جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

فضائل صدقات پر جاہلانہ اعتراض کا منہ توڑ جواب

رضاخانی مسیلمی ملاؤں کی طرف سے فضائل صدقات پر جاہلانہ اعتراض کا منہ توڑ جواب

اعتراض:رضاخانیوں کی طرف سے فضائل صدقات ص ۴۰۷ کی ایک عبارت جو ان الفاظ کے ساتھ ہے :


’’پس زیادہ عرض کرنا گستاخی اور شوخ چشمی ہے یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا میں جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل (سایہ) ہے تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں وہ جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے ‘‘۔

پر اعتراض کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ شرک ہے اور اللہ کی توہین پر مبنی ہے ۔معاذ اللہ۔


جواب: قارئین کرام ! دیکھئے مولوی صاحب نے اپنی جہالت اور علماء دیوبند کے ساتھ عداوت کا ثبوت دیتے ہوئے کتنا بڑا فتوی لگایا افسوس تو یہ کہ جن لوگوں کی ساری زندگیاں شرک کی تعلیمات دیتے ہوئے گزر گئی ہیں یہ اعتراض ان کی طرف سے کیا جارہا ہے :

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازی پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا
قارئین کرام ! دیکھئے مولوی صاحب نے اپنی آخرت سے بے خوف ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے لیے قطب الارشاد حضرت گنگوہی اور حضرت شیخ رحمہما اللہ پر کتنا بڑا الزام لگایا کہ وہ اپنے وجود اور ذات کواور اللہ تعالیٰ کے وجود وذات کو ایک ہی سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے جو حضرت گنگوہی اور حضرت شیخ رحمہما اللہ کے ذمہ لگایا ہے ۔ حالانکہ یہ حضرات اس قسم کے غلط عقیدہ سے پاک ہیں، ان حضرات کی اپنی عبارات میں انشاء اللہ آئندہ صفحات میں تحریر کی جائیں گی ۔
اس عبارت کو سمجھنے میں جو غلط فہمی مولوی صاحب کو ہوئی ہے اس پر جتنا بھی رویا جائے اتنا کم ہے۔ جو بے چارہ اردو عبارت کے سمجھنے سے قاصر ہو وہ علامۃ الدھر بن کر حضرت گنگوہیؒ جیسی شخصیت پر جھوٹے الزام لگانے کی جرأت کیسے کرتا ہے۔ اس عبارت میں مولوی صاحب کو شرک نظر آتا ہے حالانکہ اس عبارت میں جو توحید بیان کی گئی ہے وہ تحسین کے قابل ہے ۔
اس عبارت میں ’’ میں اور تو خود شرک در شرک ہے ‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اے اللہ یہ سب تیرا ہی کرم ہے اور مہربانی ہے اور یہ سب تیری توفیق سے ہے اگر میں اپنا ذاتی کمال سمجھوں تو یہ آپ کے ساتھ شریک ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ آپ کا کوئی شریک نہیں اس لیے میں کچھ نہیں ہوں میرا کوئی کمال نہیں ہے تو لہٰذا اگر میں یہ کہوں کہ اے اللہ تعالیٰ !میں اور تو پھر یہ شرک در شرک ہے۔
مولوی صاحب آپ نے جو عبارت نقل کی ہے کیا اس میں یہ عبارت آپ کو نظر نہیں آرہی ہے کہ یا اللہ معاف فرمانا میں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل ہے تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں۔ اس عبارت میں تو صاف صراحت کے ساتھ حضرت نے اپنے وجود کی نفی کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے وجود اور کمال کو ثابت کیا ہے ۔
اس عبارت کو سمجھنے اور مزید وضاحت کے لیے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی اپنی کتاب امداد السلوک میں سے چند عبارات ملاحظہ کیجئے :
عبارت اول :
بندہ وحق تعالیٰ میں وصال کے بس یہی معنی ہیں کے غیر خدا تعالیٰ سے انقطاع حاصل ہو کر حق تعالیٰ شانہ میں محویت ہوجائے نہ جیسا کہ بعض ملحدوں نے سمجھ لیا اور دنیا کی دو چیزوں کے باہم مل جانے پرخدا تعالیٰ اور بندے کے اتصال کو قیاس کرکے مرتد بن گئے ،سو خدا پناہ میں رکھے اتصال حق کو ایسا سمجھنا کفر ہے ۔
عبارت دوم :
تمام اشیاء کا وجود اللہ تعالیٰ کے وجود پاک کے سامنے بجھا ہوا ہوگا چنانچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’کل شیء ہالک الا وجہہ‘‘ ہر چیز ہلاک ہوجائے گی بجز حق تعالیٰ کی ذات پاک کے ۔ (ص۱۰۳)
عبارت سوم :
