اور مبہم حوالہ دیا ہے اس سے انکا مدعی ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا یہ مجمل عبارت صرف اس کا مصداق ہے
تم جو دیتے ہو نوشتہ وہ نوشتہ کیا ہے جس میں ایک حرف وفا بھی کہیں مذکور نہیں
لفظ ’’سرکار‘‘ کا اطلاق رب تعالی (حقیقی سرکار) پر بھی ہوتا ہے
اصل میں فریق مخالف کو اس عبارت میں لفظ ’’مہربان سرکار‘‘ سے مغالطہ ہوا ہے حالانکہ یہ لفظ دیگر متعدد معنوں کے علاوہ مالک حقیقی آقا اور ولی نعمت پر بھی صادق آتا ہے چنانچہ فرہنگ آصفیہ ج۳ ص ۷۰ میں سرکار کے معنی سردار،میر،پیشوا،رئیس ،آقا،ولی نعمت اور والی وغیرہ کے کئے گئے ہیں۔
اور پھر ’’مولف تذکرۃ الرشید‘‘جس طرح لفظ سرکار کا انگریز پر اطلاق کرتے ہیں اسی طرح ’’اللہ تعالی ‘‘ پر بھی اس کا اطلاق کرتے ہیں۔چنانچہ وہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے سہارنپور جیل سے مظفر نگر منتقل کرنے کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
سنا ہے کہ دیوبند کے قریب سے گذرنے پرمولانا قاسم العلوم نظر براہ راستہ سے کچھ ہٹ کر بغرض ملاقات پہلے سے آکھڑے ہوئے تھے گو خود بھی مخدوش حالت میں تھے مگر بیتاب�ئ شوق نے اس وقت چھپنے نہ دیا اور دور ہی دور سے سلام ہوئے ایک نے دوسرے کو دیکھا مسکرائے اور اشاروں ہی اشاروں میں خدائے تعالی کے وہ وعدے یاد دلائے جو سچے سرکاری خیرخواہوں اور امتحانی مصیبتوں پر صبر و استقلال کرنے والوں کیلئے انجام کار ودیعت رکھے گئے ہیں۔(تذکرۃ الرشید ،ج۱،ص۸۴)
بالکل واضح امر ہے کہ یہ وعدے اللہ تعالی کے واللہ مع الصبرین ،و ان جندنا لھم الغلبون ،انا لننصررسلنا والذین امنوافی الحیوۃ الدنیا اور فان حزب اللہ ھم الغلبون وغیرہ کلمات جو قرآن کریم میں موجود ہیں ۔۔سچی سرکار ،آقائے حقیقی اور مالک الملک کے مخلص بندوں کیلئے ہیں جو امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں ۔یہاں سرکار کے لفظ سے اللہ تعالی ہی کی ذات مقدسہ مراد ہے۔
اعتراض نمبر ۵:حافظ ضامن ،قاسم نانوتوی ،رشید گنگوہی انگریز کی حمایت میں لڑے اور اور حافظ ضامن ’’شہید‘‘ ہوگئے۔تذکرۃ الرشید،ج۱،ص۷۴،۷۵
جواب: لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔۔خلیل رانا صاحب اتنا صریح دھوکہ ۔۔ہم نے یہ صفحہ بار بار چیک کیااور کہیں ہمیں یہ عبارت نہیں ملی کہ حافظ ضامن صاحب انگریز کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تاریخ کاادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ ان کی شہادت شاملی کے میدان میں انگریز کے خلاف لڑتے ہوئے ہوئی۔۔مگر آپ کس طرح خدا خوفی سے بے پرواہ ہوکر جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں۔۔جن صفحات کا حوالہ آپ نے دیا ہے اس میں بھی اسی شاملی کے معرکہ کا ذکر ہورہا ہے ۔آپ میں اگر ذرا بھی انصاف ودیانت کامادہ ہے تو جو عبارت آپ نے نقل کی ہے اس کتاب کا اصل عکسی حوالہ دے کر بعینہ ثابت کریں ورنہ
لعنۃ اللہ علی الکاذبین
کا وظیفہ پڑھ کر اپنے اوپردم کریں۔
۱۸۵۷ کی جنگ آزادی حضرت حاجی امداداللہ رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں لڑی گئی اور شاملی کے میدان پر قبضہ کرلیا گیا جو ایک ماہ تک رہا ۔
* حاجی امدااللہ صاحب کو امام ،مولانا قاسم نانوتوی ؒ کو سپہ سالار افواج مولانا رشیداحمد گنگوہی ؒ کو قاضی ،مولانا محمد منیر نانوتوی ؒ اور حافظ محمد ضامن ؒ کو میمنہ اور میسرہ کے افسر مقرر کئے گئے۔(سوانح قاسمی ،ج۲،ص۱۲۷)
