اتوار، 27 ستمبر، 2015

ام المؤمنین اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں احمد رضا خان بریلوی اور باقر مجلسی رافضی کے عقیدہ


شیعہ حضرات کے دل میں ام المومنین اماں عائشہ طیبہ طاہرہ عفیفہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہماکے بارے میں جو بغض ،کینہ ،حسد ہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ۔معروف شیعہ عالم ملاباقر مجلسی لکھتاہے کہ جب ہمارابارہواں امام آئے گاتو عائشہ کے گناہوں کے سبب ان کوان کی قبر سے نکال کر حد جاری کرے گا۔(حیا ت القلوب اردو،ج2،ص902،امامیہ کتب خانہ لاہور) استغفر اللہ۔مقبول دہلوی رافضی لکھتاہے کہ عائشہ فاحشہ مبینہ کی مرتکب تھیں ۔(قرآن مترجم ،ص840،افتخار بک ڈپو) معاذاللہ ۔اسی طرح غلام حسین نجفی رافضی لکھتاہے کہ عائشہ امریکن میم اور یورپین لیڈی کی طرح تھیں ۔(حقیقت فقہ حنفیہ ،ص64،جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاؤن لاہور)۔العیاذباللہ نقل کفر کفر نہ باشد۔
مولانااحمد رضاخان بریلوی نے تقیہ باز کٹر شیعہ ہونے کی وجہ سے اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماکے متعلق فاحشہ مبینہ اور امریکن میم و یورپین لیڈی کے اسی رافضی تصور کو اپنے اشعار میں اس طرح بیان کیا:

قصیدہ در مناقب شریفہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
تنگ و چست ان کالباس اور وہ جوبن کوابھار مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹاپڑتاہے جوبن میرے دل کی صورت کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ و بر
(حدائق بخشش ،ج،ص،کتب خانہ اہلسنت ریاست پٹیالہ )
یعنی اماں عایشہؓ اتناتنگ و چست لباس پہنتی تھی کہ قبا(قمیص)سر سے کمر تک بالکل کھینچی ہوئی تھی گویاایسا چست لباس کہ ابھی پھٹاکہ ابھی پھٹااس چست لباس میں ان کے سینے کے ابھار کپڑوں سے باہر ہوئے جاتے تھے جس کی خوبصورتی دیکھ کر میرادل بھی ان کی قمیص کی طرح پھٹاجارہاتھا۔استغفر اللہ ،العیاذباللہ نقل کفر کفر نہ باشد
یاللہ گواہ رہ ،اماں جی میں تجھ سے معافی مانگتاہوں اسلئے کہ کوئی بیٹایہ پسند نہیں کرتاکہ اس کی ماں کوجوگالیاں دی جائیں اسے اس طرح سر عام بیان کرے،وہ گالیاں جس کو نوک قلم پر لاتے ہوئے ہاتھوں پر ریشہ طاری ہے ، قلم بار بار ساتھ دینے سے انکار کررہاہے ،جسے سمند ر میں ڈال دیاجائے تواسکی غلاظت سے سمندر کڑواہوجائے ،آسمان دیکھ لے توپھٹ جائے ،جس کے تعفن سے زمین پرجن و انس چرند و پرند کے دم گھٹنے کو ہے۔ اگر خداکی قسم سادہ لوح عوام کوان تقیہ باز رافضی اور نام نہاد اہلسنت کااصل چہرہ دکھانامقصود نہ ہوتاتومیں کبھی ان غلیظ عبارات و اشعار کونوک قلم پر نہ لاتا
