جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

گستاخ رسول کون۔۔۔؟؟؟فیصلہ آپ کریں

گستاخ رسول کون۔۔۔؟؟؟فیصلہ آپ کریں
قارئین کرام آج رضاخانی ٹولہ جگہ جگہ اہلسنت کے خلاف یہ غلیظ پروپگینڈاکرتارہتا ہے کہ یہ گستاخ ہیں وہابی ہیں ان کی بات نہ مانو ۔۔حالانکہ خود اگر آپ ان کی کتب پڑھیں تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ کس طرح عشق رسول ﷺ کے منافقانہ نعرے کی آڑ لیکر یہ لوگ دن رات جس طرح چاہیں جب چاہیں حضور ﷺ کی توہین کرتے پھریں ۔۔بات اصل میں یہ ہے کہ
جو بھی سن کے حلووں مانڈوں کی راہ میں رکاوٹ بنے سمجھو گستاخ رسول ﷺ ہے میں اکفی عرصے سے سوچ رہا تھا کہ ان کی وہ گستاخانہ عبارتیں پیش کروں جس میں انھوں نے بے دھڑک حضو رﷺ کی گستاخیاں کی لیکن پے درپے مصروفیات آڑے ارہی تھیں آج تھوڑا فارغ ہوا تو سوچا کچھ عرض کرتا چلوں ۔لہٰذا ان میں سے چند عبارات آپ کے سامنے نقل کفر کفر نہ باشد کے تحت نقل کررہا ہوں۔
مولوی برکات احمد کی قبر کی خوشبو حضورﷺ کے روضہ مبارک کی خوشبو کے برابر
برکات احمد صاحب کہ میرے پیر بھائی اور حضرت پیر مرشد کے فدائی تھے ۔کم ایسا ہوا ہوگا کہ حضرت پیر مرشد کا نام پاک لیتے اور ان کے آنسو رواں نہ ہوتے جب ان کا انتقال ہوا اور میں دفن کے وقت ا ن کی قبر میں اترا تو مجھے بلا مبالغہ وہ خوشبو محسوس ہوئی جو پہلی بار روضہ انور کے قریب پائی تھی۔
(ملفوظات رضاخان ،حصہ دوم ص۱۴۲،فرید بک سٹال)
قارئین کرام غور فرمائیں کہ کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ ملاں برکات احمد کی قبر کی خوشبو کو حضور ﷺ کی قبر مبارک کی خوشبو کے برابر قرار دیاجا رہاہے گویا مولوی برکات احمد کی قبر اور حضور ﷺ کی قبر مبارک میں کوئی فرق ہی نہیں ۔العیاذ باللہ ۔کہاں ملاں برکات احمد بدعتی مشرک کی قبر اور کہاں حضور ﷺ کا روضہ مبارک۔۔
چہ نسبت خاک را با عالم
کجا عیسی کجا دجال ناپاک
میرا تو ایمان ہے کہ مدینہ کی مٹی کی خوشبو بھی دنیا جہاں کی خوشبوؤں کا مقابلہ نہیں کرسکتے کجا کسی کو میرے آقا ﷺ کی قبر مبارک کی خوشبو کی طرح خوشبو کسی قبر میں محسوس ہو۔حضرت فاطمہؓ نے کیا خوب فرمایا کہ :
ماذا من شم تربت احمدا الاّ یشم مد لزمان غوالیا
یا خاتم الرسل المبارک صنوۃ صلی علیک منزل القران
کیا عجب جس نے آپ ﷺ کی مٹی (روضہ انور) کی خوشبو سونگھ لی وہ زندگی بھر اور کوئی خوشبو نہ سونگھ سکا
اے خاتم الرسل مبارک عادات و خصائل کے مالک آپ پر تو قرآن نازل کرنے والے نے صلوۃ پڑھا
حضور ﷺ نے مولوی احمد رضاخان سے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔۔؟
مولوی احمد رضاخان ملفوظات میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ :
جاڑا ،طاعون اور وبائی امراض جس قدر ہیں او ر نابینائی و یک چشمی برص جذام وغیرہ وغیرہ کا مجھ سے نبی ﷺ کا وعدہ ہے کہ یہ امراض تجھے نہ ہونگے جس پر میرا ایمان ہے ۔(ملفوظات حصہ چہارم ص۳۷۷)
قارئین کرام ’’جاڑا‘‘ سب جانتے ہیں کہ سردی اور محاورات میں بخار کو کہتے ہیں افسوس مولوی احمد رضاخان یہ بات کہتے ہوئے بھول گئے تھے کہ ابھی ماقبل میں ہی تو وہ خود کہہ چکے ہیں کہ :
