جمعہ، 14 اگست، 2015

کیا علمائے اہلسنت دیوبند انگریز کے خیر خواہ تھے؟ (حصہ دوم)

ماخوذ از دفاع اہل السنۃ والجماعۃ از ساجد خان نقشبندی یہ مقالہ ہدیہ بریلویت میں بھی شامل ہے مضمون کا حصہ اول اس لنک پر جاکر مطالعہ کریں
http://sajidkhannaqshbandi.blogspot.com/2015/08/blog-post_60.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراض نمبر ۸:
عبید اللہ سندھی صاحب کے ملفوظات میں ہے کہ مجاہدین کا گزران انگریز کی روہین منت تھا (ص ۳۶۲)
جواب:
حضرت عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ہمیں باوجود تلاش کے نہیں مل سکے اس لئے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اس کا عکسی حوالہ پیش کریں۔ اس کے بعد انشاء اللہ قائد انقلاب حضرت عبید اللہ سندھی صاحب ؒ کے تاریخی کردار پر بھی بحث کی جائے گی۔
البتہ کسی بھی بزرگ کے ملفوظات کے متعلق آپ کے اکابرین کا عقیدہ ہے کہ:
بزرگوں کے ملفوظات میں کچھ باتیں ان سے غلط منسوب ہوجاتی ہیں۔۔۔۔۔۔صاحب ملفوظ خود اس واقعہ یا بات کو لکھنے والا نہیں ہوتا ۔۔اس لئے عین ممکن ہے کہ کوئی دوسرا شخص خواہ کتنا ہی معتبر اور ثقہ کیوں نہ ہو اس سے ملفوظ نقل کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے اور وہ بات خلاف واقعہ ہوسکتی ہے۔۔۔لہٰذا بزرگوں کے ملفوظات سے استدلال کرنا او ر اسے قطعی حوالہ سمجھنا درست نہیں۔ملخصا۔(عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ۔ج۱۔ص۳۹۱،۳۹۲)
لہٰذا اصولی طور پر ملفوظات سے آپ کا استدلال کرنا درست نہیں۔
اعتراض نمبر۹: المعارف رسالے میں ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے انگریز کوسپاسنامہ پیش کیا۔
جواب: آپ نے جو المعارف کا حوالہ دیا یہ بالکل جعلی ہے اس میں پیش کیا گیا سپاسنامہ خود ساختہ ہے ان کے الفاظ سے ثابت ہورہا ہے کہ المعارف والے دارالعلوم دیوبند سے معاندانہ رویہ رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر یہ جعلی سپاسنامہ پیش کیا اگر یہ سپاسنامہ درست ہے تواس کاکوئی تاریخی ثبوت پیش کریں ۱۹۹۶ کے ایک غیر معتبر رسالہ کا حوالہ پیش کرنا ہی اس کے جعلی ہونے کی دلیل ہے اگر آپ کے نزدیک اس قسم کے حوالے دینا درست ہیں تو کل کو کوئی بھی کسی اخبار یا رسالے میں چند ٹکے دیکر اس طرح کے بیسیوں حوالے پیش کرسکتا ہے۔
پینٹاگون میں بریلوی سجادہ نشینوں کو انتہاء پسندی کے خلاف تربیت دینے کے لئے بلوایا گیا’’وقت اخبار ‘ کی اس خبر کے متعلق آپ کہتے ہیں کہ:

Just a news is sufficient for your harsh and bitter comments.
Allah says: If a FASIQ comes to you with a news, then first research about that(soorat al hojorat)]
پس یہی جواب ہم آپ کو دیتے ہیں کہ اپنی پسند کے جواب سے بہتر جواب کیا ہوسکتا ہے۔آپ لوگوں کے ہاں لینے کے اصول تو کچھ اور اور دینے کے اصول کچھ اور بہت خوب۔

قارئین کرام ہمارے مطالبہ کاجواب ابھی تک نہیں دیا گیا کہ بریلوی حضرات کسی مستند تاریخی ثبوت سے یہ بات ثابت کردیں کہ احمد رضاخان نے کوئی ایک جلسہ انگریز تسلط کے خلاف منعقد کیا ہو کسی ایسی تحریک کی قیادت کی ہو جو انگریز کے تسلط سے خلاف ہو یا کم سے کم انگریز کے خلاف لڑنے کا ہی کوئی فتوی دیا ہو۔۔۔
اعتراض نمبر ۱۰:’’یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدو معاون سرکار ہے۔‘‘ (سوانح قاسمی ص ۹۴)
جواب:معترض صاحب کو اطمینان ہے کہ ان کے حلقے میں کوئی ایسا پڑھا لکھا اور اپنے ذہن سے سوچنے والا آدمی نہیں پایا جاتا جو یوں سوچے کہ یہ انگریز مدرسہ دیکھنے اور اہل مدرسہ سے ملنے آیا تھا نہ کہ لڑنے۔ یہ کوئی انسپکٹر آف سکولز بھی نہیں تھا جس کے حلقہ میں دیوبند کا مدرسہ آتا ہو اور مدرسہ کو اچھا برا جو جی میں آئے لکھ جائے اور ایسے معائنہ لکھنے والے اپنے نقطہ نظر سے تعریف (اور ضرورت ہو تو تالیف و تقریب کی) ہی بات لکھا کرتے ہیں، چاہے اندر سے کچھ بھی خیال ہو، اس لئے یہ گواہی ’’لاکھ پہ بھاری‘‘ تو کیا ہوتی سرے سے گواہی کہلانے کی بھی نہیں ہے بلکہ غور کیا جائے تو اس سے بالکل الٹی گواہی نکل رہی ہے کیونکہ اس انگریز کو یہ فقر ہ لکھنے کی ضرورت ہی کیا پیش آئی تھی اگر یہ مدرسہ واقعہ میں موافق سرکار ہوتا؟