جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

استفتاءبابت قاتلان امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
استفتاءبابت قاتلان امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ 
الجواب بعون الوہاب
ساجد خان نقشبندی
سائل نے استفتاءمیں مذکور سوال کی وجہ علت بیان نہیں کی لہذا دارالافتاءمیں یہ استفتاءکس غرض سے ارسال کیا گیا ہے ہمیں معلوم نہیں ۔دارالافتاءسے شرعی مسائل کی تحقیق کیلئے رجوع کیا جائے جوکہ دارلافتاءکا اصل مقصد ہے تاریخی واقعات جن کا عقائدو فروعات سے کوئی تعلق نہیں پر ہماری رائے معلوم کرنے کیلئے زحمت نہ کی جائے بلکہ اس کیلئے انفرادی طور پر دارالافتاءکے ذمہ داران سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔بہرحال اگر سائل کا مقصود یہ ہے کہ
چونکہ یہ حضرات مذکور فی السوال امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت میں ملوث ہیں اس لئے ان کے فعل کا الزام اصحاب رسول ﷺ پر رکھ کر ان پر تبراکیا جائے تو یہ پرلے درجے کی جہالت ہے ۔قرآ ن کریم میں رب تعالی کا ارشاد ہے کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہ ہوگا۔
ولا تزر وازرة و وزری اخری
اگر سائل کے ہاں ”ملزم “ اور ”مجرم “ بنانے کا یہی ”نرالا اصول “ ہے تو انہیں ابتداءحضرت آدم علیہ السلام سے کرنی چاہئے جن کے بیٹے قابیل نے حضرت ہابیل کو شہید کیا ۔پھر اپنی توپوں کا رخ ان انبیاءکی طرف موڑنا چاہئے جن کی آل اولاد و ازواج کفر و شرک کے گناہ عظیم میں مبتلا رہی اور ظاہر سی بات ہے کہ کفر و شرک کسی مسلم کے قتل سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے۔
 نیز ہمارا رفضیوں سے سوال ہے کہ اگر اسی بنیاد پر صحابہ کو برا بھلا کہنا ہے اور اس کیلئے اصول یہی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی نہیں بچتے کیونکہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتلوں میں ایک مشہور نام ”شمرذو الجوشن“ کا بھی ہے جن کے بارے میں ملا باقر مجلسی کہتا ہے کہ شیعہ تھا بہادر تھا جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھا ۔تو اگر سوال یوں بنا لیا جائے کہ امام حسین کے قاتل حضرت علی کے ساتھی تھے تو کسی رافضی کو برا تو نہیں لگے گا؟
ھو من قبیلة بنی کلاب و من رو ¿سا ھوازن کان رجلا شیعیا شجاعا شارک فی معرکة صفین الی جانب امیر المومنین (ع)ثم سکن الکوفة و داب علی روایة الحدیث 
(سفینة البحار،ج1،ص714)
بلکہ محسن امین حسینی رافضی نے تو کھلے لفظوں میں اس بات کا اقرارکیا ہے کہ موصوف اور شیث بن ربعی شیعیان علی میں سے تھے مگر بعد میں دشمن حسین ہوگئے ۔ تو امام حسین ؓ کے قاتل تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے معتمدین نکلے اس میں صحابہ کا یا ان کی اولاد کاکیا قصور ؟ پوچھنا ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھو کہ ایسے لوگوں کو اپنے پاس کیوں رکھا جنہوں نے بعد میں آپ ہی کے بیٹے کو شہید کردیا؟