جدہ پہنچتے ہیں مجھے فورا بخار ہوگیا اور میری عادت ہے کہ بخار میں سردی بہت معلوم ہوتی ہے (ملفوظات حصہ دوم ص۱۲۵،۱۲۶)۔
قارئین کرام غور فرمائیں کل کو اگر یہ ملفوظ کسی غیر مسلم نے پڑھ لیا اور اس نے یہ اعتراض کردیا کہ مسلمانوں کا نبی نعوز باللہ ثم نعوذ باللہ اپنے ماننے والوں سے جھوٹے وعدے کرتا ہے کہ پہلے تو فرماتے ہیں کہ تمھیں جاڑایعنی سردی کے ساتھ بخار کبھی نہیں ہوگا پھر خود ہی ان کے ماننے والے کہتے ہیں کہ نہیں مجھے اکثر بخار میں شدید سردی لگتی ہے ۔۔غور فرمائیں ۔۔اس سے بڑی حضور ﷺ کی کیا گستاخی ہوگی۔۔الحمد اللہ میرا تو ایمان ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوسکتا ہے دنیا الٹ سکتی ہے دن میں چاند نکل سکتا لیکن میرے آقا محمد رسو ل اللہ ﷺ کوئی بات کہہ دے اور وہ غلط نکل آئے ناممکن ناممکن۔۔اب بریلوی صاحبان اس بات کا اقرار کریں کہ مولوی احمد رضاخان نے محض اپنی بزرگی جھاڑنے کیلئے یہ جھوٹ بولا اور خود حضو ر ﷺ کی حدیث کہ جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں ڈھونڈے کے تحت مولوی احمد رضاخان کے مقام کا تعیین خود ہی کرلیں۔
پیر کے پاس حضور ﷺ کی حاضری
ولی کیا مرسل آئیں خود حضور آئیں
وہ تیری وعظ کی محفل ہے یا غوث
(حدائق بخشش ج۲ص۷)
قارئین کرام یہ کوئی عربی فارسی کا شعر نہیں اردو زبان کا شعر ہے ا س میں مولوی احمد رضاخان کیا کہہ گئے کہ شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے وعظ کی کیا بات کرتے ہو ولی اور رسول تو بہت دور ان کے وعظ میں تو خود حضور ﷺ حاضر ہوتے ہیں ۔العیاذ باللہ۔
نبی شاگرد پیر استاذ
قمر پر جیسے خود کا یوں تیرا قرض ہے
سب اہل نور پر فاضل ہے یا غوث
غلط کردم تو واہب ہے نہ مقرض
تیری بخشش تیرا نائل ہے یا غوث
(حدائق بخشش ج۱ص۱۱)
یعنی جس طرح چاند سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے سورج کا مقروض ہے اسی طرح سب نور والے حضرت عبد القادر جیلانی ؒ سے فیض حاصل کرکے آپ کے مقروض ہیں ۔اگلے شعر میں اپنی ہذیانی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں اور اسی کیفیت میں ایک اور ہذیا ن ہوجاتا ہے یعنی غلط گفتم کی جگہ پھر غلط کردم کہہ رہے ہیں اور ہذیان در ہذیان کے بعد کہہ رہے ہیں کہ آپ قرض دینے والے نہیں بلکہ واہب ہیں اور آپ سب نور والوں کو اپنا فیض ہبہ کردیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ بریلوی عقیدے کے مطابق نبی اکرم ﷺ بھی نور ہیں جیسا کہ خود رضاخان صاحب کہتے ہیں کہ
تو عین نور ہے تیرا سب گھرانہ نور ہے
اب صغری کبری ملاحظہ فرمائیں اور بریلوی امت سے نتیجہ نکلوالیجئے نبی اکرم ﷺ نور ہیں اور نور والے شیخ علیہ الرحمہ سے فیض پاتے ہیں حد اوسط یعنی ’’نور ‘‘ کو گرائیں تو نتیجہ خود بخود نکل آئے گا ۔۔استغفر اللہ جسے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپ رہے ہیں ۔۔اگر کوئی بریلوی حضور ﷺ کو سب سے اعلی کہتا ہے تو وہ محض تقیہ کرتا ہے ان کا اصل عقید ہ تو آپ کے سامنے آگیا ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ ظلی طور پر مرتبہ نبوت پر ہیں
