جمعرات، 10 دسمبر، 2015

پیلی چپل پہننے والی روایت کی تحقیق


بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیلی چپل پہننے والی روایت کی تحقیق
ازقلم:مولاناساجدخان نقشبندی
ہمار ے ارد گرد ایسی بہت سی حدیثیں زبان زد عام ہیں جن کا ثبوت موجود نہیں ۔چنانچہ محدثین کرام ان روایتوں کو صاف الفاظ میں بے اصل اور غیر ثابت شدہ قرار دیتے ہیں۔کیونکہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی بھی کلام اور کلمات کو رسول اللہ ﷺ کی جانب ایک خاص اصل اور قاعدے سے منسوب کیا جاسکتا ہے،جسے’’ اسناد‘‘ کہتے ہیں اس اسناد میں موجود راویوں کے حالات ،ان کے مابین اتصال اور انقطاع وغیرہ امور کو دیکھ کر حفاظ حدیث ہر حدیث کو اس کا فنی مقام دیتے ہیں ،اس چھان بین میں بعض حدیثوں کو وہ بے اصل قراردیتے ہیں لہٰذا ایسی حدیثوں کو بیان کرنا جائز نہیں۔ اسی سلسلے میں اس عنوان کے تحت ہم ایسی ہی ایک روایت کی تحقیق کریں گے۔
تحقیق کا خلاصہ


۱۔ روایت کے طرق
۲۔ روایت کے مصادر
۲۔ روایت کے متعلقہ آئمہ کا کلام
۳۔ متکلم فیہ رواۃ پر آئمہ جرح و تعدیل کا کلام
روایت کے طرق
روایت کے دو طریق ہیں ۔(۱)حضرت ابن عباسؓ کا طریق ۔(۲)حضرت علیؓ کا طریق :
حضرت ابن عباسؓ کا طریق
علامہ ابن ابی حاتم ؒ (المتوفی ۳۲۷ھ)نے اس کو اپنی تفسیر میں تخریج کیا ہے :
حدثنابی ثنا سھل بن عثما ن ثنابن العذرا عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس قال من لبس نعلا صفرآء لم یزل فی سرور مادام لابسھا
(تفسیر بن ابی حاتم ،لابی محمد عبد الرحمن بن محمد بن ادریس بن المنذرالتمیمی الحنظلی الرازی ابن ابی حاتم ،ج۱،ص۱۳۸،رقم ۷۰۵ ،ت اسعد محمد طیب ، مکتبہ نزا رمصطفی الباز ۔الریاض)
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جس نے پیلے رنگ کے جوتے پہنے، تو جب تک پہنے رکھے گا خوش و خرم رہے گا
ابن عباسؓ کی اسی روایت کو اپنی سند کے ساتھ طبرانی (المتوفی ۳۶۰ھ) نے بھی نقل کیا ہے ۔
(المعجم الکبیر ،ج۱۰،ص:۳۱۹،۳۲۰،ت:حمدی عبد المجید السلفی ،مکتبہ ابن تیمیہ ۔القاہرۃ)
اسی طرح ابو سعید بن الاعرابی البصری الصوفی (المتوفی ۳۵۰ھ)نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔
(کتاب المعجم لابن العرابی ،ج:۲،ص:۴۹۹،رقم:۹۶۸،ت :عبد المحسن بن ابراہیم بن احمد الحسینی ،دارالابن الجوزیۃ)
خطیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفی ۴۶۳ھ) نے بھی اس روایت کی تخریج کی ہے:
(الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع ،ج:۱،ص:۶۱۶،۶۱۷،رقم:۹۲۲،موسسۃ الرسالۃ ۔بیروت۔
تاریخ مدینۃ السلام و أخبار محدثِیھا و ذکرُ قُطّانھا العلماءِ من غیر اھلھا و واردیھا،ج:۶،ص:۱۶۲،ت:الدکتور بشار عوار معروف ،دارالغرب الاسلامی ،الطبعۃ الاولی ۱۴۲۲ھ)
اس روایت کی تخریج ابن عقیلی ؒ مکی نے بھی کتاب الضعفاء میں کی ہے مگر اس کی سند میں ’’ابن عذرآء ‘‘ کی جگہ ’’فضل بن ربیع‘‘ ہے اور متن میں ’’لم یزل فی سرور مادام لابسھا‘‘ کی جگہ ’’لم یزل ینظر فی سرور ‘‘کے الفاظ ہیں۔
دوسرا طریق
عن علی رضی اللہ تعالی عنہ من لبس نعلا صفراء قل ھمہ
