جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

مرثیہ گنگوہی پر اعتراضات کے مدلل جوابات

مرثیہ گنگوہی پر اعتراضات کے مدلل جوابات

پہلااعتراض: خدان ان کا مربی وہ مربی تھے خلائق کے
میرے مولی میرے ہادی تھے بے شک شیخ ربانی
(مرثیہ ص ۹)
مربی تو رب ہے اس شعر میں مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو مربی کہا گویاتم اپنے بڑوں کو رب العالمین سمجھتے ہو (معاذ اللہ)
جواب:
افسوس کہ رضاخانی حضرات اس شعر پر اعتراض کرنے سے پہلے کسی اچھے سے پرائمری اسکول میں اردو پڑھ کر وہاں پڑھ لیتے کہ اردو محاروں میں ’’مربی ‘‘ کا لفظ کن کن معنوں میں مستعمل ہوتا ہے تو انھیں اس شعر پر اس طرح کے جاہلانہ اعتراض ہر گز سہ سوجتے۔قریبا تمام اردو لغات میں مربی کا معنی ’’مہذب بنانا ‘‘ ، پرورش کرنا ، کسی سے حسن سلوک کرنا ،سرپرست،اس کی روحانی یا جسمانی تربیت کرنا کے لکھے ہوئے ہیں۔یہاں بھی حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو مربی اس معنی میں کہا جارہا ہے کہ آپ ہمارے سرپرست تھے اور ہماری باطنی اور روحانی تربیت آپ ہی نے انجام دی گویا آپ ہمارے مربی یعنی تربیت کرنے والے تھے۔قرآ ن پاک کی آیت وَ قُلْ رَبِّ اْرْ حَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِےْراً (پارہ ۵ ۱ بنی اسرائیل ۲۴) اس آیت کا ترجمہ احمد رضاخان یوں کرتا ہے کہ ’’اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن(بچپن) میں پالا۔
یہاں ماں باپ کیلئے ’’رب‘‘ کا لفظ خود قرآن کریم میں استعمال ہوا اور اس کا معنی احمد رضاخان نے پرورش ،پالنے کے کئے پس یہی معنی شعر میں مربی کا ہے۔
مخلوق کیلئے مربی کا لفظ استعمال کرنے پر بریلوی اکابرین کے حوالے
پہلا حوالہ:مفتی احمد یار گجراتی سورہ یوسف آیت ۴۱ میں ربک کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
اس سے معلوم ہوا کہ بند ے کو رب کہہ سکتے ہیں یعنی مربی اور پرور ش کرنے والا (نور العرفان ،ص ۲۸۹)
دوسرا حوالہ:اِنَّہ‘ رَبِّیْ اَحْسَنَِ مَثْوَایَ اِنَّہ‘ لاَیُفْلِحُ الظَّلِمُوْنَ کی تفسیر میں احمد یار گجراتی لکھتے ہیں:
ظاہر یہ ہے کہ انہ کی ضمیر عزیزمصر کی طرف لوٹتی ہے اور رب بمعنی مربی ہے،قرآن کریم نے پرورش کرنے والوں کو کئی جگہ رب فرمایا ہے ۔(نور العرفان ، ص۲۸۶)
تیسرا حوالہ:قَالَ مَعَاذَ اللّٰہ اِنَّہ‘ رَبِّیْ اَحْسَنَِ مَثْوَایَ اِنَّہ‘ لاَیُفْلِحُ الظَّلِمُوْنَ۔۔خدا کی پناہ وہ میرا مربی ہے اس کے مجھ پر احسانات ہیں ایسی حرکت ظلم ہے اور ظالم کامیاب نہیں۔(جاء الحق ،ص ۴۴۶,ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
چوتھا حوالہ:یہی محد ث اعظم ہند الحاج الشاہ سید محمد اشرفی الجیلانی کھچوچھوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں آج میں آپ کو جگ بیتی نہیں بلکہ آپ بیتی سنا رہا ہوں کہ جب تکمیل درس نظامی و تکمیل درس حدیث کے بعد میرے مربیوں نے کارانتہاء۔۔۔(تجلیات امام احمد رضا ص ۶۱، برکاتی پبلیکیشنز کراچی)
پانچواں حوالہ:اس وقت حنفیہ کا مربی و معاون میاں فضل الٰہی تھا۔ (ملفوظات مہریہ ص ۲۸،گولڑہ شریف اسلام آباد)
