منگل، 6 اکتوبر، 2015

ملفوظات حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ پر اعتراض کا جواب

ملفوظات حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ پر اعتراض کا جواب
حضرت علامہ ساجد خان نقشبندی حفظہ اللہ
 رضاخانی حضرات کی طرف سے ملفوظات پر ایک اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں ہے کہ:
 عوام کا اعتقاد ہے ہی کیا چیز ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس اعتقاد کی ایک  مثال بیان فرمایا کرتے تھے ہے تو فحش مگر بالکل چسپاں فرمایا کرتے تھے کہ عوام کی عقیدے کی بالکل ایسی حالت ہے کہ جیسے گدھے کا عضو مخصوص بڑھے تو بڑھتا ہی چلا جائے اور جب غائب ہو تو بالکل پتہ ہی نہیں ۔واقعی عجیب مثا ل ہے۔
 (ملفوظات ،جلد ۳ ،ص ۲۹۲)
 اس ملفوظ پر اعتراض کرنا بھی ان کی حماقت اور جہالت ہے اس لئے کہ اولا یہ عبارت ملفوظات کی ہے اور ملفوظات رضاخانیوں کے نزدیک معتبر نہیں ہوتے (بحوالہ عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ،جلد اول ،ص ۱۹۵،۱۹۶)
 پس جب خود تمہارے اصول کے تحت کسی بزرگ سے منسوب ملفوظات معتبر نہیں ہوتے اس لئے ان سے استدلال جائز نہیں تو اہلحق پر تبرا کرنے کیلئے اپنے ہی قائم کردہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے آپ لوگوں کو حیاء نہیں آتی۔۔۔؟؟؟
 حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ملفوظ میں خود اس کی تصریح کی ہے کہ یہ مثال ہے تو فحش مگر صرف سمجھانے کیلئے اس کا ذکر کیا کہ عوام کے اعتقاد میں افراط و تفریط بہت زیادہ ہوتا ہے کسی چیز کو بڑھائیں تو غلو کی حد تک چلے جائیں اور جب کسی چیز کو گھٹانا چاہیں تو حد سے زیادہ تفریط کردیتے ہیں ۔
 اس طرح کی مثالیں خو د رضاخانی لٹریچر میں بھی ملتی ہیں چنانچہ رضاخانی شمس الدین خواجہ شمس الدین سیالوی اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ:
 کنوارے لوگ خیال کرتے ہیں کہ عورت کے دونوں رانوں کے درمیان گویا رس سے بھرا شہد کا چھتہ ہے ۔لیکن جب ان کی شادی ہوجاتی ہے تو چلا اٹھتے ہیں کہ ہر گز نہیں یہ تو بھڑوں کا چھتہ ہے ۔
(مراۃ العاشقین ،ص ۱۷۱)
 اب رضاخانی جواب دیں کہ ان کے خواجہ صاحب کس لطیف پیرائے میں اپنے مریدین کی اخلاقی تربیت کررہے ہیں کیا یہ بے ہودگی نہیں ۔۔۔؟؟؟ان بے غیرتوں نے حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بدبودار عنوان لگایا کہ ‘‘اشرف علی تھانوی کا آلہ تناسل’’ تو کیا رضاخانی اپنی بے غیرتی کا یہاں بھی مظاہرہ کرتے ہوئے اس حوالے کی ویڈیو بناکر یہ عنوان دیں گے کہ:
‘‘شمس الدین سیالوی کے گھر والوں کی فرجیں رس بھرے شہد کے چھتے ہوتے تھے’’
 اور کیا ان کا یہ پیر بھی سارا دن عورتوں کی فرجوں کا مشاہدہ کرتا تھا ان کی رانوں میں لیٹا رہتا تھا۔۔۔؟؟؟؟
 احمد رضاخان کے ہر سوانح نگار نے ان کی ایک کرامت کا مختلف انداز میں ذکر کیا کہ تین سال کی عمر میں رنڈیوں کو اپنا آلہ تناسل دکھاکر اس پر لیکچر دیا کرتے تھے ہر مصنف نے اس پر اپنے ذوق کے مطابق تبصرہ کیا مگر دارالعلوم امجدیہ والوں نے تو کمال کردیا ان کے رسالے کا ایک مصنف پردے کی شرعی حیثیت کا عنوان دیتا ہے اور اس کے تحت احمد رضاخان کی اس بے شرمی کا تذکرہ کرتا ہے کہ :
 اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ احمد رضاخان جن کی عمر ابھی چار برس تھی کہ آپ ایک بڑا کرتہ ٹخنوں تک پہنے ہوئے مکان سے باہر تشریف لائے سامنے سے چند عورتیں گذریں تو آپ نے فورا کرتے کا اگلا دامن دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر اپنے چہرے پر ڈال لیا ۔۔۔الخ
(رفیق علم ، ص۵۷ ،بابت ۲۰۰۱،۲۰۰۲)
 تمہارا باپ احمد رضاخان اپنا آلہ تناسل نکال کر محلے کی عورتوں کو اس کا مشاہدہ کرائے تو یہ تم جیسے بے غیرتوں کے نزدیک پردے کی اہمیت بن جاتا ہے اور اگر حضرت تھانوی ایک مسئلہ کو سمجھانے کیلئے ایک مثال نقل کریں تو تم کو اس پر اعتراض ہوتا ہے ۔۔۔
شرم۔۔۔شرم۔۔۔شرم
 بخاری شریف اور مسلم شریف میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نے ایک مسئلہ سمجھانے کیلئے اپنے ہاتھ سے آلہ تناسل کا نقشہ بناکر اس کی صورت لوگوں کو سمجھائی (بخاری ،ج۲، ص۱۰۹۵)اسی طرح رفاعہ قرظی ؓ نے اپنے خاوند کی نامردی کا ذکر نبی کریم ﷺ کے سامنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی مجلس میں اپنے کپڑے کے پھندے سے کھینچ کا اس کا نقشہ بناکر بتایا کہ ان کے شوہر کا آلہ تناسل اس جھالر کی مانند ہے (بخاری ج۲، ص ۷۹۱)۔۔۔رضاخانیوں میں اگر رتی برابر غیرت ہے تو بنائیں ان حدیثوں پر بھی ایک عدد ویڈیوں یا اس جہالت پر کسی گندے نالے میں ڈوب مریں ۔
 ٭ قال جابر و لم یعزم علیہم و لکن احلھن لھم فبلغہ  انا نقول لما لم یکن بیننا و بین عرفۃ الا خمس امرنا ان نحل الی نسائنا فناتی عرفۃ تقطر مذاکیرنا المذی قال و یقول جابر بیدہ ھکذا و حرکھا (بخاری ،ج۲، ص۱۰۹۵)
 ٭ ان امراۃ رفاعۃ القرظی جائت الی رسول اللہ ﷺ فقالت یا رسول اللہ ان رفاعۃ طلقنی فبت طلاقی و انی نکحت بعدہ عبد الرحمن الزبیر القرظی و انما معہ مثل الھدبۃ (بخاری ج۲، ص ۷۹۱)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