یا کم از کم یہ بات مسلمہ سی نہ ہوتی کہ انگریز سرکار اسے اپنے خلاف سمجھتی ہے؟ ایک مدرسہ جو حکومت وقت کا ممدو معاون ہو اس کے معائنے میں ’’لیفٹیننٹ گورنر کا ایک خفیہ معتمد انگریز‘‘ بطور تعریف یہ لکھے گا کہ یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں ہے؟ اتنا بڑا احمق انگریز گورنر کا معتمد خاص نہیں ہوسکتا۔ یہ تو کسی معاون و وفادار ادارے کی تحسین و تعریف کی کوئی پسندیدہ صورت نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ایک شکایت پیدا کرنے کی صورت ہے کہ اسے خلاف سرکار سمجھے جانے کا بھی کوئی امکان مانا گیا جو نمائندہ سرکار ایسے خیال کو دفع کرنے اور ہمیں مطمئن کرنے کی ضرورت سمجھ رہا ہے کہ سرکار ہمارے ادارے کو اپنے خلاف نہیں سمجھتی۔ اس لئے کبھی نہیں سنا گیا ہوگا کہ کسی سرکار نے کسی کو وفاداری کا سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہو کہ یہ ہمارے خلاف نہیں ہے۔
الغرض معترض صاحب کو اپنے حلقے میں اس طرح سوچ رکھنے والے آدمیوں کے نہ ہونے کا کامل اطمینان ہے اور دوسروں کے تاثرات سے یہ لوگ سروکار نہیں رکھتے ورنہ ان کے ازخود سوچنے اور سمجھنے کی بات تھی کہ کوئی بھی آزاد ذہن کا اور سمجھدار آدمی ان کی اس تاریخ سازی کو پڑھے گا تو بجز اس کے کچھ نہیں کہے گا کہ قبلۂ محترم! یہ گواہی انگریز حکومت سے دارالعلوم دیوبند کی وفاداری کی نہ ہوئی بلکہ الٹی اس بات کی ہوئی کہ یہ دارالعلوم حقیقت میں خلاف سرکار تھا۔
لیکن الحمدللہ! کہ دارالعلوم دیوبند جس ادارہ کا نام ہے اسے کسی ایسی گواہی کی ضرورت نہیں اس کی پوری صد سالہ تاریخ کا ایک ایک ورق اپنے کردار کا بہترین گواہ اور ہر خارجی گواہی سے بے نیاز کر دینے والا ہے۔معترض صاحب کو شاید معلوم نہ ہو کہ دارالعلوم دیوبند کو رام کرنے کیلئے گورنر صاحبان کے صرف معتمد نمائندے ہی نہیں آئے بلکہ بعض دفعہ گورنر صاحب نے بھی تکلیف فرمائی لیکن اس پتھر میں جونک نہ ان سے لگی نہ ان سے لگی۔ البتہ ایسے مواقع سے یہ فائدہ ضرور اٹھایا گیا کہ دشمن اگر خود کو دھوکہ میں ڈالنے کا موقع دے رہا ہے تو اسے دھوکے میں رکھنے کا ہی رویہ اختیار کیا جائے۔
اعتراض نمبر ۱۱:
’’سوانح قاسمی‘‘ کے حاشیہ سے موجودہ مہتمم دارالعلوم حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم کے بیان کے دوٹکڑے درج کئے گئے ہیں۔
(۱) (مدرسہ دیوبند کے کارکنوں میں اکثریت) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پنشنر تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔‘‘
(۲) گورنمنٹ کی طرف سے ایک انکوائری کے تذکرہ میں)
’’اس وقت یہی حضرات آگے بڑھے اور اپنے سرکاری اعتماد کو سامنے رکھ کر مدرسہ کی طرف سے صفائی پیش کی جو کارگر ہوئی۔‘‘ (ص۹۵)
جواب
لگتا ہے کہ معترض صاحب قلم اٹھاتے وقت یہ قسم کھا بیٹھے تھے کہ حق و صداقت اور دیانت کا جتنا خون وہ ان صفحات میں کرسکتے ہیں کرکے رہیں گے چنانچہ حضرت مولانا محمد طیب صاحب دامت برکاتہم کا ایک ’’تہلکہ خیز بیان‘‘ تصنیف کرنے کیلئے انہوں نے یہ ثواب کا کام خود ہی ڈٹ کر کیا ہے۔
’’سوانح قاسمی‘‘ کے مصنف حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس بحث پر دارالعلوم کے روح رواں کی حیثیت سے حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام شروع کے دور میں جو نمایاں نہیں ہوا تو اس کی وجہ سیاسی مصلحت تھی یا کچھ اور؟
حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم حاشیہ میں یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ اور جو کچھ بھی اس کی وجہ رہی ہو وقت کی سیاسی مصلحت بھی ضرور اس کی ایک وجہ بظاہر تھی۔ یہ حاشیہ کتاب کے ص ۲۴۶ سے شروع ہوکر ص ۲۴۷ تک گیا ہے یعنی ایک صفحہ سے زیادہ کا تھا۔ اس کی وہ چند سطریں یہاں پڑھ لینے کی ضرورت ہے جن میں قاری صاحب کی اصل مقصدی گفتگو درج ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں۔
