جمعہ، 6 نومبر، 2015

خوارج کے متعلق احادیث تبلیغی جماعت پر چسپاں کرنے کا منہ توڑ جواب


ؐان تینوں احادیث میں کہیں بھی نہ تو تبلیغی جماعت کا ذکر ہے اور نہ ہی اشارہ بلکہ صاف طور پر جس جماعت اور گروہ کا ذکر تھا رضاخانیوں نے خدا خوفی سے بے پرواہ ہوکر محض تعصب میں اس جماعت کانام نہیں لیا اور تحریف کا ثبوت دیتے ہوئے اسے زبردستی تبلیغی جماعت پر چسپاں کردیا حدیث کے مکمل حوالے اور عربی عبارات بھی اسی لئے نہیں دی کہ کوئی اصل حوالوں کی طرف مراجعت نہ کرلے اور یوں ہمارا دجل و فریب ساری دنیا پرآشکارا نہ ہوجائے جن کے مجدد صاحب مکہ و مدینہ میں جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے وہ اگر پاکستان میں بیٹھ کر نبی کریم ﷺ کی احادیث پر جھوٹ بولنے لگ جائیں تو کیا بعید ہے۔
رضاخانیوں سے میرا سوال یہ ہے کہ
ان احادیث میں جس گروہ کا ذکر ہے وہ گرو ہ بریلوی رضاخانی ہیں پس جس اصول اور جن دلائل سے تم لوگ اپنے آپ کو اس حدیث سے مستثنیٰ کرو گے انشاء اللہ انہی دلائل سے ہم تبلیغی جماعت کومستثنیٰ کردیں گے