شھد صفین شیث بن ربعی و شمر بن ذی الجوشن الضابی ثم حاربو الحسین ( ع) یوم کربلاو ھم من شیعة امیر المومنین علی فکانت لھم خاتمة سوء( فی رحاب ائمة اہل بیت ،ج1 ،ص9)
 ثالثا:سوال میں مذکور پہلا نام ”محمد بن اشعث بن قیس بن کندی “ کا ہے ۔اپنے دعوے پر کسی معتبر کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔معترض نے انہیں ”اشعث بن قیس کندی ؓ“ صحابی رسول ﷺ کابیٹا تو کہہ دیا مگر شائد تاریخ دانی کا نرا دعوی کرنے والے اس معترض کویہ معلوم نہیں کہ حضرت اشعث بن قیس کندی ؓ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آذر بائیجان کے امیر تھے اور جنگ صفین میں بھی آپ کے ساتھ شریک تھے “۔ ( بلاذری ،ص272،تاریخ طبری ،ج4،ص422)
 معترض نے ایک اور تاریخی چشم پوشی بھی کی کہ انہیں اشعث بن قیس کندی ؓ کی بیٹی یعنی ”محمد بن اشعث قیس کندی “ کی ”بہن“ حضرت حسن بن ابی طالب کی زوجہ محترمہ تھیں ۔(سیر اعلام النبلاء)
 تو گویا معترض کو اب اعتراض اس طرح کرنا چاہئے کہ میدان کربلا میں امام حسین کی داڑھی پکڑنے والا مسلمانوں کے چوتھے بادشاہ کے معتمد خاص کا بیٹا اور امام حسن کا سالاتھا“۔
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہو ویسی سنی
سنان بن انس کا نام امام حسین ؓ کے قاتلوں میں آتا ہے اگرچہ دیگر اقوال بھی ہیں ان کا صحابی رسول ﷺ کی اولاد میں سے ہونے پر ہم مطلع نہ ہوسکے نہ معترض نے کوئی حوالہ دیا ۔
 تیسرا نام عمر بن سعد کا نام لکھا ان کا نام قاتلین حسین ؓ میں شمار کرنے کی تردید ہماری کتب میں موجود ہے۔دیکھو ( اسد الغابة ،ج2،ص29)
بلکہ زینب بنت فاطمہ نے جب ان کو دیکھا تو کہا اے عمر تو اس بات پر راضی ہے کہ ابو عبداللہ ( حضرت حسین ؓ)شہید کردئے جائیں اور تو دیکھتا رہے اس پر مارے غم کے ان کے آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور داڑھی آنسو سے تر ہوگئی۔
و خرجت اختہ زینب بنت فاطمة الیہ فجعلت تقول لیت السماءتقع علی الارض و جاءت عمر بن سعد فقالت یا عمر ارضیت ان یقتل ابو عبد اللہ و انت تنظر فتحادرت الدموع علی لحیتہ و صرف وجھہ عنھا ثم جعل لایقدم علی قتلہ
 (البدایة والنہایة ،ج8،ص204)
 تیسرا نام حصین بن نمیر کا دیا پر کوئی حوالہ درج نہیں کیا یہ حصین بن نمیر واقعہ حرہ میں یزید کے لشکر کا سردار تھا۔شیعہ نے غالبا ایک دھوکا دینے کی کوشش کی اور وہ یہ کہ حصین بن نمیرتابعی بخاری کا راوی ہے ۔اول الذکر کو ممتاز کرنے کیلئے ”حسصین بن نمیر الامیر“ ذکر کیاجاتاہے غالبا شیعہ نے یہی مغالطہ دینے کی کوشش کی ۔اول الذکر سے ہم بیزار ہیں اور ثانی الذکر ہمارا امام ہے مگر اس کا واقعہ کربلا میں نہیں کوئی کردار ہے۔
 پانچواںنام یزید بن امیر معاویہ ؓ کا دیا یزید کے فسق پر اکابرعلماءدیوبند کا اجماع ہے ۔
