جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

بریلوی یہود کے نقش قدم پر

بریلوی یہود کے نقش قدم پر
ساجد خان نقشبندی
قارئین کرام قرآن پاک نے علمائے یہود کی ایک نشانی یہ بتلائی ہے کہ من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ اسی روش پر آج یہودی دجالی فوج کے کارندے بریلوی عمل پیرا ہیں کہ جب ان سے اپنے اکابرین کی کتابوں میں موجود گستاخیوں کا کوئی جواب نہ بن پڑایا وہ عبارات مسلک اہلحق اہلسنت والجماعت کے حق میں تھیں تو ان کو بجائے تسلیم کرنے کے ان میں تحریف شروع کردی۔
بریلوی مذہب کے یہ نام نہاد پیر اور مولوی اتنے بڑے خائن اور بددیانت ہیں کہ
ان کی بددیانتیوں کا اقرار خود بریلویوں کو بھی ہے چنانچہ مشہور بریلوی مولوی نعمان شیراز قادری موجودہ دور کے معروف بریلوی عالم غلام رسول سعید ی کی یہودیانہ عادات کا اقرار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ :
مجھے سعیدی صاحب کے حوالہ اور عربی عبارات کے تراجم پر ہر گز اصلا اعتبار نہیں ۔وہ کتر و برید کے ماہر اور اصل عبارات کے مفہوم کو کمال ہوشیاری کے ساتھ اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے بدل کر ترجمہ کرنے کے عادی ہیں اور بعض مقامات پر تو انتہائی خیانت سے کام لیا گیا ہے ۔(دعوت حق ،ص ۱۸،۱۹)
ایک جگہ مولوی غلام رسول سعیدی کی بد دیانتیوں کا ذکر کرتے ہوئے تراب الحق قادری کے دارالافتاء کا یہ مفتی ان الفاظ میں رونا روتا ہے:
پھر مولانا سعیدی نے علامہ سید محمد آلوسی بغدادی کی تفسیر روح المعانی کے حوالے سے آیت احقاف نمبر ۹ کی تفسیر کی عبارت کا کتر و برید کرکے ترجمہ نقل کیا ہے جو تقریبا دو صفحات پر پھیلا ہوا ہے ،یہ کام محض بھرتی معلوم ہوتا ہے ،بہرحال اس میں بھی جو خیانتیں ہیں وہ ملاحظہ فرمائیں ،ص ۴۱ کی آخری سطر سے پہلے جو اصل عربی عبارت تھی اس کاترجمہ سعید ی صاحب ہڑپ کرگئے ۔ ( دعوت حق ، ص ۴۷)
اسی طرح بریلوی حکیم الامت کا لڑکا اور جانشین اقتدار خان نعیمی ،بریلوی خطیب پاکستان شفیع اوکاڑوی کی خیانتوں اور بددیانتیوں کا شکوہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :
بعض حوالوں میں توڑ موڑ کرکے خیانت کی گئی ۔(حرمت خضاب سیاہ ،ص ۲۳)
اعلی حضرت کی ایک عبارت کا غلط مطلب لیتے ہوئے جھوٹ تک بول گئے (حرمت سیاہ خضاب ،ص ۳۷)
اسی طرح ڈاکٹر محمود احمد ساقی صاحب پسران کاظمی کی خیانتوں کا رونا روتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد صاحب کی تفسیر میں متنازعہ فیھا عبارت میں تحریف کردی ہے :
پسران کاظمی چونکہ جاہل ہی نہیں بلکہ بد دیانت بھی ہیں ۔(مواخذہ التبیان ،ص ۵۲)
غور فرمائیں جب شارح مسلم،خطیب پاکستان ،غزالی زماں کہلانے والوں کی علمی دیانت کا یہ حا ل ہو تو عام بریلوی کس نہج پر ہوگا ؟؟اس کا اندازہ لگاناکچھ مشکل نہیں۔اس مضمون میں فقیر آپ کے سامنے بریلویوں کی اسی قسم کی خیانتوں اور تحریفوں کاذکر مختصر طور پر کرے گاجو انھوں نے اپنی کتب میں کی ہیں ۔
رضاخانی تحریف نمبر ۔۱
حضرت اقدس(پیر مہر علی شاہ صاحب) مسجد میں رونق افروز تھے کہ مسمی پائیندہ خان ساکن حسن ابدال کا کوئی مقدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ حاضر ہوا اور حضور سے استدعا کررہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ حضور مقبول بارگا ہ الٰہی ہیں جو کچھ چاہیں اور جس وقت چاہیں خدا سے کراسکتے ہیں حضور نے فرمایا ایسا مت کہو کیونکہ یہ عقیدہ از روئے قرآن و حدیث شریف بالکل صحیح نہیں اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مقبولوں کو اتنی طاقت بخشی ہے کہ جس امر کی طرف دل سے متوجہ ہوجائیں اللہ تعالی وہ کام کردیتا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں کہ جسوقت چاہیں اور جو کچھ چاہیں ہوجائے کیونکہ رسول علیہ السلام اپنے چچا ابو طالب کے واسطے یہی چاہتے تھے کہ وہ اسلام لاوہیں اور ظہور میں ایسا نہ آیا جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب نبی کو کل اختیار نہیں تو ولی کو کس طرح ہو یہ تب ہو کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ کہ اللہ تعالی اپنے کسی نبی یا ولی کو سب اختیار دیکر آپ معطل ہو بیٹھے اور یہ بالکل برخلاف عقیدہ اسلام ہے جو لوگ نبی یا ولی کا وسیلہ ترک کرکے براہ راست خدا کو ملنا چاہتے ہیں وہ بھی راہ راست پر نہیں ہیں کیونکہ وہ اس خیال میں شیطان کے پیرو ہیں چنانچہ جب شیطان کو حکم ہو ا کہ آدم کو سجدہ کرے اور تعظیم میرے مقبول کو بجالائے وہ کہنے لگا خدا توہے اس کے درمیان کیا ضرورت ہے لہٰذا اس وجہ سے مردود بارگاہ ایزدی ہوگیا۔غرض کے بندہ بندہ ہے اور خداخدا قلوب بنی آدم خدا کے ہاتھ میں ہے جس امر کو کرنا چاہے اپنے کسی مقبول کادل اس طرف متوجہ کردیتا ہے اور اگرنہ کرنا چاہے تواس کے دل کو اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا اسی واسطے دیکھا جاتا ہے کہ اکثر اولیاء کی اولاد بے فیض رہ جاتی ہے اور فیض کوئی اور نصیب والا لیکر چلا جاتا ہے ۔
(مکتوبات طیبات معروفہ بمہر چشتیہ ،ص ۱۲۷،طبع اول ۔مطبوعہ حجازی پرنٹنگ پریس بیرون موری گیٹ لاہور)
چونکہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کا یہ ملفوظ بریلوی خانہ ساز عقیدہ ’’مختار کل ‘‘ کے سراسر خلاف تھا اس لئے پنڈی سے طبع ہونے والے مکتوبات کے جدیدایڈیشن جو ۱۹۹۶ میں شائع ہوا اس میں اس مکمل عبارت کو بڑوں کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بالکل حذف کردیا گیا اس مجرمانہ حرکت پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
رضاخانی تحریف نمبر ۲
مولوی حسنین رضا نے اپنے اعلی حضرت کے وصایا شریف کو شایع کروایا جس کے آخر میں دوصفحات پر ان کی مختصر سوانح بھی دی جس میں ایک انتہائی دل آزار عبارت ان الفاظ کے ساتھ تھی:
(مولوی احمد رضاخان کے )زہد و تقوی کا یہ عالم تھاکہ میں نے بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق کم ہوگیا (وصایا شریف ،ص۲۴،حسنی پریس بریلی)
بریلویوں نے مولوی حسن علی رضوی میلسی کی تقدیم کے ساتھ جب اس کو پاکستان میں شائع کروایا تو سوانح پر موجود ان دو متنازعہ صفحات کو اختصار کا بہانہ کرکے بالکل ہی غائب کردیا گیا۔ٍلیکن اس کے بعدپھر ۱۹۹۶ میں یٰس اختر مصباحی کی اصلاح کے ساتھ پروگریسو بکس لاہور والوں نے ان وصایا کو شائع کیاتو یہ دو صفحات تو دئے مگر متنازعہ فیھا عبارت میں اس طرح تحریف کردی:
میں نے خود بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا کہ اعلی حضرت کے اتباع سنت کو دیکھ کر صحابہ کرام کی زیارت کا لطف آگیا ۔یعنی اعلی حضرت قبلہ صحابہ کرام کے زہد و تقوی کا مکمل نمونہ اور مظہر اتم ہیں۔(وصایا شریف،ص ۷،پروگریسو بکس لاہور)