’’اس وقت کے نازک حالات، حضرت والا کا وارنٹ، روپوشی، سرکاری دوشوں کا پیچھے پیچھے لگا رہنا، پھر حضرت والا کے ان جذبات و نظریات کا ماضی سے زیادہ مستقبل کیلئے ہوتا جو اس وقت اجراء مدرسہ کی روح اور آج ایک مستقل مکتب خیال اور ملت کی تاریخ بنے ہوئے ہیں جن کی رو سے یہ مدرسہ تعلیمی ہونے کے ساتھ ساتھ گویا اہل اللہ کی سیاست کا ایک مرکز بھی تھا۔ کچھ ایسی باتیں نہ تھیں گو کلیۃً پردہ خفا میں ہوں یا کم از کم بحیثیت مجموعی حکومت وقت کی نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوں ایسی صورت میں حضرت والا کا بحیثیت بانی یا بحیثیت کسی ذمہ دار عہدیدار کے سامنے آنا بلاشبہ مدرسہ کو خطرات و مہالک کا شکار بنا سکتا تھا اور ابتداء ہی سے حکومت وقت کی نگاہیں اس پر کڑی ہوجاتی ہیں جس سے وہ حریت پرور مقاصد بروئے کار نہ آسکتے تھے جن کیلئے یہ تاسیس عمل میں آئی تھی۔ ان حالات میں حضرت والا کا کسی رسمی ذمہ داری کی صورت میں سامنے نہ آنا اور سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہ ہونے کو نمایاں رکھناایک اچھی خاصی سیاسی مصلحت کی صورت ہوجاتی ہے۔‘‘ (سوانح قاسمی حاشیہ ص۲۴۶)
اس کے آگے بحث کے اس نکتہ پر کلام کرتے ہوئے کہ اگر ایسا تھا تو عام ممبران یا ممتحنین کی فہرست میں بھی حضرت (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) کا نام کیوں آیا؟ قاری صاحب مدظلہٗ نے تحریر فرمایا ہے کہ اتنی بات سے کسی عہدیدارانہ ذمہ داری کی صورت نہیں ظاہر ہوئی علاوہ ازیں اس فہرست میں ایسے حضرات کی اکثریت تھی۔جو تارک الدنیا اور مسجد نشیں بزرگ تھے جنہیں سیاست سے تو بجائے خود عام شہری معاملات سے بھی کوئی خاص لگاؤ نہ تھا اور یا ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پیشنر تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی گنجائش ہی نہ تھیں۔‘‘ (ص۲۴۷، ۲۴۶)
بعدازاں لکھتے ہیں۔
’’اس پر بھی مخالفین مدرسہ نے حضرت ہی کے تعلق کو بنیاد قرار دے کر مدرسہ کو حکومت وقت کی نگاہوں میں مشتبہ کر دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی حتیٰ کہ گورنمنٹ کو تحقیقات کرانی پڑی۔ اس وقت یہی حضرات آگے بڑھے اور اپنے سرکاری اعتماد کو سامنے رکھ کر مدرسہ کی صفائی پیش کی جو کارگر ہوئی ورنہ اگر شخصی طور پر عہدیدارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ حضرت والا آگے ہوئے ہوتے تو ظاہر ہے کہ مدرسہ کی طرف سے ان بزرگوں کی صفائی اور یقین دہانی کارگر نہ ہوسکتی تھی۔‘‘(ص۲۴۷)
یہ ہے حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہ کے اس بیان کی اصلی صورت جسے ایک ’’تہلکہ خیز دستاویز‘‘ بنانے کیلئے معترض صاحب نے اس میں سے صرف وہ فقرے لے کر درج کردئیے ہیں جن پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے مگر کیا کوئی صاحب آدمیوں کی دنیا میں ایسے میں جو حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مدظلہٗ کے بیان کی یہ اصل صورت دیکھنے کے بعد بھی اس بیان کی رو سے دارالعلوم دیوبند اور اس کے اصل ذمہ داروں کو انگریزوں سے نیاز مندانہ اور سازبازانہ تعلقات رکھنے کا مرتکب کہنے کی ہمت فرماسکیں۔ہم کن الفاظ میں اپنی اس تکلیف کا اظہار کریں کہ جناب معترض صاحب نے محض گروہ بندانہ بغض و عناد میں خدا ناترسی کا یہ ریکارڈ قائم کرکے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ یہ عبا و قبا اور جبہ و دستار والے پیشوایان ملت و مذہب بھی کس گھٹیا درجہ تک کرتبی ہوسکتے ہیں؟ ہم کہہ چکے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند اور جماعت دیوبند کا معاملہ انگریزوں کے سلسلے میں ایسا نہیں ہے کہ جس پر کوئی مدعی غبار اڑانے میں کامیاب ہوسکے۔ یہ چاند پر تھوکنا اور سر پر خاک اڑانا ہے جس کا نتیجہ ازل سے ایک ہی رہا ہے۔ ایک پوری تاریخ کو جوہزاروں افراد کے جہاد و پیکار، قید و بند مصائب و آلام اور جہد مسلسل کے واقعات سے بنی اور اس ملک کے چپہ چپہ پر ہی نہیں اس سے باہر بھی خون پسینے کی روشنائی سے لکھی گئی اور ۱۹۴۷ء تک تسلسل کے ساتھ لوگوں کی نظروں سے گزری۔ ایسی تاریخ کو ایک بریلوی معترض نہیں ہزار، دس ہزار معترضین بھی چاہیں تو اسے چھپا دینے یا مسخ کردینے پر قادر نہیں ہوسکتے، اس سے بھی آگے سن لیجئے۔