یہ قول اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ نبی ہوتے اگرچہ اپنے مفہوم شرطی پر صحیح و جائز اطلاق ہے کہ بے شک مرتبہ علیہ رفعیہ حضور پر نور رضی اللہ تعالی عنہ ظل مرتبہ نبوت ہے۔(عرفان شریعت ص ۹۰،مکتبۃ المدینہ کراچی)
قارئین کرام ہمارا اور ہمارے اکابر کا تو ایمان ہے کہ کوئی بڑے سے بڑے والی کسی ادنی سے ادنی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کی جوتی کی خاک کے برابر نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ شیخ علیہ الرحمۃ ان تمام مراتب پر فائز ہوگئے تھے جس پرمقام پر حضور ﷺ فائز تھے بس فرق یہ ہے کہ شیخ کا رتبہ ظلی تھا ۔۔اور ظاہر ہے ظل کبھی اصل سے جدا نہیں ہوتا۔استغفر اللہ ۔میرا تو ایمان ہے کہ ۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
غور فرمائیں مرزا قادیانی کو ظلی و بروزی نبوت کا چور دروازہ کہاں سے ملا؟؟۔قارئین کرام یہ تو اس فرقے کے مجدد کی عبارت تھی بریلویوں کے نزدیک تو شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ عین محمد ﷺ ہیں اور شیخ علیہ الرحمۃ کا بدن شیخ کانہیں بلکہ محمد ﷺ کا بدن ہے العیاذباللہ ملاحظہ ہو:
شیخ عبد القادر جیلانی ؒ عین محمد ﷺ
اس کے بعد آپ نے فرمایا خدا کی قسم یہ وجود میرے نانا سید الانبیاء ﷺ کا وجود ہے نہ کہ عبد القادر کا وجود ،بیٹے نے پھر عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ پر بادل سایہ کرتے تھے لیکن آپ میں یہ بات نہیں (یعنی آپ پر بادل سایہ کیوں نہیں کرتا)فرمایا کہ اس لئے کہ کہیں مجھے لوگ نبی نہ کہنا شروع کردیں
(تفریح الخواطر ص۱۰۷،قادری رضوی کتب خانہ لاہور)۔
نعوذ باللہ قارئین کرام یہاں بریلویوں کا کفر ننگا ناچ رہا ہے میں اس موقع پر صرف اتنا کہوں گا کہ واللہ یہ بزرگان دین اس قسم کی کفریات سے بالکل بری ہیں اور ہر گز ہر گز یہ اقوال ان کے نہیں واللہ واللہ وہ تو ساری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا درس دیتے رہے ۔۔اس جھوٹ کا حساب جو بریلویوں نے شیخ علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کیا انشاء اللہ قیامت کے روز اس کا حساب خود شیخ عبد القادر جیلانی ؒ لیں گے۔الحساب یوم الحساب۔
حضور ﷺ کے گھر میں کتے کا پلا
جبرائیل کسی وقت حاضری کا وعدہ کرکے چلے گئے دوسرے دن انتظار رہا مگر وعدہ میں دیر ہوئی اور جبرائیل حاضر نہ ہوئے سرکار باہر تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام در دولت پر حاضر ہیں فرمایا کیوں عرض کیا نا لا ندخل بیتا فیہ کلب او تصاویر رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں کتا ہو یا تصویر ہو(ماشاء اللہ عربی ادب سے ذرا بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا اس ’’اعلی‘‘ ترجمہ پر داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔آخر ’’اعلحضرت ‘‘ جو ہوئے۔۔۔از ناقل)اندر تشریف لائے سب طرف تلاش کیا کچھ نہ تھا پلنگ کے نیچے ایک کتے کا پلا نکلا اسے نکالا تو ظاہر حاضر ہوئے۔(ملفوظات ،حصہ سوم ص۳۱۸)۔
حضور ﷺ کو آیتوں کا نسیان ہوجا تا تھا
