جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

اعتراض:کعبہ معظمہ کے متعلق دیوبندی عقائد


(اعتراض نمبر ۱۴):کعبہ معظمہ کے متعلق دیوبندی عقائد
استنجا کرتے وقت کعبہ کی طرف پیٹھ کرنا جائز ہے ۔نعوذ باللہ
یہ عنوا ن قائم کرکے رضاخانی لکھتا ہے:


سوال : استنجا ء کرنا یعنی آبدست لینا قبلہ کی طرف منہ یا پشت کرکے کیساہے ۔
جواب : چونکہ کوئی دلیل نہی کی نہیں ہے اس لئے جائز ہے ۔ ( امداد الفتاوی ،ج،ص،طبع کراچی )
(دیوبندیت کے بطلان کاانکشاف،ص)
جواب : اول تو رضاخانی مولوی کہ جہالت اور فقہی بصیرت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ فرعی مسائل وہ بھی اختلافی کو ’’عقائد ‘‘ کا درجہ دے کر عقائد کے باب میں بیان کررہا ہے جس جاہل کو عقائد و فروعات کا علم نہیں وہ اگر اکابر علماء دیوبند پر اعتراض نہ کرے تو کیا کرے ؟سچ کہا کسی نے کہ احمد رضاخان جاہلوں کے پیشوا تھا (فاضل بریلوی اور ترک موالات ،ص)
استنجاء کے وقت قبلہ رو ہونے کے بارے میں تفصیل
پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ رو ہونا یعنی اس کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا احناف کے ہاں مکروہ تحریمی ہے چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں :
ان النبی ﷺ قال اذا اتیتم الغائط فلا تستقبلوا القبلۃ والا تستدبروھا ببول و لا بغائط و لکن شرقوا او غربوا
جب تم بیت الخلاء میں جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو پیشاب کرتے ہوئے پاخانہ کرتے ہوئے لیکن مشرق و مغرب کی طرف منہ کرو۔
مگر دیگر آئمہ نے اس میں اختلاف کیا ہے امام نووی شافعی رحمہ اللہ علیہ نے کل ’’چار مذاہب ‘‘ بیان کئے ہیں ۔
* پہلا مذہب امام شافعی ؒ کا ان کے نزدیک صحرآء ( کھلی فضاء ) میں تو قبلہ رو ہونا حرام ہے البتہ بنیان (گھر چار دیواری بیت الخلاء وغیرہ ) میں جائز ہے اور یہی قول حضرت ابن عباس ،ؓ حضرت عبد اللہ بن عمر ،حضرت شعبی ، حضرت امام مالک ،امام اسحق اور امام احمد بن حنبل ( کا ایک قول ) رضی اللہ عنہم و رحمہ اللہ علیہم اجمعین کا ہے۔
* آگے چل کر تیسرا مذہب وہ بیان کرتے ہیں کہ گھر میں اور صحرآء دونوں میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے اور یہ قول صحابی رسول ﷺ حضرت عرو ہ بن زبیرؓ و ربیعہ ؒ اور داؤد ظاہری کا ہے۔
مذاہب العلماء فی استقبال القبلۃ واستدبارھا ببول او غائط ھی اربعۃ مذاہب احدھا مذہب الشافعی ان ذالک حرام فی الصحرآء جائز فی البنیان علی ما سبق و ھذا قول العباس ابن عبد المطلب و عبد اللہ بن عمر والشعبی و مالک و اسحاق و روایۃ عن احمد ۔۔۔والثالث یجوز ذالک فی البناء والصحرآء وھو قول عروۃ بن الزبیر و ربیعۃ و داؤد الظاہری ‘‘۔(المجموع شرح المھذب ،ج،2ص95،مکتبۃ الارشاد ،الریاض )
اب اس رضاخانی جاہل اجہل مولوی کی الٹی عقل اور غلط فتوے کی رو سے معاذ اللہ یہ تمام صحابہ ،علماء مجتہدین جن میں حضور ﷺ کے چچا جان بھی شامل ہیں کیا یہ سب معاذ اللہ گستاخ ہیں ؟اگر رضاخانی مولوی نے ’’المجموع شرح المھذب ‘‘ کا نام پہلی بار سنا ہے تو کسی دیوبندی مکتبے سے قدیمی کتب خانہ کی چھپی ہوئی ’’مسلم شریف ‘‘ لے کر اس کاحاشیہ پر چھپی ہوئی شرح مسلم اس کی جلد اول ،ص،باب الاستطابۃ کھول کر کسی دیوبندی دورہ حدیث کے طالب علم سے اس باب کے تحت علامہ نووی کی شرح پڑھے اس میں ان تمام مذاہب کا بالتفصیل مع الدلائل ذکر موجود ہے۔مجھے حیرت ہے کہ کاشف اقبال رضاخانی کی اس کتاب پر تقریظ لکھنے والے نام نہاد محدثین و شیخ الحوالہ جات ( کوئی ان جہلاء عصر سے پوچھے کہ یہ شیخ الحوالہ جات کونسا معجون مرکب ہے اور اس کی ترکیبِ بریلوی کیا ہوگی ؟)کو پاکی ناپاکی استنجاء کے بنیادی مسائل ہی کا پتہ نہیں جنہیں فروعی اختلاف کا علم نہیں وہ دیوبندی بریلوی اختلافات پر قلم اٹھارہے ہیں ۔شرم شرم شرم۔
امداد الفتاوی کا مسئلہ