کہ اگر خود دیوبند والوں کی کسی کتاب میں بھی اس تاریخ کی عام شہرت کیخلاف کچھ لکھا ہوا ہے تو اس کی مدد لے کر بھی اس برحق شہرت کا تختہ الٹ پلٹ ڈالنے کی کوشش ایک دیوانگی کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی۔ ارباب جہاد و پیکار کی تاریخ میں ایسے نازک وقت بھی آتے ہیں کہ دشمن کو دھوکہ دینے کیلئے اپنے اصلی کردار کو چھپانا پڑتا ہے اور صاف گفتاری کے بجائے مصلحت کی زبان اور قلم سے کام لینے کا تلخ گھونٹ پینا ضروری ہو جاتا ہے۔ اسے معترض صاحب جیسے لوگ نہیں سمجھ سکتے جن کے کنبے، قبیلے میں بھی کسی نے ان خاردار وادیوں کی سیر نہیں کی لیکن اس راہ کے تمام رہبروؤں کی تاریخ میں ایسے اوراق کہیں نہ کہیں ضرور ملتے ہیں۔ ایسا ہی وہ ایک وقت تھا جب ۱۸۵۷ء کے جہاد کا پانسہ انگریزوں کے حق میں پلٹ جانے کے بعد، دیوبندکے بزرگوں نے دارالعلوم کے نام سے ایک نئے محاذ کی بنا ڈالی تو اس کے روح رواں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نوراللہ مرقدہ نے اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر ایسے لوگوں کو سامنے رکھا جن پر انگریز حکومت کو شک و شبہ کی نظر ڈالنی مشکل ہو۔۱؂ اسی طرح جب اسی نازک دور میں کچھ آگے چل کر بعض لوگوں نے ان بزرگوں میں سے کسی کے حالات سپرد قلم کئے تو اس وقت بھی ان کے قائم کئے ہوئے اداروں اور نئے ڈھنگ کے تنظیمی سلسلوں سے گورنمنٹ کی نظر ہٹائے رکھنے کیلئے مصلحت یہی تھی کہ ان کے جہاد و پیکار کے حالات انگریزوں کے خلاف ان کے سخت جذبات دھیمے اور ذومعنی الفاظ میں لکھے جائیں اور اس بات کو ان کتابوں کا ہر پڑھنے والا بخوبی سمجھ سکتا تھا۔ اسی لئے آج تک کسی کو یہ خبط لاحق نہیں ہوا کہ ایسی عبارتوں کی بنیاد پر اصل حقیقی اور جیتی جاگتی تاریخ کے منہ آئے۔
___________________
۱؂ ان حضرات کیلئے جو الفاظ حکیم الامت حضرت مولانا محمد طیب صاحب دامت برکاتہم نے لکھے ہیں اور معترض صاحب نے نقل کئے ہیں وہ صرف یہی ہے کہ ’’گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پنشنر تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہ تھی۔‘‘ ان الفاظ سے ’’انگریزوں کے ساتھ نیازمندانہ تعلقات اور رازدارانہ سازباز‘‘ کی بو کسی ایسے ہی شخص کو آسکتی ہے جس کے فسادِ نیت نے اس کے تمام حاسدوں میں نہایت بدبودار فساد پیدا کردیا ہو کیونکہ یہ جس وقت کی بات ہے یعنی اس ۱۸۵۷ء کے کچھ ہی بعد کی جس میں فتح یاب ہوکر انگریزوں نے سارے ملک میں مسلمانوں پر وہ قیامت توڑی تھی کہ رگ رگ سے خون بہتا تھا، ہر طرف پھانسیوں کی گرم بازاری تھی، اندھادھند ہنگامہ دار و گیر بپا تھا۔ گلی کوچوں میں کشتوں کے پشتے لگ گئے تھے اور ہر مسلمان کے دل سے خون میں ڈوبی ہوئی آہیں مدتوں تک نکلتی رہی تھیں، ایسے میں کون بدنصیب مسلمان ہوگا جو ان ظالموں سے ’’رازدارانہ سازباز اور نیاز مندانہ تعلقات‘‘ رکھنے کا رودار ہو اور پھر وہ بھی وہ لوگ جو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نور اللہ مرقدہٗ جیسے مجاہدین ۵۷ء کے گرد جمع ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہ وقت تو ایسا تھا کہ سرسید جیسا آدمی بھی جس نے مسلمانوں کو انگریزوں سے وفاداری کی عمدہ صبر تلقین کی ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ لکھ کر ان ظالموں کے خلاف چیخ پڑنے پر مجبور ہوا۔ اس لئے ہم تو اس زمانہ میں مسلمانوں کے اندر کسی نیازمند سرکار کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہاں بریلوی معترض صاحب کے اوپر والوں میں ایسے لوگ اس وقت بھی پائے گئے ہوں تو ان کا اسے بعید نہ سمجھنا ٹھیک ہے۔ جناب معترض صاحب میں اگر کچھ ہوش، گوش ابھی باقی رہ گیا ہو تو ہم انہیں پیر دانا حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی نصیحت یاد دلائیں گے کہ ہر جگہ گھوڑا دوڑانے کی نہیں ہوتی۔ ؂