چھٹا حوالہ:لیکن ترتیب او ر نتائج دیکھنے کے بعد فورا مربی پر نظر پڑجاتی ہے کہ ایسی تربیت اور ایسے نتائج کا مربی او ر پھلتے پھولتے باغ کا مالی کون ہے اس لئے تیسرے حصہ میں مربی یعنی حضرت قبلہ عالم مرشد علیہ الرحمۃ کے عادات و اخلاق ،اوصاف و کمالا ت کا تفصیلا ذکر ہوگا۔
(انقلاب حقیقت ،ص ۷،از صاحبزادہ عمر بیربل شریف،ادارہ تصوف بیر بل شریف)
ساتواں حوالہ:اس وقت صرف اپنے مربی اور محسن کی یاد نے مجھے بے اختیار کردیا ( انقلاب حقیقت ص ۴) یہاں مربی سے مصنف کی مرادحضرت میاں شیر محمد شرقپوری صاحب ہیں۔
آٹھواں حوالہ:مربی کے سینے کے انوار مرید کے سینے میں ارادہ سے اور بے ارادہ آتے ہیں۔(انقلاب حقیقت ص۱۹)
نواں حوالہ:جو نصف خام حالت میں اپنے مربی درخت سے الگ ہوکر بازار میں بکنے جاتے ہیں (انقلاب حقیقت ص ۲۴۸)
دسواں حوالہ:مہربان قدرت نے خواجہ صاحب کے داغ یتیمی کی تلافی کیلئے ان کو ایسی فطرت بخشی جو ان کے جوان و کامران مستقبل کی مربی و محافظ ثابت ہوئی (ھو المعظم ،ص ۲۴۱،اسلامک بک فاؤنڈیشن،لاہور )
تلک عشرۃ کاملۃ
اب ہم رضاخانی حضرات سے صرف یہی درخواست کریں گے کہ اگر آپ کے اندر واقعی انصاف و دیانت کا مادہ ہے تو اپنے اعتراض سے ہر گز رجوع نہ کریں بلکہ جتنی کتابیں آپ نے مرثیہ کے اس شعر پر اعتراض کرنے میں سیاہ کی اتنی نہیں تو کم سے کم ایک کتاب اپنے ان اکابرین کے مندرجہ بالا حوالہ جات پر بھی لکھ دیں اور برملا اس بات کا اعلان کریں کہ ہمارے ان بڑوں نے بھی اپنے پیروں کو رب اور مربی کہا جوکہ صرف رب العالمین کی صفت ہے لہٰذا یہ رب کے گستاخ خدا کے نافرمان ہیں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
دوسرا اعتراض: پھریں تھے کعبہ میں پوچھتے گنگوہی کا رستہ
جو رکھتے اپنے سینوں میں تھے ذو ق و شوق عرفانی
اس شعر میں حضرت گنگوہی کو کعبہ کہا گیا گویا تم حج پر جاکر بھی اپنے پیر کا طواف کرتے ہو اور اس کی طرف منہ کرنے نماز پڑھتے ہو۔
جواب:اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم فریضہ حج ادا کرنے گئے تو روانگی سے قبل ہمارے شیخ و مرشد کامل حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب تربیت فرمائی تھی کہ حج کے تمام ارکان کو سنت رسولﷺ کے مطابق ادا کرنا تاکہ حق تعالی شانہ تمہیں حج مبرور کا ثواب عطا فرمائے اور حج مبرور کا ثواب تب ملے گا جب حج کے تمام ارکان سنت نبوی ﷺ کے مطابق ادا کئے گئے ہوں گے۔تو ہم نے جب وہاں جاکر مقامات مقدسہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ارکان کو ادا کیا تو ہمیں اپنے مرشد حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آئی کہ انھوں نے اسی طرح حج کی ادائیگی کی تعلیم فرمائی تھی۔
احمد رضاخان کا حوالہ:
بیعت کے معنی بک جانے کے سبع سنابل شریف میں ہے کہ ایک صاحب کو سزائے موت کاحکم بادشاہ نے دیا جلاد نے تلوار کھینچی یہ اپنے شیخ کے مزار کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوگئے جلاد نے کہا اس وقت قبلہ کومنہ کرتے ہیں فرمایا تو اپنا کام کر میں نے قبلہ کی طرف منہ کرلیا ہے اور ہے بھی یہی بات کہ کعبہ قبلہ ہے جسم کا اور شیخ قبلہ ہے روح کا اس کا نام ارادت ہے اگر اس طرح صدق عقیدت کے ساتھ ایک دروازہ پکڑلے تو اس کو فیض ضرور آئے گا۔(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص ۱۸۹،فرید بک سٹال لاہور)