نیز ان حضرات پر قتل امام حسین ؓ کا الزام لگانا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اس لئے کہ شیعہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ امام اپنے موت پر خود قادر ہوتا ہے(اصول کافی) جب امام اپنی موت پر خود قادر ہے تو کسی اور کو کیا جرات ہے کہ اس کو قتل کرسکے اس صورت میں اگر قتل کیا بھی تو امام حسین ؓ نے خود اپنے آپ کو اپنی مرضی سے مارا معاذ اللہ اس لئے خواہ مخواہ میں دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے امام حسین ؓ سے پوچھا جائے۔
 رابعا: اصول مناظرہ میں فریق مخالف پر اپنے دعوے کو ثابت کرنے کیلئے دو طریقے بتائے گئے ہیں ایک برہانی دوسرا جدلی ۔جدلی جسے الزام علی الخصم بھی کہا جاتا ہے جس میں ایسے مسلمات سے فریق مخالف کا رد کیا جائے جو اسے بھی تسلیم ہو ہمارے عرف میں اسے ”الزامی جواب “ کہا جاتا ہے اور برہانی انداز کو ”تحقیقی جواب “ مگر دعوے کے ثبوت میں دونوں انداز مستقل حجت ہیں ۔لہذا ہم الزام علی الخصم کے طور پر چند رافضی کتب کے حوالہ جات پیش کررہے ہیں جس سے روز روشن کی طرح واضح ہوگا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ”اصل قاتل خود شیعہ “ تھے ۔
حوالہ نمبر 1:مشہور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے :
”کثرت خطوط اہل کوفہ : یہ خط عبد اللہ بن مسمع ہمانی اور عبد اللہ بن دال کے ہاتھ بخدمت امام حسین ؑ روانہ کیا اور اسرار کیا کہ یہ خط بہت جلد خدمت امام میں پہنچا دینا پس یہ دونوں قاصد دسویں ماہ مبارک رمضان کو میں داخل مکہ ہوئے اور نامہ اہل کوفہ خدمت امام حسین ؑ میں پہنچادیا ان دونوں قاصدوں کی روانگی کے بعد دو روز پھر اہل کوفہ نے قیس بن مسہرہ ،عبد اللہ بن شداد عمارہ بن عبد اللہ ڈیڑھ سو خطو ط جو اہل کوفہ نے لکھے تھے دیکر بخدمت امام حسین ؑ روانہ کیا اور پھر دو روز کے بعد تین چار بلکہ زیادہ لوگوں نے ایک خط لکھا اور ہمدست بانی بن بانی سبعی و سعید بن عبد اللہ حنفی بخدمت آنحضرت روانہ کیا اور خط میں لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ عریضہ شیعوں اور ذرویوں و مخلصوں کی طرف سے امام حسین ؑ بن علی ؑ بن ابی طالب“۔(جلاءالعیون ،ج2،ص189)
حوالہ نمبر 2: بارہ ہزار خطوط اہل کوفہ سے آگئے حضرت نے ان کے آخری خط کے جواب میں لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط حسین ؑ بن علی کا شیعوں مومنوں مسلمانوں اہل کوفہ کی طرف “(جلا ءالعیون ،ص190،ج2)
ان دونوں حوالوں میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ ہزاروں خطوط ”اہل کوفہ “ اور ”شیعوں“ کی طرف سے لکھے گئے تھے شیعہ کی صراحت خود شیعہ کی طرف سے کئے جانے کے بعد مزید تفصیل کی ضرورت نہیں مگر ہم مزید اتمام حجت کیلئے یہاں ایک حوالہ نقل کردیتے ہیں کہ شیعہ کے ہاں ”اہل کوفہ “ سے کون لوگ مراد ہوتے ہیں ؟
حوالہ نمبر3:قاضی نور اللہ شوستری لکھتا ہے :
تشیع اہل کوفہ حاجت باقامت دلیل ندارد و سنی بودن کوفی الاصل خلاف اصل ومحتاج دلیل است اگرچہ ابو حنیفہ کوفی است 
(مجالس المومنین ،ص25،مجلس اول)