قارئین کرام خود سوچیں یہ جاہل سمجھ رہا ہے کہ اب یہ جملہ قابل اعتراض نہیں رہا حالانکہ حقیقتا پہلے سے بھی زیادہ گستاخی ہے۔
رضاخانی تحریف:۳
بریلویوں کی یہ عادت ہے کہ جب ان سے اپنی گستاخانہ عبارات کاکوئی جواب نہیں بن پڑتا تو اسے کاتب کے ذمہ لگادیتے ہیں کہ کاتب وہابی تھا اس نے یہ سارا کیایعنی ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ والی بات ہوئی وصایا کی اس عبارت کے متعلق بھی بریلویوں نے یہی ڈرامہ کیا ۔۔مگر اس جھوٹ پر پرڈہ ڈالنے کیلئے اور کتنے جھوٹ بولنے پڑے وہ بھی ملاحظہ فرماتے جائیں ۔
اگر وصایا کی متنازعہ عبارت کچھ اور تھی تو وہ کیا تھی۔۔؟؟؟مولوی حسن علی رضامیلسی کہتے ہیں کہ اصل عبارت یہ تھی
زہد و تقوی کا یہ عالم تھاکہ میں نے بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کا شوق اور زیادہ ہوگیا (وصایا شریف پر لایعنی اعتراضات کے جوابات، ص ۴۶از حسن علی رضوی)
مگر دوسری طرف یس اختر مصباحی کہتے ہیں کہ اصل عبارت یہ تھی:
میں نے خود بعض مشائخ کرام کو یہ کہتے سنا کہ اعلی حضرت کے اتباع سنت کو دیکھ کر صحابہ کرام کی زیارت کا لطف آگیا ۔یعنی اعلی حضرت قبلہ صحابہ کرام کے زہد و تقوی کا مکمل نمونہ اور مظہر اتم ہیں(وصایا شریف پر اعتراضات مو جوابات ، ص ۴۰ از یس اختر مصباحی)
غور فرمائیں کہ ایک جھوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے کتنے جھوٹ بولے گئے اور کیاکیا تحریفات کی گئی۔
رضاخانی تحریف نمبر ۴:
حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب کے حالات میں ان کے خادم خاص جناب صوفی محمد ابراہیم صاحب لکھتے ہیں:
مولانا مولوی انور علی شاہ صاحب صدر مدرسہ دیوبند ہمراہ مولوی احمد علی صاحب مہاجر لاہوری شرق پور شریف حاضر ہوئے اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمۃ کو بڑی ارادت سے ملے آپ ان سے کچھ باتیں کرتے رہے اور شاہ صاحب خاموش رہے۔پھر آپ نے مولانا انور شاہ صاحب کو بڑی عزت سے رخصت کیا ۔موٹر اڈے تک حضرت میاں صاحب خود سوار کرنے کیلئے تشریف لائے ۔شاہ صاحب نے میاں صاحب علیہ الرحمۃ سے کہا ۔آپ میری کمر پر ہاتھ پھیر دیں ۔آپ نے ایسا ہی کیا اور رخصت کرکے واپس مکان پرتشریف لے آئے۔بعد ازاں آپ نے بندے سے فرمایا شاہ صاحب بڑے عالم ہوکر اور پھر میرے جیسے خاکسار سے فرمارہے تھے کہ میری کمر پر ہاتھ پھیردیں ۔اور حضرت میاں صاحب علیہ الرحمۃ نے فرمایا دیوبند میں چار نوری وجود ہیں ان میں سے ایک شاہ صاحب ہیں
(خزینہ معرفت ،باب ۱۳،ص ۳۸۴،مکتبہ سلطان عالمگیر اردو بازارلاہور )
مگر جدید طبع میں اس پور ی عبارت کو حذف کردیا گیا ۔بعض ناشرین کی غفلت کو علمائے دیوبند کی علمی خیانت کہنے والوں کو کیا یہ تحریف اور بددیانتیاں نظر نہیں آتیں۔۔؟؟جواب دیں
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سوچنا پڑا
اب خودکشی کریں کے حوالے لکھا کریں
رضاخانی تحریف نمبر ۵:
علامہ قسطلانی ؒ بخاری شریف کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
و قول الداودی ما اظن قولہ فی ھذہ الطریق من حدثک ان محمد ا یعلم الغیب محفوظا وما احد یدعی ان رسول اللہ ﷺ کان یعلم من الغیب الا ما علمہ اللہ قد متعقب بان بعض من لم یرسخ فی الایمان کان یظن ذالک حتی کان یرای ان صحۃ النبوۃ تستلزم اطلاع النبی علی جمیع المغیبات ففی مغازی ابن اسحاق ؒ ان ناقتہ ﷺ ضلت فقال ابن الصلیت ۔۔۔۔۔ یزعم محمد انہ نبی و یخبرکم عن خبر السماء وھو لایدری این ناقتہ فقال النبی ﷺ ان رجلا یقول کذا وکذا و انی واللہ لااعلم الا ما علمنی اللہ وقد دلنی اللہ علیھا و ھی فی شعب کذا قد حبستھا شجرۃ فذھبوا فجاؤا بھا فاعلم ﷺ انہ لا یعلم من الغیب الا ما علمہ اللہ ۔
(ارشاد الساری ،ج ۱۰،ص ۲۹۶)
امام داودی کا یہ کہنا کہ اس سند میں یہ قول محفوظ نہیں ہے کہ جو شخص تجھے یہ کہے کہ آپ غیب جانتے تھے کیونکہ ایسا تو کوئی شخص نہ تھا جو یہ دعوی کرتا کہ حضور ﷺ علیہ السلام کو علم غیب حاصل تھا مگر جتنا اللہ تعالی نے آپ کو علم دیا تھا (قسطلانی ؒ کہتے ہیں کہ) داودی کا یہ قول مردود ہے کیونکہ بعض وہ لوگ جن کا ایمان راسخ نہیں تھا (یعنی وہ منافق تھے)وہ خیال کرتے تھے حتی کہ ان کہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ نبوت کی صحت اس کو مستلزم ہے کہ نبی کو تمام مغیبات پر اطلاع ہو چنانچہ ابن اسحاق کے مغازی میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی تو ابن صلیت منافق نے کہا کہ محمد(ﷺ)گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور تمھیں آسمان کی خبریں بتاتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص ایسا اور ایسا کہتا ہے اور خدا کی قسم میں نہیں جانتا مگر صرف وہی جو کچھ اللہ تعالی نے مجھے بتایاہے کہ اونٹنی فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے جب لوگ وہاں گئے تو اس اونٹنی کو وہاں سے لے آئے تو آنحضرت ﷺ نے صاف بتادیا کہ میں غیب نہیں جانتا مگر صرف اتنا ہی جتنا مجھے اللہ بتائے۔
خط کشیدہ عبارت پر غور فرمائیں کہ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ یہ فرمارہے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان میں راسخ نہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کی نبوت کی صحت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جمیع مغیبات پر مطلع ہو۔اب ذرا بریلوی مناظر اعظم جنید زماں کی علمی دیانت بھی ملاحظہ ہو کہ وہ علم غیب پر استدلال کرتے ہوئے انتہائی بدیانتی کاثبوت دے کر اپنے کمال کو چار چاند لگاتے ہوئے بزرگان دین کی عبارات سے اپنا موقف ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
قسطلانی ج۱۰،ص ۳۶۵ان صحۃ النبوۃ تستلزم اطلاع النبی ﷺ علی جمیع المغیبات بے شک نبی کی صحت مستلزم ہے کہ تمام مغیبات پر نبی ﷺ کو اطلاع ہو۔ (مقیاس حنفیت ،ص ۳۸۷،المقیاس پبلشرزدربار مارکیٹ لاہور)
آپ نے دیکھا کہ علامہ قسطلانی ؒ کی یہ عبارت کہ یہ عقیدہ ایمان میں راسخ نہ ہونے والوں کا ہے کو بالکل ہضم کرکے مولوی عمر اچھروی عبارت میں قطع و برید کرکے کس طرح اپنا جھوٹا مسلک ثابت کررہے ہیں؟؟ حیف ہے ایسی دیانت پر اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایسے بددیانتوں کو رہبر تسلیم کئے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کی خبر نہیں رکھتے دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں۔
تجھے دوسروں کی آنکھ کاتنکا تو نظر ٓاتا ہے
ذرا اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دیکھ لے اے غافل

ایک ہی کتاب میں تحریفات کا عالمی ریکارڈ
