جمعرات، 17 ستمبر، 2015

تحقیق اثر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما



بسم اللہ الرحمن الرحیم.
تحقیق اثر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما.
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔
حجۃ الاسلام بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف ’’تحذیر الناس من انکار اثر ابن عباس ‘‘ دراصل مولانا احسن نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی طر ف سے ایک استفتاء جو اثر ابن عباس کی تصحیح و توضیح کے متعلق ہے کا جواب ہے ۔یا ر لوگوں نے جس طرح اپنی علمی بے مائیگی ،ضد و تعصب کی وجہ سے اس مایہ ناز تصنیف پر لایعنی اعتراضات کئے اسی طرح اس صحیح حدیث کا انکار بھی کیا ۔ اس مضمون میں راقم اس اثر کی تصحیح کے متعلق چند معروضات پیش کرے گا۔


تصحیح اثر ابن عباس
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوْبَ الثَّقَفِیُّ ثَنَا عُبَیْدُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِیُّ أَنْبَأَ عَلِیُّ بْنُ حَکِیْمٍ حَدَّثَنَاشَرِیْک’‘ عَنْ عَطَآءِ ابْنِ السَّاءِبِ عَنْ أَبِی الضُّحٰی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : أَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَھُنَّ ( الطلاق:12) قَالَ سَبْعُ أَرْضِیْنَ فِیْ کُلِّ أَرْضٍ نَبِیّ’‘ کَنَبِیِّکُمْ وَ آدَمُ کَآدَمَ وَ نُوْح’‘ کَنُوْحٍ وَّ اأبْرَاہِیْمُ کَاأبْرَآھِیْمَ وَ عِیْسٰی کَعِیْسٰی
(ھذ حدیث صحیح الاسناد قال فی التلخیص صحیح، المستدرک علی الصحیحین،ج2،ص535،رقم الحدیث 3822،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی سورۃ الطلاق کی آیت اللہ الذی خلق سبع سموت الآیۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں پیدا کی ہر زمین میں تمہارے نبی کی طرح نبی ہیں تمہارے آدم کی طرح آدم ہیں تمہارے نوح کی طرح نوح ہیں ابراہیم کی طرح ابراہیم ہیں اور عیسی کی طرح عیسی ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے اور امام ذہبی ؒ نے بھی تلخیص میں اس کو صحیح کہا۔
ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت مختصرابھی وارد ہے:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الحَسَنِ الْقَاضِیُّ ثَنَا اأبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحُسَیْنِ ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِیْ اأیَّاسٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ عَزَّ وَ جَلَّ سَبْعُ سَمٰوٰتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلُھُنَّ قَالَ فِیْ کُلِّ أَرْضٍ نَحْوُ اأبْرَاہِیْمَ
ھَذَ ا حَدِیْث’‘ صَحِیْح’‘ عَلَی شَرْطِ الشِّیْخَیْنِ وَ لَمْ یُخَرِّجَاہُ قَالَ فِی التَّلْخِیْصِ عَلَی شَرْطِ الْبُخَارِیِّ وَ مُسْلِمٍ
( المستدرک علی الصحیحین،رقم الحدیث 3823)
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ روایت علی شرط الشیخین ہے اور امام ذہبی بھی ان کے قول کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ علی شرط البخاری و المسلم ہے۔علامہ سیوطی رحمہ اللہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
أَخْرَجَ اأبْنُ جَرِیْرٍوَّابْنُ أَبِیْ حَاتِمٍ والحاکم صححہ والبیھقی فی شعب الایمان و فی کتاب الآسماء والصفات
( الدر المنثور ،ج6،ص238،دارالمعرفۃ،بیروت)
امام بیہقی اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
صحیح
(کتاب الآسماء والصفات ،ج2،ص267,268،رقم الحدیث831,832)
یہ روایت صحیح ہے
علامہ زرقانی ؒ سے سوال ہوا کہ کیا سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں اور کیا ان میں مخلوقات بھی ہیں؟
تو فرمایا جی ہاں اور ابن حجر کے حوالے سے فرمایا کہ اس پر یہ روایت دلالت کرتی ہے جو ابن عباسؓ سے مختصرا و مطولا منقول ہے اور پھر امام بیہقی کے حوالے سے اس روایت کی تصحیح نقل کی ہے۔
( اجوبۃ للأسئلۃ ،السوال الخامس والسادس والاربعون)
اسی طرح قاضی بدر الدین شبلی الحنفی رحمہ اللہ نے ایک مسئلہ کہ کیا کبھی جنات میں بھی رسول مبعوث ہوئے امام ضحاک کا ایک قول پیش کیا اور پھر اس کو مدلل کرنے کیلئے اثر ابن عباس کو استدلال پیش کیا اور پھر فرمایا کہ اس روایت کا ایک شاہد بھی ہے جسکو امام حاکم نے عمرو بن مرۃ عن ابی الضحی کے طریق سے نقل کیا ہے اور میرے استاذ امام ذہبی ؒ اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں :
ھذا حدیث علی شرط البخاری و مسلم و رجالہ آئمۃ
( آکام المرجان فی احکام الجان،ص63,64،مکتبۃ القرآن بمصر)
یہ حدیث علی شرط البخاری و المسلم ہے اور اس حدیث کے راوی بڑے بڑے آئمہ ہیں۔
اسی طرح یہ روایت تصحیح کے ساتھ علامہ قاضی شوکانی غیر مقلد نے ’’فتح القدیر،ج5،ص295،داربن کثیر ‘‘، عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’عمدۃ القاری ،ج15،ص111، داراالاحیاء التراث ، علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کشف الخفاء ،رقم الحدیث 316‘‘، علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فیض القدیرشرح الجامع الصغیر،ج 12، ص 409،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت ‘‘ پر بھی نقل کی ہے ۔
جبکہ رضاخانیوں بریلویوں کی محبوب ترین تفسیر ’’روح البیان ‘‘ میں علامہ حقی نے اسے اپنے موقف پربطور استدلال پیش کیا اور ’’آکام المرجان ‘‘ والے کے حوالے سے اس روایت کو صحیح کہا ۔
(روح البیان ،ج3،ص105،دارالفکر بیروت )
نیز ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب ’’ اتحاف المھرۃ ،ج8،ص65،رقم الحدیث 8922،اور حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے’’تفسیر ابن کثیر ، ج8 ، ص156,157 ، دارالطیبہ ،ریاض ‘‘ میں ’’تصحیح‘‘ کے ساتھ اس روایت کو درج کیا ہے ۔
یاد رہے کہ ان تمام مفسرین و محدثین نے اس حدیث کو بمع تصحیح نقل کرنے کے بعد اس پر سکوت کیا اور کوئی جرح نہیں کی۔اس روایت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں ’’و من فی الارض مثلھن ‘‘ کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کردوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ تم کفر کر بیٹھو اور تمہارا کفر یہی ہوگا کہ تم اس کی حقیقت جاننے کے بعد اس کا انکار کربیٹھو گے۔
قال ابن جریر حدثنا عمرو بن علی حدثنا وکیع حدثنا الاعمش عن ابراہیم بن مہاجر عن مجاہد عن ابن عباس فی قولہ ( سبع سموت و من الارض مثلھن ) قال لو حدثتکم بتفسیرھا لکفرتم و کفرکم تکذیبکم بھا
و ھدثنا ابن حمید حدثنا یعقوب بن عبد اللہ بن سعد القمی الاشعری عن جعفر بن ابی المغیرۃ الخزاعی عن سعید بن جبیر قال قال رجل لابن عباس ( اللہ الذی خلق سبع سموت و من الارض مثلھن ) فقال ابن عباس ما یؤمنک ان اخبرتک بھا فتکفر
(تفسیرابن کثیر ،ج8،ص156،دارالطیبہ ریاض ،تفسیر المراغی ،ج28،ص151،مصطفی البابی مصر)
خلاصہ بحث
قارئین کرام ! ملاحظہ فرمائیں کہ یہ اتنے بڑے بڑے آئمہ اس حدیث کی تصحیح کررہے ہیں کوئی اس کو علی شرط البخاری و المسلم کہہ رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے کہ اس کے راوی بڑے بڑے آئمہ ہیں تو کوئی اس کو اپنے استدلال میں پیش کررہا ہے تو کوئی اس کی تصحیح نقل کرنے کے بعد اس پر سکوت کرکے اس روایت کے صحیح ہونے کی تائید کررہا ہے تو اب ایسی صحیح ترین روایت کو ماننے سے کیا صر ف اس وجہ سے انکار کردیا جائے کہ اس کا ظاہر مفہوم ختم نبوت کے خلاف ہے یا اس روایت کا مطلب ہمیں سمجھ نہیں آتا یا شیخ نانوتوی رحمہ اللہ علیہ نے اس کو صحیح کہا ؟ اللہ پاک جزائے خیر دے قاسم العلوم والخیرات حجۃ اللہ فی الارض حضرت امام نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو کہ اس حدیث کا ایسا دلنشین مطلب بیان کیا کہ حدیث کی صحت بھی برقرار رہی اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی ختم نبوت پر بھی کوئی حرف نہ آیا ۔ تفصیل کیلئے ’’تحذیر الناس‘‘ کا مطالعہ کریں۔
بریلوی شیخ الحدیث اور اثر ابن عباس
مولوی غلام رسو ل سعیدی بریلوی مفتی اعظم پاکستان پروفیسر منیب الرحمن صاحب کے مدرسے کا شیخ الحدیث ہے اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ موصوف بریلوی مسلک میں کس پائے کے عالم ہیں ۔ ان کی تفسیر ’’تبیان القرآن ‘‘ کے متعلق مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں :
’’ میں اہلسنت و جماعت کو یہ خوشخبری سنانا بھی اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ مصنفات علامہ سعیدی ،شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن کو ہمارے عہد کے دو ممتاز اکابر اہلسنت علامہ عبد الحکیم شرف قادری اور علامہ محمد اشرف سیالوی مداللہ ظلہما العالی نے مسلک اہلسنت و جماعت کیلئے متفق علیہما قرار دیا ہے ،یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ دونوں اکابر ہمارے مسلک کے لئے حجت و استناد کی حیثیت رکھتے ہیں ‘‘۔