* اس معرکہ میں حافظ محمد ضامن شید ہوئے حضرت حاجی صاحب اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی مکہ مکرمہ کی طرف حجرت کرگئے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ روپوش ہوگئے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ گرفتار کرلئے گئے۔مولانا گنگوہی ؒ کو سہارنپور کی جیل میں قید کردیا گیا ۔تین چار یوم کال کوٹھری میں رہے اور پندرہ دن جیل خانہ کی حوالات میں قید رہے ۔آخر عدالت سے حکم ہوا تھانہ بھون کاقصہ ہے اس لئے مظفر نگر منتقل کیا جائے ۔چنانچہ جنگی حراست اور ننگی تلواروں کے پہرے میں براستہ دیوبند چند پڑاؤ کرکے پاپیادہ مظفر نگر لائے گئے اور حوالات کے اندر بند کرئے گئے چھ ماہ قید رہے آخر چھوڑ دئے گئے۔(ایسٹ انڈیا کمپنی کے باغی علماء ،ص۱۱۳،از مفتی انتظام اللہ شہابی)۔
جناب پروفیسر محمد ایو ب صاحب قادری مرحوم لکھتے ہیں کہ
* اسی (۱۸۵۷ کی جنگ آزادی ) میں حافظ محمد ضامن ؒ صاحب کو گولی لگی اور وہ شہید ہوگئے آخر میں مجاہدین کے پاؤں بھی اکھڑ گئے انگریزوں نے قبضہ کرنے کے بعد تھانہ بھون کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔(جنگ آزادی ،ص۱۸۱)
نوٹ:پروفیسر ایوب قادری بریلوی حضرات کے ہاں بھی مستند مانے جاتے ہیں عبد الحکیم شرف قادری نے اپنی کتاب پر ان سے تقریظ لکھوائی اوران کے انتقال پر اظہار غم بھی کیا۔
غرض یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت حافظ ضامن صاحب انگریز کے خلاف لڑتے ہوئے شاملی کے میدان میں شہید ہوئے مگر فریق مخالف کا سوء ظن دیوبند دشمنی ملاحظہ ہو کہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہوئے بھی کچھ حیاء نہیں۔ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ خلیل رانا صاحب یہ تمام حوالے کسی بریلوی ملاں کے رسالے سے ہی کاپی پیسٹ کرتے ہیں اس لئے کہ ظاہر ہے کہ بندہ ایک دو حوالوں میں چلو دھوکہ دہی کردے مگر ان کا ہر حوالہ دجل و فریب کا شاہکار ہوتا ہے ۔پہلے تو ہم ان کوان کی داڑھی کا واسطہ دیتے کہ چہرے پرسجائی اس سنت رسول ﷺ سے ہی شرما جاؤ مگر ان کی تو داڑھی بھی نہیں واسطہ دیں بھی تو کس کا۔۔۔؟؟؟
اعتراض نمبر۶ :شاہ اسمعیل صاحب نے انگریز کی حمایت میں لڑنے کا فتوی دیا۔ملاحظہ ہو حیات طیبہ ص ۳۶۴۔
جواب : یہ بھی آپ کا دجل و فریب ہے اس لیے کہ اگرچہ شاہ صاحب اور ان کی جماعت کا براہ راست انگریز سے مقابلہ نہیں ہوا تھا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ انگریز کے حامی تھے یا کوئی ایجنٹ تھے چنانچہ خود انگریز مورخ کیپٹن کنگھم تاریخ سکھ میں لکھتا ہے کہ
ؔ "سید احمد کے عمل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کافروں سے مرادانکی صرف سکھ تھے لیکن ان کے صحیح مقاصد پورے طور پر نہیں سمجھے گئے، وہ انگریزوں پرحملہ کرنے میں محتاط ضرور تھے لیکن ایک وسیع اور آباد ملک پر ایک دور دراز قوم کا اقتدار ان کی مخالفت کے لیے کافی سبب تھا"۔
(سیرت سید احمد شہید صفحہ نمبر ۷۷۲)
نواب امیر خان انگریز کے خلاف تھے اور اسکے خلاف لڑے بھی ۔سید احمد صاحب ان کی فوج میں ۶ سا ل رہے مگر جب بعض مجبوریوں کی وجہ سے انگریز سے مصالحت کرنی پڑی تو سید احمد شہید نے اس کی شدید مخالفت کی اور متعد د با ر ان کو منع کیا اور کہا کہ یہ کفار بڑے دغاباز ہیں،کچھ آپ کے واسطے تنخواہ یا جاگیر وغیرہ مقرر کر کے بٹھا دیں گے کہ روٹیا ں کھایا کیجئے پھر یہ بات ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ مگر جب نواب صاحب نہ مانے تو سید صاحب یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ اچھا آ پ انگریزوں سے ملتے ہیں تو میں رخصت ہو تا ہوں، نواب صاحب نے روکنے کی بہت کوشش کی مگر سید صاحب نہ مانے اور لشکر سے رخصت ہو گئے۔(سیرت سید احمد شہید صفحہ نمبر ۴۳)