اور رب تعالیٰ کی ذات پاک کا اثبات کرے اور قلب کو پوری طرح پر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرے یہاں تک کہ اس کلمہ کے حاصل معنی یہ ہوں کہ کوئی چیز بھی موجود نہیں
بجز حق تعالیٰ کی ذات پاک کے (امداد السلوک ص۱۰۷)
عبارت چہارم:
لاالٰہ میں خواطر کی نفی کرے اور الااللہ سے موجود حقیقی کو ثابت کرے نہیں ہے کوئی معبود ، مقصودمطلوب اور موجود بجز اللہ تعالیٰ کے ( ص۱۱۴)
عبارت پنجم:
اصل توحید یہ ہے کہ معدوم وفانی کو ساقط کرے اور باقی ولا یزال کا اثبات کرے۔
حضرت جنید رحمہ اللہ سے کسی نے کہا کہ حق تعالیٰ کی صفات بیان کیجئے تو انہوں نے فرمایا’’ ہو بلا ہو لا ہو الا ہو‘‘ یعنی وہ ہے بغیر ا سکے کہ اشارہ کو بھی دخل نہیں اور نہیں ہے وہ مگر وہی ۔
توحید نام ہے قدیم اور حادث میں تمیز کرنے اور حادث سے منہ پھیرنے اور قدیم کی طرف ہمہ تن اتنا متوجہ ہوجائے کہ اپنی توجہ میں اپنے آپ کو بھی موجود نہ پائے اور اگر حالت توحید میں اپنے نفس کو بھی سمجھا تو وہ صاحب توحید کیا رہا وہ تو صاحب تثنیہ ہوا۔ (ص۱۶۵)
عبارت ششم :
اور یہ جو وصال کے معنی بعض نے سمجھ لیے کہ بندوں کی ذات حق تعالیٰ کی ذات سے متصل ہوجائے تو یہ زندقہ والحاد ہے حق تعالیٰ پناہ میں رکھے وہ اس اتصال سے بہت بالاتر ہے ۔ (ص۱۷۵)
عبارت ہفتم :
شیطان اکثر جاہلوں کو حلول کے عقیدے میں ڈال دیتا ہے۔ (ص۲۱۲) اور کبھی ایسا پیش آتا ہے کہ صرف ایسے مقام پر پہنچتا ہے کہ جس چیز پر نظرڈالتا ہے خدا تعالیٰ ہی کو پاتا ہے اور یہ مشاہدہ معرفت ہوتا ہے ۔
اور اسی جگہ سے یہ قول مستنبط ہے کہ جس چیز کو بھی میں نے دیکھا خدا تعالیٰ کو پایا پس جب ایسا معاملہ پیش آتا ہے تو اعتقاد کرلیتا ہے کہ حق تعالیٰ ساری چیزوں میں حلول کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے اور اس خرابی سے نجات کی صورت یہ ہے کہ یقین کے ساتھ یہ بات جانے کہ یہ عظمت وکبریائی کاحجاب ہے ہر جگہ دکھائی دیتا ہے اور ظاہراً حق تعالیٰ تمام اشیاء کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر شیء کے ساتھ قرب اور معیت رکھتا ہے اور ذرہ برابر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور باوجود اس کے حق تعالیٰ سب سے جداہے اور مخلوق اس سے مباین ہے ۔
آخری عبارت :
آخری فیصلہ کن عبارت ملاحظہ کیجئے :
حضرت رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اعتقاد صحیح وہ ہے جو صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین کے عقائد کے مطابق ہو اور حق تعالیٰ کے نعوذ باللہ معطل ہونے اور الحاد تشبہ جسمیت وحلول اور اتحاد وغیرہ ان خرافات سے خالی ہو جو بدعتیوں اور اہل ہویٰ کی من گھڑت ہیں۔ ( ص۱۶۱)
اس اشکال کا جواب حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی نور اللہ مرقدہ اور حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالی کی عبارت کی روشنی میں تحریر کرتا ہوں ۔
حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانویؒ :
دراصل ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے یہ لکھا ہے تو چاہت یہ ہے کہ انہی کے الفاظ ذکر کروں چنانچہ مفتی صاحب فرماتے ہیں :
’’ہمہ اوست ‘‘ مسئلہ وحدت الوجود کا ایک عنوان ہے جیسے کہ اصطلاح
صوفیہ میں توحید عینیت ، مظہریت وغیرہ بھی اسی مسئلہ کے مختلف عنوان ہیں ۔حاصل اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود کامل ہے اور اس کے مقابلہ میں تمام ممکنات کا وجود اتنا ناقص ہے کہ کالعدم ہے ، عام محاورہ میں کامل کے مقابلے میں ناقص کو معدوم سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے کسی بہت بڑے علامہ کے مقابلے میں معمولی تعلیم یافتہ کو یا کسی مشہور پہلوان کے مقابلے میں معمولی شخص کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں، حالانکہ اس کی ذات اور صفات موجود ہیں مگر کامل کے مقابلے میں انہیں معدوم قراردیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وجود کامل کے سامنے تمام مخلوق کے وجود کو حضرات صوفیہ معدوم قرار دیتے ہیں حضرت شیخ سعدی نے دو مثالوں سے اس کی خوب وضاحت فرمائی ہے ۔
ارشاد ہے ؂
مگر دیدہ باشی کہ در باغ وراغ