بریلوی مذہب کے بانی مولوی احمد رضاخان کے ’’ملفوظات‘‘ اس کے بیٹے مولوی مصطفی رضاخان نے جمع کئے اور ان کوشائع کروایاجب یہ ملفوظات شائع ہوکر عوام کے سامنے آئے تواہل علم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان ملفوظات میں جگہ جگہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی توہین اور من گھڑت واقعات وحکایات کی بھرمار ہے۔چنانچہ اہلسنت نے ان گستاخانہ عبارات پر اعتراضات کئے اور اہل بدعت سے ان کی وضاحت طلب کی ۔۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ یہ لوگ ان گستاخیوں سے توبہ کرتے اور احمد رضاخان سے برأت کا اظہار کرتے ۔۔لیکن انھوں نے ان گستاخیوں کوجوازفراہم کرنے کیلئے طرح طرح کی تاویلیں شروع کردیں۔مگر جب ہر طرح سے ان کا محاسبہ کیا گیا توبریلوی حضرت نے ان گستاخیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے انتہائی بھونڈی حرکت کرتے ہوئے ان میں تحریف کردی۔ حال ہی میں ’’بریلوی دعوت اسلامی‘‘ والوں نے اپنے امیر ’’مولوی الیاس قادری‘‘ کی ایماء پر جب ملفوظات کا جدید ایڈیشن شائع کیا توان میں ان سب عبارات کو یاتو سرے سے حذف کردیا یا ان میں اس طرح رد و بدل کردیاکہ ان پر کوئی اعتراض وارد نہ ہواور گویاقریبا سوسول بعد اپنے ’’آلہ حضرت‘‘ کی اصلاح کردی۔صرف اس ایک کتاب میں اتنے مقامات پر تحریف کی گئی ہیں کہ اگر انھیں ورلڈ رریکارڈ کیلئے پیش کیا جائے تو پوری دنیا میں اس کتاب کی اول پوزیشن آئی گی ملاحظہ ہوں چند تحریفات :
رضاخانی تحریف ۶:
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان اپنے ایک پیر بھائی برکات احمد کے جنازے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قریب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زیارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشریف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھیں حاصل ہوئیں(ملفوظات ،حصہ دوم،ص۱۴۲)
اس ملفوظ کی خط کشیدہ عبارت پر غور فرمائیں کہ کس قدر گستاخی کی گئی ہے کہ معاذ اللہ حضور ﷺکواپنا مقتدی اور مولوی احمد رضاخان خود کو حضور ﷺکاامام بنا کر اس پر اللہ کاشکر ادا کررہے ہیں افسوس وہ ذات جو امام الانبیاء ہے اسے احمد رضاخان کا مقتدی بنانے پر فخر کیا جارہا ہے ۔اب دیکھیں کہ اس میں کس طرح تحریف کردی گئی ہے۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
جب ان کا انتقال ہوااور میں دفن کے وقت ان کی قبر پر گزراتو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جوپہلی بار روضہ انور کے قریب پائی تھی ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زیارت اقدس ﷺسے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں عرض کی یا رسول اللہ !حضور کہاں تشریف لئے جاتے ہیں فرمایا برکات احمد کی جنازے کی نماز پڑھنے ۔یہ وہی برکات احمد ﷺتھیں کہ محبت پیر و مرشد کے سبب انھیں حاصل ہوئیں(ملفوظات ،حصہ دوم،ص۱۴۲)
غور فرمائیں بیچ میں سے متنازعہ فیہ عبارت ’’ الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا ‘‘ کو بالکل حذف کردیا گیا ۔کیوں۔۔؟؟؟ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف ۷:
ملفوظات کی اصل عبارت
ایک بار عبد الرحمن قاری کہ کافر تھااپنے ہمراہیوں کے ساتھ حضور اقدس ﷺ کے اونٹوں پر آپڑاچرانے والوں کوقتل کیا اور اونٹ لے گیا اسے قرأت سے قاری نہ سمجھ لیں بلکہ قبیلہ بنو قارہ سے تھا ،سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خبر ہوئی پہاڑ پر جاکر۔۔۔
اس عبد الرحمن قاری سے پہلے کسی لڑائی میں ان سے وعدہ جنگ ہولیا تھایہ وقت اس کے اس پورا ہونے کا آیا وہ پہلوان تھا اس نے کشتی مانگی ا نھوں نے قبول فرمائی اس محمدی شیر نے خوک شیطان کو دے مارا خنجر لے کر اس کے سینے پر سوار ہوئے۔الخ
(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص ۱۶۴تا ۱۶۶)
قارئین کرام اس ملفوظ میں احمد رضاخان نے اسماء الرجال سے جہالت کی بناء پر ایک صحابی رسول ﷺ یعنی عبد الرحمن بن عبد القاری کو کافر خوک اور نہ جانے کیا کیا کہہ دیا حالانکہ جس عبد الرحمن کا اس واقعہ میں ذکر ہے وہ عبد الرحمن فزاری قبیلہ بنو فزارہ کا فرد تھا مگر احمد رضاخان اس کوقبیلہ بنو قارہ جس سے حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق تھاباور کراتے ہیں۔اہلسنت کو اس پر شدید اعتراض ہوا کہ اس میں ایک صحابی رسول ﷺکی شدید توہین کی گئی ہے۔بریلویوں نے اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کیلئے جوشرمناک حرکت کی آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
ایک بار عبد الرحمن فزاری کہ کافر تھااپنے ہمراہیوں کے ساتھ حضور ﷺاقدس ﷺ کے اونٹوں پر آپڑاچرانے والوں کوقتل کیا اور اونٹ لے گیا،سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خبر ہوئی پہاڑ پر جاکر۔۔۔
اس عبد الرحمن فزاری سے پہلے کسی لڑائی میں ان سے وعدہ جنگ ہولیا تھایہ وقت اس کے اس پورا ہونے کا آیا وہ پہلوان تھا اس نے کشتی مانگی ا نھوں نے قبول فرمائی اس محمدی شیر نے خوک شیطان کو دے مارا خنجر لے کر اس کے سینے پر سوار ہوئے۔الخ
(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص ۲۲۹،۲۳۰)
غور فرمائیں دونوں جگہ ’’قاری‘‘ کو ’’فزاری‘‘ سے تبدیل کرکے کس طرح اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی پھر احمد رضاخان کی عبارت’’اس کو قرات سے قاری نہ سمجھ لینا بلکہ بنو قارہ سے تھا‘‘ کوبالکل حذف کردیا گیا جس سے تمام باطل تاویلات (مثلاکتابت کی غلطی وغیرہ) کی بیخ کنی ہوجاتی تھی۔ایساکیوں کیا گیا۔۔؟؟فیصلہ آپ حضرات نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف ۸:
ملفوظات کی اصل عبارت
حافظ الحدیث سیدی احمدسجلماسی کہیں تشریف لے جاتے تھے راہ میں اتفاقا آپ کی نظر ایک نہایت حسینہ عورت پر پڑگئی یہ نظراول تھی بلا قصد تھی دوبارہ پھر آپ کی نظر اٹھ گئی اب دیکھا کہ پہلو میں حضرت سیدی غوث الوقت عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے پیرو مرشد تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں احمد عالم ہوکر ۔انھیں سیدی سجلماسی کی دو بیویاں تھیں سیدی عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے ہوئے دوسری سے ہمبستری کی یہ نہیں چاہئے،عرض کیا حضور اقدس وہ سوتی تھی فرمایا سوتی نہ تھی سوتی میں جان ڈال لی تھی۔عرض کیا کہ حضور کو کس طرح علم ہوا فرمایا جہاں وہ سو رہی تھی کوئی اور پلنگ بھی تھاعرض کیا ہاں ایک پلنگ خالی تھا فرمایا اس پر میں تھا تو کسی وقت شیخ مرید سے جدا نہیں ہر آن ساتھ ہے۔(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص۱۶۹)