کون اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا؟ہاں ہاں وہ اماں عائشہ جن کے گھر کو رب نے زمین ہی پر جنت کا ٹکڑا بنادیا ما بین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ۔۔۔کون امام عائشہ ؟ ہاں ہاں !!!وہ اماں عائشہ جن کے گھر کو رب نے اپنے محبوب ﷺ کی آخری آرام گاہ کیلئے منتخب کرلیا۔۔۔کون اماں عائشہ ؟ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جس کے گھر پر روزانہ ستر ہزار فرشتہ درود و سلام پڑھنے کیلئے نازل ہوتے ہیں۔کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جس کے گھر کے صحن میں ایک طرف افضل الناس بعد الانبیاء صدیق اکبراور دوسری طرف مراد رسول عمر فاروق آسودہ خاک ہیں۔کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جن کے مقدس گھر میں مدفون ہونے کیلئے دروازے کے باہر عمر فاروق کی میت بھی اور امام حسن کی میت بھی اجازت طلب کرتی ہے۔کون اماں عائشہ ؟ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔ جس کے گھر سے قیامت کے روز نبیوں کا سرتاج ﷺاور آیت من آیات اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رونق افروز ہوں گے۔کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جس کے گھر میں اللہ کے محبوب نے آخری سانس لی۔کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جس کے گھر کو نبی کریم ﷺکے جسم مطہر سے مس ہونے والے آخری پانی جذب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔ جس کے گھر کے درود دیوار جبریل اور وحی الٰہی کے نزول کے شاہد و ناظر ہیں۔۔۔کون اماں عائشہ ؟ ہاں ہاں وہ اماں عائشہ۔۔۔جس کے گھر کے صحن کی وہ مٹی جو نبی اکرم ? کے جسم مبارک کو چھورہی ہے عرش سے بھی افضل و اکرم ہے۔
یارو !!! مکان کی عزت مکین سے ہوتی ہے!!!او جس ہستی کے گھر کا یہ مقام و رتبہ ہو وہ ذات مقدسہ خود عزت ،رفعت،عظمت ،بلندی ،پاکیزگی ،کے کس مقام و مرتبہ پر فائز ہوگی اس کا فیصلہ خود کرلو !!! مگر ہائے اس ذات مقدسہ کے بارے میں ایک ظالم کہتا ہے کہ جب بارہواں امام آئے گا تو اسے زندہ کرکے اس کے کرتوتوں کے سبب اس پر حد جاری کرے گا۔معاذ اللہ اور دوسرا بے ایمان کہتا ہے کہ مسلمانوں کی ماں عائشہ ٹیڈی اور ایسا تنگ و چست لباس پہنتی کہ ان کے ابھرے ہوئے سینے دیکھ کر عاشقوں کا دل پھٹ جاتا ایسے بے ایمانوں کے خلاف میں آواز اٹھاؤ ں !!!میں درد کے مارے چیخوں !!! میں صدائے احتجاج بلند کروں !!! تو مجھے کہتا ہے کہ چپ ہوجا!!!فرقہ واریت نہ پھیلا !!! نہ نہ خداکی قسم ماں کو سر عام گالیاں دی جائے اس پر فخر کیا جائے !!! اس بے حیائی پر بے غیرت بیٹا تو چپ رہ سکتا ہے غیرت مند بیٹا نہیں !!! جا تجھے بے غیرتی مبارک !!! مجھے غیرت مبارک
ان اشعار سے رضاخانی گلوخلاصی کی ناکام کوشش
تاویل نمبر۱:حدائق بخشش حصہ سوم اعلی حضرت کانہیں ہے۔