نہ ہرجائے مرکب تواں ناختن
کہ جاہا پربا ید انداختن
وہ کہاں اس تاریخ جہاد و پیکار کی باتوں میں اپنی ہنسی اڑوانے داخل ہوگئے۔ ان کیلئے مذہبی فتنہ انگیزی اور گندم نمائی وجو فروشی کا میدان ہی بہت ہے، محبت رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم) کے دعوے کرکے سچے محبوں کے خلاف لوگوں کو ورغلایا کریں۔ نذرونیاز اور عرس و میلاد کے حق میں نکتے تراش تراش کر عوام کو دام فریب میں پھنسایا کریں۔ ان موضوعات پر کتابیں لکھیں جن پر عام پڑھے لکھے خود کوئی رائے قائم کرنے کی معلومات نہیں رکھتے۔
لیکن ان تاریخی باتوں میں قلم فرسائی تو اہل علم و دین ہی میں نہیں ان عام پڑھے لکھوں میں بھی ان کا مضحکہ بنوا دے گی۔ ؂
ہم نیک و بدحضور کو سمجھائے جاتے ہیں
___________________
اعتراض:۱۲
اسی سوانح قاسمی میں جس کے ایک حاشیہ پر اوپر کی گفتگو ہوئی، ایک واقعہ صاحب سوانح (حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) کے مقام ولایت کے تذکرہ میں اس بات کی مثال کے طور پر درج ہوا ہے کہ اگر آپ اپنے مرتبہ کو بے حد چھپانے کا مزاج رکھتے تھے اور خاص کر باطنی قوت کا استعمال کبھی اپنی یا اپنے اہل خانہ و اقارب کی ضرورتوں میں بھی نہیں کرتے تھے مگر کبھی کسی بیچارہ غریب کا کام آپڑے تو پھر آپ کا حال دوسرا ہوتا تھا اور اس قوت کے استعمال میں کوئی تکلف نہ فرماتے، وہ واقعہ یہ ہے کہ
ایک دفعہ دیوبند سے نانوتہ واپس تشریف لے جارہے تھے کہ آپ کا خاص حجام راہ میں آتا ہوا ملا، جو آپ ہی کے پاس جارہا تھا اس نے ضرورت عرض کی کہ تھانہ دار نانوتہ نے ایک عورت کے بھگانے کا جرم مجھ پر لگا کر چالان کا حکم دیا ہے، میں بالکل بے خطا ہوں خدا کے واسطے مجھے بچائیے۔‘‘ اس کے بعد راوی کا بیان ہے کہ آپ نے نانوتہ پہنچ کر مسجد میں بیٹھتے ہی ’’مجھ سے فرمایا کہ منشی محمد یٰسین کو بلاؤ‘‘ جو آپ کے خاص کارپرداز تھے، ان منشی محمد یٰسین صاحب کے آتے ہی عجیب شان جلالی سے فرمایا کہ اس غریب حجام کو تھانہ دار نے بے قصور پکڑا ہے تم اس سے کہہ دوکہ یہ (حجام) ہمارا آدمی ہے اس کو چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچو گے، اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالو گے تو تمہارے ہاتھ میں ہتھکڑی پڑے گی۔
منشی محمد یٰسین صاحب تھانہ دار کے پاس پہنچے اور حضرت کا ارشاد سنایا جس پر اس نے گھبرا کر کہا۔ ’’اب کیا ہوسکتا ہے روزنامچہ میں اس کا نام لکھ دیا گیا ہے۔‘‘
یہ بات حضرت تک پہنچی تو منشی محمد یٰسین صاحب کو پھر یہ حکم دے کر واپس فرمایا کہ ’’جاکر کہہ دو کہ اس کا نام روزنامچے سے نکال دو۔‘‘
اس پر وہ غریب بہت پریشانی میں پڑ کر خود حضرت کی خدمت میں یہ کہنے کیلئے حاضر ہوا کہ
’’حضرت نام نکالنا بڑا جرم ہے اگر نام اس (حجام) کا نکالا تو میری نوکری جاتی رہے گی۔‘‘
آپ نے فرمایا:
’’اس کا نام (روزنامچے سے) کاٹ دو تمہاری نوکری نہیں جائے گی۔‘‘
آگے راوی کا کہنا ہے کہ
اس حکام کو اس نے چھوڑ دیا اور برابر تھانیدار ہی رہا۔ (سوانح قاسمی جلد اول ص ۳۲۴، تا ۳۳۰)
اس واقعہ کا حوالہ دے کرمعترضصاحب فرماتے ہیں کہ
’’مولوی قاسم صاحب نانوتوی اگر انگریزی حکومت کے باغیوں میں تھے تو پولیس کا محکمہ اس قدر ان کے تابع فرمان کیوں تھا؟؟؟؟‘‘
جواب
یوں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان تھے! اور جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ’’تابع فرمان‘‘ ہوجاتے ہیں ان کی یہی شان ہوتی ہے! من کان للہ کان اللہ لہ (جو اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ہوجاتا ہے) کیا یہ مشہور حدیث بھی معترض صاحب نے نہیں پڑھی؟ اور وہیں حاشیہ میں جہاں حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے متعلق یہ حکایت درج ہے۔ مصنف (مولانا گیلانی علیہ الرحمۃ) نے بخاری شریف کی ایک روایت کا جو ترجمہ درج کیا ہے وہ بھی معترض صاحب کی نظر سے بالاتر ہی رہا؟
’’بندہ جب اپنے خالق کا محبوب بن جاتا ہے تو ارشاد ربانی ہے کہ میں اس کی بینائی ہو جاتا ہوں جس سے دیکھتا ہے، اس کی شنوائی ہو جاتا ہوں جس سے سنتا ہے، اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے چلتا ہے۔‘‘ (ج۱ ص۳۲۳)
