جمعہ، 4 دسمبر، 2015

تقویۃ الایمان میں سخت الفاظ ہیں امداد الفتاوٰی کے حوالے کا جواب


تقویۃ الایمان اور امدادالفتاوی
اس کے بعد ترجمان رضاخانیت اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’تقویۃ الایمان کے انداز و لہجہ گستاخانہ ہونے کا خود مولوی اشرف علی تھانوی کو بھی اقرار ہے سوال و جواب دونوں پیش خدمت ہیں ۔
سوال :
وہابی کی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا ہے کہ کل مومن اخوۃ یعنی آپس میں سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ خدا کے آگے پیغمبر ایسے ہیں جیسے چماڑ چوڑھے تو آپ اس میں کیا فرماتے ہیں کہ (انبیاء کو )بھائی کہنا درست ہے کہ نہیں ؟ اور چمار چوڑھے کے بارے میں بھی لکھنا ضرور بالضرور تاکیدا لکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سب مسلمان مومن بھائی ہیں نفاق پڑا ہے ۔ کیونکہ وہابی لوگ کہتے ہیں کہ کہنا درست ہے اور حضرت محمد ﷺ کو بڑا بھائی کہتے ہیں اور سب جماعت کہتی ہیں کہ کہنا درست نہیں لہذا براہ مہربانی اس خط کا جواب بہت جلد لکھئے۔
الجواب : تقویۃ الایمان میں بعض الفاظ جو سخت واقع ہوگئے ہیں تو اس زمانے کی جہالت کا علاج تھا ۔۔۔لیکن اب جو بعضوں کی عادت ہے کہ ان الفاظ کو بلا ضرورت بھی استعمال کرتے ہیں یہ بے شک بے ادبی و گستاخی ہے ۔۔۔تقویۃ الایمان والوں کو بھی برا نہ کہا جائے اور تقویۃ الایمان کے ان الفاظ کا استعمال بھی نہ کیا جاوے گا ۔(امداد الفتاوی ،ج5،ص405،طبع کراچی )
قارئین غور کیجئے کہ تھانوی صاحب کی تقویۃ الایمان کے انداز کے گستاخانہ ہونے کا اقرار ہے مگر پھر اسے اس دور کی جہالت کا علاج قرار دے کر اپنے گرو اسمعیل کو بچانے کی فکر میں ہیں ذرا انصاف کیجئے کہ حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ اقدس میں تو راعنا کرنا بھی منع قرار دے دیا گیا مگر دیوبندی مذہب میں جہالت کا علاج گستاخی رسول ( ﷺ ) سے کیا جاتا ہے فیا للعجب بحمدا للہ علمائے اہل سنت نے تقویۃ الایمان کے رد میں بقول سید محمد فاروق القادری اڑھائی سو کتب تحریر فرمائیں بلکہ خود حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خاندان سے ہی متعدد کتب اس کے رد میں لکھی گئیں جن میں مولانا مخصوص اللہ بن شاہ رفیع الدین کی معید الایمان ‘‘۔ (دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص31,32)
جواب :کاشف اقبال رضاخانی نے اپنے موروثی فن قطر و بیونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امداد الفتاوی کی عبار ت کاٹ پیٹ کر پیش کی ۔مکمل عبارت ملاحظہ ہو اس کے بعد ہم اس عبارت سے رضاخانیوں کے استدلال کا جائزہ لیں گے ۔