مولوی احمد رضاخان سے قرآن کے تبیانا لکل شیء کے بارے میں سوالات کے دوران پوچھا جاتا ہے کہ:
عرض:اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وانا لہ لحافظو ن قرآن شریف کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا جب کہ اس کے الفاظ محفوظ ہوئے تو معانی کی حفاظت ضرور کہ معانی الفاظ سے منفک نہیں ہوسکتے۔اور قرآن عظیم کی صفت تبیانا لکل شیء ہے تو قرآن عظیم ہی سے تبیانا لکل شیء کا سوام ثابت ہوگیا۔
تو اعلحضرت خان صاحب جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
ارشاد:قرآ ن عظیم کے الفاظ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا اگرچہ معانی ان الفاظ کے ساتھ ہیں لیکن ان معانی کا علم ہونا کیا ضرور؟نبی کلام الٰہی کے سمجھنے میں بیان الٰہی کا محتاج ہوتا ہے ثم ان علینا بیانہ اور یہ ممکن ہے کہ بعض آیات کا نسیان ہوا ہو۔(ملفوظات حصہ سوم ص ۲۵۵،۲۵۶)
قارئین کرام غور فرمائیں کہ خانصاحب نے اپنے اختراعی عقیدہ (ہر ہر چیز کا بیان قرآن میں ہے)کی حفاظت کیلئے حضور ﷺ کو قرآن کریم کے الفاظ کے معنی سے بھی بے خبر تسلیم کرلیا نعوذ باللہ ۔اگر الفاظ قرآن کریم سے مراد ’’متشابہات ‘‘اور ’’حروف مقطعات‘‘ مراد ہیں کہ ان کے معنی معلوم نہیں تھے جیساکہ جمہور علماء کی تحقیق ہے تو خانصاحب کو اس کی تصریح کرنی چاہئے تھی اور اس سے خانصاحب کا یہ باطل عقیدہ رد ہوجاتا کہ ہر چیز قرآن میں مفصل واضح اور روشن طور پر مذکور ہے کہ اصلا کوئی خفاء نہیں مگر وہ الفاظ عموم کے استعمال کرتے ہیں جس سے یہی متبادر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ متشابہات اور حروف مقطعات کے علاوہ بھی الفاظ قرآنی کے معانی سے بے خبر تھے۔(معاذ اللہ )۔اور اپنے خانہ ساز عقیدے کے اثبات کی خاطر قرآن کریم کی بعض آیات کے نسیان کا مرتکب کا بھی آپ ﷺ کو مانا (العیاذ باللہ )غیر مسلم جب یہ جواب پڑھیں گے تو اس سے قر�آن کریم کی صداقت اور حقانیت کے بارے میں وہ کیا تاثر لیں گے؟۔۔جواب انصاف سے دیجئے گا۔
بریلوی حضرات کے نزدیک حضور نبی کریم نے خود کشی کی
یہ بات تو مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ جناب رسول اکرم ﷺنے خیبر فتح کیاتو مرحب کو بہن زینب بنت الحارث نامی ایک یہودی عورت نے آنحضرتﷺ کودعوت کی اور بکری کے گوشت میں زہر ملا دیا۔پہلا لقمہ کھانے کے بعد آپﷺ کو معلوم ہوا بلکہ گوشت کے ٹکڑے نے بول کر کہا کہاحضرت مجھ میں زہر ہے مت کھائیے۔دارمی و ابوداوداورمشکواۃ میں ہے کہ اس میں زہر ہے۔اور اگرچہ بحمد تعالیٰ آپ کے حق میں اسکا ارادہ پورا نہ ہوسکا لیکن آپ کے ایک صحابی حضرت بشر بن براء بن معرور جانبر نا ہو سکے(ابو داود و مستدرک)بلکہ مشکواۃاورابوداؤد کی روایت میں ہے کہ۔
آنحضرت ﷺکے وہ صحابہ کرامؓ جنہوں نے زہر آلود بکری کھائی تھی وفات پا گئے۔
مشکواۃ کی روایت میں لفظ بعض نہیں ہے اور ابو داود و دارمی کی روایت میں بعض صحابہ کے الفاظ ہیں۔
