جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز اور مظفر حسین شاہ کو جواب


امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی نیاز اور مظفر حسین شاہ کو جواب 

محترم ناظرین چند ساتھی مظفر حسین شاہ رضاخانی کی ایک ویڈیو کلپ لائے ہیں اور جواب کی استدعا کی۔ یہ مظفر حسین وہی ہے جس کی جہالت کا یہ حال ہے کہ اس کو قرآن کی آیات احادیث مبارکہ اور عربی کتب کی ایک عبارت بھی صحیح پڑھنا نہیں آتی تفصیل کیلئے گوگل یا یوٹیوب میں” مظفر حسین شاہ کا آپریشن “لکھ کر سرچ کریں۔
چنانچہ اس ویڈیو کلپ میں بھی یہ جاہل اجہل کئی بار ”فَاتِحَہ ± “ کے لفظ کو فَاتَحَہ ± “ بفتح التا پڑھ رہا ہے۔واقعی کسی نے سچ کہا کہ احمد رضاخان جاہلوں کا پیشوا تھا۔ 
 کافی عرصہ پہلے ہم اس جاہل کو مناظرے کا چیلنج بھی دے چکے ہیں مگر
تاحال موصوف ایسے غائب ہیں جیسے کسی رضاخانی کے دل سے ایمان۔
 بہرحال اس کی ویڈیو کے جواب میں پہلی بات تو یہ سمجھیں کہ اہل السنة والجماعت کے نزدیک شخصیات حجت نہیں ،بلکہ دلائل شرعیہ قرآن و حدیث اجماع و قیاس ہے ہاں ان کو سمجھنے کیلئے جمہور امت کی فہم کو لیا جائے گا۔رضاخانی حضرات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جمہور امت کے بجائے کسی شخص واحد کے کسی مجمل قول کو لے کر رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کرنا شروع کردیتے ہیں پھر ظلم و ناانصافی یہ کہ اسی شخص کے ان اقوال کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں جو ان کے مذہب و مزاج کے خلاف ہوں ۔
 چنانچہ انہی شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کو لے لیجئے ان کا ایک مجمل قول لے کر اس آدمی نے رائی کا پہاڑ بنادیا اور شاہ صاحب کومجدد،سنیوں کاامام اور پتہ نہیں کیا کیا بنادیا مگر جب اسی شاہ صاحب کے اقوال ان کے مزاج کے خلاف سامنے آئے تو انہوں نے اسی مظلوم شاہ اور مجدد کاکیا حال کیاچند نمونے ملاحظہ ہو:
(۱) شاہ صاحب نے پیروں فقیروں کے نام پر جانور ذبح کرنے کو بالکل حرام کہا جبکہ یہ حرام کام رضاخانی بریلویوں کے نزدیک عین اسلام ہے اب بجائے شاہ صاحب جو ان کے مذہب میں بقول مظفر حسین شاہ مجدد ہیں کی بات ماننے کے بجائے بریلوی حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی نے ان کے ساتھ کیا کیا ملاحظہ ہو:
یہ اعتراض شاہ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ کا ہے وہ مسئلہ میں سخت غلطی فرماگئے(جاءالحق ،ص368)
جناب آپ کے مذہب میں تو شاہ صاحب عام مسائل میں نہیں بلکہ حلال و حرام کے مسائل میں معمولی غلطی نہیں بلکہ ”سخت غلطی “ کرجاتے ہیں تو ایسے آدمی کو حجت بناتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہئے جواب دیں مجدد سخت غلطیاں کرنے آتا ہے یا غلطیوں کی اصلاح ؟ ہم آپ کو جاہل مانیں یا آپ کے حکیم الامت کو کذاب؟