بریلوی حضرات اپنے اعلحضرت کے اس ملفوظ کی روشنی میں مرثیہ کے شعر کو خوب اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے کہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے یہی فرمایا کہ کعبہ جو قبلہ اجسام تھا وہاں گئے اور حاضری کا حق ادا کیا اس کے بعد اپنے سینے میں جو عرفانی ذوق اور روحانی شوق کے شعلے بھڑک رہے تھے اس کیلئے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف توجہ کو مبذول کیا ۔
احمد رضاخان کو قبلہ و کعبہ کہنا
حرم والوں نے مانا تم کو اپنا قبلہ و کعبہ جو قبلہ اہل قبلہ کا ہے وہ قبلہ نما تم ہو
عرب میں جاکے ان آنکھوں نے دیکھا جس کی صورت کو عجم کے واسطے لاریب و ہ قبلہ نما تم ہو
(مدائح اعلحضرت مع نغمۃ الروح ،ص ۳۰،رضوی کتب خانہ بریلی شریف،اشاعت اول)
سبع سنابل کا حوالہ:
ایک مرتبہ حضرت مخدوم جہانیاں کعبہ مبارکہ میں حاضر تھے آدھی رات کا وقت تھا اور کعبہ معظمہ آپ کو نظر نہ آتا تھا ۔عرض کیا یا الٰہی کعبہ نظر نہیںآیا۔ارشاد ہوا کہ کعبہ شیخ نصیرالدین محمود کے طواف کیلئے دہلی گیا ہوا ہے ۔آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ سبحان اللہ میں تو کعبہ کے طواف کو آؤں اور کعبہ خود ان کے طواف کو جائے ۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ میں بھی انہی کے طواف کو جاؤں چنانچہ آپ اس جگہ سے چل پڑے ۔(سبع سنابل ص ۱۶۴،حامد اینڈ کمپنی لاہور)
بریلویوں کو دوسروں پر اعتراض کرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لینی چاہئے جہاں حج کو چھوڑ کر اور کعبے کو چھوڑ کر اپنے پیروں کے طواف کئے جاتے ہیں۔
تیسرا اعتراض: مردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا
اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم
(مرثیہ ص ۳۳)
دیکھو یہاں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ علیہ کو تعریف کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا جارہا ہے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مردوں کو زندہ کرتے تھے۔
جواب:افسوس کہ رضاخانی اعتراض کرنے سے پہلے اردو محاورات اور تشبیہات کو ہی اچھی طرح سمجھ لیتے جس شخص کو عربی اردو محاورات کا تھوڑا بھی علم ہو وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مو ت و حیات کے لفظ ہدایت اور گمراہی ترقی و پستی کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔چنانچہ رب تعالی کا ارشاد ہے کہ :
لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحی من حی عن بینۃ (سورۃ الانفال آیت ۴۲)
تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔اس آیت میں مو ت و حیات سے مراد ہدایت و گمراہی ہے ۔ ہم اکثر اپنے جملے میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ فلاں قوم مردہ ہے فلاں قوم کے باسی واقعی زندہ ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ قوم پستی میں ہے اور بالکل مردوں کی طرح ہوچکی ہے او ر وہ قوم زندہ ہے اچھی حالت میں ہے۔