اس روایت میں بعض سے ایک صحابیؓ بھی مراد ہو تب بھی ہمارا دعویٰ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺکو غیب کا علم نہ تھا جیسا کہ ہم اپنے مختلف جگہوں میں ثابت کرچکے ہیں (تفصیل کیلئے دیکھئے دارالعلوم امجدیہ کے فاضل مولوی شیراز ی بریلوی سے فقیر کا مناظرہ جس کا لنک میرے singnatureمیں موجود ہے)ورنہ آنحضرت ﷺایک صحابی کو بھی نہ مرنے دیتے اور خود آنحضرتﷺکو مرض وفات میں زہر کا اثر نمایاں طور پر ظاہر ہوا تو آپ ﷺنے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ۔
اے عائشہ !!میں نے خیبر میں جب سے بکری کا زہر آلود گوشت کھایا ہے اس کی تکلیف میں برابر محسوس کر رہا ہوں اور اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری جان رگ کٹ رہی ہے۔(بخاری جلد۲ص237)
حضرت عماربن یاسرؓفرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺتحفہ اور ہدیہ کا کھا نا تنا ول نہیں فرماتے تھے جب تک صاحب ہدیہ کو اس کھا نے کا حکم نہ فرماتے چونکہ آپکو بکری کا زہر آلود گوشت کھلایا گیا تھا اس لیے اس کے بعد یہ احتیاط فرمایا کرتے تھے(السراج المنیر جلد ۳ص۱۵۶)
اس بکری کا گوشت چند صحابہ کرامؓ نے کھایا جس کی وجہ سے آپ کے بعض صحابہ کرامؓ کی وفات واقع ہو گئی اور آنحضرتﷺ کو وفات کے وقت تک بار بار اس زہر کا دورہ پڑتا رہا اور آپکو تکلیف ہوتی رہی۔(السراج المنیر جلد۲ص156)
اور حضرت ام مبشرکی روایت میں ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ اس بیماری میں بڑی تکلیف میں ہے اور میرے خیال میں یہ تکلیف اسی زہر آلود بکری کے گوشت کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے میرا بیٹا بشربن براء بن معرور فوت ہوگیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ میں بھی اسکے بغیر اسکا کوئی اور ظاہری سبب نہیں سمجھتا اور اس وقت تو میری رگ جاں کٹی سی معلوم ہو رہی ہے(مستدرک جلد ۳ص۲۱۹)
اس واقعہ سے بھی معلوم ہو گیا کہ اگر آنحضرتﷺ کو جمیع ماکان و ما یکون کا علم حاصل ہوتا یہ المناک اور افسوسناک واقع ہرگز پیش نہ آتا اور آپکو پہلے ہی سے اس یہودیہ کی یہ نا شائستہ حرکت معلوم ہو جاتی اور بعض بے گناہ صحابہؓ شہید نہ ہوتے اور نہ آپکو یہ تکلیف ہوتی کیا فریق مخالف کے نزدیک قصداً اور ارادۃً جناب نبی کریمﷺ نے زہر آلود گوشت کھایا اور عمداًصحابہ کرامؓ کو کھلایا؟جس کے نتیجے میں بعض کی وفات ہو گئی۔ہمارا ایمان اور عقیدہ تو اسکو ہر گز گواراہ نہیں کرتا۔مگر ذرا مفتی احمد یار گجراتی کا مفتیانہ اجتہاد بھی ملاحظہ فرمالیں ۔مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اس وقت آنحضرت ﷺکو یہ بھی علم تھا کہ اس میں زہر ہے اور یہ بھی خبر تھی کہ زہر ہم پر بحکم الہٰی اثر نہ کرے گا۔اور یہ بھی خبر تھی کہ رب تعالیٰ کی یہی مرضی ہے کہ ہم اسکو کھا لیں۔تا کہ وقت وفات اسکا اثر لوٹے اور ہم کو شہادت کی وفات عطاء فرما دی جاوے راضی برضا تھے۔( جا الحق ص131)
سبحان اللہ !!! یہ ہے جناب مفتی صاحب کا جواب۔اب غورکرنے کا مقام یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو علم تھا کہ اس میں زہر ہے تو آپ نے عمداً وہ گوشت کیوں کھایا؟اوراگر صحابہ کرامؓ کو کیوں کھانے دیا؟۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺنے ایک حدیث میں فرمایا کہ۔
