جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

باطل عقائد کی خاطر احمد رضاخان نے قرآن بدل دیا

باطل عقائد کی خاطر احمد رضاخان نے قرآن بدل دیا

قیامت کی نشا نیوں میں سے ہے کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا اور لوگ جاہلوں کو پیشو ا بنا لیں گے اور یہ جاہل پیشوا بغیر علم کے فتوی دیں گے لہذا اخود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے جیسا کہ احادیث میں موجود ہے ۔
حدیث نمبر 1 : اور بخاری نے حضرت شفیق سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ اور ابو موسیٰؓ کے ساتھ تھا تب ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے فر مایا قیامت کے روبرو کچھ ایسے ایام ہوں گے جن میں جہالت نازل کی جائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا ۔ ( صحیح بخاری ۔کتاب الفتن۔ باب ظھور الفتن۔ 13/13 ۔مع الفتن )
حدیث نمبر 2: حضور اکرم ﷺنے فر مایا : قیامت کی نشا نیوں میں سے علم کا اٹھا لیا جانا اور جہالت کا قرار پا جانا ہے ( صحیح بخاری ۔کتاب علم ۔178/1 ۔مع الفتح ۔۔۔صحیح مسلم ۔کتاب العلم۔ 222/16)
حدیث نمبر 3 : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا زمانہ قریب قریب ہو جائے گا علم کو قبض کر لیا جائے گا فتنے ظاہر ہو ں گے ۔حرص و بخل ڈال دیا جائے گا اور قتل کثرت سے ہو گا ۔
( صحیح مسلم ۔کتاب العلم۔ 222,223/16۔مع شرح النووی)
احمد رضا خان صاحب المعروف اعلیٰ حضرت نے قر آ ن مجید کا ترجمہ کنز الایمان کے نام سے کیا ہے جس کے بارے میں خود بر یلوی علماء لکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت یہ ترجمہ قر آن سونے اور قیلولہ کرنے کے وقت میں سابقہ تفسیروں سے استفادہ حاصل کئیے بغیر زبانی لکھواتے جاتے تھے ۔
( انوار رضا۔انوار کنز الایمان ۔برا ہین صادق )
اس تر جمہ قرآن میں احمد رضانے جہاں اور بہت سے کار نامے ( غلطیاں ) سر انجام دئیے وہاں یہ بھی کارنامہ
سر انجام دیا کہ قر آن کی وہ آ یات جن میں انبیاء کا بشر ہو نا،علم غیب کا خاصہ باری تعالیٰ ہو نا،اللہ نے کسی مخلوق کو مختار کل نہیں بنایا وغیرہ ذکر کیا گیاہے ان آ یات کے ترجمہ کو بد ل کر اپنے الفاظ میں پیش کیا اور اپنے باطل عقائد کو قرآن سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ۔مزید یہ کہ ایک نیا عقیدہ ’’ انبیاء حاضر و ناظر ‘‘ ہیں قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی۔ سابقہ تراجم و تفسیر سے استفادہ حاصل کئیے بغیر محض اپنی کم علمی و جہالت کی بنا پر قر آن کی واضح آیات کو تر جمہ کے ذریعے بد ل دینا قر آن میں کھلی تحریف و تبدیلی اور قیامت کے نشانی کا پورا ہو نا نہیں تو اور کیا ہے ؟ مثلاً
(1)عقیدہ علم غیب کو قر آن سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش
بریلوی حضرات کے باطل عقیدے نبی کریم ﷺ عالم الغیب ہیں کی ردمیں قر آنی آیت ہے
قل لا اقول لکم عند ی خز ائن اللہ و لا علم الغیب و لا اقول لکم انی ملک
( سور ۃ انعام ۔50)
اس آیت کا ترجمہ احمد رضا خان کرتا ہے:
’’تم فر ما دو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فر شتہ ہو ‘‘۔ ( کنز الا یمان ۔ترجمہ احمد رضا خان )