( تفہیم المسائل ،ج3،ص17،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
معلوم ہوا کہ تبیان القرآن رضاخانیوں کے ہاں مسلم و متفق علیہ دستاویز ہے ۔اور علامہ سعیدی کے متعلق یہی موصوف نام نہاد مفتی اعظم لکھتے ہیں :
شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی مدظلہم کی تفسیر تبیان القرآن اور شرح صحیح مسلم سے بھی استفادہ کرتے رہتے ہیں اور براہ راست بھی ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ان کا وجود اہلسنت و جماعت کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے ‘‘۔
(تفہیم المسائل ،ج3،ص16،ضیاء القراان پبلی کیشنز)
تو بریلویوں کیلئے یہ نعمت غیر مترقبہ اپنی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتا ہے :
امام ابن ابی حاتم متوفی 327ھ روایت کرتے ہیں :
ابو الضحی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے من الارض مثلھن ( الطلاق :12) کی تفسیر میں روایت کیا ہے : یہ سات زمینیں ہیں ہر زمین میں تمہاری طرح نبی کی مثل ایک نبی ہے اور آدم کی مثل آدم ہیں اور نوح کی مثل نوح ہیں اور ابراہیم کی مثل ابراہیم ہیں اور عیسیٰ کی مثل عیسیٰ ۔( تفسیر امام ابن ابی حاتم ۔ رقم الحدیث 18919 ، مکتبہ نزار مصطفی مکہ مکرمہ 1417ھ)
امام مقاتل بن سلیمان متوفی 150ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے ( تفسیر مقاتل بن حیان ،ج3،ص375)
نیز امام ابو عبداللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری متوفی 405ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
ابو الضحی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ الذی خلق سبع سموت و من الارض مثلھن ( الطلاق :12) کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا سات زمینیں ہیں ہر زمین میں تمہارے نبی کی مثل ایک نبی ہے اور حضرت آدم کی مثل آدم ہیں اور حضرت نوح کی مثل نوح ہیں اور حضرت ابراہیم کی مثل ابراہیم ہیں اور حضرت عیسی کی مثل عیسی ہیں ۔امام حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا حافظ ذہبی نے بھی کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
( المستدرک ،ج2،ص493،طبع قدیم ،المستدرک ،رقم الحدیث 3822،المکتبۃ العصریۃ1420ھ)
امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی نے اس حدیث کو دو سندوں سے روایت کیا ہے ، ایک سند ہے از عطاء بن السائب از ابی الضحی از ابن عباس ہے اور دوسری سند از عمرو بن مرہ از ابی الضحی از ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ۔امام بیہقی لکھتے ہیں اس حدیث کی سند حضرت ابن عباس سے صحیح ہے اور راوی مرہ کے ساتھ شاز ہے اور میں نہیں جانتا کہ اطو الضحی کا کوئی متابع ہے ۔
( کتاب الاسماء و الصفات ،ص390,389،دارالاحیاء التراث العربی،بیروت )
علامہ عبد الرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں اس حدیث کی دو سندیں ہیں ایک حضرت ابن عباس تک متصل ہے اور دوسری سند ابو الضحی پر موقوف ہے الخ ( زاد المسیر ،ج8،ص300،مکتبہ اسلامی بیروت 1407ھ)
اثر ابن عباس کے متعلق محدثین اور مشاہیر علماء کی آراء
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852ھ لکھتے ہیں علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ زمین واحد ہے ابن التین نے کہا یہ قول قرآن و سنت سے مردود ہے میں کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ سات زمینیں متصل ہیں ورنہ یہ قول قرآن اور ھدیث کے صریح مخالف ہے سات زمینوں پر دلیل یہ ہے کہ امام ابن حجر نے از ابو الضحی از ابن عباس و من الارض مثلھن ( الطلاق :12) کی تفسیر میں روایت کیا ہے :
ہر زمین میں حضرت ابراہیم کی مثل ہے جس طرح زمین کے اوپر مخلوق ہے اور اس کی سند صحیح ہے اور امام حاکم اور امام بیہقی نے اس کی طویل متن سے روایت کیا ہے کہ سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں تمہارے آدم کی طرح آدم ہیں اور تمہارے نوح کی طرح نوح ہیں اور تمہارے ابراہیم کی طرح ابراہیم ہیں اور تمہارے عیسی کی طرح عیسی ہیں اور تمہارے نبی کی طرح نبی ہیں ۔امام بیہقی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے مگر یہ مرہ کے ساتھ شازہے اور امام ابن ابی حاتم نے از مجاہد از ابن عباس روایت کیا ہے کہ اگر میں تم سے اس کی تفسیر بیان کروں تو تم کفر کروگے اور تمہارا کفر اس روایت کی تکذیب ہے ۔اہل ہیئت یہ کہتے ہیں کہ ہر چند کہ زمین اوپر تلے ہیں مگر ان کے درمیان مسافت نہیں ہے اور ساتویں زمین سپاٹ ہے اس کا کوئی بطن نہیں ہے اور اس کے وسط میں مرکز ہے اور وہ ایک فرض نقطہ ہے لیکن ان کے اقوال پر کوئی دلیل نہیں ہے اور سنن ابو داؤد اور سنن ترمذی میں حضرت عباس بن عبد المطلب سے مرفوعا روایت ہے کہ ہر دو آسمانوں کے درمیان اکہتر یا بہتر سال کی مسافت ہے لیکن ان حدیثوں میں اس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ مسافت کا یہ فرق رفتار کی تیزی اور کمی پر مبنی ہے ۔