اور جس نے زہر پیا اور خود کشی کر لی تو زہر اسکے ہاتھ میں ہو گا اور دوزخ کی آگ میں وہ ہمیشہ اور ابدا آباد تک وہ زہر پیتا رہے گا۔
اسکو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
حدیث کے پیش نظر رسول ﷺنے بقول مفتی احمد یار خان گجراتی صاحب کے علم ہوتے ہوئے زہر کھایا اور صحابہ کرامؓ کو کھلایا؟یہ جدا بات ہے کہ آپﷺ پر اسکا فوری اثر کچھ نہ ہوا مگر آپ نے(العیاذبااللہ)الدوا ء بالخبیث کے حکم کو توڑا جو بجائے خود گناہ ہے(العیاذ باللہ) اور اسکی دوزخ میں خلود کی وعید بطور تشدید آئی ہے(العیاذباللہ)علاوہ ازیں آپ پر اثر کیوں نہ ہوا جب کے اس زہر کھانے کے بعد تین سال تک آپ اسکا الم اور درد محسوس فرماتے رہے ۔۔؟؟؟جیسا کہ روایت میں اس تصریح گزر چکی ہے اور وفات کے وقت تو آپ کو رگ جاں کٹتی سی نظر آتی تھی۔کیا یہ اثر نہیں؟؟؟؟؟؟؟اور پھر مفتی اصاحب کی سادگی یا ہٹ دھرمی کو دیکھ لیں کہ یہ لکھ دیا کہ۔
زہر ہم پر بحکم الہٰی اثر نہ کرے گا۔
پھر مفتی صاحب ارزوے افتاء یہ فرمائیں کہ حضرت بشربرا بن معرور اور دیگر حضرات صحابہ کرامؓ کے چند نفوس کو جو شہادت ہوئی اس وفات سے ہمکنار ہونا پڑا۔اس کا اثر کہاں سے آیا تھا؟؟؟اور کیا عمداً کسی کو اسطرح زہر خوانی جائز یا درست ہے؟؟؟۔بییوا بالکتاب و توجرو بالثواب۔لیکن یہ تو ابتداء ہے یہی مفتی صاحب اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ حضور ﷺ کی توہین ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ۔
شکاری نبی
اس آیت میں کفا ر سے خطاب ہے چونکہ ہر چیز اپنی غیر جنس سے نفرت کرتی ہے لہٰذا فرمایا گیا اے کفار تم مجھ سے گھبراؤ نہیں میں تمہاری جنس ہوں یعنی بشر ہوں شکاری جانوروں کی سی آوز نکال کر شکار کرتا ہے (نعوذ باللہ )(جاء الحق ص۱۴۵،قادری پبلشرز لاہور)
العیاذ باللہ قارئین کرام احمد یار گجراتی صاحب اس عبارت کے اندر بتلانا چاہتے ہیں کہ جس طرح ایک شکاری پہلے مختلف حربوں سے شکار کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور جب آخر میں ہر طرح سے ناکام ہوجاتا ہے تو پھر شکار کی آوزیں نکالنا شروع کردیتا ہے شکار دھوکے میں آکر اس کے قریب آجاتا ہے اور شکاری اسے شکار کرلیتا ہے ۔۔اسی طرح پہلے حضور ﷺ کفار مکہ کو سمجھاتے رہے کہ میں تمہاری جنس سے نہیں ہوں بشر نہیں ہوں نور ہوں نور ہوں آخر جب کفار مکہ نہ مانے تو شکاریوں والا حربہ استعمال کرکے انہی کی طرح آواز نکالی کہ اچھا میں تمہاری ہی طرح بشر ہوں اب تو میرے قریب آجاؤ اور مجھ سے نفرت نہ کرو۔۔استغفر اللہ۔۔العیاذ باللہ۔۔۔ہے کوئی رضاخانی جو اس گستاخی کا جواب دے۔۔؟؟
بریلویوں کے نزدیک حضور ﷺ کفر کے مرتکب ہوئے
مولوی نعیم الدین مراد آبادی اپنی تفسیر ’’خزائن العرفان ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ
قرآ ن پاک میں جابجا انبیاء کو بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا ہے (خزائن العرفان ص ۴،ضیاء القرآن )
