جمعرات، 24 دسمبر، 2015

جشن میلاد یا جشن خرافات۔۔؟؟؟


جشن میلاد یا جشن خرافات۔۔؟؟؟
مولاناساجد خان نقشبندی
FbAllamaSajidKhanNaqshbandi
قارئین کرام !
جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں اہل بدعت کی طرف سے ’’جشن میلاد‘‘ کے نام پر پورے ملک میں خرافا ت اور دھما چوکڑی کا ایک باراز گرم ہے ۔ کچھ عرصے سے ان محافل میں وہ کچھ ہوتا ہے جسے دیکھ کر شرافت بھی ماتم کرنے لگتی ہے۔بریلویوں کو حکومتی سرپرستی میں مکمل فری ہینڈ دے دیا جاتا ہے کہ وہ اس دن جی بھر کر علمائے اہلسنت کو گالیاں دیں ،ان پر کفر کے فتوے لگائیں ،انہیں گستاخ کہیں، ان کی مسجدوں پر پتھراؤ کریں ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کریں،مسجدوں مدرسوں پر حملے کریں، وہاں موجود مقدس کتب اور قرآن پاک کی بے حرمتی کریں انہیں نذر آتش کریں غرض وہ کونسا ظلم ہے جو اس دن اہلسنت پر نہیں ڈھایا جاتا ؟۔پچھلے سال امریکی ڈالروں پر پلنے والے ایک فیصل آبادی بریلوی ملاں نے فیصل آباد میں جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔تفصیل کیلئے یکم مارچ ۲۰۱۰ کے اخبارات ملاحظہ فرمالیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انگریز سے پہلے ہندوستان میں اس رسم کا کوئی رواج نہ تھا بلکہ ہندوستانی مسلمان اسے نبی ﷺ کی وفات کے دن کے طور پر جانتے ۔سب سے پہلے انگریز نے اس دن کو ’’عید ‘‘ کا دن قرار دیا اور اس دن عام تعطیل کا اعلان کردیا ،چنانچہ مورخ بریلویت عبدالحکیم شرف قادری بریلوی نور بخش بریلوی کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ:
’’آپ ہی کے مساعی جمیلہ سے متحدہ ہندوپاک میں بارہ وفات کی
بجائے عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے تعطیل ہونا قرار پائی‘‘۔
(تذکرہ اکابر اہلسنت ص ۵۵۹)
اور علامہ اقبال احمد فاروقی بریلوی اسی نور بخش توکلی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’آپ نے گورنمنٹ کے گزٹ اور سرکاری کاغذات میں ۱۲ وفات کو
عید میلاد النبی کے نام سے تبدیل کرانے کی جدوجہد کی اور اس میں
یہاں تک کامیاب ہوئے کہ گورنمنٹ سے اس مقدس دن کی
تعطیل منظور کرائی‘‘۔
(مقدمہ تذکرہ سیدنا غوث اعظم :ص ۸)
قارئین کرام ! آپ حیران ہونگے کہ آخر انگریز کی اس دن میں اتنی دلچسپی لینے کی کیا وجہ ہے کہ اسے باقاعدہ سرکاری طور پر منظور کیا گیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بریلویوں کا یہ ایجاد کردہ ’’تہوار‘‘کافی حد تک عیسائیوں کے مذہبی تہوار ’’کرسمس‘‘ سے ملتا ہے ،چنانچہ عیسائی کرسمس کے موقع پر مندرجہ ذیل افعال کرتے ہیں:
(۱) اس دن لوگ کام کاج نہیں کرتے سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔
(۲) صبح لوگ گرجوں میں جاتے ہیں اور وہاں بائبل پڑھتے ہیں۔
(۳) مسیحی قوم اس دن اچھے لباس پہنتی ہے ۔
(۴) ولادت مسیح کی خوشی میں بازاروں میں جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں اس دن بازاروں گھروں کو سجایا جاتا ہے ۔
(۵) چوکوں اور چوراہوں پر’’ کرسمس ٹری‘‘ اور دوسری پتلے رکھے جاتے ہیں۔
(۶) گرجوں سے جلوس کی شکل میں نکلتے ہیں۔
(۷) شراب اور مختلف کھانوں کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔
اب یہی سب کچھ ان مروجہ محافل میلاد میں ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں گرجوں کے بجائے ’’بریلوی عبادت خانوں ‘‘جسے بریلوی ’’مسجد‘‘ کہتے ہیں میں جاتے ہیں وہ بائبل پڑھتے ہیں انہیں قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا ،وہ کرسمس ٹری رکھتے ہیں یہ خانہ کعبہ اور روضہ مقدس کے ماڈل رکھتے ہیں ،وہاں شراب کی محفلیں چلتی ہیں تو یہاں حلوے اور کھیر کی رکابیاں لوٹی جاتی ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ کوئی صاحب ہم سے ناراض ہوں اور کہیں کہ نہیں اس دن کو تو بریلوی بڑے احترام سے مناتے ہیں اور کوئی خلاف شرع عمل اس دن نہیں کیا جاتا تو ایسے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ کسی بھی قسم کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے آئے خو د بریلوی کتب سے ملاحظہ فرمالیتے ہیں کہ اس دن یہ لوگ کیا کیا کرتے ہیں:
جشن میلاد میں ہونے والی خرافات
بریلوی رسالہ ماہنامہ ’’مصلح الدین کراچی‘‘کے مارچ ۲۰۰۹ کے شمارے کے ٹائٹل کے اندرونی پیج میں اس دن ہونے والے کارناموں کا ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

’’جلوس میں انتہائی نظم و ضبط احترام اور نعتوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بجائے شور شرابا، تنظیمی نعرے،نماز سے غفلت اور اسلحہ کی نمائش میں مصرو ف رہتے ہیں۔
جلوس میں نذر نیاز کو مودبانہ احترام کے ساتھ تقسیم کرنے کے بجائے جاہلانہ طریقے سے پھینکنا ،لٹانا گراناجس سے زیادہ تر نیازضائع ہوجاتی ہے لہٰذاہم لوگ اجر و ثواب کے بجائے رزق و نیاز کی بے حرمتی بے قدری اور ناشکری کرکے اللہ تعالی کے غضب اور حضور اکرم ﷺ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔
قارئین کرام ! غور فرمائیں جو جشن اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کے غضب اور ناراضگی کاسبب بنے اسے شعار اسلام کے طور پر منانا کیا دین اسلام کے ساتھ کھلا ہوا مذاق نہیں؟آج جو یہ ملک مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے اس کاایک سبب ’’مروجہ میلاد‘‘ کی محافل بھی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں۔
بریلوی شیخ الحدیث غلام رسول سعیدی صاحب اس دن کی خرافات کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’بعض شہروں میں عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے تقدس کو بالکل پامال کردیا گیا ہے جلوس تنگ راستوں سے گرزرتا ہے اور مکانوں کی کھڑکیوں اور بالکونیوں سے نوجوان لڑکیاں اور شرکاء مجلس جلوس پر پھول پھینکتی ہیں، اوباش نوجوان فحش حرکتیں کرتے ہیں جلوس میں مختلف گاڑیوں میں فلمی گانوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہے اور نوجوان لڑکے فلمی گانوں کی دھنوں پر ناچتے ہیں او رنماز کو کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا ‘‘۔
(شرح مسلم :ج۳ ص ۱۷۰ فرید بک سٹال)

بریلوی شیخ اسلام طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’ایسے موقعوں پر جہاں عرس اور میلاد کے نام پر بے عمل اوباش اور
کاروباری لوگ ناچ گانے اور ڈانس کاباقاعدہ اہتمام کرتے ہیں
میلے تھیٹر او ر سرکس کا انتظام ہوتا ہے ‘‘۔
(جشن عید میلا د النبی ﷺ کی شرعی حیثیت :ص ۲۱۴)
حقیقت یہ ہے کہ اس ’’عید میلاد‘‘کا مقصد ہی ان خرافا ت ،ناچ گانا ،ڈانس اور سرکس جیسی واہیات کو فروغ دینا ہے اور ان کے منتظمین انہی چیزوں سے بے دین او ر اوباش نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ ان کا کاروبار چل سکے ۔کسی نے کیا خوب کہا:
بج رہے ہیں ڈھول تاشے تالیاں چمٹے رباب