غور فرمائیں ایسے شرم کامقام جہاں فرشتے بھی الگ ہوجاتے ہیں کس طرح یہ باور کرایا جارہاہے کہ ایک ولی اس مخصوص حالت میں بھی میاں بیوی کے درمیان موجود ہوکر ساری ’’کاروائی‘‘ دیکھ رہا ہوتاہے۔اسلام میں تو نامحرم عورت کی طرف قصدا نظر اٹھانا بھی جائز نہیں اور بقول احمد رضاخان میاں بیوی کے جماع کے وقت پیر و مرشد حاضر ہوتے ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
موجودہ بریلویوں نے اس پورے واقعہ کو ہی حذف کردیا ہے ۔ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ دوم ص ۲۳۴۔ایسا کیوں کیا گیا اس کا فیصلہ آپ نے کرناہے۔
رضاخانی تحریف۹:
ملفوظات کی اصل عبارت
حضرت سیدی موسی سہاگ رحمۃ اللہ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے احمد آباد میں مزار شریف ہے میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شدید پڑابادشاہ وقاضی واکابر جمع ہوکر حضر ت کے پاس دعا کیلئے گئے انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزر ی ایک پتھر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا ’’مینہ بھیجئے یااپنا سہاگ لیجئے‘‘یہ کہنا تھاکہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں۔۔اور جل تھل بھر دئے ایک دن نماز جمعہ کے وقت بازار میں جارہے تھے ادھر سے قاضی شہر کہ جامع مسجد کوجاتے تھے آئے انھیں دیکھ کر امر بالمعروف کیاکہ یہ وضع مردوں کا حرام ہے مرادنہ لباس پہنئے اور نماز کو چلئے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتار ا مسجدکو ہولئے ۔خطبہ سنا۔جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکیبر تحریمہ کہی اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی فرمایا اللہ اکبر میرا خاوند حی لایموت ہے کبھی نہ مرے گا اور یہ مجھے بیوہ کئے دیتے ہیں۔۔(ملفوظات ،حصہ دوم، ص۲۰۸)
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
حضرت سیدی موسی سہاگ رحمۃ اللہ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے احمد آباد میں مزار شریف ہے میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں زنانہ وضع رکھتے تھے ایک بار قحط شدید پڑابادشاہ وقاضی واکابر جمع ہوکر حضر ت کے پاس دعا کیلئے گئے انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزر ی ایک پتھر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا ’’مینہ بھیجئے ‘‘یہ کہنا تھاکہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امڈیں۔۔اور جل تھل بھر دئے۔(ملفوظات ،حصہ دوم،ص۲۷۸)
غور فرمائیں ’’مینہ بھیجئے‘‘ سے آگے کی عبارت ’’یا اپنا سہاگ لیجئے‘‘ کو ہضم کرلیا گیا اور اس سے آگے کی عبارت کو بالکل حذف کردیا گیا کیوں۔۔؟؟؟یہ سوال آپ نے حل کرناہے۔
رضاخانی تحریف۱۰:
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان نے ملفوظات کے صفحہ ۲۲۱ حصہ دوم میں کھانے پر بسم اللہ بھول جانے پھر یادآنے کی دعا غلط بتائی جو اس طرح ہے ’’بسم اللہ علی اولہ و اخرہ‘‘ حالانکہ صحیح دعا ’’بسم اللہ اولہ وآخرہ‘‘ ملفوظات کے تمام ایڈیشنز میں یہ دعا اسی طرح موجود ہے ۔جدید ایڈیشن میں ’’آلہ حضرت‘‘ کی اصلاح کرتے ہوئے اس دعا کوصحیح لکھ دیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ دوم ص۲۹۴۔
رضاخانی تحریف ۱۱:
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضان خان ایک جگہ ملفوظات میں علمائے اہلسنت سے اپنے بغض کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ
ایسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہے۔(ملفوظات حصہ دوم ،ص۲۲۷)
غور فرمائیں یہاں احمد رضاخان پر دیوبند سے دشمنی کاایسا خبط سوار ہوا کہ ہیجانی کیفیت میں یہاں تک کہہ گئے کہ ان کا نکاح ’’جانور‘‘ سے بھی نہیں ہوتا۔گویا احمد رضاخان صاحب کے مذہب میں جانوروں سے نکاح حلال و جائز ہے اس لئے دیوبندیوں پر حرام فرمارہے ہیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
دعوت اسلامی کے غازیوں نے احمد رضاخان کے اس شرمناک فتوے پر پردہ ڈالے کیلئے اس لفظ کوحذف کردیا اور اب عبارت اس طرح ہے کہ :
ایسے ہی وہابی ،قادیانی،دیوبندی ،نیچری ،چکڑالوی،جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کاتمام جہاں میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کا فر اصلی یا مرتد محض باطل اور زنا خالص ہے(ملفوظات حصہ دوم ص ۳۰۰)
غور فرمائیں کہ ’’انسان ہو یاحیوان‘‘ کوحذف کردیا گیا کیوں۔۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔
رضاخانی تحریف۱۲:
ملفوظات کی اصل عبارت
حضرت سیدی احمد بدوی کبیر کے مزار پر بہت بڑامیلہ اور ہجوم ہوتا تھا۔اس مجمع میں چلے آتے تھے ایک تاجر کی کنیز پر نگاہ پڑی فورا نگاہ پھیر لی کہ حدیث میں ارشاد ہوا النظرۃ الاولی لک والثانیۃ علیک پہلی نظر تیرے لئے ہے اور دوسری تجھ پر یعنی پہلی نظر کاکچھ گناہ نہیں اور دوسری کامواخذہ ہوگا ۔خیر نگاہ توآپ نے پھیر لی مگر وہ آپ کو پسند آئی جب مزار شریف ہر حاضر ہوئے ارشاد فرمایا عبد الوہاب وہ کنیز پسند ہے عرض کی ہاں اپنے شیخ سے کوئی بات چھپانا نہ چاہئے ارشاد فرمایا اچھا ہم نے تم کو وہ کنیزہ ہبہ کی۔اب آپ سکوت میں ہیں کہ کنیز تو اس تاجر کی ہے اور حضور ہبہ فرماتے ہیں معا و ہ تاجر حاضر ہوا اور اس نے وہ کنیز مزار اقدس کی نذر کی۔خادم کو اشارہ ہوا انھوں نے آپ کی نذر کردی ارشاد فرمایا عبد الوہاب اب دیر کاہے کی فلاں حجرے میں لے جاؤ اور اپنی حاجت پوری کرو۔(ملفوظات حصہ دوم ،ص ۲۷۳،۲۷۴)
قارئین کرام غور فرمائیں اس من گھڑٹ حکایت سے کس طرح یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ولی ایک کنیز پر عاشق ہوگیا وہ بھی کسی اور کی پھر غورفرمائیں وہ تاجر اس کنیز کو مزار کی نذر کرتا ہے حالانکہ شرعی طور پر یہ وقف جائز نہیں کہ مزار میں ’’ملکیت‘‘ کی شرط نہیں پائی جاتی گویا ہبہ غیر شرعی پھر غور فرمائیں اس غیر شرعی ہبہ کو آگے پھر ہبہ کیا جاتاہے اور کہاکہ فلاں حجرے میں لے جاؤ گویا مزار نہ ہوا عورتوں کی خرید و فروخت کا کوئی مرکز ہوگیا۔بجائے یہ کہ بریلوی حضرات اس بے ہودہ حکایت سے برأ ت کااظہار کرتے ۔بریلویوں نے سرے سے اس ملفوظ کو ہی غائب کردیا۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
جدید ایڈیشن میں اس پوری عبارت کوہی حذف کردیا گیا ہے۔ملاحظہ ہو حصہ دوم ص ۳۶۱۔
رضاخانی تحریف۱۳:
ملفوظات کی اصل عبارت
سیدی محمد بن عبد الباقی زرقانی فرماتے ہیں کہ انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں اور وہ ان سے شب باشی فرماتے ہیں۔(ملفوظات حصہ دوم ،ص ۲۷۶)
غور فرمائیں ازواج مطہرات کا پیش کرناظاہرہے یہ پیش کرنااللہ ہی طرف سے ہوگا اور پھر الفاظ پر غور فرمائیں’’شب باشی فرماتے ہیں‘‘ اگر میں کہوں کہ احمد رضاخان صاحب کی بیگم صاحبہ کو ان کے والد احمد رضاخان کی قبر میں پیش فرماتے ہیں تاکہ وہ ان سے شب باشی کرسکیں یا کسی کمرے میں ان کے والد صاحب ان پر پیش فرماتے تھے اور وہ ان سے شب باشی کرتے تھے تو بریلوی حضرات شور کریں گے کہ آپ ہمارے حضرت کی گستاخی فرمارہے ہیں۔