جواب :یہ حصہ احمدرضاخان بریلوی ہی کاہے چنانچہ ڈاکٹر حامدعلی بریلوی لکھتے ہیں :
آپ کاتخلص رضاتھاآپ کانعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش ‘‘کے نام سے تین حصوں میں شائع ہوچکا ہے اور تین چار ایڈیشن نکل چکے ہیں ۔(المیزان امام احمد رضانمبر،ص447)
پروفیسرمسعود احمد جوکہ ماہر رضویات شمار کئے جاتے ہیں اور رضاخانی توانہیں اس صدی کامجدد بھی کہتے ہیں لکھتے ہیں :
اب تک دیوان حدائق بخشش کو مولانابریلوی کے سارے کلام کامجموعہ سمجھاجاتاہے مگر یہ صحیح نہیں (حیات مولانااحمد رضاخان،ص155)
آگے لکھتے ہیں :
مولانا بریلوی کے انتقال کے بعد بدایوں سے حدائق بخشش حصہ سوئم کے نام سے ایک مجموعہ شائع ہوا ہے جس میں مولانابریلوی کااردو ،فارسی اور عربی کلام شامل ہے ‘‘۔(حیات مولانااحمد رضاخان،ص156)
مولانامصطفی رضاخان ابن مولانااحمد رضاخان کے خلیفہ علامہ عبد الستار ہمدانی صاحب کی کتاب میں واشگاف الفاظ میں یہ گلہ موجود ہے :
حدائق بخشش تین حصوں پر مشتمل ہے تیسرے حصہ کی اشاعت کسی بے بنیاد عارض کی وجہ سے رکی ہوئی ہے ۔۔۔حدائق بخشش تیسرے حصہ کی عدم اشاعت کاکوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتاجب کہ امام احمد رضاخان کی شاعرانہ عظمتوں کاصحیح اظہار اسی تیسرے حصہ سے ہوتاہے ۔۔۔معاف کیجئے گامیں علمائے کرام کامخالف نہیں ہوں ہم انہیں انتہائی ادب واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں زمین پر نزول رحمت الٰہی کا سبب جانتے ہیں لیکن ہمارے علماء شعر کوبھی فقہ کے پیمانے پر ناپتے ہیں جب کہ شاعری میں بہت ساری رعایتیں اور سہولتیں ہوتی ہیں جوبات ہم نثر میں نہیں کہہ سکتے نظم میں اس کااظہار آسانی سے کیاجاسکتاہے ۔۔۔حدائق بخشش حصہ سوم میں کوئی شرعی قباحت نہیں جس قباحت کااقرار و اعلان کیاجارہا ہے وہ خالص ذہن کی پیداوار ہے جس قصیدے کے اشعار پر اعتراض کئے گئے ہیں اناعتراضات کی کوئی حقیقت نہیں اگر اسی وقت اہل فن سے رجوع کیاجاتا توبات قطعی آگے نہیں بڑھتی ‘‘۔ (عرفان رضا در مدح مصطفی ،ص19،الاعظمیہ پبلی کیشنزلاہور)
اس حوالے کے بعد ان لوگوں کو یقیناڈوب مرجاناچائے توحدائق بخشش سوم کواحمدرضاخان کی شاعری کامجمومہ تسلیم کرنے سے منکر ہیں نیزبریلوی مولوی کی یہ عبارت :’’ہمارے علماء شعر کوبھی فقہ کے پیمانے پر ناپتے ہیں جب کہ شاعری میں بہت ساری رعایتیں اور سہولتیں ہوتی ہیں جوبات ہم نثر میں نہیں کہہ سکتے نظم میں اس کااظہار آسانی سے کیاجاسکتاہے‘‘ ان تقیہ بازرافضیوں کی دلی سیاہی کامنہ بولتاثبوت ہے کیاکوئی رضاخانی مجھے یہ اجازت دیتاہے کہ میں یہی اشعار اس کی ماں کے متعلق نثر میں نہیں نظم میں کہوں ؟کچھ تو شرم کرو۔
تاویل نمبر ۲:کتاب تواحمد رضاخان کی ہے مگر یہ اشعار ان کے نہیں ۔