اہل کوفہ کے شیعہ ہونے کیلئے کسی دلیل کی حاجت نہیں کوفیوں کا سنی ہونا خلاف اصل ہے جو محتا ج دلیل ہے اگرچہ ابو حنیفہ کوفی تھے۔
پس جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ اہل کوفہ سب کے سب شیعہ تھے اور ان کے خطو ط میں ان کے شیعہ ہونے کی بھی وضاحت ہے تومعلوم ہواکہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بلانے والے یہی شیعہ تھے۔
مقتل ابی مخنف میں بھی تفصیل کے ساتھ انہی شیعی کوفیوں کے خطوط کا ذکر ہے ۔ملاحظہ ہو مقتل ابی مخنف ص16تا57 محمد علی بک ایجنسی۔ اب بلائے جانے کے بعد انہی شیعوں نے اہل بیت اور امام حسین ؓ کے ساتھ کیا کیا ملاحظہ ہو:
حوالہ نمبر4: امام حسین نے اولا مسلم بن عقیل کو اپنا نمائندہ بناکر کوفہ روانہ کیا تو اس وقت اٹھارہ ہزار شیعہ مسلم بن عقیل کے گردجمع ہوگئے اور مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر امام حسین ؓ کی بیعت کی (جلا ءالعیون ،ج2،ص193)
حوالہ نمبر 5: امام حسین کو خط لکھنے والے مرکزی شیعہ ہانی بن ہانی تھے مسلم بن عقیل ان ہی کے گھر ٹھرے اور کئی ہزار شیعوں سے بیعت کی مگر جب ابن زیاد کو اس کی خبر ہوئی اور ہانی کو طلب کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ اگر حکم ہو تو مسلم بن عقیل کو ابھی گھر سے نکال دوں یہ بھی یاد رہے کہ اسی ہانی کی مکاری کی وجہ سے ابن زیاد مسلم بن عقیل کے ہاتھوں ان کے گھر میں قتل نہ ہوسکا ( جلا ءالعیون ملخصا،ص196،198)
حوالہ نمبر7:اس کے بعد ابن زیاد نے اہل کوفہ کو ڈرایا دھمکایا تو اس کے بعد کی کیفیت کو شیعہ ملا باقر مجلسی نے ”اہل کوفہ“ کی بے وفائی کا عنوان دے کر بیان کیا اور لکھا کہ شام تک مسلم بن عقیل کے ساتھ صرف تیس شیعہ رہ گئے اور مسجد کے دروازے پر آنے تک ایک بھی کوفی شیعی آپ کے ہمراہ نہ رہا(جلاءالعیون ،ص200)
کوفی شیعوں کی اس بے وفائی کو دیکھ کر مسلم بن عقیل نے کہا :”اہل کوفہ نے مجھے فریب دے کر آوارہ وطن کیا عزیز و اقارب سے چھوڑایا اور میری نصرت نہ کی بلکہ تنہا چھوڑ دیا“۔(جلا ءالعیون ،ص201)
حوالہ 8:مسلم بن عقیل نے وصیت کی :امام حسین ؑ کو اس مضمون کا خط لکھ کر کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی اور آپ کے پسر عم کی نصرت و یاری نہ کی ان کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے آپ اس طرف نہ آئیں “۔(جلاءالعیون ،ص204)
حوالہ نمبر9: محمد بن حنفیہ خدمت حضرت میں حاضر ہوئے اور کہا اے برادر جو کچھ اہل کوفہ نے مکر و غدر آپ کے پدر و برادر کے ساتھ کیا آپ جانتے ہیں میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ سے بھی ویسا ہی سلوک نہ کریں “۔(جلاءالعیون ،ص207)
اس خط میں صاف وضاحت ہے کہ کوفیوں نے جو مکر آپ کے والد یعنی حضرت علی ؓ کے ساتھ کیا اور آپ کے بھائی یعنی حضرت حسن ؓ کے ساتھ کیا کہیں وہی آپ کے ساتھ نہ کریں اور یہ بات معلوم ہے کہ کوفیوں نے ان دونوں حضرات کو شہید کیا محمد بن حنفیہ ؓ کا یہ خدشہ درست ثابت ہوااور بعد میں انہی کوفی شیعوں جن کے خطوط پر اعتماد کرکے اہل بیت گھر سے نکلے ان اہل بیت کو بے دردی سے شہید کردیا۔