کس مزے سے عید میلاد النبی کے نام پر
پھر طاہر القادری صاحب کا ناچ گانے کرنے والوں کو کوسنا بھی سمجھ سے باہر ہے جبکہ خود موصوف نہ صرف قوالیوں کے جواز کے قائل ہیں بلکہ ان محافل میں خود بھی اپنے مریدوں کے ساتھ ناچتے ہیں رقص کے جواز پر ان کے ایک بیان کا جواب تو یہ فقیر بذات خود دے چکا ہے۔
برلوی حکیم الامت مفتی احمد یار گجراتی ان محافل کی خرافات کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’میں نے خود کراچی میں دیکھا کہ بعض جگہ باجے پر نعت پڑھتے ہیں
اور اس کو میلاد شریف کہتے ہیں‘‘۔
(جاء الحق :ص ۲۴۸ ،ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
بریلوی کہتے ہیں کہ ہم ان محافل میں حضور علیہ السلام کی نعتیں پڑھتے ہیں تم کیوں منع کرتے ہو مگر ان نعتوں کی حقیقت خود انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
’’نعت خوانی جو ایک عافیت بخش،عافیت افروز اور خالص عقیدت مندانہ عمل ہے دور حاضر میں اس کی وہ آن بان نہیں رہی نعت خوانوں کی شرمناک نازنین ادائیں اور رقصانہ طرز زندگی رونق بازار (اجلاس) ہوکر رہ گئی ہیں جس سے نعت خوانی کی روحانیت اور فطری کیفیت مجروح ہوگئی ہے ‘‘۔
ایک جلسہ میں ایک شاعر اعظم کے بارے میں انتظامیہ سے سناگیا کہ جس وقت سے تشریف لائے ہیں اپنے موبائل میں مصرو ف ہیں اور موبائل کی مصروفیت کوئی اور نہیں بس موبائل گیمز سے غایت دلچسپی نے سکون و آرام غارت کر رکھا ہے میں اس کی تصدیق کیلئے سٹیج میں ان کے جوار میں بیٹھا ،میں نے مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھائے میری یہ مخلصانہ پیشکش بڑی ناگواری سے قبول فرمائی پھر سے اپنے سابقہ عمل میں مصرو ف ہوگئے‘‘۔
(سہ ماہی نعت نیوز شمارہ نمبر ۳ :ص ۱۹،مولوی صغیر اختر مصباحی بریلوی)
غور فرمائیں یہ حال ہے ان محافل کا جہاں رزق کی ناقدری کی جاتی ہے ، جہاں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے غضب کو دعوت دی جاتی ہے ،جہاں اوباش لڑکے ناچ گانا گاتے ہیں ،جہاں انڈین فلموں کے گانے چلتے ہیں،جہاں بنسریاں بجائی جاتی ہیں ،جہاں عورتیں لڑکوں پر پھول پھینک کر عشق بازیاں کرتی ہیں ،جہاں تنظیمی نعرے لگا کر لوگوں کو اپنے مخالفین کے خلا ف بھڑکایا جاتا ہے ،یہ سب خرافات تو ایک طرف اس رسم کی سب سے بڑی نحوست یہ ہے کہ رسم لوگوں کے دل سے سنتوں اور فرائض کی اہمیت کو بالکل ختم کررہی ہے ، چنانچہ مفتی احمد یار گجراتی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’بعض دیہات کے لوگ جمعہ آتے نہیں اور اس طرح بلاؤ تو جمع ہوتے
نہیں ہاں محفل میلاد کا نام لو تو فورا بڑے شوق سے جمع ہوجاتے ہیں ‘‘۔
(جاء الحق :ص ۲۴۴)
کیا ہم بریلویوں سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ یہ سب خرافات اور بے ہودگیاں کس اصول دین،کس شرعی ضابطہ ،کس دلیل ،آخر کس بنیاد پر سرانجام دی جاتی ہیں؟
مگر دلیل اور ضابطہ تو دور اس میلاد کے متعلق تو ان کے احمد رضاخان صاحب بھی ان کے ساتھ نہیں ہیں کوئی رضاخانی یہ ثابت کردے کہ آج جس طریقے پر میلاد منایا جاتا ہے جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں ،جلوس نکالے جاتے ہیں یہ سب کچھ اسی ترتیب اور طریقے پر احمد رضاخان صاحب بھی کرتے تھے۔مگر آسمان پھٹ تو سکتا ہے زمین ریزہ ریزہ تو ہوسکتی ہے