قارئین کرام میں اس وقت اس عبارت پر زیادہ تبصرہ نہیں کروں گا بس اس فتوے کی رو میں کون کون آتا ہے اس کی صرف ایک مثال پیش کروں گا جسے دیکھ کر ہر عاشق رسول ﷺ کی روح کانپ جائیگی ۔قرآن پاک میں خود حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ قل انما انا بشر مثلکم آپ کہہ دیجئے میں تو تم جیسا بشر ہوں (سورہ کہف کا آخر پ۱۶)قارئین کرام مولوی صاحب کا کہنا کہ قرآن پاک میں انبیاء کو بشر کہنے والوں کوکئی جگہ کافر کہا گیا ہے ۔۔اس آیت میں خود حضور ﷺ اپنے آپ کو بشر کہہ رہے ہیں بتلائے کیا حضور ﷺ بھی قرآن کے اس فتوے کی زد میں آرہے ہیں یا نہیں ۔۔۔؟؟؟العیاذ باللہ ۔۔قارئین کرام یقین جانئے کوئی میرے دل سے پوچھے کہ ان کفریات کو نقل کرتے ہوئے میرے دل پر کیا گزر رہی ہے ۔۔لیکن دوسری طرف میں آپ کو ان بناسپتی عاشقان رسول ﷺ کا اصل چہرہ دکھلانا چاہتا ہوں۔۔کہاں ہے وہ رضاخانی جو علماء اہلسنت کی صحیح عبارتوں میں بھی ستر ستر وجوہ کفر نکالتے ہیں کوئی بریلوی مجھے بتلائے گا کہ اس عبارت میں کتنے کفریات کی وجہ سے ملاں نعیم الدین کافر ٹھرتے ہیں۔۔۔؟؟؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی
حضور ﷺ میاں بیوی کی ہمبستری کے وقت بھی حاضر و ناظر
حضور ﷺ زوجین کے جفت و ہمبستری ہونے کے وقت بھی حاضر و ناظر ہوتے ہیں(العیاذ باللہ )
(مقیاس حنفیت ص ۲۸۲بحوالہ رضاخانی مذہب)
احمد ﷺ کو احمد رضاکا انتظار
واقعہ یہ ہے کہ ۲۵ صفر المظفر ۱۳۴۰ کو میرے نصیب جاگے خواب نبی کریم ﷺ ک یزیارت نصیب ہوئی دیکھا کہ حضور ﷺ تشریف فرما ہیں صھابہ کرامؓ حاضر دربار ہیں لیکن مجلس پر شکوت طاری ہے لگتا تھا کسی کا انتظار ہے میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا فداک امی و ابی کس کا انتظار ہے؟فرمایا احمد رضاکا انتظار ہے(اعلی حضرت اعلی سیرت ص ۱۶۱،اکبر بک سیلرز لاہور)
کاش کہ رضاخانی خان صاحب کی بزرگی ثابت کرنے کیلئے اس جھوٹے واقع کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ اعلحضرت کی اس کرامت کو بھی ذکر کردیتے جس میں مولوی احمد رضاخان چھ سات سال کی عمر میں اپنے محلے کی رنڈیوں کو اپنی ’’شرمگاہ‘‘ دکھاتے ہوئے پھر رہے تھے(بریلوی حضرات سے درخواست ہے کہ اس حوالے کا سکین پیج ضرور طلب کیجئے گا)۔
مولوی احمد رضاخان کی حمد بیان کرنا گویا حضور ﷺ کی حمد بیان کرنا ہے
آپ کا حامد ہے حامد سید کونین کا
ہے وہ تیری ع و شان احمد رضاخان
(اعلحضرت اعلی سیرت ص ۱۶۶)
احمد رضاخان حضور ﷺ کا معجزہ تھے
آپ کے اوصاف تک کس کی رسائی ہو بھلا
ہو نبی کے معجزے بس ختم ہے اس پہ سخن
(اعلی حضرت اعلی سیرت ص۱۷۰)
یعنی میں آپ کے اوصاف کیا کیا بیان کروں اس تک تو کسی بشر کی پہنچ ہی نہیں بس بات اس پر ختم کرتا ہوں کہ آپ نبی ﷺ کا معجزہ تھے ۔العیاذ باللہ
حضور ﷺ شاہ عالم کی صورت میں
دعوت غیر اسلامی کے امیر اہل بدعت الیاس قادر یصاحب مولوی امجد علی اعظمی کی سیرت میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ:
اسی وقت سرکار مدینہ کی زیارت ہوئی سرکار ﷺ کے لبہائے مبارک کو جنبش ہوئی مشکبار پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے شاہ عالم تمھیں اپنے اسباق رہ جانے کا بہت افسوس تھا لہٰذا تہماری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھا دیا کرتا تھا (العیاذ باللہ)(تذکرہ صدر الشریعہ ص۳۶،۳۷مکتبۃ المدینہ)