انگریز کے خلاف ان کے عزائم اور مقاصد کا اندازہ مندرجہ ذیل مکتوب سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو انہوں گوالیا ر کے ایک وزیر کو لکھا۔
جنا ب کو خوب معلوم ہے کہ پردیسی ،سمندر پار کے رہنے والے ،دنیا جہاں کے تا جدار اور یہ سودا بیچنے والے تاجر سلطنت کے مالک بن گئے ، بڑے بڑے امیروں کی امارت اور بڑے بڑے اہل حکومت کی حکومت اور ان کی عزت کو انہوں نے خاک میں ملا دیا ، جو حکومت و سیاست کے مرد میدان تھے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبوراً چند غریب و بے سرو سامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کیلئے اپنے گھروں سے نکل آئے ۔یہ اللہ کے بندے ہر گز دنیا دار اور جاہِ طلب نہیں ہیں۔محض اللہ کے دین کی خدمت کیلئے اٹھے ہیں مال ودولت کی ان کو ذرہ برابر بھی طمع نہیں جس وقت ہندوستان ان غیر ملکی دشمنوں سے خالی ہو جائے گا ہماری کوششوں کا تیر مراد نشانوں تک پہنیج جائے گا۔الخ
(سیرت سید احمد شہید ، جلد اول صفحہ نمبر ۴۷۲ا۔۶۷۲، نقش حیات جلد ۱، صفحہ نمبر ۳۰۴۔۵۰۴)
ٓاس تحریک کے کارکنوں کے عزائم کا اندازہ سید صاحب کے مندرجہ ذیل مکتوب سے بخوبی لگایا جا سکتاہے جو انہوں نے مسلمان وزیر غلام حیدر خان کو لکھا۔ ملک ہندوستان کا بڑا حصہ غیر ملکیوں کے قبضے میں چلا گیا ہے اور انہوں نے ہر جگہ ظلم و زیادتی پر کمرباندھی ہے۔ ہندوستان کے حاکموں کی حکومت بربادہو گئی ، کسی کو ان سے مقابلے کی تاب نہیں بلکہ ہر ایک ان کو اپنا آقا سمجھنے لگا ہے چونکہ بڑے بڑے اہل حکومت ان کا مقابلہ کرنے کا خیال ترک کرکے بیٹھ گئے ہیں اس لیے چند کمزور و بے حیثیت اشخاص نے اس کا بیڑہ اٹھایا ۔
(سیرت سید احمد شہید ، صفحہ نمبر ۴۰۴)
انگریز کے خلاف حضرت سید نے اپنے خلفاء ، مریدین، متوسلیں ،کارکنان کی کس طرح ذہن سازی کی تھی اسکا اظہار خود ایک انگریز مورخ ڈبلیو ہنٹر ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
اب ہمیں اس مجموعہ قوانین کا حال مختصراً بیان کرنا ہے جو ان کے پیروؤں نے ان کی تعلیم سے اخذ کیا اور جس کی وجہ سے انھوں نے ہندوستان میں ایک ایسا مذہبی انقلاب برپا کردیا جس کی مثال اسکی گزشتہ تاریخ میں نہیں ملتی یہی انقلاب ہے جس نے پچاس سال سے انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کی روح کو دبنے نہیں دیا۔(نقش حیات جلد ۲، صفحہ نمبر ۵۳)
ان تمام حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ سید صاحب اور ان کی جماعت نہ صرف انگریز کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ انکے خلاف باقاعدہ جہاد انکی تحریک کا حصہ تھا ایسے صریح حوالے موجود ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص حضرت سید صاحب اور ان کے سر فروش مجاہدوں کو انگریز کا ہمدرد اور خیر خواہ قرار دے تو اسے یہ ورد سکھا کر بریلی کے پاگل خانے میں داخل کروادیا جائے کہ۔
وقت ہوگا تو کوئی بھی نہ ہو گا میرا
اب لاکھوں میرے غمخوار نظر آتے ہیں
اب رہا حیا ت طیبہ کا وہ حوالہ جو فریق مخالف نے دیا ہے تو مندرجہ بالا حوالوں کے ہوتے ہوئے اسکی کوئی علمی وقعت نہیں خاص کر جب مرزا حیر ت دہلوی ان الفاظ کو سید صاحب سے نقل کرنے میں متفرد ہو ں چلیں بالفرض حضرت شاہ صاحب کی طرف منسوب اس قول کو بالفرض علی سبیل التنزل درست مان لیا جائے تب بھی جواب حاضر ہے کہ.
