جمعہ، 7 اگست، 2015

تحریک پاکستان،مسلم لیگ اور رضاخانیت


تحریک پاکستان،مسلم لیگ اور رضاخانیت
ساجد خان نقشبندی
قارئین کرام!جھوٹ،منافقت ،بددیانتی یہ وہ صفات ہیں جو ہر بریلوی کو احمد رضاخان سے وراثت میں ملتی ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان صفات کا مظاہرہ آج کل ہر ٹی وی چینل پر ثروت اعجاز قادری اور امریکی وظیفہ خور فضل کریم رضاخانی کررہے ہیں موضوع چاہے کوئی بھی ہو بات کو گھما پھرا کر علمائے اہلسنت پر الزام تراشی ضرور کرنی ہے انہی الزام تراشیوں میں سے ایک جھوٹ یہ بھی خاص طور پر ثروت اعجاز کی طرف سے میڈیا پر بولا جارہا ہے کہ

علمائے دیوبند نے پاکستان کی مخالفت کی یہ الگ بات ہے کہ انہیں اب تک اتنی ہمت تو نہ ہوئی کہ کھل کر علمائے دیوبند کا نام لے سکیں ۔ہم پاکستان کے حوالے سے علمائے اہلسنت و جماعت پر اعتراض کرنے والے رضاخانیوں سے کہیں گے کہ اگر بقول ان کے علمائے دیوبند اس لئے مطعون ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی مخالفت کی تو منافقت کا ثبوت دینے کے بجائے کھل کر میڈیا پر اپنے ان اکابر کے کرتوتوں کو بھی ذکر کریں جنہوں نے مسٹر جناح کو جہنم کا کتا کہا۔
حقیقت یہ ہے کہ احمد رضاخان سے لیکر فضل کریم تک سب ہی انگریز کی جوتیاں چاٹتے رہے ہیں یہی ان کی سیاہ تاریخ ہے جس کا اعتراف بریلوی مصنفین کو بھی ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں مورخین نے ہمارا کہیں ذکر نہیں کیا اور تحریک آزادی کا سارا کریڈٹ تاریخ میں وہابیوں کو دے دیا۔مگر مشہور ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے چنانچہ یہی کچھ آج کل کے بریلوی رضاخانی کررہے ہیں ۔حالانکہ خود بریلوی مسعود ملت ماہر رضویات کے بقول کہ ہماری جماعت نے :
’’من حیث الجماعت پاکستان کی حمایت کی اور ۱۹۴۶ میں بنارس کانفرنس میں پاکستان کی حمایت میں متفقہ قرار داد منظور کی‘‘۔
(محدث بریلوی :ص۶۴:اداریہ مسعودیہ کراچی)
حمایت تو ۱۹۴۰ میں کی مگر اس حمایت کا کوئی ثبوت دینے کے بجائے پروفیسر صاحب نے ڈایریکٹ ۱۹۴۶ میں چھلانگ لگادی پاکستان کی حمایت کیلئے ا س بریلوی کانفرنس میں کیا گل کھلائے گئے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’حضرت قبلہ عالم (پیر جماعت علی شاہ ۔از ناقل)حق گوئی میں بغایت بے باک تھے اجلاس سے قبل بلکہ بنارس پہنچنے سے پہلے کئی مخلص عقیدت مند خدمت والا میں عرض کرچکے تھے کہ اس اجلاس میں مسلم لیگ اور مطالبہ پاکستان کی حمایت میں کچھ کہنے سے اجتناب کیجئے اس لئے کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایسا کیا تو جلسے میں سخت ہنگامہ ہوگا ۔چنانچہ شرکاء جلسہ میں سے کئی علماء نے آپ کی مخالفت میں تقریریں کیں جلسے کو درہم برہم کرنے کیلئے شور و غوغا مچا۔جناح صاحب پر کفر کے فتووں کا اعلان ہوا غرض حسب توقع خوب ہنگامہ ہوا ،مگر حضرت قبلہ عالم ۔۔۔۔ اپنے موقف سے ذرا نہ ہٹے ۔آخر مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی اور مولانا عبد الحامد صاحب قادری بدایونی نے آپ کی تائید کی‘‘۔