ماکان جوابکم فھو جوابنا
دوسری بات:
اس رضاخانی نے پہلی حدیث جو بخاری جلد دوم سے دی اس پر باب ہی یہی ہے کہ:
باب قتال (قتل ) الخوارج ۔۔۔
رضاخانیوں کوشرم نہیں آتی کہ وہ خوارج کے متعلق احادیث کو تبلیغی جماعت پر چسپاں کرتے ہیں ہم اگر شرک کے رد میں قرآنی آیات پیش کریں تو یہ لوگ چیخنے لگ جاتے ہیں کہ کافروں کے بارے میں نازل شدہ آیاتیں ہم پر چسپاں نہ کرو اور خود یہ دجل و فریب۔ اگر رضاخانیوں میں ذرا بھی غیرت ایمانی ہے تو کسی مسلم بین الفریقین شارح حدیث سے ثابت کردیں کہ اس جماعت سے خوارج نہیں بلکہ مستقل میں تبلیغی جماعت مراد ہے ۔۔۔
باقی اس حدیث کا مطلب تفصیل سے محسن بھائی لکھ چکے ہیں اس لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں البتہ ایک بات جس سے رضاخانی کو بطور شرارت اور عوام کو اپنی جہالت کی وجہ سے مغالطہ ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ یہ جماعت آخری زمانے میں نکلے گی تو وہ زمانہ کونسا ہے ۔۔۔؟؟؟ تو خود بخاری کے حاشے میں اس کا جواب علامہ کرمانی نے دے دیا ہے کہ اس آخری زمانے سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں یہ گروہ پورے آب و تاب کے ساتھ نکلے گا اور ایسا ہی ہوا ملاحظہ ہو حاشیہ بخاری باب قتل الخوارج ص ۱۹۳۱ غرض اس سے قیامت کاآخری زمانہ نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے۔
تیسری بات:
یاد رہے کہ یہ حدیث بخاری کے باب من رایا (اثم من رای) بقراٗۃ القرآن او تاکل بہ او فجر بہ (فخر بہ) حدیث نمبر ۵۰۵۷ پر بھی ہے ۔اس صورت میں یہ حدیث کسی خاص جماعت کے ساتھ متعلق نہیں ہوگی بلکہ ہر وہ شخص جو ریاکاری کیلئے یا محض پیٹ کیلئے قرآن پڑھتا پڑھاتا ہے وہ اس حدیث کا مصداق ہوگا
وھی ان القراۃ اذا کانت لغیر اللہ ھی للریاء او تاکل بہ او نحو ذالک
(عمدۃ القاری ،ج۱۳، ص ۵۹۴)
اور کون نہیں جانتا کہ آج رضاخانیوں نے قرآن کو پیٹ پوجا کا ذریعہ بنایا ہوا ہے تیجے کے نام پر چالیسویں کے نام پر برسی کے نام پر فلاں ختم تو فلاں ختم کے نام پر لوگوں کی جیبیں ٹٹولتے ہیں قرآن کے ذریعہ کھاتے تو ہیں مگر اس کے احکام سے بغاوت کرتے ہیں ۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ شارحین حدیث نے باب کی اسی حدیث کی شرح میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے واقعہ کا ذکر کیا کہ انھوں نے تو ایک جگہ قرآن سے دم کیا اور مال لیا تو کیا وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ انھوں نے قرآن پڑھنے پر مال نہیں لیا بلکہ دم وغیرہ کرنے پر لیا ۔(ملاحظہ ہو عمدۃ القاری) پس اگر یہ حدیث تبلیغی جماعت کے ساتھ خاص ہوتی تو اس واقعہ کو ہرگز ذکر نہ کیا جاتا اور نہ اس کا جواب دیا جاتا بلکہ صاف کہہ دیا جاتا کہ اس حدیث کا مصداق اس دور کا کوئی بھی شخص یا گروہ نہیں بلکہ مستقل میں آنے والی ایک تبلیغی جماعت ہے ۔
چوتھی بات:
علامہ عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ :
من کان یدعو الی بدعۃ قوتل حتی یوتی علیہ او یرجع الی اللہ و ان لم یدع یصنع ما صنع عمر رضی اللہ تعالی و یسجن و یکرر علیہ الضرب حتی یموت ( عمدۃ القاری ،ج۱۳،ص ۵۹۴، دارالحدیث ملتان)
جو شخص بدعت کی طرف بلائے اس سے قتال کیا جائے یہاں تک کہ اس کو قابو کرلو یا وہ شخص توبہ کرلے اگر بعض نہ آئے تو اس کے ساتھ وہی کیا جائے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بدعتی کے ساتھ کیا کہ اس کو جیل خانے میں قید کرکے مسلسل مارا جائے یہاں تک کہ مرجائے۔
لیجئے رضاخانی تو یہ حدیث ہمارے خلاف استعمال کرتے لیکن ہم نے حوالہ دے دیا کہ اس سے مراد بدعتی یعنی رضاخانی ہیں آج ساری دنیا جانتی ہے کہ بریلوی بدعت کے سب سے بڑے ٹھیکے دار ہیں ۔
اس حوالے سے ہمارے ان محسنوں کا بھی جواب ہوگیا جو ہم سے یہ گلہ کرتے ہیں کہ آپ رضاخانیوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں یہ درست نہیں مہربانم شریعت میں تو ایسے لوگوں کو قتل کردینے کاحکم ہے ہم تو پھر بھی قلم سے ان پر سختی کرتے ہیں یہ تو ہمارا احسان ہے ان پر مگر پھر بھی آپ کو ہم سے گلہ۔۔ہم نے اکابر کا طریقہ آپ کو بتادیا کہ وہ بدعتیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔
مشکوۃ شریف کی حدیث میں بدترین خیانت:
رضاخانی نے اپنے استدلال میں جو دوسری حدیث مشکوۃ پیش کی ہے اس میں اس قدر کھلی تحریف کی ہے کہ شیطان بھی شرما جائے آپ پوری حدیث ملاحظہ فرمائیں :
عن شریک شھاب قال کنت اتمنی ان القی رجلا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسالہ عن الخوارج فلقیت ابا ہریرۃ فی یوم عید فی نفر من اصحابہ فقلت لہ ھل سمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر الخوارج ۔۔۔
شریک بن شھاب فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی خواہش تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی سے ملاقات کروں اور ان سے ’’خواج‘‘ کے متعلق پوچھوں۔۔۔الخ