بتابد بشب کرمکے چوں چراغ
یکے گفتیش اے مرغک شب فروز

چہ بودت کہ بیروں ینائی بروز
ببتیں کاتشیں کرمک خاک زاد

جواب از سرروشنائی چہ داد
کہ من روز وشب جز بصحرا نیم

ولے پیش خورشید پیدا نیم
دوسری مثال میں بیان فرماتے ہیں:
یکے قطرہ از ابرنیساں چکید

بخل شدہ چو پہنائے دریا بدید
کہ جائیکہ دریاست پن کیستم

گر اوپست حقا کہ من نیستم
ہمہ پرچہ پستند ازاں کمترند

کہ باپستیش نامِ ہستی برند
تقریر بالا سے معلوم ہوا کہ وحدۃ الوجود کے یہ معنی نہیں کہ سب ممکنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے وجود سے متحد ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وجود کامل صرف واحد ہے بقیہ موجودات کالعدم ہیں ’’ہمہ اوست‘‘ کا بھی یہی مفہوم ہے جیسے کہ کوئی بادشاہ کے دربار میں درخواست کرے بادشاہ اسے چھوٹے حکام کی طرف رجوع کا مشورہ دے اور یہ جواب دے کہ حضور آپ ہی سب کچھ ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب حکام آپ سے متحد ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے سب حکام کالعدم ہیں۔
اسی طرح عینیت اصطلاح صوفیہ میں بمعنی احتیاج کے ہے، اس معنی سے جملہ مخلوق عین خالق ہے یعنی اس کی محتاج ہے پھر کبھی عینیت میں یہ قید لگادیتے ہیں کہ اس احتیاج کی معرفت بھی ہو اس معنی سے صرف عارف کے لیے عینیت ثابت کرتے ہیں پھر بعض اوقات ایک قید مزید بڑھادیتے ہیں کہ اس معرفت میں اس قدر استغراق ہو کہ جملہ حقوق حتیٰ کہ اپنی ذات کی طرف بھی التفات نہ رہے، وبہٰذا المعنی، قال العارف الرومی رحمہ اللہ تعالیٰ ؂
آں یکے را روئے اوشد سوئے دوست
ویں یکے را روئے او خود روئے دوست
جاہل صوفیوں کے فتنہ سے امت کی حفاظت کے لیے اہل ارشاد نے وحدت الوجود کی اصطلاح کو وحدت الشہود سے بدل دیا ہے، اس میں فتنہ کا خطر ہ نہیں کیونکہ اس میں غیر کے وجود کی نفی نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جملہ موجودات میں سے شہود اور التفات صرف ایک ذات کی طرف ہے، واللہ اعلم بالصواب (احسن الفتاویٰ ج۱ ص۵۵۳)
حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالی:
اسی طرح وحدت الوجود کے مسئلے میں حضرت مفتی صاحب زید مجدہ فرماتے ہیں کہ وحدۃ الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذات باری تعالیٰ کا ہے اس کے سوا ہر وجود بے ثبات، فانی اور نامکمل ہے ایک تو اس لیے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہوجائے گا۔
دوسرا اس لیے کہ ہر شئے اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالیٰ کی محتاج ہے، لہٰذا جتنی اشیاء اس کائنات میں نظر آتی ہیں انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے
لیکن اللہ تعالیٰ کے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں اس لیے وہ کالعدم ہے۔
اس کی نظیر یوں سمجھئے جیسے دن کے وقت آسمان پر سورج موجود ہونے کی وجہ سے ستارے نظر نہیں آتے وہ اگرچہ موجود ہیں لیکن سورج کا وجود ان پر اس طرح غالب ہوجاتا ہے کہ ان کا وجود نظر نہیں آتا۔ (فتاویٰ عثمانی ج۱ ص۶۶)
اس طرح کی تفصیل حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانویؒ صاحب نے شریعت وطریقت (ص۳۱۰) میں فرمائی ہے، وہاں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