(سیرت امیر ملت :ص ۴۷۵:فریدی بک سنٹر اردو بازار کراچی)
بریلویوں کے پاس برصغیر میں تحریک آزادی کے حوالے سے واحد ریکارڈ یہی سنی کانفرنس ہے مسلم لیگ ،اور پاکستان کی حمایت میں اگر واحد کوئی سرمایہ ہے تو وہ یہی سنی کانفرنس ہے مگر آپ نے دیکھ لیا کہ یہ کانفرس پاکستان یا مسلم لیگ کی حمایت کیلئے نہیں منعقد کی گئی تھی بلکہ جس طرح اس سے پہلے روایتی کانفرنسیں ہوتی رہی یہ بھی ان میں سے ایک تھی مگر چونکہ اس اجلاس میں پیر جماعت علی شاہ کو بھی بلایا گیا تھا جو پاکستان کے حامی تھے لہذٰا انہوں نے کھل کر اس اجلاس میں اپنے جماعتی موقف کے خلاف پاکستان کی حمایت کی اور پھر وہی ہوا جو اس سے پہلے بریلوی اکابرین کرتے رہے یعنی مسلم لیگ اور مسٹر جناح پر کفر کے فتوے مگر چونکہ نعیم الدین صاحب کی شاطر نگاہیں یہ دیکھ چکی تھیں کہ ہم پاکستان کی جتنی بھی مخالفت کرلیں اس نے اب بن کر رہنا ہے لہٰذاآخر پاکستان کی حمایت کر ہی دی۔یاد رہے کہ طوعا و کرہا حمایت کرنے کے بعد بھی بریلوی اکابرین مطلقا لیگ کے حمایتی نہ تھے چنانچہ مولوی مبارک حسین مصباحی لکھتے ہیں کہ:
’’سنی کانفرنس مطلقا لیگ کی حمایتی نہیں‘‘۔(جام نور کا محدث اعظم نمبر :ص ۱۰۳)
اسی سنی کانفرس کے بعدبریلوی حافظ ملت مولوی عبد العزیز کا یہ فتوی بھی ملاحظہ ہو:
’’مسلم لیگ میں ساری قیادت بد عقیدہ لیڈروں کے ہاتھوں میں تھی ،مگر افسوس جب الیکشن کا زمانہ آیاتو سنی کانفرنس نے مسلم لیگ کی حمایت شروع کردی ۔حافظ ملت نے سنی کانفرنس کے ذمہ داروں کو اپنے ایک مضمون سے اس کے سیاسی اور دینی نقصان سے باخبر کیا کہ اس طرح سنی کانفرنس مسلم لیگ میں ضم ہوجائے گی اور نتیجے کے طو ر پر ووٹ اور بھیڑ اہل سنت کی ہوگی اور قیادت و سربراہی بد مذہبوں کی ۔حافظ ملت فرماتے تھے کہ مسلم لیگ کی قیادت میں حاصل ہونے والے پاکستان میں کبھی بھی نظام مصطفی کا قیام نہیں ہوسکتا ‘‘۔
(جام نور کا محدث اعظم نمبر :ص ۱۰۲)
یاد رہے کہ یہ حافظ ملت مسلک اعلی حضرت کے مرکز منظر اسلام بریلی کے فارغ التحصیل تھے
(ماہنامہ اعلی حضرت کا منظر اسلام بریلوی نمبر :ص ۲۰۲:اپریل ۲۰۰۴)
بات چل رہی تھی بریلوی صفات کی اسی منافقانہ صفت کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں مولوی ابو البرکات بانی حزب الاحناف نے مسٹر جناح اور مسلم لیگ کے خلاف ایک فتوی دیا اس میں کیسی زبان استعمال کی گئی ملاحظہ فرمائیں:
’’لیگ کی حمایت کرنا اس میں چندے دینا اس کا ممبر بننا اس کی اشاعت و تبلیغ کرنا منافقین و مرتدین کی جماعت کو فروغ دینا اور دین اسلام کے ساتھ دشمنی کرنا ہے ۔اگر رافضی کی تعریف حلال اور جناح کو اس کا اہل سمجھ کر کرتا ہے تو وہ مرتد ہوگیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ۔
(الجوابات السنیہ :ص ۳۲:جماعت مرکزیہ اہلسنت مارہرہ )
مگر جب اس ابو البرکات کے بیٹے نے اس کی سوانح مرتب کی تو غور فرمائیں کتنا بڑا جھوٹ بولا اور کتنی منافقت سے کام لیا:
’’آج کچھ لوگ صرف اپنی سیاسی و گروہی برتری کیلئے حضرت قبلہ ۔۔کے متعلق یہ پروپگینڈا کررہے ہیں اور سنا ہے کہ جماعت اسلامی کے اخبارات و جرائد جسارت وغیرہ نے اسی نوع کا تاثر دیا ہے کہ آپ نے نہ صرف مطالبہ پاکستان کے مخالف تھے بلکہ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح پر کفر کا فتوی دیا تھا ۔۔۔یہ الزام افتراء و بہتان ہے اور انصاف و دیانت اور خدا خوفی کے بالکل منافی ہے ‘‘۔
(سیدی ابو البرکات :ص۴۵:شعبہ تبلیغ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور)
اب اس کا فیصلہ قارئین کریں کہ خدا خوفی سے بے نیاز حقیقت بتلانے والے ہیں یا محمود احمد رضوی ؟؟؟۔اسی منافقت کی ایک تازہ ترین مثال دیکھئے :
۱۸۵۷ کے بعد کچھ مسلمانوں کو یقین تھا کہ برطانوی کبھی ہندوستان کو ضرور چھوڑیں گے ایسے ہی لوگوں میں امام احمد رضا بھی ایک تھے ایک روز امام احمد رضا نے کچھ خاص تلامذہ اور خلفاء کو بلایا اور ان سے کہا کہ میں تم لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں جو میں اللہ کے کرم سے مستقبل میں دیکھ رہا ہوں تم لوگوں کو ہندوستان کی آزادی میں مسلم جدوجہداور مقصد کی حمایت کرنا چاہئے اور ایک نئے مسلم ملک کے قیام کیلئے سعی کرنا چاہئے ‘‘۔
(ماہنامہ اعلی حضرت کا منظر اسلام بریلی نمبر :۲۲۷۔۲۲۸)
مضمون نگار نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور اب یہ جھوٹ احمد رضاخان سے متعلق دیگر جھوٹے حوالوں کی طرح ماہنامہ اعلی حضر ت کے حوالے سے نقل در نقل ہوتا چلا جائے گا بہرحال منظر اسلام بریلی والوں کے مطابق احمد رضاخان الگ ملک حاصل کرنے کے حمایتی تھے مگر یہی احمد رضاخان فتوی دیتے ہیں:
’’کیا گورنمنٹ تنہا تمہیں حکومت دے دیگی کہ اوس میں خالص احکام اسلامی جاری کرو یہ تو ممکن نہیں نہ تنہا اون کو ملے پھر شرکت رکھو گے یا ملک بانٹ لوگے کہ ایک حصہ میں تم اسلامی احکام جاری کرو ایک میں وہ اپنے مذہبی احکام جو تمہاری شریعت کی رو سے احکام کفر ہیں بر تقدیر ثانی ظاہر ہے کہ ہندوستان کا کوئی شہر اسلامی آبادی سے خالی نہیں تو اون لاکھوں مسلمانوں پر اپنی شریعت مطہرہ کے خلاف احکام تم نے اپنی کوشش سے جاری کرائے اور اوسکے تم ذمہ دار ہوئے اور من لم یحکم بما انز ل اللہ فاولئک ھم الکافرون ،ھم الظالمون ،ھم الفاسقون کے تمغے پائے بر تقدیر اول کیا ہنود راضی ہوجائیں گے کہ ملک مشترک ہو اور احکام تنہا احکام اسلام ہر گزنہیں اون کے ساتھ کسی نہ کسی قانون خلاف اسلام پر راضی ہونا اور اپنی رضاو سعی سے مسلمانوں کو اوس کا پابند کرنا پڑیگا اور قرآن کریم سے وہی تین خطابوں کا تمغا ملے گا‘‘۔
(فتاوی رضویہ :ص ۴۲۰:ج۱۰:دارالعلوم امجدیہ کراچی)