جواب:یہ دعوی بلادلیل ہے پوری کتاب ان کی ہو اور چندمخصوص اشعار کسی اور کے ہیں آخر اس پر دلیل کیاہے اور اسکاثبوت کیاہے ؟اس مجموعہ کے مرتب مولوی محبوب علی خود لکھتاہے کہ میں نے یہ اشعارفاضل بریلوی کی :
’’پرانی قلمی بوسیدہ بیاض سے نہایت احتیاط سے نقل کئے ‘‘۔(ماہنامہ سنی لکھنوذوالحجہ 1374 ؁ھ)
اسی طرح لکھتے ہیں :
مجھے اعلی حضرت قبلہ رضی اللہ تعالی عنہ کاکچھ کلام جو اب تک چھپانہیں ہے بڑی کوشش و جانفشانی سے بریلی شریف و سرکار مارہرہ مطہرہ وپیلی بھیت و رامپور وغیرہ وغیرہ مختلف مقامات سے دستیاب ہواجو آج برادران اہل سنت کی خدمات میں ’’حدائق بخشش حصہ ‘‘ کی شکل و صورت میں پیش کررہاہوں ‘‘۔
( حدائق بخشش حصہ سوم ،ص10،فیصلہ مقدسہ ،ص4،دارالنور لاہور)
اور یہ محبوب علی رضوی کوئی معمولی آدمی نہیں معروف بریلوی مولوی مشتاق نظامی اسی محبوب رضوی کے متعلق لکھتاہے :
’’محبوب ملت ،شیخ طریقت ،مفتی بمبئی ،عالم با عمل حضرت مولاناالحاج محمد محبوب علی خان قادری ‘‘۔ (سوانح شیر بیشہ سنت ،ص8، النوریہ الرضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور)
اور مولوی مصطفی رضاخان صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی محبوب علی نے :
اعلی حضرت قدس سرہ کاانہیں منقبت سید ناعائشہ رضی اللہ تعالی عنہامیں لکھناسمجھااعلی حضرت کاسمجھ کر ان پر اعتماد کرکے انہیں اسی جگہ ثابت رکھااور اسے اعلی حضرت کے علم و ادب وتقدس و حمیت و غیرت کے منافی نہ جانااور شعراء کی شاعری کی طرح سمجھ کر اور اعلی حضرت کے علم و عمل پر بھرسہ کرکے اسے جائز جان کر یہی رہنے دیا‘‘۔(فیصلہ مقدسہ ،ص35)
استغفر اللہ خود بیٹااقرارکررہاہے کہ مرتب نے ان اشعار کو احمد رضاخان ہی کاسمجھاانکی غیرت و حمیت کے خلاف نہ جانااور شعراء کی شاعری کی طرح ان کے علم و عمل پر بھروسہ کرکے ان اشعار کویہی رہنے دیا۔الولد سر لابیہ بیٹے کوبھی معلوم تھااور مرید بھی جانتا تھاکہ میرا باپ اور پیر خالص رافضی ہے اس کاتواماں جی کے متعلق عقیدہ یہی ہے اسلئے ان گندے اشعار کواعلی حضرت کے غیرت علم و عمل کے منافی نہ جانتے ہوئے یہی رہنے دیا۔یہاں ’’علم و عمل ‘‘ کے لفظ پر بار بار غور کریں گویاجناب احمد رضاخان صاحب کااماں جی کے متعلق کل ’’علم ‘‘ یہی تھاجن کواناشعار میں بیان کیااور ’’عمل ‘‘ بھی یہی تھاگویایہ گالیاں صرف ان اشعار کی صورت میں نہ دی گئی تھیں ان کاتو روز کاعمل و معمول ہی یہی تھا ۔کیااب بھی اس آدمی کے رافضی ہونے میں کوئی شک رہ جاتاہے ؟
تاویل نمبر ۳:کتاب بھی ان کی ہے اشعار بھی ان کے ہیں مگر یہ اشعار کسی اور جگہ کے ہیں کاتب نے یہاں لکھ دئے