حوالہ نمبر10: امام حسین ؓ نے صاف اس بات کا اقرار کیا کہ مجھے جن لوگوں نے خطوط لکھے ہیں وہی مجھے قتل کریں گے اور اس بات کو ثابت کیا جاچکا ہے کہ خط لکھنے والے شیعہ تھے تو اب خود مقتول کی گواہی کے بعد کسی کو کیا حق ہے کہ ناحق کسی پر قتل کا الزام لگائے۔چنانچہ امام حسین ؓ فرماتے ہیں :
اہل کوفہ نے مجھے خطوط لکھے اور مجھے بلایا اور یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ۔(جلاءالعیون ،ص210،211)
حوالہ نمبر11: جب دوسرا دن ہوا عمر بن سعد لعین مع چار ہزار منافقین داخل کربلا ہوا اور مقابل لشکر امام حسین ؑ اترا ....ان میں سے اکثر وہی لوگ تھے جنہو ں نے خطوط لکھے اور حضرت کو عراق میں بلایا تھا “۔ ( جلاءالعیون ،ص220)
اس حوالے میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ امام حسین ؓ کو شہید کرنے کیلئے آنے والے اکثر وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو خطوط لکھے۔
حوالہ نمبر12:امام حسین ؓ نے اپنے ان شیعوں کوفیوں کی بے وفائی کو دیکھا تو کیا فرمایا یہ قول خود قاتل کے خلاف مقتول کی شہادت ہے:
 اے بیوفایان جفاکاران خدا تم پر وائے ہو تم نے ہنگامہ اضطراب و اضطراراپنی مدد کو مجھے بلایا اور جب میں نے تمہارا کہنا قبول کیا اور تمہاری نصرت و ہدایت کرنے کو آیا اس وقت تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچی (جلاءالعیون،232)
”شمشیر کینہ “ کا لفظ اس بات کی صراحت کررہا ہے کہ ان کوفی شیعوں کو شروع دن سے اہل بیت سے سخت قسم کا کینہ تھا اور اسی کینہ کی بنیاد پر اولا امام حسین کے والد پھر ان کے بھائی اور اب دھوکا و فراڈ دے کر ان کو شہید کرنے کے درپے ہیں اور آج بھی اسی دھوکہ و فراڈ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جعلی ماتم کرکے قتل کا الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔
حوالہ نمبر13: ام کلشوم ؓ فرماتی ہیں :اے اہل کوفہ تمہارا حال اور مآل برا ہو اور تمہارے منہ سیاہ ہوں تم نے کس سبب سے میرے بھائی حسین ؑ کو بلایا اور ان کی مدد نہ کی اور انہیں قتل کرکے مال و اسباب ان کا لوٹ لیا (جلاءالعیون ،ص273)
اس میں بھی اہل بیت اور اس واقعہ کی عینی شاہدہ کی طرف سے اس بات کی صراحت ہے کہ امام حسین ؓ کو بلانے والے ہی ان کے قاتل تھے ۔
حوالہ نمبر14: حضرت زین العابدین فرماتے ہیں : ایھا الناس میں تم کو قسم خدا کی دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ میرے پدر کو خطوط لکھے اور ان کو فریب دیا اور ان سے عہد و پیمان کیا اور ان سے بیعت کی آخر کار ان سے جنگ کی ۔(جلاءالعیون ،ص373)