قارئین کرام یہ عبارت اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے میں اس پر زیادہ تبصرہ نہیں کروں گا بس رضاخانی مفتیوں سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جب حضور ﷺ شاہ عالم کے شاگردوں کو پڑھا رہے تھے تو کیا ان شاگردوں کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔؟؟؟کیا وہ شاگرد یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ڈائرییکٹ بلا واسطہ حضور ﷺ کے شاگرد تھے۔۔۔؟؟؟؟
اولیاء کرام دلہنیں حضور ﷺ دلہا
عرس کے معنی ہیں شادی یا برات ہر مسلمان کیلئے عموما اور اولیاء کیلئے خصوصا دینا قید خانہ ہے الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر اور موت کے دن حضرات کے دنیاوی غموم سے آزاد ہونے اور اپنے محبوب سے ملنے کا دن ہے لہٰذا یہ دن شادی کا دن ہے نیز مومن سے نکیرین سوالات کے جوابات سن کر کہتے ہیں کہ دلہن کی طرح سوجا معلوم ہوا کہ لوگ بزبان ملائکہ دلہن بنائے گئے اس لئے یہ دن روز عرس یعنی شادی کا دن ہوا۔
تیسرے یہ کہ یہ دن حضور ﷺ سے ملنے کا دن ہے اور حضور عالم کے دولہا ہیں اور دلہا سے ملنے کی رات شب برات ہے
(مواعظ نعیمیہ حصہ دوم ص ۲۲۲)
غور کیا قارئین کرام مفتی احمد یار گجراتی کیا کہہ گئے اپنی ہذیانی کیفیت اور خطابت کے زور میں۔۔۔ کہ تمام مومنین گویا دلہنیں ہیں اور حضور ﷺ ان کے دلہا اور چونکہ اس دن دلہا دلہن آپس میں ملتے ہیں لہٰذا ہم اسے عرس کہتے ہیں۔۔استغفر اللہ۔۔تف ہے تم پر ایک فرقہ بریلویہ۔

احمد رضاخان کی تعظیم حضور ﷺ کی تعظیم ہے
تیری تعظیم ہے سرکار عرب کی تعظیم
تو ہے اللہ کا اللہ تعالی تیرا (نعوذ باللہ)
(مدائح اعلحضرت ص۲۸)
کہاں مقام مصطفی ﷺ اور کہاں آشوب چشم کا مریض حامی بدعت کیا پدی کیا پدی کا شوربہ
چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک
بھلا اس سے بڑی بھی محمد عربی ﷺ کی توہین ہوگی کہاں ہے وہ لوگ جو علمائے اہلسنت کی صحیح عبارت کو آگے پیچھے جوڑ کر اپنا شوق کفر گری پورا کرتے ہیں ہے کوئی بریلوی مفتی جو اس شاعر پر کفر کا فتوی لگائے ۔
رضاخانی سلام
امام برحق احمد رضا سلام علیک
جناب نائب غوث الوری سلام علیک
ستائے حشر میں گر مہر کی تپش ہم کو
چھپائے ہم کو زیر روا سلام علیک
ہمیشہ سر پر غلاموں کے یہ رہیں سلام علیک
جناب مصطفی احمد رضا سلام علیک
(مدائح اعلحضرت ص ۲۶)
حضور ﷺ کو دیکھنے والے کافر
حضرت محمد ﷺ کے نور کو دیکھنے سے تمام ادیان والے کافر ہوگئے کسی کو اس کی خبر نہیں (العیاذ باللہ)
(فوائد فریدیہ ص ۸۰)
اسٹغفر اللہ قارئین کرام اس عبارت کو تو لھکتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے مجھ میں اس عبارت کی تشریح کی ہمت نہیں ۔۔اللہ ایسے بدبختوں سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔آمین

قارئین کرام عبارات تو اور بھی اس وقت میرے سامنے ہے لیکن وقت کی بہت تنگی ہے ۔یہ چند مثالیں میں نے پیش کردی ہیں انشاء اللہ اگر وقت ملا تو مزید حوالے بھی آئیں گے۔آپ حضرات سے دعا کی درخواست ہے۔
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