جواب:بریلویوں کے پاس یہ سب سے آسان نسخہ کہ جب کسی کفر و گستاخی سے جان چھڑانی ہو توکہہ دوکہ کاتب وہابی تھاکاتب بدمذہب تھااس نے یہ حرکت کی گویاان نامرادوں کو پورے پاک و ہند میں اپنی کتابیں چھاپنے کیلئے کوئی صحیح العقیدہ کاتب دستیاب نہیں ہوتا۔اگر یہ کاتب کی غلطی ہے توآخر وہ کاتب کہاں ہے ؟اس خلاف کیاتادیبی کاروائی کی گئی؟
پروفیسر مسعود کے ابا حضور مفتی مظہر اللہ دہلوی اس کو کاتب کی غلطی ہی تسلیم نہیں کرتے ملاحظہ ہو:
میرے نزدیک زید بھی اس ناپاک الزام سے بری ہے اور کاتب بھی ۔(فتاوی مظہری ،ص403،ادارہ مسعودیہ ناظم آباد کراچی )
آپ کامفتی اعظم دہلی تو لکھتاہے کہ کاتب بھی اس الزام سے بری ہے توہم آپ کوسچاجانے یاآپ کے مفتی اعظم کو۔ نیزماقبل میں یہ حوالہ گزرچکاہے کہ اس حدائق بخشش حصہ سوم کے تین چار ایڈیشن نکل چکے ہیں آپ کوئی ایک ایسا ایڈیشن بتاؤ جس میں کاتب کی اس غلطی کو درست کردیاگیاہوبلکہ مفتی مظہر اللہ دہلوی تویہاں تک لکھتاہے :
’’اہل سنت کی نظروں سے یہ اشعار یقیناًگزرے لیکن انھوں نے خاموشی اس لئے اختیار کی کہ ان کو بھی پتہ تھا کہ یہ اشعار ہر گز اعلحضرت کے نہیں ہیں۔۔۔بلکہ کاتب کی غلطی ہیں۔۔۔اگر میری اس بات کو نہیں مانو گے تو صرف محبوب علی پر کیوں طعن و تشنیع ؟پھرسب اہل سنت پر کرو جو اس میں گناہ میں برابر کے شریک ہیں کہ اشعار پڑھ لینے کے بعد بھی انھوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا‘‘۔
(فتاوی مظہری ،ص392،ادارہ مسعودیہ ناظم آباد کراچی )
پروفیسر مسعود صاحب کے والد صاف لفظوں میں اس بات کا اقرار کررہے ہیں کہ یہ اشعار نام نہاد اہل سنت کی نظروں سے گزرے ہیں اور انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کی اس لئے یاتوکاتب اور مرتب کومعاف کرو یاسب کواس گناہ میں شریک رکھو یعنی اگر میں نے چوری کردی توکیاہواکل تم نے بھی توکی تھی ۔ان گندے اشعار پر رضاخانیوں کی خاموشی کی صورت میں اس بے حسی کواس انداز میں بیان کرنااس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ اشعار کسی کاتب یابدمذہب کی کارستانی نہیں بلکہ ان رضاخانیوں کاام المومنین کے بارے میں وہ اجماعی اور جماعتی سطح کاعقیدہ ہے جس کو یہ تقیہ کے سبب اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں اور جس کی ترجمانی ان کے سربراہ و بانی مذہب جناب احمدرضاخان بریلوی نے اپنی ان اشعار کی صورت میں کی۔
مجھے کوئی بتائے کہ اگر آج یہی اشعار کوئی مولوی احمد رضاخان کی بیٹی یا بیوی ۔۔۔یا کسی بریلوی ملاں کی بہو بیٹی کے بارے میں لکھ کر کسی اخبار یا رسالے یا کتاب میں شائع کردے۔۔۔تو کیا بریلوی آسمان سر پر نہیں اٹھائیں گے۔۔۔؟کہ ہائے ہائے گستاخی کردی۔۔۔یا 33برس تک خاموش رہیں گے۔۔۔؟مگر افسوس ام المومنین کی گستاخی پر خاموشی ۔کیا سنیوں کی غیرت و حمیت مرچکی ہے۔۔۔؟
اگر کل کو کوئی کہے :