’’الجواب : تقویۃ الایمان میں بعض الفاظ کو سخت واقع ہوگئے تو اس زمانے کی جہالت کا علاج تھا،جس طرح قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کو الہ ماننے والوں کے مقابلے میں قل فمن یملک من اللہ شیاء ان اراد ان یھلک المسیح بن مریم الخ فرمایا ہے لیکن مطلب ان الفاظ کا برا نہیں ہے جو غور سے یا سمجھانے سے سمجھ میں آسکتا ہے لیکن اب جو بعضوں کی عادت ہے کہ ان الفاظ کو بلا ضرورت بھی استعمال کرتے ہیں یہ بے شک بے ادمی اور گستاخی ہے اگر متنازعین میں انصا ف ہوگا تو ان سطروں سے باہم فیصلہ کرلیں گے جسکا خلاصہ یہ ہوگا کہ تقویۃ الایمان والوں کو برا بھی نہ کہا جائے اور تقویۃ الایمان کے ان الفاظ کا استعمال بھی نہ کیا جاوے گا‘‘۔ ( امداد الفتاوی ،ج5،ص389،کتاب العقائد والکلام )
اول بات تو یہ ہے کہ اس فتوے میں کہیں بھی تقویۃ الایمان کی عبارات کو’’گستاخانہ‘‘ نہیں کہا گیا ،ہاں بعض الفاظ کو سخت کہا اور سخت و گستاخی میں زمین آسمان کا فرق ہے اور وہ سخت بھی انبیاء علیہم السلام کیلئے نہیں فرمایا جیسا کہ رضاخانیوں نے دھوکا دیا۔اور ساتھ ہی اس کی توجیہ بھی فرمادی کہ بعض اوقات مرض کے سخت ہونے کی وجہ سے علاج بھی سخت کرنا پڑتا ہے ۔بعض دفعہ سداللباب بعض معاملات میں سختی کرنی پڑتی ہے مگر عام حالات میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔دیکھیں حدیث میں آتا ہے :
عن جابر بن عبد اللہ قال قال رسول اللہ ﷺ بین الرجل و بین الکفر ترک الصلوۃ رواہ احمد و مسلم و قال بین الرجل و بین الشرک والکفر ترک الصلوۃ ۔الحدیث
حضور اقدس ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز چھوڑ نا آدمی کو کفر سے ملادیتا ہے ایک جگہ ارشاد ہے کہ ایمان و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے ۔اب دیکھیں اس حدیث میں نماز چھوڑنے کو کفر و شرک کہا مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ صرف زجر و توبیخ کے طور پر کہا گیا ہے ا س سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ معاذ اللہ نماز چھوڑنے سے آدمی کافر و مشرک ہوجاتا ہے تو تحدیدا تو اس حدیث کو بیان کرنا درست ہے مگر کوئی اس کو بلا ضرورت جواز بناکر ہر تارک نماز پر کفر کے فتوے لگاتے پھرے تو یقیناًیہ غیر مناسب رویہ ہے ۔
غلام نصیر الدین سیالوی بریلوی ابن اشرف سیالوی بریلوی لکھتا ہے :
’’شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے جب ان سے کسی پادری نے پوچھا کہ اللہ تعالی نے میدان کربلا میں تمہارے نبی علیہ السلام ان انکے لئے دعا کیوں نہ کی اور دعا کرکے ان کو بچا کیوں نہ لیا ؟اس کے جواب میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے فرمایا کہ پیغمبر علیہ السلام جب فریاد کے واسطے گئے تو پردہ غیب سے آواز آئی کہ ہمیں اپنے بیٹے کا سولی چڑھنا یاد آیا ہوا ہے ہم اس کے غم میں مصروف ہیں تمہارے نواسے کا کیا کریں ‘‘۔(کمالات عزیزی ،ص5)
(بحوالہ عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،ص363جلد اول مکتبہ غوثیہ کراچی )