قارئین کرام غور فرمائیں حدیث میں صاف طور پر ’’خوارج ‘‘ کا لفظ تھا مگر رضاخانیوں نے اس عبارت کوبالکل ہضم کردیا تف ہے ایسی دیانت پر کیا یہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔۔۔؟؟؟کیا تمھیں نبی کی احادیث میں تحریف کرتے ہوئے ذرا حیاء نہیں آتی۔۔۔؟؟؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا اس کا ٹھکانہ جہنمی ہے لہٰذا اس مضمون کا لکھنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی وجہ سے پکا لعنتی اور جہنمی ہے۔
حدیث کی عبارت ہی اس پر دال ہے کہ یہ حدیث خوارج کے لئے ہے اور خوارن کون تھے اس کے متعلق سعد بھائی تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔۔۔رہا حدیث میں آخری زمانے میں یہ گروہ نکلے گا تو اس کے متعلق بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ اس آخری زمانے سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے۔۔
باقی رہا گنجا ہونا تو اس کے متعلق سعد بھائی فتاوی شامی کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ گنجا ہونا سنت میں سے ہے نیز اسی مشکوۃ کے حاشیہ پر اشعۃ اللمعات کے حوالے سے لکھا ہے کہ
لیس ذالک لذم الحلق فانہ من شعائر اللہ ونسکہ سمۃ عباد الصالحین و قد کان امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی عنہ یخلق و یداوم علی ہذا(مشکوۃ ص ۳۰۸)
یہاں ان کی نشانی گنجا ہونا بطور ذم کے نہیں اس لئے کہ حلق (گنج) کروانا تو شعائر اللہ میں سے ہے اور اللہ کے نیک بندوں کی نشانیوں میں سے ہے اور تحقیق امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجھہ ہمیشہ حلق کروایا کرتے تھے۔
غور فرمائیں حلق شعائر اللہ میں سے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت میں سے ہے اگر گنجا ہونا خارجی ہونے کی علامت ہے تو بریلویوں کا یہ فتوی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی لگتا ہے گویا معاذ اللہ وہ بھی خارجی ہوئے اور خارجی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دشمن تھے لہٰذا اس حدیث سے حلق کی مذمت بیان کرکے گویا رضاخانیوں نے معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی مذمت کی ہے اب خو د فیصلہ فرمالیں کہ خارجی کون ہے۔۔۔؟؟؟
مرقات شرح مشکوۃ میں ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ سیماھم التحلیق کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح آدمی کا سر جب گنجا ہوتا ہے تو بالوں سے بالکل صاف ہوجاتا ہے اسی طرح خارجیوں کا باطن بھی ایمان سے بالکل صاف تھا۔
غرض کسی نے بھی اس لفظ کو اپنے ظاہر پر محمول نہیں کیا بلکہ ہر شارح نے اس کی کوئی نہ کوئی تاویل کی نیز یہ رضاخانی ملاں بتائے کہ سیماھم التحلیق میں ’’خاص نشانی۔۔الخ‘‘ میں ’’خاص‘‘ کس لفظ کا ترجمہ ہے۔۔۔؟؟؟
بالفرض اگر گنجا ہونا ’’خارجی ‘‘ ہونے کی علامت ہے تو مندرجہ ذیل افراد پر کیا حکم ہے؟؟؟۔۔سنبع سنابل بریلویوں کے نزدیک معتبر ترین کتاب ہے احمد رضاخان نے صرف ملفوظات میں تین جگہ اس کا حوالہ دیا ہے اور اس کتاب کا ترجمہ مشہور بریلوی مولوی خلیل خان برکاتی نے کیا ہے اس میں گنجے ہونے کے فضائل ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:




اسی طرح بریلوی خطیب پاکستان حلق کے متعلق لکھتے ہیں:



تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کے تمہارے اکابر تو گنہا ہونے کو اچھی بات کہتے ہیں اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کہتے ہیں بلکہ گنجا ہونے کے اتنے دیوانے ہیں کہ اس کیلئے جھوٹی روایات نقل کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے(کما فی سبع سنابل)اور تم آج کے دو ٹکے کے ٹٹ پونجئے اسے خارجیوں کی علامت تسلیم کرتے ہو اگر یہ خارجی ہونے کی علامت ہے تو سبع سنابل کے مذکور ہ افراد کے متعلق کیا حکم ہے ۔۔۔؟؟؟ہمت ہے تو ان پر بھی فتوی لگاو اگر نہیں تو جس اصول کے تحت یہ افراد باجود حلق کروانے کے خارجی نہیں اسی اصول کے تحت تبلیغی جماعت والے بھی نہیں ہیں۔
ماکان جوابکم فھو جوابنا
تیسری حدیث بھی خوارج کے متعلق ہے اور اس کے بارے میں چونکہ تفصیل اوپر گزرگئی اس لئے دوبارہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔اگر رضاخانیوں میں غیرت ایمانی ہے تو ان تمام باتوں کا جواب دے۔۔یا ایسے دجال مولویوں پر لعنت بھیجے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