یہ اس کا ثبوت کبھی نہیں دے سکتے اس لئے کہ ۱۹۳۲ سے پہلے تک پورے ہندوستان میں اس محافلی جلسہ جلوس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ تھا چنانچہ بریلوی مفتی اعظم مفتی مظہر اللہ دہلوی کی سوانح حیات جس پر بریلوی مسعود ملت پروفیسر مسعود صاحب کی تقریظ بھی ہے میں لکھا ہے کہ :
’’۱۹۳۲ کی بات ہے کہ مولانا ناصر جلالی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریک پیش
کی کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلوس نکالا جائے ‘‘۔
(سیر ت انوار مظہریہ :ص۳۷۵ ادارہ مسعودیہ)
آپ حضرات کے سامنے اس دن کی خرافات ذکر کرنے کے بعد اس دن کو منانے کے چند دنیاوی و آخروی نقصانات بھی ذکر کئے دیتا ہوں شائد کسی صاحب بصیرت کی آنکھیں کھل جائے کہ ان محافل کے نام پر اس قوم کے ساتھ کیسا مذا ق کیا جارہا ہے ۔
مروجہ محافل میلاد منانے کے نقصانات
(۱) اس دن کو منانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ محفل میلاد ۱۲ ربیع الاول کو منانے والوں کی دنیا و آخرت دونوں بربادہوجاتی ہے ۔وہ اس طرح کہ مولوی احمد رضاخان صاحب شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ:
’’میرے ارشاد کے خلا ف بتانا تمہارے دین کیلئے زہر قاتل اور تمہاری
دنیا و عقبی دونوں کی بربادی ہے ‘‘۔
(فتاوی رضویہ :ج۳ ص ۵۴۵،سنی دارالاشاعت و برکاتی پبلشرز کراچی ۱۹۹۶)
اس حوالے سے معلوم ہواکہ بقول احمد رضاخان صاحب کے شیخ جیلانی ؒ کے اقوال کی مخالفت کرنے والے کی دنیا و آخرت برباد ہے اور شیخ جیلانی ؒ کا قول نبی ﷺ کی ولادت کے متعلق ۱۲ ربیع الاول نہیں بلکہ ۱۰ محرم الحرام ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
ولد نبیکم محمد ﷺ فی یوم عاشورآء
(غنیۃ الطالبین :ج۲ص ۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت)
لہٰذا آج جو بریلوی ۱۰ محرم الحرام کو چھوڑکر ۱۲ ربیع الاول کو میلاد منارہے ہیں ان کی دنیا بھی برباد ہے اور آخرت بھی۔
(۲) اس بدعت کو سنت کے نام پر منایا جاتا ہے ۔
(۳) اس بدعت سے روکنے والوں کو دین کا دشمن سمجھا جاتا ہے ۔
(۴) اس خرافاتی دن کو ایسا لازم سمجھ لیا گیاہے کہ بریلوی جمعہ میں بھی اتنے شوق سے حاضر نہیں ہوتے جتنا اس دن ۔
(۵) ان محافل میں رزق کی بے حرمتی کی جاتی ہے ۔
(۶) اس بے حرمتی اور ناشکری کی وجہ سے اللہ کا غضب ملک پر مختلف بحرانوں کی صورت میں نازل ہورہا ہے ۔جیسے سیلاب ،زلزلہ،مہنگائی ،اشیائے خورد و نوش کی کمی وغیرہم۔
(۷) ان محافل میں مخالفین پر کفر کے فتوے داغے جاتے ہیں جس سے ملک میں فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور یوں ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں جس سے ملک کا امن تباہ و برباد ہوکر رہ جاتا ہے ۔
(۸) محصول کی صورت میں عوام سے لئے گئے لاکھوں روپے ان محافل کی سیکیورٹی اور دیگر انتظامات میں برباد کردئے جاتے ہیں اور یوں نہ صرف غریب عوام کا استحصال ہوتا ہے بلکہ ملکی خزانے پر بھی بوجھ پڑتا ہے ۔
(۹) ان محافل میں عورتوں مردوں کا مخلوط اجتما ع ہوتا ہے عورتیں مردوں پر پھول پھینکتی ہیں جس سے عشق بازی اور دوسرے اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
(۱۰) بے دین لوگ ان محافل میں ناچ گانے کا بندوبست کرکے قوم کے نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کررہے ہیں۔
(۱۱) ان محافل میں انڈن گانے لگا کر غیر ملکی کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے ۔
(۱۲) بجلی چوری کرکے بے تحاشہ چراغاں کیا جاتا ہے جس سے ملک میں توانائی کے بحران میں مزید شدت آرہی ہے ۔