تو اس شعر کا مطلب بھی یہی ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو گناہوں کی وجہ سے اپنی زندہ برباد کرچکے تھے او ر ان میں ایمان کا نور مردہ ہوچکا تھا حضر ت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو پستی سے نکالا اور دوبارہ ان کو زندہ کیا اور ان کو گمراہی کی موت سے نکال کر ہدایت کی زندگی کی طرف لائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ مردوں کو زندہ کرنا تھا برحق ہے مگر کاش کہ نبی کریم ﷺ کے اس ادنی امتی کی کرامت (جو راصل نبی ہی کا معجزہ ہوتاہے) بھی دیکھ لیتے جو گمراہی میں پڑے لوگوں کو ہدایت کی روشنی دکھا کر دوبارہ زندہ کررہا ہے ۔اس میں تقابل یا توہین ہرگز نہیں۔
بریلوی ذرا پنے گھر کی خبر بھی لے
احمد رضاخان بمقابلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام:
شفا بیمارت پاتے ہیں طفیل حضرت عیسیٰ
ہے زندہ کررہا ہے مردے خرام احمد رضاخان کا
(مدائح اعلحضرت ،ص ۲۵)
غور فرمائیں اس شعر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کس قدر توہین ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کے طفیل تو صرف بیمار شفا پاتے ہیں آؤ دیکھو احمد رضاخان کہ وہ تو پاوں کی ٹھوکر سے مردوں کو زندہ کردیتا ہے ۔بلکہ ایک رضاخانی نے تو اپنے پیر کی مدح سرائی میں اس سے بھی بڑ ھ کر گستاخی اور کہتا ہے کہ:
بر لا دوائے حضرت عیسیٰ بحمد اللہ
دریں اجمیر یک دارالشفاء کردہ ام پیدا
(دیوان محمدی ص ۹۰،مطبوعہ آستانہ عالیہ گڑھی شریف خانپور )
یعنی معاذ اللہ جو مریض حضر ت عیسیٰ علیہ السلا م ٹھیک نہ کرسکے اور ان کو لاعلاج قرار دے دیا ایسے مریضوں کیلئے ہم نے اجمیر میں ایک شفاء خانہ کھول دیا ہے وہ وہاں ہمارے پیر صاحب کے آستانے پر آئیں اور شفاء پائیں۔
چوتھا اعتراض: قبولیت اسے کہتے ہیں مقبول ایسے ہوتے ہیں
عبید سود کا ان کے لقب ہے یوسف ثانی
(مرثیہ ،ص ۹)
اس شعر میں حضرت گنگوہی ؒ کے کالے غلام کو حضرت یو سف علیہ السلام کا ثانی کہا گیا ہے جوان کی توہین ہے۔
جواب:اس شعر پر اعتراض بھی رضاخانیوں کی جہالت ہے اس لئے کہ اردو محاورات میں یوسف ثانی حسین و جمیل کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے خدام چونکہ حضرت کے فیض تربیت سے بہر یاب ہوکر واصل الی اللہ اور عارف باللہ ہوگئے تھے اور ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے اس لئے باوجود یہ کہ ان میں سے بعض کا رنگ بلالی تھا لیکن پھر بھی ذکر الٰہی کی برکت سے ان کے چہرے چمکتے تھے اور نورانی آنکھیں رکھنے والوں کو ان میں حسن و جمال ہی نظر آتا تھا ۔بریلوی ذرا اپنے گھر کی خبر لیں۔
احمد رضاخان کی طرف سے حضرت یوف علیہ السلام کی توہین
روئے یوسف سے فزوں تر حسن روئے شاہ ہے
پشت آئینہ نہ ہو انباز روئے آئینہ
(حدائق بخشش ،حصہ سوم ،ص ۶۴)
اس شعر میں کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا حسن حضرت یوسف علیہ السلام سے بھی فزوں تر یعنی زیادہ تھا آئینے کے سامنے والے حصہ کو شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا چہرہ کہا گیا اور پشت کو حضرت یوسف علیہ السلام کا تو دونوں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ،معاذ اللہ۔
یار گڑھی والے کا خود کو یوسف ؑ اور یعقوب ؑ کہنا:
یوسفم در چاہ من بدم نیز یعقوبم کہ گریاں من بدم
(دیوان محمدی ،ص ۱۵۸)