رہا امداد الفتاوی کا حوالہ اور فتوی تو اس میں بھی اس خائن نے بدترین خیانت کا مظاہرہ کیا ہے اس لئے کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ؒ نے اپنے اس فتوے سے رجوع فرمالیا تھا چنانچہ اسی صفحہ پر ہے :
’’مگر نہ کرنا موجب ثواب ہے کما فی المنیۃ ان ترکہ ادب الخ شامی ج اول ،ص، 353بعد میں معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کو ان مسائل میں درج کیا گیا ہے جن کے متعلق مشائخ پر بعض علماء نے تنبیہ فرمائی ہے شان کعبہ و قبلہ را مد نظر داشتہ کہ عین مقصود اہل اسلام است ضروری بود کہ جواب ایں طور داند ترک ادب است نباید کرد ‘‘۔ ( امداد الفتاوی ،ج،1ص،141)
(ترجمہ عبارت فارسی :قبلہ و کعبہ کی شان کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ عین مقصود اہل اسلام ہے ضروری ہے اکہ جواب اس طرح دیا جائے کہ ترک ادب ہے (قبلہ رو )نہیں کرنا چاہئے۔)
پھر حضرت کا یہ فتوی صرف ’’استنجاء ‘‘ کرنے کے متعلق ہے قبلہ رو ہوکر پیشاب یا پاخانہ کے متعلق نہیں ہے۔کیونکہ اس کے متعلق تو خود لکھا ہے :
پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا اور پیٹھ کر منع ہے ‘‘۔ ( بہشتی زیور ،ص،124حصہ دوم )
امداد الفتاوی کا یہ فتوی صرف آبدست خالی استنجاء کرنے کے متعلق ہے اور استنجاء کرتے وقت (نہ کہ پیشاب پاخانہ )قبلہ کی طرف منہ کرنا احناف کے نزدیک ’’مکروہ تنزیہی ‘‘ اور اس میں بھی اختلاف ہے چنانچہ علامہ تمرتاشی ؒ کے نزدیک بلاکراہت جائز ہے ۔یعنی جو فتوی مولانا تھانوی ؒ نے دیا تھا بعینہ وہی فتوی علامہ تمرتاشی ؒ کا ہے :
من آداب الاستنجاء عند الحنفیۃ ان یجلس لہ الی الیمین القبلۃ او یسارھا کی لا یستقبل القبلۃ او یستدبرھا حال کشف العورۃ فاستقبال القبلہ او استدبارھاحالۃ الاستنجاء ترک ادب وھو مکروہ کراھۃ تنزیہ کما فی مد الرجال الیھا و قال ابن نجیم اختلف الحنفیہ فی ذالک واختار التمرتاشی انہ لا یکرہ و ھذا بخلاف التبول او التغوط الیھافھو عندھم محرم ( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ،ج،4ص124)
و قال العلامۃ القاری :قال علمائنا الاستقبال لھما کراھۃ تحریم وللاستنجاء کراھۃ تنزیہ
( مرقاۃ المفاتیح ،ج2،ص49)
الحمد للہ یہ علماء دیوبند کا فیضان علم ہے کاشف صاحب آپ جیسے نالائق لوگ تو اس راقم کے شاگرد بننے کے بھی قابل نہیں جنہیں پاکی ناپاکی کے ابتدائی مسائل اور اسنتجاء کے اداب سے بھی واقفیت نہیں اور بنے پھرتے ہیں مناظر۔
’’بریلوی شیخ الحدیث مولوی غلام رسول سعیدی لکھتا ہے :جن فقہاء نے قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کو مطلقا جائز کہا ‘‘۔ ( شرح مسلم ،جلد اول ،ص939)
کاشف اقبال رضاخانی صاحب آپ جس بات کو گستاخی سمجھ رہے ہیں اس کو جائز کہنے والوں کو آپ کا شیخ الحدیث ’’فقہاء ‘‘ شمار کررہا ہے کیا آپ کے مذہب میں فقہاء معاذ اللہ گستاخ ہوتے ہیں جواب دیں آپ میں اور غیر مقلدین میں کیا فرق ہے ؟جب بات فیضان علوم دیوبند کی آہی گئی تو یہ بھی عرض کردوں کہ امام شافعی ؒ کے نزدیک ممنوعیت استقبال و استدبار کی اصل حلت احترام کعبہ نہیں ’’احترام مصلین ‘‘ ہے گویا امام شافعی ؒ نے تو اس بدبخت کے فتوے کی رو سے بالکل فارغ ہوگئے جبکہ احناف کے نزدیک اصل علت ’’احترام قبلہ ‘‘ ہے یہی وجہ ہے کہ احناف کے ہاں صحرآء و سنڈاس دونوں میں قبلہ رو ہونا ممنوع ہے جبکہ شوافع کے نزدیک صحرآء میں تو ممنوع ہے کہ وہاں امکان ہے کہ جنات یا ملائکہ نماز پڑ ھ رہے ہوں جوکہ ہمیں نظر نہیں آتے اور بیت الخلاء میں چونکہ اسکا امکان نہیں اس لئے مکروہ تحریمی بھی نہیں۔شکر ہے کہ اس قسم کے جہلاء امام شافعی ؒ کے دور میں پیدا نہیں ہوئے ورنہ ان کے خلاف بھی ’’خانہ کعبہ کے متعلق شوافع کے عقائد‘‘ نامی ایک رسالہ لکھ دیتے ۔
’’رضاخانی مولوی غلام مہر علی تو لکھتا ہے :’’ایسے فتوے دے کر شعائر اللہ کی بے ادبی کرنا یہ دیوبندیوں ہی کا مذہب ہے ‘‘۔
(دیوبندی مذہب،ص208)
تو ہمت کرو اب اور ان اکابر بشمول صحابہ پر بھی معاذ اللہ فتوی بے ادبی لگاؤ خارجیوں ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