(۱۳) ان محافل میں مختلف جھنڈیاں ،پمفلٹس وغیرہ لگائے اور تقسیم کئے جاتے ہیں ان کی حفاظت کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بے حرمتی ہوتی ہے اور یوں معاشرے سے ان مقدس چیزوں کا تقدس رفتہ رفتہ ختم ہوجاتا ہے ۔
(۱۴) ان محافل میں دوسرے فرقے کی املاک ان کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور انہیں لوٹا جاتا ہے ۔
(۱۵) اس دن کو انگریز نے ’’عید ‘‘ قرار دیا لہٰذا یہ ایک فرنگی یادگار کے طور پر اس ملک میں رائج ہے اور یوں غیر شعوری طور پر یہ دن مناکر انگریز غلامی کا ثبوت دیا جارہا ہے ۔
(۱۶) ا س دن بازاروں اور دکانوں کو بند کرکے عوام کا مالی نقصان کیا جاتا ہے خصوصا Daily Wagesپر کام کرنے والوں کو بھوکا سونا پڑتا ہے ۔
(۱۷) اس دن حکومتی سیکیورٹی میں دوسرے مسالک کی مسجدوں مدرسوں اور گھروں پر حملے کرکے عوام میں ایک بے یقینی کی کیفیت کو جنم دیا جاتا ہے اور ملک میں دنگے فساد کرکے ملک کی اندرونی سیکورٹی کو کمزور کے بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔
(۱۸) ان محافل کو منعقد کرنے والی تنظیمیں بیرونی طاقتوں سے امداد لیکر (جیساکہ حال ہی میں ’’سنی اتحاد کونسل‘‘ کے متعلق یہ انکشاف ہوا ہے ) ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں ان محافل کے ذریعہ بیرونی طاقتوں کو ملکی معاملات میں مداخلت کا موقع ملتا ہے ۔۲۰۱۰ کے فسادا ت کے متعلق خود وزیر داخلہ صاحب کا بیان ہے کہ فسادات کروانے کیلئے بیرونی طاقتوں نے پیسے تقسیم کئے تھے۔
(۱۹) اس دن تمام وسائل اقلیتی فرقے کے مذہبی تہوار پر صرف کردئے جاتے ہیں اور ان کے نظریات پورے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو سراسر جمہوری روایات کی خلاف ورزی ہے ۔
(۲۰) ایک مخصوص فرقے کیلئے ا س دن تمام ملک کی مارکیٹوں ،سڑکوں ، بازاروں کو بند کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں رہنے والے دیگر افراد کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بنیاد ی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
(۲۱) ا س دن اسلحہ کی نمائش اور غنڈہ گردی کرکے ریاست کے شہریوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ایسی محافل یا ایسی کاروائیاں حکومت پاکستان کے قانون کے تحت ’’دہشت گردی ایکٹ ‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔
(۲۲) اس دن اسلحہ کی نمائش کرکے ملک میں جرائم پیشہ افراد اور غنڈہ گردی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے لوگ جرائم کرنے پر جری ہوجاتے ہیں۔
اب ہم آخر میں شہید اسلام حضرت مولانا یوسف لدھیانوی ؒ کے ان الفاظ کے ساتھ اپنے مضمون کو ختم کرتے ہیں کہ:
’’جشن عید میلاد النبی کے نام سے جو خرافات رائج کردی گئی ہیں اور جن میں ہر آئے سال مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے یہ اسلام کی دعوت ، اس کی روح اور اس کے مزاج کے یکسر منافی ہے میں اس تصور سے پریشان ہوجاتا ہوں کہ ہماری ان خرافات کی روئیداد جب آنحضرت ﷺ کی بارگاہ عالی میں پیش ہوتی ہوں گی تو آپ پر کیا گزرتی ہوگی اور اگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ان چیزوں کو دیکھ کر ان کا کیا حال ہوتا ۔بہرحال میں اس کو نہ صرف بدعت بلکہ تحریف فی الدین تصور کرتا ہوں‘‘۔
(اختلاف امت اور صراط مستقیم :ص ۷۸)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