( فتح الباری ،ج6،ص434,435،دارالفکر بیروت 1420ھ)
علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی متوفی 1270ھ لکھتے ہیں :
علامہ ابو الحیان اندلسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے اس اثر کو موضوع قرار دیا ہے لیکن میں کہتا ہوں اس اثر کے صحیح ہونے میں کوئی عقلی اور شرعی مانع نہیں ہے ۔ ( روح المعانی ،ج28،ص211،دارالفکر بیروت 1417ھ)
(بحوالہ تبیان القرآن ،ج12،ص92تا94فرید بک سٹال لاہور الطبع الخامس جنوری 2011)
اثر ابن عباس پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ
اعتراض نمبر ۱:اس حدیث کی تصحیح امام حاکم نے کی ہے اور حاکم حدیث کی تصحیح میں متساہل ہیں اس لئے اس کی تصحیح کا اعتبار نہیں۔
جواب: درست کہا مگر روایت کی تصحیح میں صرف امام حاکم متفرد نہیں بلکہ امام بیہقی و امام ذہبی نے بھی ان کی موافقت کی ہے اور آپ نے یہ بھی پڑھا ہوگا کہ جب حاکم کی تصحیح پر ذہبی موافقت کرے تو روایت قابل قبول ہوگی۔
اعتراض نمبر ۲:ذہبی نے اس کو صحیح نہیں کہا بلکہ حسن کہا ہے اور دونوں میں بون بعید ہے ۔
جواب : ہم نے ماقبل میں صراحت کے ساتھ امام ذہبی ؒ سے ’’صحیح علی شرط البخاری والمسلم ‘‘ کے الفاظ نقل کئے ہیں البتہ ’’آکام المرجان ‘‘ والے نے ذہبی کے حوالے سے ’’حسن ‘‘کا لفظ نقل کیا ہے لیکن یہ ہمارے خلاف نہیں کیونکہ بہت سے متقدمین حسن اور صحیح میں فرق نہیں کرتے بلکہ حسن کو صحیح ہی میں شمار کرتے ہیں بلکہ امام حاکم کا تو عام صنیع ہی یہی ہے کہ وہ صحیح پر حسن کا اطلاق کرتے ہیں تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو:
(تدریب الراوی شرح تقریب النووی ،ص138:قدیمی کتب خانہ ۔کراچی)
پس جب دونوں میں کوئی فرق نہیں تو اس اعتبار سے لامنافاۃ بین تصحیح الحاکم والبیہقی و تحسین الذہبی فافھم۔
اعتراض نمبر ۳:آپ کی ذکر کردہ پہلی روایت میں عطاء ابن السائب ہیں اور ان سے روایت کرنے والے ’’شریک ‘‘ہیں اور عطاء بن سائب آخر عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے اور امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ شعبہ و سفیان کے علاوہ جنہوں نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے وہ حالت اختلاط میں روایت کیا ہے ۔
جواب : امام نووی نے ابن معین کے حوالے سے جو لکھا یہ بسبب ان کے تتبع کے ہے ۔جوکہ درست نہیں اس لئے کہ شعبہ و سفیان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی حالت اختلاط سے پہلے عطاء ابن السائب سے روایت کیا ہے ۔چنانچہ حافظ بن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں عطاء بن سائب سے اختلاط سے قبل روایت کرنے والے شعبۃ و سفیان کے علاوہ :زہیر ،زائدۃ ،حماد بن زید ،ایوب اور ان کے علاوہ بھی کئی ہیں۔
(تہذیب التہذیب ،ج7،ص184:دارالفکر ۔بیروت)
اور ابن مزی نے تو صاف صریح لکھا ہے کہ عطاء بن السائب سے قدیما قبل الاختلاط نقل کرنے والوں میں سے ’’شریک ‘‘ بھی ہیں۔
(تہذیب الکمال ،ج20،ص86)
ابو عوانہ کا نام بھی ان حضرات میں ملتا ہے جنہوں نے حالت صحت میں عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔
( الجرح و التعدیل ،ج13،ص471)
پھر اس اشکال کے ہوتے ہوئے بھی ذہبی و بیہقی نے اس کو صحیح کہا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اعتراض درست نہیں۔
اعتراض نمبر ۴: اس کی سند میں واقدی کذاب ہے۔
جواب : ہم نے مکمل سند پیش کردی ہے اس میں واقدی کا نام دکھانے پر منہ مانگا انعام ۔
اعتراض نمبر ۵: یہ حدیث شاذ ہے اور حدیث صحیح کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ شذوذ سے پاک ہولہٰذا یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
جواب : یہ بھی اہل بدعت کا نرا مغالطہ ہے وہ ا س طرح کہ شاذ علی الاطلاق صحت کے منافی نہیں بلکہ اس میں تفصیل ہے کہ ایک شاذ وہ ہے جو ’’مقبول ‘‘ ہے اور ایک شا ذ وہ ہے جو ’’مردود ‘‘ ہے ۔شاذ مردود تو وہ ہے جس میں ثقہ راوی اپنے سے اوثق راوی کی مخالفت کرے سو یہ شاذ صحت کے منافی ہے ۔