’’ لا علم الغیب ‘‘ کا تر جمہ’’ اور نہ یہ کہوں کے میں آپ غیب جان لیتا ہوں‘‘ عر بی گر ائمر کے اعتبار سے قطعی طور پر صحیح نہیں بلکہ یہ ترجمہ سابقہ تمام تفاسیر اور تر اجم کے بالکل مخالف ہے ۔کیا بریلوی حضرات یہ بتا سکتے ہیں کہ لفظ
’’آ پ ‘‘قر آن کے کس لفظ کا تر جمہ ہے یا گر ائمر کا کون سا قاعدہ ہے ؟
اسطرح کا ترجمہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چو نکہ یہ آیت رضا خانیوں کے باطل عقیدے ’’علم غیب ‘‘پر ضرب تھی تو احمد رضا نے اس باطل عقیدے کو تحفظ دینے کے لئے اس آیت کے ترجمہ کو ہی بد ل دیا ۔صحیح تر جمہ وہ ہے جو کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن محدث دیو بندی ؒ نے کیا ہے ۔
’’ تو کہہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس ہیں خز انے اللہ کے اور نہ میں جانوں غیب کی بات اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فر شتہ ہوں‘‘ ۔
حضرت شیخ الہند کا یہ تر جمہ عربی گر ائمر اور سابقہ تمام تراجم و تفاسیر کے عین مطابق ہے
(2) باطل عقیدہ نور انبیاء کو قر آن سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش
بر یلوی حضرات کے باطل عقیدے ’’ نبی کریم ؐ نور ہیں ‘‘ کے رد میں قر آنی آیت ہے ۔
قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی ( سورہ کہف۔ 110)
اس آیت کا تر جمہ احمد رضاخان کر تا ہے :
’’ تم فر ماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آ تی ہے‘‘
( کنز الایمان ۔ترجمہ احمد رضا )
اس تر جمہ میں ’’ظاہر صورت ‘‘کسی قر آنی لفظ کا ترجمہ نہیں بلکہ خان صاحب کا اپنی طرف سے اضا فہ ہے اور کوئی
بر یکٹ وغیرہ بھی نہیں ہے ۔کیا رضا خانی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ’’ ظاہر صورت ‘‘ قر آن کے کس لفظ کا تر جمہ ہے یا عربی گر ائمر کے کس قانون کے تحت یہ تر جمہ صحیح ہے ؟ اب رہا یہ کہ خان صاحب ظاہر صورت کا اضافہ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ اسکی وجہ بھی ایک باطل عقیدے کا تحفظ ہے کہ آ ں حضرت ﷺظاہری صورت میں بشر اور انسان تھے حقیقت میں وہ نوری مخلوق سے تھے ۔اس آیت کا صحیح تر جمہ وہ ہے جو حضرت شیخ الہند ؒ یا حضرت تھانوی ؒ نے کیا ہے ’’ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر ہوں میرے پاس بس یہ وحی آتی ہے ‘‘
( ترجمہ حضرت تھانوی ؒ )
اب چو نکہ یہ آیت عمو ماً آں حضرت ﷺکی بشریت پر استد لال کے لیے پیش کی جاتی ہے ا س لیے احمد رضا خان صاحب نے اس آیت میں خیانت کا ارتکاب کیا۔ لیکن یہی آ یت جب سورۃ السجدہ۔ نمبر6 میں آتی ہے تو یہ کم عقل خان صاحب تر جمہ یوں کرتے ہیں ۔
’ ’ تم فر ماؤ آ دمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں ‘‘
(کنز الایمان : تر جمہ احمد رضا خان)
اس آیت کے تر جمہ میں احمد رضانے یہ بھی عقیدہ بنایا ہے کہ حضور ﷺ کی ظاہر ی صورت کفار جیسی تھی جو کہ ہر گز باطل عقیدہ ہے ۔اعلیٰ حضرت نے حضورﷺکی ظاہری صور ت کو کفار کے مشابہ کر کے گستاخی اور بے ادبی کا ارتکاب کیا ہے۔حالانکہ قر آن کی اس آیت میں بات شکل و صوت کی نہیں ہو رہی بلکہ بات جناب رسول اللہ کے بشرو انسان ہونے پر ہورہی ہے ۔
(3) عقیدہ مختار کل کو قر آن سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش
بر یلوی حضرات کے باطل عقیدہ ’’ نبی کریم ﷺ مختار کل ‘‘ ہیں کے رد میں قر آنی آیت ہے
قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا ا لا ما شاء اللہ ( سورۃ یونس49)
احمد رضا خان اس آیت کا تر جمہ یوں کر تا ہے ۔
’’ تم فر ماؤ میں اپنی جان کے بر ے بھلے کا ( ذاتی ) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے‘‘
( کنز الایمان ۔ترجمہ احمد رضا )
اس تر جمہ میں ذاتی کے لفط کا اضافہ (اگر چہ قر آن پاک کے متن میں اسکے مقابلے میں کوئی بھی لفظ نہیں ہے ) احمد رضا خان کے اہلسنت سے مخالف عقیدے کی تر جمانی کے لیے ہے ۔اسکا مطلب یہ ہو ا کہ میں خود بخود رتو نہیں البتہ اللہ کے دیے سے اپنے لیئے ہر نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہوں ۔اگر احمد رضا خان صاحب کے پیش کردہ مفہوم کو صحیح مان لیا جائے تو بریلوی حضرات یہ بتا دیں کہ پھر آیت کے آخر میں ا لا ما شاء اللہ کیوں آیا ہے؟ ترجمہ میں بر یکٹ کا اضافہ بعد کا معلوم ہو تا ہے ورنہ خان صاحب اتنے محتاط نہیں تھے بلکہ بیشتر الفاظ تر جمے میں وہ اپنی طرف سے زیادہ کر دیتے ہیں اور کوئی بر یکٹ وغیرہ نہیں ہو تا ۔اس آیت کا صحیح تر جمہ یہ ہے ۔
’’ آ پ فر ما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لیئے تو کسی ضرر کا اور کسی نفع کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا خدا کو منظور ہو‘‘
( حضرت تھانوی ؒ )
(4) عقیدہ حاضرہ ناظر کو قر آن سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش
قر آن کی آیت ہے
یا ایھا النبی انا ار سلنک شاھد و مبشر او نذیرا ( احزاب ۔رکوع 6۔پ 22)
ا س کا تر جمہ احمد رضاخان صاحب کرتے ہیں ۔
’’ بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضرو ناظر ‘‘
( کنز الایمان ۔ترجمہ احمد رضا )
احمد رضاخان صاحب نے اپنے باطل عقید ے ’’نبی کریم ﷺحا ضر و ناظر‘‘ ہیں کو تحفظ دینے کے لیے لفظ شاھد کاترجمہ حا ضر و نا ظر کر دیا ۔احمد رضا کے تر جمہ قر آن سے پہلے جتنے بھی قر آن کی تر جمے کیئے گئے اور جتنی بھی تفاسیر کی گئیں ( چا ہے اردو ،فارسی یا کسی بھی زبان میں ہیں ) کسی نے بھی لفظ شاھد کا تر جمہ حا ضر و ناظر نہ کیا بلکہ شاھد کو ’’ گواہ ‘‘ کے معنی میں استعمال کیا اس طرح کا تر جمہ اعلیٰ حضرت کی علمی خیانت ،کم عقلی اور قر آن میں کھلی تحریف کا منہ بو لتا ثبوت ہے ۔ اس آیت کا صحیح تر جمہ یہ ہے
’’ اے نبی ہم نے تجھ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والا ‘‘

بر یلوی حضرات ایک تجربہ کر کے دیکھیں
ایک کا غذ پر بر یلوی حضرات مندرجہ ذیل جملے لکھیں ۔
(i) نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں۔
(ii) تم فر ماؤ ظاہری صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں ۔
(iii) بے شک ہم نے تمھیں بھیجا حا ضر وناضر
اب اس کاغذ کو دنیا کے دس یا پندرہ بڑے عر بی دانوں کے پاس لے جائیں۔اور ان سے کہیں کے عربی کے تمام قواعد و ضوابط اور گر ائمر کے تمام قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے ان جملوں کی عربی کر دیں ۔آ پ لو گوں کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ عربی تر جمہ اللہ کا کلا م ( قر آن ) بنتا ہے یا کہ احمد رضا کا کلا م۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