جدید ایڈیشن میں اس گستاخی پر ایسا پردہ ڈالا گیا کہ باوجودکوشش کے بھی اب یہ عبارت آپ کونہیں ملے گی۔
دعوت اسلامی کے غازیوں کاکارنامہ
ملفوظات حصہ دوم ص ۳۶۲ پر یہ ملفوظ موجود ہے مگر متنازعہ عبارت کوحذف کردیا گیاہے۔
رضاخانی تحریف ۱۴:
ملفوظات کی اصل عبارت
عرض:یہ دعا کہ اللہ وہابیوں کو ہدایت کرے جائز ہے یا نہیں
ارشاد:وہابیہ کیلئے دعافضول ہے ۔(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص ۲۸۶)
غور فرمائیں احمد رضاخان صاحب بغض میں کس قدر آگے چلے گئے کہ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ ان کیلئے ہدایت کی دعا بھی نہ کروحالانکہ بڑے سے بڑے کافر کے لئے اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ اس کاہدایت پاجانا سرخ اونٹوں کے ملنے سے بہتر ہے حضور ﷺمصلی پر بیٹھ کر ابوجہل جسے امت کے فرعون کالقب ملا کیلئے ہدایت کی دعا رو رو کررہے ہیں مگر احمد رضاخان کے دل کابغض دیکھیں۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
موجودہ بریلوی حضرات نے اس سراسر غیر اسلامی ملفوظ کو ملفوظات سے نکال دیا ہے ملاحظہ ہو ص۳۷۴۔
رضاخانی تحریف۱۵:
ملفوظات کی اصل عبارت
مولوی احمد رضاخان صاحب فرماتے ہیں کہ
امنت بالذی امنت بہ بنواسرائیل میں ایمان لایا اس پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے
ایک طرف توبریلوی احمد رضاخان صاحب کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ چودہ سو سال کی کتابیں حفظ تھیں ان کا قلم نکتہ برابر خطا کرجائے اللہ نے ناممکن بنادیا دوسری طرف ان کو قرآن بھی صحیح طور پر یاد نہ تھااور اکثر اپنی کتابوں میں غلط آیا ت لکھ دیتے تھے بلکہ ان کے کمزور حافظے پر تو باقاعدہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔اب اسی آیت کودیکھ لیں سورہ یونس کی اس آیت کوغلط لکھا گیا اسمیں کتابت کی غلطی کا بہانہ بھی نہیں چلے گااس لئے کہ ملفوظات کے تمام ایڈیشنز میں یہی غلطی ہے پھر ترجمہ بھی اسی غلط آیت کے مطابق کیا گیا ہے۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
موجودہ بریلوی حضرات نے اس آیت اور اس کے ترجمہ کوٹھیک کرکے اپنے ’’اعلحضرت‘‘ کی اصلاح فرمادی مگر بڑی خاموشی کے ساتھ جو اچھی بات نہیں۔ملاحظہ ہو ملفوظات ،حصہ سوم ، ص ۳۸۸ ،مکتبۃ المدینہ۔
رضاخانی تحریف ۱۶:
اصل ملفوظات کی عبارت
میں نے خود دیکھا گاؤں میں ایک لڑکی ۱۸ یا ۲۰ برس کی تھی ماں اس کی ضعیفہ تھی اس کا دودھ اس وقت تک نہ چھڑایا تھا ماں ہر چند منع کرتی وہ زور آور تھی بچھاڑتی اور سینے پر چڑھ کر دود ھ پینے لگتی ۔(ملفوظات حصہ دوم ص ۳۱۱)
احمد رضاخان کے اس ملفوظات کو پڑھ کر ایک عام قاری کے ذہن میں یقیناًیہ سوالات آئیں گے کہ:
(۱) آخر ایک ضعیف عورت کواٹھارہ بیس سال تک دود ھ کیسے آتا رہا؟۔
(۲) اٹھارہ بیس برس کی لڑکی کیا کسی کی گود میں بیٹھ کر دودھ پی سکتی ہے وہ بھی ایک ضعیف عورت کی گود میں؟۔
(۳) احمد رضاخان کے اس گھرانے سے ایسے کیا تعلقات تھے کہ ان کے بارے میں اس قدر معلومات؟۔
(۴) کیا ان غیر محرمات کے اس لڑائی جھگڑے کو دیکھنا شرعا جائز تھا؟۔
(۵) کیا شرعی طور پر احمد رضاخان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ ایک نامحرم عورت کے سینے کودود ھ پلاتے ہوئے دیکھے؟۔
غرض اس قسم کے بہت سے سوالات احمد رضاخان صاحب کی ’’پاکیزہ زندگی‘‘ کی حقیقت کھولنے کیلئے ایک عام قاری کے ذہن میں آسکتے تھے ۔موجودہ بریلوی حضرات نے احمدرضاخان کی اس غیر شرعی شرمناک اور بد نظری پر مشتمل واقعہ پر اس طرح پردہ ڈالا کہ اس عبارت کو ہی ختم کردیا گیا۔تاکہ نہ رہے عبارت اور نہ رہے یہ سوال۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
موجودہ ایڈیشن حصہ دوم ص ۴۰۵ سے اس شرمناک عبارت کو ختم کردیا گیا۔۔کیوں۔۔؟؟؟
رضاخانی تحریف۱۷:
ملفوظات کی اصل عبارت
؂ ایک صاحب اولیائے کرام میں سے تھے آپ کی خدمت میں بادشاہ وقت قدم بوسی کیلے حاضر ہوا حضور کے پاس کچھ سیب نذر میں آئے تھے۔حضور نے ایک سیب دیا اور کہا کھاؤ عرض کی حضور بھی نوش فرمائیں آپ نے بھی کھائے اور بادشاہ نے بھی ۔اسوقت بادشاہ کے دل خطرہ آیا کہ یہ جو سب سے بڑا اچھا سیب ہے اگر اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مجھ کو دے دیں گے تو جان لوں گا کہ ولی ہیں۔آپ نے وہی سیب اٹھا کر فرمایا ہم مصر گئے تھے وہاں ایک جلسہ بڑابھاری تھا دیکھا ایک شخص ہے اس کے پاس ایک گدھا ہے اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ایک چیز ایک شخص کی ایک دوسرے کے پاس رکھ دی جاتی ہے۔اس گدھے سے پوچھا جاتا ہے گدھا ساری مجلس میں دورہ کرتا ہے جس کے پاس ہوتی ہے سامنے جاکر سر ٹیک دیتا ہے ۔یہ حکایت ہم نے اس لئے بیان کی کہ اگر یہ سیب ہم نہ دیں تو ولی ہی نہیں اور اگر دے دیں تو اس گدھے سے بڑھ کر کیا کمال دکھایا ۔یہ فرماکر سیب بادشاہ کی طرف پھینک دیا۔بس یہ سمجھ گئے کہ وہ صفت جوغیر انسان کیلئے ہوسکتی ہے انسان کیلئے کمال نہیں اور جو غیر مسلم کیلئے ہوسکتی ہے مسلم کیلئے کمال نہیں۔(ملفوظات حصہ چہارم،ص۳۴۲،۳۴۳)
مولوی احمد رضاخان صاحب کے اس ملفوظ سے چند باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ بریلویوں کے گدھے کو بھی علم غیب ہوتا ہے ،دوم مولوی احمد رضاخان صاحب اس میں فرماتے ہیں کہ علم غیب اور غیب کی باتیں تو جانوروں اور غیر مسلموں کو بھی ہوجاتی ہیں۔
اگر ایسا ہی ہے تو نہ معلوم بریلوی حضرات اولیائے کرام اور انبیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام کو ’’غیب دان ‘‘ مان کر کون سے عشق کا ثبوت دے رہے ہیں؟؟؟ اور نہ ماننے والوں پر طرح طرح کے فتوے لگاتے ہیں۔یہ کونسی فضیلت ہے جس میں کافر تو کیا حیوان بھی برابر ہیں؟؟؟۔
بریلوی دعوت اسلامی کے غازیوں کا کارنامہ
شائد اسی وجہ سے بریلوی حضرات کو اپنے ’’آلہ حضرت‘‘ کایہ ملفوظ کچھ پسند نہ آیا اور جدید ایڈیشن میں اس ملفوظ کو ’’ہضم ‘‘ کرگئے ۔ ملاحظہ ہو ملفوظات حصہ چہارم ص ۴۴۱۔
رضاخانی تحریف ۱۸:
احمد رضاخان کے خلیفہ مولوی ابو الحسنات قادری اپنی کتاب اوراق غم میں ایک جگہ حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے لکھتاہے کہ :
وہ آدم جو سلطان مملکت بہشت تھے وہ آدم جو متوج بتاج عزت تھے آج شکار تیر مذلت ہیں۔
(اوراق غم ،ص ۲ ،طبع اول ۱۳۴۸ ھ مطبوعہ منظور عام سٹیم پریس بازار پیسہ اخبار سٹریٹ لاہور)