اسی حکیم الامت کا جانشین اور آپ کا مفتی اعظم مفتی اقتدار نعیمی لکھتا ہے کہ اہل علم کہتے ہیں کہ چار آدمیوں کی بات نہیں ماننی چاہئے اکثر غلطی کرجاتے ہیں ان کا پتہ نہیں چلتا کہ وہابی ہیں یا شیعہ یا سنی ان میں سے ایک شاہ عبد العزیز ہیں (تنقیدات ،ص72)
اب جواب دو اس بیچارے کو تو تم نے شیعہ بنایا ہوا ہے یہ ہے تمہارا اصل مذہب ۔کیوں ایک دیگ حلیم کھانے کیلئے اور اپنی خطابت کے پیسے وصول کرنے کیلئے اپنی جاہل عوام کو بے وقوف بناتے ہو؟
اسی طرح آپ کے غزالی دوراں عمر اچھروی نے لکھا ہے کہ معاذ اللہ جب شاہ ولی اللہ وہابی اور بے دین ہوگئے تو اپنا جانشین شاہ عبد العزیز کو بنایا شاہ عبد العزیز پر بھی شاہ ولی اللہ کا رنگ چڑھا ہوا تھا ( مقیاس حنفیت ،ص577)
فی الوقت اختصارا ً ان چند حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہوں۔اگر شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ہی کو حکم اور فیصل ماننا ہے تو یہی شاہ صاحب غیر اللہ کے نام پر ذبح کو حرام کہتے ہیں جس کو آپ کے حکیم الامت نے غلط کہا اس کو کیوں نہیں مانتے؟
 یہی شاہ صاحب علم غیب کو لوازم الوہیت سمجھتے ہیں تفسیر عزیزی جلد اول ص 52اور ظاہر ہے کہ الوہیت کے لوازم مخلوق کیلئے ماننا شرک ہے جب کہ تم انبیاءتو کیا شیاطین کو بھی علم غیب مانتے ہو تو ان کے اس مسئلہ کو کیوں نہیں مانتے؟
 یہی شاہ عبد العزیز اسی فتاوی عزیزی میں عبد فلاں یعنی کسی کی طرف عبد کی نسبت کرنے کوشرک فی التسمیة کہتے ہیں 
(فتاوی عزیزی ،ص178)
جبکہ آپ کے اعلی حضرت احمد رضاخان نے اپنا نام ہی ”عبد المصطفی “ رکھا ہوا تھا مفتی احمد یار گجراتی نے جاءالحق میں اس پر لایعنی دلائل دینے کی کوشش کی تو ان کے اس فتوے کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟
 اسی طرح یہی شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اسی فتاوی عزیزی جس کو اٹھا اٹھا کر آپ عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں کے ص175پر لکھتے ہیں کہ قبر والے کا طواف کرنا اس کو سجدہ کرنا اس کے نام کا وظیفہ پڑھنا جیسے شیا ءیا شیخ عبد القادران سے لڑکے مانگنا ،بیماریوں سے شفا مانگنا جو کہ جاہل عوام کرتے ہیں یہ سب کفر ہے ۔
جواب دیں کیا یہ سب امور آپ کے مذہب میں عین ایمان نہیں تو شاہ صاحب کی اس بات کو کیوں نہیں مانتے؟
 رہا وہ حوالہ جو اس رضاخانی نے پیش کیا تو اس میں مطلق حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ایصال ثواب کا ذکر ہے اور ہمارا یہ موقف ہے کہ مطلق اگر کسی دن یا کسی خاص کیفیت کا التزام کئے بغیر کسی کی نام کی فاتحہ نیاز اس کے ایصال ثواب کیلئے دی جائے تو وہ جائز ہے ۔مگر محرم میں خاص دس محرم الحرام کے دن کا التزام کرنا اور پھر خاص حلیم کو ضروری سمجھنا اور اسی دن میں ثواب سمجھنا بدعت اور روافض کے ساتھ تشبہ کی وجہ سے ناجائز ہے ۔چنانچہ شاہ صاحب کے اسی فتوے کی وضاحت اسی فتاوی عزیزی کے ایک اور مقام پرموجود ہے جس سے ان کا موقف سمجھنے میں کافی مدد مل جاتی ہے آپ سے سوال ہوا:
سوال : ربیع الاول میں اللہ تعالی کی رضامند ی کیلئے کھانا پکانا اور اس کا ثواب حضرت سرور کائنات ﷺ کو پہنچانا شرعا صحیح ہے یا نہیں ۔اور ایسا ہی محرم میں کھانا پکا کر اس کا ثواب حضرت امام حسین ؓ کو اور دیگر ال اطہار سید مختار کو پہنچانا صحیح ہے یا نہیں ؟
جواب:انسان کو اختیار ہے کہ اپنے عمل کا ثواب بزرگوں کو پہنچائے لیکن اس کام کیلئے کوئی وقت اور دن اور مہینہ مقرر کرنا بدعت ہے ۔البتہ اگر کوئی نیک کام ایسے وقت میں خاص کرکے کرے کہ اس وقت میں ثواب زیادہ ہوتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں ۔
 مثلا ماہ رمضان شریف میں کہ اس ماہ مبارک میں بندہ مومن جو نیک کام کرتا ہے اس عمل کا ثواب ستر درجہ زیادہ ہوتا ہے تو کوئی نیک عمل خاص کرکے زیادتی ثواب کی سے اس ماہ مبارک میں کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ بہتر ہے اس واسطے کہ خود حضور پیغمبر ﷺ نے اس امر کی ترغےب فرمائی ہے چنانچہ یہ عمل حضرت امیر المومنین علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے قول سے ثابت ہے ۔اور جس چیز کے بارے میں صاحب شرع کی جانب سے ترغےب اور تعین وقت کی ثابت نہیں وہ عبث ہے اور خلاف سنت ہے اور مخالف سنت کی حرام ہے تو یہ ہرگز جائز نہیں البتہ اگر ہوسکے تو خفیہ طور پر خیرات کرے جس دن ہوسکے تاکہ ظاہر ہونے سے رسم نہ قرار پائے 
(فتاوی عزیزی ،ص198,199)
اس دو ٹوک فتوے نے بات بالکل واضح کردی اور الحمد للہ میلاد اور امام حسین کی حلیم دونوں مسئلوں کو واضح کردیا یعنی شیعہ بریلوی دونوں بھائیوں کا قصہ ایک ہی فتوے میں تمام کردیا ۔وہ یہ کہ اگر کسی دن وقت ماہ میں کسی عمل کی ترغیب رسول اللہ ﷺ سے ہے تو تو اس وقت میں وہ عمل خوب کرنا چاہئے لیکن اگر ایسا نہیں تو اس دن اس ماہ اس وقت میں وہ عمل کرنا بدعت ہے ربیع الاول میں عید میلاد اور محرم میں حلیم وغیرہ کی نیاز مخصوص دن مخصوص ماہ مخصوص وقت میں چونکہ شارع علیہ السلام سے ثابت نہیں لہذا ان دنوں میں یہ کام کرنا خلاف سنت ہونے کی وجہ سے عبث بے فائدہ حرام و بدعت ہے ۔اور کسی صورت جائز نہیں ۔
 مظفر شاہ صاحب کچھ شرم آئی؟ مگر شرم ہوتی تو بریلوی ہی کیوں ہوتے؟شاہ عبدالعزیز صاحب صرف یہی نہیں رکے بلکہ ان بدعتیوں کو گھر تک پہنچانے کیلئے یہ بھی ساتھ فرمادیا کہ اگر بغیر کسی دن مہینہ کے ایصال ثواب کرنا ہے تب بھی خفیہ طور پر کرے ظاہر طور پر نہ کرے تا کہ ان رسوم میں اس کا شمار نہ ہو۔اللہ اکبر ۔
رہا دوسرا حولہ جو فتاوی عزیزی سے پڑھا کہ سال میں دو مجالس حضرت شاہ عبد العزیز ؒ کے ہاں ہوتی ہے تو اس کا رد ہم خود آپ ہی کے گھر سے دکھادیتے ہیں کہ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اگر شیعہ اور جاہل عوام کی حالت کا ان کو اندازہ ہوتا تو ہر گز یہ عمل نہ کرتے ملاحظہ ہو آپ کے احمد رضاخان بریلوی اور ان کے والد نقی علی خان کے پیر و مرشد کا قول شاہ صاحب کی تردید میں :