اور شاذ مقبول ہے کہ جس میں صرف ایک ثقہ راوی روایت نقل کرے اس تفرد کی وجہ سے شاذ ہو تو یہ شاذ مردود نہیں بلکہ مقبول ہے اور ایسی شا ذ روایت صحیح میں شمار ہوتی ہے ۔چنانچہ امام نووی ؒ حدیث صحیح کی تعریف میں ایک شرط یہ لگائی کہ وہ شاذ نہ ہو تو سیوطی اس شاذ کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ شاذ تین قسم پر ہے ( ۱) ثقہ کی اوثق کی مخالفت ( ۲) مطلقا ثقہ کا تفرد ( ۳) مطلقا راوی کا تفرد۔نووی جس شاذ کو صحت کے منافی سمجھ رہے ہیں وہ شاذ کی پہلی قسم یعنی ثقہ کا اپنے سے اوثق کی مخالفت کرنا ۔
اسی طرح امام نووی جہاں شاذ کی تعریف بیان کرتے ہیں وہاں فرماتے ہیں کہ اگر راوی اپنے سے زیادہ حافظ و ضابط کی مخالفت کرے تو یہ شاذ مردود میں شمار ہوگا البتہ اگر مخالفت نہ ہو عادل ضابط حافظ ہو اور محض تفرد کی وجہ سے شاذ ہو تو یہ شاذ صحت کے منافی نہیں ۔
اسی طرح شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ شاذ اگر تفرد راوی کی وجہ سے ہو اور اوثق کی مخالفت نہ ہو تو یہ صحت کے منافی نہیں بلکہ صحیح ہے ۔
پھر یہ بھی یاد رہے کہ حدیث صحیح کا شذوذ سے پاک ہونا محدثین کے نزدیک شرط ہے فقہاء کے نزدیک نہیں یہی وجہ ہے کہ علامہ خطابی نے صحیح کی تعریف ان الفاظ میں کی کہ: جس کی سند متصل ہو اور راوی عادل ہوں۔
خلاصہ بحث یہ کہ شاذ علی الاطلاق صحت کے منافی نہیں بلکہ صرف وہ شاذ مردود ہے جس میں ثقہ اوثق کی مخالفت کرے اور اثر ابن عباس شاذ مردود میں سے نہیں بلکہ شاذ مقبول میں سے ہے کیونکہ ابی الضحی خود ثقہ ہے اور اپنے سے اوثق کسی راوی کی مخالفت نہیں کررہا مگر چونکہ اس کا متابع نہیں لہذا اس تفرد کی وجہ سے اس کو شاذ کہہ دیا گیا۔
پھر جن علماء نے اس روایت کی تصحیح کی ہے کیا اہل بدعت ان سے زیادہ علم اصول کے سمجھنے والے ہیں کہ وہ اس پر صحیح کا حکم لگا کر قبول کررہے ہیں اور اہل بدعت اسے شاذ کہہ کر رد کررہے ہیں ؟
حوالہ جات کی عبارات
قَالَ الْعِرَاقِیُّ :وَأَمَّا السَّلاَمَۃُ مِنَ الشُّذُ وْذِ وَالْعِلَّۃِ فَقَالَ ابْنُ دَقِیْقُ العید فی الاقتراح ان اصحاب الحدیث زادوا ذالک فی حد الصحیح قال فیہ نظر علی مقتضی نظر الفقہاء فان کثیرا من العلل التی یعلل بھا المحدثون لا تجری علی اصول الفقہاء قال العراقی والجواب ان من یصنف فی علم الحدیث انما یذکر الحد عند اہلہ لا عند غیرھم من اہل العلم آخر و کون الفقہاء والاصولیین لا یشترطون فی الصحیح ھذین الشرطین لا یفسد الحد عند من یشترطھما ولذا قال ابن الصلاح بعد الحد فھذا ھو الحدیث الذی یحکم لہ بالصحۃ بلا خلاف بین اہل الحدیث و قد یختلفون فی صحۃ بعض الاحادیث لاختلافھم فی وجود ھذہ الاوصاف فیہ او لاختلافھم فی اشراط بعضھا کما فی المرسل
(تدریب الراوی ،ص60،قدیمی کتب خانہ۔کراچی)
(۲) لم یصح بمرادہ من الشذوذ ھنا ،وقد ذکر فی نوعہ ثلاثۃ اقوال احدھا مخالفۃ الثقۃ لارجح منہ والثانی تفرد الثقۃ مطلقا والثالث تفرد الراوی مطلقا ورد الآخرین فالظاھر انہ اراد ھنا الاول
(تدریب الراوی ،ص60،قدیمی کتب خانہ۔کراچی)
(۳)قال النووی و ان لم یخالف الراوی فان کان عدلا حافظا موثوقا بضبطہ کان تفردہ صحیحا و ان لم یوثق بضبطہ و لم یبعد عن درجۃ الضابط کان حسنا و ان بعد کان شاذا منکرا مردودا والحاصل ان الشاذ المردود ھو الفرد المخالف والفرد الذی لیس فی رواتہ من الثقۃ والضبط ما یجبربہ تفردہ
(تدریب الراوی ،ص207،قدیمی کتب خانہ۔کراچی)
(۴) قال الشیخ المحقق وبعض الناس یفسرون الشاذ بمفرد الراوی من غیر اعتبار مخالفۃ للثقات کما سبق و یقولون صحیح شاذ و صحیح غیر شاذ فالشذوذ بھذ المعنی ایضا لا ینافی الصحۃ کالغرابۃ والذی یذکر فی مقام الطعن ھو مخالف للثقات
(مقدمۃ مشکوۃ،ص7۔مکتبہ رحمانیہ۔لاہور)
امام نانوتوی رحمہ اللہ سے اس اعتراض کا جواب
اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں حجۃ الاسلام پر کہ جنہوں نے تحذیر الناس پر یار لوگوں کی طرف سے کئے جانے والے تمام اعتراضات کے جوابات اپنی زندگی ہی میں دے دئے تھے اس اعتراض کا جواب میں مولانا نے تحذیر الناس میں دیا ہے وہ وہی ہے جیسے راقم نے ماقبل میں نقل کیا ملاحظہ ہو :
’’اور جس نے اس کو شاذ کہا ہے جیسے امام بیہقی تو انہوں نے صحیح کہہ کر شاذ کہا ہے اور اس طرح سے شاذ کہنا مطاعن حدیث میں سے نہیں سمجھا جاتا