چونکہ بریلوی حضرات کے نزدیک کسی بھی قسم کی تاویل جائز نہیں اور الفاظ کا جو ظاہر مفہوم ہوگا وہی معنی مراد لیا جائے گا اور یہاں حضرت آدم علیہ السلام کیلئے ’’مذلت‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا جو بریلوی مذہب میں انبیاء کی شدید گستاخی پر مبنی ہے لہٰذا س گستاخی کی بنیاد پر بجائے پیر حسنات پر کفر کافتوی لگانے کے بریلویوں نے اس پوری عبارت میں تحریف کردی اور ضیاء القرآن کے غازیوں نے جو اوراق غم شائع کی اس میں یہ عبارت اس طرح نقل کی:
وہ آدم جو سلطان مملکت بہشت تھے وہ آدم جو متوج بتاج عزت تھے آج مصائب میں مبتلاہیں ۔ (اوراق غم، ص ۱۱،ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور،جنوری ۲۰۰۸)
رضاخانی تحریف ۱۹:
احمد رضاخان کے ترجمے پر رضاخانی مذہب کے حکیم جی احمد یار گجراتی نے تفسیری حاشیہ لکھا اسے ’’پیر بھائی پرنٹرز ‘‘ نے طبع کراکے ادارہ کتب اسلامیہ چوک گجرات سے سے شائع کرایا اس میں ایک جگہ احمد یار گجراتی صاحب شیطان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
کیونکہ میں پرانا صوفی ،عالم ،عابد ،فاضل دیوبند ہوں اور آدم علیہ السلام ابھی نہ کچھ سیکھا نہ عبادت کی۔
( تفسیر نور العرفان ،پارہ ۲۳ ،سورہ ص،حاشیہ ۸،ص ۷۳۰)
احمد یار گجراتی نے یہاں شیطان کو ’’فاضل دیوبند‘‘ کہہ کر جس اخلاقی پستی اور تعصب کااظہار کیا ہے اس پر ہم بھر پور تبصرہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں لیکن فی الحال اس وقت یہ موضوع نہیں ۔اب جو نعیمی کتب خانے والوں نے ’’نور العرفان ‘‘ شائع کی اس میں
’’فاضل دیوبند‘‘ کے الفاظ نکال دئے گئے ہیں ۔عبارت ملاحظہ ہو:
کیونکہ میں پرانا صوفی،عابد،عالم فاضل ہوں اور آدم علیہ السلام نے ابھی نہ کچھ سیکھا نہ عبادت کی ۔
(نور العرفان،ص ۵۵۰، نعیمی کتب خانہ گجرات)
احمد یار گجراتی کی آل و اولاد کی طرف سے شیطان کیلئے’’فاضل دیوبند‘‘ کے الفاظ کو نکال دینا اس بات کا اقرار ہے کہ احمد یار گجراتی نے محض شیطان سے اپنی پرانی یاری کے اظہار اور علمائے دیوبند کے تعصب میں تفسیر کے اندر اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ بعد کے بریلویوں نے بھی اس جھوٹ پر شرمندہ ہوکر اس لفظ کو ہی نکال دیا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
رضاخانی تحریف:۲۰
اسی نور العرفان میں ایک جگہ بریلوی مذہب کے یہ حکیم جی نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ بتوں کے نام پر ذبح ہونے والا مرداڑ گوشت کھالیا کرتے تھے ۔عبارت ملاحظہ ہو:
حضور نے نبوت سے پہلے بھی بتوں کے نام کا ذبیحہ کھایا۔(نور العرفان ،پارہ ۱۵،سورہ کہف ،حاشیہ۱۴،ص ۷۹۹، نعیمی کتب خانہ)
اب ذرا ’پیر بھائی کمپنی‘‘ کے غازیوں کاکارنامہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
حضور نے نبو ت سے پہلے بھی بتوں کے نام کا ذبیحہ نہ کھایا ۔(نو ر العرفان ،ص ۴۷۱، پیر بھائی کمپنی لاہور)
غور فرمائیں اصل عبارت میں ’’نہ ‘‘ نہیں تھا مگر بریلویوں نے اس گستاخی پر پردہ ڈالنے کیلئے کتنی بڑی تحریف کا ثبوت دیا مگر افسوس کہ خدا خوفی سے لاپرواہ ہوکراتنی بڑی علمی خیانت کرنے کے باوجود بھی چوری پکڑی گئی۔
رضاخانی تحریف:۲۱
۱۹۴۲ میں بریلویوں نے احمد رضاخان کا ایک فتوی ’’الدلائل القاہرہ‘‘ کے نام بمبئی سے شائع کرایا جس میں ’’آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ‘‘ اور ’’مسلم لیگ‘‘ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا (ص ۳) کہ ان کی مدد کرنا یا اس جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے۔۔؟؟اس فتوے پر احمد رضاخان سمیت ۸۰ بریلوی علماء کے دستخط ہیں جس میں مسلم لیگ کے بانی اور ان کی جماعت پر کفر کا فتوی لگایاگیا اور ان کی امداد و نصرت کوحرام قرار دیا گیا ۔مگر اب ’’رضا فاؤنڈیشن‘‘ کے غازیوں کا کارنامہ بھی دیکھتے جائیں کہ انھوں نے ایران توران سے مواد جمع کرکے ااحمد رضاخان کے فتاوے کا مجموعہ ۳۰ جلدوں میں شائع کرایا ۔جلد ۱۵میں اس فتوے کو اسی نام کے ساتھ شائع کیا گیا مگر آل انڈیا محمڈن کا نام تو رہنے دیا اور اپنی دیانت کاثبوت دیتے ہوئے ’’مسلم لیگ‘‘ کانام نکال دیا گیا ۔ملاحظہ ہو ص ۱۰۳ ،۱۰۴ جلد ۱۵ تف ہے ایسی دیانت پر۔
نوٹ:بریلویوں نے تقسیم ہند سے پہلے مسلم لیگ کے خلاف ’’مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری‘‘،’’الجوابات السنیہ‘‘ ’’احکام نوریہ شرعیہ‘‘ ’’تجانب اہلسنت‘‘نامی فتاوے شائع کروائے جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کو جہنم کا کتا، رافضی کافر، اور مرتد کہا گیا اور مسلم لیگ کی مدد نصرت واعانت کو حرام قرار دیاگیا۔۔کوئی رضاخانیوں سے پوچھے کہ وہ آج اپنے اکابرین کا یہ ’’علمی سرمایہ‘‘ کیوں عوام کے سامنے نہیں لارہے ہیں۔۔۔؟؟؟دلائل کے میدان میں شکست کھاجانے کے بعد اب تم ’’راہ سنت‘‘ کے خلاف جھوٹے پرچے کٹواتے ہو کہ یہ فوج اور پاکستانی مفادات کے خلاف مواد شائع کرتے ہیں مگر اپنے اکابرین کی یہ سیاہ تاریخ تمھیں نظر نہیں آتی۔۔؟؟جنھوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی ۔۔۔محمد علی جناح کو جہنم کا کتاکہا۔۔۔مرتد کہا بلکہ یہاں تک کہا کہ قائد اعظم کی تعریف کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔شرم۔۔شرم۔۔۔شرم۔۔
رضاخانی تحریف۲۲:
سید محمداسمعیل شاہ صاحب کو عبد الحکیم شرف قادری نے اپنے اکابرین میں شمار کیا ہے ۔دیکھئے تذکرہ اکابر اہلسنت ص ۴۲۹،۴۳۰۔
ان کی سوانح حیات ’’معدن کرم‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ۔اس میں ایک جگہ ان کے تحصیل علوم کی تفصیل لکھتے ہوئے سوانح نگار رقمطراز ہیں کہ:
مدرسہ مظاہر العلوم میں ان دنوں مولانا خلیل احمد رحمۃاللہ علیہ صدر مدرس تھے۔وہاں سے تکمیل علم کی سند حاصل کرکے آپ نے دہلی میں مدرسہ مولوی عبد الرب میں داخل ہوکر شیخ الحدیث مولانا عبد العلی صاحب قاسمی جیسے متبحر عالم سے دورہ حدیث ختم کیا۔
(معدن کرم ،ص۱۶۰،المطبۃ العربیہ پریس،۱۴۱۹ ؁ھ)
اب جو معدن کرم کاجدید ایڈیشن شائع کیا گیا ہے اس میں اس عبارت کواس طرح بدل دیا گیا ہے:
مدرسہ مظاہر العلوم سے تکمیل علم کی سند حاصل کرکے آپ نے دہلی میں مدرسہ مولوی عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ میں داخل ہوکر وہاں دورہ حدیث ختم کیا۔(معدن کرم ،ص ۴۵۱،دوسرا نیا ایڈیشن)
رضاخانیو!!! آخر کب تک اپنی کتابوں میں اس قسم کی یہودیانہ تحریفات کرکے حق کو چھپاتے رہو گے؟؟؟ یہ مذموم حرکتیں کرکے اپنی ناخواندہ عوام کی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہو ۔۔مگر حق والوں کے سامنے تمہارا یہ دجل و فریب ہر گز نہیں چل سکتا۔
سید اسمعیل شاہ صاحب کا مظاہر العلوم میں علوم دینیہ حاصل کرنااور پھر مدرسہ مولوی عبد الرب سے علوم دینیہ کی تکمیل کرنا عبد الحکیم شرف قادری کو بھی مسلم ہے ملاحظہ ہو تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۴۲۹۔