ابتدا ءًً انگریز کا طریقہ واردات یہ تھا کہ کسی مذہب اور فرقے کیخلاف تشدد سے کام نہ لیا جائے بلکہ اپنی تعلیم نظریات وافکار کے ذریعے ان کے ذہنوں کو فتح کیا جائے ، لارڈ میکا لے کے بیانات اس کی واضح دلیل ہیں تو اس دور میں جب بظاہر سب کو مذہبی آزادی حاصل تھی انگریز کیخلاف جہاد کا فتوی نہ دینے سے یا ملکی دفاع کے لیئے اسکا تعاون کرنے سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ جب انگریز ظالم نے ہزاروں بیگناہ ہندوستانیوں کو جن میں پیش پیش مسلمان تھے قتل وغارت کرنا شروع کردیا اور تختہ دارر پر لٹکا کر اپنی بھڑاس نکالی تو اس وقت بھی اس کے خلاف جہاد درست نہ تھا۔ ویسے بھی حضرت شاہ اسماعیل شہید ۱۸۵۷ ؁ کے معرکے سے پہلے شہید ہو چکے تھے ، پہلے کے حالات کو بعد پر فٹ کر نا اور اس طرز سے انکو انگریز کا خیر خواہ اور ہمدرد ثابت کرنا بالکل بے سود عمل اور نرا دجل وفریب ہے۔
آنحضرت ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے یہود کے ساتھ امن اور صلح کا تحریری معاہدہ کیا تھا جس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ یہود یا مسلمانوں کو کسی سے لڑائی پیش آئی تو ایک فریق دوسرے کی مدد کرے گا
( زاد المعاد، ج ۲ ص ۱۷ و سیرت ابن ہشام ج ۱ ، ص ۴۰۵ )
مگر بعد کو یہودیوں کے تینوں قبیلوں بنونضیر ، بنو قینقاع اور بنو قریظہ کیخلاف انکی وعدہ شکنی سے نہ صرف انکے خلاف جہاد کیا بلکہ ان کو جلاد وطن بھی کیا۔نتیجہ تاریخی طور پر بالکل عیاں ہے غرض مقدم و متاخر حالات کو گڈمڈ کرنا اور اس سے مقصد حاصل کرنا کسی بھی طور پر درست اور قرین قیاس نہیں۔
اب آخر میں ہم فریق مخالف سے سوال کرتے ہیں کہ شاہ صاحب اور انکی تحریک کے لوگ تو تھے ہی بقول آپ کے وہا بی تھے، معاذاللہ ،اللہ و رسولﷺ اور تمام مسلمانوں کے دشمن تھے ، اسلام کے بد خواہ تھے مگر آپ کے روحانی دادا حضور مولوی نقی علی۱۸۵۷ء ؁ کی جنگ آزادی میں کہاں تھے ؟ انکو بھی چھوڑئے آپکے روحانی ابا حضور مولوی احمد رضاخان جو بزعم خویش پورے ہندوستان میں واحد مسلمان اور اسلام کے خیر خواہ تھے، انہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کے کتنے فتوے دیے۔؟؟؟؟؟؟؟
چیلنج
ہمارا پوری دنیا ئے رضاخانیت کو چیلنج ہے کہ کوئی ایک مستند حوالہ دکھا دے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ احمد رضاخان نے اپنی پوری زندگی میں انگریز کیخلاف چلائی جانے والی کسی تحریک کی سربراہی کی ہو ، اس میں کو ئی حصہ لیا ہو، کسی ایک جلسے کی صدارت و قیا دت کی ہو جو انگریز تسلط کے خلاف ہو ۔زمین پھٹ سکتی ہے آسم

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