کما قال سید الشریف فی رسالتہ فی اصول الحدیث قال الشافعی الشاذ ما رواہ الثقۃ مخالفا لما راوہ الناس قال ابن الصلاح فیہ تفصیل فما خالف مفردہ و احفظ منہ و اضبط فشاذ و مردود و ان لم یخالف وھو عدل ضابط فصحیح و ان رواہ غیر ضابط لکن لا یبعد عن درجۃ الضابط فحسن و ان بعد فمنکر
اس سے صاف ظاہر ہے کہ شاذ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ روایت ثقہ کی مخالف روایات ثقات ہو دوسرے یہ کہ اس کا راوی فقط ایک ہی ثقہ ہو سو بایں معنی اخیر منجملہ اقسام صحیح ہے نہ ضد صحیح چنانچہ شیخ عبد الحق دہلوی ؒ فرماتے ہیں
قال الشیخ عبد الحق المحدث الدہلوی فی رسالۃ اصول الحدیث التی طبعھا مولانا احمد علی فی اول المشکوۃ المطبوعۃ بعض الناس بعض الناس یفسرون الشاذ بمفرد الراوی من غیر اعتبار مخالفۃ للثقات کما سبق و یقولون صحیح شاذ و صحیح غیر شاذ فالشذوذ بھذ المعنی ایضا لا ینافی الصحۃ کالغرابۃ والذی یذکر فی مقام الطعن ھو مخالف للثقات۔ انتہی
یہ عبارت بعینہ وہی کہتی ہے جو میں نے عرض کیا سو لفظ شاذ سے کوئی صاحب دھوکہ نہ کھائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ جب اثر مذکور شاذ ہوا تو صحیح کیونکر ہوسکتا ہے وہ شذوذ جو قادح صحت ہے بمعنی مخالفت ثقات ہے چنانچہ سید شریف ہی رسالہ مذکور میں تعریف صحیح میں یہ فرماتے ہیں:
ھو ما اتصل سندہ بنقل العدل الضابط عن مثلہ و سلم عن شذوذ و علۃ و نعنی بالمتصل ما لم یکن مقطوعا بای وجہ کان و بالعدل من لم یکن مستور العدالۃ ولا مجروحا وبالضابط من یکون حافظا متیقظا و بالشذوذ ما یرویہ الثقۃ مخالفا لما یرویہ الناس و بالعلۃ ما فیہ اسباب خفیۃ غامضۃ قادحۃ ؂
اس تقریر سے اہل علم پر روشن ہوگیا ہوگا کہ شذوذ بمعنی مخالفت ثقات مراد نہیں کیونکہ شذوذ بمعنی مخالفت ثقات صحت کیلئے مضرہے جو حدیث بایں معنی شاذ ہے وہ صحیح نہیں ہوسکتی‘‘۔
(تحذیر الناس،ص24،کتب خانہ رحیمیہ ۔دیوبند،ص83،ادارہ تحقیقات اہل سنت ۔لاہور)
اندازہ لگائیں کہ امام کی اصول حدیث پر کتنی گہری نظر تھی۔حضرت نانوتوی رحمہ اللہ نے جو پہلی عبارت پیش کی وہ:
علم اصول الحدیث لسید الشریف الجرجانی المتوفی 816 ؁ ھ، ص:60،دارابن حزم۔بیروت پر موجود ہے۔
دوسری عبارت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ کی ہے جسکا حوالہ گزرچکا ہے۔
جبکہ تیسری عبارت جرجانی ؒ ہی کی علم اصول الحدیث ،ص:28پر موجود ہے۔
علامہ سخاوی ؒ نے بھی یہی بات لکھی کہ محدثین جس شاذ کو صحت کے منافی سمجھتے ہیں وہ صرف وہ شاذ ہے کہ جس میں اوثق کی مخالفت کی جائے فقط ۔
قال السخاوی : والمحدثون یسمونہ شاذا لانھم فسروا الشذوذ المشترط نفیہ ھنا بمخالفۃ الراوی فی روایتہ من ھو ارجح منہ عند تعسر الجمع بین الروایتین ۔
(فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث،ج1،ص26،مکتبۃ دارالمنہاج ۔الریاض ،الطبعۃ الاولی 1426ھ )
اعتراض نمبر ۶: سند کے صحیح ہونے سے متن کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا چنانچہ یہ ممکن ہے کہ کسی روایت کی سند صحیح ہو مگر متن میں کوئی علت قادحہ ہو۔
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اعتراض تو ہر حدیث پر ہوسکتا ہے چنانچہ جس نے کسی حدیث کا انکار کرنا ہو کہہ دے کہ سند تو ٹھیک ہے مگر سند کے درست ہونے سے متن کا درست ہونا لازم نہیں آتا۔پھر یہ اعتراض بھی قلت فہم کی وجہ سے ہے اس لئے کہ محدثین میں سے جب کوئی کسی روایت کو نقل کرے اور اس کے متعلق ’’ صحیح الاسناد‘‘ کہے تو یہ اس کے متنا و سندا صحیح ہونے کی دلیل ہے اور آئمہ نے اثر ابن عباس کو روایت کرتے ہوئے اس پر صحیح کا حکم لگایا اورکوئی علۃ قادحہ بیان نہیں کی امام بیہقی نے اگرچہ شاذ کہا مگر وہ اثر کی صحت کیلئے قادح نہیں جیسا کہ بیان ہوچکا۔نقل کردہ اصول پر دلائل ملاحظہ ہو:
غَیْرَ أَنَّ الْمُصِنِّفَ الْمُعْتَمَدَ فِیْہِمْ اِذَا اقَتَصَرَ عَلَی قَوْلِہٖ : اأنَّہُ صَحِیْحُ الْاأسْنَادِ وَ لَمْ یَذْکُرْ لَہُ عِلَّۃً لَمْ یَقْدَحْ فِیْہٖ فَالظَّاہِرُ مِنْہُ الْحُکْمُ بِأَنَّہُ صَحِیْح’‘ فِیْ نَفْسِہٖ لِأَنَّ عَدْمِ الْعِلَّۃِ وَالْقَادِحِ ھُوُ الْأَصْلُ ۔
(الرفع والتکمیل،ص83،84،المرصد الرابع، مکتبۃ ابن تیمیۃ،مقدمۃ ابن صلاح ،ص43۔فتح المغیث،ج1،ص88،المکتبۃ السلفیۃ)
و قال العراقی:و کذالک ان اقتصر علی قولہ حسن الاسناد و لم یعقبہ بضعف فھو ایضا محکوم لہ بالحسن ۔
( شرح التبصرۃ والتذکرۃ،ص56)