رضاخانی تحریف۲۳:
اسی کتاب میں حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب اور علمائے اہلسنت دیوبند کے تعلقات کے متعلق ذکرکرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ:
حکیم محمد اسحق مزنگ والے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ حکیم صاحب اور ایک ساتھی حضرت میاں صاحب ؒ کے حکم کے مطابق دیوبند گئے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ جب حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو معلوم ہوا کہ یہ حضرات شرق پور سے تشریف لائے ہیں تو بیساختہ فرمایا۔’’وہ جہاں اللہ کا شیر رہتا ہے۔ تمنا ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف نیاز حاصل کروں چنانچہ وہ حضرت قبلہ کی حاضری کیلئے شرق پور تشریف لائے اور بوقت روانگی حضرت قبلہ ؒ سے پیٹھ پر بغرض حصول فیوض و برکات ہاتھ پھیرنے کی خواہش فرمائی اور خوشی خوشی رخصت ہوئے ۔ (معدن کرم ، ص۱۳۷)
مگر افسوس بریلویوں کی دیانت پر کہ جدید ایڈیشن میں اس پورے واقعہ اور پیرا گراف کو نکال دیا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو ص ۴۲۳ معدن کرم دوسرا نیا ایڈیشن۔حضرت شیر محمد شرقپوری صاحب اور حضرت انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات کا یہ واقعہ ’’خزینہ معرفت‘‘ میں بھی دیا گیا ہے مگر موجودہ بریلویوں نے جدید ایڈیشن میں ہاتھوں کا کرتب دکھاتے ہوئے اس واقعہ کو ہضم کرلیا جس کا حوالہ ماقبل میں گزرچکاہے۔
رضاخانی تحریف ۲۴:
معدن کرم کے سابقہ ایڈیشن میں مصنف کتاب کی ایک عبارت یوں تھی:
فضائل حج مولف مولانا الحافظ المحدث محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم کی ورق گردانی کرنے لگا۔
(معدن کرم ص )
اب جدید ایڈیشن میں بریلویوں نے اپنی عادت محرفہ سے مجبور ہوکر اس عبارت میں اس طرح تحریف کرکے حق کو دھندلا کرنے کی کوشش کی:
فضائل حج کی ورق گردانی کرنے لگا۔(معدن کرم ، ص ۵۱۱)
غور فرمائیں ’’مولف مولانا الحافظ المحدث محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم ‘‘کی پوری عبارت کو بنا ڈکار لئے ہضم کرلیا گیا لیکن ہم بھی انشاء اللہ یہ اتنی آسانی سے ہضم نہیں کرنے دیں گے۔
رضاخانی تحریف:۲۵
بریلوی خطیب پاکستان شفیع اوکاڑوی نے سیاہ خضاب کی حلت پر ایک کتابچہ ’’مسئلہ سیاہ خضاب‘‘ لکھا اور ضیاء القرآن پبلیکیشنز والوں نے شائع کروایا اس کتابچے کا جواب الجواب بریلوی مذہب کے حکیم جی احمد یار گجراتی کے لڑکے اور جانشین اقتدار احمد خان نے ’’حرمت سیا ہ خضاب‘‘ کے نام سے لکھا اس میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی خیانتوں اور تحریفات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حدیث رسول ﷺ میں شفیع اوکاڑوی صاحب کی لفظی تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اب اندازہ لگاؤ کہ صرف اپنے باطل جھوٹے بے ہودہ مذہب کو بچانے کیلئے حدیث مبارکہ کے اصل لفظ مٹا کر جنبوہ کردیا ۔اسی کو ابلیسی شرارت کہتے ہیں۔دنیوی اعتبار سے کتنا آسان ہے کہ جس حدیث کو چاہا توڑ پھوڑ دیا اور اپنا جھوٹا مذہب بنا لیا۔
(حرمت سیاہ خضاب ،ص ۱۲۱)
غور فرمائیں جولوگ نبی کریمﷺ کی احادیث میں تحریف کردینے سے نہ شرمائیں ان سے اپنے اکابرین کی کتابوں میں تحریفات کردینے پر گلہ کرنا ہی فضول ہے۔
رضاخانی تحریف۲۶:
اسی کتاب میں ایک جگہ شفیع اوکاڑوی صاحب کی طرف سے موطا امام مالک کی ایک عبارت کا جواب دیتے ہوئے ان کی بد دیانتی کا گلہ ان الفاظ میں کیا جاتا ہے :
مصنف نے اپنی پیش کردہ عبارت میں لفظی خیانت کے علاوہ ترجمہ بھی غلط کیا۔معلوما کا ترجمہ قطعی روایت کرتے ہیں اور اگلی پچھلی عبار ت جو ان کے مخالف ہے اس کو چھوڑ جاتے ہیں۔(حرمت سیاہ خضاب ،ص ۶۰،نعیمی کتب خانہ ،۲۰۰۹)۔
رضاخانی تحریف ۲۷:
بڑہیچ قبیلے کے خان جی احمد رضاخان صاحب نے حدائق بخشش نامی نعتیہ کتاب لکھی جس کے تین حصے ہیں۔اس کا اول اور دوم حصہ تو مل جاتا ہے اور تیسرا حصہ عام نہیں ملتا ۔اس میں خان صاحب یہ عنوان قائم کرتے ہیں:
قصیدہ در مناقب ام المومنین محبوبہ سید المرسلین حضرت سیدنا صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ
پھر اس سلسلہ میں یہ بھی کہتے ہیں
تنگ وچست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن میرے دل کی صورت کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بیروں سینہ و بر
(حدائق بخشش ،حصہ سوم ص ۳۷)
ان گستاخانہ اور انتہائی دل آزار اشعار پرجب اہلسنت کی طرف سے اعتراض ہوا تو بجائے اس پر توبہ کرنے کے۔۔ احمد رضاخا ن پر کوئی فتوی لگانے کے بریلویوں نے بدترین خیانت اور بددیانتی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس حصہ کو ہی غائب کردیا اور اسے چھاپنا بند کردیا اور یہ مشہور کردیا کہ یہ حصہ مولوی احمد رضاخان صاحب کا ہے ہی نہیں حالانکہ بریلوی اکابرین نے حدائق بخشش حصہ سوم کو احمد رضاخان کے اشعارکامجموعہ تسلیم کیا ہے ملاحظہ ہو:(حیات امام اہلسنت ،ص۴۹،مشرق کا فراموش کردہ نابغہ،ص۲۲،امام احمد رضا اور علوم جدیدہ و قدیمہ ،ص ۵۲،۵۳،عبقر ی الشرق ،ص ۵۲عاشق الرسول مولانا عبد القادری بدیوانی ،ص ۱۷،۱۸)
ہمارا سوال ہے کہ بریلویوں سے کہ وہ کیوں علمی خیانت اور تحریف کے مرتکب ہوکر اس کتاب کو عام شائع نہیں کرتے ؟؟؟۔
رضاخانی تحریف۲۸:
ایک رضاخانی رسالے کے کچھ صفحات فقیر کی نظر سے گزرے جس میں ایک جگہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی فضائل صدقات ص ۳۴۰ کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ انھوں نے ایک حدیث نقل کی اس میں رسول ﷺ کا لفظ بھی تھا مگر حضرت شیخ الحدیث نے اس کو نقل نہیں کیا یہ تحریف ہے اور اس بنیاد پر انھیں معاذ اللہ ’’خبیث دیوبندی‘‘اور ’’شیطانی توحید‘‘ والا کہا گیا ۔۔حالانکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لفظ کاتب سے رہ گیا ہو کاتب کوئی بریلوی ہو جس نے یہ ’’خباثت‘‘ کی ہو یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ وہاں روایت بالمعنی کررہے ہوں اور روایت بالمعنی کیلئے تمام الفاظ کا بعینہ نقل کرنا ضروری نہیں۔۔یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ سے یہ لفظ سہوا رہ گیا ہو چنانچہ مولوی نصیر الدین سیالوی بریلوی لکھتا ہے کہ :