’’ میں نے احمد رضاخان کی بیوی کو بازار حسن میں مذکورہ صورت میں دیکھا اور مست ہوگیا یا سردار احمد کی والدہ یا امجد علی اعظم گڑھی کی ہمشیرہ یا مولوی حشمت علی رضوی کی بیٹی یا ابو البرکات و ابو الحسنات کی والدہ یا نعیم الدین مراد آبادی کی بیٹی یا عبد الحامد بدایوانی کی بیوی یا سعید کاظمی کی بیٹی یا احمد یار گجراتی ،یا مصطفی رضاخان کی بہن ،مولوی الیاس قادری یا ،مفتی مظہر اللہ دہلوی کی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کو اس حالت میں دیکھا ۔۔۔کہ ان تمام بریلوی ملاؤں کی ماں بہنیں ،بیٹیاں سینہ تان کر بازار حسن میں،میں نے گھومتے ہوئے دیکھا اور میں عاشق ہوگیا ۔۔۔تو بریلوی اس کو برداشت کریں گے۔۔۔اور یہ بے ایمان 33برس تک اس وجہ سے خاموش رہیں گے کہ یہ تو کاتب کی غلطی ہے کوئی مسلمان اس قسم کی بکواس کسی کی ماں بہن کے بارے میں کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔؟اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو تمام کائنات کے سردار کی زوجہ محترمہ کی اس توہین پر مجرمانہ خاموشی کیوں۔۔۔؟رضاخانیوں کی غیرت کہاں مر گئی تھی۔۔۔؟اور اس بے حمیتی پر عاشق رسول ﷺ ہونے کا دعوی کیسا۔۔۔؟
یہی نہیں شقاوت قلبی کااندازہ تواس سے لگائیں کہ یہی مفتی مظہر اللہ دہلوی اپنے اعلحضرت کے دفاع میں ناموسِ صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا سودا اس طرح اپنے فتوے میں کرتے ہیں:
۔۔۔اب کونسا اشکال باقی رہ گیا ہے جس کی وجہ سے کہا جائے کہ اس معمولی غلطی کو جو شرعا قابل گرفت بھی نہیں ان کی ذات (یعنی حضرت ام المومنینؓ ۔۔۔از ناقل)معاف نہ فرمائے گی اور فرض کیجئے کہ وہ معاف نہ فرمائیں گی تب بھی مسلمانوں کو اس سے کیا علاقہ کہ یہ معاملہ ایک خطاکار بچہ کا اور اس کی مشفقہ ماں کا ہے ۔
(فتاوی مظہری ،ص388،ادارہ مسعودیہ ناظم آباد کراچی )۔
قارئین کرام غور فرمائیں کتنی بڑی گستاخی ہے کہ اے مسلمانو! اگر مولوی احمد رضاخان نے یہ یہ بکواس کر بھی دی تو تم کو کیا تکلیف ہے ؟یہ سمجھو کہ ایک خطا کار بچے اور مشفقہ ماں کا معاملہ ہے وہ معاف کردیں گی۔معاف کیجئے گا مفتی صاحب یہ مولوی احمد رضاخان جیسے نتھو خیرے کی ماں کا معاملہ نہیں ہے ،بلکہ سوا ارب مسلمانوں کی ماں کا معاملہ ہے حضرت عمر فاروق ،عثمان غنی و علی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم اجمعین کی ماں کا معاملہ ہے ۔۔غور فرمائیں کل کو اگر کوئی بد بخت اس سے بھی بڑی بڑی گالیاں ازواج مطہرات کو دے اور جواب میں کہے کہ تمہارا کیا کام میرا او ر میری مشفقہ ماں جانے اور دلیل میں یہ فتوی دے تو رضاخانیوں کے پاس سوائے منہ کالا کرنے کے او ر کیا رہ جائے گا۔