یعنی حضرت یوسف علیہ السلام جن کو کنویں میں پھینکا گیا تھا وہ میں ہی ہوں اور حضرت یعقوب علیہ السلان جو ان کی جدائی کے غم میں گریاں کرتے تھے وہ بھی میں ہی ہوں ۔معاذ اللہ۔
پانچواں اعتراض: وہ صدیق تھے وہ فاروق پھر کہے عجب کیا ہے
شہادت نے تہجد میں قدمبوسی کی گر ٹھانی ہے
اس شعر میں حضرت گنگوہی کو ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ کہا گیا ہے کیونکہ صدیق و فاروق ان کا لقب ہے۔
جواب:جاہل معترض کو چاہئے کہ وہ لغت اٹھاکر صدیق اور فاروق کے معنی دیکھے صدیق کا معی سچا اور فاروق کا معنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا اور بے شک حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے اندر یہ دونوں صفتیں موجود تھیں۔ذرا اپنے گھر کی خبر لو:
عیاں شان صدیقی تمہارے صدق و تقوی سے
کہوں اتقی نہ کیوں کہ خیر الاتقیاء تم ہو
(مدائح اعلحضرت ،ص ۳۰)
اتقی قرآن پاک میں حضرت صدیق اکبرؓ کی شان میں نازل ہوئے ہیں سیجنبھا الاتقی یوتی مالہ یتزکی۔ تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس آیت میں اتقی سے مراد حضرت صدیق اکبرؓ ہیں مگر یہ رضاخانی کہتا ہے کہ احمد رضاخان تو خیر الاتقیاء تھے اس لئے میں ان کو اتقی کہوں گا۔ایک اور شعر ملاحظہ ہو
جلال و ہیبت فاروق اعظم آپ سے ظاہر ۔۔۔اشدآء علی الکفار کے ہو سربسر مظہر
(مدائح اعلحضرت ،ص ۳۰)
غور فرمائیں مرثیہ کے شعر میں تو ٓصرف فاروق کا لفظ تھا یہاں تو صریح طور پر احمد رضاخان کو حضرت عمر فاروقؓ کے مقابلے میں لا کھڑا کردیا گیا۔اور اگلا شعر ملاحظہ فرمائیں قرآن پاک میں اشداء علی الکفار صحابہ کرامؓ کی شان بتلائی گئی مگر رضاخانیوں نے اللہ سے مقابلے کرتے ہوئے یہ آیت احمد رضاخان پر چسپاں کردی۔
چھٹا اعتراض: زباں پر اہل ہوا کی ہے کیوں اعل ہبل شاید
شائد اٹھا عالم سے کوئی بانی اسلام کا ثانی
(مرثیہ ،ص ۵)
اس شعر میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو اسلام کا بانی ثانی یعنی دوسرا محمد ﷺ کہا گیا کیونکہ اسلام کے بانی تو رسول خدا ﷺ ہی ہیں جو ان کی کھلی ہوئی توہین ہے۔
جواب:اس شعر میں ثانی کا لفظ بمعنی مانند اور مماثل کے نہیں جو آپ نبی کریم ﷺ سے تقابل کروارہے ہیں بلکہ دوم اور دوسرے کے معنی میں مستعمل ہے ۔ا س شعر میں حضرت محمود الحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ غزوہ احد میں شیطان نے یہ خبر اڑادی تھی کہ ان محمد ا قد قتل اس وقت جو کفار کے لشکر کا سردار تھا اس نے یہ نعرہ بلند کیا اعل ھبل اعل ھبل ہمارے معبود ھبل کا نام اونچا ہو ۔مولانا شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اس شعر میں اسی تخیل کا ادا کرنا چاہا کہ :
’’ باطل کی طرف سے جس طرح اعل ھبل کے نعرے اس وقت لگے تھے جب شیطان نے بانی اسلام ﷺ کے متعلق وہ جھوٹی اور ناپاک خبر اڑائی تھی آج ان ہبل پرستوں کی ذریت قبر پرستوں اور مزار پرستوں کی زبان پر وہی ناپاک نعرہ ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نوع کا کوئی دوسرا واقعہ پیش آیا ہے کوئی حامی سنت اور ماحی بدعت اس عالم سے اٹھ گیاہے جو اہل باطل ان کی وفات کی خوشی میں شیطانی نعرے لگارہے ہیں۔تو رسول ﷺ اس خاص معاملے میں پہلے تھے اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ اس معاملے میں دوسرے نمبر پر ۔