یہ اس واقعہ کے ایک اور عینی شاہد کا بیان ہے کہ امام حسین ؓ کو قتل کرنے والے بلانے والے ہی تھے ۔ الحمد للہ ہم نے امام حسین ؓ کا قاتل کون پر خود مقتول دو عینی گواہوں اور دو مزید گواہ (محمد بن حنفیہ ،مسلم بن عقیل ؓ) کی گواہیاں پیش کردی کہ انہوں نے امام حسین کا قاتل انہی لوگوں کو بتایا جنہوں نے آپ ؓ کو خطوط لکھ کر بلایا ان میں سے کسی نے بھی سوال میں مذکور افراد کا نام نہیں لیا لہذا شرعی قاعدے کے مطابق کوفی شیعہ ہی امام حسین ؓ کے قاتل ہیں جبکہ جن افراد کا نام لیا گیا ان پر قتل کا محض الزام ہے کوئی شرعی ثبوت موجود نہیں ۔
رافضی تاویلات:
تاویل نمبر1: جلاءالعیون کا محشی کوثر بریلوی کہتا ہے کہ خطوط لکھنے والے شیعہ نہ تھے کیونکہ وہ امام کا مطالبہ کررہے تھے کہ امام حسین ؓ آپ آئیں کیونکہ یہاں ہماراکوئی امام نہیں جبکہ شیعہ مذہب میں تو امام منصوص من اللہ ہوتا ہے کسی کو امام منتخب کرنے کا اختیار نہیں ۔(جلاءالعیون ،ص189)
جواب: یہ بھی شیعہ کا مکر ہے اولا اس لئے کہ جب خود خطوط لکھنے والوں کی طرف سے شیعہ ہونے کا اقرار موجود ہے اور بقول شیعہ کوفہ میں شیعہ ہی تھے تو بغیر کسی معتبر دلیل کے عقلی ڈھکوسلوں سے تو بات نہیں بنے گی ۔ثانیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوثر بریلوی کی جہالت کا یہ حال ہے کہ اسے خود اپنے مذہب کی تاریخی کتب کی عبارت فہمی کا بھی سلیقہ نہیں ۔کوفی جن معنوں میں امام حسین کی امامت کا ذکر کررہے ہیں وہ اس معنی میں امام نہیں جو منصوص من اللہ ہے وہ تو پہلے ہی ان کا عقیدہ تھی تبھی تو یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بجائے امام حسین ؓ کو طلب کررہے ہیں بلکہ وہ تو سیاسی امامت کیلئے بلارہے تھے چنانچہ خود امام حسین نے اس ”امام “ کے لفظ کی تشریح جو خط میں مذکور تھی ان الفاظ میں کی:
”میں اپنی جان کی قسم کھاتا ہوں کہ امام وہی ہے جو درمیان مردم بکتاب خدا حکم اور بعدالت قیام کرے اور قدم جاہ شریعت مقدسہ سے باہر نہ رکھے اور لوگوں کو دین حق پر مستقیم رکھے “۔ (جلاءالعیون ،ص190)
تاویل نمبر2:وہ شیعہ مخلص نہ تھے منافق تھے ۔
جواب:یہ دعوی بھی بلا دلیل ہے ۔اور اپنی کتب سے جہالت کا ثبوت ہے ۔امام حسین ؓ کو خط لکھنے والے مخلص شیعہ ہی تھے چنانچہ جب ان کا ایک قاصد جب گرفتار ہوا تو :
”حصین بن نمیر لعین نے اس قاصد کو پکڑلیا اور چاہا وہ خط امام حسین ؑ کا اس سے چھین لے قاصد نے وہ خط چاک کر ڈالا اور حسین ؑ کا نہ دیا حصین بن نمیر شقی نے قاصد امام حسین کو ابن زیاد کے پاس بھیج دیا ابن زیاد نے اس سے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں علی ابن طالب اور ان کے فرزند گرامی کا شیعہ ہوں ابن زیاد نے کہا تو نے خط کیوں چاک کیا قاصد نے کہا اس وجہ سے چاک کیا کہ تو اس مضمون پر مطلع نہ ہونے پائے ابن زیاد نے کہا وہ کس نے لکھا تھا اور کس کے نام تھا قاصد نے کہا خط امام حسین ؑ نے ایک جماعت اہل کوفہ لو لکھا تھا کہ میں ان کے ناموں سے واقف نہیں ہوں ابن زیاد شقی غضبناک ہوا اور کہا میں تجھ سے دستبردار نہ ہوں گا جب تک ان لوگوں کے نام تو مجھ سے بیان نہ کرے گااور منبر پر جاکر امام حسین ان کے پدر مادر و برادر کو ناسزا کہے گا اگر تونے ایسا نہ کیا تو مجھے تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا قاصد منبر پر گیا اور جمیع بنی امیہ پر لعن بے شمار کیا “۔(جلاءالعیون ،ص212,213)