حقیقیت یہ ہے کہ یہ اشعار نہ صرف مولانااحمد رضاخان کے اپنے ہیں بلکہ تمام رضاخانیوں کاعقیدہ ام المومنین کے بارے میں یہی ہے ان لوگوں کو یہ تاویلات کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جب علمائے اہل السنۃوالجماعۃ دیوبند کی نظروں سے یہ اشعار گزرے اور ان اشعار کے خلاف احتجاج بڑھنے لگا(انوار رضا،ص544)عوام اٹھ کھڑی ہوئی (انوار رضا،ص544) اور اس احتجاج میں ایک مسلمان قتل ہوگیا(المیزان کا امام احمد رضا نمبر،ص436)اور جب مطالبہ کیاجانے لگا کہ اس کتاب کو شائع کرنے والے مولوی محبوب علی رضوی کوامامت سے معزول کیاجائے (انوار رضا،ص544)تو آخر کار رضاخانیوں نے خاموشی کا قفل توڑا اور مولوی محبوب علی رضوی کی امامت بچانے کیلئے سارا ملبا نامعلوم کاتب کے سر ڈال کر مولوی صاحب کی طرف سے طوہا و کرہاتوبہ شائع کرائی گئی۔
تاویل نمبر۴:یہ کتاب اگر احمد رضاخان کی ہوتی توان زندگی میں شائع ہوتی
جواب:یہ کتاب احمد رضاخان ہی کی ہے ماقبل میں ناقابل تردید دلائل گزرچکے ہیں اور ان کی زندگی ہی میں مرتب ہوئی چنانچہ سرورق پر صاف 1325 ؁ھ لکھا ہواہے اور شائع بھی احمد رضاخان کی وفات کے صرف دو سال بعد ہوئی ہے رہی یہ بات کہ جوکتاب احمد رضاخان کی زندگی میں شائع نہ ہوئی ہو وہ احمدرضاخان ہی کی نہیں تواس طرح تواحمد رضاخان کی آدھی سے بھی زائد کتب سے ہاتھ دھوناپڑے گااحمد رضاخان کی کتابوں کی جو خیالی فہرست رضاخانیوں نے شائع کی ہے ان میں سے آدھی سے زائد کتب آج تک کسی کو دیکھنا نصیب نہ ہوئی میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاتاصرف فتاوی رضویہ کی مثال دیتاہوں کہ رضاخانیوں نے نزدیک احمد رضاخان کا سب سے بڑاکارنامہ اس کی فتاوی رضویہ ہے یہ بھی اس کی زندگی میں مکمل شائع نہ ہوابلکہ اس کی وفات کے کئی سال بعد تک اس کی صرف پانچ جلدیں شائع ہوئی تھیں اور بقول مفتی اقتدار خان نعیمی کہ اس کتاب کی کوئی جلدیں تودیمک کی خوراک کی نظر ہوگئی ہیں۔توکیااب اان کتب کے انکار کی بھی رضاخانی جرات کریں گے؟
تاویل نمبر ۵: کتاب بھی احمد رضاخان کی ہے اشعار بھی انہی کے ہیں مگر اشعار اماں عائشہؓکے متعلق نہیں بلکہ ان گیارہ مشرکہ بازاری عورتوں کے متعلق ہے جن کاذکر بخاری و مسلم میں ہے۔
جواب:یہ تاویل بھی باطل ہے اسلئے کہ آپ حضرت اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ اشعار میں ’’ان‘‘ کا لفظ ہے جو تعظیم کیلئے ہے اور آخر میں ’’قبا ‘‘ کا لفظ ہے جو واحد ہے اگر ان سات مشرکہ عورتوں کے بارے میں یہ کلام ہوتا تو آخر میں ’’قبائیں ‘‘ جمع کا صیغہ ہوتامگر ایسا نہیں خود اشعار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ شعر حضرت عائشہ رضی اللہ تعلای عنہا ہی کے متعلق ہیں۔پھر مزید غور فرمائیں کہ اس پورے قصیدے کی ’’ردیف‘‘ایک ہے جواس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ تمام اشعار ایک ہی قصیدے کے ہیں مزید یہ کہ مذکورہ گستاخانہ اشعار کے متصل بعد ہی یہ اشعار ہیں :