اگر کسی کو نبی کریم ﷺ کا ثانی کہنا نبی کریم ﷺ کی گستاخی ہے تو قرآن پاک پر کیا فتوی ہے جس میں صدیق اکبرؓ کو نبی کریم ﷺ کا ثانی کہا گیا :
اذا اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذھما فی الغار جب آپ کو مکہ سے نکالا کافروں نے جب آپ دو کے دوسرے تھے (یعنی صدیق اکبر کے دوسرے آپ ) جب وہ دونوں غار میں تھے۔امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
دل ھذہ الایۃ علی فضل ابی بکرؓ من وجوہ۔۔۔الرابع انہ تعالی سماہ ثانی اثنین فجعل ثانی محمد ﷺ حال کونہ فی الغار والعلماء اثبتوا انہ رضی اللہ تعالی کان ثانی محمد ﷺ فی اکثر المناصب الدینیۃ۔
(تفسیر کبیر ،ج۱۶،ص ۶۶،بیروت)
یہ آیت حضرت ابو بکر صدیقؓ کی فضیلت پر بچند وجوہ دلالت کرتی ہے۔۔۔ان میں سے چوتھی وجہ یہ ہے کہ حق تعالی نے آپ کو ثانی اثنین کہا پس برفاقت غا ر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی کریم ﷺ کا ثانی قرار دیا گیا اور علماء کرام نے ثابت کیا ہے کہ بہت سے دینی مراتب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺ کے ثانی تھے۔
رضاخانی ہمت کریں اور لگائیں ایک عدد فتوی امام فخر الدین رازی ؒ کے ساتھ من جملہ ان بہت سے علماء کرام پر جنہوں نے بہت سے امور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی کو نبی کریم ﷺ کا ثانی کہا۔
رضاخانی اپنے گھر کی خبر لیں:
آپ کی کیا کرے کوئی مدحت نائب غوث دریائے رحمت
آپ کی ذات عکس پیمبر سیدی مرشدی اعلحضرت
(تجلیات امام احمد رضا ،ص ۱۶۷)
معاذ اللہ یہاں احمد رضاخان کو نبی کریم ﷺ کا عکس کہا جارہا ہے کہ جس طرح آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر آدمی کو اپنا عکس نظر آتا ہے اس طرح جب تم نبی کریم ﷺ کو دیکھو گے تو تمھیں وہ احمد رضاخان نظر آئیں گے او ر جب احمد رضاخان کو دیکھو گے تو تم کو نبی کریم ﷺ کا چہرہ نظرآئے گا۔العیاذ باللہ ۔ ایک اور غالی بریلوی مرید اپنے پیر کی مدح سرائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
وہی جلوہ جو فاراں پر ہوا احمد کی صورت میں
اسی جلوے کو پھر عیاں کیا مٹھن کی گلیوں میں
(دیوان محمدی،ص ۱۹۱)
معاذ اللہ یعنی آج سے چودہ سو سال پہلے جو ہستی فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوئی تھی یعنی محمد مصطفی ﷺ وہی ذات اور اسی ذات کے جلوے آج چودہ سو سال بعد کوٹ مٹھن کی گلیوں میں میرے پیر یعنی پیر فرید کی شکل میں جلو ہ آراء ہے ۔
رضاخانیوں کو اپنے گھر کی یہ گستاخیاں نظر نہیں آتیں جو وہ دوسروں پر بلا وجہ گستاخی گستاخی کے فتوے داغتے ہیں۔
ساتواں اعتراض: تمہاری تربت انور کو دیکر طور سے تشبیہ
کہوں ہوں بار بار ارنی مری دیکھی بھی نادانی
ٰ(مرثیہ ص ۱۳)
اس شعر میں حضرت گنگوہی کی قبر کو طور سے تشبیہ دی گئی اور ان کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا گویا گنگوہی صاحب دیوبندیوں کا خدا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے بھی طور پر جاکر اللہ سے یہی خواہش کی تھی کہ ارنی۔