حضرت سید شاہ ابو الحسن نوری علیہ الرحمة فرماتے ہیں کہ میرے داد اور مرشد سید شاہ آل رسو ل احمد علیہ الرحمة ماہ محرم الحرام میں شیعہ فرقے کی بدعتوں ،تعزیہ داری ،اور مرثیہ خوانی کے ارتکاب سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے تھے کہ ایک روز میں نے اپنے مرشد حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے دلی میں اپنے استاد محترم مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی کو دیکھا ہے کہ وہ محرم الحرام میں دس دن حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کی شہادت کا بیان فرماتے اور دسویں دن صبح سے زوال کے وقت تک شہادت کے فضائل بیان کرتے ،کھانا تقسیم کیا کرتے تھے ۔حضور والا (حضور اچھے میاں رضی اللہ عنہ)نے سن کر ارشاد فرمایا کہ بہت اچھا اور بہتر کرتے ،لیکن اگر ان کی مجھ سے ملاقات ہوتی تو میں ان سے کہتاکہ خاص اس مہینے میں ایسا اہتمام مناسب نہیں ہے بس مختصر سے کھانے پر فاتحہ کرکے کسی دوسرے مہینے میں ٰایسا اہتمام وعظ کیا کریں اس لئے کہ اب اس طرح کی محفلیں منعقد کرنا رافضیوں کا طریقہ ہے اور اس ماہ میں زیادہ اہتمام کرنا رفض کا دروازہ کھولنا ہے آنے والی نسل اپنے بزرگوں کے حالات سن کر گمان کرسکتی ہے کہ وہ شیعہ تھے جو تقیہ کئے ہوئے تھے“۔(جہان مفتی اعظم ،ص206)
لیجئے جناب آپ کے داد ا پیر تو کہہ رہے ہیں کہ میں ہوتا تو شاہ عبد العزیز کو منع کرتامگر مظفر شاہ تو کہہ رہا ہے کہ نہیں کرو گویا بقول تیرے پیر کہ تو لوگوں کو شیعہ بنانے کے چکر میں ہیں اور عوام میں یہ غلط گمان ڈالنا چاہتا ہے کہ ان کے اکابر معاذ اللہ تقیہ باز شیعہ تھے؟
جاہل آدمی جو فتوی تو ہمیں دکھارہا ہے پہلے وہ اپنے گھر سے تو تسلیم کرواو ¿۔بریلویو!ہم تم سے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ خدا کی قسم اپنے مذہب کا اتنا مطالعہ تم نے بھی نہیں کیا جتنا ہم نے کیا ہے اس لئے باز آجاو ¿ تم نے اگر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنی ہے تو شوق سے کرو مگر اپنے بیانات میں ہمارا نام لے کر ہمیں مت للکارو ورنہ اسی طرح کی رسوائی ہاتھ آئے گی جو ،اب آئی ہے۔
مگر بے حیا باش ہرچہ خواہی کنند 
دوسرا حوالہ آپ کے مذہب کے بانی مولوی احمد رضاخان صاحب سے سوال ہو ا کہ محرم میں امام حسین کا ذکر اور شہادت نامہ پڑھنا کیسا ہے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر خرافات پر مشتمل ہو پھر تو ہر صورت ہی حرام ہے اور اس پر ابن حجر اور امام غزالی کا حوالہ دیا پھر آگے دلچسپ بات یہ کہ خود ہی لکھتے ہیں کہ اگر خرافات سے خالی ہو صرف اہل بیت کے فضائل اور امام حسین ؓ کے فضائل بیان کرنا مقصود ہو تب بھی خاص اسی مہینہ میں اور خاص شہادت کے واقعات کو بیان کرنا ہی بتاتا ہے کہ یہ کام کسی نیت خیر اور کار خیر سے نہیں کئے جارہے ہیں لہذا عوام کیلئے ہر صورت میں اس ماہ میں شہادت حسین کی مناسبت سے شہادت حسین یا فضائل حسین بیان کرنا جائز نہیں 