رہ رہ کر خیال آتا ہے ہے کہ کس درجے کے سیدھے اور بے خبر لوگوں کا طبقہ ان علماء کرام کے ہاتھ لگا ہے کہ اوندھی سے اوندھی بات کہتے اور لکھتے ہوئے بھی انہیں ڈر نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر ہنس دے گا۔ بھلا کوئی تک ہوئی کہ قصبہ کے تھانیدار نے ایک بات مان لی تو اس سے انگریزوں سے سازباز ثابت ہوگئی! ٹھیک ہے کہ تم تو ان بزرگوں کو اپنی کم نصیبی سے صاحب ولایت نہیں مان سکتے لیکن اس کے ماننے میں بھی کوئی دقت ہے کہ یہ تھانیدار جو اسی قصبہ کا تھانیدار تھا انہیں خدا رسیدہ بزرگ مانتا ہو۔۔۔۔۔؟ یا اس علاقہ میں جو ان کی وجاہت تھی محض اس کا لحاظ کرنے پر ہی مجبور ہو۔۔۔۔۔؟
ان میں سے کون سی بات ایسی ہے جو نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔؟ جبکہ اس کے برعکس ’’اوپر کے حکام‘‘ (اور وہ بھی ’’مرکزی‘‘ حکام) سے ’’سازباز‘‘ والے تعلقات کا علم ایک ہندوستانی تھانیدار سے ہونے کی بات کسی تھوڑی سی عقل والے کی بھی سمجھ نہیں آسکتی۔ کھلے تعلقات ہوں تو ضرور ایک تھانیدار بے چارہ بھی واقف ہوسکتا ہے مگر ڈھکے چھپے اور سازباز والے تعلقات ہوں تو اس کی خبر اس بے چارہ کے فرشتوں کو بھی ہونے سے رہی مگر واہ رے معترض صاحب! یہ سیدھی سیدھی باتیں پس پشت ڈال کر چلے ہیں کہ اسے’انگریزوں کے خلاف دیوبندی اکابر کے افسانہ‘ جہاد و بغاوت کی پوری بساط الٹ دینے والی سنسنی خیز کہانی ۱؂‘‘ بنا کے چھوڑیں گے!۔
حالانکہ جہاں تک آپ کے مریدوں اور معتقدوں کا سوال ہے ان کیلئے تو کسی کہانی کی بھی ضرورت نہیں۔ صرف آپ فرما دیجئے کہ دیوبندی جو کچھ جہاد و بغاوت کی باتیں کرتے ہیں سب افسانہ ہیں۔ وہ بیچارے مان لیں گے لیکن جنہیں دلیل و ثبوت کی ضرورت ہے وہ آپ کی اس سستی ’’سنسنی خیزی‘‘ پر ہنس دیں گے کہ کیا دو آنے والا جاپانی طپنچہ معترض صاحب شیروں کا شکار کرنے کیلئے لائے ہیں؟ ایک طرف جیتی جاگتی اور (غلوپسند بریلویوں کو چھوڑ کر) مسلم و غیرمسلم سب کی مانی ہوئی حقیقت اور دوسری طرف یہ تھانیدار کی کہانی! ہائے ری کم سواری! اور ہائے ری کج ادائی!! اگر ان معترض صاحب کو اس معاملے میں مسٹر اوک کہا جائے تو بالکل موزوں ہوگا، انہی کی طرح ایک مسٹر اوک ہندوستان میں ہیں جو روز مضامین لکھتے کہ ’’تاج محل‘‘ مغل بادشاہ نے نہیں ہندوؤں نے بنوایا تھا۔ لال قلعہ اس بادشاہ کا بنوایا ہوانہیں تھا۔ قطب کی لاٹ بھی مسلمانوں کا کارنامہ نہیں ہے۔ وغیرہ ذالک من الہفوات۔
اعتراض ۱۳
سوانح قاسمی جلد دوم سیایک عبارت لے کر سوال فرمایا گیا ہے کہ
’’جب حضرت خضر کی صورت میں نصرت حق انگریزی فوج کے ساتھ تھی تو ان باغیوں کیلئے کیا حکم ہے جو حضرت خضر کے مقابلہ میں لڑنے آئے تھے؟ کیا اب بھی انہیں غازی اور مجاہدکہا جاسکتا ہے۔‘‘
جواب:
سوانح قاسمی کی وہ عبارت ایک روایت کے ذیل میں ہے، روایت کے راوی ہیں نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن صاحب شیروانی اور جن کے بارے میں روایت ہے وہ ہیں حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ یعنی نہ یہ خاص معنی میں دیوبندی اور نہ وہی دیوبندی، تعلق دونوں بزرگوں کو دیوبند کے بزرگوں سے بھی تھا اور دیوبند کے بزرگوں کو ان دونوں سے بلکہ حضرت گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے بعض بزرگان دیوبند کا ارادتمندانہ تعلق رہا ہے اور ان کے مزار کو بریلی والے بھی مانتے ہیں۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کو، مگر دیوبندیوں پر وار کرنے کے جنون میں جیسے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ پر ہاتھ صاف کئے گئے ویسے ہی حضرت گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس جنون کی زد سے نہیں بچ پائے۔ ان کے متعلق سوانح قاسمی کے مصنف مولانا گیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک روایت نواب صدر یار جنگ کے حوالے سے یہ درج کی ہے کہ