اعتراض نمبر ۷: ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں اس کو اسرائیلیات میں شمارکیا ہے۔
جواب: اللہ پاک ان پر اپنی رحمت کرے ان کا یہ قول بلا دلیل ہے۔اصول یہ ہے کہ جب صحابی کا قول قیاس کے موافق نہ ہو تو وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث پر محمول کیا جائے گا۔یعنی صحابی کا قول جب مدرک بالقیاس نہ ہو تو مسند حدیث پر محمول کیا جائے گا۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فِیْہٖ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ لَمْ یَکُنْ یَأْخُذُ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ وَ أَنَّ الصَّحَابِیَّ الَّذِیْ یَکُوْنُ کَذَالِکَ اأذَا أَخْبَرَ بِمَا لَا مَجَالَ لِلرَّأیِ فِیْہٖ یَکُوْنُ لِلْحَدِیْثِ حُکْمُ الرَّفْعِ
( فتح الباری ،ج6،ص353،دارالمعرفۃ ۔بیروت)
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ حدیث اہل کتاب سے نہیں لی اور جو صحابی ایسا ہو اور اس کی حدیث میں رائے کا احتمال بھی نہ ہو تو وہ مرفوع کے حکم میں ہے
قریب قریب یہی بات( فتح المغیث ،ج1،ص128،شرح التبصرۃ ،ج1،ص71)پر بھی موجود ہے۔
اور حضرت ابن عباسؓ اہل کتاب سے لینے کے سخت مخالف تھے چنانچہ خود فرماتے ہیں :
یامشر المسلمین کیف تسالون اھل الکتاب عن شیء و کتابکم الذی انزل اللہ علی حبیبکم احدث اخبار باللہ محضا لم یشب و قد حدثکم اللہ ان اھل الکتاب قد بدلوامن کتب اللہ و غیروا فکتبوا بایدھیم الکتب قالوا ھو من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا
( بخاری)
اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیسے پوچھ سکتے ہو جبکہ تمہارے پاس تو ایسی کتاب موجود ہے جس کو اللہ نے تمہارے حبیب پاک ﷺ پر اتارا جو صرف اللہ تعالی کی باتیں بیان کرتا ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں کیا جاسکتا اور ہاں اللہ تعالی نے تمہیں یہ بات بھی بتلادی کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا ۔۔الخ
اور اثر مذکور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے مروی ہے اور مدرک بالقیاس بھی نہیں لہذا یہ حکما مرفوع ہے اور کسی قول بلال دلیل کی بنیاد پر اس صحیح ترین روایت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
الحمد للہ راقم الحروف نے انتہائی مختصر انداز میں اس اثر پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دے دئے ہیں اگر کوئی اور اعتراض ہو تو وہ بھی پیش کردیا جائے انشاء اللہ ۔ یار زندہ صحبت باقی
نوٹ:یہ تمام اعتراضات ’’سہ ماہی سواد اعظم دہلی ،ص ۱۱ تا ۱۵ ،ج۲ش۳‘‘ سے لئے گئے ہیں ۔
اثر ابن عباس کی تصحیح کرنے والوں پر رضاخانی فتوے
ماقبل میں تفصیل سے گزرچکا کہ کتنے بڑے بڑے آئمہ نے اس روایت کی تصحیح کی پھر جنہوں نے اس کو روایت کیا ظاہر وہ بھی اس کی تصحیح پر متفق ہیں مگر دوسری طرف رضاخانی فتوے ملاحظہ ہوں:
(۱) تبسیم شاہ بخاری آف اٹک لکھتے ہیں :
’’اس اثر کو صحیح ماننے سے جہاں حضور اکرم ﷺ کی مثل اور نظیر ہونے کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے وہیں ختم نبوت کے اجماعی عقیدے پر بھی زد پڑتی ہے ‘‘۔
(ختم نبوت اور تحذیر الناس ،ص41)
بریلوی ضیغم اہلسنت حسن علی رضوی صاحب لکھتے ہیں :
’’ان (مولوی نقی علی خان والد احمد رضاخان بریلوی ۔از ناقل ) کی رائے میں اثر ابن عباس کی صحت قبول کرنے کے بعد مولانا محمد احسن منکر خاتم النبیین ٹھرتے تھے ‘‘۔
(محاسبہ دیوبندیت ،ج2،ص451،تنظیم اہلسنت کراچی )
غلام نصیر الدین سیالوی ابن اشرف سیالوی صاحب لکھتے ہیں :
’’اگر نانوتوی صاحب ختم زمانی کے قائل تھے تو وہ اثر ابن عباس کی تصحیح و تقویت کیوں کررہے ہیں ‘‘۔
(عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،ج1،ص192)
خلاصہ کلام یہ کہ معاذ اللہ ماقبل میں ذکر کردہ یہ تمام آئمہ ختم نبوت کے منکر تھے تو الزام صرف امام نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ پر کیوں ؟۔

  رسالہ کو ڈائونلوڈ کرنے کے کے لئے اس لنک پر جائیں

1 تبصرے:

Dr. Atif Suhail Siddiqui نے لکھا ہے کہ

علمی استدلال کے اصول سیکھے بغیر کسی بھی شخص کی رائے پر اپنی رائے قائم کرنا ہی علمی خیانت اور جہالت ہے۔ بانیء دارالعلوم دیوبند امام محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ العزیز اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان تحذیر الناس کے بلند پایہ علمی مندرجات اور مضمون پر طویل گفتگو ہوئی ہے۔ جو کہ تحزیر الناس میں ہی شائع ہوئی ہے۔