جواب:اس شعر پر اعتراض بھی بریلویوں کی جہالت کا شاخسانہ ہے ۔ہر زبان میں بات سمجھانے کیلئے تشبیہات کا استعمال کیا جاتا ہے مثلا جب آپ کسی کی بہادری سے متاثر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فلاں شیر جیسا ہے یا کسی کی خوبصورتی بیان کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ فلاں چاند جیسا ہے ۔تو اب اس میں صرف اس کی کسی مخصوص صفت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے تشبیہ من کل الوجوہ مراد نہیں ہوتی کہ فلاں آدمی جس کو شیر یا چاند سے تشبیہ دی گئی ہے اس کے شیر جیسے دانت ہیں ایک دُم ہے، چارٹانگیں ہیں اور اس کا چہرہ چاند جیسا گول ہے ۔غرض تشبیہ صرف کسی خاص پہلو سے ہوتی ہے نہ کہ من کل الوجوہ (مطول ،مختصر المعانی ،دروس البلاغہ وغیرھم)
اسی طرح اس شعر میں جو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر مبارک کو طور سے تشبیہ دے کر ارنی کا جملہ استعمال کیا گیا اس سے مقصود صرف اس بات کا بیان کرنا ہے کہ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام طور پر گئے اور خدا سے عرض معروض کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کا دیدار کروں آپ کو دیکھوں مگر حضرت موسی علیہ السلام اللہ کا دیدار نہ کرسکے۔اسی طرح آپ کی قبر پر آکر میرا دل چاہتا ہے کہ ایک بار پھر میں آپ کا چہرہ انور دیکھ لوں بار بار بے ساختہ میری زبان سے نکل رہا ہے کہ ارنی مجھے اپنا دیدار کرائے جس طرح جب آپ زندہ تھے تو میں آپ کے دیدار سے مشرف ہوتا تھا۔۔مگر اب آپ کی وفات کے بعد میرا یہ مطالبہ کرنا ایک نادانی ہی ہے کیونکہ اب آپ اس دنیا سے پردہ فرماگئے اور اب آپ سے مثل زندوں کے دیدار کی خواہش کرنا نادانی ہے کہ گئے لوگ واپس نہیں لوٹتے۔
بریلوی اپنے گھر کی خبر لیں
قارئین کرام آئے ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ اصل میں اپنے پیروں کو اپنا خدا ماننے والے یہ بریلوی بد بخت ہی ہیں ۔ یار محمد گڑھی والا اپنے پیر کی مدح سرائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :
خدا کو ہم نے دیکھا سدا مٹھن کی گلیوں میں
خدا بے پردہ ہے جلوہ نما مٹھن کی گلیوں میں
(یوان محمدی،ص ۱۹۱)
صورت رحمان ہے تصویر میرے پیر کی
علم القرآن ہے تقریرمیرے پیر کی
کیا خدا کی شان ہے یا خود خدا ہے جلوہ گر
ملتی ہے اللہ سے تصویر میرے پیر کی
(دیوان محمدی،ص ۲۰۱)
آٹھواں اعتراض:مرثیہ گنگوہی کے کئی اشعار میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے استعانت طلب کی گئی ہے ۔
جواب: ہم شرعی استعانت او ر برگان دین کے وسیلے کے منکر نہیں ۔اس لئے پہلے ہمارا عقیدہ اچھی طرح سمجھو اس کے بعد اعتراض کرو ۔ مزید تفصیل کیلئے امام اہلسنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرصاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’ دل کا سرور ‘‘ اور ’’گلدستہ توحید‘‘ کا مطالعہ کرو۔
الحمد للہ ہم نے انتہائی اختصار کے ساتھ رضاخانی حضرات کے مرثیہ گنگوہی پر مشہور اعتراضات کے جوابات دے دئے ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں کوئی اور اشکال یا اعتراض ہو تو وہ بھی پیش کردیں انشاء اللہ اس کا بھی جواب دے دیا جائے گا۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