(فتاوی رضویہ قدیم ،ج10،ص62)
سب سے دلچسپ بات یہ کہ مظفر حسین شاہ عبد العزیز ؒ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ مجلس امام حسین میں جب مرثیہ پڑھا جاتا ہے تو مجھ پر رقت طاری ہوجاتی ہے مگر مولوی احمد رضاخان لکھتا ہے :
”ہاں اگر خاص بنیت ذکر شریف حضرات اہل بیت طہارت ﷺ اور ان کے فضائل جلیلہ و مناقب جمیلہ روایات صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان کرتے ۔۔۔۔اور غم پروری اور ماتم انگیزی سے کامل احتراز ہوتا تو اس میں حرج نہ تھا۔۔۔۔مگر ہیہات ان کے اطوار عادات اس نیت خیر سے یکسر خالی ہیں ذکر فضائل شریف مقصود ہوتا تو کیا ان محبوبان خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھی بے شمار مناقب عظیمہ اللہ عز و جل نے انہیں عطا فرمائے انہیں چھوڑ کر اسی کو اختیار کرنا اور اس میں طرح طرح نوحہ حزن و غم کو بیان کرنا انہیں مقاصد فاسدہ کی خبر دے رہا ہے 
(فتاوی رضویہ قدیم ،ج10،ص62)
اللہ اکبر ! شاہ صاحب ؒ کے اس فتوے کی دھجیاں تو خود آپ کے امام صاحب نے اڑادی ہیں ۔شاہ صاحب تو کہتے ہیں کہ ذکر شہادت کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں مگر آپ کے امام احمد رضا تو کہتے ہیں کہ اگر ان کے فضائل ہی بیان کرنا مقصود تھا تو کیا صرف شہادت تھی ؟کوئی اور فضیلت نہ تھی؟لو جی شاہ صاحب کو کھری کھری سنادی ۔۔۔پھر شاہ عبد العزیز ؒ فرماتے ہیں کہ ان کی شہادت کا تذکرہ سن کر رقت طاری ہوجاتی ہے مگر آپ کے امام احمد رضاخان تو اس رقت نوحہ غم کو ہی ”مقاصد فاسدہ “ کہہ رہے ہیں اب جواب دو مذہب دیوبندیوں نے بدلا یا تمہارے احمد رضاخان بریلوی نے؟ ہم مظفر حسین تجھے سچا مانے یا تیرے امام احمد رضاکو؟
علمائے دیو بند کو شہادت امام حسین کا منکر کہنے والے بریلوی اپنے ابا جان کا فتوی بھی بار بار غور سے پڑھیں کہ ان کے نزدیک تو اس ماہ میں امام حسین کے نام پر مجلس منعقد کرنا ہی جائز نہیں مگر مظفر حسین جلسے جلوس کرتا پھرتا ہے خودبھی حرام کھاتا ہے اور عوام کو بھی حرام کی ترغیب دے رہا ہے ۔
فی الوقت کیلئے اتنی گفتگو پر اکتفاءکیا جاتا ہے اگر مظفر حسین شاہ کی طرف سے کوئی جواب آیا جس کی کوئی امید نہیں تو ان شاءاللہ مزید بھی وضاحت کردی جائے گی کہ یار زندہ صحبت باقی۔
آخر میں ہم ایک گزارش کریں گے کہ جب ہماری ویڈیوز اور بیانات ہمارے ساتھی ان رضاخانیوں کو دیتے ہیں تو بجائے اس کا جواب دینے کے مناظرہ کرنے کے جھوٹی تڑیا ں لگاتے ہیں ہماری طرف سے بارہا ان کے ہر مناظرے کا چیلنج قبول کیا گیا ہے اور ایک بار پھرہم باضابطہ اعلان کررہے ہیں کہ اگر مظفر حسین رضاخانی میں جرات ہے تو وہ ہم سے مناظرے کیلئے رابطہ کرسکتا ہے اور مظفر حسین کو ہم سے مناظرہ کیلئے میدان مناظرہ میں لانے والے شخص کو ہماری طرف سے پانچ ہزارروپے نقد انعام دیاجائے گا۔وما علینا الا البلغ المبین

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