جمیع بنو امیہ پر بے شمار لعنت کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قاتلین امام حسین ؓ یہی بدبخت تبرا باز شیعہ تھے۔
ثانیاعبد اللہ بن قیطیر شہادت کے وقت فرماتے ہیں :
”ہمارے شیعوں نے ہماری نصرت سے ہاتھ اٹھالیا ہے ۔(جلاءالعیون ،ص214)
”ہمارے شیعوں “ کا لفظ ہی بتارہا ہے کہ وہ شیعہ منافق نہیں بلکہ بقول روافض ان کے اپنے مخلص شیعہ تھے ۔اس ہمارے لفظ کی وضاحت خود اسی کتاب میں ایک اور جگہ پر موجود ہے چنانچہ رافضیوں کا بارہواں امام غائب کہتا ہے :
جو ہمارے شیعوں میں سے زمین پر ہوگا خدا اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجے گا۔۔۔خداوند عالم ہمارے شیعوں کو چند ایسی کرامتیں بخشے گا“۔(جلاءالعیون ،ص261)
کوثر بریلوی جی جب یہ}} ہمارے شیعہ{{ امام مہدی کے پاس ہوں تو صاحب کرامت بن جائیں اور جب یہی}} ہمارے شیعہ{{ امام حسین کے پاس ہوں تو منافق بن جائیں ؟ ٹھیک ہے تقیہ آپ کا مذہب ہے لیکن کیا آپ کی غیرت گوارا کرتی ہے کہ اپنے آباو ¿ اجداد کو منافق کہتے پھریں ؟ اور پھر ان کے نام پر ٹکڑے بھی کھائیں؟
الغرض امام حسین ؓ کے قتل میں یہی شیعہ ملوث تھے ۔مخلص مومنین صحابہ ؓ کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اہل سنت پر اس کا کوئی الزام ثابت کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ حضرت علی ؓ کی اولاد اپنے شیعوں سے کس قدر بیزار تھے اور صحابہ جو اہل سنت کے آئمہ ہیں پر کس قدر اعتماد کرتے تھے اس کیلئے فی الوقت صرف ایک حوالہ نقل کرکے میں اس بحث کو ختم کرتا ہوں ۔امام حسن ؓ انہی شیعوں کی مکاریوں سے دل برداشتہ ہوکر فرماتے ہیں:
”بخدا اس جماعت سے میرے لئے معاویہ بہتر ہے یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں اور میرا ارادہ قتل کیا میرا مال لوٹ لیا قسم بخدا اگر معاویہ سے عہد لوں اور اپنا خون حفظ کروں اور اپنے اہل و عیال سے بے خوف ہوجاو ¿ں اس سے بہتر ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کریں اور میرے اہل و عیال و عزیز و اقارب ضائع ہوجائیں قسم بخدا اگر میں معاویہ سے جنگ کروں یہی لوگ مجھے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر معاویہ کو دے دیں ۔(جلاءالعیون ،ج1،ص379،عباسی بک ایجنسی لکھنو انڈیا)
اللہ اکبر ! کیا اب بھی کوئی شک و شبہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اہل بیت کے قتل سے بری ہیں اور ان کو قتل کرنے والے ان کا مال و اسباب لوٹنے والے یہی شیعہ بدبخت ہیں ۔وما علینا الا البلغ المبین
(مولوی )ساجد خان نقشبندی
خادم الطلباءجامعہ انوار القرآن
16محرم الحرام 1437ھ یوم الجمعة

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