ملاحظہ فرمائیں شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک خاص ماحول میں اور خاص پیرائے میں جواب دیا لیکن اب کوئی دریدہ دہن اس کو لیکر بلا ضرورت یہ کہنا شروع کردے کہ دیکھو اللہ کا بیٹا تھا سولی چڑھ گیا اللہ اس کو نہ بچا سکا تو ہمیں کیا بچائے گا معاذ اللہ تو جواب دیں یہ انداز بیان گستاخی پر محمول ہوگا یا نہیں ؟اور جواب دیں کہ اس گستاخی کا سبب شاہ صاحب دہلوی ہیں یا اس دریدہ دہن کی اپنی الٹی سوچ؟
دیکھیں قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام کی خطا و لغزش کا ذکر ہے اسے کوئی عقیدے کے بیان میں اور موقع کی مناسبت سے بیان کرے تو بالکل ٹھیک ہے مگر اسے بنیاد بناکر یہ واویلا کرنا کہ جب انبیاء سے غلطیاں ہوسکتی ہیں تو ان کی اطاعت کیوں کی جائے ؟تو ظاہر ہے کہ یہ بے ادبی میں شمار ہوگا۔
یہی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمانا چاہ رہے ہیں کہ تقویۃ الایمان میں بعض باتیں عقائد کے باب میں موقع کی مناسبت سے بیان ہوئی ہیں بعض جگہ کچھ سخت باتیں سدا للباب کے طور پر بیان کردی گئی ہیں مگر ان باتوں کو ان کے مقام و ضرورت تک محدود رکھا جائے اور عند الضرور ت بلاشبہ ان کو بیان کیاجاوے لیکن ہر وقت ہر ایک کے سامنے موقع بموقع اس کو بیان کرنا مناسب نہیں ۔حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت :
’’لیکن اب جو بعض کی عادت ہے کہ ان الفاظ کو بلا ضرورت بھی استعمال کرتے ہیں یہ بے شک بے ادبی اور گستاخی ہے ‘‘۔
عبارت میں ’’ان ‘‘ کا مشار الیہ تقویۃ الایمان نہیں بلکہ سوال میں پوچھی گئی باتیں ہیں کہ ایک ہے عقیدے کے بیان میں نبی اکرم ﷺ کی اخوت کا بیان (جس کی تفصیل اپنے مقام پر آرہی ہے )اور ایک ہے ہر جگہ یہ رٹ لگانا کہ نبی تو ہمارے بڑے بھائی ہیں تو نبی کو اپنا بڑا بھائی ہی کہیں گے یقیناًغیر مناسب ہے ۔اسی طرح اللہ رب العزت کی قدرت و طاقت کو اپنے موقع پر بیان کرنا بالکل بجا ہے لیکن اب کوئی اس کا مطلب یہ لے کہ چونکہ اللہ کی قدرت کے بیان میں بعض جگہ علماء سخت پیرایہ اپنایا ہے لیکن ہم اللہ کی قدرت کو اس طرح بیان کریں گے کہ یہاں تک بول دیں گے کہ العیاذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد اللہ تعالی کے سامنے پیغمبر چوڑے چماڑ ہیں یقیناًبے ادبی و گستاخی ہے۔اللہ پاک جزائے خیر دے حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو کتنی منصفانہ اور پیاری بات فرمائی ہے مگر الٹی عقل والے کو ہر چیز الٹی ہی نظر آتی ہے ۔
امداد الفتاوی کے جواب میں دو فیصلہ کن بریلوی عبارات
بریلوی حکیم الامت مولانا منظور اوجھیانوی المعروف مفتی احمد یار گجراتی صاحب پر اعتراض ہوا :
’’اعتراض (۶)شمائل ترمذی میں حضرت صدیقہ کی روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ کان بشرا من البشر حضور علیہ السلام بشروں میں سے ایک بشر تھے اسی طرح جب حضور علیہ السلام نے عائشہ صدیقہ کو اپنی زوجیت سے مشرف فرمانا چاہا تو صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا میں آپ کا بھائی ہوں کیا میری دختر آپ کو حلال ہے دیکھو حضرت عائشہ نے حضور علیہ السلام کو بشر کہا اور صدیق نے اپنے کو حضو ر کا بھائی بتایا۔
تو مفتی احمد یار گجراتی صاحب جواب دیتے ہیں :
’’جواب :۔بشر یا بھائی کہہ کر پکارنا یا محاورہ میں نبی علیہ السلام کو یہ کہنا حرام ہے عقیدہ کے بیان یا دریافت مسائل کے اور احکام ہیں ۔حضرت صدیقہ یا صدیق رضی اللہ عنہما عام گفتگو میں حضور علیہ السلام کو بھائی یا بشر نہ کہتے تھے یہاں ضرورۃ اس کلمہ کو استعمال فرمایا‘‘۔
( جاء الحق ،ص 161،شوکت بک ڈپو گجرات )
یہی مقصود حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے ایک ہے عقیدہ اور احکام میں ضرورۃ کسی بات کو بیان کرنا اور ایک ہے محاورہ اور عام بول چال میں بیان کرنا دونوں میں بون بعید ہے۔یادرہے کہ ہماری کتابوں میں جو نبی کریم ﷺ کو بھائی یا بشر کے الفاظ ہیں وہ بھی اسی عقیدے کے بیان میں ہیں نہ یہ کہ عام بول چال میں بھی ہم نبی کو بھائی یا بشر کہہ کر پکارتے ہیں اگر کسی رضاخانی میں غیرت ہے تو اس امر کا ثبوت دے کہ ہم عام بول چال میں بھی نبی کریم ﷺ کو صرف بشر کہتے ہیں یا بشر کہہ کر پکار تے ہیں ۔الحمد للہ اس حوالے سے ان تمام اعتراضات کا جواب بھی ہوگیا جو بشر یا بھائی کے الفاظ سے ہم پر کئے جاتے ہیں۔
دوسرا حوالہ : نواب احمد رضاخان صاحب بریلوی فرماتے ہیں :
’’ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا جو الفاظ شان اجلال میں ارشا د کرگئی ہیں دوسرا کہے تو گردن ماردی جائے اندھوں نے صرف شان عبدیت دیکھی ہے شان محبوبیت سے آنکھیں پھوٹ گئی ہیں ‘‘۔ ( ملفوظات حصہ سوم ،ص253،فرید بک سٹال لاہور )
ایک طرف بریلوی کہتے ہیں کہ گستاخی کوئی بھی کرے ہمارے والدین اساتذہ ہی کیوں نہ ہو ہم انہیں معاف نہیں کریں گے تو کیا اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا معاذ اللہ جلال میں آکر گستاخانہ الفاظ کہنا جو بقول احمد رضا قابل گردن زدنی ہیں تو جائز ہوا مگر کوئی اور کہے تو گردن ماردی جائے ۔کیوں ؟کس قاعدے کس اصول کے تحت یہ فرق کیا جارہا ہے ؟جو اصل رضاخانی حضرات یہاں ذکر کریں وہی اصول امداد الفتاوی میں موجود ’’بلا ضرورت‘‘ کے لفظ پر حاشیہ لگا کر رقم کردیں ۔یاد رہے کہ جو بھی اصول نقل کریں گے اس سے زیادہ سے زیادہ امداد الفتاوی ہی کا دفاع ہوگا اس عبارت میں اماں عائشہ کی طرف جو گستاخی منسوب کی گئی ہے معاذ اللہ اس کا ہرگز دفاع نہ ہوسکے گا۔
دل تو کررہا ہے کہ رضاخانی معترض کی مزید بھی خاطر تواضع کی جائے اور سرقہ شدہ عرق ریزی و تحقیق کا سارا بھرکس نکال دیا جائے الحمد للہ اس رضاخانی کے ہر اعتراض کے جواب میں راقم کے پاس بیسیوں دلائل موجود ہیں مگر صفحات کی تنگی اور اعتراضات کی کثرت کی وجہ سے سب کا احاطہ ممکن نہیں لہذا اب ہم آگے چلتے ہیں۔


1 تبصرے:

ammar mobail نے لکھا ہے کہ

بہت اچھا کام کررہے ہیں جی ماشاء اللہ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