حضرت عمرؓ کی بزرگی جلالت علمی قوت حافظہ کو تو سارے تسلیم کرتے ہیں بلکہ سارے اولیاء کرام بھی ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ان کا واقعہ بخاری شریف میں منقول ہے ک جب ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میں جنبی ہوں گایا ہوگیا ہوں اور پانی دستیاب نہیں کیامیں تیمم کرسکتا ہوں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھو تمہار ے لئے تیمم کی اجازت نہیں حضرت عمار بن یاسر نے یا د دلایا کہ میں اور آپ اکھٹے تھے ہمیں جنابت لاحق ہوگئی تھی تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جب کہ میں نے زمین میں لوٹ پوٹ ہوکر پورے جسم کو مٹی میں ملوث کردیا تھااس کے بعدحضور علیہ السلام نے مجھے تیمم کا طریقہ سکھایا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یا د نہیں ہے۔(بخاری شریف ،ج۱، ص۸۴)
حضرت عمر جیسی ہستی کو جب نسیان ہوسکتا ہے تو بعد میں آنے والوں کو جو ان کی گردراہ کو بھی نہیں پاسکتے نسیان کیوں نہیں ہوسکتا۔ (عبارا ت اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،حصہ اول ،ص ۳۹۳)
غور فرمائیں یہاں نصیرالدین سیالوی صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نسیان کے مریض تھے معاذ اللہ جس کی وجہ سے ان کو اپنی ہی بیان کردہ حدیث یاد نہیں رہی توکیا آج کے یہ رضاخانی ملاں جو محض علمائے اہلسنت سے تعصب کی بنیاد پر حدیث میں صرف ایک لفظ رہ جانے کی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کو معاذ اللہ ’’خبیث ‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کررہے ہیں وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے۔۔۔؟؟؟کیا ان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ حضرت عمر ضی اللہ تعالی عنہ پر بھی ایک مضمون اسی قسم کا لکھ دیں اور اسی قسم کا تبصرہ ان پر بھی کردیں ۔۔۔؟؟؟
صداقت لا نہیں سکتی تاب مصلحت کوشی
جو کچھ کہنا ہو بے باکانہ کہئے برملا کہئے
اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں کوئی لفظ چھوٹ جانا معاذ اللہ خباثت اور شیطانیت کی علامت ہے تو آئے ہم ثابت کرتے ہیں کہ سب سے بڑا خبیث اور شیطان کون ہے۔
مولوی احمد رضاخان نے ایک حدیث یوں نقل کی:
رواہ الامام محمد فی کتاب الآثار قال اخبرنا ابو حنیفۃ ورواہ عبد الرزاق فی مصنفہ (الی ان قال)عن عائشۃ رضی اللہ عنھا انھا امراۃ یکدون راسھا بمشط ۔۔(فتاوی رضویہ ج۹ص۱۶۵)
اس حدیث کے نقل کرنے میں احمد رضاخان نے جس خطرناک غلطی اور تحریف کا ارتکاب کیا ہے اسکی نشاندہی خود بریلوی مولوی نذیر احمدسعیدی نے ان لفظوں میں کی ہے
کتاب الآثار اور مصنف عبد الرزاق دونوں کتابوں میں بمشط کا لفظ نہیں ہے بلکہ کتاب الآثار میں رات میتتا یسرح راسھا اور مصنف میں رات امراۃ یکدون راسھا ہے(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف۲۹:
ایک اور حدیث خان جی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
فصففنا خلفہ صفین ومانری شیئا(فتاوی رضویہ مج۹،ص ۳۵۰)
اس حدیث میں احمد رضاخان صاحب المختار کی جانب سے تحریف و تبدیلی کی نشاندہی مولوی سعیدی ان الفاظ میں کرتا ہے
معجم کبیر میں مجمع ابن جاریہ کی حدیث کے تحت بحوالہ ابن ابی شیبہ حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
فصففنا خلفہ صفین اس میں ما نری شیئاکے الفاظ نہیں ہیں ملاحظہ ہو معجم کبیر حدیث نمبر ۱۰۸۶،ج۱۹،ص ۴۴۶۔
(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف ۳۰:
ایک اور حدیث خان صاحب یوں تحریر کرتے ہیں
رسول ﷺ فرماتے ہیں من دعا الی الھدی فلہ اجرہ و اجر من تبعہ (فتاوی رضویہ ج۵،ص ۳۸۵)
اس حدیث میں تحریف کی نشاندہی کرتے ہوئے مولوی نذیر لکھتے ہیں
نوٹ:مسلم شریف کے الفاظ یوں ہیں من دعا الی الھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذالک من اجورھم شیئا۔(حوالہ مذکورہ بالا)
رضاخانی تحریف ۳۱:
ایک اور جگہ احمد رضاخان مسند احمد سے عن معاذ ابن جبلؓ کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ
ما من شیء انجی من عذاب اللہ من ذکر اللہ رواہ الامام احمد عن معاذ بن جبل۔۔۔ (رضویہ ج ۵ ص۶۶۵)
جبکہ مولوی سعیدی اس حدیث کے صحیح الفاظ اس طرح حاشئے میں لکھتے ہیں
ما عمل ادمی عملا قط انجی لہ من عذاب اللہ من ذکر اللہ۔۔۔۔
میرا سوال ہے بریلویوں سے اگر حضرت شیخ الحدیث ایک روایت کا ترجمہ کرتے ہوئے روایت بالمعنی کے تحت کوئی لفظ چھوڑدیں اور تم اس بنیاد پر معاذ اللہ ان کو خبیث اور شیطان کہو تو وہ شخص کتنا بڑاخبیث اور شیطان ہوگا جو ایک نہیں کئی احادیث کے ترجمے میں نہیں بلکہ متن میں اس طرح تحریف اور خیانتیں کرتا ہے ۔۔؟؟جواب دو۔۔۔ہم اس زبان میں بات کرنے کے قائل نہیں مگر۔۔
رکھو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بریلوی کے اس خان صاحب کے متعلق ان کے معتقدین کا عقیدہ ہے کہ :
ہم کو اور ہمارے ساتھ سارے علمائے عرب وعجم کو اعتراف ہے (کونسے علماء عرب و عجم۔۔؟؟؟مگر یہ نہ پوچھئے۔۔از ناقل)کہ یا حضرت شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی یا حضرت مولانا بحر العلوم فرنگی محلی یا پھر اعلحضرت فاضل بریلوی کی زبان و قلم کایہ حال دیکھا کہ مولی تعالی نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور زبان و قلم نقطہ برابر خطا کرے اس کو ناممکن فرمادیا۔(تجلیات امام احمد رضا ،ص۱۵۷،برکاتی پبلشرز کراچی)
پس جب بقول بریلویوں کہ خان صاحب معصوم عن الخطاء تھے معاذ اللہ اور ان کا قلم نقطہ برابر بھی خطا نہیں کرسکتا تو لامحالہ ماننا پڑے گا کہ احمد رضاخان نے ان احادیث کے اندر جو تحریفات کی ہیں وہ کسی غلطی سہو یا نسیان کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر محض نبی کریم ﷺ سے اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سب کچھ کیا ،اور جھوٹی احادیث نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے والے شخص کے متعلق خود میرے آقا و مولی احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں کہ:
من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار
پس بریلویوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ ایسے جہنمی آدمی کو انھوں نے اپنا امام بنایا ہوا ہے یہ علمائے اہلسنت دیوبند کی کرامت ہے کہ جیسے ہی تم نے ان کے خلاف اپنی زبانیں دراز کیں اللہ نے تمہارے بڑوں کا انجام تمھیں دکھادیا فاعتبرو ا یااولی الابصار اور کیوں نہ ہو کہ جب خود رب العزت کا یہ اعلان ہے کہ
من عاد لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب
قارئین کرام!!اگر آپ تھوڑا تلاش کریں تو اس طرح کی مزید کئی تحریفات آپ کو بریلوی کتب میں مل جائیں گی یہ چند حوالے میں نے آپ کے سامنے ذکر کردئے تاکہ ان کا اصل چہرہ آپ لوگوں کو دکھایا جاسکے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ میری اس ادنی کاوش کو اپنے دربار میں قبول و منظور فرمائے اور مرتے دم تک مسلک اہلسنت کی ترویج اور دفاع کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