تن اقدس پر لباس آیہ تطہیر کاہو
سورہ نور ہو سر پر گہر آسماں معجز
یاحمیرآء کاتن اقدس پر گلگلوں کاجوڑا
(حدائق بخشش ،ص37)
(۱) کیابازاری عورتیں ’’تن اقدس‘‘والی ہوتی ہیں ؟
(۲) اور کیایہ آیہ تطہیر ان مشرکہ عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟
(۳) اور سورہ نور کی آیت براۃ کایہی عورتیں مصداق تھیں؟
(۴) اور یاحمیرآء کہہ کر کیاان مشرکہ عورتوں کوپکاراجاتاتھا؟
حضرت تمہاری چال بھی کتنی عجیب ہے
رکھتے کہیں پاؤں پڑتاکہیں پہ ہے
بالفرض بریلوی حضرات کی اس تاویل کو اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ اشعار حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کے متعلق نہیں تھے بلکہ ام زرع مشرکہ کے متعلق تھے تو بھی نہ صرف حضرت ام المومنینؓ کی شدید گستاخی ہے بلکہ حضور ﷺ کی بھی شدیدگستاخی ہے کہ مسلم شریف جلد دوم ص287میں حضور ﷺ کا یہ قول مووجود ہے کہ
کنت لک کابی زرع لام زرع
میں تیرے لئے ایسا ہوں جیسے ابو زرع ام زرع کیلئے
یہاں نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ام زرع سے تشبیہ دی اور اسی ام زرع کے بارے میں مولوی احمد رضاخان یہ گستاخانہ اشعار کہہ رہے ہیں بتاؤ جس عورت کو ام المومنین سے تشبیہ دی جارہی ہو کیا اس خاتون کے بارے میں اس قسم کی فحش گوئی کرنا درست ہے معذرت کے ساتھ میں اگر کہوں کہ مولوی احمد رضاخان کی بیٹی ایسی ہے ۔۔جیسے لاہور کی کوئی طوائف۔۔مولوی الیاس قادری کی بیوی کے سینے کے ابھار اس طرح ابھرے ہوئے ہیں جیسے فلاں عورت کے جس کی وجہ سے میرا سینہ پھٹا جارہا ہے ۔۔بتائے یہ بکواس ہم نے مولوی احمد رضاخان یا مولوی الیاس قادری کی بیٹی یا بیوی کے متعلق نہیں کی، بلکہ اس قسم کی عورت سے تشبیہ دی تو کیا یہ ان کی شدید توہین نہیں ۔۔۔؟؟؟تو پھر جس خاتون کو سرور کائنات ﷺ اپنی محبوب زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے تشبیہ دے ۔۔آخر اس کے بارے میں اس قسم کے آوارہ ذہن اشعار کہنا کہاں کی شرافت ہے؟
اس سے بڑھ کر اس صورت میں محمد مصطفی ﷺ کی شدید گستاخی ہے یعنی ام زرع کا جو واقعہ حدیث میں آیا اس کو مولوی احمد رضاخان ان اشعار میں پیش کررہے ہیں گویا یہ سب الفاط کے اس کے سینے ۔۔اس کے ابھار اس کے پاجامے ۔۔معاذ اللہ ثم معاذ اللہ نقل کفر کفر نہ باشد ۔محمد مصطفی ﷺ بیان کررہے ہیں اور مولوی احمد رضاخان ان کو اشعار میں ڈھال رہے ہیں۔۔استغفر اللہ ۔۔غور فرمائیں پہلے تو صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی گستاخی کی بات تھی اس تاویل کی صورت میں معاذ اللہ حضور ﷺ کی کتنی بدترین گستاخی ان رافضیوں نے کردی۔۔غور فرمائیں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