’’۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے مقابلے میں جو لوگ لڑ رہے تھے ان میں حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ بھی تھے، اچانک ایک دن مولانا کو دیکھا گیا کہ بھاگے جارہے ہیں اور کسی چوہدری کا نام لے کر جو باغیوں کی فوج کی افسری کررہے تھے، کہتے جاتے تھے کہ لڑنے سے کیا فائدہ؟ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پارہا ہوں۔‘‘
دوسری ایک روایت اسی سلسلے میں انہی راوی نے مولانا گیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے بیان فرمائی کہ ’’غدر کے بعد جب گنج مراد آبادی کی ویران مسجد میں حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب جاکر مقیم ہوئے تو اتفاقاً اسی راستے سے جس کے کنارے مسجد ہے، انگریزی فوج گزر رہی ہے۔ مولانا مسجد سے دیکھ رہے تھے اچانک مسجد کی سیڑھیوں سے اتر کر دیکھا گیا کہ انگریزی فوج کے ایک سائیس سے ۔۔۔باتیں کرکے پھر مسجد واپس آگئے۔‘‘ اس کے آگے راوی (نواب صدر یار جنگ) کا بیان ہے کہ
’’اب یاد نہیں رہا، پوچھنے پر یا ازخود فرمانے لگے کہ سائیس جس سے میں نے گفتگو کی تھی یہ خضر تھے۔ میں نے پوچھا یہ کیا حال ہے؟ تو جواب میں کہا حکم یہی ہوا ہے۔‘‘
اس کے بعد مولانا گیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے لکھا ہے۔
’’یہ روایت نواب صاحب سے سنی ہوئی ہے، باقی خود خضر کا مطلب کیا ہے۔۔؟ حضرت ’’حق‘‘ کی مثالی شکل تھی جو اس نام سے ظاہر ہوتی ہے، تفصیل کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ کی کتابیں پڑھئیے گویا جو کچھ دکھایا جارہا تھا (یعنی انگریزوں کا غلبہ)’’اسی کے باطنی پہلو کا یہ مکا شفہ تھا‘‘
(حاشیہ سوانح قاسم ج ۲ ص۱۰۳)
اس پرمعترض سعیدی صاحب وہ معترضانہ سوال فرماتے ہیں کہ جس کا ذکر پہلے کردیا گیا کہ پھر ’’ان باغیوں کیلئے کیا حکم ہے جو حضرت خضرؑ سے لڑنے آئے تھے؟ان کا حکم۔۔۔۔۔؟ ان کا حکم وہی ہے جو ان حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃوالسلام کیلئے جناب ارشاد فرمائیں گے جو حضرت خضرعلیہ السلام سے (باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر ان کا علم لدنی دیکھنے ان کے پاس گئے تھے) ان کے ہر فعل پر لڑ جاتے تھے اور بالآخر ان سے جدائی پر مجبور ہوگئے! پتہ نہیں قرآن میں بیان کیا گیا یہ قصہ آپ کو معلوم بھی ہے یا نہیں؟
یہ جواب تو ہوا معترض صاحب کے سوال کی معقولیت و نامعقولیت کو ناپے بغیر لیکن اس نظر سے جانچنے کے بعد خود آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس روایت میں حضرت شاہ فضل الرحمن صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے علاوہ کسی اور کیلئے بھی لکھا ہے کہ اسے خضرؑ نظر آئے۔۔۔؟ حضرت شاہ صاحب کو نظر آئے تھے وہ میدان سے ہٹ گئے۔ دوسروں کو نظر آنے کا جب کوئی ذکر نہیں تو اس اعتراض کا کیا تک کہ وہ حضرت خضر سے لڑ رہے تھے۔ اس ضمن ایک دلچسپ بات یہ بھی محسوس ہوتی ہے کہ سوانح قاسمی میں اس روایت کے ذکر سے معترض نے حقیقی نیے سمجھ لیا کہ یہ شاہ فضل الرحمن صاحب بھی حجہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ کے دوش بدوش دوآبہ کے علاقے میں انگریزوں سے لڑ رہے تھے۔ چنانچہ سوال کرنا چاہئے کہ جب ان کے ایک ساتھی بزرگ نے یہ اطلاع انہیں دے دی تھی پھر کیوں وہ انگریزوں سے لڑتے رہے؟ بے چارے معترضصاحب کو یہ پتہ نہیں کہ شاہ فضل الرحمن صاحب اودھ میں تھے اور اودھ دوآبہ سے کافی دور ہے۔
خیر یہ دلچسپ بات تو اپنی جگہ، ذرا دوسرا سوال کرنے دیجئے کہ حضرت یہ آپ نے کہاں پڑھا ہے کہ اگر کسی دشمن فوج کے متعلق کسی بزرگ کا یہ مکاشفہ معلوم ہوجائے کہ حضرت خضر کی شکل یا کسی دوسری شکل مشیت خداوندی اس دشمن فوج کے ساتھ ہے تو مقابلہ میں لڑنے والے مسلمانوں کو ہتھیار پھینک کر ضرور میدان سے ہٹ جانا چاہئے ورنہ وہ بجائے غازی اور مجاہد کے گنہگار ہوں گے؟
آپ نے کہیں کچھ پڑھا بھی ہے یا یوں ہی نام ’’محمد فاضل‘‘ ہوگیا؟ علامہ صاحب! کسی بھی بزرگ کا مکاشفہ کسی دوسرے پر حجت نہیں، یہ صرف پیغمبروں کا مرتبہ ہے کہ ان کا مکاشفہ بھی وحی کے ہمرتبہ اور حجت!