اسکے علاوہ تھوڑی بھت بھی علمی دیانت سے تعلق رکھنے والے کئی بڑے بریلوی علما نے بھی دیانت داری کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امام نانوتوی کی اس تحریر کو غلط معنی پہناناغیر علمی اور دیانت کے خلاف ہے۔ مثلا بریلویوں کے بڑے عالم مولانا خلیل برکاتی نے اپنی تصنیف انکشاف حق میں اسکا اعتراف کیا ہے۔

مزید براں امام نانوتوی علیہ الرحمہ نے تنویر النبراس میں اس کی وضاحت کر دی ہے کہ ختم نبوت کے متعلق میرا وہی عقیدہ ہے جس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اور اہلسنت کا اجماع ہے۔ امام نے مزید وضاحت کر دی ہے کہ جو بھی ختم نبوت کے عقیدے کا منکر ہو وہ خارج اسلام ہے۔ اس کے باوجود علم اور وہ بھی فلسفہ دین سے عاری رضاخانیوں کو امام علیہ الرحمہ کی تکفیر کرنے پر ہی اصرار ہے تو پھر انکے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ علیکم ما علیکم۔

تحذیر الناس کے علمی مندرجات پر اپنے زمانے کے امام محدث جلیل حضرت علامہ عبد الحی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ اور بانیء دارالعلوم دیوبند امام محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ العزیز کے درمیان علمی بحث ہو چکی ہے جو مناظرہ عجیبہ کے نام سے شائع بھی ہے۔ فرنگی محلی علیہ الرحمہ نے علمی اصول اور علمی دیانت کی بنیاد پر تحذیر کے ان بلند پایہ علمی مضامین پر تحذیر کے مصنف سے ہی براہ راست علمی بحث کی۔ عبدالقادر بدایونی نے جب اپنے جہل اور خیانت کی بیناد پر امام نانوتوی قد س اللہ سرہ العزیز کے خلاف تکفیری مہم شروع کی اور اسکا علم مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ کو ہوا تو انہوں نے عین اسلامی اصول کی بنیاد پر تحذیرالناس کا مطالعہ کیا اور جب وہ فلسفہ دین پر مبنی اس کے انتہائی بلند علمی مضامین کو سمجھنے سے قاصر رہے تو انہوں بے براہ راست امام نانوتوی قد س اللہ سرہ العزیز کو مکتوب ارسال کئے اور اس پر امام قدس سرہ العزیز سے انکی وضاحت طلب کی۔ نہ کہ سیدھے امام نانوتوی پر کفر کا فتوی چسپاں کر دیا۔

مذکورہ بالا حقیقت سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں, اولا, فلسفہ مذہب میں تحذیر کا علمی مقام کس قدر بلند ہے کہ اس کے مندرجات اور بحث کی وضاحت کے لئے مولانا عبد الحی فرنگی محلی ر حمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم علمی شخصیت کو امام نانوتوی علیہ الرحمہ کے ساتھ علمی مباحث کی ضرورت پیش آئی، دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی شخص کے موقف پر اشکال ہوا تو دیانت کا تقاضہ یہی تھا کہ اپنے اشکال کو رفع کرنے کے لئے مصنف کی طرف ہی رجوع کیا گیا۔ جس کا تشفی بخش جواب امام نانوتوی نے صرف ایک نہیں بلکہ دو علیحدہ تصانیف کے ذریعے دیا۔ ایک مناظرہ عجیبہ کے ذریعے جو کہ فرنگی محلی اور النانوتوی علیہم الرحمۃ کے درمیان بحث کا تبادلہ ہے اور ایک طریقے سے تحذیر کی شرح ہے اور دوسرا تنویر النبراس من انکر تحذیر الناس کے ذریعے جو کہ عبد القادر بدایونی کے فتنے کا علمی جواب ہے۔ علمی خیانت اور بددیانتی کی سب سے بڑی مثال یہ بھی ہے کہ جب بریلوی جہلا امام نانوتوی علیہ الرحمہ کی اس معرکۃ الآرا تصنیف پر جاہلانہ اعتراض درج کرتے ہیں تو وہ کبھی بھی تنویر النبراس اور مناظرہ عجیبہ کا تذکرہ نہیں کرتے۔ اور وہ کریں بھی کیوں، مقصد تو تفریق بین المسلمین اور احمد رضا بریلوی کی تکفیری مشین سے علماء دین کی تکفیر کرنا بھر ہے۔

بہر حال امام نانوتوی علیہ الرحمۃ کے ذریعے بذات خود تحذیر الناس کے مندرجات اور بلند پایہ علمی مضامین کی اس قدر وضاحت کردینے کے باوجود جاہلوں کا ایک ٹولہ اپنی جہالت اور خرافاتی اور تفریقی مزاج کے سبب امام نانوتوی علیہ الرحمہ کے علمی مباحث کو سمجھے بغیر امام پر کفر کا فتوی لگانے پر مصر ہو تو اسکا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے شیعہ حجت تمام ہونےکے باوجود خلفائے ثلاثہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین اور تکفیر کرنے سے بعض نہیں آتے ہیں۔ شیعوں نے صحابہ کی تکفیر کی اور شیعوں کی اولاد بریلوی بدعتیوں نے صحابہ کی اولاد علمائے اہلسنت کی تکفیر کی- لنا اعمالنا ولکم اعمالکم، لاحجۃ بیننا و بینکم

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