غور فرمائیں احمد رضاخان تو صاف کہہ رہا ہے کہ ہندوستان پر تمہاری حکومت کسی طرح نہیں آسکتی آزادی کی ایک ہی صورت ہے کہ یا ملک بانٹ لو یاالگ ملک بنا لو یا اسی ملک میں ہندو کے ساتھ شراکت کرلو دونوں صورتوں میں چونکہ ملک کے بعض حصوں پر احکام کفر تمہاری رضا اور مدد سے جاری ہونگے اس لئے تم کافر ظالم اور فاسق ہوگئے۔منظر اسلام بریلی والوں کے بقول اگر احمد رضاخان نے الگ ملک کا نظریہ پیش کیا تھا تو خود اپنے ہی فتوے سے کافر ظالم اور فاسق ہوگیا۔اور پھر دیکھیں احمد رضاخان کس طرح اپنے برطانوی آقا کیلئے مشکلات کو آسان کررہا ہے کہ ہندوستان کی مکمل آزادی کیلئے جدوجہد تو اس وجہ سے فضول ہے کہ وہ تو تمہیں ملنا نہیں لے دے کر الگ وطن کا مطالبہ اگر کرو گے تو خود قرآن کے فتوے سے کافر ہوجاؤ گے اب ان بھاری بھرکم فتووں کے بعد احمد رضاپر ایمان لانے والا کون شخص ہو گا جو آزادی وطن کا خیال بھی دل میں لائے۔؟؟احمد رضاخان کی اسی قسم کے فتووں پر اس کے اپنے ماننے والے بھی چیخ پڑے کہ آپ انگریز کی حمایت میں گول مول فتوے دیتے ہیں خدارا مسلمانوں کی حالت زار پر رحم کریں اور صاف صاف انگریز کے خلاف فتوی دیں (محصلہ :رسائل رضویہ :ج۲:ص:۸۷،۸۸،۸۹،۹۰:مکتبہ حامدیہ لاہور)
اور بقول نصیر الدین سیالوی کے اولاد باپ کے مذہب کو خوب جانتی ہے تو لیجئے احمد رضاخان کا مذہب معلوم کرنے کیلئے اس کے بیٹے اور بریلوی مفتی اعظم ہند کا یہ فتوی بھی ملاحظہ فرمالیں:
’’مسلم لیگ جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ اب چند روز ے کانگریس سے جدا ہوئی ہے جب کہ کانگریس اپنے نشۂ کامیابی سے مخمور تھی اور اس نے نہایت بری طرح ان بعض افراد جنہوں نے مسلم لیگ نام رکھ لیا ہے بعض مطالبات کو ٹھکرادیا اور ان کی ایک نہ سنی ذرا بھی التفات نہیں کیا اور گمان غالب ہے کہ جب کانگریس کا نشہ ہرن ہوگا اور وہ مسلم لیگ کے ان مطالبات کو مان لے گی تو مسلم لیگ پھر کانگریس میں منضم و مد غم ہوجائے گی آج یہ افراد جنہوں نے مسلم لیگ ایک گویا مردہ جماعت کا نام بھول بسر چکا تھا رکھ لیا ہے ان کہی کہہ رہے ہیں مگر جب کہ وہ ایک ایسی جماعت ہے جو غیر سنی ہی نہیں ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو نام اسلام ہی رکھتے ہیں تو اس کی رکنیت و شرکت کی تو شرعا اجازت نہیں ہوسکتی ‘‘۔
(فتاوی مصطفویہ :ص۵۰۰:برکاتی پبلشرز کراچی)
مگر اس سب کے مقابلے میں تحریک پاکستان اور مسلم لیگ میں علمائے دیوبند کا کیا شاندار کردار تھا اس کی گواہی خود ایک بریلوی کی زبانی ملاحظہ فرمالیں:
’’مبارک پور کے سنی اپنی مذہبی خصوصیت میں ممتازتھے مگر لیگ کی خوش عقیدگی نے ان سے مرتد اشرف علی تھانوی کے خلیفہ ظفر احمد تھانوی کا استقبال کرایا اس کا لکچر سنوایا اس کے پیچھے نماز پڑھوائی اس کے پیر کے موزے دھلوائے غرض کہ بڑی دھوم دھام سے اس کی تعظیم و تکریم کرائی‘‘۔
(جام نور کا محدث اعظم نمبر:ص ۱۰۴)
غرض رضاخانیوں نے کس طرح پاکستان ،مسلم لیگ ، انگریز کے خلاف تحریکات کی مخالفت کی ان پر کیا کیا فتوے لگائے اگر تمام ریکارڈ کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب وجود میں آسکتی ہے ہم نے یہاں صفحات کی تنگی کی وجہ سے محض بریلویوں کو آئینہ دیکھانے کیلئے یہ چند حوالے نقل کردئے ہیں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