اور چلئے سب باتیں آپ ہی کی ٹھیک! خدا آپ کے جنون اعتراض کو عمر دراز دے اس ے صدقے میں ایک جگہ تو آپ نے مان لیا کہ یہ دیوبند کے بزرگ انگریزوں سے لڑے تھے، حق اسی طرح سر چڑھ کر بولا کرتا ہے اور اس لئے اب اپنی زبان کے مطابق خود آپ کے اپنے ’’سر پہ چڑھ کر آواز دینے والے‘‘ اس سوال کا جواب ارشاد فرمائیے کہ آپ جو ان بزرگوں کیانگریزوں سے جنگ و جہاد کو اب تک ’’افسانہ‘‘ ٹہراتے آرہے ہیں وہ سب آپ کا جھوٹا اور جعل تھا یا نہیں؟
اس کے بعد ایک بات جو اوپر اشارہ میں آئی ہے عوام کیلئے ذرا کھول کر کہہ دینا چاہئے کہ مسلمانوں کا غلبہ ہو یا ان کے دشمنوں کا غلبہ سب خدا ہی کے اور اس کے اذن و مشیت سے ہوتا ہے۔ انگریزوں کا غلبہ ۱۸۵۷ء میں بلاشبہ اسی اصول کے ماتحت ہوا اور اسی مشیتی اور تکوینی تائید و نصرت کو صاحب کشف بزرگ صورت خضر وغیرہ میں دیکھا کرتے ہیں۔ اس کے ظاہر کر دینے کا نام کوئی ’’دشمنان اسلام کی بارگاہ میں نیازمندی‘‘ رکھے جیسا کہ معترض صاحب نے کیا ہے تو یہ محض جہالت ہے یا خدا سے بے خوف ہوکر ابلہ فریبی۔
اعتراض ۱۴:سیرت سیداحمد شہید ص ۹۰ ج ۱ میں ہے کہ انگریز گھوڑے پر سوار چند پالکیوں میں کھانا لیکر آیا۔
جواب:بریلوی اگر پوری عبارت ہی نقل کردیتے تو کسی بھی صاحب فہم کوکوئی مغالطہ نہ ہوتا پوری عبارت یہ ہے :
ایک انگریز گھوڑے پر سوار چند پالکیوں پر کھانا رکھے کشتی کے قریب آیا اور پوچھا کہ پادری صاحب کہاں ہیں ؟حضرت نے کشتی پر سے جواب دیا کہ میں یہاں ہوں انگریز گھوڑے سے اترا اور ٹوپی ہاتھ میں لیکر کشتی پر پہنچا اور مزاج پرسی کے بعد کہا کہ تین روز سے میں نے اپنے ملاز م یہاں کھڑے کردئے تھے کہ آپ کی آمد کی اطلاع کریں آج انھوں نے اطلاع کی کہ اغلب یہ ہے کہ حضرت آج قافلے کے ساتھ تمہارے مکان کے قریب پہنچیں یہ اطلاع پاکر غروب آفتاب تک کھانے کی تیاری میں مشغول رہا تیار کرانے کے بعد لایا ہوں سید صاحب ؒ نے حکم دیا کہ کھانا اپنے برتنوں میں منتقل کرلیا جائے کھانا لے کر قافلے میں تقسیم کردیا گیا اور انگریز دو تین گھنٹے رہ کر چلا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ انگریز کمپنی کے ملازمین میں سے نہیں تھابلکہ نیل کا ایک تاجر تھا۔(مخزن احمد ی ص ۶۶،۶۷ سیر ت احمد شہید حصہ اول ص ۲۳۷ طبع چہارم،خواجہ بک ڈپو اردو بازار لاہور)
یہ واقعہ اس دور کا ہے جب کہ حضرت سید صاحب اور ان کے مجاہد ساتھی قصبہ دھمدمہ سے آلہ آبادکی طرف روانہ ہوئے اور سکھوں کے مقابلے کیلئے سرحد پہنچنا چاہتے تھے مگر ابھی تک سکھوں سے جہاد شروع نہیں ہوا تھا اور حضرت سید صاحب کی جماعت ایک اصلاحی اور تبلیغی جماعت تھی جو توحید و سنت کی نشر و اشاعت اور شرک و بدعت اور بدرسوم کی بیخ کنی میں مصروف تھی اس انگریز نے عالم اور مصلح ہونے کی وجہ سے حضرت سید صاحب کو اپنی اصطلاح میں پادری سے تعبیر کیا اور کھانا بھی کمپنی کے کسی انگریز ملازم نے تیار نہیں کرایا تھا بلکہ وہ نیل کا ایک تاجر تھا اس سے یہ ثابت کرنا کہ اس جماعت کا انگریزوں کے حکمران طبقہ سے ملاپ تھا یا جماعت انگریز کمپنی کے خلاف نہ تھی قطعا غلط ہے ۔
آنحضرت ﷺ اور آپ کے چند صحابہ کرامؓ خیبر کے غزوے سے متصل بعد ایک یہوی عورت کی دعوت قبول کی تھی جس میں اس نے زہر ڈالا تھا جس کا آپ ﷺ پر بھی اثرا ہوا (بخاری ج۱ص۳۵۶،ج۲،ص۶۱۰)
اور حضرت بشرؓ بن براء بن معرور اس زہر کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکے (ابو داود ج۲ص۲۶۴)
کیا کوئی مسلمان یہ جرات کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ یوں کہے کہ آپ ﷺ کا یہودیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا اسلئے ان کی دعوت قبول کی تھی۔؟۔بخاری ج۱ص۳۵۶ میں مستقل باب ہے’’باب قبول الہدیۃ من المشرکین‘‘ یعنی مشرکین کا ہدیہ قبول کرنا اور پھر مرفوع احادیث اس کے ثبوت میں پیش کی ہیں۔کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ معاذ اللہ کہ آپ ﷺ کی ہدیہ قبول کرنے کی وجہ سے مشرکوں سے ساز باز تھی۔۔؟َ؟۔

آثار سحر کے ہیں اب رات کا جادو ٹوٹ چکا
ظلمت کے بھیانک ہاتھوں سے تنویر کا دامن چھوٹ چکا
الحمد للہ الذی ہدانا لہذا وما کنا لنہتدی لولا ان ہد انا اللہ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