جس نے پیلے رنگ کے جوتے پہنے اس کے غم کم ہونگے
اس روایت کو بلاسندمندرجہ ذیل کتب تفسیر میں صفراء فاقع لونھاتسر الناظرین کی تفسیر میں نقل کیا گیاہے:
(الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل و عیون الاقاویل فی وجوہ التاویل،للعلامۃ جار اللہ محمد بن ع زمخشری المتوفی ۵۳۸ھ، ج:۱،ص:۲۸۰،ت:شیخ عادل احمد عبد الموجود،المکتبۃ العبیکان الطبعۃ الاولی،
روح البیان،لاسمعیل حقی المتوفی ۱۱۲۷ھ،ج:۱،ص:۱۶۰،المطبعۃ العثمانیۃ،
للباب فی علوم القرآن،لابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلی المتوفی ۸۸۰ھ،ج:۲،ص:۱۶۳، دارالکبت العلمیۃ الطبعۃ الاولی،
تفسیر ابی سعودالمسمی ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم،لقاضی القضاء ابی سعود بن محمد العمادی المتوفی ۹۸۵ھ ،ج:۱،ص:۱۱۲،دارالاحیاء الراث العربی۔بیروت،
روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المعانی ،لشھاب الدین السید محمود الآلوسی الحنفی المتوفی ۱۲۷۰ھ ،ج:۱،ص:۲۸۹،دارالاحیاء التراث ۔بیروت)
روایت پر آئمہ کا کلام
ان دونوں روایات پر ہم آئمہ کا کلام ذیل میں نقل کررہے ہیں
ابو حاتم رازی رحمہ اللہ (المتوفی ۲۷۷) کا کلام
ابن ابی حاتم اپنے والد ابو حاتم کا کلام اس روایت کے متعلق نقل فرماتے ہیں :
ھو حدیث النوکی وھو حدیث کذب موضوع
(کتا ب الجرح والتعدیل ،ج۹،ص:۳۲۵،دارالکتب العلمیہ بیروت)
یہ روایت احمقوں کی بیان کردہ روایت ہے بالکل جھوٹی گھڑی ہوئی روایت ہے
یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفی ۷۵۰ھ)کا کلام
قلت لابن معین حدثنا الحمانی عن الفضل بن شھاب عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس قال من لبس نعلا صفراء لم یزل فی سرور ثم تلا فاقع لونھا تسر الناظرین قال یحیی کذب
(میزان الاعتدال،ج۳،ص:۳۵۳، دارالمعرفۃ بیروت)
علامہ ذہبی (المتوفی ۷۴۸) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحیی بن معین سے اس روایت من لبس۔۔۔ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جھوٹی روایت ہے۔
ابن جوزی رحمہ اللہ المتوفی کا کلام
ابن جوزی رحمہ اللہ بھی اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں
ھو کذب موضوع
(الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی،ج:۳،ص:۲۴۵،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
یہ جھوٹی موضوع روایت ہے
علامہ سخاوی رحمہ اللہ
حافظ سخاوی (المتوفی ۹۰۲ھ) لکھتے ہیں:
من لبس نعلا صفراء قل ھمہ من لبس نعلا اصفرا قل ھمہ رواہ العقیلی والطبرانی والخطیب عن ابن عباس موقوفا لکن بلفظ لم یکن فی سرور مادام لابسھا بدل قل ھمہ قال ابن ابی حاتم سالت ابی عنہ فقال کذب موضوع وعزاہ فی الکشاف لعلی باللفظ الاول سواء
(المقاصد الحَسَنَۃ في بیان کثیر من الأحادیث المُشْتَہَرۃ علی الألْسِنَۃ:۴۹۰،رقم:۱۱۷۲،للعلامۃ شمس الدین أبي الخیرمحمد بن عبد الرحمن السَخَاوي(۸۳۱ھ/۹۰۲ھ)، ت:عبد اﷲ محمد الصدیق،دار الکتب العلمیۃ بیروت،الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۲۷ھ.
من لبس نعلا اسفرا قل ھمہ اس روایت کو عقیلی ،طبرانی،اور خطیب نے ابن عباسؓ سے قل ھمہ کے الفاظ کے بجائے لم یکن فی سرور مادام لابسھا کے الفاظ کے ساتھ موقوفا روایت کیا ہے، ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کے متعلق اپنے والد (ابوحاتم) سے پوچھا(کہ کس درجے کی ہے) تو آپ نے فرمایا کہ جھوٹی من گھرٹ روایت ہے،اور اس روایت کو پہلے الفاظ (قل ھمہ) کے ساتھ علامہ زمخشری نے کشاف میں حضرت علیؓ کی طرف منسوب کیا ہے۔
علامہ سخاوی رحمہ اللہ کی متابعت کرتے ہوئے حضرت علامہ عجلونی ؒ (المتوفی ۱۱۶۲ ؁ھ)
(کَشْفُ الخَفَاء ومُزِیلُ الإلباس عما اشْتُہِرَمن الأحادیث علی ألَسِنَۃ الناس:للحافظ أبي الفداء إسماعیل بن محمد العَجْلَوني الجراحي(۱۰۸۷ھ/۱۱۶۲ھ) ،ج:،ص:،رقم:۲۵۹۶، ت:عبد الحمید ھندا وي،المکتبۃ العصریۃ بیروت،الطبعۃ ۱۴۲۷ھ.
علامہ ابن طاہر فتنی رحمہ اللہ نے
(تذکرۃالموضوعات:۱۵۸،تالیف علامہ محمد طاہر بن علي فتني(۹۱۰ھ/۹۸۶ھ)، کتب خانہ مجیدیہ ملتان، پاکستان.)
محمد بن درویش محمد بن الحو ت رحمہ اللہ نے
أسنی المطالب في أحادیث مختلفۃ المراتب،للعلاّمۃ محمد بن درویش بن محمد الحُوت(۱۲۰۳ھ/۱۲۷۷ھ)،ص:۲۶۵،رقم :۱۴۸۱،، دار الکتب العلمیۃ بیروت.
ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ نے
(الأسرار المرفوعۃ في الأخبار الموضوعۃ،للملاّ علي بن سلطان الہَرَوِي القاري(۱۰۱۴ھ)،ص:۳۴۳،رقم:۵۲۳،ت:محمد بن لطفي، المکتب الإسلامي بیروت،الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۰۶ھ.)
علامہ محمد امیر المالکی رحمہ اللہ نے
(النخبۃ البھیۃ فی الاحادیث المکذوبۃ علی خیر البریۃ ،لعلامۃ محمد الامیر الکبیر المالکی المتوفی ۱۲۲۸ھ،ج۱ص:۱۲۳،رقم:۳۷۷،۳۸۸،)
احمد بن عبد الکریم العامری رحمہ اللہ نے
(الجد الحثیث فی بیان ما لیس بحدیث،۲۳۵،۲۳۶رقم۵۳۶،لاحمد بن عبد الکریم الغزی العامری،ت:فواز احمد زمرلی،دار الفکر۔بیروت)
میں بھی نقل کیا ہے۔زیر بحث روایت کے دونوں طریق میں سے طریق ابن عباس میں موجود راوی ابن عذرا ء پر آئمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو تفصیل سے نقل کیا جائے۔
ابن عذرآء پر آئمہ کلام
اس روایت کے مرکزی راوی ابن عذرآء کے بارے ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابن العذرآء الذی روی من لبس نعلا صفرا ء لیس بشیء
(کتاب الجرح التعدیل ،ج:۹،ص:۳۲۵ دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
اسی طرح علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:لیس بشیء (الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی ،ج:۳،ص:۲۴۵)
فضل بن ربیع کی متابعت
حافظ عقیلی رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:
حدثنی جدی رحمہ اللہ تعالی قال حدثنا عبد العزیز بن الخطاب قال حدثنا الحسن بن علی النمیري عن فضل بن الربیع عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس قال من لبس نعلا صفراء لم یزل فی سرور ثم قرأ بقرۃ صفرآء الآیۃ
(کتاب الضعفاء الکبیر ،ج:۱،ص:۲۸۳)
اس روایت پر آئمہ کا کلام
الحسن بن علی النمیری کوفی مجھول و فضل بن الربیع نحوہ ولا یتابعہ علیہ الا من ھو دونہ او مثلہ (ایضا)
حسن بن علی النمیری( جو فضل بن ربیع سے یہ روایت نقل کرنے والے ہیں) کوفی ہیں یہ راوی مجہول ہے اور فضل بن ربیع ( ان کے استاد ) کا بھی یہی حال ہے اور ان کی کسی نے متابعت نہیں کی بجز اس شخص کے جو انہی کی طرح ہے یا ان سے بھی کم درجے کا راوی ہے۔
الفضل الربیع عن ابن جریج لایتابع علیہ من وجہ یثبت(الضعفاء ۱۴۹۶)
فضل بن ربیع ان کی روایات پر کوئی بھی ایسا متابع نہیں جس سے ان کی روایات پایہ ثبوت کو پہنچ سکے۔
الحسن بن علی النمیری عن الفضل بن الربیع لا یعرف و اتی بخبر منکر اوردہ العقیلی (لسان المیزان ،ج:۳،ص:۸۵ رقم:۲۳۳۵)
حسن بن علی جو فضل بن ربیع سے روایت کرنے والے ہیں غیر معروف ہیں اور منکرروایت نقل کرنے والے ہیں جس کو عقیلی نے نقل کیا ہے ( وہ روایت یہی پیلی چپل والی ہے)
الفضل بن الربیع عن ابن جریج لہ حدیث وھو منکر (المغنی فی الضعفاء،ج:۲،ص:۵۱۱،رقم:۴۹۱۷)
فضل بن ربیع جو ابن جریج سے روایت نقل کرنے والے ہیں ان کی روایت کردہ ایک حدیث ہے جو کہ منکر ہے ( وہ حدیث یہی پیلی چپل والی ہے)
الفضل بن الربیع عن ابن جریج بخبر کذب (تنزیعہ الشریعۃ ،ج:۱،ص:۹۶،دارالکتب العلمیہ بیروت)
فضل بن ربیع جھوٹی روایت بیان کرنے والے ہیں ( اور و ہ روایت یہی پیلی چپل والی ہے)
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ فضل بن ربیع کی سند سے جو یہ روایت منقول ہے اس پر آئمہ نے ’’منکر‘‘ کا حکم لگایا ہے بلکہ علامہ آجری نے تو صاف لفظوں میں اس روایت کو گھڑی ہوئی کہا ہے ۔ خود فضل بن ربیع بھی مجہول راوی ہے۔
روایت کا حکم
مذکورہ روایت کے دونوں طریق (طریق ابن عباس و طریق حضرت علیؓ )سے متعلق حافظ سخاوی ،علامہ عجلونی ،علامہ ابن طاہر پٹنی،علامہ امیر المالکی، علامہ بن الحوت،علامہ عامری،رحمہھم اللہ تعالی اجمعین نے من گھڑت قرار دیا ہے لہٰذا اس روایت کو مذکورہ دونوں طریق سے بیان کرنا درست نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ان تمام آئمہ نے حضرت ابن عباس و حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف منسوب اس روایت کو موضوع و من گھرٹ کہا ہے اس لئے اس روایت کو بیان کرنا جائز نہیں۔اسی طرح فضل بن ربیع کے طریق سے مرو ی روایت بھی درست نہیں اس کو بھی نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا جائز نہیں۔
پیلی چپل اور شیعہ
شیعہ ثقۃ الاسلام کلینی لکھتا ہے کہ پیلی چپل پہننے کے تین فائدے ہیں (۱) نظر کو تیز کرتی ہے (۲)پریشانیوں کو دور کرتی ہے (۳)ذکر (مرد کی شرمگاہ ) کو مضبوط کرتی ہے ۔
(فروع کافی ج3،ص215)
غالبا مردانہ طاقت کے اسی ’’معجون مرکب‘‘ سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے رضاخانیوں نے پیلی چپل پہننے کواپنا شعار بنالیا ہے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